53.8K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

Episode 9…..
اے چاند تیری چاندنی کی قسم،،
میرے پاس بھی ایک چاند ہے،،،
تجھ میں تو پھر بھی داغ ہے
میرا چاند،،،،،،،،، تو بے داغ ہے
تیری دوریوں کی قسم،،،، میرا چاند میرے پاس ہے،،

گاڑی اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی۔۔رابی پچھلی سیٹ پر گھوڑے گدھے بیچ کر سو رہی تھی۔۔
شاہِ من بلیک ٹو پیس میں کف لنک کہنیوں تک فولڈ کیے بلیک سن گلاسز لگائے ڈرائیو کر رہا تھا۔۔ ثوبی بلو نیٹ کی لونگ فراک پہنے اوپر بلو سکارف لیے فرنٹ سیٹ پر بیٹھی پہلو بدل رہی تھی۔
بلو سینڈلز میں پاؤں روئی کی گالوں کی طرح دمک رہے تھے۔

ایک سکیورٹی گارڈز کی گاڑی پیچھے آ رہی تھی۔۔ اور ان کی گاڑیاں کالج بسز کے ساتھ ساتھ ہی چل رہیں تھیں۔۔مری تو پہنچ چکے تھے مگر اب ان کی منزل نتھیا گلی تھی۔۔۔

۔گاڑی میں گونجتا گانا شاہ من کی شریر مسکراہٹ گہری کیے دے رہا تھا۔۔
اور اس کے جزبات کی عکاسی کر رہا تھا۔۔

ثوبی نے جھنجھلا کر گانا چینج کیا۔۔مگر،،،،،

چاند چھپا بادل میں شرما کہ میری جاناں
سینے سے لگ جا تو بل کھا کہ میری جاناں

شاہِ من نے دانتوں تلے لب دبا کر اس کی پتلی ہوئی حالت دیکھ ہنسی کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔۔۔

ثوبی نے گڑبڑا کر گانا چینج کیا۔۔ مگر اس کے ستارے آج گردش میں تھے جو وہ شاہِ من دلاور اعظم کے ہتھے چڑھ گئی تھی۔۔
گاڑی کے سناٹے کو چیرتا پھر گانا گونجا،،،

بھیگے ہونٹ تیرے،،،، پیاسا دل میرا
لگے ابر سا،،،،،،،،،،،،،،، مجھے تن تیرا
کبھی میرے ساتھ کوئی رات گزار
تجھے صبح تک میں کروں پیار،،،،،، او،،، او، اوووووو

ثوبی کانوں تک سرخ ہوئی،،اور چھپنے کی کوئی جگہ نہیں ملی،، دل تو کیا کاش دھرتی کی جگہ گاڑی ہی پھٹ پڑتی اور وہ اسی میں ہی سما جاتی۔۔
اس نے تلملا کر میوزک سسٹم ہی بند کر دیا۔۔

چھییییییی،،،،،،،،کیا فضول اور بے ہودہ گانے سنتے ہیں آپ،،، وہ دانت پیستی من پر ہی چڑھ دوڑی۔۔

اور وہ جو کب سے ہنسی ضبط کرنے کے چکروں میں سرخ ہوا بیٹھا تھا۔۔ ہنسی کا فوارہ پھوٹا اور وہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔۔

واؤ سویٹی،،، لگا تو آپ رہیں تھیں۔۔۔ شاہ من نے یاد کروایا۔۔

مگر کولیکشن تو آپ کی ہے،،، وہ بھی دوبدو بولی۔۔۔

جیسا موڈ ہو ویسا منظر ہوتا ہے
موسم تو انسان کے اندر ہوتا ہے
شاہِ من نے شعر سنا کر اپنے دل کی حالت بیان کرنے کی کوشش کی۔۔

مطلب،، وہ جانتے بوجھتے پوچھ بیٹھی۔۔

مطلب کے موڈ پر حالات و واقعات پر ڈیپنڈ کرتا ہے۔۔ ابھی نکاح کے بعد ہی بدلی ہے میری کولیکشن رانا صااااااب ،،،
من نے اطمینان سے ضروری اطلاع دی۔۔۔

ثوبی کا دل اچھل کر حلق میں آیا جیسے،،، جان بوجھ کر ونڈو کی جانب رخ کر کے باہر دیکھنے لگی۔۔

مگر کب تک،، حد نظر کھائیاں دیکھ کر ہی آنکھوں کے آگے دنیا گھوم گئی۔۔
تو ناچار پھر رخ من کی جانب کرنا پڑا۔۔

اس کی معنی خیز نگاہوں سے بچنے کے لئے کوئی شوشا چھوڑنا ضروری تھا سو،،،،
من مجھے بھوک لگی ہے،، وہ روہانسی سی بولی۔۔

آں ہاں،،،، ڈیش بورڈ کھولیں میری لائف لائن،،، اس نے مخمور لہجہ اختیار کیا۔۔

مگر وہ تو ڈیش بورڈ کی جانب متوجہ ہو چکی تھی۔۔ڈیش بورڈ کھولتے ہی وہ اچھلی۔۔
کیونکہ چاکلیٹس،، چپس،، غرض کھانے کی چیزوں کا ڈھیر اس کی گود میں آ کر گرا تھا۔۔

وہ مزے سے چاکلیٹ کھول کر کھانے میں مشغول ہو گئی۔۔ پھر خیال آیا۔۔

آپ کھائیں گے،،،، ؟ انداز شاہانہ تھا۔۔جیسے صلح مار کر احسان کیا جا رہا تھا۔۔

Ofcourse yes,,,,,,
اگر اپنے ہاتھ سے کھلائیں گی تو تب،،،

شاہ من کے کہنے پر وہ نئی چاکلیٹ کھولنے لگی۔۔

نو نو اسی میں سے دیں جس میں سے آپ کھا رہیں تھیں،،، فرمائش کی گئی،۔۔
ثوایبہ نے چاکلیٹ ریپر سے نکال کر دوسری طرف سے چاکلیٹ اس کے منہ کی طرف بڑھائی۔۔

مگر مجھے وہاں سے بائٹ چاہئے جہاں سے آپ نے بائٹ لی رانا صاب۔۔
ثوایبہ نے اس سر پھرے بندے کو گھورا۔۔

ایسے مت دیکھیں میری جان پیار ہو جائے گا،، وہ پھر سکون سے بولا۔۔
مگر اب ثوبی کو اسے ادھر سے بائٹ دینی پڑی جہاں سے وہ خود کھا رہی تھی۔۔
چاکلیٹ کھاتے شاہِ من نے اس کی انگلیوں کو ہلکا سا لبوں میں دبایا۔۔تو وہ جی جان سے لرز گئی۔۔

اووووو،،، سو کیوٹ اینڈ رومینٹک بھائی،،،، مگر مجھے لگ رہا ہے میں یہاں کچھ مس فٹ سی ہوں،،، رابی جو جانے کب سے اٹھی تھی۔۔اطمینان سے بولی تو ثوبی کا تو دل کیا کہیں چھپ ہی جائے یا ڈوب مرے جبکہ من کو تپ چڑھی۔۔

خالی مس فٹ،،،،، میری بہن،،،، کباب میں ہڈی اور حلوے میں نمک بولو،،، وہ جل کر بولا

یونہی ہنستے،،، اور نوک جھونک میں سفر اختتام پزیر ہوا اور وہ منزل پر پہنچ گئے۔۔

💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖

وہ تھکن سے چور گہری نیند میں تھی۔۔
میدانی علاقوں میں تو موسم ابھی مرطوب ہی تھا مگر یہاں آ کر اچھی خاصی ٹھنڈ میں ان کی قلفی جم گئی تھی۔۔

ہوٹل پہنچ کر بھی ایک بڑی مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔۔سیزن ہونے کی وجہ سے سکولز اور کالجز کے ٹورز کی وجہ سے ہوٹلز میں رومز کی شورٹیج تھی تو رابی تو اپنی فرینڈز کے روم میں ایڈجسٹ ہو گئی۔۔

گارڈز کے لئے ایک روم اور انھیں ایز ہزبینڈ وائف ایک ہی روم شئیر کرنا تھا۔۔

دن کے تین بج چکے تھے،، اور ثوبی کمفرٹر میں دبکی سو رہی تھی۔۔
رابی تو فریش ہو کر اپنی فرینڈز کے ساتھ گھومنے جا چکی تھی۔
گارڈز کو من نے رابی کی حفاظت کے لئے بھیجا تھا۔۔

اب وہ تھا اور اس کی دشمن جاں کی نیند۔۔۔ بیڈ پر اس کے قریب بیٹھا۔۔کافی میٹھی اور گہری نیند میں تھی۔۔

اس وقت جس چیز نے شاہِ من کو اس کی جانب بری طرح متوجہ کیا تھا وہ تھے اس کے نرم و گداز،،، گلاب کی پنکھڑیوں جیسے سرخ لب،،
شاہِ من نے بے اختیار ہاتھ بڑھایا انگوٹھے سے سہلا کر وہ نرمیاں محسوس کیں۔۔
بیک بون میں سرسراہٹ سی ہوئی تھی۔۔ من نے اس کا گال تھپتھپایا۔۔
ہیے جان اٹھو یار،، یہ میجکل پل کیوں خراب کرنا چاہتی ہو۔۔

نیند میں گال پر جانا پہچانا سلگتا سا لمس محسوس ہوا تو اس نے نیند سے بوجھل مندی مندی آنکھیں کھولیں۔۔
اپنے اوپر من کو جھکے پایا تو ،،

پلیز من،،،، سونے دیں مجھے،،،،،، وہ کڑوے سے منہ بناتی کروٹ بدلنے کو تھی۔۔جب من اس کے کان میں جھکا،،،،

Hmmm sound nice Rana Saaab,,,,,
پر یہ ڈائیلاگ تو رخصتی کے بعد والا ہے،،،،،، نہیں۔۔۔؟

اس کی بات اور کہنے کے انداز سے ثوبی میڈم کی نیند بھک سے اڑی تھی۔۔
فوراً اٹھ بیٹھی۔۔اس شخص سے نگاہیں ملانا دنیا کا مشکل ترین کام تھا۔۔

وہ جانتی تھی کچھ بول کر حماقت کرنے سے بہتر تھا اٹھ کر فریش ہو کر آ جاتی۔۔
کیونکہ کچھ بولتی تو پھر زو معنی بات سننے کو ہی ملتی۔۔
فریش ہو کر آئی تو وہ بیڈ پر نیم دراز موبائل میں بزی تھا۔۔

آپ کھانا کھائے بغیر ہی سو گئیں جو چیز مجھے زیادہ پریشان کر رہی تھی۔۔اسی لئے آپ کی نیند خراب کی۔۔شاہِ من نے وضاحت دی۔۔

رابی کدھر ہے،،،؟ اس نے سکارف درست کرتے پوچھا۔۔چہرے پر پانی کے پھسلتے قطرے شبنم کے موتی لگ رہے تھے۔۔

وہ تو کب کی فرینڈز کے ساتھ چلی گئی۔۔شاہ من نے اسے نگاہوں کے فوکس میں رکھتے ہوئے کہا۔۔

چلیں،،، پھر،، وہ آہستگی سے بولی،،،
چلیں،،
وہ دونوں باہر آئے۔۔اور کھائی کنارے بنے ریسٹورنٹ میں کھانا کھایا۔۔
پھر وہیں سے ہی گھومنے چلے گئے،،، شاہِ من نے ثوبی کا ہاتھا تھامے رکھا۔۔

بہت دیر گھومنے کے بعد ثوبی تو تھکن سے چور ہو چکی تھی۔
ثوبی کو کئ مرتبہ محسوس ہوا تھا جیسے اسے کوئی دیکھ رہا ہے یا کوئی پیچھا کر رہا ہے۔۔
تبھی ایک بڑے سے پتھر پر بیٹھ گئی۔۔

اففف،،، میں اور نہیں چل پاؤں گی من میرے پاؤں،،، وہ روہانسی ہوئی۔۔

کہیں تو خدمتگار حاضر ہے محترمہ رانا صاااب ،،، شاہِ من شرارت سے بولا تو وہ گڑبڑا گئی۔۔
مگر ساتھ ہی لگے ایک درخت کی طرف اشارہ کیا۔۔وہ ایک پھل کا درخت تھا جسے علاقائی زبان میں املوک کہتے تھے۔۔

شاہِ من مجھے یہ توڑ کر دیں،،، وہ مچلی۔۔۔تو شاہِ من اس درخت کے قریب گیا۔۔
زیادہ بلیک والے توڑنا،،، ثوبی نے کہا تو اس نے بلیک بلیک توڑ لئے،،
ااور لاکر ثوبی کو دئے۔۔

آپ جانتے ہیں اس چھوٹے سے پھل میں ساتھ آٹھ گٹھلیاں نکلیں گی،، اور بچپن میں میں اپنی فرینڈز کے ساتھ مقابلہ کرتی تھی کہ یہ گٹھلیاں منہ سے زیادہ دور تک کون اچھالتا ہے۔۔
وہ کہتی اکسائیٹڈ ہوئی۔۔

لائیں میرے ساتھ مقابلہ کریں،،،، شاہ من نے ایک دو منہ میں رکھا،، اور پھل کھا کر گھٹلی منہ کے ایک سائیڈ اکھٹی کی
ریڈی،،، وہ ،،،اس پتھر کو لگنی چاہیے،،، ثابی نے اشارہ کیا،،

اور دونوں نے گھٹلیاں دور تک اچھالی۔۔شاہِ من کی پتھر کو لگیں جبکہ ثوبی کی اس کے پاؤں میں ہی گر گئیں۔۔
اپنے کارنامے پر وہ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوئی تھی۔۔
جبکہ من بھی یہ بچکانہ حرکت کرتے مسکرا دیا تھا۔۔

اب آپ گیم ہار چکی ہیں محترمہ،، اب آپ کی پنشمنٹ یہ ہے کہ میں آپ کو اٹھا کر ہوٹل لے کر جاؤنگا،،، ویسے بھی شام گہری ہو گئی ہے۔۔

شاہِ من اس کی جانب بڑھا۔۔نو شاہِ من،،، وہ بوکھلائی۔۔مگر وہ تب تک اسے بازوؤں میں بھر چکا تھا۔۔
میں نے ابھی اور کھانے تھے یہ،، اس نے منہ لٹکایا۔۔

کل کھا لینا رانا صاااااااب،، وہ سکون سے بولا۔۔

اتنی اونچائی پر جانا ہے آپ تھک جائیں گے،،، نیچے اتار دیں مجھے،، وہ مچلی۔۔

آپ جانتی ہیں آپ کا وزن کتنا ہے،، من نے ایک اور شوشا چھوڑا۔۔
وہ خجل سی چپ کر گئی۔۔ایک چیونٹی جتنا،، من نے سکون سے کہا۔۔
ثوبی کی آنکھیں پھٹ پڑیں سب کی طرح وہ بھی اس کے وزن کا مزاق اڑا رہا تھا۔۔ اس کے سینے پر جھنجھلا کر مکے برسائے تو وہ قہقہ لگا کر ہنس پڑا۔۔

جی نہیں فورٹی سکس ہے ویٹ میرا،،، ثوبی نے احتجاج کیا۔۔

اووووو،،، مجھے تو چیونٹی جتنا لگ رہا ہے،،، اس نے پھر مزاق اڑایا تو وہ ناراضگی سے منہ پھیر گئی۔۔

شاہِ من گہرا مسکرایا۔۔ہوٹل کے قریب پہنچ کر اس نے ثوبی کو خود ہی شرافت سے نیچے اتار دیا۔۔

💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖

اسی ہوٹل کے ایک اور روم میں حشر سا برپا تھا۔۔

جہاں نشوان نایاب کا منہ دبوچے چلا رہا تھا۔۔یو بازارو عورت مجھے پتہ ہے تمھیں صرف اور صرف میرے پیسے سے دلچسپی ہے اور مجھے اب صرف اور صرف اس میں،،، یہ سب تمھاری وجہ سے ہوا،،، اگر تم مجھے نا پھانستی تو آج وہ میری ہوتی،،

نایاب گل بھیگی آنکھوں سمیت استہزیہ ہنسی،، میں نے پھانسا اور تم پھنس گئے،،، ویری گڈ،،، یوں کہو میرا کریکٹر ہی لوز،،،،

شٹ اپ یو بچ،،،،،، زناٹے دار تھپڑ پڑا تھا نایاب کو،،، تم نے یہ سب بگاڑا ہے اور اب تم ہی اسے میرے پاس لے کر اؤ گی،، سنا تم نے لالچی عورت،، وہ دھاڑا۔۔

اور تمھیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ میں ایسا کروں گی ڈئیر ہبی،، وہ بکھرے بال اور اجڑے حلیے میں ہتک آمیز لہجے میں چلائی۔۔

تم ایسا ہی کرو گی،،، گل بی بی،، نا کیا تو اسی گند کے ڈھیر پر پھینک آؤں گا جہاں سے اٹھا کر لایا تھا۔۔اور وہ تو تم چاہو گی نہیں کہ ہاتھ آیا دولت مند کاٹھ کا الو تمھارے ہاتھوں سے نکل جائے،،،،، ہے ناں،،،،، اب غور سے سنو،، جو جو بولتا جاؤں چپ چاپ کرتی جاؤ،، نہیں تو تین دفعہ طلاق کہنے میں صرف تین سیکنڈز لگیں گے مجھے،،، تمھیں جتنے پیسے دیتا ہوں آگے بھی ملتے رہیں گے،، مگر اب مجھے صرف وہ چاہیے،،

نشوان کے ہر لفظ کے ساتھ نایاب گل کا چہرہ لٹھے کی طرح سفید پڑا تھا،،،،،،تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے نشوان،،،،
اسے اپنی آواز کھائی سے آتی سنائی دی۔۔

رئیلی،،، تم اپنی دوست کے ساتھ ایسا کر سکتی ہو تو ٹینشن مت لو یہی سوچ لو کہ وہ سب سود سمیت تمھیں واپس مل رہا ہے،، پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے وہ اطمینان سے بولا۔۔

میں نے جو میری دوست کے ساتھ کیا اس کا انجام تو بھگت ہی لوں گی،، اور جو تم اپنے دوست کے ساتھ کرنے جا رہے ہو اس کے مکافات عمل کے بارے میں کیا خیال ہے نشوان احمد،،،
وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولی۔۔

دوست مت بولو اسے میرا،، پہلے اس نے میری چیز پر نظر رکھی تھی۔۔وہ ڈھٹائی سے بولا۔۔

دیکھو وہ دونوں ان ہزبینڈ وائف ہیں،، روم بھی ایک ہی بک کروایا ہے تو ہو سکتا ہے دونوں ایک ،،،،،،،،،

شٹ اپ یو بچ،،،، وہ ھر دھاڑا اور آپے سے باہر ہوتا نایاب کے بال مٹھی میں جکڑے،،، بھٹکاؤ مت مجھے زلیل عورت،، رومز کی شورٹیج کی وجہ سے ایسا ہوا،، اور یہ تو تم بھی اچھی طرح جانتی ہو اور میں بھی کہ وہ کس طرح کی ہے،، تمھارے جیسی نہیں ہے،،، اپنی عزتِ نفس اور پندار کی حفاظت کرنا جانتی ہے،، اور ویسے بھی میں یہ کبھی ہونے نہیں دوں گا،،، وہ صرف میری ہے،، وہ چیختا چنگھاڑتا اس وقت فرعون بن چکا تھا۔۔۔

چھوڑو مجھے نشوان جانور بن گئے ہو بلکل،،،، وہ کراہی،،

اس نے جھٹکے سے اسے زمین پر پٹخا،،، وہ رکھا ہے کیمرا اب دفعہ ہو جاؤ کام پہ لگو جو اور جیسے کہا ہے وہ کرو،،،
نشوان نے پھنکارتے کہا اور واش روم گھس گیا وہ مردہ قدموں سے کیمرا اٹھاتی باہر نکلی۔۔

💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖

رات کے وقت ان تینوں نے ہوٹل میں ڈنر کیا اور اپنے اپنے روم میں آ گئے،، وہ جو رومز کے حوالے سے انجان تھی۔۔
پیچھے مڑ کر دیکھا تو رابی کو نا پاکر حیران ہوئی۔۔

رابی کدھر گئی،، وہ پوچھ بیٹھی۔۔

وہ اپنے فرینڈز کے روم میں رہے گی،، اور سب گارڈز ایک روم میں ہیں،، وہ سکون سے کہتا جیکٹ اتارتے بولا۔۔

اور،،،، ،،،،وہ جھجھکی،،،،،،،، اور،،

واٹ جان کیا اور ،،،؟ وہ شوز اتارتے بولا

اور آپ کا روم،،،، ثوبی نے نگاہیں جھکائے پوچھ ہی لیا۔۔من چونکا۔

شاید آپ جانتی نہیں،،،،، پھر اس نے رومز کے حوالے سے اسے ساری تفصیل بتائی۔۔
اس کا اڑی اڑی رنگت دیکھ شاہِ من سنجیدہ ہوا تھا۔۔

کیا آپ کو مجھ پر بھروسہ نہیں رانا صااااب،،، اس کے لہجے میں کچھ تھا کہ ثوبی کو افسوس ہوا۔۔
وہ پرسکون سی ہو کر بیڈ پر بیٹھی،، اور اپنے شوز کے لیسز کھولنے لگی۔۔

آپ سے کس نے کہا ایسا،،،،، مجھے آپ پر پورا بھروسہ اور اعتماد ہے۔۔
وہ کہتی اسے اس رشتے کا مان اور اعتبار تھما گئی تو من کی روح تک میں سکون اترا۔۔
وہ فریش ہو کر آئی اور اب فراک کی جگہ ڈھیلے ڈھالے براؤن کرتی ٹراوزر میں تھی۔۔

من بھی فریش ہو کر بلیک ٹراؤزر اور وائٹ ٹی شرٹ میں باہر آیا۔۔
وہ بلا جھجھک بیڈ پر نیم دراز ہو گئی۔۔
من بھی آ کر اپنی سائیڈ لیٹ گیا۔۔

آپ جانتی ہیں رانا صاااااب کہ یہ کلر صرف آپ کے لئے بنا ہے،، من نے اس کی براؤن کرتی کی طرف اشارہ کیا تو وہ بلش کر گئی۔۔

یہ کلر میری لائف میں بہت امپورٹنٹ ہے،،،آپ کی وجہ سے ،، ایکچوئلی میں سوچ چکا ہوں کہ شادی آئی مین رخصتی والے دن کا آپ کا برائیڈل ڈریس اسی کلر کا ہوگا۔۔
وہ فیوچر بتانے لگا۔۔ثوبی کی شرم کے بار سے پلکوں کی جھالریں گالوں پر سایہ فگن ہوئیں۔۔

میں اس دن جی بھر کر آپ کو دیکھنا چاہوں گا،،، اس وقت کا شدت سے انتظار ہے جب آپ پوری کی پوری میرے رنگ میں رنگی میرے لیے تیار ہو کر آئیں گی،، اور میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش ہے کہ میں آپ کو اسوقت دیکھوں اور وہ نظارا مرتے دم تک اپنی آنکھوں میں بسا لوں۔۔پلیز ثوبی میرا انتظار کیجئے گا،،، کریں گی ناں،،،،؟ وہ پوچھ بیٹھا۔۔
تو وہ دھیمے سے ہاں میں سر ہلا گئی۔۔

وہ دن ایسا ہوگا کہ جب آپ کو میرا انتظار کرنا پڑے گا،،، میں چاہتا ہوں ثوبی کہ صرف اس رات آپ میرا انتظار کریں،، اس کے بدلے اگر پوری زندگی مجھے انتظار کرنا پڑے تو مجھے یہ سودا دل جان سے منظور ہوگا،،، کریں گی ناں میرا انتظار ،،،؟
اب کی بار پھر اس نے مان بھرے انداز میں پوچھا تو وہ پھر اثبات میں سر ہلا گئی۔۔ شاہ من کے دل میں طوفان اٹھے۔۔

نا کریں رانا صااااب،،،، بچے کی جان لیں گی کیا،،،؟ وہ مسکین سی شکل بنا کر بولا تو ثوبی ہنس دی۔۔

اچھا قریب آئیں،، وہ ہاتھ بڑھا کر سکون سے بولا تو ثوبی گڑبڑائی اور حیرت انگیز نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔

ادھر تو آئیں رانا صاااااب کچھ نہیں کروں گا یار،، وہ پھر ذومعنی سا بولا تو ناچار ثوبی کو اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں تھمانا پڑا۔۔
شاہِ من کے نرمی سے ہاتھ کھینچنے پر وہ تھوڑی قریب کھسک آئی۔۔ تو من نے اس کا سر اپنے سینے پر رکھ لیا۔۔

شاہ من پلیز،،،،، وہ روہانسی ہوئی۔۔

سو جائیں ثوبی،،،، فرشتہ نہیں ہوں میں،،، سرسراتا لہجہ ثوبی کے رونگٹے کھڑے ہوئے۔ من کی تپتی نگاہوں اور سانسوں کی حدت سے اس کا ماتھا اور چھوٹی سی ناک جلی تو ثوبی نے گھبرا کر اس کے شولڈر پر سر رکھ کر کروٹ بدل لی۔۔

مگر چند ہی لمحوں میں اس کی روح فنا ہوئی تھی جب من کا سلگتا ہاتھ پیٹ کے گرد لپٹتا محسوس ہوا۔۔
وہ مچل کر اٹھنے لگی۔۔جب من نے ہاتھ کے دباؤ سے اسے اٹھنے نہیں دیا۔۔
ثوبی نے ہاتھوں کی مٹھیوں میں تکیہ دبوچا۔۔

زرا سا اٹھ کر کان کے قریب بولا،، کہہ رہا ہوں ناں جان فوراً سے پہلے سو جاؤ۔۔
کان کی لو کو چومتا وہ پیچھے ہٹا ۔۔
ثوبی نے تکیے میں منہ دیا،،، اور سونے کی کوشش کرنے لگی،، اتنی تھکن تھی کہ جلد ہی نیند بھی مہربان ہو ہی گئی اور وہ سو گئی۔۔

شاہ من نے نرمی سے اس کا رخ اپنی جانب کیا،، اور غور سے اسے دیکھے گیا۔۔
مگر جلد ہی اسے سینے میں بھینچے آنکھیں موندنی پڑیں کہ بدتمیز اور منہ زور دل گستاخی کرنے پر آمادہ کر رہا تھا۔۔
جلد ہی وہ بھی نیند کی وادیوں میں اتر گیا۔۔

Continue,,,,,,,,,,,