Shahe Mun By Wahiba Fatima Readelle50091 Episode 3
No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
Episode 3.….
وہ بھسم کرنے والے انداز میں دھاڑ سے ڈور کھول کر نشوان کے آفس میں داخل ہوا تھا۔۔
تنے اغصاب،،، لال انگارا چہرہ اور آنکھیں،، بکھرا حلیہ۔۔
ایک مرتبہ تو اس کی آنکھوں سے نکلتے شعلے دیکھ نشوان بھی اندر تک گڑبڑایا ہل چکا تھا۔۔
آخر شاہِ من دلاور اعظم کے غصے سے آج تک کون تھا جو خائف نہیں ہوا تھا۔۔
میٹنگ چل رہی تھی،، مگر نشوان کے سٹاف سمیت اس کی خود کی بھی جرات نہیں ہوئی تھی کہ شاہِ من کو اس وقت ایک لفظ بھی کوئی بول پاتا۔۔
کون نہیں جانتا تھا شاہِ من دلاور کو،،،، جو دلاور اعظم کی سیاسی پارٹی کا ہونے والا نیا چئیرمین عنقریب ہی بننے والا تھا۔۔
جبکہ اپنے سیاسی کرئیر کا آغاز تو وہ کب کا کر چکا تھا۔۔
آخر اس نے میٹنگ ہی برخواست کر دی سب روم سے نکلے،، وہ آہستہ آہستہ ٹیبل کے قریب آیا۔۔اور دونوں ہتھیلیاں ٹیبل پر رکھ کر ہلکا سا نیچے جھکا۔۔
نشوان کے ماتھے پر پسینے کے ننھے ننھے قطرے نمودار ہوئے مگر،،
ڈھٹائی سے بولا۔۔
کیا یار،،، چھوٹا سا مزاق تھا،،، شرارت،، اتنا سیریس کیوں لے رہے ہو،،،
وہ ٹیبل پر جھکا نشوان کو گڑبڑاتے اور ماتھے پر ابھرا پسینہ دیکھے گیا۔۔
عجیب سی لپک تھی اس کی نگاہوں میں،، نشوان بار بار ماتھے پر آتا پسینہ صاف کر رہا تھا۔۔
مزاق وہ ہوتا ہے نشوان احمد جس پر لوگوں کو ہنسی آئے،، ناکہ کسی کی زندگی برباد ہو جائے،،،، جبکہ تم اچھی طرح جانتے تھے کہ مجھے کتنے برے طریقے سے چڑھ جاتی ہے۔۔
شاہِ من کے لہجے میں عجیب چبھن اور پھنکار تھی۔۔
اوکم آن یار جانے دو دوستوں میں تو سب چلتا ہے،، ہوا کیا،،؟
وہ خباثت سے اس کو ٹاپک سے ہٹا کر اس کے منہ سے اس کی بربادی کی کہانی سن کر اب لطف اٹھانا چاہتا تھا۔۔
مگر شاید بھول گیا تھا سامنے شاہِ من دلاور اعظم کھڑا تھا کوئی معمولی انسان نہیں۔۔۔
وہ تو کتنے دنوں سے اس کا بدلہ رویہ جان رہا تھا،، بدلے تیور نوٹ کر رہا تھا۔۔مگر اپنی غلط فہمی سمجھ کر اگنور کر گیا۔۔
اس کی ایکسرے مشین جیسی نگاہیں جیسے اسے اندر تک جانچ رہی تھیں،،، تبھی وہ گڑبڑا رہا تھا۔۔
یو نو واٹ،،، نشوان احمد،،،، اعظمز سیاست کی بلندیوں اور کامیابیوں کو کیوں چھو رہے ہیں،، کیونکہ وہ اپنے آستین میں چھپے سانپ نما سو کالڈ خیر خواہوں کو بہت جلد پہچان لیتے ہیں،، اور دوست کی شکل میں بھیڑیے نما دشمن کو بھی بہت اچھے سے جان لیتے ہیں،،، وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا۔۔
نشوان نے اس کی جانب دیکھا۔۔
اسی لئے اپنی بزدلی کی کھال سے باہر آؤ نشوان اور کھل کر دشمنی نبھاؤ تو شاہِ من کو بھی مزا آئے۔۔ آج سے جو ہم میں کزنز اور دوستی کا رشتہ تھا اسے تو بھول ہی جاؤ،،، اور مجھ سے اور خاص طور پر اس سے دور بہت دور رہنا،، اسی میں تمھاری بھلائی ہے،، نشوان احمد،،،، نہیں تو شاہِ من کی رگ رگ سے تو واقف ہی ہو تم ،،،کہ خود سے جڑی چیزوں کے لئے میں کس قدر پاگل،، پوزیسواور جنونی ہوں،،،،، اپنی چیزوں پر نظر ڈالنے والے کی آنکھیں نوچ کر پھینکنے میں شاہِ من ایک سیکنڈ کا بھی وقت نہیں لگائے گا۔۔۔
وہ سرسراتے سرد لہجے میں کہتا سیدھا ہوا۔۔
اسے میں نے ریجیکٹ کیا اور اب تم،،،،،،
شٹ اب یو باسٹرڈ،،، من دھاڑا تو نشوان اپنی جگہ سے اچھل پڑا۔۔
تمھاری کیا اوقات تھی نشوان احمد اسے ریجیکٹ کرنے کی،، یوں کہو کہ اس کی قسمت نے تمھیں ریجیکٹ کیا،، آخری مرتبہ بول رہا ہوں،، پھر صرف بولوں گا نہیں،،، آگے تم خود سمجھدار ہو،،، دور رہو اس سے۔۔۔
وہ غراتا کہتا ،،،،،تن فن کرتا وہاں سے نکلا۔۔۔
اونہہہہہہ،،،، تم اور تمھاری دھمکیاں شاہِ من،،،،، اسے تو میرے پاس ہی آنا ہوگا،،،، ہر حال میں ہر قیمت پر،،،،،بہت بڑی بھول ہو گئی مجھ سے جو اتنے خسارے کا سودا کر بیٹھا،،،،کھرے کو چھوڑ کھوٹے سکے کو دامن میں بھر لیا،، مگر اب میں ہی وہ غلطی سدھاروں گا۔۔۔
وہ زہر خند لہجے میں شیطانی ارادے باندھتا اس وقت فرعون بن چکا تھا۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
شاہِ من کی بی ایم ڈبلیو رانا ہاؤس میں داخل ہوئی تو لاؤنج میں بیٹھے جہانگیر صاحب کے ماتھے پر آواز سن کر ڈھیر سارے بل آئے۔۔
کچھ ہی پلوں میں وہ آندھی بنا اندر داخل ہوا تھا۔۔
رانا جہانگیر کو لگا وہ پہلے ان کے پاس آئے گا،،، مگر یہ ان کی خام خیالی ہی تھی۔۔۔کہ وہ ان سے ڈرے گا۔۔
کیونکہ دنیا کی کوئی طاقت نہیں تھی یا کوئی رکاوٹ جو شاہِ من کو اس کے پاس جانے سے روکتی۔۔
وہ اپنی بلیک لیدر جیکٹ میں ہاتھ ڈالے فی الحال ان کو اگنور کرتے ہوئے سیدھا اوپر والے پورشن کی جانب بڑھا۔۔
رانا جہانگیر شدید طیش اور اشتعال میں اٹھنے لگے جب صائمہ بیگم نے ان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ انھیں روک دیا۔۔
جو بھی تھا اب وہ ان کا داماد تھا۔۔
صائمہ بیگم نے انھیں شانت رہنے کا اشارہ کیا۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
وہ اپنے روم کی کھڑکی میں مکمل سیاہ لباس میں گرے شال کندھوں پر ڈالے سوگوار سی کھڑی باہر نیچے کسی غیر مرئی نقطے کو گھور رہی تھی۔۔
کلائیوں پر ڈریسنگ کی گئی تھی،،، اب گردن کی جلن میں بھی افاقہ تھا۔۔
مگر جو روح چھلنی ہوئی تھی،،، وہ زیادہ تکلیف دہ عمل تھا۔۔
جانی پہچانی آہٹ اپنے پیچھے محسوس ہوئی تو وہ چونکی ضرور،،،،،، مگر پلٹی نہیں۔۔
جانتی تھی اگر پیچھے کھڑے شخص کے بس میں ہوتا تو وہ تو اس کی سانسوں پر بھی دسترس حاصل کر لیتا۔۔
کجا کہ وہ اسے دور جاتی۔۔۔چھوڑنے کی بات تو بہت بعد میں آتی تھی۔۔
وہ دھیمے قدموں سے چلتا بلکل اس کے پیچھے آن کھڑا ہوا۔۔۔
ثوبی،،، دھیمے سے بوجھل آواز میں پکارا،،،، میں وضاحت دے سکتا ہوں۔۔
نہیں چاہیے،،، ثوایبہ سرد و سپاٹ لہجے میں بولی،،،، آپ بس مجھے ڈائیورس دے دیں۔۔
من کے چہرے نے لہو چھلکایا،،،،، اور آپ کو ایسا کیوں لگا کہ میں ایسا کروں گا۔۔۔
شاہِ من کی بے قرار نگاہوں نے اس کے چہرے کا شدت سے طواف کرنا چاہا۔۔
مجھے تو یہ بھی نہیں لگا تھا جو رات آپ نے میرے ساتھ کیا،،،،،وہ اچانک مڑی،،، اور نفرت سے من کو دیکھا،،
پھٹا ہونٹ،،، ڈریسنگ کی گئی زخمی کلائیاں۔۔من کا دل جیسے ڈوب کے ابھرا۔۔
جبکہ ابھی تو گردن پر اس نے شال لپیٹ رکھی تھی۔۔
یہ نشوان نے جان بوجھ کر کیا،،، ثوبی،، آئی سوئیر،،، اس نے میری سمپل ڈرنک میں کچھ ملا دیا تھا،،،،،
اس کا لہجہ ٹوٹا ہوا تھا۔۔
اب آپ کی کوئی وضاحت اس اعتبار کو دوبارہ قائم نہیں کر سکتی جس کی دھجیاں آپ رات بکھیر چکے۔۔ شاہِ من،،،،
ثوبی کا لہجہ نہایت سرد تھا۔۔
ثوبی پلیز،،،،، ایک دفعہ،،،،،،
نو،،،، شاہِ من،، اب نہیں،،،اس کا لہجہ بھیگ گیا،،،، کتنا ارزان کر دیا آپ نے مجھے،،، کہ اب تو اپنے وجود سے نفرت ہونے لگی ہے مجھے،،شدید نفرت،،،،، جسے پانے کو آپ مچل رہے ہیں۔۔
ثوبی نے اس کے کانوں میں جیسے پگھلا ہوا سیسہ انڈیلا۔۔
شاہِ من کا چہرہ شدتِ ضبط سے لال انگارا ہوا۔۔نرمی سے اسے بازوؤں سے تھام کر دیوار کے ساتھ لگایا اور اس کے دائیں بائیں دیوار پر ہاتھ رکھے۔۔
آپ کو پتہ ہے آپ کیا کہہ رہی ہیں ثوایبہ،،،، اب تو من کا لہجہ بھی بھیگا تھا۔۔مگر رگیں تن چکی تھیں۔۔
ثوایبہ نے کندھوں سے لپیٹی شال خود سے اتار کر نیچے گرائی تھی،،،،اور کندھے سے شرٹ نیچے کھسکانا چاہی،،،، میں جو کہہ رہی ہوں اس کا ثبوت یہ نشانات ہیں شاہِ من جو آپ نے مجھے تحفے میں دئیے،،،
ثوبی کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر گرے۔۔من نے تڑپ کر اس کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر جیسے ان نشانات سے نگاہیں چرانی چاہیں۔۔
شاہِ من کا دل کیا ڈوب مرے،،، خود جیسے یہ اپنی درندگی کے نشانات دیکھ کر اپنی ہی نگاہوں سے گرا ہو۔۔ شدت ضبط کے باوجود بھی اس کے تواتر سے بہتے آنسو دیکھ شاہِ من کی آنکھیں بھیگی تھیں۔۔
آئم سوری،،،،، ثوبی،،، میں،،،،،
آپ ایک کام کریں شاہِ من،،،،،،، کر لیں اپنی خواہش پوری،،،، شاید آپ کو سکون آ جائے،،،،، اور اس پل پل کی اذیت سے میری جان چھوڑ جائے۔۔۔
الفاظ تھے کہ شعلے،،،، جو من کی رگوں میں اترے تھے۔۔
ثوبی،،،،،،، وہ دھاڑا،،،،،،، باسسسسسسسسس،،،،،، یہ بات تو آپ بھی اچھی طرح جانتی ہیں کہ ایسا کچھ نہیں ہے،،، کتنا عرصہ ہو گیا ہمارے نکاح کو،،، ایسا کب لگا آپ کو،،،،، اور اگر مجھے صرف آپ کے وجود سے غرض ہوتی تو یاد ہے آپ کو کڈنیپ کیا گیا تھا۔۔
وہ لال انگار آنکھیں اس کی آنکھوں میں گاڑے کھڑا تھا۔۔ثوبی کی سانس اٹکی اب وہ کیا انکشاف کرنے چلا تھا،،، اس کی نازک جان کے اوپر پھر کونسی آگہی کا عذاب نازل کرنے والا تھا۔۔
کس نے کیا تھا آپ کو کڈنیپ جانتی ہیں،،،،، دانیال بھائی نے،،،، جب دوسری مرتبہ آپ نے رشتے سے انکار کیا،،، تب ،،،،وہ لے آئے تھے آپ کو میرے لئے،،میرے پاس،،، اور لا کر پھینک دیا تھا میرے روم میں،،، اور یہ بھی کہا تھا جو ابھی آپ نے کہا،،،، کہ پھر تو آپ کے پاس انکار کی گنجائش نا رہتی اگر میں اس وقت اپنی خواہش پوری کر لیتا،،، بقول آپ کے،،
وہ بھیگے لہجے میں اس کے ماتھے سے ماتھا ٹکائے بے بسی سے بولا۔۔
جانتا ہوں رات ناقابلِ تلافی نقصان کر چکا ہوں ،،،مجھے سزا دیجئے،،، لیکن موت نہیں،،، خدرارا،، آپ سے جدائی میرے لیے موت ہی ہے،،، مر جاؤں گا میں آپ کے بغیر ،،،،آپ جانتی ہیں اچھی طرح،،،،،
وہ کہتا ایک قدم پیچھے ہٹا،، زمین سے شال اٹھا کر اس کے سر پر ڈالی۔۔۔
اس نازک گداز وجود پر ایک بھر پور نگاہ ڈالی اور پیچھے مڑ کر روم سے نکلتا چلا گیا۔۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
وہ پھر آکر کھڑکی میں کھڑی ہوئی۔۔۔
شاہِ من دلاور اعظم ایک مرتبہ پھر اپنے جنون کی انتہا سے اسے لاجواب کر گیا تھا۔۔ جس سے وہ سخت جھنجھلا جاتی تھی۔۔
دماغ ماضی کے جھروکوں میں کہیں کھویا اور وہ وقت یاد آیا۔۔
جب محبت جیسے عذاب میں اپنی جان نہیں جھونکی تھی۔۔
یہ وہ وقت تھا جب وہ فیصل آباد میں رہتے تھے۔۔
اس دن وہ کالج سے واپس آئی تھی جب پاپا گھر پر موجود تھے۔۔
اسے حیرت ہوئی۔۔
تب اسے پتہ چلا کہ پاپا کا ٹرانسفر لاہور ہو چکا ہے۔۔اس کے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہوئی تھی۔۔
کیونکہ لاہور میں اس کی سگی پھپھو اسما بیگم رہتی تھیں۔۔اور ان کے بیٹے نشوان احمد سے جانے کیوں اسے ڈر لگتا تھا۔۔
نہیں جانتی تھی ثوبی کہ وہ ڈر نہیں تھا محبت تھی جو اسے کھوکھلا کر دے گی۔۔
بہرحال جلد ہی وہ لاہور شفٹ ہوئے تھے۔۔ کئی دن سیٹنگ کرنے میں گزر گئے۔۔
اس کی پھپھو جو اس سے بے تحاشا محبت کرتی تھیں پورا ساتھ دیا ان کا سیٹنگ میں،،،
اس نے اپنی سٹڈی سٹارٹ کر لی تھی۔۔
ایک دو مرتبہ نشوان بھی آیا اپنی مما کو چھوڑ کر جانے اور رسیو کرنے۔۔
وہ خود تو سامنے نہیں آئی مگر اسے چھپ کر ضرور دیکھا تھا کہ یہ کچی عمر کی نوخیز سے جزبات کی پہلی سیڑھی تھی جس پر وہ چڑھنے لگی تھی۔۔
کالج میں بڑی مشکل پیش آئی۔۔پرانی دوستیں یاد آئیں ۔۔۔مگر جلد ہی یہ کمی بھی پوری ہو گئی۔۔
جب نایاب گل نے اس کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔۔
متمول گھرانے کی نایاب گل کافی دبنگ،، نڈر اور شوخ و شنگ لڑکی تھی۔۔
جبکہ ثوبی اس کے بلکل بر عکس مگر پھر بھی دوستی ہو ہی گئی۔۔
چند دنوں میں ہی دوستی حد سے زیادہ گہری ہو گئی اور تکلف کی تمام دیواریں گر گئیں۔۔
وہ یونہی ایک عام سا دن تھا جب کالج کا آف ہوا۔۔وہ دونوں گیٹ تک آئیں ۔۔مگر ثوبی یہ دیکھ کر دم بخود رہ گئی۔۔
کہ سامنے نشوان احمد اپنے مخصوص ڈیشنگ حلیے میں لاپرواہ سا گاڑی سے ٹیک لگائے کھرا اس کا انتظار کر رہا تھا،،،
اسے دیکھ ثوبی کے ہاتھ پیر پھولے تھے،، اور اس کا یہ ہونق پن دیکھ نایاب گل کو سمجھنے میں وقت نا لگا کہ،،،،،،
وہ ثوبی کو دیکھ اس کی جانب بڑھا۔۔
مجھے ماموں جان کا فون آیا کہ گھر کی گاڑی خراب ہے تو میں تمھیں لے آؤن کالج سے،،، اب چلو۔۔۔
جج،،،،، جی،،، وہ ہکلائی،،
نایاب کو حیرت ہوئی مگر چور نگاہوں سے ثوبی کی پتلی ہوئی حالت نوٹ کی جو اب لرزتے قدموں سے جا کر چپ چاپ گاڑی میں بیٹھ گئی۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
سارے رستے وہ خاموش رہی،،، نشوان بھی ائیر پوٹس لگائے بزی رہا۔۔
ثوبی اکیس سال کی تھی ابھی اور نشوان سے نو سال چھوٹی تھی۔۔
نشوان نے امریکہ سے ایم بی اے کیا تھا اور اب اپنے خود کے بزنس کو آسمانوں کی بلندیوں تک پہنچا دیا تھا۔۔
گھر پہنچ کر اس نے اپنی مما سے بہت جھگڑا گیا تھا کہ آپ نے نشوان کو کیوں بھیجا اسے لینے کے لئے۔۔۔
اور اپنے پاپا کی لاڈلی پاپا سے بجی ناراض ہو گئی۔۔
جہانگیر صاحب بھی پریشان ہو گئے کیونکہ جانتے تھے کہ ان کی پرنسز، ان کے علاوہ کسی پر بھروسہ نہیں کرتی تھی۔۔
پھر لاکھ منت سماجت اور آئسکریم کھلانے کے بعد ان کی پرنسز کا پھولا منہ سیدھا ہوا تھا۔۔
اگلے دن نایاب نے جو اس کی ٹانگ کھینچی تو اس سے سب کچھ اگلوا کر ہی سانس لیا۔۔
اور پھر اگلے کچھ دنوں تک مشہور بزنس ٹائیکون نشوان احمد کا وزیٹنگ کارڈ اور فون نمبر بھی نایاب گل نے حاصل کر لیا۔۔
اپنی دوست کی خاطر۔۔
پر کون جانتا تھا آگے قسمت کیا کھیل کھیلنے والی ہے۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
