53.8K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

Episode 13.….
میں نے زندان میں سیکها تها اسیروں سے اک اسم
جس کو دیوار پہ پھونکیں تو ہوا آتی ہے ❤❤

جائے نماز پر بیٹھ کر ندامت کے آنسو بہا کر پہاڑ جتنے غموں کو جھیلنا سیکھ لیا تھا اس نے،،،،
ثمن مردہ قدموں سے اٹھی اور دوسرے روم میں جا کر وضو کیا۔۔
کپڑے تو روم میں تھے لہزا دلہن کے لباس میں ہی تہجد ادا کرنی پڑی۔۔
کیونکہ تہجد کا وقت تھا۔۔
دل و روح آج پھر اپنے گناہوں کی ندامت میں ڈوبے تھے۔۔
اب یہ تو طے تھا کہ قہ کبھی خود کو صبا کہلوانا پسند نہیں کرے گی کیونکہ صبا نے دانیال سے بے وفائی کی تھی۔۔
مگر ثمن دانیال پر اپنا تن من وار کر پھینکنے کو تیار تھی۔۔

یوں تو پہلے بھی اکثر راتیں اپنے گناہوں کی معافی مانگتے گزری تھیں مگر آج جو اس شخص کا سامنا کر کے دل جیسے شرمندگی کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبا تھا۔۔

وہ فجر کی اذانوں کے وقت تک جائے نماز پر بیٹھی اپنے کیے گئے گناہوں کی معافی مانگتی رہی تھی۔۔
ہمیشہ کی طرح سکون اترا تھا اس کے اندر تک،،،،،، تبھی فجر ادا کر کے جائے نماز پر ہی سو گئی تھی۔۔

صبح دانیال کی بچوں سے پہلے ہی آنکھ کھل گئی تھی۔۔اسے اپنے فلیٹ جانا تھا۔۔ حالانکہ بچوں کو بول چکا تھا کہ وہ ان کے پاس ہی رہے گا مگر،،،
کچھ باتیں چاہ کر بھی انسان پوری نہیں کر سکتا۔۔

وہ روم سے باہر آیا تھا ایک چور نگاہ لاؤنج میں دوڑائی،،،،
جبڑے بھینچ گئے تھے اسے نا پاکر،،، اور اگر بچے اٹھ جاتے تو۔۔

کہیں سچ مچ تو نہیں چلی گئی کہیں،،، بچے کیا کریں گے،،، کیسے رہیں گے،،
اب وہ طیش میں ہر جگہ دیکھ رہا تھا تبھی سامنے والے روم کا دروازہ کھولا تو نگاہ سامنے زمین پر اٹھی۔۔
جہاں وہ جائے نماز پر آڑھی ترچھی دلہن کے لباس میں ہی سرخ دوپٹہ خود سے لپیٹے گہری نیند میں تھی۔۔

وہ واپس مڑنے لگا جب کچھ غیر معمولی محسوس ہونے پر ناچاہتے ہوئے بھی اس کی جانب بڑھا۔۔

ہیے،،، اٹھو،،، بچے اٹھنے والے ہے،،، اور بچوں کے معاملے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کروں گا میں،،، انھیں کھروچ بھی آئی تو ادھیڑ کر رکھ دوں گا،،، سمجھیں۔۔۔ وہ جان بوجھ کر تقریباً چلایا۔۔

مگر جواب ندارد،،،،،،
اس کے ماتھے پر گہرے بل آئے تھے۔۔
ثمن اٹھو،،، ابھی کہ ابھی،،، وہ دانت پیس کر بولا تھا۔۔مگر اس نے تو جیسے نا سننے کی اور نا ہلنے کی قسم کھا رکھی تھی۔۔
اب مجبوراً وہ گھٹنوں ک بل جھکا تھا۔۔

ثمن،،،،،ثمن،،،،،،،، ہلکے سے چہرہ تھپتھپایا،،، مگر یہ سمجھ کر اس کے سچ مچ اوسان خطا ہوئے تھے کہ وہ ہوش میں ہی نہیں ہے۔۔
فورا ہی اسے بازوؤں میں بھرا۔۔
اور باہر نکلا۔۔

کچن میں بوا بیگم تھیں ،،،انھیں بچوں کے پاس رہنے اور ان کا خیال رکھنے کا بول کر اسے لئے باہر آیا۔۔
اسے گاڑی میں لٹا کر ہوسپیٹل کے لئے نکلا تھا۔۔

💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖

وہ بیڈ پر نیم دراز موبائل میں بزی تھی۔۔
رات وہ بہت ایزی ہو کر کافی دنوں کے بعد سکون سے سوئی تھی۔۔
شاہِ من کی اب عادت ہو چلی تھی اس کو۔۔
اس کی قربت میں اب وہ خود کو بہت محفوظ اور کمفرٹیبل محسوس کرتی تھی۔۔

مما پاپا گھر پر نہیں تھے،، الیکشن ہونے والے تھے تو وہ کسی دعوت میں شرکت کرنے گئے ہوئے تھے۔۔
آج کا ان کا سارا دن بزی تھا۔۔
رابی کالج میں تھی اور وہ گھر میں اکیلی تھی۔۔

سستی سی چھائی تھی سوچا فریش ہوا جائے ۔۔فریش ہو کر باہر آئی تو سامنے کا منظر دل دہلا دینے والا تھا۔۔

آنے والے الیکشن کے لیے شاہِ من اتنی اہم میٹنگ میں سنجیدگی سے بیٹھا مینجرز سے ضروری بریفنگ لے رہا تھا۔۔

جب فون رنگ ہوا،،،،، اور فون پر جگمگاتا رانا صاب کا نمبر بلنک کرنے لگا،،
اس کے ہونٹ نا چاہتے ہوئے بھی مبہم سا مسکرائے۔۔مگر فورا وہ مسکان غائب بھی ہو گئی۔۔

فون یس کر کے کان کو لگایا۔۔۔مگر دوسری طرف سے سنی گئی ایک دلخراش چیخ نے سیکنڈوں میں اس کے چہرے سے لہو چھلکایا تھا۔۔

اس وقت اگر اسے یہاں سے دنیا کی کوئی طاقت اٹھا سکتی تھی تو یہ وہی چیخ تھی۔۔
بڑے سے بڑے حادثے پر بھی جس کے ماتھے پر ایک شکن نہیں آتی تھی۔۔اب اس کی تنی رگیں جیسے پھٹنے کو تھیں۔۔

وہ فوراََ سے پہلے میٹنگ برخاست کرنے کا اشارہ کرتا وہاں سے اٹھا۔۔

شاہ،،، مم،،، من،،،،، وہ،،، میرے سامنے ہے،،، وہ،،،، میری،،،،، طرف،،، آ،،،،، رہا،،،، ہے،،،، بچائیں مجھے،،، ثوبی کی دبی دبی سسکیاں سنائی دیں تو شاہِ من کا دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔۔

ہیے کون ہے ثوبی،،، جلدی بتاؤ مجھے،،، وہ دھاڑا۔۔

وہ ۔۔۔یہ،،، وہ،،،، وہ پھر روئی۔۔

وہ بجلی کی رفتار سے باہر نکلا تھا۔۔اور گارڈز اور ڈرائیور کا انتظار کیے بغیر زن سے گاڑی بھگائی۔۔
فون بند ہو چکا تھا اور اس کا دل بیٹھ رہا تھا۔۔

آدھے گھنٹے کا فاصلہ اس نے پندرہ بیس منٹ میں طے کیا ہوگا۔۔
جھٹکے سے گاڑی اندر رکی تو اس نے پیچھے کھڑے گارڈ سے گن چھین کر پینٹ میں اڑس لی۔۔

وہ طوفان بنا اعظم مینشن میں داخل ہو کر اپنے روم کی جانب بھاگا۔۔
دھاڑ سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تو سامنے کا منظر انتہائی غیر متوقع تھا۔۔
اس نے سرد سی گہری سانس بھری۔۔

روم میں کوئی نہیں تھا جبکہ رانا صاب بیڈ کراؤن کے اوپر چڑھی بڑی مشکل سے بیٹھی متوحش سی سامنے دیکھ رہی تھی۔۔
وہ دھیمے قدموں سے چلتا اس کے قریب آیا۔۔

وہ،،، ممم،، من،،، یہ،،، وہ،،،
اس نے سہم کر اپنے مجرم کاکروچ چھکو کی جانب اشارہ کیا جو بیڈ پر بڑی شان سے براجمان رانا صاب کی جانب ہی پاؤں پسار کر بیٹھا تھا۔۔

Sobiii what’s going on here?
اترو نیچے چوٹ لگ جائے گی۔۔

من،،، نو،،، یہ اڑتا بھی ہے،، میرے اوپر اڑ کر بیٹھ گیا تو،،، من،،،، مجھے چھپا لیں،،، کہیں،، وہ روہانسی سی سوں سوں کرتی بولی۔۔

ثوبی نیچے اترو۔۔۔ ابھی یہ اجازت تو خود میں نے اپنے آپ کو نہیں دی کے تمھاری مرضی کے خلاف تمھیں چھوؤں ۔۔اس کی کیا مجال۔۔۔
وہ خمار آلود لہجے میں بولا مگر یہاں غور کون کر رہا تھا۔۔

نو،،، نیور،،، مجھے گود میں اٹھا لیں من،،، اس نے بچوں کی طرح بازو پھیلائے،،
تو من نے آگے بڑھ کر اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے آہنی بازوؤں میں اٹھا لیا۔۔

ثوبی کا اگلا عمل،،،،، شاہِ من کا دل اچھل کر حلق میں آیا۔۔۔
جب اس نے اپنے نازک نرم و ملائم بازو اس کی گردن کے گرد مضبوطی سے لپیٹ کر اپنا منہ اس کی گردن میں چھپا لیا۔۔

من،،،مجھے چھپا لیں،،، یہ اڑتا بھی ہے،،، اس نے پھر سسکی بھرتے دہائی دی۔۔
اور بہت ٹائٹلی ہگ کیا۔۔

شاہ من کی سانس اٹک گئی۔۔ اسے لئے رابی کے روم میں آیا۔۔وہ ہنوز اس سے بری طرح چپکی ہوئی تھی
جیسے کاکروچ نا ہوا مونسٹر ہو گیا جو اسے سالم نگل جانے والا ہے۔
شاہِ من کا دل کیا قہقہے لگا کر ہنسے مگر ضبط کیے رکھا۔۔روم میں آ کر خود کاؤچ پر بیٹھا۔۔ اور اسے گود میں بٹھایا۔۔
وہ ہنوز اس کی گردن میں منہ دئے بیٹھی رہی۔۔

آپ جانتی ہیں ثوبی آج آپ نے کیا کیا،،؟ لہجے میں سنجیدگی طاری کرتے شاہ من نے پوچھا تو اس نے گردن سے منہ نکلا کر اس کی جانب دیکھا۔۔

ی،،، یس،،، مم،،، میں نے آپ کی اتنی ضروری میٹنگ سپوئل کر دی،،، وہ سوں سوں کرتی بولی۔۔چھوٹی سی ناک سرخ پڑ چکی تھی۔۔

اچھا شروع سے بتائیں ہوا کیا تھا،،،،کیسے اٹیک کیا چھکو نے میری انوسنٹ سی رانا صااااب پر ،،،وہ کہتا فورا دانتوں تلے لب دبا گیا۔۔

وہ میں فریش ہو کر واش روم سے باہر آئی تو وہ سامنے فرش پر تھا،،،،میں نے ڈر کر چپل اٹھا کر مارنی چاہی تو وہ اڑنے لگا اور میرے پیچھے بھاگنے لگا،،،، میں بیڈ کراؤن پر چڑھ گئی تو وہ بیڈ پر میرے سامنے بیٹھ گیا۔۔۔وہ کیوٹ کیوٹ سے منہ بناتی اپنے اور مسٹر چھکو کے درمیان ہونے والے دنگل کا احوال سناتی اس کے دل و دماغ پر بجلیاں گرا چکی تھی۔۔۔پھر میں نے کیسے بھی کر کے آپ کو فون کر دیا،،،،

وہ ہنوز اس کی گردن کے گرد بازو لپٹائے سکون سے بیٹھی تھی۔
میں نے پوچھا تھا رانا صااااب کہ آپ کو پتہ بھی ہے احساس بھی ہے آج آپ نے کیا کیا،،، ؟
اب شاہ من کے کے ہاتھوں نے اس کی کمر کے گرد گھیرا تنگ کیا تھا۔۔

ی،،، یس آپ کی میٹنگ،،،

میٹنگ جائے بھاڑ میں ،،،،مگر آج آپ نے اس شخص کے اندر سوئے ایک ہبی کو جگا دیا ہے ایکچولی،،،
وہ خمار آلود لہجے میں بولا جبکہ نگاہوں کا مرکز بلکل سامنے وہ نرم و گداز گلابی لب تھے۔۔

بلکل اچانک بیٹھے بیٹھے رانا صاب ہوش کی دنیا میں آئیں تھیں کہ وہ کیا کیا گل کھلا چکی ہے،،، کیا کیا کر چکی ہے۔۔
کیا کیا بول چکی ہے۔۔
مجھے گود میں اٹھا لیں ۔۔
مجھے کہیں چپھا لیں۔۔ اور موجودہ صورتحال جب وہ بچوں کی طرح اس کی گود میں بیٹھی۔۔
کانوں تک سرخ ہوتی اس کا دل کیا سامنے والے کی نگاہوں سے ابھی کہیں اوجھل ہوتے چھپ جائے۔۔

وہ بری طرح بوکھلائی تھی۔۔ مم،،، من،،، چھوڑیں مجھے،، مم،، میں ٹھیک ہوں،،،

مگر رانا صاااااب،،،،، اب میں بری طرح خراب ہو چکا ہوں ،،،وہ بے خود سا ہوا تھا۔۔ایک ہاتھ خود بخود ہی جیسے ثوبی کی گردن پر لپٹایا تھا۔۔
من،،، ثوبی کے ہوش اڑے۔۔ مگر آج مدہوشی جیسے سر چڑھ کر بولی تھی۔۔
بہت نرمی سے اس نے اس کی سانسوں کو اپنی دسترس میں لے کر اس کے ہوش ٹھکانے لگائے تھے۔۔
ثوبی کے دل نے ایک سو بیس کی رفتار پکڑی تھی۔۔ بری طرح آنکھیں بن کیں تھیں۔۔

کندھوں سے اس کی نیوی بلو شرٹ بری طرح مٹھیوں میں جکڑی تھی۔
یہ وہ لمس تھا وہ شدتیں تھیں جو اس کی چھوٹی سی جان حلق میں لے آتی تھیں۔۔
وہ نرمی سی پیچھے ہٹا۔۔

ثوبی نے بے حال ہوتے پھر سے اس کی گردن میں منہ چھپا لیا اور اپنی سانسوں کا توازن بر قرار کرنے کی کوشش کی۔۔
وہ گہرا مسکرایا۔۔

ہممممم،،، کیا ہوا جان کہا تھا ناں بدتمیزیاں کرنے پر اتر آیا تو ہوش اڑ جائیں گے آپ کے،،، اڑ گئے ناں،، اور آج یہ گستاخی کرنے پر مجھے آپ نے مجبور کیا۔۔
وہ ہنسا چلا گیا۔۔

ثوبی نے ایک زور دار مکا ٹکایا اس کے کندھے پر،،، مم،،، من آپ بہت بدتمیز ہیں،،، وہ روہانسی ہوئی۔۔
اور جھٹکے سے اٹھ کر کھڑی ہوئی ۔۔

کہاں رانا صااااااب،،، ادھر تو چھکو ہے،،، وہ شریر لہجے میں بولا۔

جی اور جا کر ہٹائیں اسے وہاں سے نہیں تو میں اپنا سامان اسی روم میں شفٹ کروا لوں گی ۔۔وہ اطمینان سے بولتی شاہِ من پر بجلی گرا گئی۔۔

آں ہاں،،، کر کے تو دیکھائیں مجھے ڈئیر وائفی آپ ایسا،، پھر دیکھنا کیا کرتا ہے یہ آپ کا ہبی۔۔وہ بھی سکون سے بولا۔۔

کیا کریں گے آپ،،، ثوبی نے بھنوئیں اچکا کر کہا انداز چیلجنگ تھا۔۔

یہ تو آپ کے ایکشن پر ڈیپنڈ کرتا ہے میرا ری ایکشن کیا ہوگا۔۔ابھی نہیں بتا سکتا،،،،، وہ لاپروائی سے بولا۔

اوکے رائٹ آج رات میں ادھر ہی ہون،، وہ مزے سے بیڈ پر پاؤں پھیلا کر بیٹھ گئی۔۔

رائٹ انھیں پیروں سے چل کر میرے پاس آئیں گی،،، اطمینان قابلِ دید تھا۔۔

دیکھا جائے گا،،،ابھی آپ جائیں اپنی میٹنگ اٹینڈ کریں جا کر،،، وہ پھیل گئی۔۔

I like your spirit dear wifi,,and I like challenges,,,,,
وہ گہرا مسکراتا وہاں سے جا چکا تھا۔۔

💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖

آپ کی وائف کو برین ہیمرج ہوا ہے مسٹر دانیال ،،اور وہ بہت ویک بھی ہیں،،، مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ کیسے ایکسپلین کروں،،، کافی عرصے سے وہ پراپر ڈائٹ نہیں لے رہی ہوں،،، وہ بہت کمزور ہیں،، بہت ،،آپ کو ان کا بہت خیال رکھنا ہوگا نہیں تو اس اسٹیٹ میں کبھی بھی کچھ بھی ہو سکتا ہے،،، آپ سمجھ رہیں ناں مسٹر دانیال،،،

ہوسپیٹل کے پرائیویٹ روم میں وہ اس کے بیڈ کے قریب چئیر پر بیٹھا اسے غور سے دیکھے جا رہا تھا اور ڈاکٹر کے الفاظ بار بار اس کے کانوں میں گونج رہے تھے۔۔

وہ پہلے سے بے تحاشا کمزور ہو چکی تھی گردن پر استری سے داغا گیا نشان بڑا واضح تھا۔۔
دانیال نے اسے ثمن پکارا تھا۔۔
کیونکہ جو اس سے بے وفائی کر کے اسے چھوڑ کر گئی تھی۔۔وہ صبا تھی۔۔ دانیال کو اس سے شدید نفرت کرنی تھی۔۔ تڑپانا تھا اذیتیں دینی تھیں اور مظالم ڈھانے تھے۔۔

مگر پھر اس سے میں اور ان لوگوں میں کیا فرق رہ جاتا۔۔

کیونکہ جو لوٹی تھی وہ ثمن تھی،،، باحیا،،، با کردار،،، باپردہ

وہ اس کمزور اور نحیف سے وجود سے جانے کیوں پر بے تحاشا نفرت نہیں کر پا رہا تھا۔۔
یقیناََ ثمن کی توبہ قبول ہوئی تھی۔۔جو دانیال کے دل سے اس کے لئے نفرت ہٹا دی گئی تھی۔۔

اور اسی بات نے اسے جھنجھلاہٹ میں مبتلا کر رکھا تھا۔۔
اس کی نگاہیں بار بار بھٹک کر اس کے پرنور معصوم چہرہ پر ٹک جاتی تھیں۔۔
نازک وجود سفید رنگت،، تیکھے کھڑے نقوش۔۔

فجر بلکل اس کے جیسے تھی تبھی کہیں دیکھی دیکھی لگتی تھی۔۔اور ازان
ازان میں بلکل اپنی شباہت محسوس ہوتی تھی۔۔ عجیب سی کشش،،، عجیب سا احساس۔۔

یہ سوچ دماغ میں آتے ہی اس کے زہن میں جھماکا سا ہوا تھا۔۔
بچے،،،،
بچے کس کے تھے،،،
کیا اسی کے تھے اگر ایسا تھا تو،،،،،
زلزلے تھے،،،، طوفان ،،،جو اس کے سینے میں اٹھ رہے تھے۔۔

اس نے آہستگی سے اپنی لرزتی آنکھیں کھولیں تھیں،،، کچھ دیر چھت کو گھورنے کے بعد اپنے آس پاس دیکھا تھا۔۔
اور پاس بیٹھے شخص کو اپنی جانب دیکھ اس کی نگاہیں جھکی تھیں۔۔۔

کیوں بچایا مجھے دانیال آپ نے ،،، مر جانے دیا ہوتا،، وہ پھر سسکی،،، آنسو تکیے پر جزب ہوئے۔۔

دانیال جھٹکے سے اٹھا تھا اسے بازوؤں سے دبوچ کر اپنے روبرو کیا تھا۔۔

ابھی کہاں ثمن بیگم،،، ابھی تو اپنی اذیتوں کا حساب لینا ہے تم سے،،، ایک ایک پل کا،،، ابھی سے گھبرا گئیں،، وہ حساب کتاب تو بعد میں ہوگا،، لیکن ابھی مجھے صرف اور صرف ایک سوال کا جواب چاہیے تم سے،،، فجر اور ازان کس کے بچے ہیں،،،

وہ رونا بھول گئی تھی۔۔اور اپنے قریب اس دشمنِ جاں کو شاکڈ سی دیکھتی رہ گئی تھی۔۔
وہ اتنی جلدی اس بات کی باز پرس کرے گا اس نے سوچا نہیں تھا۔۔

یہ بات تو وہ خود سے بھی دہرانا نہیں چاہتی تھی،، آج تک جان بوجھ کر اس بات کو جھٹلاتی آئی تھی۔۔
اس کے خود کے اعمال نے کتنی زلت لکھ دی تھی اس کے نصیب میں،،
ثمن نے نگاہیں چرائیں۔۔

اب نگاہیں مت چراؤ،،، ثمن بیگم،،، اور مجھے سچ بتاؤ،،، کم آن،،، وہ دھاڑا۔۔

د،،،، دانیال ،،،وہ،،،، بب،،، بچے،،،، وہ پھوٹ پھوٹ کر روئی،،،

بتاؤ مجھے،،، کم آن،،، دانیال نے اسے جھنجھوڑ ڈالا۔۔

بب،،،، بچے،،، آپ،،،،، کے،،،، دانیال کی گرفت اس کے بازوؤں سے چھوٹی تھی۔
وہ انتہائی بے یقینی سے اسے دیکھے گیا،،، اس ظالم لڑکی کی روح نہیں کانپی تھی۔۔
دانیال پر اتنا بڑا ظلم کرتے ہوئے،،،

دانیال،،، مم،،، مجھے مار ڈالیں،،، کتنی دفعہ کوشش کی مگر خود کو حرام موت نا مار سکی،، آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں،، میری مشکل آسان کر دیں مار ڈالیں مجھے،،،

اس نے تھک کر بے حال ہوتے دانیال کے سینے پر سر رکھا تھا،، اس کے آنسو اس کی شرٹ بھگو رہے تھا۔۔

دانیال چاہتے ہوئے بھی اسے دھتکار نہیں پا رہا تھا اور یہ بھی ایک عجیب بات تھی کہ اس کے آنسو اور یہ باتیں دانیال کو تکلیف دے رہیں تھیں۔۔

آہٹ پر اس نے اسے تکیے پر لٹایا تھا۔۔
سسٹر تھی جو اس کے ڈسچارج کے پیپر لیے آئی تھی۔۔
سسٹر جا چکی تھی۔۔

اٹھو ثمن،،، بچے ویٹ کر رہے ہوں گے،، گھبرا بھی رہے ہوں گے،،، اور یاد رکھنا ان کے معاملے میں ایک پل کی بھی غفلت اور کوتاہی برداشت نہیں کروں گا،، اچھے سے دماغ میں بٹھا لو۔۔

وہ لال انگارا آنکھوں سے سرد و سپاٹ لہجے میں بولا۔۔
وہ بمشکل بیڈ سے اتری مگر پاؤں زمین پر پڑتے ہی بری طرح لڑکھڑائی تھی۔۔

دانیال نے اچانک اسے تھاما تھا۔۔
دیکھ کر چلو،،، وہ غرایا،،،، مگر اسے چھوڑا نہیں تھا۔۔اس نے چادر سے چہرے ڈھانپ لیا تھا۔۔اور اپنے وجود کو اچھے سے چھپا لیا۔۔

وہ اسے لئے گھر لوٹا تھا،، بچے رو رہے تھے دانیال نے انھیں سینے میں بھینچا۔۔
اور بوا بیگم کو کہا تھا کہ اسے روم میں لے کر جائیں،، اور بریک فاسٹ کروائیں۔۔

وہ بچوں کو لئے کچن میں آیا تھا۔۔۔

Continue,,,,,,,,,,