Shahe Mun By Wahiba Fatima Readelle50091 Episode 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
Episode 2.….
وہ سہم کر بیڈ کراؤن سے لگی ہوئی تھی۔۔
کیونکہ سامنے والے کی مخمور بہکی نگاہیں اس کے وجود میں گڑھی جیسے آر پار ہو رہی تھیں۔۔
آ،،،،،،،، آپ،،، جج،،،، جانتی،،،،، ہیں،، کہ،،،،، کک،،،،کتنی،،،،،،خوبصورت
ہیں،،،، ثوبی۔۔
ثوبی کی زبان تو وہ اپنے اعمال سے تالو سے چپکا چکا تھا۔۔
وہ تو آخری سانس تک اس کا اعتبار،، بھروسہ اور اعتماد نا توڑنے کا وعدہ کر چکا تھا،،، قسمیں کھا چکا تھا،۔۔
مگر شاہِ من دلاور اعظم تو اپنی نئی زندگی شروع کرنے کے پہلے پل،،،،،، پہلے قدم پہ ہی لڑکھڑا گیا تھا،،، بری طرح فیل اور ناکام ہو گیا تھا۔۔
دد،،، دور،،، کک،،، کیوں،، ہیں،،،، قریب،،، آ،،، آئیے،،، مم،،، میں،،، آج،،، آپ،،، کک،،، کو،،،، بتاؤں،،،، گا،،،،، کک،،، آپ،،،،،،، کس،،،،،، قدر،،،، خ،،، خوبصورت،،،، ہیں،،،
ثوایبہ کی روح فنا ہوئی تھی۔۔آنکھیں آنسوؤں سے بھریں،، ہونٹوں پر بے یقینی سے ہاتھ رکھتے اپنی سسکیوں کا گلا گھونٹا۔۔
کیا کروں،،، بھاگ جاؤں یہاں سے،،، ہاں یہی ٹھیک ہے،، دماغ نے اکسایا۔۔وہ جائے فرار کا رستہ ڈھونڈنے لگی۔۔
وہ بمشکل اس کے قریب کھسک آیا،،، اور بہکی نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔۔
ثوب،،،،، ثوبی،،،،
من کی سخت دہکتی پرشدت گرفت میں اس کی نازک کلائیاں آئیں تھیں۔۔
ثث،،،،،،،،ثوایبہ،،،،، من،،،، کا،،،،، من،،،، جیتنے،،،، والی،،،، آج،،،،، اتنے،،،،،، قریب،،،، آئیں،،،،،، کہ،،،،،،، سس،،،،،، سانس،،،، لینا،،،،،،،، مشکل،،،،،،،، ہو،،،،،،
ثوایبہ کی کئی چوڑیاں ٹوٹ کر اپنی ناقدری پر نوحہ کناں ہوتی اس کی کلائیوں میں ایسے پیوست ہوئیں کہ کلائیاں لہو لہان ہوئیں۔۔
آیہہہہہہہہ،،،،،، تکلیف کی شدت سے ثوایبہ کے منہ سے سسکی برآمد ہوئی،، تواتر سے بہتے آنسوؤں نے چہرہ بھگو دیا۔۔۔
من چھھوڑیں مجھے،،، آپ ہوش میں نہیں ہیں،،، وہ غرائی
نو،،،،،، آج،،،، نہیں،،،،،،،، رانا،،،،،،، صااااااااب،،،،، آج ،،،،،،، حساب،،،،،،،، دیں،،،،، مم،،،، میری،،،،،،، بے،،،، تحاشا،،،،،،،، محبت،،،،، کا
وہ اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے خود میں بھینچتا اب تمام حد پار کر گیا تھا ۔۔۔ثوایبہ کی برداشت ختم ہوئی۔۔
مم،،،،،، میری،،،،،، شدتوں،،،،،،، کا،،،،،، میری،،،،، تڑپ،،،،،،، اور،،،،،، بب،،، بے،،،،، سکونی،،،،، کا
من چھوڑیں مجھے،،،
وہ اس کی گرفت میں مچلی،،، مگر نشہ کی حالت میں بھی اس طاقتور گھبرو جوان کی گرفت شیر جتنی مضبوط تھی۔۔کہ ثوبی اس کی بانہوں میں پھڑپھڑا کر رہ گئی۔۔
ثوبی نے اپنا پورا زور لگا کر اسے دور دھکیلا اور بیڈ سے اترنے لگی،،، مگر اتنے بھاری لہنگے میں اتنی پھرتی دکھا نہیں پائی۔۔
شاہِ من نے اس کے پیٹ کے گرد بازو لپیٹا۔۔۔
اور دوسرے ہاتھ سے اس کا دوپٹہ کھینچ کر پرے اچھالا۔۔۔
آہہہہہہہہہہہہہ، وہ درد سے تڑپی۔۔۔کیونکہ دوپٹہ سر پہ پن کی مدد سے سیٹ کیا گیا تھا۔۔بے دردی سے بال کھینچے گئے تھے۔۔
تبھی من نے ایک جھٹکے سے اسے بیڈ پر گرایا تھا۔۔
اور اس کے اوپر حاوی ہوا۔۔۔
ثوبی بے تحاشا روئی تھی،،، من چھوڑیں مجھے،،، آپ ہوش میں نہیں،،، گھٹی گھٹی آواز میں وہ چلائی۔۔اور دونوں ہاتھ اس کے سینے پر رکھ کر اسے دور کرنے کی کوشش کی۔۔
اشششششش،،،،، وہ کہتا اس کی کلائیوں کو تھام بیڈ سے لگا چکا تھا۔۔۔
خمار آلود بہکی نگاہیں ان گلاب کی پنکھڑیوں پر آ کر ٹھہر گئیں۔۔
ثوبی اس کی نگاہوں کے مرکز کو دیکھ ماہی بے آب کی طرح مچلی۔۔
مگر وہ ایک پل بھی ضائع کیے بغیر اسے کے ہونٹوں کو اپنی شدت بھری لبوں کی گرفت میں لیتے،،، اپنی محبت اور قائم کیے گئے اعتبار کی دھچیاں بکھیرتا،، اس کے مان غرور کو تار تار کر گیا۔۔
ثوبی کی آنکھوں سے جیسے اذیت سے لہو بہا تھا،، ایسی ہی شدت اور اذیت تھی اس کے لمس میں،،،
من نے ایک ہاتھ اس کی کمر میں ڈال کر زرا سا اوپر اٹھایا،،، اور دوسرے سے اس کی کرتی کی زپ کھولی۔۔
اذیت کی انتہا تھی،، کیونکہ ثوبی کے نازک ہونٹ پر کٹ آ چکا تھا۔۔
ژوایبہ کو لگا اس کے جسم سے وہ جان ہی نکال لے گا آج،،،
وہ ہوش گنوا بیٹھتی اس سے پہلے شاید من کو اس پر رحم آیا تھا تبھی اسے کے لبوں کو آزادی بخشی۔۔
مگر اس کے اگلے عمل سے ثوبی حلق کے بل چلائی تھی۔۔جب من نے اس کے کندھے سے شرٹ کھسکائی،،، اور اس کی کالر بون کے نیچے درندگی کے مظاہرے کیے۔۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
شازیہ بیگم اور دلاور اعظم اب تک جاگ رہے تھے۔۔
خوشی کی بات یہ تھی کہ دانیال آیا تھا۔۔جو ان کے پاس بیٹھا ہلکی پھلکی گفتگو میں مگن تھا۔۔
میں من سے پوچھ آؤں کھانا وغیرہ نا کھانا ہو،،، شام میں بھی ثوبی نے مہمانوں سے ہچکچاتے کچھ بھی نہیں کھایا تھا۔۔
وہ کہتی روم سے نکلی اور اوپر الگ سے بنے پورشن میں قدم من کے روم کی جانب بڑھے۔۔
ہو کا عالم تھا۔۔۔سب مہمان قریب قریب ہونے کی وجہ سے جا چکے تھے۔۔
وہ من کے روم تک آئیں،،، مگر اندر سے آتی ثوبی کی دلخراش سی مگر دبی دبی چیخیں سن کر خواہ مخواہ بے حد شرمندہ ہوتی واپس جانے لگیں۔۔۔
تبھی قدم وہیں ٹھٹھک کر رکے تھے۔۔۔کیونکہ اب چیخوں کے ساتھ ثوبی کے بے تحاشا پھوٹ پھوٹ کر رونے کی بھی آواز آئی تھی۔۔
وہ حیرت سے گنگ ہوئیں،، کچھ بھی تھا چاہے قیامت آ جاتی مگر من اپنی ثوایبہ کو رلا نہیں سکتا تھا۔۔
کچھ تو تھا جو عجیب تھا۔۔
کوئی انہونی ہوگئی تھی شاید۔۔
تبھی انھوں نے مڑ کر زور سے دروازے پر دستک دی تھی۔۔
ثوبی بیٹا،،،،،،، ثوبی۔۔۔
ادھر ثوبی اسے خود پر سے ہٹانے کی بھرپور کوششیں کر رہی تھی۔۔جس نے اس کے گریبان اور روح پر گہرے اذیتوں کے نشان چھوڑے تھے۔۔
ثوبی کو دروازے پر دستک سنائی دی تھی اور شازیہ مما کی پکار۔۔
وہ اس کی گردن میں منہ دئے اب مکمل اپنے ہوش کھو بیٹھا تھا۔۔
تبھی ثوبی نے اپنا پورا زور لگا کر اسے خود پر سے ہٹایا۔۔
وہ ہوش و خرد سے بیگانہ بیڈ کی ایک سائیڈ لڑھک گیا۔۔
ثوبی نے اپنا موبائل اٹھایا اور کانپتے ہاتھوں سے اپنے پاپا کا نمبر ڈائل کیا۔۔۔
دوسری بیل پر ہی فون اٹھا لیا گیا کہ رانا جہانگیر کی گڑیا فون کرے اور وہ اٹھائیں نہیں ایسا تو ممکن نہیں تھا۔۔
ثوبی بیٹا،،،،،،،،
پاپا،،،،،،،،،، پاپا،،،،، وہ پھوٹ پھوٹ کر روئی۔۔۔
ثوبی میری گڑیا کیا ہوا بیٹا،،،،، مگر وہ روئے گئی،،، حلق میں پھندا سا لگا تھا کیسے بولتی۔۔
رانا جہانگیر اسے پکارتے رہے مگر وہ فون رکھ چکی تھی،، رانا جہانگیر کے بیس پچیس منٹ میں اعظم مینشن پہنچنے کے لئے ان کی گڑیا کے اتنے آنسو ہی کافی تھے۔۔
وہ سہم کر بجلی کی سی تیزی سے اٹھی۔۔اور بھاگ کر دروازہ کھولا۔۔
شازیہ مما کو سامنے دیکھ کر پھر اپنا ضبط کھو بیٹھی اور ان کے گلے لگی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔
شازیہ بیگم نے صدمے سے گنگ،،، اس کی دگرگوں کی گئی حالت ملاحظہ کی۔۔
پھٹا ہونٹ،،، بکھرے بال،،،،،،زخمی کلائیاں،،، کندھے سے ڈھلکی شرٹ اور اپنے بیٹے کے درندگی اور حیوانیت کے نشان،،،، صد شکر کے ابھی شاہِ من نے اپنی حیوانیت میں ہر حد پار نہیں کی تھی۔۔ کہ وہ اور اس کے ماں باپ ثوبی اور رانا جہانگیر سے نگاہیں ملانے کے قابل ہی نا رہتے۔۔
ہوش وخرد سے بیگانہ بیڈ پر پڑا وہ،،،،
شازیہ بیگم کو سمجھنے میں زرا دیر نا لگی کے وہ پی کر آیا ،،،اور نشے میں دھت اس نے یہ درندگی دکھائی ہے۔۔
شازیہ بیگم نے کندھے سے اس کا لباس درست کیا۔۔۔اور اپنی شال اتار کر اس کے اوپر اوڑھائی۔۔
اور اسے لئے دوسرے روم میں چلی گئی۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
دلاور اعظم غصے کی انتہا سے ادھر سے ادھر چکر لگا رہے تھے۔۔
دانیال ایک سائیڈ سرد و سپاٹ سا چہرہ لیے کھڑا تھا۔۔۔
جبکہ شازیہ بیگم روئے جا رییں تھیں۔۔
ثوبی دوسرے روم میں نوراں بیگم کی گود میں سر رکھے نڈھال سی تھی۔۔
ثوبی بیٹی کو رانا صاحب کو فون نہیں کرنا چاہئے تھا،،،، وہ بے چین ہوئے،،، اب کیا ہوگا،،،،،؟
کیسی باتیں کر رہے ہیں اعظم صاحب آپ،،،، آپ کے بیٹے نے شراب کے نشے میں دھت درندگی اور حیوانیت کی انتہا کر دی اور آپ ابھی بھی بہو کی غلطی گنوا رہے ہیں،،،،
او کم آن مما،،،،، شوہر ہے وہ اس کا،،،، بیوی ہے وہ من کی،،،، تو اپنے شوہر کی عزت کی خاطر برداشت کرتی،،،،، اتنا وبال مچانے کی کیا ضرورت تھی،،،
دانیال کا سرد و سپاٹ لہجہ شازیہ بیگم کو مزید صدمہ اور پتنگے لگے۔۔
دانیال دماغ خراب ہے تمھارا،،، پاگل ہو گئے ہو،،، شوہر ایسی درندگی کے مظاہرے نہیں کرتے،،، شازیہ بیگم چلائیں،،،،
اوہہہہ میں بھول کیسے گئی کہ آج شاہِ من کو اس مقام پر پہنچانے والے تو تم ہی ہو،،، جو تمھارے ساتھ ہوا،،، آج تک اس کا زہر تم من کے سینے میں بھرتے آئے اور اسے شہہ دے دے کر ایسا بنا دیا،،،،بڑے بھائی ہونے کا ایک بھی فرض ڈھنگ سے ادا نا کر سکے،،،خود کی تو زندگی تباہ و برباد کی ،،،،من کو بھی اس کی لپیٹ میں لے لیا،،،،،،، اگر یہی درندگی تمھاری بہن کے ساتھ ہوئی ہوتی تب بھی کیا تم یہی کہتے دانیال،،،،،،،
شازیہ بیگم پھنکاریں۔۔۔
دانیال کو چپ سی لگی۔۔۔مگر بولنے سے باز نا آیا۔۔
مجھے نہیں لگتا کہ من نے یہ جان بوجھ کر کیا ہے،،، آپ سب لوگ جانتے تو ہیں کہ وہ اس کے معاملے میں کس قدر حساس ہے،،، دانیال نے جتایا۔۔۔۔ ضرور کسی کی شرارت ہو گی۔۔۔
تم ایسا بول کر اس کے کیے گئے زلیل عمل پر پردہ نہیں ڈال سکتے دانیال،،،، سزا تو اسے ملے گی،،
تبھی باہر رانا جہانگیر کی گاڑی کے رکنے کی آواز آئی۔۔
ثوبی اب ایک پل بھی اس گھر میں رکنا نہیں چاہتی۔۔اور میں اسے اس کے پاپا کے ساتھ بھیج رہی ہوں۔۔
شازیہ بیگم نے کلیجے پر پتھر رکھ کر فیصلہ سنایا۔۔
دلاور اعظم نے پہلو بدلہ جبکہ دانیال کے تیوری پر بے شمار بل پڑے۔۔
اور آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے مما کہ میں اسے کہیں جانے دوں گا۔۔جب تک من ہوش میں آ کر اپنے رویے کی وضاحت نہیں دے گا،،، کہیں نہیں جائے گی وہ،،، تو بہتر یہی ہوگا اسے بولیں چپ چاپ اپنے روم میں جائے،،،، یا یہ کام میں خود کر دیتا ہوں۔۔
دانیال تم پاگل ہو گئے ہو،،،،
تبھی رانا جہانگیر دستک دے کر روم میں داخل ہوئے تھے۔۔
سب کو چپ لگی جیسے بولنے کو کچھ تھا ہی نہیں ،،،رانا جہانگیر ثوبی سے مل کر آئے تھے،، اور اب سپاٹ چہرہ لیے ان کے سامنے کھڑے تھے۔۔
اعظم میں اپنی بچی کو لے جا رہا ہوں،،،، ہمیشہ کے لئے،،،،،،، امید ہے کہ اب تم لوگ ہر گز اصرار نہیں کرو گے کہ یہ رشتہ قائم رکھا جا سکے۔۔۔
دو حرفی بات تھی۔۔۔پتھر پر لکیر۔۔
مگر انکل میں ایسا ہر گز نہیں ہونے دوں گا۔۔ دانیال بھڑکا۔۔
واقعی،،،،اور مجھے کون روکے گا،،، جہانگیر صاحب کے ماتھے پر بل آئے۔۔
بکواس بند رکھو دانیال،،،،، جاؤ اپنے روم میں،،، دلاور اعظم دھاڑے۔۔
اور جھکے کندھوں کے ساتھ جہانگیر کے سامنے آئے،،، جیسے آپ کی مرضی جہانگیر ،،،،، کیونکہ ہمارے بیٹے کی غلطی کوئی چھوٹی موٹی نہیں ہے،،،، ناقابلِ تلافی ہے،، ہمیں معاف کر دیجئے گا ہم بچی کا خیال نہیں رکھ پائے۔۔
یہ سن کر جہانگیر کے تنے اعصاب کچھ ڈھیلے پڑے مگر وہ وہاں زیادہ رک نہیں پائے اور
شاہِ من کی زندگی اور جینے کی وجہ کو اپنے ساتھ لئے وہاں سے نکلتے چلے گئے۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
صبح بارہ بجے کے قریب من نے مندی مندی بوجھل اور بھاری ہوتی آنکھیں کھولیں۔۔
سر شدید بھاری تھا،، مگر وہ فورا سے پہلے اٹھ بیٹھا۔۔ کمرے کا فسوں خیز ماحول،،، مگر بیڈ پر جیسے ادھم مچا ہوا تھا۔۔
دوپٹہ پڑا تھا دوپٹے والی روم میں کہیں نہیں تھی۔۔اسے دماغ پر زور ڈالنے کے باجود کچھ یاد نہیں آ رہا تھا کہ رات وہ روم میں کیسے آیا،،
اور اس کے بعد کیا ہوا۔۔
مگر یہ سوچ کر دل ضرور دہلا تھا کہ یقینا رات اسے دھوکے سے پلائی گئی تھی۔۔
اور اس کے بعد اس نے کیا کیا ہوگا۔۔۔وہ تڑپ کر بیڈ سے اترا۔۔
لپک کر واش روم میں چیک کیا کہیں نہیں تھی۔۔
دل کو جیسے کسی نے پیروں نیچے کچلا۔۔
گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا وہ ننگے پاؤں ہی سیڑھیاں اترتا نیچے چلا آیا۔۔
مگر خلافِ توقع گھر میں ہو کا عالم تھا،،، آج تو لیٹ ایونگ ولیمہ کا فنکشن تھا۔۔
گھر میں گہما گہمی اور رونق ہونی چاہئے تھی۔۔
وہ لاؤنج میں آیا،،،
لاؤنج میں بی جان،،، شازیہ بیگم اور دلاور اعظم موجود تھے،، اور خاموشی سے چائے پی رہے تھے ۔۔
اسلام وعلیکم،،،، اس نے با آ واز بلند سلام کیا،،،
مگر کوئی متوجہ نہیں ہوا اس کی طرف،، اسے پھر عجیب لگا،،
چاروں اور نظر گھمائی،،، اس کے دل کا سکون آنکھوں کی ٹھنڈک وہاں بھی موجود نہیں تھی۔۔
اور اس کے معاملے میں اتنا پیشنس وہ رکھ نہیں سکتا تھا۔۔
مما ثوبی کدھر ہے،،،،، اس نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔
شازیہ بیگم کو آگ لگی،،، مگر پھر بھی وہ صبح صبح اس بگڑے رئیس زادے کے منہ نہیں لگنا چاہتی تھیں سو اگنور کر گئیں۔۔
ڈیڈ آپ بتائیں گے،،،
شاہِ من جاؤ اپنا کام کرو،،، ہمارا دماغ مت کھاؤ،، خود ڈھونڈ لو،،، دلاور اعظم نے اس کی ڈھٹائی پر دانت پیس کر کہا۔۔
اب تو ایک ہی بندہ تھا جو اس کے سیدھے سوال کا سیدھا جواب دے سکتا تھا۔۔
وہ تیز قدموں سے دانیال کہ روم تک آیا،، بغیر دستک ہوا بنا اندر داخل ہوا۔۔
سامنے ہی بیڈ پر وہ لیپ ٹاپ کھولے کچھ کر رہا تھا،،، اسے فق چہرہ لیے روم میں آتا دیکھ ایک اچٹتی سی نگاہ اس پر ڈالی اور ٹھنڈی سانس بھری۔۔
بھائی ثوبی کہاں ہے،،؟
رات اس کے پاپا اسے لے گئے واپس،،،، ہمیشہ کے لئے ،،،دانیال نے اس کے سر پر بم پھوڑا۔۔
واٹ لیکن کیوں،،، وہ کیوں چلی گئی بھائی،،، آپ لوگوں کو پتہ ہے ناں میں اس کے بغیر ایک پل بھی نہیں رہ سکتا،،، وہ دھاڑا۔۔
یہ تو شراب کے نشے میں دھت اس پر حیوانوں اور درندوں کی طرح تشدد کرنے سے پہلے سوچنا چاہئے تھا تمھیں شاہِ من دلاور اعظم۔۔
دانیال نے سکون سے کہا۔۔
مگر یہ سن کر شاہِ من کے سر پر اعظم مینشن کے چھت آ گری تھی جیسے،،، پاؤں کے نیچے سے زمین کھسکی۔۔
وہ الٹے قدموں اپنے روم میں آیا،،، اور بیڈ پر بیٹھ کر کنپٹیاں سہلاتے رات کے مناظر سوچنے کی کوشش کی۔۔
پھر بہت کوشش کرنے کے بعد اسے یاد آتا چلا گیا،، کہ وہ کیا کیا کر چکا ہے۔۔
یعنی اس کے ہاتھ سے محبت اور زندگی سوکھی ریت کی طرح مٹھی سے پھسل چکی تھی۔۔
مگر وہ طوفان بنا اٹھا۔۔
جلدی سے کپڑے نکال کر فریش ہوا،،،
اور گاڑی لے کر اعظم مینشن سے نکلا۔۔۔
