Shahe Mun By Wahiba Fatima Readelle50091 Episode 12
No Download Link
Rate this Novel
Episode 12
Episode 12,,,,
سنو جاناں🤭
اتنے اچھے موسم میں روٹھنا نہیں اچھا😌
ہار جیت کی باتیں 🙄
کل پہ اٹھا رکھتے ہیں😏
آج دوستی کر لیں 🤗😘
وہ اپنے روم میں بیڈ پر نیم دراز تھا۔۔
جب ڈور زرا سا دھکیل کر ثوبی منہ پھلائے اندر داخل ہوئی،، اس دیوانے کو لگا یہ اس کا وہم ہے ،،تصور یا تخیل کہ وہ دشمنِ جاں تو اب اسے اکثر ہی خیالوں میں اپنے کمرے میں چلتی پھرتی نظر آتی تھی۔۔
ثوبی آگے بڑھی اور اپنے ڈریسنگ سے اپنا ایک ڈریس نکالا ۔۔
شاہِ من اٹھ کر بیڈ پر بیٹھا اور دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے اپنی کنپٹیاں سہلانے لگا۔۔
قسم سے،،،،نا کریں رانا صااااااب پہلے ہی بہت اذیت میں ہوں،،، وہ جھنجھلایا ۔۔۔با آواز بلند بڑبڑایا۔۔
ثوبی بخوبی سن کر بھناتی پیچھے پلٹی۔۔ دل کیا آگے بڑھ کر اس کی کمر پر کرارا سا مکا ہی ٹکا دے۔۔
تو انسان میں اتنے گٹس ہونے چاہئیں کے اپنی روٹھی بیوی کو منا سکے۔۔
یہ کہتی وہ ڈریس لے کر روم سے نکلتی چلی گئی دروازہ ہلا تو اعظم صاااب کو ہوش آیا کہ وہ سچ مچ اعظم مینشن میں موجود ہے۔۔
وہ اس کے پیچھے لپکا تھا۔۔مگر وہ رابی کے روم میں گھس کر ہوا دھاڑ سے دروازہ بند کر چکی تھی۔۔
ثوبی پلیز میری بات سنیں میں تو کوئی زور زبردستی نہیں کر نا چاہتا تھا۔۔
وہ روہانسا ہوا۔۔مگر اندر سے جواب ندارد،،،،
کچھ ہی دور کھڑا دانیال اسے دیکھ معنی خیز ہنسی ہنسا۔۔
کیسا لگا دھماکے دار سرپرائز میرے بھائی،، میں نے سوچا کل تم مجھے شادی کا گفٹ دینے والے ہو میں آج تمھیں پہلے ہی ریٹرن میں دے دیتا ہوں ۔۔۔
دانیال احسان کرنے والے انداز میں بولا۔۔
وہ تیزی سے آگے بڑھ کر دانیال سے لپٹ گیا۔۔یہ ورلڈ کا بیسٹ سرپرائز تھا بھائی،،،
ابے،،،،، اکسائیٹمنٹ میں ہونے والے دلہے کی پسلیاں نا کڑکا دینا،،، دور ہٹ۔۔۔ جا کے بیوی سے نمٹ،،،،، جا کے اس کی پسلیاں توڑ،،، جو مرضی کر،،، مجھے چھوڑ گدھے،،،
دانیال نے اسے پرے دھکیلنے کی ناکام کوشش کرتے جھڑکا۔۔
شاہِ من قہقہ لگا کر ہنس پڑا۔۔اور پیچھے ہٹا۔۔
اب اس نے تو خود کو روم میں بند کر لیا تو سوچا آپ سے کام چلا لوں۔۔۔اس کی باری بعد میں آئے گی۔۔
وہ بے حد شرارت سے کہتا دانیال کے خطرناک تیور دیکھتا اپنے روم میں بھاگ گیا۔۔
دانیال کو اسے خوش دیکھ کر اب دل سے سکون محسوس ہوا تھا۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
وہ شراب کے نشے میں دھت اپنے روم میں لڑکھڑاتا داخل ہوا تھا۔۔
نایاب کو اسے دیکھ کر شاک لگا۔۔
نایاب جانتی تھی کہ وہ پیتا ہے،، مگر پی کر گھر نہیں آیا تھا کبھی ،،،،آج تو اس نے یہ بھی حد پار کر دی تھی۔۔
وہ بری طرح لڑکھڑایا تو نایاب نے آگے بڑھ کر اسے تھامنا چاہا۔۔
نشوان یہ کیا،،، یہ کیا کر کے آئیں ہیں آپ،،
چھوڑو مجھے،،، دور ہٹو،، تم،،، چیپ عورت ایک کام کہا تھا وہ بھی ڈھنگ سے نہیں کر پائی۔۔کہا بھی تھا بھڑکاؤ اسے من کے خلاف مگر وہ واپس چلی گئی،،، اس کے پاس چلی گئی،،
ڈیم اٹ،،،، اس نے ٹیبل سے واس اٹھا کر ڈریسنگ کا شیشہ چکنا چور کیا تھا۔۔
اب،،، اب میں وہ کروں گا جو میرا دل کہے گا،،، اب وہ ہوگا جو میں ہر گز کرنا نہیں چاہتا تھا۔۔
وہ پھنکارتا اپنے بال نوچ رہا تھا۔۔
کک،،،، کیا کرنے والے ہیں آپ نشوان،،، پلیز خدا کا خوف کریں،،، نایاب کو جھرجھری آئی تھی۔۔
نہیں،،، وہ دھاڑا،،،، اب تو قہر برسے گا اور ثوبی صرف نشوان احمد کی ہوگی۔۔میں آگ لگا دوں گا اسے اگر وہ میری نہیں ہوئی۔۔
وہ بکتا جھکتا بیڈ پر گر چکا تھا۔۔
نایاب وہی زمین پر گری تھی۔۔آنسو ٹوٹ کر گود میں گرے تھے وہ جتنا نشوان کے لئے خود کو بدلنے کی کوشش کر رہی تھی
نشوان اتنا ہی اپنی بے جا ضد ہٹ،، دھرمی اور پاگل پن میں اس سے دور ہوتا جا رہا تھا۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
دانیال کی خواہش پر نکاح کا بندوبست فارم ہاؤس میں ہی کیا گیا تھا۔۔۔
شاہِ من نے شازیہ بیگم اور دلاور اعظم کو اسی دن سب کچھ بتا دیا تھا۔۔
جس دن دانیال نے اسے بتایا تھا
وہ تو انتظار کر رہے تھے کہ کب بات آگے بڑھے اور کب وہ دانیال کی بھی خوشی دیکھیں۔۔
سو اج وہ دن آ ہی گیا تھا۔۔
رانا جہانگیر اور صائمہ،، احمد اور مسز احمد وہ سب لاؤنج میں موجود تھے۔۔
دانیال بلیک شیروانی میں بے تحاشا خوبرو لگ رہا تھا۔۔
شاہِ من گرے پینٹ کے اوپر وائٹ شرٹ اور اوپر بلیک کوٹ میں بہت ہینڈسم لگ رہا تھا۔۔
اب تیاری مکمل تھی۔۔ بس دلہن کا انتظار تھا۔۔
فجر دانیال کی گود میں جبکہ اذان دلاور اعظم کی گود میں تھا۔۔ پاس بیٹھی رابی دونوں سے چھیڑ خانی کرنے میں مصروف تھی۔۔
دونوں تیار ہوئے بے حد کیوٹ لگ رہے تھے۔
اندر ثوبی نے پیروں تک وائٹ میکسی پہنی تھی جس پر نیلے رنگ کی کڑھائی تھی۔۔
ہلکے میک اپ میں بے تحاشا حسین لگ رہی تھی۔۔
ثمن تیار تھی۔۔
ہلکی فیروزی کامدار میکسی میں وہ دلہن بنی بے تحاشا خوبصورت لگ رہی تھی۔۔
ثوبی نے بڑا سا ریڈ دوپٹہ گھونگھٹ بنا کر اس کے اوپر اوڑھا دیا کہ اس کا چہرہ بلکل چھپ گیا۔۔
وہ اسے لئے باہر آئی،،، کیونکہ شازیہ بیگم ایک بار آ کر بلا چکی تھیں۔۔
ثوبی کو دیکھ محفل میں بیٹھے ایک شخص کے دل کی دھڑکنیں سینے میں پاگل ہوئیں تھیں۔۔
وہ کسی کا بھی لحاظ کیے بغیر مبہوت سا اسے دیکھے گیا جس نے اسے اگنور کرنے کی شاید قسم کھا رکھی تھی۔۔
دانیال نے ایک نظر اس لرزتے کانپتے نازک سے وجود کو دیکھا تھا۔۔
ثوبی اسے لئے صوفے پر بیٹھ گئی۔۔
مولوی صاحب نے نکاح پڑھوانا شروع کیا۔۔جلد ہی ایجاب و قبول کا مرحلہ طے پا گیا۔۔
سب نے دانیال کو مبارک دی۔۔
سب بہت خوش تھے۔۔بچوں کی معصوم سی شرارتیں دیکھ ان کی ہنسی نہیں رک رہی تھی۔۔
سب نے کھانا کھایا۔۔
ثوبی ثمن کو لئے روم میں چلی گئی۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
وہ سب اعظم مینشن واپس آئے تھے۔۔جہانگیر اور صائمہ ،،،آحمد اور مسز احمد اپنے گھر چلے گئے تھے۔۔
ثوبی کو تھکاوٹ سی محسوس ہو رہی تھی۔۔اور فریش ہونے کا ایک ہی طریقہ تھا۔۔
وہ سب لاؤنج میں بیٹھے تھے۔۔
مما میں زرا گرین ہاؤس جا رہی ہوں،، وہ کہتی لاؤنج کے پچھلے دروازے سے گرین ہاؤس چلی گئی۔۔
کچھ ہی دیر بعد من بھی اٹھ کر اس کے پیچھے جانے لگا جب۔۔
کدھر چل دئے برخوردار،،، اب ماں باپ اور بہن کے پاس بیٹھ کر دل نہیں لگتا کیا،،، دلاور اعظم نے بیٹے کو چھیڑا۔۔
تو وہ بری طرح جھینپ گیا مگر ازلی بولڈنیس اور ڈھٹائی سے کان کجھاتا بولا۔۔
وہ کیا ہے ناں ڈیڈ آپ کی بہو ناراض ہے اور کہتی ہے کہ مجھ میں منانے والے گٹس نہیں ہیں تو منانے جا رہا ہوں اسے،،،
وہ کہتا باہر کی جانب بڑھا۔۔
بیسٹ آف لک بھائی،،،،، رابی نے ہانک لگائی۔۔
وہ مسکراتا پچھلی جانب آیا۔۔
گرین ہاؤس میں داخل ہوا تو ایک طرف بلیک روزز کے پاس کھڑی انھیں ہلکے سے چھو رہی تھی۔۔
پیچھے جانی پہچانی کلون کی خوشبو اور آہٹ بھی محسوس ہو چکی تھی۔۔
مگر وہ ہنوز اسی طرح کھڑی رہی۔۔
شاہِ من آہستگی سے چلتا قریب آیا۔اور کمر سے اس کے گرد بازو حمائل کیے۔۔
پیٹ پر سلگتے سے ہاتھوں کا لمس محسوس ہوتے ہی اس کے رونگٹے کھڑے ہوئے تھے۔۔
یہ،،، یہ ،،کک،،، کیا کر رہے ہیں آپ،،، وہ گھبرائی
اپنی روٹھی ہوئی وائف کو منا رہا ہوں،،،کھلے ہوئے کرلی بالوں میں منہ دیا اور ان کی خوشبو سانسوں میں بسائی۔۔
ایسے لوفروں کی طرح کون مناتا ہے،، اس نے برا سا منہ بنایا،،،
شاہِ من دلاور اعظم،،،،،، وہ اطمینان سے بولا اور لب کندھے پر رکھے۔ثوبی کی سانس اٹکی۔۔
چھوڑیں من کوئی آ جائے گا،، وہ گھبرائی سی بظاہر جھنجھلائی۔
تبھی شاہِ من نے بہت اچانک اسے بازوؤں میں بھرا تھا۔۔
یہ کک،،،، کیا کررہے ہیں آپ،،،، چھوڑیں مجھے،،،، وہ مچلی۔۔
وہاں لے کر جا رہا ہوں جانِ من،،، جہاں کوئی بھی نا آ سکے۔۔ اور مجھے مناتے ہوئے ڈسٹرب نا کر سکے،،، وہ دانتوں تلے لب دبا کر بولا۔۔
اس کی گوہر افشانی سن اس کے ارادے جان،،،ثوبی کی آنکھیں باہر کو ابلنے کو تھیں جس کا رخ اب اندر کی جانب تھا۔۔
من،،، پاگل ہو گئیں ہیں آپ،،، لاؤنج میں سب بیٹھیں ہیں،، نیچے اتاریں مجھے،،،،
وہ بری طرح مچلی۔۔
اٹس اوکے جان سب کو دیکھنے دو کہ آپ کے ہبی میں کتنے گٹس ہیں اپنی وائف کو منانے کے۔۔
مم،،، میں نے،،، یہ،،، نن،،، نہیں کہا تھا،،، کہ آپ بب،،، بے شرمی پر اتر آئیں،،، وہ گھگھیا گئی۔۔کیونکہ وہ لاؤنج میں داخل ہو چکا تھا۔۔
وہ جو ارادے باندھ کر بیٹھی تھی اور رابی سے بول بھی چکی تھی کہ وہ اس کے روم میں رہے گی۔۔سارے ارادے ڈھیر ہوگئے اور یہ غداری لگتا ہے رابی نے ہی کی تھی۔۔
وہ لاؤنج سے گزرتا سیڑھیوں کی جانب بڑھا۔۔ ثوبی نے گھبرا کر اس کے بازو میں منہ دے لیا۔۔
سب دیکھ کر چونکے تھے اور دبی دبی معنی خیز ہنسی ہنسے۔۔رابی کی زبان میں کھجلی ہوئی۔۔
بھائی اچھے سے منانا بھابھی کو تاکہ یہ دوبارہ روٹھنے سے پہلے ہزار بار سوچیں۔۔
وہ تینوں قہقہہ لگا کر ہنسے تھے۔۔ثوبی نے اس کے سینے پر غصے سے ناخن چبھو ڈالے۔۔
وہ گہرا مسکرایا تھا۔۔
روم میں لاکر پاؤں سے ڈور لاک کیا تھا۔۔اور اسے نیچے اتارا۔۔
شاہِ من بہت بدتمیز ہیں آپ،،، وہ جھنجھلا کر ڈریسنگ کی جانب بڑھنے لگی تھی۔۔
تبھی شاہِ من نے اس کی ویسٹ پر ہاتھ رکھ کر اسے دیوار کے ساتھ لگایا تھا۔۔
خود بے حد قریب ہو کر ایک ہاتھ دیوار پر رکھا۔۔
ثوبی کی بیک بون میں سرسراہٹ ہوئی۔۔ اس کے ہونٹوں کے بے حد قریب ہوا اتنا کہ ثوبی کو اپنے ہونٹوں پر اس کی سانسوں کی مدھم اور نرم سی گرماہٹ محسوس ہوئی۔۔
ابھی کہاں،،، ابھی تو میری بدتمیزیوں کا ٹریلر بھی نہیں دیکھا میری جان جس دن میں نے دکھا دیا ہوش اڑ جائیں گے آپ کے،،،
ثوبی کی سٹی گم ہوئی تھی۔۔ گھبرا کر آنکھیں بند کیں تھیں۔۔
بولنے کی گستاخی نہیں کی تھی۔۔بولتی تو اس کے لب سامنے والے کے لبوں سے مس ہو جاتے۔۔
ثوبی نے گھبرا کر رخ دوسری جانب موڑا تھا۔۔
شاہ من نے اپنے سلگتے لب اس کی گال پر رکھے۔۔
مم۔۔من،،، نو،،، پلیز،،، مم،، میں،، نن،،، نہیں،، ناراض،،، وہ اتھل پتھل ہوتی سانسوں سے اتنا ہی بول پائی۔۔ کانوں تک سرخ ہوئی تھی۔۔
وہ گہرا مسکرایا۔۔ اور غور سے اس کی غیر ہوتی حالت دیکھی۔۔
گھبرائیں نہیں جان،،،، اس نے ہاتھوں کے پیالوں میں اس کا چہرہ بھرا۔۔جب تک آپ دل سے رضامند نہیں ہوں گی،، یہ رشتہ آگے نہیں بڑھے گا۔۔ آپ کو ہرٹ کرنے کا میں سوچ بھی نہیں سکتا،، ریلیکس رہیں۔۔
وہ عقیدت سے اس کا ماتھا چومتا بولا تھا۔۔
ثوبی پرسکون ہو گئی۔۔
وہ پیچھے ہٹا اور دلچسپی سے اس کا لال ٹماٹر چہرہ دیکھا۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
دانیال نے اپنے روم میں ہی ایک طرف بچوں کے لئے بیڈ لگوایا تھا۔۔جو چاروں اور سے منقش لکڑی کے ڈیزائن سے بنی ایک چھوٹی سی دیوار بناتا تھا تاکہ سوتے میں بچے نیچے نا گر پائیں۔۔
وہ دھیمے قدموں سے چلتا روم میں داخل ہوا تو وہ اس کی جانب پیٹھ کیے بیٹھی تھی۔۔
اور بچے بیڈ پر سو رہے تھے۔۔
وہ آگے بڑھا۔۔
آہٹ پا کر وہ ایک دم سیدھی ہوئی تھی۔۔
دانیال نے آگے بڑھ کر بچوں کو باری باری نرمی سے اٹھا کر ان کے بیڈ پر لٹایا تھا۔۔
وہ فجر کو لٹا ہی رہا تھا جب اپنے پیچھے دبی دبی سسکیوں کی آواز سنائی دی۔۔
تو وہ بے تحاشا چونکا تھا۔۔
تڑپ کر بیڈ کی جانب بڑھا تھا۔۔اس کے پیچھے کھڑے ہو کر اسے مخاطب ہوا۔۔
کیا ہوا ثمن ،،،آپ ٹھیک تو ہیں،،، یہ نکاح آپ نے دلی رضامندی سے کیا ہے ناں،، پلیز بتائیں مجھے کیا ہوا۔۔
دانیال ایک سوال پوچھوں آپ سے،،،، اگر کبھی صبا آپ کو میری جیسی حالت ميں ملی ہوتی تو کیا آپ معاف کرتے اسے،،،؟
دانیال پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس کی پشت کو گھور رہا تھا وہ اس وقت یہ کیا کہہ رہی تھی اور کیوں اور اسے صبا کا کیسے پتہ تھا۔۔
دانیال،،، مم،،، مجھے معاف کر دیں،، میں آپ کی گناہ گا،،، خطا کار ہو،،، سیاہ کار ہوں اپنے گناہوں کی بوئی فصل سود سمیت کاٹ چکی ہوں،،، مجھے معاف کر دیں۔۔
وہ ہاتھوں میں چہرہ چھپائے پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی۔۔
دانیال ٹھٹھکا تھا یہ وہ کیا کہہ رہی تھی۔۔یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں ثمن،،،،،
دانیال میں،،، ص،،، صبا،،،، میں،،، وہ ہچکیوں میں جانے کیا کہنا چاہتی تھی جب دانیال نے اسے بازو سے گھسیٹ کر اپنے سامنے کھڑا کیا تھا۔۔
ایک طوفان اور جھکڑ سا تھا جس کی زد میں دانیال آ چکا تھا،، پھٹی پھٹی آنکھوں سے سامنے کھڑے وجود کو دیکھا۔۔اسے جابجا داغے اور جلائے گئے بازوؤں اور گردن کو دیکھا۔۔
اس کی آنکھوں کو دیکھا جو اب بے تحاشا رونے سے سوج چکیں تھیں۔۔
وہ اس کا بازو دبوچے گھسیٹتا اسے باہر لایا تھا۔۔
باہر لا کر اسے فرش پر پٹخا تھا۔۔
تم،،، یو،،،،، تم کیا کر رہی ہوں میرے گھر میں،،، میرے روم میں میری زندگی میں ،،،ثمن کہاں ہے،،، جلدی بتاؤ ورنہ جان لے لوں گا میں تمھاری،، وہ دھاڑا اور دونوں ہاتھوں سے اس کا گلا دبایا تھا جو محبت کو رسوا کر کے اس کے نکاح میں ہونے کے باوجود کسی غیر کے ساتھ چلی گئ تھی۔۔
اسے ساری زندگی کے لئے کانٹوں پر گھسیٹ کے،،،، اب جب محبت کی نئی کونپل دل میں کھلنے لگی تھی تو وہ کیوں چلی آئی تھی پھر سے اسے روندنے ،،،،
کیوں،؟
میں ہی ث،،، م،،،، ن،،،، ہوں،،، دان،،،،،، اس کا سارا خون نچڑ کر چہرے پر آ چکا تھا۔۔
تبھی دانیال نے اسے زمین پر پھر پٹخا تھا۔۔
تمھاری ہمت کیسے ہوئی واپس آنے کی،، وہ دھاڑا جبکہ وہ فرش پر گھٹنوں میں منہ دئیے بے تحاشا رو دی۔۔ مجھے پھر سے دھوکہ دینے کی۔۔
مم مجھے معاف کر دیں،،، دانیال،،،
خبردار،،، خبردار اپنے منہ سے میرا نام بھی لیا،، چلی جاؤ یہاں سے،، میرے گھر سے دفع ہو جاؤ،،، صبا،،، نہیں تو میں جان لے لوں گا تمھاری۔۔
وہ بال مٹھیوں میں جکڑے پاگل ہونے کو تھا۔۔چہرہ لہو چھلکا رہا تھا۔۔کنپٹیاں یوں پھولیں تھیں جیسے پھٹ پڑیں گی۔۔۔
مار دیں دانیال مجھے،،، مگر اب آپ کے قدموں سے اٹھ کر کہیں نہیں جاؤں گی،، ماریں،، پیٹیں،، جو مرضی کریں،، بہت سخت جان ہو چکی ہوں میں،،بہت ڈھیٹ،،،،نا مرتی ہوں نا جان چھوٹتی ہے،،،،،، وہ ہچکیوں کے درمیاں کہتی اس کے قدموں میں گری تھی۔۔
دانیال نے شاکڈ سٹیٹ میں اسے دیکھا تھا،،،
وہ جلدی سے پیچھے ہٹا تھا جیسے وہ کوئی اچھوت ہو۔۔
بنا کچھ کہے روم میں آ کر ڈور لاک کیا تھا۔۔اور زمین پر بیٹھتا چلا گیا۔۔
قدرت نے اس کی گناہ گار کو اس کےسامنے لا پٹخا تھا ایسی حالت میں،،،
تو وہ اس کی حالت پر اب خوش کیوں نہیں ہو پا رہا تھا۔۔
وہ کیوں بھول گیا تھا کہ اس کی اور صبا کی ایج میں اتنا ہی ڈفرنس تھا۔۔
اس نے آواز پر کیوں نہیں غور کیا تھا۔۔
کیوں نہیں سمجھ پایا تھا۔۔
اور اب جب وہ قدموں میں گری تھی تو اس کو کیوں نہیں بری طرح دھتکار پایا تھا۔۔
وہ باہر پھوٹ پھوٹ کر روتی پھر سے اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو گھور رہی تھی۔۔
جب اس شخص کو چھوڑ کر گئی تھی تو اس کے نکاح میں تھی۔مگر اس وقت اسے رتی برابر بھی اس بات کی پرواہ نہیں تھی کہ محمود نے اس کا نئی پہچان بنوا لی تھی ثمن کے نام سے،،
نہیں جانتی تھی محمود سے نکاح کرنے کے باوجود حرام کی اور گناہوں کی زندگی گزار رہی تھی۔۔
بہت جلد اس کا کیا اس کے سامنے آیا تھا جب محمود اس سے اکتا گیا تھا۔۔
اپنے ماں باپ کے ساتھ مل کر ایسے ایسے کچوکے لگاتا زخم دیتا تھا کہ روح تک کانپ جائے۔۔
ایک دن تو اس کی زبان پر جلتا انگارہ بھی رکھ دیا تھا جس سے اس کی آواز پہلے سے بدل گئی تھی۔۔
اپنے کیے گئے گناہوں اور سیاہ کاریوں کا احساس بہت جلد ہو گیا تھا تب ساری ساری رات سجدوں میں گر کر وہ اپنے گناہوں کی معافی مانگتی تھی۔۔
بچوں کی پیدائش سے کچھ دن پہلے ہی وہ شیطان صفت درندہ ایک ایکسیڈنٹ میں اپنے انجام کو پہنچ چکا تھا۔
تین سال مزید اذیتوں میں گزرے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے جس دن مرنے والی تھی تو اسی نے بچا لیا جس کی گناہ گار تھی۔۔
وہی مسیحا بن کر زندگی میں پھر سے آ گیا تو یہ سمجھ کر اس کے ساتھ چلی آئی کہ الله تعالیٰ نے معاف کر دیا ہے۔۔
مگر الله تعالیٰ بھی تو تب تک معاف نہیں فرماتے جب تک اس کا بمدہ نا معاف کر دے اسی لئے جو ہوا اسے ہونے دیا کہ معافی لیے بغیر تو چین سے مر بھی نہیں سکتی تھی۔۔
شازیہ بیگم نے اسے پہچان لیا تھا مگر اس کا داغا جسم اور پرنور چہرہ دیکھ خاموش رہیں تھیں۔۔
رات بہت بوجھل تھی اندر وہ فرش پر بیٹھا اپنا غم غلط کر رہا تھا۔۔
باہر وہ رات کے ساتھ قطرہ قطرہ روتی پگھل رہی تھی۔۔
Continue,,,,,,,,,,
