53.8K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

Episode 1,

اعظم مینشن میں اس وقت رات کے ایک بجے بھی بے تحاشا گہما گہمی اور جشن کا سماں تھا۔۔
ہر طرف رونق خوشی اور شادمانی تھی۔۔

آخر لاہور کی مشہور شخصیت اور سیاستدان دلاور اعظم کے لاڈلے بیٹے شاہِ من دلاور اعظم کی شادی ہوئی تھی۔۔
کوئی معمولی بات تو نہیں تھی۔۔

وہ شاِ من جس کے والدین اس کی جانب سے سخت مایوس ہو چکے تھے کہ اس کی ضد تھی،،، نفرت تھی،، ہٹ دھرمی کہ وہ کبھی شادی نہیں کرے گا۔۔

وجہ بھی تو بہت بڑی اور دل دہلا دینے والی تھی۔۔

دلاور اعظم اور شازیہ بیگم نے تو منتوں مرادوں سے یہ دن دیکھا تھا۔۔
اسی سے تو دلاور اعظم کی نسل آگے چلنی تھی۔۔مگر وہ اب تک تقریباً انھیں مایوس کر چکا تھا۔۔

مگر پھر کچھ ایسا ہوا کہ وہ بدل گیا۔۔
اس کا سب کچھ بدل گیا ۔۔۔۔ دنیا اتھل پتھل ہو کر جیسے تہہ بالا ہو گئی۔۔
اسے بدلنا پڑا۔۔ ابھی کچھ عرصے کی ہی تو بات تھی۔۔
۔۔
دلاور اعظم بے تحاشا خوش تھے۔۔رات کے اس وقت بھی جیسے خزانے کا منہ کھلا تھا۔۔
ہر کسی کو نوازا جا رہا تھا۔۔

آخر وہ اب اکلوتا ہی تھا جس پر اعظم خاندان کی امیدیں بندھیں تھیں۔۔

شاہِ من شہزادوں کی آن بان شان لیے ڈرائنگ روم میں مسرور سا دھیمی مسکان لیے اپنے دوستوں کے پاس بیٹھا تھا۔۔
شیروانی سے الجھن ہوئی تو اب سادہ سے کلف لگے سفید شلوار قمیض کے اوپر ڈارک بلو ویسکوٹ،،، پاؤں میں بلیک پشاوری چپل پہنے مغرور سا شہزادہ لگ رہا تھا۔۔

کیوں نا ہوتا مغرور ،،،آج اس کی شہزادی نے اس کے عشق کی معراج کو چھو لیا تھا۔۔
اور اس کی محبت پر اعتبار کرتی ،،، اس کے پاس چلی آئی تھی۔۔

آج تو وہ اکھڑ اور گھمنڈی بھی بات بے بات مسکرا رہا تھا۔۔

ڈرائینگ روم میں آج کسی غیر متعلقہ بندے کو آنے کی اجازت نہیں تھی۔ حتی کہ سرونٹس کو بھی نہیں،،،
دوست بات بے بات کوئی چٹکلا یا ذومعنی بات کر دیتے تو محفل زعفران زار بن جاتی۔۔
وہ اب پیگ بنانے میں مصروف ہو چکے تھے۔۔

نشوان نے مڑ کر غور سے اسے اور اس کی مسکراہٹ کو عجیب نگاہوں سے دیکھا اور اس کے قریب والے صوفے پر آکر بیٹھا۔۔

تو پا ہی لیا اسے شاہِ من ،،،،،،، آج شاہ ِ من کی ضد کی جیت ہوئی،، کہ وہ من کے بیڈروم تک اس کی سیج سجانے پہنچ ہی گئی۔۔
نشوان کا لہجہ عجیب تھا۔۔

شاہ ِ من کی مسکان غائب ہوئی،، مگر وہ کم از کم آج کوئی بدمزگی نہیں چاہتا تھا سو دھیمے سے لہجے میں اسے جواب دیا۔۔

ضد کی نہیں یار،،، محبت کی جیت ہوئی ہے،،، اعتبار کی،،،، اور آج کے بعد دل جیتنے کا مشن ایمپوسبل پر لگ جانا ہے۔۔
اس کی آنکھوں میں اپنی شہزادی کے زکر پر چمک آئی تھی ۔۔

نشوان نے یہ چمک دیکھ حسد سے سلگتے پہلو بدلا تھا۔۔

اتنی دیر میں دوست پیگ بنا چکے تھے،،، نشوان سمیت سب نے اپنا اپنا گلاس اٹھا لیا۔۔۔
سوائے من کے۔۔۔

ایک جام دوست کی خانہ آبادی کے نام،،، نشوان نے کہا۔۔
چیئرز،،، سب یک زبان بولے۔۔

تم نہیں لو گے،، ولی نے تعجب سے من کو دیکھا۔۔۔

ہر گز نہیں،،، من نے کرارا سا جواب دیا،،، نشوان کو آگ لگی۔۔

اگر اس کی قسم دی پھر بھی نہیں،،، نشوان نے پتہ پھینکا

نہیں،،،، کیوں کہ اس کی قسم کھا کہ ہی توبہ کی ہے،،، وہ سکون سے بولا۔۔۔

تم تو ابھی سے زن مرید بن گئے من،،، ولی نے چھیڑا

نشوان صوفے کے پیچھے بنے ٹیبل کی طرف بڑھا۔۔۔اور کولڈ ڈرنک ایک گلاس میں انڈیلی،، مگر بہت ہو شیاری سے سب سے نظر بچا کر ڈرنک میں ایک ٹیبلٹ ڈال دی۔۔

دماغ میں من کو مخاطب کیا،،، جانتا ہوں شاہِ من دلاور اعظم کہ تمھیں چڑھ جاتی ہے،،، تمھارے دماغ پر چڑھتی ہے تو تمھارا دماغ مفلوج ہو جاتا ہے اور تم سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو بیٹھتے ہو،، اور یہی آج میں چاہتا ہوں،، کہ تمھاری محبت اور اعتبار کی جیت کی آج دھجیاں اڑ جائیں۔۔۔ اگر میں نارسائی کہ عذاب سے گزر رہا ہوں تو خوش تو تم بھی نہیں رہو گے۔۔
وہ آستین کا سانپ دماغ میں پھنکارا۔۔

ولی دیکھ چکا تھا اس کی حرکت،، بھنوئیں اچکا کر اسے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا تو اس نے خباثت اور شیطانیت سے ایک آنکھ ونک کی اور یہ تاثر دیا کہ وہ محض مزاق اور شرارت کے موڈ میں ہے۔۔

اس نے کولڈ ڈرنک من کی جانب بڑھائی،، یہ لے یار،،، اپنی کولڈ ڈرنک پی،، اب ہم پی رہے ہیں تم یونہی بیٹھے ہو،،، اچھا نہیں لگتا،،، ہمارا ساتھ دے۔۔
نشوان نے کچھ اس طریقے سے کہا کی من نے دل نا چاہتے ہوئے بھی گلاس تھام لیا
اور ان سب کا ساتھ دینے کو وہ کولڈ ڈرنک پینے لگا۔۔

💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖

شازیہ بیگم اور نوراں بی بی اسے دھیمے قدموں سے مہمانوں کے چنگل سے نکال کر بیڈ روم میں لائیں تھیں۔۔

آرام سے چلو ثوبی بیٹا،،،،،،

اس کے ملائم اور ملیح سے چہرے پر گھونگھٹ تھا سو شازیہ بیگم نے اسے سہارا دیا تھا۔۔
گھونگھٹ کی وجہ سے وہ روم تو ناں دیکھ پائی مگر پاؤں میں جیسے دنیاجہان کے پھول بکھیر دیئے گئے تھے۔۔

پھولوں کی مسہور کن خوشبو جب سانسوں سے ٹکرائی تو دل جیسے دھڑک کر پاگل ہوتا پسلیوں سے ٹکرایا تھا۔۔ ٹانگوں سے جیسے جان نکلی تھی اور وہ چلنے سے انکاری ہوئیں،،

اگر شازیہ بیگم نے مضبوطی سے اسے نا تھاما ہوتا تو وہ تو شاید گر ہی پڑتی۔۔

شازیہ بیگم اسے بیڈ تک لائی۔۔ اور پھولوں کی بے شمار لڑیان ہٹا کر اسے بیڈ کے بیچ و بیچ بٹھا دیا۔۔۔

شازیہ بیگم نے دھیمے سے گھونگھٹ پلٹا۔۔۔

ماشاء اللہ،،،، میری بچی،،، میری تو آنکھیں ہی چندھیا گئی ہیں،،، تو میرے بیٹے کا کیا حال ہوگا،،،
وہ شرارت سے زومعنی سا کہتی اس کی جان حلق میں اٹکا گئیں۔۔
پورا جسم لرز گیا تھا۔۔
پلکیں جھکی اور چہرہ لال قندھاری ہو گیا۔۔

اے بہو تمھارا بیٹا تو پاگل ہے،،، لوگ دلہن کو شگن اور سہاگ کا لال جوڑا پہناتے ہیں،، یہ تیرے بیٹے نے کیا پہنوایا بہو کو،، نوراں بی بی کو پوتے کی یہ منطق ایک آنکھ نا بھائی تھی۔۔

شازیہ بیگم نے براؤن عروسی کامدار لہنگے میں بیٹھی اس گڑیا کہ قیامت خیز اور توبہ شکن سراپے سے نگاہ چرائی کہ ڈر تھا مبادا ان کی بہو کو ان کی خود کی ہی نظر نا لگ جائے۔۔
اتنی حسین دلہن شاید ہی انھوں نے کہیں دیکھی ہو تبھی وہ سمجھ گئیں تھیں کہ ان کے پاگل بیٹے نے اپنی دلہن کے لئے یہ رنگ کیوں منتخب کیا تھا۔۔

بی جان ،،،،چلیں ناں بچی تھک گئی ہو گی،، من کے آنے تک کچھ دیر آرام کر لے،، پھر تو میرے بیٹے نے پاگل کر دینا ہے بے چاری کو،،
آخری بات انھوں نے اس کے ماتھے پر محبت سے لب رکھتے ہوئے سرگوشی میں کی تھی جس سے اس کی رگوں میں خون منجمد ہوا تھا۔۔۔

وہ مسکراتی پیچھے ہٹیں،،، ثوبی بیٹا آرام کر لو،، من شاید لیٹ ہو جائے،،، نشوان کی شادی پر من نے ایسے ہی اسے تنگ کر کے رکھا،،، آج وہ بھی تو حساب برابر کرے گا۔۔
وہ کہتی دونوں ڈور لاک کرتی روم سے جا چکیں تھیں۔۔۔

💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖

دل کی منزل اس طرف ہے،، گھر کا رستہ اُس طرف
ایک چہرہ اس طرف ہے،،،،،،،،، ایک چہرہ اُس طرف

یہ محبت بھی عجب تقسیم کے لمحوں میں ہے
سارا جزبہ اس طرف ہے صرف لہجہ اُس طرف

دھڑکتے دل اور لرزتے جسم کے ساتھ وہ اس کمرے میں اس بیڈ پر بیٹھی اپنی وحشت اور خوف کو شمار کر رہی تھی۔۔

روم رہنے والے کہ اعلیٰ ترین زوق کی ترجمانی کر رہا تھا۔۔ہر چیز قابلِ ستائش تھی۔۔
ثوایبہ نے ٹھنڈی سانس بھری۔۔

لرزتے کانپتے جسم کے ساتھ اس شخص کے بارے میں سوچتے اس کے دانتوں تک پسینے چھوٹ رہے تھے۔۔

وہ تو اتنے عرصے سے اس کے نکاح میں ہونے کے باوجود آج تک اس کی نگاہوں کی تپش اور حدت تک برداشت کرنے کی عادی نا ہو پائی تھی۔۔

کجا کہ اب اسی کہ کمرے میں اسی کے بیڈ پر اسی کی ملکیت بنی بیٹھی تھی۔۔

گردن کانوں کی لو،،، اور بازو سلگتے اور کوئلے کی طرح دہک اٹھے تھے۔۔۔جہاں اس شخص نے اپنی شدتیں بکھیری تھی۔۔

جہاں جہاں اس نے اپنی شدت بکھیری تھی جسم کے وہ حصے جیسے جل رہے تھے یہ تپش اور جلن اس بات کی گواہ تھی۔۔
کہ وہ کبھی بھی اس کی شدتیں،،، دیوانگی،، اور پاگل لمس پرتپش قربت برداشت نہیں کر پائے گی۔۔
مر جائے گی۔۔
اور اس بات کا تو وہ خود بھی گواہ تھا۔۔

وہ بری طرح نروس ہوتی حسبِ عادت انگلیاں چٹخا رہی تھی،، اور دانتوں تلے نرم و نازک پنک لپ اسٹک لگے لب بے دردی سے کچل رہی تھی۔۔

تبھی جیسے کانوں میں اس کی سرگوشی گونجی۔۔
خبردار ،،،،،نا کیا کریں رانا صاب،،، اگر آئندہ آپ نے ان کے ساتھ یہ سلوک کیا تو بہت برا پیش آؤں گا۔۔وہ انگھوٹے سے اس کے دانتوں سے لب آزاد کراتا بولا تھا۔۔

کمر اکڑ کر تختہ بن چکی تھی۔۔وہ ہلکے سے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاتی دھیمے سے آنکھیں موند گئی۔۔
وہ شاہِ من کی محبت اور اعتبار کے سہارے اس کے بیڈ روم تک آ چکی تھی۔۔

سو شاہِ من کی جانب سے تو تسلی ہی تھی،،، مگر اس کی ظالم نگاہیں
افففففففففففففففف توبہ،،،
جب ثوبی کی جانب اٹھتی تھیں اس کی جان بے جان کر جاتیں تھیں۔۔
بند آنکھوں کے پردوں کے پیچھے من کی گہری بوجھل سرگوشیاں اس کے کانوں میں گونج رہیں تھیں۔۔جس سے اسے سکون مل رہا تھا۔۔

بس کریں ثوایبہ،، میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا،،، چھلک گیا تو بڑی تباہی لائے گا،،، پھر آپ کو ہی شکوہ ہوگا،،،

کچھ زیادہ تو نہیں مانگا آپ سے،، بس میری زخمی زخمی محبت پر اپنے یقین اور اعتبار کا مرحم رکھتے ہوئے میرے پاس چلی آئیں۔۔۔جتنا وقت کہیں گی اتنا ہی دوں گا آپ کو اس رشتے کو سمجھنے کے لئے،،،

بس خود کو میری نگاہوں کے آس پاس رہنے دینا،،، مجھے اس ہوا میں سانس لینے دیں جس میں آپ سانس لیتی ہیں،،، مجھے اپنے آس پاس رہنے دیں پلیز،،،،،

ثوبی،،، آپ کی محبت ،،آپ کا وجود ،،،میرے لئے میری قیمتی متاع کی طرح ہے،، جیسے آکسیجن،،، یا جیسے میری لائف لائن ،،،اگر آپ کے وجود پر کانٹے بھی اگ آئیں تب بھی میں آپ کو اس نرمی سے چھؤؤں گا جیسا کہ آپ گلاب کی پنکھڑی ہوں،،، مجھ سے کبھی آپ کو تکلیف نہیں پہنچے گی۔۔ میں کبھی آپ کو ایک آنچ بھی نہیں آنے دوں گا۔۔ کبھی آپ کا مان،، غرور،،، نہیں توڑوں گا۔۔

اب وہ بے زار ہو چلی تھی اس بھاری بھرکم لباس،،، جیولری اور میک اپ سے،،، بیٹھنا دوبھر ہو گیا۔۔۔
سوچا کیوں نا چینج کر لوں،،، مگر ایک ظالم سرگوشی کانوں میں پھر گونجی۔۔

اس وقت کا شدت سے انتظار ہے جب آپ پوری کی پوری میرے رنگ میں رنگی،،،، میرے لیے تیار ہو کر آئیں گی،، اور میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش ہے کہ میں آپ کو اسوقت دیکھوں اور وہ نظارا مرتے دم تک اپنی آنکھوں میں بسا لوں۔۔پلیز ثوبی میرا انتظار کیجئے گا،،، کریں گی ناں

وہ سخت جھنجھلائی۔۔
رات کے دو بج چکے تھے۔۔۔
اب نیند کی شدت سے آنکھیں بھی بوجھل سی ہونے لگیں۔۔دل کیا لیٹ کر سو جائے۔۔
مگر پھر ایک التجائیہ سرگوشی آس پاس گونجی،،جس میں مان تھا،،التجا تھی،،،، میں چاہتا ہوں ثوبی کہ صرف اس رات آپ میرا انتظار کریں،، اس کے بدلے اگر پوری زندگی مجھے انتظار کرنا پڑے تو مجھے یہ سودا دل جان سے منظور ہوگا،،،
کریں گی ناں،،،،؟

ہونٹوں تک آتے گھونگھٹ کے نیچے سے اس نے ہاتھ ڈال کر اپنی کنپٹیاں سہلائیں۔۔۔

تبھی دھاڑ سے ڈور کھلنے کی آواز پر وہ چونکی،،، اور ہڑبڑا کر سیدھی ہو گئی۔۔

کلک کی آواز پر دروازہ لاک ہونے کی آواز پر وہ خود میں سمٹ گئی،،، دل اچھل کر حلق میں آیا۔۔۔

تبھی کچھ بہت غیر معمولی اور عجیب سا محسوس ہوا،، کیونکہ آنے والا بہت بری طرح لڑکھڑاتا بیڈ کے قریب آ رہا تھا۔۔

وہ زیادہ دیر تک یہ عجیب صورتحال برداشت نہیں کر پائی اور فطری شرم،، جھجھک کو بالا طاق رکھتی خود ہی گھونگھٹ پلٹ دیا۔۔

سامنے کا نظارا بے حد دل دہلا دینے والا،،، ناقابلِ یقین،،، ناقابلِ فہم اور ناقابلِ تلافی تھا۔۔وہ صدمے اور حیرت سے گنگ شاہ ِ من کو نشہ کی شدت سے لڑکھڑاتے سرخ چہرے اور لال انگارا آنکھیں لئے اپنی جانب بڑھتا دیکھ رہی تھی۔۔

وہ جیسے جیسے بیڈ کے قریب آیا وہ غیر محسوس طریقے سے پیچھے کھسکتی بیڈ کراؤن سے جا لگی تھی۔۔

💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖

کاپی کرنے اور پی ڈی ایف بنانے کی اجازت نہیں ہے۔ اس ناول کے تمام جملہ حقوق واحبہ عشقم ناولز اور ناول بینک آفیشل ٹیم کے پاس محفوظ ہیں..