53.8K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8


ماضی۔۔۔
اعظم مینشن دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔۔
رات کے اٹھ بج چکے تھے اور فنکشن رات کا تھا۔۔
آپ قریباً پندرہ دن بعد شاہِ من کی مکمل صحت یابی کے بعد نکاح ہونا تھا۔۔
اور اس کا انتظام اعظم مینشن کے وسیع وعریض لان میں کیا گیا تھا۔۔

خاندان کے بہت خاص خاص لوگ انوائیٹڈ تھے۔۔
لان میں بہت خوبصورتی سے وائٹ اور بلو تھیم میں ڈیکوریشن کی گئیں تھیں۔۔
دائیں طرف سٹیج تھا ۔۔۔۔
اور اس کے بلکل پاس ہی ایک بڑا سرپرائز ،،،مطلب کے بڑے بڑے بلیک پردوں سے اس حصے کو چھپایا گیا تھا،، کہ وہ کیا چیز ہے۔۔

شاہِ من اپنے روم میں تیار ہو رہا تھا۔۔
وائٹ کرتے شلوار کے اوپر وائٹ ویسکوٹ،، کف لنک کہنیوں تک موڑے ہاتھ میں سلور ڈائل والی گھڑی پہنے وہ کسی ریاست ک شہزاد لگ رہا تھا۔۔
اوپر سے سرخ و سفید چہرے پر جو خوشی کی دمک اور آنکھوں میں خاص چمک تھی اس نے اس کے خوبرو اور وجاہت میں چار چاند لگا دئے تھے۔۔

روم میں ولی اور نشوان موجود تھے۔۔وہ آئینے میں سے دیکھ رہا تھا۔۔
نشوان کا کچھ موڈ خراب تھا۔۔

نشوان احمد خیریت،،،؟ من سے جب رہا تھی۔۔تو پوچھ بیٹھا۔۔

یار نایاب گل،،،،، وہ بہت عجیب ہے،، اس نے کڑوا سا منہ بنایا۔۔

شاہِ من اسے دیکھتا رہ گیا۔۔ابھی کہاں نشوان احمد،،، ابھی تو آگے آگے دیکھنا،، بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے،،،؟ ویسے تم میں مجھے دوسرے دانیال بھائی نظر آتے ہیں۔۔۔
شاہ من اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہتا باہر چلا گیا۔۔

جبکہ نشوان بے تحاشا چونکا تھا ۔۔ابھی تو اس نے بتایا ہی نہیں تھا کہ نایاب گل بس ہر وقت پیسہ پیسہ کرتی رہتی تھی۔۔تو کیا شاہِ من کو پہلے ہی اندازہ تھا کہ وہ ایک بہت لالچی اور انتہائی مطلب پرست اور خود غرض لڑکی ہے،،،،، تو کیا نشوان احمد اندھا تھا۔۔جو وہ ہی اسے سمجھ نہیں پایا تھا۔۔
نشوان کے پیروں نیچے سے زمین کھسکی اور موڈ بری طرح آف ہو گیا۔۔

شاہِ من باہر آیا تو ہر نگاہ کا زاویہ مرکز تھا۔۔
کوئی رشک سے دیکھتا تھا تو کوئی حسد سے۔۔

شازیہ بیگم سارا اور رابی نے اس کی نظر اتاری۔۔دلاور اعظم اور بی جان کے چہرے بھی خوشی سے دمک رہے تھے۔۔ سارا کے شوہر ریان بھی خوشی خوشی ہر کام میں ہاتھ بٹاتا پھر رہا تھا۔۔

تبھی رانا جہانگیر کی کار گیٹ سے اندر داخل ہوئی۔۔سبھی متوجہ ہوئے۔۔اور ان کے استقبال کے لئے آگے بڑھے۔۔

جہانگیر اور صائمہ کار سے باہر آئے۔۔
شاہ من نے سب کو رکنے کا اشارہ کیا اور اپنی دلہن کے استقبال کو خود آگے بڑھا۔۔

لان ہوٹنگ اور سیٹیوں سے گونج اٹھا۔۔مگر من لاپرواہ سا بنا آگے آیا۔۔ثوبی کی جانب کا ڈور کھول کر اپنا کشادہ ہاتھ آگے بڑھایا۔۔

ثوبی نے ریڈ اور گولڈن امتزاج کی میکسی کے اوپر ریڈ دوپٹہ سیٹ کیا ہوا تھا۔۔خوبصورت ہیر سٹائل بنا کر بال ایک جانب کرل کر کے کھلے چھوڑے گئے تھے۔۔۔اس کے اوپر باریک گولڈن بڑے سے دوپٹے کا کہنیوں تک گھونگھٹ تھا۔۔
میک اپ کے نام پر صرف ائی لائنر اور ریڈ لپ اسٹک لگائی گئی تھی۔۔
ثوبی نے لرزتا ہاتھ اس کی ہاتھ میں تھمایا تو سب سے پہلے تو وہ رانا صاااب کے خوبصورت مہندی سے مہکتے ہاتھ اور ناخنوں پر ٹرانسپیرٹ نیل پینٹ اور ان کے اوپر چھوٹے چھوٹے ریڈ بیٹس پر ہی فدا ہوا۔۔

وہ آہستگی سے باہر آئی۔۔
تو شاہِ من مبہوت رہ گیا،،،
افففففففففففففففففف رانا صاااااااااااااب،،، کیوں قہر ڈھا رہی ہیں اس معصوم دل پر،،،
اس سرگوشی پر ثوبی کا دل اپنے ہاتھوں میں دھڑکا۔۔
ماتھے پر ننھے ننھے پسینے کے قطرے نمودار ہوئے۔۔

وہ اس کا ہاتھ تھامے آہستگی سے چلتا پھولوں کی راہ گزر سے گزرتا سٹیج تک آیا۔۔
مختلف آوازیں آ رہیں تھیں جو ثوبی کو شرم سے لال بھبوکا کر رہیں تھیں۔۔

من،،، بھائی آپ مسکراتے بھی ہیں،،، بھابھی کا جادو چل گیا یہ تو،
من کے من کو کون بھا گئیں جو یہ دن دیکھنے کو ملا۔۔
یہ تو معجزہ ہو گیا ۔۔مطلب شاہِ من محبت شادی واؤ۔۔۔

سب نے کلیپنگ کی۔۔

شاہِ من نے اسے تخت نما دوسیٹر کرسی پر بیٹھایا۔۔اور اس کے ساتھ بڑی شان سے خود براجمان ہو گیا۔۔کرسی کے پیچھے گولڈن کراؤن بنا تھا۔۔
سب بڑے بھی سٹیج پر بیٹھ گئے۔۔
ثوبی شدید نروس تھی۔۔پورا جسم لرز رہا تھا۔۔جو پاس بیٹھا شخص سینے میں پاگل ہوتے دل اور گہری مسکان سمیت نوٹ کر رہا تھا۔۔
شاہِ من نے اسے تسلی دینے کے لئے آہستگی سے اس کا ہاتھ دبایا تو ثوبی کا دل اچھل کر جیسے حلق میں آیا تھا۔۔۔
ثوبی بس ایک نظر ہی دیکھ پائی تھی پہلو میں بیٹھے اس بے انتہا خوبرو، ہینڈسم اور ڈیشنگ بندے کو۔۔

کچھ ہی پلوں میں وہ پل بھی آن پہنچا جس کا ایک دیوانے نے پل پل انتظار کیا تھا۔۔

ایجاب و قبول کا مرحلہ بھی جلد ہی طے پا گیا۔۔
ثوبی کے سائن کرتے ہوئے ہاتھ کپکپائے تھے۔۔مگر جہانگیر نے جب قریب آ کر اپنی پرنسز کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔تو ثوبی نے دھڑکتے دل کے ساتھ سائن کر دیئے۔۔

مبارکباد کی صدائیں بلند ہوئیں۔۔ سب شاہِ من کے گلے لگ کر اسے مبارک دے رہے تھے۔۔
خوشگوار ماحول میں شاندار ڈنر کیا گیا۔۔
کچھ دیر تک شاہِ من منظر سے غائب ہوا تھا۔۔
ثوبی یہی سمجھی کہ شاید وہ چاہتا ہے کہ وہ ریلیکس ہو کر کھانا کھائے۔۔

صائمہ بیگم نے اپنے ہاتھوں سے اسے کھانا کھلایا،،، بی جان اور شازیہ بیگم جانے کتنی بار اس کے صدقے اتار چکیں تھیں۔۔

کھانا کھایا جا چکا تھا۔۔
تبھی شاہِ من آ کر ثوبی کے پاس بیٹھا تھا ایک معنی خیز مسکراہٹ لبوں پر سجائے۔۔

تبھی اچانک سبھی لائٹس آف ہو گئیں اور ایک سپوٹ لائٹ سٹیج کے سامنے بنے اس بلیک پردے کی جانب روشن ہوئی۔۔
جہاں دلاور اعظم کے بہن بھائیوں کے بچے یعنی ینگ جنریشن معنی خیز سی مسکان لئے کھڑی تھی۔۔

سارا کے ہزبینڈ ریان کے ہاتھ میں مائیک تھا۔۔
گلا کھنکار کر وہ گویا ہوا۔۔

اسلام وعليكم خواتین و حضرات،،، یقینا ہمارے سارے خاندان کو یہ تجسس ہے کہ اعظمز خاندان کے بگڑے رئیس زادے (آنکھ ونک کرتے ہوئے) شاہِ من کو اتنی پیاری پرنسز بھابھی کیسے ملی۔۔ ایکچوئلی ینگ جنریشن کو زیادہ انٹرسٹ ہے شاہِ من دلاور اعظم کی لو سٹوری جاننے کا تو آپ سب لوگوں کے لئے پیشِ خدمت ہے آج کی شام کا گرینڈ سرپرائز جو کہ ینگ جنریشن کی طرف سے پیش کیا جاتا۔۔

A mysterious Love story about Saha_e_Mun Dilawar Azam

بلیک پردہ ہٹا۔۔
پیچھے سے ڈانس فلور دکھائی دیا تو سب نے بےتحاشا کلیپنگ کی۔۔

ثوبی ہق دق سی سامنے دیکھے گئی۔۔شاہِ من زرا سا اس کی جانب جھکا۔۔
بی ریڈی جان،،، نہیں تو ہل جاؤ گی شاہِ من دلاور اعظم کی شدتوں اور محبت کے انداز کو محض دیکھ کر ہی۔۔
وہ ذومعنی سا بولا تو ثوبی کی جان لبوں پر آئی۔۔

شاہِ من پلیزززززز،،،،، وہ منمنائی۔۔ سب موجود ہیں،،، اس کا چہرہ سفید پڑا ہتھیلیاں پسینے سے تر ہو گئیں۔۔

نو میری جان ابھی کہاں ابھی تو شروعات ہے،، بس دیکھتی جاؤ۔۔

ریان مائیک میں بولا۔۔
تو ملئے ہمارے گھمنڈی شاہِ من سے جن کی پہلی زندگی بلکل زرا موج مستی میں ہی گزری ہے،،،
میوزک سسٹم آن ہوا۔۔ شاہ من کا ایک کزن بلکل شاہ من کے گیٹ اپ میں سٹیج پر اترا۔۔ الفاظ کے ساتھ ڈانس سٹیپ بہت بہترین تھے۔۔

لڑکوں کی انگلی پہ ناچے یہ زمانہ
سمپل یہ فنڈا ہے کڑیوں کو بتانا
لوٹیں نہیں،،،،، ،،،،،،،لٹ جائیں
چیٹنگ میں ہی پھنس جائیں
کڑیاں یہ جیبوں میں رکھ لے
کڑیاں نوں،،، ،،،،،،،،،،،،،،ٹھگ لے

ہوٹنگ ہوئی شور مچا ،،،تھمب ڈاؤن کر کے لڑکیوں کو چڑایا گیا۔۔مگر شاہ من کی ایک کزن نے لڑکیوں کی جانب سے منہ توڑ جواب دیا۔۔

لڑکوں کو لگتا ہے ایزی جیت جانا
اس بار ان کو ہرا،،،، ،کہ ہے دکھانا
بڑی بڑی،،،، ،ہانکیں ہیں
یونہی ہوا پھانکیں ہیں
جیبیں بھری،،،، خالی ہیں عقلیں
منڈیاں نوں،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،ٹھگ لے

لڑکیوں نے شور مچایا،، بڑے بھی سب انجوائے کرنے لگے۔۔

ریان پھر مائیک تھامے آگے بڑھا۔۔۔ پھر ایک دن ایک فنگشن میں شاہِ من دلاور اعظم کی اس موج مستی والی زندگی میں بھونچال آ گیا۔۔
جب ان کا سامنا ایک لٹل فیری سے ہوا۔۔

شاہ من گہرا مسکرایا ثوبی نے پہلو بدلا،، مگر حیرت سے دیکھے گئی۔۔
کیونکہ اب ایک کزن کا گیٹ اپ شاہ من کا بلکل نشوان کے ولیمہ جیسا تھا۔۔
ڈانس فلور پر چئیر پر نشوان اور گل بیٹھے تھے۔۔یعنی دلہا دلہن اور تبھی رابی ثوبی کی براؤن میکسی میں سٹیج پر آئی۔۔۔
یہ سب حیران کن تھا۔۔ ثوبی کی آنکھیں حیرت سے پھٹیں،، یہ ڈریس یقینا مما نے رابی کو دیا ہوگا۔۔
اس تخریب کاری کے لئے۔۔

میوزک بجا۔۔
اب شاہ من اور ثوبی کے گیٹ اپ میں وہ دونوں آمنے سامنے کھڑے تھے۔۔

اک حسینہ تھی،،،،،،، ایک دیوانہ تھا،،،،،
کیا عمر،،، کیا سماں،،، کیا زمانہ تھا،،،،،،
اس حسیں نے کہا،،،، سنو جانِ وفا
تم پہ مرتا ہوں میں،،، پیار کرتا ہوں میں
بن تیرے زندگی کچھ نہیں،،،، کچھ نہیں
اس گلی میں میرا آنا،،،،،،،،،،،،،،،،،،، جانا تھا
اک حسینہ تھی،،، ایک دیوانہ تھا

ثوبی سٹیج پر دیکھنے میں اس قدر محو تھی کہ پتہ نا چلا کب شاہِ من پہلو سے اٹھ کر ڈانس فلور کے پیچھے گم ہو گیا تھا۔۔
تو اس دیوانے نے سب کو یہ تاثر دیا کہ اس نے ثوبی کو نشوان کی شادی میں دیکھا۔۔
ثوبی کے دل میں اس کی محبت کے احترام میں اضافہ ہوا۔۔

ریان پھر سامنے آ کر مائیک میں بولا،،
تو یوں ہوئی ان لو برڈز کی ملاقات،، اور بات آج یعنی ان کے نکاح تک پہنچی،،
مگر نہیں گائز،،، ابھی تو شاہِ من دلاور اعظم کی عشق کی داستان کی شروعات ہوئی ہے کیسے،،،
ایسے۔۔

وہ پیچھے ہٹا۔۔اب شاہِ من خود مسکراتا،، سارا کا ہاتھ تھامے (جو کہ بلکل ثوبی کے آج کے ڈریس جیسے سیم ٹو سیم ریڈ گولڈن ڈریس میں تھی) سٹیج پر دھیمے سے چلتا آیا۔۔

سب نے کلیپنگ اور ہوٹنگ کی۔۔
من بھابھی کے ساتھ ہی کر لیتے ڈانس زیادہ مزہ آتا۔۔
کسی نے ہانک لگائی۔۔

میوزک بجا۔۔

میں وہاں جہاں پہ تو ہے
میرا عشق،،، اور جنوں ہے
او جاناں،،

(کپل ڈانس سٹیپس بہت خوبصورت اور پیارے تھے) ثوبی لال ٹماٹر چہرے کے ساتھ ان کو خوبصورتی سے کپل ڈانس کرتے دیکھے گئی۔۔ سب بڑے معنی خیز نگاہوں سے کبھی ثوبی کو سٹیج پر دیکھ رہے تھے۔۔
ثوبی کا دل کیا کہیں چھپ جائے۔۔

ہر دم مجھی میں تو ہے
ہر بے خودی میں تو ہے
او جاناں،،،،

میوزک چینج ہوا۔۔۔ڈانس کرتے ہوئے بھی شاہِ من کی مرکزِ نگاہ ثوبی ہی تھی۔۔
جس سے ماحول میں ایک انوکھی سی تپش سی تھی۔۔

دھاگے توڑ لاْؤ روشنی سے نور،،
گھونگھٹ ہی بنا لو روشنی سے نور کے
شرم آ گئی تو،،،،،،،،،،،،،،، آغوش میں لو
سانسوں سے الجھی رہیں تیری سانسیں
بول نا ہلکے ہلکے ،،،،،،بول نا ہلکے ہلکے
ہونٹ سے ہلکے ہلکے،، بول نا ہلکے

بیک گراؤنڈ میوزک کے ساتھ شاہِ من مسکراتا چلتا ثوبی تک آ کر جب گھٹنے کے بل اس کے سامنے جھک کر ہاتھ پھیلایا تو سب نے ہوٹنگ اور شور سے ایک طوفانِ بدتمیزی برپا کر دیا۔۔
ثوبی تو کانوں تک سرخ ہو چکی تھی۔۔ چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا۔۔۔
کیونکہ سب بڑے دلچسپی سے یہ سب دیکھ رہے تھے۔۔

بھابھی ،،،،یہ پرپوز کر رہے ہیں نکاح کے بعد تاکہ انکار کی کوئی گنجائش ہی نا رہے،،،، سے یس،،،،

ہائے یہ شاہِ من بھائی کو تو سڑیل سے اب کنگ آف رومینس کا خطاب دینا پڑے گا ،،
مختلف آوازیں تھیں۔۔

ثوبی نے ڈرتے جھجھکتے اپنا ہاتھ شاہِ من کے ہاتھ میں تھمایا تو محفل تالیوں سے گونج اٹھی۔۔
شاہِ من نے اس کی فنگر میں رنگ پہنائی۔۔اور عقیدت سے ہاتھ کی پشت کو چوما۔۔

شاہِ من بھائی کچھ رومینس رخصتی کے لئے بھی بچا لیں ،،،ہانک آئی۔۔
ثوبی پسینے پسینے ہو گئی جبکہ محفل زعفران زار بن گئی۔۔

اب شاہِ من دوبارہ سٹیج پر گیا تھا اور ان شاید ان کی فیوچر لائف بھی ابھی دکھائی جانے والی تھی۔۔
ثوبی کا دل کیا کہیں بھاگ جائے اور پھر واقعی،،

عشق نا فلمی سٹائل کراں گے،، صاف صاف دساں دل وار دواں گا،،،،،،،
اسی نوے سالاں تک کون رہے گے اس عمر تینوں اینا پیار دیواں گا،،،،

اور پھر شاہِ من اور ثوبی بنی سارا کی گود میں لا کر بچے تھما دئے گئے
بلکہ شرارت میں سارے بچے ہی سٹیج پر بھگا دیئے گئے جو چاروں طرف سے ان کی ٹانگوں سے لپٹ گئے۔۔

ثوبی شرم و حیا سے دوہری ہو گئی۔۔

شازیہ بیگم،، بی جان اور دلاور اعظم نے یہ منظر دیکھ کر اب اٹھ کر نوٹوں کی برسات کی تھی۔۔

اوووووووووووو،،،،، شاہِ من ہتھ ہولا رکھنا بچوں پر،،، بھابھی کی صحت دیکھی ہے،،،،،،

محفل قہقہوں سے گونج اٹھی۔۔۔
مگر یہ یادگار ترین پل ڈارون ویڈیوز کیمروں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے قید کر لئے گئے تھے۔۔
کافی دیر تک محفل تالیوں سے گونجتی رہی۔۔
فوٹو سیشن ہوا۔۔ثوبی کی تو آج وہ چھوٹی سی جان پورا خاندان لینے پر تلا بیٹھا تھا۔۔

مگر فوٹو سیشن میں بچت ہی ہو گئی جب شاہِ من اسے لئے اور صرف فوٹو گرافر کے ساتھ گرین ہاؤس چلا گیا۔۔۔جہاں کسی کو گھسنے کی اجازت نہیں دی۔۔

سر میم کا ایک ہاتھ تھامیں اور ایک ویسٹ پر رکھیں۔۔۔ ثوبی نے پہلو بدلا۔۔
سر میم کے ہاتھ پر کس کریں،،،
سر میم کی بیک اپنی طرف کر کے دونوں ہاتھ تھا میں۔۔

ثوبی کا ہر پوز کے ساتھ چہرہ لہو چھلکانے لگتا مگر ناچار لرزتے کانپتے پوز دینے پڑے۔۔

آخر رات کے بارہ بجے تک فنکشن اختتام پزیر ہوا۔۔اور سب اپنے اپنے گھروں کی طرف روانہ ہوئے۔۔
ثوبی لوگوں کو گھر چھوڑنے کی زمہ داری خود من نے اٹھائی۔۔
اور گارڈز کے ساتھ انھیں گھر چھوڑنے آیا۔۔

صائمہ اور جہانگیر کافی مطمئن اور خوش تھے۔۔ثوبی بے تحاشا تھک چکی تھی تبھی رانا جہانگیر کے کندھے پر سر رکھ آنکھیں موند لیں۔۔
شاہِ من ڈرائیونگ کرتے کرتے ایک بھر پور نظر اس پر ڈال لیتا۔۔
جو شاید بڑی جلدی تھکن سے چور اب سو چکی تھی۔۔
گھر کے باہر گاڑیاں رکیں۔۔

ثوبی،،،،، رانا جہانگیر نے نرمی سے اسے اٹھانا چاہا۔۔
آپ ثوبی کو روم میں چھوڑ دیں،،، من بیٹا آپ بھی جا کر آرام کریں،،،،،میں تو چلی بھئی،،،،
صائمہ اتر کر اندر جا چکیں تھیں کیونکہ وہ بھی تھک گئیں تھیں۔۔

سر رہنے دیں،،،مت جگائیں،،،،، من نے جھجھکتے کہا،،،

یار اب تو سر کہنا بند کرو۔۔۔رانا جہانگیر نے چھیڑا۔۔تو وہ مسکرا دیا۔۔

مگر میں تو ہمیشہ آپ کو سر ہی کہوں گا،،، وہ بھی اطمینان سے بولا۔۔

سر مے آئی،،، من جھجھکتے آخر پوچھ ہی بیٹھا،،، تو رانا جہانگیر کا دل کیا قہقہ لگا کر ہنسے مگر ضبط کر گئے۔۔

رائٹ برخوردار ہم زرا اپنی بیگم کو جا کر دیکھتے ہیں تم اپنی بیگم کو سنبھالو،،، وہ کہتے اسے چھیڑتے نرمی سے ثوبی کا سر سیٹ سے ٹکا کر اٹھ کر اندر اپنے روم کی جانب چلے گئے۔۔

شاہ من گاڑی سے اترا۔۔گارڈ جو ان کی گاڑی کے ارد گرد کھڑے تھے انھیں اشارہ کیا تو وہ جا کر دوسری گاڑی میں دبک کر بیٹھ گئے۔۔

من نے ڈور کھولا اور نرمی سے اسے اپنی بانہوں میں بھرا۔۔اسے لئے اندر اس کے روم میں آیا۔۔
پاؤں سے ڈور لاک کیا۔۔اس کی چوڑیوں اور پائلوں کی چھنکار بہت تیز تھی۔۔
من نے اسے بیڈ پر لٹایا۔۔اور لائٹ آن کی ۔۔پھر وہ باریک گولڈن گھونگھٹ والا دوپٹہ نرمی سے اتار کر ایک طرف رکھا۔۔

اب وہ اپنی تمام تر رعنائیوں اور نزاکتوں سمیت اس کے سامنے تھی۔۔اور شاید انھیں نگاہوں کی پر حدت تپش کا اعجاز تھا کہ کچھ غیر معمولی محسوس ہونے پر گڑبڑا کر اٹھ بیٹھی تھی۔۔

آ،،،پ،،،، اسے اتنے قریب اپنے بیڈ پر شان سے بیٹھے دیکھ وہ گھبرائی ہاتھ لرز گئے،، پلکیں جھک گئیں۔۔

مگر ایک اور سوچ آتے ہی اس کی آنکھیں پھر پھٹیں،،، آ،،،پ،،، آپ پھر،،،، ممم،،،، مجھے اٹھا،،، کر اندر لائے،،،

ہاں میری جان،،، میں،،، اطمینان قابلِ دید تھا۔۔

آپ نے اور آپ کے خاندان کی ینگ جنریشن نے بے شرمی میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے،،، وہ روہانسی ہوئی۔۔

شاہِ من نے دانتوں تلے لب دیا کر ہنسی ضبط کی اور بیڈ پر نیم دراز ہو کر سر کے نیچے بازو فولڈ کر کے رکھے۔۔۔آپ بھول رہیں ہیں میری جان کہ اب آپ بھی اسی خاندان کی ینگ جنریشن کا حصہ ہیں،،، کوئی بات نہیں بہت جلد ہمارے رنگ میں رنگ جائیں گی۔۔
انداز لاپرواہ سا تھا۔۔

جی نہیں میں آپ لوگوں جتنی بے باک تو کبھی نہیں بن سکتی،،، وہ برا سا کیوٹ سا منہ بنا کر بولی۔۔

آپ جانتی ہیں بے باکی کسے کہتے ہیں،، وہ اطمینان سے کہتا اسے گڑبڑانے پر مجبور کر گیا۔۔

آپ تھک گئے ہوں گے،،، جا کر آرام کریں،،،، وہ بات گھما گئی۔۔۔

میں تو آج یہیں سونے والا ہوں،، وہ سکون سے کہتا مصنوعی انگڑائی لے کر کہتا اس کے ہوش اڑا گیا۔۔

مگر اس کا مزاق سمجھ کر اب وہ سکون سے بیٹھی اپنی جیولری آرام آرام سے خود سے الگ کرنے لگی۔۔ آپ تو ہیں ہی سر پھرے پاگل،،،، تعریف کی گئی۔۔۔

بہت شکریہ،،،،،،،،
اگر آپ کہیں تو یہ غلام آپ کی ہیلپ کر سکتا ہے،، گھمبیر بوجھل لہجے میں کہتا وہ اس کی سانس اٹکا گیا۔۔
یوں بھی کمر پر سلگتی نگاہوں کی تپش ناقابلِ برداشت تھی۔۔

نن،،، نہیں،،، مم،،، میں کر،، لوں گی،،، وہ کہتی پہنی گئی ہلکی پھلکی جیولری اتارے گئی۔۔
مگر کب تک۔۔
دوپٹے اور گھنے بالوں میں لگی سر پر پنز نکالتے اس کے دانتوں تک پسینے چھوٹ گئے تھے۔۔
اب تو بازو بھی دکھنے لگے تھے۔۔
غصے میں ایک پن کھینچ بیٹھی۔۔۔

اہہہہہہہہہہہہ،،،،،،،، منہ سے سسکی برامد ہوئی تو پاس بیٹھے شخص کے دل کو کچھ ہوا نرمی سے اٹھ کر قریب گیا اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اس کے ہاتھ پیچھے ہٹا کر پنز نکالنے لگا۔۔
جزبوں کا ایک طوفان سا اٹھا تھا دل میں ۔۔

رات کی تنہائی،، خاموشی ،،ملکیت اور رشتہ کے سر چڑھ کر بولتے احساس نے تمام خواہشیں جگا دی تھیں۔۔

ثوبی نے سر جھکا لیا۔۔اب وہ بہت نرمی سے سب پنز نکال چکا تھا۔۔
پنز نکالتے ہی دوپٹہ کندھوں سے سرک گیا۔۔
من کے حلق میں جیسے کانٹے اگے۔۔جھک کر عقیدت سے پچھلی روئی کی طرح نرم وگداز گردن پر لب رکھے۔۔

ان دہکتے لبوں کے سلگتے لمس نے ثوبی کو دل وجان سے لرزایا تھا۔۔

جھٹکے سے بیڈ سے نیچے اتری۔۔
مم،،، مجھے،، چینج،، کرنا ہے،،

مگر وہ بیڈ سے نیچے اتر کر اس کے روبرو آ چکا تھا بہت قریب،،،

کسی کے دل میں کیا چھپا ہے یہ تو رب ہی جانتا ہے
دل اگر بے نقاب ہوتے،،،،،،، تو سوچو کتنے فساد ہوتے
وہ اس کی کمر کے گرد نرمی سے بازو حمائل کرتا جھک کر اس کے کان میں بولا۔۔

مم،،،، مطلب،،،، ثوبی کی بیک بون میں سرسراہٹ ہوئی۔۔

مطلب،،، میری،،، جان،،، آپ کو پتہ ہے اس وقت میرے دل میں کیا چل رہا ہے،،؟
وہ خمار آلود لہجے میں پوچھ بیٹھا۔۔

نن،،، نہیں،،، وہ مچلی،،

I wanna kiss you,,,,,,,,
وہ سکون سے بولتا اسے کے ہوش ٹھکانے لگا گیا۔۔ اور اس سے پہلے کے وہ کچھ بولتی جھک کر اس کا ماتھا سلگا ڈالا۔۔

ثوبی کے چہرے نے لہو چھلکایا،،، پیچھے ہٹ کر دلچسپی سے محبت کے رنگ دیکھے۔۔ ثوبی نے اس کے کندھوں سے قمیض دبوچ رکھی تھی۔۔ وہ پوری جان سے لرز رہی تھی۔۔اگر شاہِ من نے اسے سہارا دے کر نا تھاما ہوتا تو زمین بوس ہی ہو جاتی۔۔

پھر جھکا اور کندھے پر لب رکھے۔۔مگر اب وہ کندھے سے گردن تک آیا تھا۔۔
اور ثوبی کے لئے اس کی شدتیں برداشت کرنا تقریباً جان جوکھم کا کام تھا۔۔

شا،،، ہ،،،، ممم،، من،،، پپ،،،، پیچھے،،، ہٹیں،،، لمبے سانس بھرتی وہ توڑ توڑ کر لفظ ادا کرتی نڈھال ہو چکی تھی۔۔

وہ پیچھے ہٹا۔۔اور دلچسپی سے اسے دیکھا۔۔

آ،،،، آپ،،ب،،،، بہت،،،، برے،،، ہیں،،، منہ بنا کر اٹکی سانس بحال کرتے بولا گیا۔۔

شاہِ من اسے خود سے الگ کرتے چھوڑ دیا۔۔
اب اس کا یہاں سے جانا بہت ضروری ہو گیا تھا۔۔
منہ زور جزبوں پر بھی تو بند باندھنا ضروری تھا۔۔

چلتا ہوں،،، اپنا خیال رکھئے گا،،، یہ سوچ کر کے کسی کی امانت ہیں۔۔۔
وہ کہتا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔

💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖

وہ اپنی سٹڈی میں بری طرح بزی ہوئی تھی کیونکہ لاسٹ سمسٹر تھا۔۔
پھر کچھ دنوں بعد ہی لائف میں پھر ایک چینجنگ آئی۔۔
جب رانا جہانگیر اور صائمہ عمرے پر گئے۔۔

پہلے ثوبی کا مسئلہ تھا کہ وہ اکیلی کیسے رہتی مگر اب تو وہ بھی فکر نا تھی اسے ان بیس دنوں میں اعظم مینشن رہنا تھا۔۔

جلد ہی وہ دن آن پہنچا جب وہ دونوں ہنسی خوشی چلے گئے،، ائیر پورٹ سے وہ شازیہ بیگم ،،دلاور اعظم اور شاہِ من کے ساتھ اعظم مینشن واپس آئی تھی۔۔

رابی نے اپنے روم میں اس کا سامان رکھوایا تھا۔۔
اسے کالج شاہِ من ہی لے کر آتا اور چھوڑ کر آتا تھا۔۔
وہ دانستہ اس کی نگاہوں ،،، وارفتگیوں اورپاگل پن سے چھپتی پھرتی تھی۔۔

اپنے آپ کو جان بوجھ کر بہت بری طرح سٹڈی میں بزی کر لیا تھا۔۔

💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖

ابھی ثوبی کو آئے پانچ دن گزرے تھے جب رابی بے چین سی رات کو شاہِ من کے روم میں داخل ہوئی۔۔

وہ اپنے لیپ ٹاپ میں بزی تھا۔۔
بھائی بھائی،،، میری بات سنیں،،، وہ لیپ ٹاپ سے اس کے بازو ہٹاتی،،،
اس کے گلے میں جھول گئی۔۔

اب کیا ہے رابی کیوں ڈسٹرب کر رہی ہو،، سیدھا کام کی بات کرو،،
وی سنجیدگی سے بولا۔۔

میرے اکڑو بھائی،،، بھابھی کے سامنے کہاں جا سوتی ہے آپ کی یہ اکڑ،،، وہ برا سا منہ بنا کر بولی۔۔

اوکے رائٹ،،، بتاؤ کیا ہے۔۔

ہمارے کالج کا ٹور جا رہا ہے مری،، بھائی مجھے بھی جانا ہے۔۔
پلیز،،،،، پلیز،،،،

تمھیں پتہ ہے رابی پاپا کبھی پرمیشن نہیں دیں گے تو ضد فضول ہے۔۔اس نے گہری سانس بھری۔۔

مجھے پتہ ہے وہ کبھی پرمیشن نہیں دیں گے اسی لئے تو آپ کو بول رہی ہوں۔۔ ہم دونوں بہانے سے بھابھی کو گھمانے لے کر جائیں گے،، آپ وہاں بھابھی کے ساتھ انجوائے کرنا اور میں اپنی فرینڈز کے ساتھ،،، صرف تین دن کی تو بات ہے بھائی،،،،
اس نے چٹکی بجائی۔۔
من چونکا،،، کام کی بات تو اب کی تھی اور اندھے کو کیا چاہیے تھا دو نین۔۔

تمھاری بھابھی کا لاسٹ سمسٹر ہے وہ مانے گی،، شاہِ من نے بھنوئیں اچکائیں۔۔

یاہووووووووووو،،،، یعنی آپ راضی ہیں،،،
Yesssssssss
دراصل ان کی لاسٹ سمسٹر کی تو کب کی تیاری ہے وہ تو صرف آپ سے چھپتی پھرتی ہیں پڑھائی کا بہانہ بنا کر ۔۔وہ بے حد شرارت سے بولی۔۔
تو شاہِ من نے اسے گھورا۔۔

گھوریں نہیں،،، آپ کے من میں لڈو پھوٹیں گے یہ جان کر کے میں نے ان کو راضی کر لیا ہے۔۔

آں ہاں،،،، تو تیاری کرو،، کب جانا ہے،، وہ بظاہر سنجیدگی سے بولا۔۔
مگر دل میں طوفان سا برپا تھا۔۔

کل،،، وہ دانت نکالتی بولی،، بھائی تھینکس ٹو می،،،، رخصتی سے پہلے آپ کو ہنی مون والی فیلنگ آ جائے گی۔۔

رابی یو،،،، کچھ زیادہ ہی بدتمیز نہیں ہو گئی ہو۔۔
وہ ہمیشہ کی طرح اس کے بال کھینچنے اس کی جانب لپکا۔۔

تو وہ منہ چڑاتی بھاگ چکی تھی۔۔

شاہِ من گہرا مسکرایا،،،
ثوبی،،،، جان،،، کب تک بھاگیں گی اس جیتے جاگتے عشق کے طوفان سے۔۔

Continue,,,,,,,,,,,,,