Shahe Mun By Wahiba Fatima Readelle50091 Episode 14
No Download Link
Rate this Novel
Episode 14
Episode 14.…
زندگی کے دکھ ہمیشہ،،، زندگی کے ساتھ ہیں
لوگ فانی ہیں مگر لوگوں کے دکھ فانی نہیں
وہ بیڈ پر اجڑی بکھری سی حالت میں بیٹھی اپنے گزرے ماہ و سال سوچ رہی تھی۔۔
جب دانیال کے پاس تھی تو اس کی قدر نہیں کی۔۔۔کم سن تھی،،،، نا سمجھ۔۔سولہ کی تو تھی ابھی۔۔اور اس وقت نئی نئی جوانی کا وہ دور ہوتا ہے جب کچھ غلط نہیں لگتا جو انسان خود کرتا ہے بس وہی سہی لگتا ہے۔۔۔
مگر پھر نکاح کے بعد آہستہ آہستہ اس کی دانیال کے لئے دل میں محبت کی کومل پھوٹی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ تناور درخت بن گئی۔۔
پلین کے مطابق دانیال کا کافی سارا پیسہ اڑا کر اسے محمود کے ساتھ بھاگنا تھا مگر صبا نے محمود کو انکار کر دیا۔۔یہ کہہ کر کہ وہ دانیال سے محبت کرتی ہے۔۔
محمود نے اسے اپنی مردانگی اور انا کا مسئلہ بناتے ہوئے ہر وہ حربہ آزمایا جس سے صبا اس کے پاس چلی جائے۔۔اور آخر کار اس بے غیرت نے صبا کے پچھلے میسجز اور فون کالز کی ریکارڈنگ کو ہتھیار بنا کر اسے بلیک میل کیا کہ وہ یہ سب دانیال کو دکھا دے گا۔۔
پھر صبا کو اس کے پاس جانا ہی پڑا ۔۔۔اس نے نکاح کے اوپر نکاح کرتھی۔۔جو کہ حرام تھا۔۔ مگر اس نے دھمکی دی کہ وہ پھر نکاح کے بغیر ہی اسے پاس رکھ لے گا۔۔
محمود نے اپنے ماں باپ کو یہی بتایا کہ وہ لاوارث ہے اور اس کا کوئی آگے پیچھے نہیں۔۔
وقت گزرتا گیا دانیال کی یاد اور محبت صبا کے دل و دماغ اور روح تک ایسی اتری کے اسے ہر وقت ہر سمت وہ ہی وہ نظر آتا۔۔ صبا نے اپنے انکار کی بھاری قیمت چکائی تھی۔۔
حرام زندگی جینے کے احساس نے اس سے اس کی ہر خوشی چھین لی تھی۔۔ اگر ایسا نا ہوتا تو وہ کیا پتا سمجھوتہ کر ہی لیتی۔۔۔
وہ اس قدر اسے ٹارچر کرتا اور اذیتیں دیتا کہ اس کی روح تک کانپ جاتی تب وہ تنہائیوں میں اپنی عبادت کے بعد دانیال کے تصور سے ہمکلام ہوتی تھی۔۔
سات سال گزر گئے اب تو ٹارچر سہہ سہہ کر اس کی دماغی حالت اس قدر ابتر تھی کہ اسے محمود میں بھی دانیال نظر آنے لگا اور اکثر ہی وہ اسے دانیال پکار بیٹھتی۔۔
اور پھر اذیتوں کے نئے باب شروع ہو جاتے۔۔۔
وہ اس بدچلن اور بد کردار کہنے لگا،، جو اس کے ساتھ رہتے ہوئے بھی دانیال کے خیالوں میں کھوئی رہتی۔۔
پھر وہ محمود کی قید میں ہی تھی جب حمل سے ہوئی اور دماغی حالت زیادہ بگڑتی گئی۔۔پھر جڑواں بچوں کی پیدائش ہوئی۔۔ محمود خوش ہوا
مگر قسمت کو کچھ اور منظور تھا کے وہ بچوں کی پیدائش کے فوراً بعد ہی مر گیا۔۔
پھر تین سال اور اذیت میں گزرے۔۔
اور اب بھی اس کی دماغی حالت ایسی تھی کہ اسے سب بھولتا چلا جا رہا تھا۔۔یاد تھا تو بس دانیال۔۔۔۔
وہ یہ سمجھتی تھی بچے دانیال کے ہیں۔۔
جیسے محمود تو اس کی زندگی میں کبھی آیا ہی نہیں ۔۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
دانیال لان میں کھڑا اس وقت گہری سوچ میں تھا۔۔ڈاکٹر نے جو کہا تھا جو بتایا تھا دانیال کی زندگی تک حل چکی تھی۔۔
مسٹر دانیال آپ کی وائف کی مینٹلی کنڈیشن بلکل ٹھیک نہیں۔۔وہ کبھی بھی کچھ بھی تصور کر لیتی ہیں شاید،، پچھلے کچھ سالوں میں انھیں اتنا ٹارچر کیا گیا ہے ان کی دماغی حالت اتنی ابتر ہے کہ وہ کبھی بھی پاگل ہو سکتیں یا مر سکتی ہیں،، میں تو ان کا جسم دیکھ کر حیران ہوں جو آئرن سے کئی جگہ جلایا گیا۔۔
مسٹر دانیال بچا لیں انھیں اگر زندہ دیکھنا چاہتے ہیں۔۔
وہ سب کچھ بھولتی جا رہی ہیں،،، انھیں وہ یاد رہنا چاہئے،،، انھیں یاد کروائیں۔۔ کچھ ایسا کہیں کہ وہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں،، دماغ پر زور دیں،،
تبھی دانیال کو بچوں کا خیال دماغ میں آیا تھا۔۔۔
تبھی اس نے ثمن کو جھنجھوڑ کر پوچھا تھا۔۔
وہ چونکی تھی،،، اور بچوں کا بتایا تھا کہ وہ دانیال کے ہیں۔۔
تبھی دانیال کو بہت صدمہ لگا تھا اس ظالم لڑکی کی اتنی بری مینٹلی کنڈیشن دیکھ،،،
بچے اس کے ،،،،،،،،،،،کیسے ،،،؟وہ تو دس سال بعد ملا تھا اس سے۔۔
ازان میں اس کی شبہاہت کیوں تھی۔۔
شاید اس لیے کہ وہ دن رات محبت کی جوگن صرف اسی کے بارے میں جو سوچتی رہتی تھی۔۔
پھر اس نے اس کی کاؤنسلنگ کروائی تھی اور کاؤنسلنگ کے دوران جو ان دس سالوں کے انکشافات ہوئے۔۔
دانیال کا لگا اس کا وجود سلگ کر ہوا میں تحلیل ہو جائے گا۔۔
وہ جانتا تھا اس کے ساتھ کیا ہوا ہوگا۔۔وہ دن رات دانیال کو سوچتی ہوگی،، اس سے ملنے کی خواہش کرتی ہوگی۔۔۔
خود اس نے کیا کیا،، بس ہجر کے روگ میں آہیں بھرنے کے سوا کیا کیا،،
آخر مرد تھا نا بے وفائی کو انا کا مسئلہ بنا لیا،،، جا کر یہ بھی نا پوچھا کہ ایسا کیا کیوں ۔۔۔
اسے ڈھونڈنے کی کوشش تک نہیں کی اس بے وفائی کی وجہ بھی نہیں پوچھی۔۔
اگر پہلے ڈھونڈ لیتا تو اسے اس درندے کے چنگل سے نکال پاتا۔۔
دانیال بیٹا،،،،، ثمن بی بی کھانا نہیں کھا رہی ہیں،،، وہ اپنے خیالوں میں کھویا تھا کہ اب دونوں ہی اپنی غلطیوں کا ازالہ کر کے کیسے ایک نارمل لائف جی سکتے تھے۔۔
کہ بوا بیگم نے آ کر بتایا۔۔
ٹھیک ہے آپ بچوں کا خیال رکھیں میں دیکھتا ہوں۔۔۔
وہ کہتا روم کی جانب بڑھا۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
رات کا وقت تھا رابی اور ثوبی روم میں بیٹھی تھیں۔۔
شاہِ من باہر گیا ہوا تھا۔۔
اس نے رابی کو بول دیا تھا کہ آج وہ اسی کے ساتھ اسی کے روم میں سوئے گی۔۔
رابی اپنی بکس لے کر بیٹھی تھی۔۔جبکہ ثوبی اپنے موبائل میں لگی ہوئی تھی۔۔آج کے بارے حالات و واقعات سوچ کر با بار دل کی دھڑکھن بے ترتیب ہو جاتی تھی۔۔
اسے تقریباً نائن یا ایٹتھ سٹینڈرڈ میں بخار ہوا تھا بڑے شدید قسم کا
اور اس بخار میں وہ ڈر گئی تھی۔۔ اسے لگا تھا ڈھیر سارے کاکروچ اس کے جسم سے چمٹے ہوئے ہیں،،،
اس نے اتنی چیخیں ماریں تھیں اتنا روئی تھی کہ خدا کی پناہ۔۔
اور بس،،،، تب سے اسے کاکروچ فوبیا تھا،،، وہ بہت برا ڈر جاتی تھی۔۔
وہ یہ سوچ رہی تھی کہ من کیا کرنے والا ہے۔۔
تبھی وہ دبے قدموں باہر سے کھڑکی تک آیا تھا۔۔ اس کے ہاتھ میں ایک باکس تھا۔۔وہ شرارتی سی ہنسی ہنس رہا تھا اپنی شرارت پر،، یہ جانے بغیر کے اسے یہ شرارت کتنی مہنگی پڑنے والی ہے۔۔
اس نے کھڑکی چپکے سے تھوڑی سی کھولی اور باکس کا منہ کھول کر کھڑکی کے اندر کر دیا۔۔
کلبلاتے نو دس کاکروچ اندر گئے تھے۔۔
اور پھر حسبِ توقع کچھ ہی دیر بعد ثوبی اور رابی کی نظر ان پر پڑی۔۔
ثوبی کا چہرہ خوف سے سفید پڑ چکا تھا،، پھر اعظم مینشن ان کی دلدوز چیخوں سے گونج اٹھا تھا۔۔۔
دلاور اعظم اور شازیہ بیگم گبرا کر اپنے روم سے باہر آئے تھے۔۔بی جان جو کہ گاؤں سے واپس لوٹیں تھیں وہ بھی بوکھلا گئی تھیں۔۔
ثوبی تو بس چلائے جا رہی تھی۔۔۔رابی نے ہی اسے گھسیٹ کر روم سے نکال کر باہر لائی تھی۔۔۔
اب شاہِ من کے بھی ہاتھ پیر پھولے تھے۔۔وہ بھاگا۔۔رخ سیدھا لاؤنج کی جانب تھا۔۔
وہ اب بھی پھوٹ پھوٹ کر روتی چلائے جا رہی تھی۔۔ شاہ من نے آ کر اسے بازوؤں سے تھام کر جھنجھوڑا تھا۔۔
Please be quiet. It was just a joke,,,,,,,
مگر وہ کچھ کہنے سننے سے پہلے اس کے بازوؤں میں جھول گئی تھی۔۔
شاہِ من کے ہاتھ پیر پھولے تھے۔۔
دلاور اعظم نے فوراََ ڈاکٹر کو فون کیا ۔۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
دانیال روم میں آیا تو وہ بیڈ پر گھٹنے فولڈ کیے بیٹھی اپنے پاؤں کے ناخنوں کو گھور رہی تھی۔۔
وہ آہستگی سے اس کے قریب آ کر بیٹھا۔۔
کھانا جوں کا توں ٹیبل پر رکھا تھا اور وہ بیڈ پر جانے کیا تلاش کر رہی تھی۔۔
وہ بیڈ پر اس کے قریب بیٹھ گیا۔۔
ثمن،،،،، کھانا کھاؤ،،، وہ خالی خالی نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔
دانیال نے نوالا بنا کر اس کے منہ کے آگے کیا۔۔
جو کہ اس نے چپ چاپ کھا لیا۔۔ وہ اسے تسلی ہونے تک کھانا کھلاتا رہا۔۔اور اس کی اداس خالی آنکھوں سے تواتر سے آنسو بہتے دیکھتا ریا۔۔
کھانا کھلا کر ٹرے ایک سائیڈ رکھی،، اور سب سے پہلے تو اسے اپنے کشادہ سینے میں بھینچا۔۔
وہ روئے گئی،،، اور اس کی شرٹ بھگوتی رہی۔۔
دانیال نے اس کا چہرہ اپنے سینے سے نکال اپنے لبوں سے وہ بے مول موتی چن کر انھیں انمول بنایا تھا۔۔
د،،،،،، دانیال ،،،،،،مم،،، معاف،،،،،
اششششششش اس نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھی۔۔ ثمن،،،، آج کے بعد میں تمھارے ہونٹوں سے یہ بات نا سنوں،،،، اور یہ آخری بار ہے کہ تم نے آنسوؤں سے میری شرٹ بھگوئی ہے،،، میں اب تمھیں روتا ہوا نا دیکھوں،،،
دانیال نے اسے خود میں بھینچا۔۔
تبھی دروازہ کھلنے کی آواز پر دانیال نے نرمی سے اسے پیچھے کیا تھا۔۔
بچے کودتے ہوئے آ کر دانیال کی گود میں چڑھے تھے۔۔
پاپا،،، ممی کو کیا ہوا ہے ،،،،، ممی کب ٹھیک ہوں گی،،، وہ فکر مندی سے پوچھ رہے تھے،،،
جب دانیال نے ثمن کی کمر سہلا کر اسے بچوں کو طرف متوجہ کیا۔۔
مم،،، ٹھیک ہوں فجر ازان،،،، اس نے انھیں گود میں بھرا اور ان کے گال چومے۔۔
ہیے کڈز،،، ایک سرپرائز ہے آپ لوگوں کے لئے،،، میں نے لان میں ٹیبل پر رکھا ہے جا کر دیکھو،، ممی پاپا ابھی آتے ہیں،،، دانیال نے کہا تو وہ دانیال کا منہ چومتے باہر بھاگ گئے ۔۔
وہ ثمن کی طرف متوجہ ہوا تھا،، زاویہ نگاہ بدلی تو اب گہری نگاہ سے اس سر تا پا دیکھا تھا۔۔
وہ بھی اب دانیال کی بدلی گہری نگاہیں خود پر محسوس کرتی نگاہیں جھکا گئی تھی۔۔
دانیال نے وہ پرنور سا چہرہ ہاتھوں میں بھرا۔۔
ماتھے پر محبت کی مہر ثبت کی۔۔
ثمن پرامس کرو،،، اپنا خیال رکھو گی،، تمھیں ٹھیک ہونا ہے،،، مکمل صحت یاب ہونا ہے،،، میرے لئے،،،ہمارے بچوں کے لئے ،،،وعدہ کرو،، کرو گی ناں،،،
ثمن نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔آؤ بچوں کے پاس چلیں،،، تازہ ہوا سے تمھارا موڈ فریش ہوگا،،
وہ نرمی سے بولتا اسے اپنے ساتھ لگائے باہر کی جانب بڑھا۔۔
اب اسے ہی کوششیں کرنی تھیں اپنی زندگی کی ایک نئی اور خوبصورت شروعات کرنے کی۔۔
دل تو اس نازک وجود کے واپس لوٹنے سے آباد ہو ہی چکا تھا۔۔اور اس نے آ کر دانیال کے وجود کو مکمل کر دیا تھا۔۔
بچے چاہے اس کے نہیں تھے۔۔ مگر اس سے اسے رتی برابر بھی فرق نہیں پڑنے والا تھا۔۔
وہ ان کو اپنا نام دینے والا تھا۔۔اپنے وجود کا ہی حصہ بنانے والا تھا۔۔
زندگی بہت خوبصورت ہونے والی تھی۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
ڈاکٹر اسے چیک کر کے گئی تھی۔۔ اسے ہلکا بخار بھی ہو گیا تھا۔۔
رانا جہانگیر اور صائمہ بیگم بھی آ گئے تھے۔۔
اسے کاکروچ فوبیا ہے بیٹا،،،، یہ بہت ڈر جاتی ہے،، رانا جہانگیر نے بتایا اور وہ واقعہ بھی سنایا جس سے اسے یہ مسئلہ ہوا۔۔
تو وہ مزید شرمندہ ہو گیا سانس تو پہلے ہی سینے میں الجھی ہوئی تھی۔۔
وہ اسے اٹھا کر اپنے روم میں ہی لے آیا تھا اور اب ڈاکٹر نے اسے سکون کا انجیکشن دیا تھا۔۔
سب موجود تھے،، دلاور اعظم اور شازیہ بیگم سے جی بھر کر ڈانٹ کھا چکا تھا۔۔
رابی بھی غصے سے گھورتی رہی تھی اسے۔۔
سب بیٹھے ہلکی پھلکی باتیں کرنے میں مصروف تھے۔۔ رات کافی ہو چکی تھی،،، جہانگیر اور صائمہ اجازت طلب کر کے چلے گئے۔۔
بی جان نے اس پر آیتیں تلاوت کر کہ دم کیا،، سب اپنے اپنے روم میں چلے گئے۔۔
وہ ڈور لاک کر کے آ کر اس کے قریب نیم دراز ہوا تھا۔۔پتا نہیں تھا اس کی شرارت اسے اتنی مہنگی پڑنے والی ہے سوچا نہیں تھا، ،اور اسے اپنی جان کے متعلق ہر چیز معلوم تھی سوائے اس کے
وہ خود کو ملامت کر رہا تھا کہ اس نے اتنی امپورٹنٹ بات کیسے مس کر دی۔۔
ثوبی بے چین سی ہوئی تھی۔۔ وہ الرٹ ہوا، ،، سوتے میں سہمی تھی۔۔ ماتھے پر ہلکے پسینے کے قطرے نمودار ہوئے۔۔
ہیے رانا صاااب، ،،نا کیا کریں یار، ،،شاہِ من اس کے ماتھے سے اپنا ماتھا ٹکایا۔۔
وہ سہم کر اٹھی تھی اور چلانے کو منہ کھولا مگر شاہِ من نے پہلے ہی نرمی سے اس کے لبوں پر ہاتھ رکھ کر اس کی آواز کا گلا گھونٹ دیا۔۔
ثوبی،،، پلیز، ،،،،کوئی نہیں ہے میری جان،،، مت ڈریں، ،،وہ اس کا ہاتھ سہلاتے اسے ریلیکس کرنے لگا۔۔
وہ گہرے گہرے سانس لیتی اب نارمل ہو چکی تھی۔۔
من نے نرمی سے ہاتھ ہٹایا۔۔
کاجل بھرے نین کٹورے پانیوں سے بھرے تھے۔۔ شاہِ من تڑپا۔۔کھینچ کر اسے سینے میں بھینچا۔۔
ہیے آئم سوری جان،،، آئم سو سوری،،، مجھے نہیں پتا تھا میرے اس بے ہودہ جوک سے آپ کو اتنی تکلیف ہو گی،، پرامس کرتا ہوں اب کبھی آپ پر آنچ بھی نہیں آنے دوں گا۔۔
وہ اس کی پیٹھ تھپتھپاتے اسے سکون دے رہا تھا۔۔
کافی دیر اس سے باتیں کرتا وہ اسے نارمل کرنے میں کامیاب ہو ہی گیا۔۔جلد ہی وہ اس کی آغوش میں پرسکون سی سو چکی تھی۔۔
شاہ من نے زرا سا سر جھکا کر دیکھا۔۔اب اس من موہنے چہرے پر سکون تھا۔۔
وہ نرمی سے جھکا۔۔ اور چہرے کے تمام معصوم نقوش پر محبت کی مہریں ثبت کیں۔۔
نہیں جانتا،،، رانا صااااب کیا جادو کیا ہے آپ نے کہ آپ کے علاوہ کچھ دکھائی دیتا ہے نا سنائی دیتا ہے جانِ من،،،،
وہ کہتا اسے مزید قریب کرتا سکون سے آنکھیں موند گیا۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
وہ اپنے آفس میں ضروری کام میں بزی تھا۔۔ جب ڈور ہلکا سا ناک کر کے کوئی اندر آیا۔۔
اس نے سر اٹھا کر اوپر دیکھا تو ماتھے پر ڈھیر سارے بل آئے تھے۔۔رگیں تن گئیں۔۔
نشوان دھیمی چال چلتا شیطانی سی مسکراہٹ لیے اس کے سامنے آ کر رکا تھا۔۔
نشوان اگر نہیں چاہتے کہ میرے گارڈز تمھیں اٹھا کر باہر پھینکیں دفع ہو جاؤ یہاں سے،،، شاہِ من نے خطرناک حد تک سنجیدگی سے کہا تو اس نے پاکٹ سے ایک پیکٹ نکال کر اس کے سامنے ٹیبل پر رکھا۔۔
کیا ہے یہ،،، ٹو دی پوائنٹ بات کرو،،، نہیں تو آؤٹ،، وہ غرایا۔۔
چیلنج،،، ،،،،شاہِ من چیلنج ہے،، کتنا اعتبار بخشا ہے اس نے تمھیں اور تم نے اسے،،، ایسی چال چلی ہے کہ یہ جو تمھارا کھوکھلا بے نام رشتہ ہے ریت کی دیوار ثابت ہونے والا ہے۔۔
اس کے ہر لفظ ہر بکواس کے ساتھ شاہِ من کے چہرے نے غصے کی انتہا سے لہو چھلکایا تھا۔۔اس نے فوراََ سے پہلے پیکٹ کھول کر دیکھا تھا۔۔
جس میں نشوان اور ثوبی کی مری کی کچھ پکس تھیں۔۔ مختلف پوز میں،،، جیسے ساتھ ساتھ کھڑے اور بیٹھے ہوں۔۔
شاہِ من استہزایہ سا ہنسا تھا اور ان کاغذوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے اس کے منہ پر مارے۔۔۔
یہ اوقات ہے میری نگاہ میں تمھاری اس گھٹیا چال اور چیپ حرکت کی اب دفع ہو جاؤ نشوان نہیں تو میں بھول جاؤ گا کہ،،،
او کم آن شاہِ من بات کرنے آیا ہوں تو بات کرو،،، تمھاری نظر میں ان کاغذ کے ٹکڑوں کی یہ اوقات ہے،،، میں جانتا تھا تم ان کا یہی حشر کرو گے،،، یہ تمھارے لیے تھے بھی نہیں ڈئیر،،، یہ تو اس کے لئے ایک ٹریپ تھا،،، اس کے پاس بھی بھیجا ہے میں نے یہ پیکٹ،، اب دیکھنا یہ ہے کہ اسے یہ کتنا اعتبار ہے کہ تمھیں اس پر اعتبار ہے کہ نہیں،،،
اس نے خباثت سے آنکھ ونک کی تھی۔۔
اور تم اپنی اس گھٹیا چال میں کبھی کامیاب نہیں ہو پاؤ گے نشوان احمد،،،، وہ اچھی طرح جانتی ہے کہ مجھے اس پر کتنا ٹرسٹ ہے۔۔ شاہِ من غرایا۔۔اور اب کی بار غصے سے آگ بگولہ ہوتے اس کا گریبان دبوچا تھا۔۔
سی دیکھو،،، یہی چیلنج کرنے آیا تھا۔۔کہ دیکھتے جاؤ۔۔وہ تم سے اپنی یہ پرابلم شئیر کرتی ہے یا نہیں ۔۔ یا میرے بلیک میل کرنے پر تمھین بتائے بغیر میرے پاس چلی آئے گی۔۔مجھ سے یہ پکس لینے۔۔وہ سکون سے بولا۔۔
میں تمھاری جان لے لوں گا نشوان،،، تمھاری آنکھیں نکال کر چیل کووں کو کھلا دوں گا،،
وہ دھاڑتا اس کے چہرے پر ایک زور دار مکا مار چکا تھا۔۔اس کے ناک اور ہونٹ سے خون نکلا تھا۔۔
مگر وہ خباثت سے ہنسے گیا۔۔
جانے دو شاہِ من ابھی تو گیم کی شروعات ہوئی ہے،،، ابھی تو کھیلنے کا مزا آئے گا،، اور دیکھو جیت کس کی ہوتی ہے،، ہار کس کی اور ٹرافی کس کو ملتی ہے۔۔
وہ مسلسل مار کھاتا بکواس کیے جا رہا تھا۔۔
آخر دانیال نے ہی آفس میں داخل ہو کر شاہِ من سے نشوان کو چھڑوا کر باہر گھسیٹا تھا۔۔
نشوان اس سے پہلے میں تمھیں شوٹ کر دوں دفعہ ہو جاؤ یہاں سے،،،،
وہ دھاڑا تھا۔۔
وہ تن فن کرتا وہاں سے نکلا تھا۔۔
اب پلین بی پر عمل کرنے کا وقت آ چکا ہے۔۔ شاہِ من دلاور اعظم تمھاری ناک کے نیچے سے لے جاؤں گا میں اسے تم سے دور بہہہہہت دور،،،،ہمیشہ ہمیشہ کے لئے،،، اپنا بنانے کے لئے،، ہاہاہا ہاہاہا،،،،
وہ مکروہ قہقہہ لگا کر ہنستا گاڑی میں بیٹھ گاڑی زن سے بھگائی تھی۔۔۔
