Shahe Mun By Wahiba Fatima Readelle50091 Episode 7
No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
Episode 7.….
ماضی۔۔
ایسا بے حس کے پگھلتا ہی نا تھا باتوں سے
آدمی تھا کے،،،،،،،،،،،،،،، تراشا ہوا پتھر دیکھا
دکھ ہی ایسا تھا،، کہ رویا تیرا محسن ورنہ
غم چھپا کر اسے ،،،،،،،،ہنستا ہوا اکثر دیکھا
تین ماہ ہو چکے تھے شاہِ من دلاور اعظم کو پل پل تڑپتے۔۔
اس دوران دو مرتبہ پھر آئے تھے شازیہ بیگم اور دلاور اعظم۔۔بڑی آس لے کر جھولی پھیلانے رانا جہانگیر اور صائمہ بیگم کے آگے۔۔
مگر وہ بیٹی کی ضد اور ہٹ دھرمی کے سامنے مجبور تھے۔۔جس کا انکار اقرار میں بدلنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔۔
جانے وہ کیا بیر باندھ کر بیٹھی تھی۔۔شاہ من دلاور سے اور اس کی محبت سے۔۔
مگر اپنے انکار کی وجہ کبھی بھی یہ نہیں بول سکتی تھی کہ میں ڈرتی ہوں،،، کہ اس شخص کی نگاہوں میں میرا کردار مشکوک نا ہو،، اور اگر بعد میں کبھی شاہِ من نے زندگی میں کبھی اسے اس بات کا حوالہ دے کر کوئی بات کر دی تو وہ تو اسی وقت مر جائے گی جی نہیں پائے گی۔۔ اور وہ کیا دے پائے گی اس شخص کی محبت کے بدلے جو خود تہی دامن ہو چکی تھی۔۔محبت اس کے اندر مر چکی تھی جس کا وہ روز ماتم مناتی تھی۔۔
آخر کچھ بھی تھا۔۔کچی عمر کی پہلی محبت تھی۔۔دل کے کورے کاغذ پر لکھا گیا پیلا نام تھا۔۔۔۔ جس کے مردہ لاشے بھی تو دل سے نکلنا باقی تھے۔۔
اور وہ ان مردہ لاشوں پر نئی محبت کے شادیانے کیسے سجا لیتی۔۔
دوہری اور منافقانہ زندگی کیسے جی سکتی تھی سوچ کے ہی دم گھٹنے لگتا۔۔
اور اس سے بھی بڑی وجہ انکار کی یہ تھی کہ دم گھٹتا تھا اس شخص کی اتنی شدید اور دھواں دار محبت میں اس کا،، وہ تو اس کی نظروں کی تپش سے ہی جی جان سے جل جاتی تھی کجا کہ مستقل اسی ک دسترس میں چلی جاتی۔۔اس کی محبت،، جنون،، دیوانگی شدتیں برداشت کرنا کم از کم ثوبی کی چھوٹی سی جان کے لئے نا ممکن تھا۔۔۔
اس کا اندازہ ثوبی کو اس بات سے ہو چکا تھا جب وہ اسے منانے گھر بھی آیا تھا اور کالج کے بھی چکر لگائے تھے۔۔
مگر اس کا انکار انکار ہی رہا۔۔
یہ بھی عام دنوں کی طرح ایک بوجھل سا دن تھا جب وہ کالج پہنچی تھی،، ڈرائیور چھوڑ کر جا چکا تھا۔۔
وہ گیٹ کی جانب بڑھی۔۔ جب اچانک کسی نے پیچھے سے اس کے منہ پر رومال رکھا تھا۔۔
وہ بری طرح مچلی،، مگر جلد ہی ہوش و خرد سے بیگانہ ہو کر رومال رکھنے والے کے بازوؤں میں جھول گئی۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
وہ بھسم کر دینے والے انداز میں فارم داخل ہوا تھا۔۔
ہمیشہ کی طرح شاندار بلیک شلوار قمیص میں کریم کلر کی مردانہ شال کندھوں پر رکھے۔۔
سفید رنگ میں شدید طیش اور غصے کی انتہا سے سرخی گھلی ہوئی تھی۔۔
جہاں بڑے ہال میں دانیال بہت سکون سے ٹانگ پر ٹانگ جمائے بلیک کافی انجوائے کر رہا تھا۔۔
بھائی،، ہاؤ ڈئیر یو،،، آپ نے ہمت بھی کیسے کی ایسا کرنے کی،،، سوچا بھی کیسے،،؟ وہ شدید طیش میں بل کھاتا بال نوچتا چلایا۔۔
تین ماہ ہو گئے ہیں ایڑھیاں رگڑتے. ،،،کچھ ہوا؟ ٹھینگا؟ تو جب گھی سیدھی انگلی سے نا نکلے تو انگلی ٹیڑھی کر لو۔۔۔میں نے بھی وہی کیا۔۔۔
وہ لاپروائی سے بولا۔۔۔
سنو میں نے بندوبست کر دیا ہے نکاح کا،،،یا تو پھر ویسے ہی اپنا لو اسے،،، پھر تو تم سے شادی کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہے گا،،،،، یا تو ایسے یا پھر ویسے چوائس از یورز،،،
دانیال کا اطمینان قابلِ دید تھا۔۔
بھائی،،،، ہاؤ کوڈ یو ڈو دیڈ،،،؟ وہ دانت پیستا بولا۔۔۔آپ پاگل ہو گئے ہیں ،،،کہاں ہے وہ،،،؟
تمھارے ہی روم میں ،،،، ظاہر ہے،،،، صرف تمھارے لئے،،، کسی اور کی ہو تو سہی شوٹ کر دوں گا اسے،،، دانیال نے پھر سکون سے بولا۔۔
دانیال کی بات پر شاہِ من نے شاکی نظروں سے سے دانیال کو گھورا۔۔۔۔
ادھر بھاری پھٹتے سر کے ساتھ اسے ہوش آیا تھا۔۔
خود کو نرم گداز جہازی سائز بیڈ پر پایا،،، تڑپ کر اٹھی۔۔متوحش سا چاروں اور دیکھا۔۔
اور یہ سوچ کر دل شدت سے پسلیوں سے ٹکرایا کہ وہ کڈنیپ ہو چکی ہے۔۔ دل میں کلمہ پڑھا،،، اللہ تعالیٰ کو یاد کیا۔۔
پاپا،،،، وہ حلق کے بل چلائی۔۔ اور پھر جانے کیسے لبوں سے ادا ہوا۔۔ جیسے جانتی ہو کہ وہ ضرور اسے ہر آفت و مصیبت سے بچا لے گا۔۔
ممم. من بچائیں مجھے،،،، وہ شدت سے رو دی۔۔
وہ جو روم میں آ رہا تھا اس کے لبوں سے اس طرح اس مقام پر اپنا نام سن کر خوشگوار حیرت بھی ہوئی۔۔
اور دنیا کی سب سے بڑی خوشی بھی ملی۔۔۔
وہ تیزی سے اندر آیا،،، ثوبی،،، وہ جو حواس باختہ سی بیٹھی پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی
اسے وہاں دیکھ جان میں جان آئی،، اور تیزی سے بیڈ سے اتر کر اس کی جانب لپکی۔۔
وہ بری طرح من سے لپٹ کر روئی تھی۔۔
من نے اس نازک سے وجود سے بری طرح نگاہیں چرائیں تھیں۔۔
وہ تو کسی حق کے بغیر اسے خود میں سمیٹ کر تسلی بھی نہیں دے پایا تھا۔۔
تبھی بہت جلد اسے بازوؤں سے تھام کر خود سے الگ کیا تھا۔۔
ہیے ڈونٹ وری،، میں ہوں ناں۔۔رؤئیں مت،،،
وہ مم،،،، مجھے،،، کک،، کسی نے،،، کڈ،،،،، نیپ،،،،
فکر مت کریں جان،،، میرے ہوتے ہوئے،، تو آپ کو مخالف سمت کی ہوا بھی نہیں چھو سکتی،، وہ اس کا وائٹ سکارف درست کرتا اسے باہر لایا۔۔
ساتھ اس کے گارڈز تھے۔۔
ثوبی یہی سمجھی کے شاہِ من نے اسے کڈنیپرز سے بچایا ہے۔۔
وہ اسے لئے کالج آیا۔۔۔
وہ سارے رستے گود میں رکھے اپنے ہاتھوں کو گھورتی رہی۔۔اپنی بے اختیاری پر اب جی بھر کر شرم آ رہی تھی۔۔چہرے نے لہو چھلکایا تھا جیسے۔۔
جھٹکا سے گاڑی رکنے پر وہ ہوش میں آئی۔۔
تھ،،،،،، تھینکس،،، وہ بمشکل بول پائی۔۔
تھینکس نہیں چاہیے،،، آپ چاہیے ہو،،،میں آپ پر دسترس چاہتا ہوں،، بس کریں ثوایبہ،، میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا،،، چھلک گیا تو بڑی تباہی لائے گا،،، پھر آپ کو ہی شکوہ ہوگا،،،
ثوبی،،، آپ کی محبت ،،آپ کا وجود ،،،میرے لئے میری قیمتی متاع کی طرح ہے،، جیسے آکسیجن،،، یا جیسے میری لائف لائن ،،،اگر آپ کے وجود پر کانٹے بھی اگ آئیں تب بھی میں آپ کو اس نرمی سے چھؤؤں گا جیسا کہ آپ گلاب کی پنکھڑی ہوں،،، مجھ سے کبھی آپ کو تکلیف نہیں پہنچے گی۔۔ میں کبھی آپ کو ایک آنچ بھی نہیں آنے دوں گا۔۔ کبھی آپ کا مان،، غرور،،، نہیں توڑوں گا۔۔
وہ سامنے فرنٹ مرر کو گھورتا سنجیدگی سے بولا۔۔
ثوبی کی زبان تالو سے چپک گئی۔۔وہ خاموشی سے گاڑی سے اترتی اندر بھاگ گئی۔۔۔
شاہِ من نے بری طرح دانتوں تلے ہونٹ کچلے۔۔
اور گاڑی کا رخ جہانگیر کے آفس کی طرف کر کے زن سے گاڑی بھگائی۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
رانا جہانگیر اپنے آفس میں کسی ضروری فائل میں مصروف تھے جب پیون نے آ کر بتایا کہ کوئی شاہِ من ملنا چاہتے ہیں آپ سے۔۔
بھیج دو اندر،،، جہانگیر نے گہری سانس بھری۔۔
وہ اندر آیا،،، ہاتھ ملایا،، جہانگیر نے اس کا بکھرا حلیہ ملاحظه کیا
کیسے ہیں آپ سر،، ہونٹوں پر پھیکی مسکان تھی۔۔
میں ٹھیک ہوں آپ سنائیں بیٹا،،، کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے،، جہانگیر نے سادہ سے لہجے میں پوچھا تو وہ پھر زخمی سا مسکرا دیا
کاش بول سکتا آپ کی ویمپ پرنسز نے دل کا سارا لہو نچوڑ لیا ہے۔۔
سر آپ نے پوچھا نہیں انکار کی وجہ،،،،، کچھ تو،،، اینی ریزن،، شاہِ من بے قرار سا پوچھ بیٹھا۔۔
جہانگیر نے غور سے سامنے بیٹھے شخص کو دیکھا،، جو اب حسبِ عادت پیپر ویٹ گھما رہا تھا۔۔
اس نے کہا کہ تم اچھے نہیں ہو،،، اس کے ساتھ بدتمیزی کی،، رانا جہانگیر نے سکون سے کہا۔۔
شاہِ من زرا بھی نہیں چونکا الٹا پھیکی مسکراہٹ گہری مسکراہٹ میں بدلی۔۔جو رانا جہانگیر باریکی سے آبزرور کر رہے تھے۔۔
اور آپ کو کیا لگتا ہے سر،،، میں نے ایسا کیا ہوگا؟ وہ الٹا پوچھ بیٹھا۔۔
نہیں،، آئی نو کہ وہ اس رشتے سے دامن بچانے کے لئے جھوٹ بول رہی ہے،، میری پرنسز زندگی میں پہلی مرتبہ مجھ سے نظریں چرا کر بات کرے گی تو کیا مجھے پتہ نہیں چلے گا کہ وہ جھوٹ بول رہی ہے۔۔ لیکن اب آپ مجھے ضرور بتائیں گے کہ آخر وہ کونسی وجہ ہے جس سے وہ اتنی ضدی ہو گئی ہے اور مسلسل انکار کی وجہ بھی،،،،
رہنے دیں سر،،، یہ میرے اور اس کے بیچ کا راز ہے،، اگر وہ چھپانا چاہتی ہیں تو مطلب دنیا کی کوئی طاقت شاہِ من کے ہوتے ہوئے اسے ظاہر نہیں کر سکتی۔۔ اس کا راز میرا راز ہے،، اس کی عزتِ نفس اور خودداری مجھے بہت عزیز ہے۔۔
وہ کہتا اٹھا تھا
ان سے ہاتھ ملاتا باہر آیا۔۔
یہ سن کر تو رانا جہانگیر کو بھی پختہ یقین ہو چلا تھا کہ یہ شخص ہی ان کی بیٹی کے لئے بلکل پرفیکٹ ہے۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
رات کو وہ واش روم سے فریش ہو کر ٹاول سے بال رگڑتی نکلی۔۔
ڈھیلی سی فیروزی ٹی شرٹ اور وائٹ ٹراؤزر،،،
جب اپنے ہی روم میں کچھ غیر معمولی لگا اور ایک جانی پہچانی مردانہ کلون کی خوشبو سانسوں سے ٹکرائی تو اس کی سانس اٹکی۔۔
جھٹکے سے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ صوفے پر سن کے حلیے میں صوفے پر بڑی شان سے ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھا،، ایک ہاتھ صوفے کی پشت پر رکھے دوسرے کی مٹھی بنا کر ہونٹوں پر رکھے بڑی فرصت میں اسے دیکھنے میں مصروف تھا۔۔
ثوبی نے بوکھلا کر دوپٹہ اٹھا کر سر پر لیا۔۔۔کتنی غیر اخلاقی حرکت ہے شاہِ من کسی لڑکی کے بیڈ روم میں ایسے آنا،،، آپ کو،،،،،،،
آپ نے اپنے پاپا سے یہ کہا کہ میں نے آپ سے بدتمیزی کی،،،جانتی بھی ہیں بدتمیزی کہتے کسے ہیں،،،،؟ شاہ من کے سرسراتے لہجے نے اس کے رونگٹے کھڑے کیے تھے۔۔
آئم سوری،،، ممم،،،، میں،، پاپا،،،، کو سچ بتا دوں گی،،، وہ سچ مچ شرمندہ ہوئی۔۔
وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کی جانب بڑھا وہ بوکھلا کر پیچھے ہٹی۔۔ وہ قریب آیا تو ثوبی کے قدم رکے کیونکہ پیچھے اس کی کمر ڈریسنگ سے ٹکرائی تھی۔۔
وہ پھر بھی قریب آتا رہا تو ثوبی کا دل نے ایک سو بیس کی رفتار پکڑی۔۔
آ،،،،،، آپ،،،، اب،،،، سس،،، سچ،،، مچ،،، مجھے،،، ڈرا،، رہے،، ہیں،،وہ آنکھیں زور سے بند کر چکی تھی۔۔کیونکہ اب شاہِ من کی سانسوں کی تپش اسے اپنے ماتھے پر محسوس ہو رہی تھی۔۔
وہ غور سے اس ظالم کو دیکھے گیا،، بھیگا بھیگا نرم و نازک وجود،،
سنو،،،،!جاناں،،،،،،!
تمہارے لمبے بالوں,تمہاری گردن کے تل اور ہونٹوں کی
سرخی سے یہ انکشاف ہوا کہ تم واجب المحبت ہو،،،،،
شاہ من نے اس کے کان کے قریب جھک کر دھیمے لہجے میں شعر پڑھا تو اس نے پٹ سے حیرت سے پھیلی آنکھیں کھولیں۔۔
مگر سامنے والے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنا دنیا کا مشکل ترین کام تھا۔۔
کہ وہ تو اپنی نگاہوں کی حدت اور لپک سے ہی اسے پانی پانی کر دیا کرتا تھا۔۔
مرنے والی تو وہ تب ہوئی جب اس نے زرا سا جھک کر اس کے بالوں کی نرمیوں کو اپنے ہونٹوں کے زریعے خود میں اتارا اور روم سے نکلتا چلا گیا۔۔
بالوں پر محسوس ہوتے اس ان دیکھے لمس کی حدت سے وہ کافی دیر سلگی تھی۔۔
افففففففففففففففف یہ شخص،،،،، جھنجھلا کر کمفرٹر میں منہ دیا اور سونے کی کوشش کی۔۔
ابھی ایک ڈیڑھ گھنٹے ہوئے تھے اس کی آنکھ لگے جب مما نے اسے جھنجھوڑ کر اٹھایا تھا۔۔
ثوبی،،، اٹھیں،،،، شاہِ من کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے بہت برا،،، آئی سی یو میں ہے وہ،،، ہوسپیٹل چلیں،،،
وہ جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھی۔۔ مما یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ،، ثوبی کے سر پر چھت گری تھی۔۔
ابھی تو گیا تھا وہ یہاں سے کچھ دیر پہلے مگر جانتی تھی ماہی بےبآب کی طرح تڑپتا نکلا تھا۔۔
ثوبی میں اور پاپا جا رہے ہیں،،، نہیں آنا تو نا آئیں،،، ویسے بھی آپ تو چاہتی یہیں ہیں کہ بچا جان سے جائے اور آپ کی جان چھوٹ جائے۔۔
وہ اس کے شاکڈ سٹیٹ کو اس کا انکار سمجھ وہاں سے تن فن کرتی جا چکی تھیں۔۔
یہ سخت ناراضگی کا اظہار تھا۔۔جب وہ تم سے آپ پر آ جاتی تھیں۔۔۔
وہ نڈھال سی بیڈ پر گری کہ تبھی فون رنگ ہوا۔۔
رابی کا تھا۔۔
اس نے یس کر کے کان کو لگا کر منہ کھولا ہی تھا کہ رابی کی سسکتی دل چیرتی آواز سنائی دی۔۔
بہت مبارک ہو آپ کو ثوبی،،، اب جشن منائیں،،، کہ وہ مر رہے ہیں،، ویسے تو شاید آپ کی جان نہیں چھوڑتے،،، تو چلو ایسے چھوٹ جائے گی،،،، مبارک ہو اب کوئی آپ کو فورس نہیں کرے گا۔۔
فون کھٹ سے بند ہو چکا تھا۔۔۔اس کا چہرہ لال بھبوکا ہو گیا۔۔دونوں ہاتھ بالوں میں پھنسائے۔۔
تو اس کی اس حالت کی زمہ دار صرف رانا ثوایبہ جہانگیر ہے،، پلکیں بھیگ گئیں۔۔
رات بہت بوجھل تھی۔۔پل پل خوف کے سائے تلے گزری۔۔
ساری رات اس شخص کی زندگی کے لئے دعائیں مانگیں ،،تہجد بھی پڑھی۔۔
کچھ بھی تھا کم از کم وہ ایک زندگی کے ختم ہونے کا زمہ دار ٹھہرائی جاتی یہ بوجھ اپنے نازک کندھوں پر نہیں اٹھا سکتی تھی۔۔
قطرہ قطرہ رات کے ساتھ وہ موم بن کے پگھلتی آنسوؤں سے تر چہرے سے اس کی زندگی کی بھیک مانگی تھی۔۔
دن چڑھے آخر نئی زندگی کی نوید مل ہی گئی تو اس نے سکون کا سانس لیا مگر پھر اسے ایک ماں کا سامنا کرنا پڑا۔۔
جن کے کلیجے پر اس کا پاؤں آیا تھا۔۔۔
کان سائیں سائیں کرنے لگے تھے۔۔جب سننے کو ملا کہ
وہ ایک بہت ظالم ،،بے حس،، اور پتھر دل لڑکی ہے،، اور جانے کیا کیا،، شازیہ بیگم نے پورے تین ماہ کی بیٹے کی تڑپ اور بےقراریوں کا حساب لیا تھا اس سے،، جانے کیا کیا سنا کر۔۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
تین دن گزر گئے تھے۔۔وہ اب ٹھیک تھا۔۔
محوِ انتظار تھا کہ ہوسپیٹل کے اس سرد سے روم میں کہیں سے تو زندگی کی رمق ملے۔۔
مگر جسے زندگی سمجھتا تھا اس نے نہیں آنا تھا نا آئی۔۔
آخر دانیال کو دماغ گھوما۔۔
اور زبردستی لے آیا اسے اس گھر سے ہوسپیٹل۔۔۔ دانیال کے اس قدر جارحانہ تیور دیکھ وہ بری طرح سہم گئی تھی۔۔
ہوسپیٹل کے سرد سے کوریڈور میں چلتی وہ نازک دل لڑکی جس کے دل کے زخم بار بار ادھیڑ دئیے جاتے تھے،،، بھسم کرنے والے انداز میں ہوسپیٹل کے اس پرائیویٹ روم میں داخل ہوئی تھی۔۔
سامنے جو وجود پٹیوں میں جکڑے زخموں سے چور تھا آنے والی کو دیکھ کر آنکھوں میں ایسی چمک آئی تھی جس نے ثوایبہ کے قدم وہیں ڈور پر جیسے منجمد کر دئیے تھے۔۔
من زخموں سے چور تھا،، بڑی مشکل سے جان بچی تھی،، مگر پھر بھی اپنی تمام تر ہمتیں مجتمع کر کے اس دشمنِ جاں کے آنے کے اعزاز میں تکیہ پر زرا سا اٹھ کر نیم دراز ہوا تھا۔۔
درد کی شدت سے چہرہ سرخ ہوا تھا مگر وہ ڈھیٹ ابنِ ڈھیٹ بنا مسکرا دیا۔۔
ثوایبہ نے اس کی یہ خود کے لئے شدت پسندی دیکھ ایک مرتبہ پھر اذیت سے اپنے نازک لب کچلے۔۔
من نے اسے پھر سر تا پا حسرت بھری نگاہوں سے دیکھا۔۔
وہ بیڈ کے قریب آ کر پاس پڑی کرسی پہ بیٹھی۔۔
کئی لمحے خاموشی کی نظر ہوئے تھے۔۔من یونہی اپنی دید کی پیاس بجھاتا رہا۔۔
آخر آپ چاہتے کیا ہیں،،؟ کیوں کیا یہ ایکسڈینٹ،،،؟ وہ دانت پیس کر بولی۔۔
میری زندگی کی تو بس ایک ہی چاہت ہے اب ،،ثوابیہ آپ،،، اور یہ ایکسڈینٹ آئی سوئیر جان کر نہیں کیا،،، ہو گیا،، وہ اطمینان سے اس کے چہرے پر نگاہیں جمائے بولا۔۔
کیا،،، ،،،،،تماشہ ہے کیا ،،،،،،،،،،ایکسچینج آفر چل رہی ہے کہ آپ کے دوست نے مجھے ریجیکٹ کر کے ایکسچینج آفر میں آپ کو میرے آگے پیش کیا ہے۔۔وہ اذیت کی انتہا سے بولی آخر آج پھٹ پڑی۔۔
نہیں میرے عشق نے مجھے آپ کے آگے پیش کیا ہے،، وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا۔۔
آپ پاگل ہو گئے ہیں من،،،، آپ کی نگاہ میں اس لڑکی کا کردار ہمیشہ مشکوک رہے گا جو ایک کیفے میں آپ کے دوست سے ملنے آئی،،، انھیں میری دوست پسند آ گئی اور آپ کو میں ،،،ربش،،، مضحکہ خیز،،، کیا حثییت ہوگی آپ کی نظر میں میری اور میرے کردار کی،،،؟
بہت بلند،، اس کے لہجے میں اب بھی سکون تھا،،،،،بہت بلند کردار ہے ثوایبہ آپ کا میری نگاہ میں،،،،،،،اور رہی اس دن کی بات جو ڈیٹ پر جانے کی عادی ہوتی ہیں ان کی ٹانگیں اور ہاتھ پیر نہیں کپکپاتے،، انھیں ان کی فرینڈ تقریباً گھسیٹ کر کیفے نہیں لا رہی ہوتیں۔۔اس دن آپ وہاں آئیں نہیں تھیں آپ کو زبردستی لایا گیا تھا،،،
وہ جتنے سکون سے بولا تھا ثوایبہ نے اتنی حیرت اسے دیکھا تھا کہ اسے کیسے اس شخص نے اتنی باریکی سے آبزرور کیا تھا۔۔
وہ لمحہ بھر کو خاموش ہوئی تھی۔۔مگر پھر
میں آپ سے شادی نہیں کروں گی من،،، کبھی نہیں،، آپ کو اتنی سی بات سمجھ،،،،
نہیں آتی،، ثوابیہ ،،،،،یہی تو مسئلہ ہے کہ مجھے آپ کے بات کے علاوہ دنیا میں کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی۔۔ نا آپ کے علاوہ کچھ دکھائی دیتا ہے،،، نا آپ کے علاوہ کچھ سنائی دیتا ہے،،، میری رگوں میں خون بن کر دوڑ رہی ہیں آپ اور آپ کی محبت،،، اب میں عشق کی اس انتہا پہ ہوں جہاں سے میرا پلٹنا میری موت ہے،، اور ہوسپیٹل میں میری موجودگی اس بات کی گواہ ہے اور تیسری مرتبہ میرے گھر والوں کو آپ کے انکار کا نتیجہ،،،
اس کا لہجہ بھیگا تھا۔۔
مگر بے اختیار اس دیوانے نے اس ظالم بے حس لڑکی کا نرمی سے ہاتھ تھاما۔۔۔
وہ بوکھلائی تھی۔۔مگر وہ اسے کھینچ کر بیڈ پر اپنے پاس بٹھا چکا تھا۔۔
Please Rana saaaaab ,,,,Say yes to save a life,,,,
وہ پھر اسی اطمینان سے فرمائش کر بیٹھا جس اطمینان سے ثوبی کی جان جلتی تھی۔۔
وہ بے تحاشا رو دی۔۔
وہ کرب و اذیت سے اسے دیکھے گیا۔۔
کچھ زیادہ تو نہیں مانگا آپ سے،، بس میری زخمی زخمی محبت پر اپنے یقین اور اعتبار کا مرحم رکھتے ہوئے میرے پاس چلی آئیں۔۔۔جتنا وقت کہیں گی اتنا ہی دوں گا آپ کو اس رشتے کو سمجھنے کے لئے،،،
بس خود کو میری نگاہوں کے آس پاس رہنے دینا،،، مجھے اس ہوا میں سانس لینے دیں جس میں آپ سانس لیتی ہیں،،، مجھے اپنے آس پاس رہنے دیں پلیز،،،،، ثوبی،،، مان جائیں،،، بستر مرگ پر پڑے مریض کی آخری خواہش سمجھ کر ہاں کر دیں۔۔
آخر میں اس کا لہجہ شرارتی سا ہوا۔۔
مگر ثوبی ہتھے سے اکھڑ گئی،، کیا بکواس کر رہے ہیں آپ،، اگر منہ اچھا نا ہو تو بات اچھی کر لیتے ہیں۔۔وہ بگڑ کر بولی۔۔
وہ گہرا مسکرایا۔۔
ثوبی کو آگ لگی،،، اتنے زخمی ہیں،، پھر بھی چین نہیں آپ کو،، اور قینچی کی طرح چلتی زبان بند رکھیں،، نہیں تو سسٹر سے بول کر انجیکشن لگوا دینے میں نے،،،
وہ اتنے دنوں کا گرد و غبار نکالتی پھنکاری۔۔۔
تو کیا میں ہاں سمجھوں ثوبی،، وہ پھر مدعے پر آیا۔۔
نہیں میں آپ کو ریٹن میں لکھ کر دے دیتی ہوں،، یا کونٹریکٹ پیپر یا کوئی اسٹام،،، شاید آپ کو یقین آ جائے۔۔۔
وہ جل کر کہتی اسے دنیا کی سب سے بڑی خوشی دے گئی تو وہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔۔
مگر وہ چڑ کر اسی کے سینے پر سر ٹکا کر پھر رو دی۔۔ تو من نے اب حق سے اس کی کمر کے گرد بازو حمائل کیا۔۔
ہیے جان،،، کتنی مرتبہ کہوں،، میری چیزوں پر ظلم مت کیا کرو،،
اور کانٹریکٹ تو آپ کو سائن کرنا ہی ہے نکاح نامے والا،،،
اس نے سکون سے آنکھیں موندے گہری مسکراہٹ سے کہا۔۔۔
دانیال نے کھڑکی سے یہ خوش کن منظر دیکھا۔۔ اور سکون کی سانس خارج کی۔۔
