Shahe Mun By Wahiba Fatima Readelle50091 Episode 11
No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
Episode 11,,,,,
حال۔۔۔
شاہِ من ثوبی سے مل کر سیدھا فارم ہاؤس کی جانب آیا تھا۔۔
وہ اس سے ناراض ہو گئی تھی۔۔
بہت بری طرح ہرٹ ہوئی تھی،، رانا جہانگیر نے بھی جن نگاہوں سے اسے دیکھا تھا اس کا دل کیا ڈوب مرے۔۔
غلطی اس کی بھی تھی،، جس نے پہلے قدم پر ہی اس کا اعتماد توڑ دیا تھا۔۔
اور نہیں بھی تھی کیونکہ یہ سب اس نے جان بوجھ کر تو ہر گز نہیں کیا تھا۔۔
وہ فارم ہاؤس پہنچا۔۔ گاڑی پورچ میں رکی۔۔وہ گاڑی سے باہر آیا تو لان کا منظر دیکھ کر ششدر رہ گیا۔۔
کیونکہ دانیال دو چھوٹے چھوٹے کیوٹ سے بچوں کے ساتھ بڑی فرصت سے کھیلنے میں منہمک تھا۔۔
وہ آگے بڑھا۔۔
دانیال بھی دیکھ چکا تھا۔۔
دونوں بھائی بغلگیر ہوئے،، دانیال نے غور سے اسے دیکھا۔۔مگر پہلے بچوں کی جانب متوجہ ہوا،،
اذان،، فجر انکل کو ہائے بولو،،، دانیال نے انھیں گود میں اٹھا کر پیار کیا اور شاہِ من کی طرف متوجہ کیا۔۔
ہائے انکل،،، دونوں نے یک زبان ہو کر کہا۔۔تو اس قدر بے سکونی میں بھی من مسکرا دیا۔۔
جاؤ بیٹا،،،اپنی ممی کے پاس جاؤ۔۔دانیال نے انھیں نیچے اتر کر اندر بھیجا تو وہ دونوں اندر بھاگ گئے۔۔
شاہِ من دانیال کی جانب دیکھے گیا۔۔
کیا،،، سینگ نہیں نکل آئیں ہیں میرے. دانیال نے اس کی نظروں کے زاویے سے خائف ہو کر جھنجھلا کر کہا۔۔
شاہِ من نے بھنوئیں اچکائیں تو دانیال نے سرد سی آہ بھری۔۔
اور پھر شروع سے لے کر آج تک کی اسے ہر بات بتا دی ثمن اور بچوں کے حوالے سے،،،
من سنتا گیا اور افسوس سے سر ہلاتا گیا۔۔
دانیال خاموش ہو گیا،، دونوں ہی جیسے اداس ہوئے تھے۔۔
تم سناؤ نہیں مانی ثوبی،،، منانے گئے تھے ناں اسے اور تم ڈرنک ہوئے کیسے،،، ؟
شاہِ من نے کوئی بات نہیں چھپائی اور ساری بات دانیال کو بتا دی۔۔مجھے نہیں پتا بھائی کہ اب نشوان کس حد تک گرے گا اور کیا چاہتا ہے مگر یہ ضرور جانتا ہوں کہ اس کے ارادے ٹھیک نہیں
شاہ من کی رگیں تن گئیں۔۔
مرے گا میرے ہاتھوں الو کا پٹھا،،، دانیال نے دانت پیسے اسے بھی سن کر شدید طیش آیا تھا۔۔
اگنور کریں بھائی،،، میں ہینڈل کر لوں گا،، آج پھر اس کے ایک ایک انگ سے بے سکونی اور بے چینی چھلک رہی تھی۔۔
شاہِ من لے آتے اسے فورس کر کے،، دانیال نے اس کی بے قراری نوٹ کرتے کہا۔۔
میں کوئی زور زبردستی نہیں کرنا چاہتا بھائی کہ وہ اور بھی بدظن ہو جائیں مجھ سے،،
وہ نگاہیں پھیرتے دوسری جانب دیکھتے بولا۔۔ دانیال خاموش ہو گیا۔۔
اندر بچوں نے ادھم مچایا تھا۔۔ثمن نے کھڑکی سے دیکھا اور بوا بیگم بھی بتایا کہ صاحب کے بھائی آئیں تو کچن میں چائے وغیرہ بنانے چلی آئی۔۔
وہ بڑی دلجمعی سے چائے بنانے کے ساتھ دیگر لوازمات ٹرالی میں رکھ رہی تھی۔۔چونکہ کچن لان کے قریب تھا باہر سے آتی آوازوں میں اپنا نام سن کر وہ چونکی تھی۔۔
نکاح کر لیں بھائی ثمن جی سے،،،،اگر انھیں اور بچوں کو ساری عمر کے لئے سہارا دے کر سکون حاصل کرنا چاہتے ہیں،، اگر بچوں سے الگ ہونا نہیں چاہتے تو انھیں اپنا نام دے دیں،،نہیں تو بغیر کسی رشتے کے نہیں رکھ پائیں گے انھیں زیادہ دیر یہاں،،،،
شاہِ من نے اطمینان سے کہا تو دانیال نے بری طرح پہلو بدلا۔۔
دماغ خراب ہو گیا ہے تمھارا من،،، چھتیس سال کا ہو گیا ہوں۔۔اللہ اللہ کرنے کی عمر ہے میری،،، دانیال نے بے پر کی اڑائی۔۔
کم آن بھائی،، چھتیس کے بھی چھبیس کے ہینڈسم مین لگتے ہیں یہ جواز رد کیا جاتا ہے آپ کا،،
وہ چھبیس کی ہے ابھی،،، بہت ایج ڈفرینس ہے یار کیا بکواس لے کر بیٹھ گئے ہو،، دانیال جھنجھلایا۔۔
ویسے آپ کو کیسے پتا بھائی،، من نے شرارت سے کہا۔۔تو دانیال بری طرح گڑبڑا گیا۔۔
میں ان جلاد ساس سسر سے مل کر آیا تھا جیل میں،،، خاطر داری کرنے گیا تھا ان کی تو وہاں سے پتہ چلا،، دانیال نے لاپروائی سے کہا۔۔
ایج ڈفرنس سے کوئی فرق نہیں پڑتا بھائی،،، رشتہ بس احساس کا ہونا چاہئے،،،
میں کبھی بھی اس کے سامنے اپنا مدعا بیان نہیں کر پاؤں گا شاہِ من وہ یہ نا سمجھے کہ میں خدانخواستہ اپنے کسی احسان کا بدلہ کے طور پر اس پر دباؤ ڈال رہا ہوں،، یا وہ صرف بدلہ چکانے کے چکر میں ناچاہتے ہوئے بھی میرا پروپوزل ایکسیپٹ کرے۔۔
میں تو اسے بن دیکھے ہی اس کے کردار خوبصورتی اور عظمت و پاکیزگی کی وجہ سے اسے اپنانا چاہتا ہوں۔۔
دانیال نے آخر تھک کر اقرار جرم کیا اور اپنے دل میں چھپے خوف کو کھل کر بیان کیا۔۔
ویری گڈ یعنی آپ چاہتے ہیں کہ یہ رشتہ جڑے،، اب نیت کر ہی لی ہے تو انشاءاللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔
انشاءاللہ،،،،
تبھی بوا بیگم چائے کی ٹرالی گھسیٹتی وہاں آئیں تھیں تو وہ دوسری طرف متوجہ ہو گئے۔۔
کچن میں کھڑی ثمن نے غور سے اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو دیکھا۔۔ کیا واقعی آزمائش زندگی بھر کے لئے ختم ہونے والی ہے۔۔خود پر رشک آیا۔۔کہ ایک شخص بنا اس کی شکل و صورت دیکھے صرف اس کے کردار کی وجہ سے اس سے شادی کا خواہش مند ہے۔۔
مجھے انتظار رہے گا اس دن کا جب آپ مجھ سے شادی کے لئے پوچھیں گے اور میں دلی رضامندی سے آپ کو ہاں بولوں گی۔۔
اس نے دل میں اینجل کو مخاطب کیا۔۔
پندرہ بیس دن ہو چکے تھے اسے یہاں آئے۔۔بوا بیگم اس کے ساتھ رہتیں تھیں۔۔
اس دوران کوئی ایک بھی ایسی بات نہیں ہوئی جس سے اسے کوئی تکلیف ہوتی۔۔
زندگی بہت اچانک بہت خوبصورت ہو گئی تھی۔۔
وہ دن میں آتا اور بس لان میں ہی بچوں سے مل کر ان کے ساتھ کھیل کر چلا جاتا تھا۔۔
دن بدن اس شخص سے عقیدت و احترام میں اضافہ ہی ہوا تھا۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
دس دن ہو چکے تھے،، وہ بے حد اداس تھی۔۔وہ لاشعور میں انتظار کرتی رہی کہ وہ آئے اسے منائے اور ساتھ لے جائے۔۔
مگر وہ تو شاید پتھر کا ہو چکا تھا کہ ماہی بے آب کی طرح تڑپنے کے باوجود بس آتا۔اس کے پاس بیٹھتا چند باتیں کرتا۔۔اس کی خیر خیریت دریافت کرتا اور چلا جاتا۔۔
وہ سخت جھنجھلائی ہوئی تھی۔۔
ان دنوں جو بات عجیب ہوئی تھی وہ یہ کہ نایاب مسلسل اسے ملنے آتی رہی۔۔
اس کے منہ پر نو لفٹ کا بورڈ دیکھ کر بھی ڈھیٹ بنی ٹپک پڑتی۔۔
عجیب عجیب باتیں کرتی جیسے من کے خلاف یا کسی کے حق میں اس کی برین واشنگ کرنا چاہتی ہو۔۔
آج بھی وہ رات کے حلیے میں کسلمندی سے بستر میں ہی لیٹی تھی کہ نایاب چلی آئی۔۔ ثوبی کا منہ کڑوا ہوا۔۔
ہائے کیا کر رہی ہو ثوایبہ ،،وہ بے تکلفی سے روم میں گھستی چلی آئی۔۔
کچھ خاص نہیں،، وہ لاپروائی سے بولی۔۔
کب تک سوگ مناتی رہو گی ثوبی اس درندے کا،، جسے رتی بھر تمھاری پرواہ نہیں،،، ہوتی تو لے جاتا،،طلاق لے لو اس سے ،،ایک نمبر کا لوز کریکٹر،،،،،،،
نایاب،،، ثوبی شیرنی بنی دھاڑی،، بکواس بند کرو اپنی اور اس سے پہلے ک میں بھول جاؤں کہ تم میرے سسرالی رشتے داروں میں سے ہو،، شکل گم کرو اپنی،، اور کریکٹر کی بات تم تو نا ہی کرو تو اچھا ہے سوٹ نہیں کرتا اور رہی بات ان کی تو تم دونوں ہزبینڈ وائف کی اوقت نہیں کہ ان کے بارے میں بات بھی کر سکو،،،،
نایاب کا چہرہ اس کے ہر دل کے ساتھ سفید سا پڑا تھا،، وہ اسے پہلے والی دبو اور باتوں میں لگنے والی ثوبی سمجھ رہی تھی مگر نہیں جانتی تھی کہ ایک شخص کی محبت کے دئے اعتماد نے اسے کیا سے کیا بنا ڈالا تھا۔۔
میں تمھاری کیفے والی بات تمھارے پیرنٹس اور پورے خاندان والوں کو بتا دوں گی نہیں تو مان لو طلاق والی بات،،،
اب وہ اپنی اوقات پر آئی۔۔
جاؤ جسے بتانا ہے بتاؤ،،، پر اس سے پہلے ہی وہ تمھاری گدی سے زبان کھینچ کر تمھاری گردن سے لپیٹ دیں گے،،،جانتی نہیں ہو انھیں تم،،،اب دفع ہو جاو نایاب ،،،،
وہ دھاڑی تو نایاب کو جھرجھری آئی۔۔اور وہاں سے نکلتی چلی گئی۔۔
وہ دوبارہ تکیے پر ڈھے سی گئی۔۔
شاہِ من بہت برے اور ظالم ہیں آپ،،منانا بھی نہیں آتا،،الو کے پٹھے کہیں کے،،، وہ برا سا منہ بناتی بولی مگر پھر کانوں تک سرخ ہوتی دانت تلے زبان دبا کر تکیے میں منہ دے لیا۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
رات کے نو بجے کا وقت تھا ثمن عشاء کی نماز ادا کر رہی تھی۔
بولا بیگم سو چکیں تھیں۔
جب نماز کے دوران ہی ازان کے بے تحاشا چیخوں کی آواز سنائی دی اور فجر کے رونے کی۔۔
اس کے دل کی دھڑکن تیز ترین ہوئی،، مگر نماز مکمل کی۔۔نماز مکمل کر کے جوں ہی باہر بھاگی تو نظارا دل دہلا دینے والا تھا باہر لاؤنج میں وہ کھیلتے ہوئے شاید گرا تھا،، اور ٹیبل کا کونا لگا تھا سر میں،، ازان خون میں نہا چکا تھا،، ماتھے سے اوپری حصے سے خون تیزی سے بہہ رہا تھا۔۔
وہ لرز کر رہ گئی۔۔
کیا کروں،، اس کے سر پر ہاتھ رکھے تیزی سے دماغ چلایا،،
دانیال جی،،،،
لاؤنج کے پی ٹی سی ایل فون کی جانب دیکھا۔۔
پر نمبر،،، ؟
مگر وہ شخص بھی کمال کا تھا سامنے ہی چھوٹے سے بنے کلینڈر پر دانیال لکھ کر نمبر لکھا ہوا تھا۔۔
فجر بیٹا ہاتھ رکھو،، میں اینجل کو فون کرتی ہوں،، فجر نے چھوٹا سا ہاتھ رکھا وہ فون کی جانب لپکی۔۔
جلدی سے کانپتے ہاتھوں سے نمبر ملایا۔۔
وہ جو اب افس جانے لگا تھا۔۔دلاور اعظم بے تحاشا خوش تھے۔۔الیکشن قریب تھے سو آفس سے لیٹ ہی فلیٹ میں آیا تھا۔۔
فون رنگ ہوا تو اٹھا کر چیک کیا۔۔
نمبر جہاں کا تھا دھڑکتے دل سے فون دوسری بیل پر یس کر کے کان کو لگایا۔۔
مگر دوسری طرف سے جو سسکی سنائی دی وہ انھیں پیروں گاڑی کی چابیاں اٹھاتا باہر لپکا۔۔
کیا ہوا ثمن آپ رو کیوں رہیں ہیں،،،
دانیال جی وہ ازان،،،،،،،،،،، اس کی آواز رندھ گئی تھی۔۔
کیا ہوا ازان کو بتائیں مجھے،،، وہ تب تک لفٹ سے نیچے آتا گاڑی میں بیٹھ چکا تھا۔۔
ازان کو چوٹ لگی ہے،، بہت خون بہہ رہا ہے،، آپ جلدی سے آ جائیں،، وہ گھبراتی بول گئی۔۔
ابھی آیا،،،
وہ ہوا سے باتیں کرتا دس منٹ میں فارم ہاؤس پینچ چکا تھا۔۔لاؤنج کا دروازہ ناک کر کے بلا جھجھک اندر داخل ہوا۔۔
وہ چادر میں چہرہ چھپا چکی ازان کو گود میں لئے بیٹھی تھی۔۔ ہاتھ ازان سر پر رکھا تھا۔۔
تینوں ماں بیٹا ،بیٹی زارو زار رونے میں مصروف تھے۔۔
دانیال نے آگے بڑھ کر اسے ثمن کی گود سے لیا۔۔ اور باہر کی جانب بڑھا۔۔
وہ بھی فجر کا ہاتھ تھامے اس کے پیچھے لپکی۔۔
گاڑی تک پہنچی تھی جب وہ ازان کو فرنٹ سیٹ پر بٹھا رہا تھا۔۔
مم میں بھی ساتھ،،،،،
بیٹھیں،،، اس نے خاموشی سے بغیر اس کی جانب دیکھے بیک ڈور کھولا تو وہ اندر بیٹھ گئی۔۔
دانیال نے جلدی سے گاڑی نکالی اور قریبی ہوسپیٹل لے کر پہنچا تھا۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
وہ ازان جس کے سر پر اب ڈریسنگ ہو چکی تھی اور دو سٹچ آئے تھے،،، دانیال اسے گود میں لئے لاؤنج میں بیٹھا تھا۔۔
وہ فجر اور ازان کو کہانی سنا رہا تھا۔۔
ثمن کچن میں تھی اور چائے بنا رہی تھی۔۔
ڈاکٹر کے الفاظ کانوں میں گونج رہے تھے جب ڈاکٹر دانیال سے بات کر رہا تھا۔۔
آپ کا بیٹا بلکل ٹھیک ہے اب دانیال دلاور اعظم،، بس زرا سی چوٹ ہے بہت جلد آرام آ جائے گا۔۔
اور دانیال نے زرا بھی ان کی غلط فہمی دور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔۔
ثمن نے کھڑکی کی اوٹ سے لاؤنج میں جھانکا کیونکہ کافی خاموشی چھا چکی تھی۔۔
ازان اور فجر سو چکے تھے۔۔
پتا نہیں دانیال جی نے کھانا بھی کھایا کہ نہیں،، اس نے چائے کی بجائے پہلے دن میں بچوں کی فرمائش پر اپنے ہاتھ کی بنائی گئی بریانی گرم کر کے پلیٹ میں نکالی،، ساتھ رائتہ اور سلاد رکھا اور ٹرے لئے باہر آئی۔۔
ٹرے ٹیبل پر رکھی۔۔تو دانیال بے تحاشا چونکا کیونکہ اس وقت اسے سخت قسم کی بھوک محسوس ہو رہی تھی اور سامنے والی جیسے بنا کہے ہی اس کا دل کا حال جانتی تھی۔۔
اور اگر وہی محرمِ دل بن جاتی۔۔
دل نے ہمک کر انوکھی فرمائش کی۔۔ نگاہ کالی چپل میں مقید نرم و نازک چھوٹے چھوٹے پیروں پر پڑی تو اس نے اسے بھی گستاخی سمجھ نگاہ پھیر لی۔۔
وہ اٹھا،، اور ازان کو اندر لٹا آیا۔۔تب تک وہ فجر کو بھی اٹھا چکی تھی۔۔اور اندر لٹا آئی۔۔
آپ کو بچوں کا خیال رکھنا چاہئے تھا۔۔دانیال کے لہجے میں سنجیدگی تھی۔۔
وہ روم میں تھے،، میں نماز پڑھنے لگی تو باہر نکل گئے،، مجھے پتہ نہیں چلا۔۔وہ کہتی کچن میں گم ہوئی تھی۔۔
اب وہ بڑی رغبت سے کھانا کھانے میں مصروف تھا۔۔ ایک عرصے بعد کچھ ذائقے دار کھانے کو ملا تھا۔۔
وہ کچن میں کھڑکی کی اوٹ سے وقتا فوقتا اسے دیکھتی رہی۔۔کہ اسے اور نا چاہئے ہو۔۔
کھانا کھا کر وہ ٹرے دینے کچن تک آیا تھا۔۔۔دروازے سے باہر کھڑے ہو کر ہی اس نے ٹرے آگے بڑھائی جو کہ اس نے تھام لی۔۔
بہت شکریہ،، مجھے اس وقت سچ میں بہت بھوک لگی تھی۔۔
اور چاہیے آپ کو،،، نرم سی آواز دانیال کے کانوں میں پڑی۔۔
نہیں،،، میں جا رہا ہوں،، کسی چیز کی ضرورت تو نہیں،،
جی نہیں،،،،،،، وہ جانے لگا۔۔۔
دانیال جی،،،، میں نے چائے بنائی تھی آپ کے لئے،، ثمن نے پکارا
دانیال کے کانوں میں رس سا گھلا۔۔
Danial gggg ,,,,,,,,,,,,,sounds good,,,,,
دل میں سوچ کر مسکرایا۔۔
اس نے چائے دی،،، جو کہ دانیال نے پی کر کپ اسے تھمایا۔۔
وہ کچن کی کھڑکی کے پٹ کے پاس کھڑی تھی وہ جانے لگا تھا جب کسی خیال کے تحت قدم وہیں جم سے آیا۔۔
ثمن شادی کریں گی مجھ سے،،میں بچوں کو اپنا نام دینا چاہتا ہوں،،؟ وہ اخر کار پوچھ بیٹھا،، وہ شرم و حیا کی شدت سے کانوں تک سرخ پڑتی خاموش ہو گئی۔۔
اور سامنے والے کا دل اس کی خاموشی کو انکار سمجھ کر جیسے پاتال کی اتھاہ گہرائیوں میں گرا تھا۔۔
اس نے جانے کے لئے ق بڑھانے جب ثمن گڑبڑائی تھی۔۔
صرف بچوں کو اپنا نام دینا ہے اور بچوں کی مما کو ،،،؟ وہ دھیمی آواز میں پوچھ بیٹھی۔۔
یہ سن کر دانیال کی روح تک میں سرشاری سی اتری تھی۔۔گہرا مسکرایا۔۔
وعدہ کرتا ہوں کہ کل اسی وقت بچوں کی مما کے روبرو آ کر ہی بتاؤن گا کہ بچوں کی مما کو اپنے نام کے ساتھ پوری زندگی دینی ہے۔۔
دانیال نے پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈال کر اطمینان سے کہا۔۔
وہ بھاگ کر روم میں بند ہو گئی تھی۔۔
دانیال گہری مسکان لیے وہاں سے چلا آیا۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
وہ فارم ہاؤس سے سیدھا رانا جہانگیر کے گھر آیا تھا۔۔
لاؤنج میں رانا جہانگیر سے ملاقات ہو گئی۔۔ان کی تیوری پر بل آئے۔۔ جبکہ صائمہ بیگم خوشدلی سے ملیں۔۔
دانیال کو شرمندگی ہوئی۔۔
پلیز انکل،، میں معزرت خواہ ہوں،،، کہا سنا معاف کردیں،، اس دن میں شاید غصے میں تھا اور،،،،
اٹس اوکے،،، کوئی بات نہیں،، وہ بھی جہاندیدہ تھے اس کی شرمنگی نوٹ کر چکے تھے۔۔
میں ثوبی کو لینے آیا ہوں،،اگر آپ لوگ اجازت دیں تو،، وہ اطمینان سے بولا،، دونوں نے چونک کر اس کی جانب دیکھا۔۔مگر جہانگیر گویا ہوئے۔۔
اگر وہ جانا چاہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں،،، جہانگیر کے کہنے پر وہ مسکرایا،،،
تھینک انکل اور ثوبی کے روم کی جانب گیا۔۔
روم کے باہر کھڑے ہو کر دروازے پر دستک دی۔۔
یس کم ان،،، سن کر اندر داخل ہو گیا۔۔
ثوبی جو بک لئے بیڈ پر بیٹھی تھی دانیال کو دیکھ کر حیران ہوئی،، اور سیدھی ہو گئی۔۔ سر پر سکارف درست کیا۔۔
دانیال نے قریب آ کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا،،، کیسی ہیں گڑیا،،،
مم،،، میں ٹھیک ہوں بھائی آپ کیسے ہیں بیٹھ جائیں،،، وہ گھبرائی تھی شاید دانیال سے ڈرتی بھی تھی۔۔
بیٹھنے نہیں لینے آیا ہوں تمھیں،،،، دانیال نے کہا تو ثوبی چونکی۔
دراصل کل میں سادگی سے نکاح کر رہا ہون اور اس میں میرے سب گھر والوں کا ہونا ضروری ہے،،، تم میرے بھائی کے وجود کا حصہ ہو،، میرے گھر کا ایک اہم ترین حصہ ہو،،، بیٹی ہو اعظم مینشن کی تو تمھارا اس چھوٹی سی تقریب میں ہونا بہت ضروری ہے۔۔
دانیال نے اسے حیران کیا۔۔ آج اس کے لیے میں بھی بڑے بھائیوں والی نرمی اور شفقت تھی۔۔
مری میں جو شاہِ من نے دانیال بھائی کے بارے میں اسے سب بتایا تھا اس کے حساب سے تو یہ بہت بڑی خوشخبری کی بات تھی۔۔
سچ بھائی ایسا ہے کیا۔۔میں بہت خوش ہوں آپ کے لئے،، وہ سچ مچ خوش ہوئی تو وہ مسکرایا۔۔
اور دیکھو یہ خبر میں نے سب سے پہلے اپنی گڑیا کو سنائی ہے اب تم نے ہی گھر جا کر ایک بہو ہونے کے ناتے مما بابا سے بات کرنی ہے اس لئے جلدی چلو۔۔
دانیال نے چھیڑا تو وہ جھینپ گئی۔۔
بھائی میں آپ کے ساتھ جا رہی ہوں،، مگر من سے ہر گز بات نہیں کرون گی،، اس نے منہ پھلایا۔۔
وہ ہنسا،،، نا کرنا،، بلکل مت کرنا،،، ہی ڈیزرو،،، اب چلو میں باہر ویٹ کر رہا ہوں،،
دانیال کہتا باہر نکل گیا۔۔
وہ جلدی جلدی تیار ہو کر باہر آئی تو جہانگیر اور صائمہ بیگم کو خوشگوار حیرت ہوئی۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
وہ شازیہ بیگم کی گود میں منہ دیے بکھرے سے حلیے میں لیٹا تھا۔۔
شازیہ بیگم اس کے گھنے بالوں میں ہاتھ پھیر رہیں تھیں۔۔ اس کی آنکھوں سے نکلتی نمی شازیہ بیگم کو اپنے دامن میں جزب ہوتی محسوس ہو رہی تھی۔۔
مما نہیں جی سکتا میں اس کے بغیر ،،، من کا دل کرلایا،،، تو زبان سے بول دیا۔۔
تو اٹھا لاؤ اسے،،، شازیہ بیگم نے چھیڑا،،
مما وہ ناراض ہے مجھ سے حالانکہ میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا تھا،،، ایک اور دہائی دی۔۔
تو منا لو اسے من،،، کب تک تڑپو گے،،، شازیہ بیگم جھنجھلائیں،،
تمھاری عمر تک تو تمھارے ابا کے پاس دانیال،، تم اور سارا آ بھی چکے تھے۔۔۔
شازیہ بیگم نے شوشا چھوڑا تو وہ جھینپ گیا اور نم آنکھیں لیے ہی مسکرا دیا۔۔
اسی لئے کہہ رہی ہوں نالائق مناؤ اسے اور بس میں تو جلدی جلدی اپنے پوتے پوتی کا منہ دیکھ لوں تو سکون آئے،، سچ من اب تو بلکل انتظار نہیں ہوتا۔۔
شازیہ بیگم نے اپنی فرمائش جاری کی تو وہ اٹھتا بالوں میں ہاتھ پھیرتا اپنے روم میں بھاگ گیا۔۔۔
نالائق گدھا،،، ایک بیوی نہیں منا سکتا،، شازیہ بیگم جھنجھلائیں،، مگر اچانک سامنے کا منظر دیکھ دل بلیوں اچھل پڑا تھا۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
کاپی کرنے اور پی ڈی ایف بنانے کی اجازت نہیں ہے۔ اس ناول کے تمام جملہ حقوق واحبہ عشقم ناولز اور ناول بینک آفیشل ٹیم کے پاس محفوظ ہیں…
یہ پیج لائک شئر اور رکومینڈ کریں اور اپنے فرینڈز کو بھی انوائٹ کریں.
https://www.facebook.com/wahibaishqamnovels/
