53.8K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

وہ گرین ہاؤس میں مالی بابا کے ساتھ پودوں کی کانٹ چھانٹ میں بزی تھی جب فون رنگ ہوا۔۔

اس نے دیکھا ان ناؤن نمبر تھا۔۔ وہ ان ناؤن نمرز اٹھاتی نہیں تھی مگر مسلسل چنگھاڑتے فون نے اسے بیزار کیا تھا۔۔

تبھی یس کر کے کان کو لگایا۔۔
Hello,,, yes,,,, Mrs Shah-e-Mun Dilawar speaking,, who’s there,,,,,,, ?
ثوبی شائستہ سے لہجہ میں بولی۔۔

نو،،، سامنے دھاڑ سنائی دی،،، یو ناٹ،،، نہیں رہو گی مسز شاہِ من دلاور،،، میں رہنے نہیں دوں گا،،، تمھیں تو مسز نشوان احمد بننا پڑے گا،،، ثوبی بےبی ڈول،،،،،
نشوان چنگھاڑا۔۔۔

کیا بکواس کر رہے ہیں آپ،،، ہوش میں تو ہیں،، فوراً سے پہلے فون بند کریں نہیں تو اب مجھے آپ کی یہ ساری کاروائیاں پھپھو کو بتانے میں ایک سیکنڈ بھی نہیں لگے گا،،
وہ بھی بغیر خوفزدہ ہوئے پھنکاری تھی۔۔ فون رکھنے لگی جب وہ پھر دھمکی آمیز لہجے میں بولا۔۔

تم بتانا میں اسی وقت کھڑے پیر نایاب گل کو طلاق دوں گا جس کی زمہ دار تم ہو گی،،ویسے یوں بھی میں بہت جلد ہی اسے چھوڑنے والا ہوں،،،،،، تمھیں بھی شاہِ من کو چھوڑنا ہوگا،، ہر حال میں ،،،ہر قیمت پر،،، اور میرے پاس،،،،،،،،،،،،

ثوبی نے فوراَ فون بند کیا تھا۔۔لمبے لمبے سانس بھرتی اس کا دماغ چکرا چکا تھا۔۔ثوبی کے کانوں سے دھوئیں نکلے تھے۔۔

وہ اپنی سازش میں کامیاب ہوا تھا۔۔ خباثت سے مسکراتا اپنی چال پر خود کو ہی داد دے رہا تھا۔۔

یہ گہری سازش تھی ،،،،اس نے ثوبی کو صرف مینٹلی ڈسٹرب کیا تھا مگر پکس کا کوئی پیکٹ نہیں بھیجا تھا۔۔
جس سے اب شاہِ من کو یہی لگنے والا تھا کہ ثوبی پریشان ہے مگر اس سے شئیر نہیں کر رہی،،، اور وہ یقینا اپنے غصے میں کچھ غلط کر بیٹھتا۔۔

ثوبی اپنی کنپٹیاں سہلا رہی تھی۔۔اور بس اتنی برداشت تھی اس میں،،، وہ اٹھ کر اپنے روم میں گئی۔۔
اگر اس نے نایاب کو چھوڑ دیا تو،،، اسے شدید ٹینشن ہوئی۔۔

اونہہہہہہہ،،،،، مجھے کیا،،، بھاڑ میں جائیں دونوں،،، نشوان بھی اور نایاب گل بھی،،،،،،
وہ بے تحاشا جھنجھلائی۔۔

💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖

وہ شدید طیش و اشتعال میں آفس کی ہر چیز تہس نہس کر چکا تھا۔۔جب دانیال نے آ کر اس دبوچا۔۔

کیا کر رہے ہو من چھوڑو یہ سب،،،،، پاگل ہو گئے ہو،،، ریلیکس ہو جاؤ،،، وہ یہی چاہتا ہے کہ غصے میں پاگل ہو کر تم کوئی غلطی کرو،،، سمجھنے کی کوشش کرو یار،،،،
دانیال نے اسے جھنجھوڑتے صوفے پر بٹھایا،،

وہ دانیال کی بات سن کر ریلیکس تو ہوا تھا۔۔مگر رگیں ہنوز تنی ہوئیں تھیں۔۔
دانیال نے اسے پانی کا گلاس تھمایا۔۔
جو اس نے اندر بھڑکی اشتعال کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کو ایک ہی سانس میں ختم کیا تھا۔۔

میں اسے شوٹ کر دون گا بھائی۔۔وہ پھر غرایا۔۔

شٹ اپ من،،،، جوش کی بجائے ہوش سے کام لو،،، چلو گھر چلو،،،
دانیال اسے لئے گھر آیا تھا۔۔

اسے اعظم مینشن چھوڑ کر وہ فارم ہاؤس چلا گیا۔۔
وہ لاؤنج میں آیا۔۔۔
وہ اس وقت بلکل ریلکیس ہونا چاہتا تھا سو اپنے روم میں آیا ثوبی روم میں نہیں تھی۔۔
وہ اتنے طیش و اشتعال میں ہر گز اس کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔
سو پہلی بار اسے ملے دیکھے بغیر وہ بیڈ پر لیٹ گیا،،، بڑی دیر بے چینی سے کروٹیں بدلتے آخر نیند آ ہی گئی۔۔

💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖

ثوبی جسے معلوم نہیں تھا کہ من گھر پر ہے رابی کے ساتھ شاپنگ پر گئی تھی۔۔۔
شام کے سائے گہرے ہو چکے تھے۔۔

سب لان میں چائے پی رہے تھے۔۔وہ فون چارجنگ پہ لگانے روم میں آئی تھی۔۔

جب اسے بیڈ پر لیٹے اور گہری نیند سوتے دیکھ وہ حیران ہوئی تھی۔۔
اس نے چاہا وہ بھی سب کے ساتھ چائے پیے تو سوچا اسے اٹھا دے۔۔

وہ قریب آئی تھی۔۔
اس کے کندھے سے اسے ہلکے سے ہلایا۔۔ من اٹھیں،،،،
من،،،،، وہ ٹس سے مس نا ہوا،،،، افففففف اعظم صاااااااااااب اٹھیں ناں،،، بھنگ پی کر سو رہیں ہیں کیا،،،،؟
وہ جھنجھلائی۔۔

ایک گداز سے لمس سے اس کی آنکھ کھولی تھی۔۔سنجیدگی سے اسے دیکھا۔۔
ثوبی اس کی آنکھیں دیکھ کر چونکی تھی۔۔

لال انگارا آنکھیں،،،، سنجیدہ چہرہ،،، وہ نروس ہوئی آج سے پہلے کب وہ اس کے سامنے اتنا سنجیدہ ہوا
اس کے سامنے تو وہ موم کا بن جاتا تھا۔۔

وہ اٹھ بیٹھا۔۔۔اور بڑے غور سے اسے آبزرو کیا تھا جو سامنے فیروزی ڈریس میں گلابی سی گڑیا ہلکا سا جھکی اب سیدھی ہو چکی تھی۔۔

لان میں سب چائے پی رہیں ہیں تو میں نے آپ کو بھی جگا دیا۔۔وہ اس کی نگاہوں کی تپش سے سخت نروس ہوئی تھی۔۔

ادھر قریب آئیں ثوبی ،،،،،سنجیدگی سے ہاتھ آگے بڑھایا۔۔وہ اس کے بدلے انداز پر چونکی

من،،، کک،،، کیا ہوا آپ کو،،، آپ ٹھیک تو ہیں،،،
ابھی وہ جواب دیتا،، کہ رابی اسے بلانے کمرے میں آئی تھی۔۔

ثوبی کہاں رہ گئی۔،،، ارے بھائی آپ بھی ادھر ہی ہو۔چلیں مما بابا ویٹ کر رہے ہیں۔۔
وہ لب بھینچتا اٹھ بیٹھا۔۔

وہ لان میں آیا تھا۔۔۔سب کے بیچ چائے پیتے اس نے ثوبی کی خاموشی نوٹ کی تھی۔۔
دل و جان پر جیسے منوں بوجھ تلے دبے تھے۔۔اور یہ اس کے لئے برداشت سے باہر تھی بات۔۔ ثوبی اس کی
خود پر پڑتی عجیب سی نگاہوں سے گھبرا رہی تھی۔۔اور اس کی یہ گھبراہٹ شاہ من کی روح تک کو گھائل کر رہی تھی۔۔

تبھی آدھی چائے چھوڑ کر اٹھا کھڑا ہوا تھا۔۔اور کچھ بھی کہے سنے بغیر باہر نکل گیا۔۔

💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖

رات بہت بوجھل تھی۔۔
وہ بچوں کو کہانی سنا رہا تھا۔۔ جسے سوتے سوتے وہ نیند کی وادی میں اتر چکے تھے۔۔

دانیال نے پیچھے مڑ کر دیکھا وہ خشوع وخضوع سے نماز اد کر رہی تھی۔۔
وہ بھی اب اسے دیکھ نماز میں سکون ڈھونڈنے لگا تھا اور کامیاب ہوا تھا۔۔

وہ جائے نماز تہہ لگا کر الماری میں رکھتی مڑی تھی۔۔
دانیال کو اپنی جانب محویت سے تکتے پا کر نگاہیں جھکا گئی۔۔

وہ صحتیاب ہو رہی تھی اور دانیال کو یہ بات سکون پہنچاتی تھی۔۔اب تو کچھ پلوں کے لئے بھی وہ نگاہوں سے اوجھل ہوتی تو دانیال کی سانس اٹکنے لگتی تھی۔۔

دانیال نرمی سے اٹھ کر اپنے بیڈ پر آیا تھا۔۔
وہ حجاب سٹائل میں لی گئی چادر اتارتی اب دوپٹہ اٹھا کر اوڑھا تھا۔۔

ثمن یہاں آؤ،،،، ہاتھ اس کی جانب بڑھاتے اس نے بوجھل اور گھمبیر اواز میں پکارا تھا۔۔
وہ دھیمے قدموں سے چلتی اس کے قریب آئی تھی۔۔ٹانگوں میں واضح لرزش تھی۔۔
اس کے گرم پر حدت چوڑے آہنی ہاتھ میں اپنا سرد گداز ہاتھ تھمایا۔۔
نظریں جھکیں ہوئیں تھیں۔۔
دانیال اس کی اس ادا پر گہرا مسکرایا۔۔
خود نیم دراز ہوتے ہلکا سا کھینچ کر اسے اپنے سینے پر گرایا تھا۔۔۔
وہ اس کے سینے پر گری بوکھلائی۔۔

دانیال،،، مم،،،،، میں،،، آپ،،، کے ،،قابل،،، نن،، نہ،،،

اشششششششش، دانیال نے اس کے لبوں پر انگلی رکھی۔۔خبردار ثمن،،، ادھر میری نگاہوں میں دیکھو،،، جانِ دانیال کہ تم کس قابل ہو،،،اچھے سے نظر آ جائے گا تمھیں،،،،،، چن سے چہرہ اوپر اٹھا کر اسے اپنی جزبوں سے بھر پور نگاہوں میں دیکھنے پر مجبور کیا۔۔

وہ بس ایک پل ہی دیکھ پائی تھی۔۔ ان لپکتی نگاہوں میں ،،
دانیال اسے نرمی سے بیڈ پر لٹا کر اس پر حاوی ہوا تھا۔۔

جھک کر عقیدت سے ماتھے پر محبت کی مہر ثبت کی،،
پھر اس کے ایک ایک نقش کو نرمی سے اپنے ہونٹوں سے محسوس کیا،،
دوپٹہ اتار کر ایک طرف رکھا تھا۔۔گردن پر اس آئرن کے نشان نے آج اس کے دل میں سوئی چبھوئی تھی۔۔

پھر اسی نشان پر اپنے سلگتے لب رکھے تھے دانیال نے ،،،،جیسے وہ اس کے ہر زخم پر اپنی محبت کا مرحم رکھنا چاہتا ہو۔۔
ثمن نے اس کی شرٹ بری طرح مٹھیوں میں دبوچ رکھی تھی۔۔
اور آنکھیں بہت زور سے بند کر رکھی تھیں۔۔

اس نے ان لرزتی پلکوں پر باری باری پرحدت لمس چھوڑا تھا۔۔
کیا ہوا میری جان،،، وہ دلچسپی سے اسے دیکھتا پوچھ بیٹھا۔۔

کک،،، کچھ،،، نہیں دانیال،،، وہ الگ سے ہی بے حال ہوئی جا رہی تھی اس کی محبت بھری شدتوں سے،،،،
وہ جھکا تھا اور ان خوشبو بھری سانسوں کو اپنے سینے میں اتارا تھا۔۔

ثمن کا دل کی دھڑکنیں اس شدت سے بے ترتیب ہوئیں تھیں کے دانیال کو اس کا دل اسے اپنے سینے میں دھڑکتا محسوس ہوا تھا۔۔

بہت محبت و چاہت سے اس نے اس کے نازک زخم زخم وجود کو خود میں سمیٹتے ہوئے ہر زخم کی چارہقرارایاں۔۔
اسے اپنی چاہت کی بارش میں بھگویا تھا۔۔

💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖

وہ اپنے روم میں آیا تو ثوایبہ موبائل ہاتھوں میں تھامے کچھ پرسوچ سی کسی غیر مرئی نقطے کو گھور رہی تھی۔۔

شاہِ من نے بری طرح اپنے لب دانتوں تلے کاٹے تھے اسے اس سچوئشن میں بیٹھے دیکھ۔۔

کچھ وہ اس کی آہٹ پاتے ہی بری طرح چونکی تھی۔۔جو شاہِ من نے نوٹ کیا تھا۔۔

خدا کے لئے رانا صاااب مجھے اور میری محبت کو اعتبار بخش کر اسے معتبر کر دیں،، بتا دیں مجھے،،، پلیز شئر اٹ،،،جو بھی الجھن ہے جو بھی مسئلہ ہے،، کہ آپ کو پتا ہونا چاہئے کہ میں اعتبار کرنے کے معاملے میں اپنی ذات کو بھی آپ سے بعد میں رکھوں گا،، اس قدر بھروسہ ہے مجھے آپ اور آپ کے کردار پر،،،، پلیز،،،
وہ دل میں اس سے مخاطب ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہا تھا۔۔

وہ خاموش تھا اور یہی بات ثوبی کو کھل رہی تھی نہیں تو روز تو کانوں کو اس کے آتے ساتھ ہی سننے کو ملتا تھا۔۔

رانا صاااااااااااب کیسے مزاج ہیں،،،
جسے وہ دوپہر سے بری طرح مس کر رہی تھی۔۔
وہ ڈریسنگ تک گیا تھا،،، اور اب الماری کھول اس میں سے اپنا نائٹ ڈریس نکال رہا تھا۔۔
اکتا کر ثوبی نے ہی بات سٹارٹ کی۔۔

میں کھانے پر آپ کا ویٹ کر رہی تھی،،،،،آپ اتنی لیٹ ہو گئے ،،

فرینڈز کے ساتھ تھا تو انہوں نے باہر کھلا دیا،،، اس نے جھوٹ بولا۔۔

مگر،،،،،، میں ویٹ کرتی رہی آپ کو فون کر دینا چاہئے تھا،،، اس نے برا سا منہ بنایا،،،

شاہ من اپنا ڈریس لئے واش روم چلا گیا تھا۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ ییلو ٹی شرٹ اور بلیک ٹراؤزر میں گیلے بالوں میں ہاتھ پھیرتا باہر نکلا تھا۔۔

ثوبی کا اب دل کیا پھوٹ پھوٹ کر رو دے،،، آخر اسے ہو کیا گیا تھا۔۔جو آج یہ سب،،،، کچھ نشوان کی بکواس،، اس کا دماغ جھنجھنا اٹھا تھا۔۔

بیڈ سے اتر کر اس کے رو برو آئی۔۔۔شاہ من نے بغور اسے دیکھا۔۔
کیا ہوا آپ کو،، سب خیرت تو ہے ناں،،، دوپہر سے خاموش خاموش سے لگ رہے ہیں آپ اور،،،،،،،،

شاہ من نے اس کی بات پوری نہیں ہونے دی تھی جب بہت اچانک اس کی کمر کے گرد دونوں بازو حمائل کرتا اس کے چہرے پر جھکا تھا۔۔

آج سارے دن کی وہ اپنی وحشتیں بے قرارایاں شمار کرنے لگا تھا۔۔
اسے احساس دلانا چاہتا تھا اپنی محبت کا دیوانگی اور پاگل پن کا۔۔
اپنے بیچ اس نازک رشتے کا،،،
جو اعتبار اور بھروسے سے ہی مضبوط ہو سکتا تھا۔۔

ثوبی اس اچانک افتاد پر جی جان سے لرزی تھی،، سینے میں سانس الجھی،، لمس کی شدت سے وہ پگھل چلی تھی،،، کندھوں سے اس ظالم کی شرٹ مٹھیوں میں جکڑی جو شاید آج اگلا پچھلا تمام حساب بے باک کرنے پر تلا ہوا تھا۔۔

شرٹ پر جھٹکا سا لگنے سے اس نے ثوبی کو رہائی بخشی تھی،،وہ لمبے لمبے سانس بھرتی اپنا سانس ہموار کرنے کے چکروں میں تھی،،، مگر شاہِ من نے اسے چھوڑا ہر گز نہیں تھا،،، اب اس کے ہونٹوں نے اس کی بیوٹی بون کو چھوا تھا۔۔

ثوبی جی جان سے لرزتی مچلی تھی،، شاہِ من کی گرفت اس کی کمر پر سخت تھی۔۔

مم،،، من،،، یو،،،، ہرٹنگ،،،، مم،، می،،، وہ روہانسی ہوئی۔۔آپ کو ہو کک،،،، کیا گیا ،،ہے،، اس کا لہجہ بھیگا سا تھا۔۔

شاہِ من کی گرفت ڈھیلی پڑی تھی،،،آئم سوری ثوبی ،،،،، مگر اپنی بانہوں سے نکلنے کی اجازت من نے اسے اب بھی نہیں دی تھی۔۔۔۔

شاہ من نے جھک کر اسے بازوؤں میں بھرا اور لا کر بیڈ پر لٹایا تھا،،، وہ بری طرح بوکھلائی،،،،،،

مم،،، من،،، واٹ،،، از،،،،،،

اشششششششش،،،،،شاہِ من نے اس کے لبوں پر انگلی رکھی تھی،،،، اِکسیپٹ اٹ ناؤ،،،
یہ کہتے وہ اس کے قریب نیم دراز ہوا تھا۔۔ اور جھک کر اس کی گردن پر اپنے دہکتے لب رکھے۔۔

من،،، پپ،،، پلییییز،،،،، وہ پاگل ہو چکی تھی اس کی لمحہ بہ لمحہ بڑھتی گستاخیوں اور بے باکیوں سے۔۔
مگر شاہِ من آج اس کی شاید سننے کے موڈ میں نہیں تھا،، اور یہیں پر وہ غلط تھا۔۔

اس کی مزاحمت دم توڑ چکی تھی۔۔۔مگر
وہ جابجا اس پر اپنی محبت کا لمس چھوڑ ہا تھا۔۔جب اس کی آنکھوں سے تواتر سے بہتے آنسو محسوس ہوئے اور وہ تڑپ کر اس سے دور ہوا۔۔۔

اٹھ کر بیٹھا اور انگلیوں سےاپنی کنپٹیاں سہلائیں۔۔۔
وہ ہنوز پڑی رو رہی تھی۔۔۔
من نے رخ موڑ کر اسے دیکھا۔۔

اس کھینچ کر سینے سے لگایا تھا۔۔
آئم سوری رانا صااااب ائم ویری سوری،،،، وہ شرمندہ ہوا۔۔

آ،،،،، آپ کو ہوا کیا ہے،،، وہ سوں سوں کرتی پوچھ بیٹھی،،،

آج میں بہت ڈسٹرب ہوں میری جان،،،،،

کک کیوں،،،، آنسو بہاتی وہ ہر سوال کا جواب جاننا چاہتی تھی۔۔

کچھ نہیں ادھر آئیں ،،اور سکون سے سو جائیں میری جان ،،ساری پریشانیاں صرف مجھ تک رہنے دیں،،آخری جملہ دل میں بولا گیا تھا،،،،وہ اسے لئے مخصوص انداز میں نیم دراز ہوا تھا۔۔ اور اسی انداز میں اس کی پیٹھ سہلائی۔۔۔
کہ وہ جلد ہی پر سکون ہوتی نیند کی وادیوں میں گم ہوتی چلی گئی۔۔

مگر آج نیند من کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔۔جانے کیوں چھٹی حس کچھ برا ہونے کی پیشن گوئی کر رہی تھی۔۔
ایک دھڑکا،،،،
ایک خدشہ سا تھا دل کو
کہ کچھ انہونی ہونے والی ہے۔۔

💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖

وہ اپنے آفس میں کسی کام میں بزی تھا جب آنے والی فون کال نے اس کے ہر دھڑکے ہر خدشے کو سچ ثابت کر دیا تھا۔۔

رابی کا فون تھا،، متوحش سی اس نے جو خبر سنائی تھی اس نے شاہِ من کے وجود کو جیسے زرہ زرہ کر کے ہوا میں تحلیل کیا تھا۔۔

بھائی،،، بھابھی اپنے گھر کا کہہ کر گھر سے ڈرائیور کے ساتھ نکلی تھیں،، مگر مجھے پریشان لگیں تو فون کر کے پوچھنا چاہا کہ کیا بات ہے،،،، فون آف جانے لگا تو آنٹی صائمہ کو فون کیا،، مگر وہ تو وہاں پہنچی ہی نہیں،، بھائی بھابھی کا کچھ پتا نہیں وہ کدھر ہیں آپ فوراً آ جائیں گھر،،،

اس کے جسم و جاں نے لہو چھلکایا تھا،،، آخر بے اعتبار کر دیا آپ نے مجھے ثوبی،،،میری محبت کا مزاق بنا دیا،، میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گا،،

وہ اس ظالم لڑکی سے دل میں ہی مخاطب ہوا اپنا موبائل اور گاڑی کی چابیاں اٹھاتا بھسم کرنے والے انداز میں باہر نکلا،، اور دانیال کو کال ملائی تھی،،،

وہ گھر پہنچا۔۔۔۔
ہر جگہ چیک کی،، ہر کیمرا،،، اعظم مینشن سے لے کر رانا جہانگیر کے گھر تک ہر کونا ہر گلی کوچہ چھانا مگر ثوبی کا کچھ اتہ پتہ نہیں ملا۔۔۔۔۔
Continue,,,,,,,,,,
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖