53.8K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

Episode 10.…
زندگی یوں ہوئی بسر تنہا
قافلے ساتھ،،،اور سفر تنہا

رات کی گہری تنہائی میں دانیال اپنے اپارٹمنٹ کے ٹیرس پر بیٹھا سگریٹ کے گہرے کش لگا رہا تھا اور حسبِ معمول اور حسبِ عادت اس آواز کا انتظار کر رہا تھا جسے سنتے ہی اس کے بے چین رگ و پہ میں سکون اور سرور سا دوڑا کرتا تھا۔۔

وہ ایک نسوانی آواز تھی۔۔اس کے فلیٹ سے نیچے والے فلیٹ سے روز پہلے دلخراش چیخوں کی آوازیں آتیں تھیں۔۔۔جنھیں سن کر وہ سکون حاصل کرتا تھا۔۔
مگر پھر ایک دن اچانک سب بدل گیا۔۔جب نیچے والے ٹیرس سے رات کے سناٹوں میں ایک کمزور سی نسوانی آواز گونجی تھی۔۔

اب جب وہ چیخیں اسے پریشان اور بے چین کر دیتیں تھیں۔۔مگر پھر بعد میں ٹیرس سے آنے والی وہ آواز اسے سکون دے دیتی جو روز گئے رات تک،،، رات کی تنہائیوں میں بس ایک ہی گردان لگائے رکھتی۔۔

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
الَّذِيۡنَ صَبَرُوۡا وَعَلٰى رَبِّهِمۡ يَتَوَكَّلُوۡنَ‏ ﴿۴۲)
وہ لوگ جو صبر کرتے ہیں اور اپنے پروردگار پر بھروسا رکھتے ہیں ﴿۴۲﴾
Surah Nahl : 42-43

نیچے رہنے والے لوگوں کی نادانستہ طور پر ڈیٹیلز بھی نکلوائی تھی۔۔

دو ادھیڑ عمر ظالم و جابر میاں بیوی رہتے تھے۔۔ اور ان کی غریب بیوہ بہو،، اپنے بیٹے کے مرنے کو بہو کی نحوست قرار دے کر اس پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑ رکھے تھے،، مگر اصل چکر یہ تھا کہ اس غریب کو نا کوئی آگے پیچھے تھا نا جہیز کے نام پر پھوٹی کوڑی لائی۔۔بس بیٹے کی پسند تھی تو مجبوراً شادی کر نی پڑی۔۔ظلم کی انتہا تو یہ کہ وہ نیک سیرت بہو جو سات پردوں میں چھپتی پھرتی تھی،، اپنی تین سال کے جڑوان پوتے پوتی کو بھی ناجائز ہی بولتے تھے۔

دانیال آج بھی اس گردان کا انتظار کرتا رہا
مگر نیچے سے آنے والی ان چیخوں میں آج اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔۔
تو وہ بے چین ہو اٹھا آج وہ چیخیں برداشت سے باہر ہو رہی تھیں ۔۔
بھنا کر فون اٹھایا اور ایک نمبر ڈائل کیا۔۔
اور تیزی سے اپنے اپارٹمنٹ سے نکلا۔۔

نیچے پہنچ کر وہ انتظار کرنے لگا مگر اندر سے آتی آوازیں اس کا ضبط آزما رہی تھیں۔۔ کانوں سے جیسے لہو ٹپکا تھا۔۔گلے میں آنسوؤں کا پھندا سا لگ گیا۔۔

حرافہ،،، منحوس میرے بیٹے کو کھا گئی،، اب ہمیں کھا جا،، وہ عورت اسے کسی چیز سے مار رہی تھی اور مغلظات بک رہی تھی۔۔ناگن یہ سپولے کہاں سے اٹھا کر لائی ہو۔۔ ایک اور اپنے جیسی نحوست کہان سے لائی،، ہماری چھاتیوں پر مونگ دلنے کے لئے،، کہاں سے کھلائیں انھیں اور تجھے،، فلیٹ بھی کرائے کا نکلا،،،ہم تو جانے لگے ہیں یہاں سے مگر تجھے اور تیرے ان سپولوں کو ٹھکانے لگا کر جائیں گے، دفع نہیں ہوتی تو آج اگلے سرے لگ،، بدچلن،،

مان جی،،،،، ماں جی،،،،،،، کچھ بھی بول دیں مجھے بدچلن مت بولیں،، یہ آپ کہ بیٹے کی نشانیاں ہےہیں ماں جی،، مجھ پر اور ان پر رحم کریں،،،
وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی بول پڑی،
مگر اس کی یہ بدزبانی ان کو کچھ خاص پسند نہیں آئی تھی،، اب وہ ادھیڑ عمر آدمی بھی مارنے لگا تھا اس کو،،

ساتھ مار کھاتی جاتی ساتھ یہ آیت باآواز بلند پڑھے جاتی،،،

“ﻭَﺍﻟﻠَّﻪُ ﻳَﺨْﺘَﺺُّ ﺑِﺮَﺣْﻤَﺘِﻪِ ﻣَﻦ ﻳَﺸَﺎﺀُ”
ۚﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﺟﺴــے ﭼﺎہتا ﮨﮯ ﺍﭘﻨـی ﺭﺣﻤــت ﺳــے ﺧﺎصـــں ﮐﺮ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ،،

کبھی وہ کسی آیت میں اپنے لئے مزید صبر مانگ رہی تھی،، کبھی اس آزمائش میں سرخروئی کی دعا مانگ رہی تھی۔۔

کمینی جادو ٹونا کرتی ہے،،
وہ جاہل عورت چلائی۔۔۔ آج تو تو مرے گی،،، اجی لائیے ان ناگن سپولوں سے ہمیشہ کی نجات کا سامان،،،

وہ شاید ان پر پٹرول ڈال رہے تھے کیونکہ سمیل باہر تک آئی تھی۔۔

نہیں ماں جی میرے معصوم بچوں ہیں انھیں چھوڑ دیں ،،کسی یتیم خانے چھوڑ آنا،، مجھے مار دیں ،،مگر میرے بچوں کو چھوڑ دیں،،
وہ پھر بلکی۔۔

دانیال کے حسبِ منشا باہر پولیس آئی تھی۔۔اس نے اشارہ کیا تو انسپکٹر اندر گھستا چلا گیا۔۔

اندر وہ غریب کو زندہ جلانے ہی والے تھے کہ بروقت پولیس نے ان ظالموں کو گدی سے دبوچ لیا۔۔
دانیال نے اشتعال میں اس آدمی کو دھنک کر رکھ چھوڑا تھا۔۔

بزدل بے غیرت کمزور عورت پر ہاتھ اٹھاتے ہو ،،،اب مرد کے بچے بنو اور مجھ سے مقابلہ کرو،،، دانیال غصے کی شدت سے پاگل ہو چکا تھا۔۔اسے جان سے مار ہی ڈالتا کہ پولیس ان درندے نما عورت مرد کو گھسیٹتی وہاں سے لے جا چکی تھی۔۔

وہ جو ادھڑی حالت میں زخموں سے چور داغے گئے جسم کے ساتھ زمین پر پڑی تھی،،بمشکل گھسٹتے اٹھ کر چادر سے پردہ کیا اور اپنا وجود اور چہرہ کسی کے دیکھنے سے پہلے چھپا لیا۔۔ بچے سہمے ہوئے اس کے پہلو میں چھپے ہوئے تھے۔۔

پولیس جا چکی تھی وہ اس کی جانب متوجہ ہوا۔۔ جو بیٹی کے گلے لگ آزمائش ختم ہونے پر پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔۔دانیال وہیں خسته حال سے صوفے پر بیٹھ کر اپنی غصے سے پھٹتی کنپٹیاں سہلا رہا تھا۔۔

جو دانیال کے ساتھ ہوا وہ تو آج اسے کچھ بھی نہیں لگ رہا تھا جو سامنے بیٹھی اس گھٹڑی سے وجود پر ہوتا دیکھا تو سچ مچ اس کا کلیجہ منہ کو آیا تھا۔۔

مما،،، مما،،، وہ چلے گئے مما،،، بچی نے اتنی خاموشی پر ماں کے پہلو سے منہ نکال کر ادھر ادھر دیکھا،، اور بے تحاشا خوشی سے اپنی ماں کو کہا جیسے یہ خوشخبری اسی نے اپنی ماں کو سنائی ہو،،

مما اب ہمیں کوئی نہیں مارے گا،،، مما وہ چلے گئے،، مما آپ کہتی تھیں الله کی مدد آئے گی،، فرشتہ آئے گا،،، مما فرشتہ آ گیا۔۔
بیٹے نے ماں کو یاد کروایا۔۔

وہ مگر ہنوز رو رہی تھی ۔۔اب جب بچی خوف سے آزاد ہوئی تھی تو ایک اور خیال آیا تھا۔۔
ڈرت ڈرتے دانیال کے پاس آئی۔۔۔ آپ،،، آپ فرشتہ ہیں،،؟

اس نے معصومیت سے پوچھا،،اس قدر خوبصورت اور معصوم بچی دانیال حیران ہوا،،اس کو تو کوئی پھول سے نا مارے ،،،
کجا کے اتنا ظلم،،،
دانیال کو کوئی جواب نا سوجھا،،
نہیں بیٹا میں اینجل ہوں۔۔ آخر کچھ تو کہنا تھا۔۔

آپ نے ہماری ہیلپ کی ہے تو ہمیں کھانا بھی کھلا دیں اینجل،، آپ کو پتہ ہے دو دن سے مما دادو سے چھپ کر ہمارے لئے آدھی روٹی لاتی تھیں،،، انھوںنے بھی کچھ نہیں کھایا،، اپ دادو کے فریج کا لاک توڑ دو ناں،، ہمیں کھانا کھانا ہے،، وہ رازداری سے بولی تو دانیال خالی خالی نگاہوں سے اس ننھی جان کو دیکھے گیا۔۔

کاش وہ اس وقت انسانیت کی اتنے درجے نیچی گراوٹ پر دھاڑیں مار مار کر رو سکتا۔۔

اس کی ضرورت نہیں ہے پرنسز،،،، تم میرے ساتھ چلو گی اور یہ اینجل تم جتنا کھانا چاہو گی اتنا کھانا دے گا۔۔
اس نے ایک نگاہ اس کالی چادر پر ڈالی،، اور نظریں پھیر گیا۔۔

چلئے میرے ساتھ،،، اس نے سنجیدگی سے کہہ کر کھڑے ہوتے پرنسز کی انگلی تھامی۔۔

مم،،، مگر،،،، کک،،، کیسے،،،، ہہممم،،، آپ،،، کے ،،،ساتھ،،،کیسے،،،،
چادر کے پیچھے سے آواز آئی۔۔

میں اس وقت بحث نہیں چاہتا،،، یہاں رہیں گی آپ،،،،،،؟ ہر طرف پیٹرول کی سمیل پھیلی ہے،، اگر ان بچوں کا دم گھٹ گیا تو،، آپ صبح تک میرے اپارٹمنٹ میں رہنا،، صبح آپ کو کسی محفوظ مقام تک پہنچا دوں گا،، اگر آج تک یہ ایمان تھا کہ کوئی نجات دہندہ آئے گا،، تو اب یہ بھی یقینِ کامل رکھیں کہ الله تعالیٰ آگے بھی سب ٹھیک کردے گا،،،
وہ سکون سے بولا۔۔

مم،،، مگر،،،، مم،، میں،،، پردہ،،، کک،، کیسے،،،

محترمہ،،، نہیں ٹوٹے گا آپ کا پردہ،،،، میرے ہوتے ہوئے دنیا کی کوئی ایسی طاقت نہیں جو آپ کا پردہ توڑ سکے،،، اب اپنا ضروری سامان لے لیجئے ۔۔میں یہیں انتظار کر رہا ہوں،،،
وہ پیٹھ موڑ کر کھڑا ہو گیا۔۔

ہان ایمان تو تھا کہ اللہ تعالیٰ اسے کبھی اکیلا نہیں چھوڑے گا کسی نا کسی کو بھیجے گا اس کی نجات کا زریعہ بنا کر،،
اسی لئے جلدی سے اٹھی ،، اپنے اور بچوں کے کپڑے اور ضروری سامان لیا اور باہر آئی۔۔

بیٹے کا ہاتھ تھاما،، اور اس کے پیچھے ہو لی۔۔
اپارٹمنٹ میں آکر اسے گیسٹ روم کی جانب اشارہ کیا۔۔بڑی سی چادر سے اس نے اپنا چہرہ اور وجود ڈھانپ رکھا تھا۔۔
دانیال نے ایک نگاہ غلط تک دیکھنے کی جرأت نہیں کی تھی۔۔

آپ بچوں کے یہ سمیل والے کپڑے چینج کریں میں کھانا گرم کرتا ہوں ۔۔

او مما ،،،کھانا ملے گا،، اس چھوٹے سے بچے کی آنکھوں میں عجیب سی چمک آئی۔۔ ماں کا پلو جھنجھوڑتے پوچھنے لگا۔۔

ازان بیٹا خاموش ہو جائیں،، وہ شاید شرمندہ ہوئی تھی۔۔دانیال نے سرد سی آہ بھری۔۔ اور جلدی سے کچن کی جانب بڑھا۔۔

جتنا بھی کھانا پڑا تھا گرم کیا،،،، ٹرے میں فروٹس چاکلیٹس،،
جو بھی بن پڑی ہر چیز رکھ دی۔۔
بڑی ٹرے لے کر گیسٹ روم تک آیا،، اور دروازہ ناک کیا۔۔
کچھ ہی دیر بعد وہ دروازے میں نمودار ہوئی۔۔

دانیال نے ٹرے آگے بڑھائی۔۔تو اس نے نرمی سے تھام لی۔۔

جزک الله خیر،،، چادر میں سے آواز آئی۔۔

Sound nice,,,,,,,,
شکریہ ادا کرنے کا دنیا کا سب سے خوبصورت طریقہ ۔۔
وہ دل میں ہی سوچے گیا۔۔

کسی بھی چیز کی ضرورت ہوئی تو ہر چیز کچن میں موجود ہے،، میں اپنے روم میں جا رہا ہوں آپ بلا جھجھک کچن سے لے سکتی ہیں،،
وہ کہتا اپنے روم میں آگیا۔۔

ثمن نے روم میں آکر اپنا پردہ ہٹایا،،چہرے پر جابجا نیل پڑے تھے،، بچے ٹرے دیکھ کر مچل گئے۔۔

آذان،،،، فجر،،، آرام سے بیٹھو بیٹا،، وہ ٹوک گئی،، ٹرے ٹیبل پر رکھ کر چھوٹے چھوٹے نوالے بنا کر بچوں کو کھلائے۔۔
مگر بچوں نے بھی نوالے بنا کر ماں کو کھلانے شروع کر دئے۔۔

پیٹ بھر جانے پر وہ جلد ہی نیند میں جھولنے لگے تھے۔۔اس نے انھیں بیڈ پر لٹایا،،
ٹرے کچن میں رکھنے گئی۔۔
آج با آواز بلند اس نے پڑھا تھا۔۔

الحمدلله رب العالمین۔۔۔

💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖

صبح ثوایبہ کی آنکھ کھلی تو کانوں تک سرخ ہوئی،، کیونکہ وہ شاہِ من کے سینے سے لگی سو رہی تھی۔۔

آہستگی سے اس نے اس حصار سے نکلنا چاہا۔۔
او،،،، ہوں،،، کیوں پریشان ہو رہی ہیں رانا صااااب،،،، اپنے شوہر کے حصار میں ہیں ڈونٹ وری،،،

صبح صبح بھاری بوجھل گھبمیر آواز کانوں میں پڑی تو اس کی سٹی گم ہوئی۔۔
وہ شرارت پر آمادہ تھا۔۔ثوبی نے سینے پر ہاتھ رکھ کر سر ہٹایا تو وہ جاگ رہا تھا۔۔

یو نو وٹ ثوبی،،،، یہ میری زندگی کی سب سے خوبصورت ترین صبح ہے۔۔کہ آپ میری بانہوں میں ہیں۔۔
وہ اس کے ایک ایک نقش کو خمار آلود نظروں سے دیکھتا گویا ہوا تو ثوبی کا دل سینے میں دھڑک دھڑک کر پاگل ہو گیا۔۔

اٹھیں،،، پپ،،، پلیز،،، وہ اٹک کر کہتی اتنا ہی بول سکی۔۔شاہِ من نے نرمی سے حصار کھول دیا۔۔
جلدی سے فریش ہو کر وہ تیار ہوئے تھے۔۔
بریک فاسٹ آج روم میں ہی کیا تھا۔۔

مری کے سبزہ زاروں اور حسین نظاروں کو دیکھتے دوپہر کے تین بج گئے،، تب ایک پوائنٹ پر آ کر ان کی ٹکر ہو ہی گئی۔۔

ثوبی ایک نظارے میں گم ہوئی بینچ پر بیٹھی تھی۔۔ شاہ من کچھ کھانے کو لینے تھوڑی دور ایک فاسٹ فوڈ مارکیٹ تک گیا تھا۔۔
تبھی اسے اپنے پیچھے آہٹ سی محسوس ہوئی تھی اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو حیرت ہوئی۔۔
آپ،،،، سامنے نشوان تھا،،

جی میں،،، کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں،،،؟ وہ مسکراہٹ لیے پوچھ رہا تھا۔۔

شیور،،، وہ سکون سے بولی۔۔۔مگر اندر سے ہل چکی تھی۔۔۔وہ سامنے آ کر بینچ پر بیٹھ گیا۔۔
میں نایاب کے ساتھ آیا تھا یہاں،،، اس نے بات کا آغاز کیا۔۔

گڈ،،، وہ سکون سے بولی۔۔

نایاب نے اچھا نہیں کیا تمھارے ساتھ،،، وہ آپ سے تم پر آتا اسے بات کرنے کے لئے اکسا رہا تھا۔۔ شاید یہ جاننا چاہتا تھا کہ اب سامنے سیاہ لباس میں بیٹھی اس کم سن حسینہ کے دل میں کیا چل رہا ہے۔۔

ثوبی کے ماتھے پر بے شمار بل آئے تھے،، قسمت تھی،،، کیا کیا جا سکتا ہے،،، وہ اطمینان سے بولی۔۔

تمھارے دل میں جو فیلنگز،،،،،

تھیں،،، ثوبی نے اس کی بات درمیان میں ہی اچک کر کہا،،،وہ فلنگز تھیں،،، اور میرے دل میں کیا ہے یہ جاننے کا حق جن کو ہے جب وہ پوچھیں گے تو بتا دوں گی،،، کسی غیر کو بتانا ضروری نہیں سمجھتی۔۔

وہ آرام سے کہتی اسے اس کی حیثیت یاد دلا گئی،، نشوان جل کر کوئلہ ہوا۔۔
کوئی بات نہیں شہزادی،،، سارے حق میں ہی حاصل کروں گا
بہت جلد، وہ دل میں اس سے مخاطب ہوا۔۔
اور اٹھ کر وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔

اس کے جاتے ہی جانے کہاں سے نایاب نکل کر سامنے آئی۔۔تو اس نے سرد سی سانس بھری۔۔

سچ بتانا ثوبی،، کتنی بددعائیں دی تھیں مجھے،،،؟

شاہِ من جو ابھی ابھی واپس آیا تھا،، اس کا سوال سن چکا تھا۔سٹوپڈ کوئسچن پوچھ رہی ہیں بھابھی آپ میری وائف سے،،، آپ شاید اچھی طرح جانتی ہوں کہ یہ ایسی نہیں کہ کسی کو بددعا دیں،، وہ تو انسان کے اپنے اعمال ہی ہوتے ہیں جو اس کے آگے ا جاتے ہیں،، خیر جوائن کریں بھابھی،،،،
شاہِ من نایاب کو دیکھتے کہا۔۔

تو سیکنڈز میں وہ وہاں سے کھسکی تھی،،
آپ کو ایسا نہیں کہنا چاہئے تھا ان کو ،،،ثوبی کو پھر بھی افسوس ہوا۔۔

آپ ٹینشن ناں لیں،، اور یہ پیزا کھائیں وہ بھی بھی میرے ہاتھ سے رانا صاااب،،
وہ لاپروائی سے بولا۔۔

💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖

صبح ثمن کی لیٹ آنکھ کھلی تو وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی تھی۔۔
فجر کی نماز ادا کر کے تلاوت کی اور ایسی سوئی کہ اب آنکھ کھلی تھی۔۔

پریشان تو تب ہوئی جب بچے ہی بیڈ پر موجود نہیں تھے۔۔ فوراََ چادر اوڑھ کر بیڈ سے اتری۔۔
اور روم سے باہر جھانکا۔۔

کچن سے بچوں کی کھلکھلاہٹوں کی آوازیں آ رہی تھی۔۔

دانیال جو جوگنگ کے بعد واپس آیا تھا بچوں کو لاؤنج میں دیکھ کر حیران ہوا۔۔

اینجل آ گئے،،، اینجل آ گئے،،، فجر نے شور مچایا تو دانیال نے اگے بڑھ کر انھیں گود میں بھر لیا۔۔

ہیے کڈز اپنا انٹرو تو کرواؤ یار ،،، دانیال نے ان کے گال چوم کر کہا،، تو دونوں سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھے گئے،،
مطلب اپنا اپنا نام بتاؤ۔۔

میں اذان ہوں اور یہ فجر،،، اذان نے کیوٹ سے منہ بناتے اسے ضروری بات بتائی۔۔
دانیال بے حد متاثر ہوا،، کتنی خوبصورتی تھی ناموں میں یعنی اذان اور فجر،، واؤ

اور تمھاری ممی کا کیا نام ہے،، وہ انھیں لیے کچن میں آیا اور ڈائننگ ٹیبل کی چئیرز پر بٹھایا۔۔

ممی کا نام ثمن مما ہے،، فجر نے بتایا،، اینجل اب دادو تو نہیں آئین گی ناں واپس،،، فجر نے سہم کر پوچھا۔ ۔۔

نو پرنسز،،، اب وہ واپس نہیں آئیں گی ،،کیونکہ اب اینجل ہے ناں آپ کے پاس آپ کو پروٹیکٹ کرنے کے لئے،، وہ اس کے پھولے گال چومتا بولا۔۔
جانے کیوں مگر آج اسے اپنا کچن مکمل سا لگا اور بچوں کے لئے وہ بہت حساس ہونے لگا۔۔

چلو جلدی سے بتاؤ،، پرنس اور پرنسز کیا کھائیں گے؟

سچ اینجل ہمیں اب بھی کھانا ملے گا؟ اذان کی آنکھوں میں انوکھی سی چمک آئی،،
دانیال نے اسے سینے میں بھینچا۔۔
یس مائی انوسنٹ بوائے جب چاہو گے کھانا ملے گا۔۔

پھر دانیال نے ان کے لئے بریک فاسٹ بنایا،، اور ساتھ ساتھ ان کے ساتھ کھیلتا رہا۔۔
ثمن چادر سے منہ چھپائے کچن کے دروازے تک آئی۔۔ مگر دانیال کو وہاں دیکگیا۔۔
واپس مڑنے لگی جب فجر نے ہی دیکھ لیا اسے۔۔

مما،،، فجر نے پکارا،، دانیال نے فوراً اپنا رخ سلیب کی جانب موڑ لیا۔۔
آپ ناشتہ کر لیں ،،،میں نے بنا دیا ہے،، میں اور بچے کر چکے ہیں،،
۔۔
آپ یہاں کمفرٹیبل نہیں ہیں،، میں آپ کو دوسرے گھر شفٹ کرنے والا ہوں آج،، وہاں اندر صرف آپ کے پاس ایک میڈ ہوگی،، اور گیٹ پر گارڈز،،،میری پرمیشن کے بغیر کسی چڑیا کی بھی جرأت نہیں ہو گی اندر پر مار سکے ۔۔
مگر میں بچوں سے ملنے آتا رہوں گا۔۔ آپ بس انھیں باہر بھیج دیا کرنا میرے پاس،،،،
وہ سکون سے کہتا ثمن کو بے سکون کر گیا۔۔

آ،،، آپ،،، ہمارے،،، لئے یہ س،، سب،، کک،،، کیوں،،،،

کیونکہ سکون مل رہا ہے مجھے،،، ایک عرصے سے بے سکون تھا،، مگر اب یہ سب کر کے مجھے سکون مل رہا ہے،،، آپ یہ سمجھیں کہ یہ میں اپنے لئے کر رہا ہوں،، زیادہ زہن پر زور دینے کی ضرورت نہیں بس بچوں پر توجہ دیں۔۔

وہ کہتا وہاں سے نکلا،،،

ثمن نے پیچھے مڑ کر اس اینجل کی چوڑی پشت کو عقیدت سے دیکھا۔۔

💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖

یہ تین دن پر لگا کر اڑ گئے۔۔
شاہِ من کی خوبصورت سنگت اور قربت میں وقت کا پتہ ہی نا چلا۔۔
اور وہ گھر واپس آ گئے۔۔ رابی نے بھی دل کھول کر اپنی فرینڈز کے ساتھ انجوائے کیا۔۔
بلکہ گھر واپسی پر اس کا اچھا خاصا منہ لٹک گیا تھا کہ پھر وہی بور اور ٹف روٹین شروع ہونے والی تھی۔۔

آج دلاور اعظم،، شازیہ بیگم، بی جان اور رابی شادی میں گئے تھے لیٹ نائٹ فنکشن تھا۔۔

اعظم مینشن میں اس وقت ہو کا عالم تھا،، یون کہنا بہتر تھا کہ الو بول رہے تھے،، اور ثوبی کو خواہ مخواہ اتنے بڑے گھر میں ڈر لگ رہا تھا۔۔

تبھی جانی پہچانی گاڑی کی آواز سنائی دی تو دل کو سکون آیا۔۔
من ابھی ابھی آفس سے گھر لوٹا تھا۔۔

وہ کچھ دیر تو انتظار کرتی رہی کہ وہ ہمیشہ کی طرح پہلے اس کے پاس آئے گا اس کی خیر خیریت دریافت کرنے مگر وہ نہیں ایا تو وہ سخت جھنجھلائی۔۔
بلکہ اسی جھنجھلاہٹ میں اب اپنے روم سے نکل کر اوپر والے پورشن پر بنے اس کے روم کی طرف گئی۔۔

ہلکے سے ڈور ناک کیا،،،
یس کم ان،،، آواز آنے پر وہ ڈور دھکیل کر اندر گئی۔۔وہ جو پاؤں ٹیبل پر رکھے سر صوفے کی بیک سے ٹکائے آنکھیں موندے لیٹا اپنی کنپٹیاں سہلا رہا تھا ثوبی کو دیکھ کر حیران ہوا۔۔

مجھے لگا آپ بھی شادی میں گئی ہیں،، وہ سیدھا ہوا،،، کیونکہ مما کہہ رہی تھیں کہ آپ کو بھی ساتھ لے کر جا ئیں گی،،

جی،،، وہ میں نے ہی منع کر دیا،،، میں شاید کمفرٹیبل نا رہتی ادھر،،،،، آپ بہت تھکے ہوئے لگ رہے ہیں۔۔ ثوبی نے اس کی جانب دیکھا اور پاس آ کر صوفے پر بیٹھ گئی۔۔
شاہِ من کو حیرت کا جھٹکا لگا،،

کیا ہوا رانا صاااب،،، اصل بات بتائیں،، اب وہ اپنی ٹون میں واپس آتا گہرا مسکرایا تھا۔۔

وہ،،،مم،،، مجھے بہت ڈر،، لگ،، رہا ہے،،، وہ روہانسی ہوئی،، من نے دانتوں تلے لب دبایا۔۔

نا کریں رانا صاااب کہیں میں آپ کے ڈر کا غلط فائدہ نا اٹھا لوں،،
شاہِ من نے چھیڑا۔۔ وقت،، سچویشن اور اپنا حلیہ دیکھا ہے آپ نے،،،
ثوبی اس وقت ریڈ کرتی اور ٹراؤزر میں تھی اور سکارف لاپروائی سے لیا تھا جو کندھوں پر جھول رہا تھا۔۔

اونہہہہ،،، شروع ہو گئے آپ،،، جب تک رابی نہیں آئے گی میں تو نہیں جانے والی،،، اور مجھے پتہ ہے آپ کچھ نہیں کریں گے،،
اطمینان قابل دید تھا۔۔

شاہِ من نے اچانک اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے خود میں بھینچا تھا۔۔
کیوں آپ نے فرشتہ سمجھ لیا ہے مجھے،،، نہیں میری جان،، آپ کے سامنے تو ایک معمولی سا سر پھرا پاگل عاشق ہے جو کبھی بھی بہک سکتا ہے،،،
وہ خمار آلود لہجے میں کہتا اس کے ہوش اڑا گیا۔۔

مم،،، من،،، آپ،،،
رونگٹے تو اس کے تب کھڑے ہوئے جب کمر کے گرد حمائل ہاتھوں کی گرفت میں شدت آئی۔۔اور گردن پر ایک سلگتا نرم لمس محسوس ہوا۔۔

من،،،پپ،،،،،، پلیز،،،،،
گردن سے کندھے کی طرف بڑھتا وہ لمس اسے پاگل کرنے کو تھا۔۔

ثوبی پانچ دن رہ گئے انکل آنٹی کو واپس آنے میں اور کچھ دن آپ کے سمسٹر فنش ہونے میں،،، ثوبی میری جان میں رخصتی چاہتا ہوں۔۔
شاہِ من نے اس کے بالوں میں منہ دئے اس کے سر پر بم پھوڑا۔۔

آپ کے یہاں سے میری نگاہوں سے اوجھل ہونے کے خیال نے ہی مجھے پاگل کر دیا ہے،، مجھے لگتا ہے میں آپ کا بھروسہ اور اعتبار جیت چکا ہوں اب وقت ہے عشق کی معراج کو پا لیا جائے،، آپ کو مستقل میری نگاہوں کے آس پاس رہنا ہوگا ۔۔

وہ اصل بات نہیں بتانا چاہتا تھا ثوبی کو کہ اسے کیا پریشانی ہے سو گھما کر بات کر رہا تھا۔۔

سے یس ثوبی،،، اس نے پھر اسے پکارا،، اور کمر سے ہاتھوں سے دباؤ بڑھا کر اسے متوجہ کرنا چاہا جو اکھڑتی سانس کے ساتھ بے حال سی تھی۔

مم،،، من،،، پلیز،،،، مجھے،،، وقت،، دیں،، وہ لفظ توڑ توڑ کر بولتی اپنی گردن پر محسوس ہوتے شاہِ من کے سلگتے لبوں کی تاب نہیں لا پا رہی تھی۔۔

وہ میں آپ کو رخصتی کے بعد بھی دوں گا مجھے اور اس رشتے کو سمجھنے کے لئے وعدہ کرتا ہوں،،،
اب اس کے ہونٹوں نے ثوبی کی شہہ رگ کو ہلکے سے چھوا تو وہ مچل کر دور ہوئی اور بھاگنے کر پر تولنے لگی۔۔
مگر اس کی کلائی من کی گرفت میں تھی۔۔

سے یس ثوبی،،،مجھ پر اعتبار کرتے ہوئے اقرار کیجئے پلیز،،،

چھوڑیں ناں من،،، چھوڑیں گے تو ریٹن میں لکھ کر دوں گی،،، وہ برا سا منہ بنا کر بولی تو وہ قہقہ لگا کر ہنس پڑا۔۔

💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖

رانا جہانگیر اور صائمہ بیگم واپس آئے تو بہت جلد رخصتی کے لئے تیاریاں شروع کر دی گئیں ۔۔

اور وہ دن بھی آگیا جب رخصتی ہوئی مگر ایک سازش کے تحت جدائی بھی نصیب میں لکھ دی گئی۔۔
اور اب آگے دیکھنا یہ تھا کہ ان کی قسمتیں آگے کیا رخ اختیار کرنے والی تھیں۔۔

آخر لکھا کیا تھا نصیب میں۔۔
کیا ہونا تھا؟
کیا کھونا تھا؟
اور کیا پانا تھا؟