53.8K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

Episode 4.….
ماضی۔۔۔
دلاور اعظم اور شازیہ بیگم کی چار اولادیں تھیں۔۔

سب سے بڑا دانیال تھا جو ایم اے کر کے اب اپنے بابا کے ساتھ سیاست میں دلچسپی لینے لگا تھا۔۔
شاہِ من دانیال سے آٹھ سال چھوٹا تھا،،، مگر دونوں بھائیوں میں اس قدر پیار اور انسیت تھی کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے بغیر رہ ہی نہیں سکتے تھے۔۔

پھر من سے دو سال چھوٹی سارا اور پھر سب سے چھوٹی رابی تھی۔۔
دانیال ان دنوں اٹھائیس سال کا ہو چکا تھا،،، جب اس کی زندگی میں ایک بہت بڑا طوفان آیا۔۔
اس کی زندگی میں صبا نامی لڑکی آئی،،جو متوست گھرانے کی لڑکی تھی،،، دانیال نے اس کی محبت میں دنیا بھلا دی،،،، دانیال کی بے پناہ محبت کو دیکھتے ہوئے دلاور اعظم نے ان دونوں کا نکاح کروا دیا۔۔

ایک سال تک یہ نکاح قائم رہا،،، دانیال نے صبا پر پانی کی طرح پیسا بہایا۔۔
اپنا کریڈٹ کارڈ وہ صبا کو ہی دے کر رکھتا۔۔کبھی اس کی ماں کے آپریشن کے لئے لاکھوں روپے دیئے کبھی بہن کی کالج کی فیس کے نام پر ،،،
پھر جلد ہی اس نے رخصتی کا تقاضا کیا۔۔
صبا آئیں بائیں شائیں کرنے لگی۔۔
مگر دانیال کے صبر کا پیمانہ جلد ہوا۔۔۔
ہو گیا،،، تو رخصتی کا دن مقرر کر دیا گیا۔۔

مگر دانیال کی قسمت میں محبت کے ہاتھوں شکست لکھی گئی تھی تبھی صبا عین رخصتی کے دن اس کے ساتھ بھاگ گئی جس سے محبت کرتی تھی،،، دانیال صرف اس کے لئے اس کی خواہشات پوری کرنے کے لئے ایک زریعہ تھا۔۔

دانیال یہ بے وفائی برداشت نہیں کر سکا،،،،، وہ غموں کے اندھیروں میں ایسا ڈوبا کے نشے کی حالت میں بھیانک ایکسیڈنٹ کروا بیٹھا۔۔

تب وہ دو تین سال کوما میں رہا،،اور تو اور یہ ایکسیڈنٹ اس قدر شدید تھا کے اس کے حصے میں عمر بھر کے خسارے آ چکے تھے،،وہ عمر بھر کے لئے باپ بننے کی صلاحیت سے محروم ہو چکا تھا،،،

اور اپنے بھائی کی یہ حالت دیکھ کر من کے سینے میں جو عورت ذات سے نفرت کا بیج اگا وہ وقت کے ساتھ ساتھ ایک تناور درخت بن گیا۔۔

کومے سے اٹھنے کے بعد اور صحت یاب ہونے کے بعد دانیال نے ملک ہی چھوڑ دیا۔۔
وہ شاہِ من کے سینے میں وحشیوں اور نفرتوں کو بھر کر ملک ہی چھوڑ گیا۔۔۔

یہی نفرت تھی جس نے شاہِ من کو بہت باغی،، ضدی،، ہٹ دھرم،، بدتمیز اور منہ پھٹ بنا دیا تھا۔۔

سات سال گزر گئے مگر دانیال لوٹ کر نہیں آیا۔۔ مگر جب لوٹ کر آیا تو بہت ٹوٹی بکھری حالت میں تھا۔۔
محبت نے اس کی زندگی برباد کر دی تھی۔۔۔ وہ اعظم ہاؤس کی بجائے اپنے اپارٹمنٹ میں رہتا تھا۔۔

دلاور اعظم اور شازیہ بیگم نے شاہِ من پر بہت دباؤ ڈالا کے وہ شادی کر لے کیونکہ اب وہ اٹھائیس کا ہو چکا تھا،،،

اور آج بھی کچھ ایسا ہی دن تھا۔۔
سارا کی شادی کر دی گئی تھی،، اور وہ اپنے ہزبینڈ کے ساتھ کینڈا مقیم تھی۔۔۔۔جبکہ من اپنی ضد سے ٹس سے مس نا ہوا تھا۔۔

سب لاؤنج میں تھے،،، جب شازیہ بیگم نے رو رو کر آنکھیں سجا لیں تھیں،،، من ماتھے پر ڈھیر ساری تیوریاں لیے بیٹھا تھا۔۔

من کب تک،،، آخر کب تک مجھے مایوس کرو گے تم انکار کر،،، پلیز مان جاؤ،،

اونہہہ نفرت ہے مجھے مما،،، شدید ترین نفرت،،، اس ایک لفظ،،، لڑکی سے،، محبت سے،،، شادی سے،، ابھی تو اٹھائیس کا ہوں،، ایٹی کے بعد بھی یہی کہوں گا کہ اپنے فیصلے سے ایک انچ بھی نہیں ہلنے والا،،،، اور دنیا میں ایسی کوئی ہے نہیں جو شاہِ من دلاور کو اپیل کرے۔۔ سو پلیز خدا کے لئے یہ روز روز کا بکھیڑا بند کریں،،، کیونکہ میرا فیصلہ نہیں بدلے گا۔۔ آج نہیں،،، کل نہیں،،، کبھی نہیں،،،،،
وہ بدتمیزی سے بولتا اعظم مینشن سے نکلا تھا۔۔

اور اب اپنے فارم ہاؤس پہنچ کر اپنے جگر اپنے چچا زاد نشوان کو کال ملائی تھی کہ فرینڈز کو لے کر فارم ہاؤس پہنچے۔۔

وہ آج پی پلا کر،،،، مکمل ہوش گنوا کر اپنے بھائی کا غم غلط کرنا چاہتا تھا۔۔

کچھ ہی دیر میں وہ پہنچ چکے تھے۔۔
نشوان،،، ولی،،، حیدر اور وہ خود،،، محفل اپنے عروج پر تھی۔۔
ابھی انھوں نے پیگ بنائے ہی تھے۔۔
جب نشوان کا فون بجا۔۔

اس نے بے حد برا سا منہ بنایا۔۔ شاہِ من کو عجیب لگا۔۔

کیا ہوا نشوان،،،

یار ایک لڑکی ہے،،، کچھ دنوں سے فون پر پریشان کر رہی ہے،،

من کے ماتھے پر بل آئے،، تو بلاک کر دو،،،

خود کچھ نہیں کہتی،، مگر کہتی ہے کہ میری دوست آپ کو لائک کرتی ہے،، اور مجھے اور میرے میں سب جانتی ہے سٹرینج،،،،،،،،،
تو مجھے بس یہ تجسس ہے اور یہ جاننا کہ اس کی وہ دوست کون ہے،،، سو شغل میلا،،،
نشوان نے آنکھ ونک کی۔۔

شاہِ من نے کندھے اچکائے،،، سب نے اپنا اپنا گلاس اٹھایا۔۔

چئیرز،،، ایک جام،،، میرے بھائی کی بربادی کے نام،،، ہاہاہا،،
شاہِ من کے قہقہے میں صدیوں کا درد تھا۔۔

بہت جلد حسب معمول وہ اپنے مکمل ہوش کھو بیٹھا تھا۔۔تبھی اس کے خاص وفادار ندیم نے اس کے دئیے گئے آرڈرز کے مطابق اسے سہارا دے کر اٹھایا اور اس کے مخصوص روم میں لے کر آیا۔۔

مگر وہ ندیم کا گریبان پکڑ چکا تھا۔۔

جج،،،،،جانتے،،، ہو،،،،،، مم،،،،، ندیم،،،،، نفرت،،،، ہے،،، مجھے،،،، سب،،،، سے،،، ب،،، بہت نفرت،،،،،، مم،،،،،، مجھے،،،،،، نہیں،،،، کرنی،،،، شادی،،،،، گواہ،،،، رہنا،،،،،،

جی جی سر رہوں گا،،، آپ آرام کریں۔۔۔

نن. ،،،،،نہیں ،،،،،یہ،،،،،،، عورت،،،،،، اس،،،،،، قابل،،،، بھی،،،،، نن،،،، نہیں،،،،،، کہ،،، اسے،،،، ااپنی،،،،،،،، رکھیل،،،،،، بھی،،،،،،، بنایا،،،، جا،،،، سکے،،،،،،، جج،،،، جانتے،،،،، ہو،،،،،، ناں

جی جی سر جانتا ہوں،،،، موسی نے افسوس سے اپنے سر کو دیکھا،، اور، لا کر اسے بیڈ پر لٹایا،،
بلیک پینٹ گرے شرٹ میں اٹھتا قد،،،، مگر بکھرا سا وہ بے تحاشا ہینڈسم اور حسین لگ رہا تھا،،
مگر افسوس نفرت سے بھرا،،، ہوش و خرد سے بیگانہ۔۔۔۔

💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖

یہ کیا کہہ رہی ہو تم گل،،،، ثوبی کی آنکھیں صدمے سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔۔

ہاں ناں،،، ٹھیک کہہ رہی ہوں،،، تم نے تو بتانا نہیں تھا اسے تو میں نے فون کر کے اسے سوچنے پر مجبور کر دیا کہ آخر کون ہے جو اسے پسند کرتی ہے۔۔

یہ کیا کہہ رہی ہو نایاب گل،،،، یہ کیا کیا تم نے،،، ثوبی کے حسبِ معمول ہاتھ پیر پھول گئے وجود پسینے میں نہایا۔۔
تم یہ کیسے کر سکتی ہو مجھے پوچھے بتائے بغیر،،،

افففففففف ڈرپوک،،،، بزدل ہو تم بہت ثوایبہ،،،، جب تک تم اسے بتاؤ گی اس ہینڈسم کو کوئی اور لے اڑے گی۔۔اسی لئے تھوڑی ہمت سے کام لو،،،، اور میں نے اسے تمھارا نام نہیں بتایا ابھی یہی کہا کہ میری دوست ہے۔۔۔
گل نے اسے ڈانٹا۔۔۔

مگر یہ ٹھیک نہیں،،، میں ایسے نہیں چاہتی تھی،، اگر کسی کو پتا چل گیا تو کیا ہوگا،،،
ثوبی نے سہمی ہرنی کی طرح اپنی کاجل بھری آنکھیں پھیلائیں۔۔

کچھ نہیں ہوگا یار،،، سب ٹھیک ہوگا،،، وہ لاپروائی سے بولی۔۔
آنکھوں کے پردے پر ایک ہینڈسم سے شخص کا عکس لہرایا۔۔

💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖

وہ اپنے آفس میں تھا،،، اپنے پاپا کے دئیے گئے کسی ضروری کام میں مصروف تھا،،،
جب نشوان ڈور ناک کر کے آفس میں داخل ہوا۔۔۔

من اٹھو ،،،جلدی چلو میرے ساتھ یار،،،

شاہِ من نے ایک اچٹتی سی نگاہ اس کے اکسائیٹڈ سے چہرے پر ڈالی،،،

کیوں،،، شیر میں آگ لگ گئی ہے کیا جو ہم نے بجھانی ہے،،، وہ ہنوز لاپروائی سے بولا۔۔

اففف او،،،، پلیز نا میں جو کہہ رہا ہوں اٹھو،،،، اس نے اب من کو بازو سے گھسیٹا۔۔
اسے نا چاہتے ہوئے بھی اٹھنا پڑا۔۔

گاڑی لے کر نکلے تو من کو نشوان کی معنی خیز سی مسکراہٹ دیکھ کر تپ چڑھی۔۔
اب پھوٹو گے منہ سے کہ کہاں لے کر جا رہے ہو کہ نہیں،،،

کیوں بھاؤ کھا رہے ہو یار،،، دارصل میں تمھیں آفس میں ہی بتا دیتا کہ کہاں جا رہا ہوں تو تم کبھی ساتھ نا چلتے،،، اس کی مسکان گہری ہوئی۔۔من نے خونخوار نگاہوں سے اسے گھورا تو وہ گڑبڑایا۔۔

دراصل میں اپنی فرسٹ آفیشل ڈیٹ پر جا رہا ہوں،،،

واٹ،،،، من کو آگ لگی،،، کیا بکواس کر رہے ہو،،،

وہ دراصل اس لڑکی کا فون آیا،، اس نے کہا کہ وہ اپنی فرینڈ کو مجھ سے ملوانے لا رہی ہے تو اسی لئے،،،
وہ دانتوں تلے لب دبا کر بولا۔۔

اور بیغیرت انسان مجھے ساتھ کیوں لے جا رہے ہو،،، من کے اعصاب تنے۔۔

یار وہ دو ہوں گی تو میں اکیلا کیوں ،،،،،نشوان ڈھٹائی سے دانت نکالتا بولا تو من کا دل کیا ایک مکا لگا کر اس کا تھوبڑا توڑ دے۔۔

واٹ ربش نشوان،،، میں نہیں جاؤں گا،،، اتارو مجھے یہیں ،،تمھیں پتہ ہے کہ،،،،

ہاں مجھے پتہ ہے کہ تم کنوار کوٹھڑا ڈالنے والے ہو،، مگر اپنے دوست کی تو نیا پار لگوا دو میرے بھائی،،،
وہ عاجزانہ سے لہجے میں مسکین شکل بنا کر بولا تو من کو چپ ہونا پڑا۔۔

مگر تیور اب بھی بری طرح بگڑے ہوئے تھے۔۔
اففف،،، کس قدر تھرڈ کلاس،، اوچھی،، اور گھٹیا لڑکیاں ہوں گی۔۔
اسے سوچ کر ہی کوفت ہوئی۔۔

💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖

وہ مما کے ساتھ لاؤنج میں ان کی گود میں سر رکھ کر لیٹی ہوئی تھی جب اچانک لاؤنج میں گل داخل ہوئی۔۔
اسے خوشگوار حیرت ہوئی،،،

اسلام و علیکم آنٹی کیسی ہیں آپ،،،،
وہ دو تین مرتبہ پہلے بھی گھر آ چکی تھی سو صائمہ بیگم سے اچھی خاصی بے تکلفی ہو گئی تھی۔۔

میں ٹھیک ہوں آپ سناؤ بیٹا۔۔

میں بھی ٹھیک ،،،آنٹی میں ثوبی کو لینے آئی ہوں،،، ہمارے گھر میں بھتیجے کا عقیقہ ہے،،، اگر آپ اجازت دیں تو،،،
ثوبی نے اب غور کیا وہ اچھی خاصی بنی ٹھنی ہوئی۔۔

کیوں نہیں لے جاؤ بھئی،،، میں تو خود چاہتی ہوں یہ گھر سے باہر نکلے،،، جاؤ ثوبی دیکھو وہ کتنے پیار سے بلانے آئی ہے۔۔

مما آپ بھی ساتھ چلیں ناں،،، وہ روہانسی سی ہو کر بولی،،، گل کا دل کیا ماتھا پیٹ لے۔۔

نہیں بھئی تم اپنی دوست کے ساتھ جاؤ میں اپنی دوست سے ملنے جاؤں گی کافی عرصہ بعد ملاقات ہوئی شازیہ سے میری،، اب تو رہا نہیں جا رہا ملے بغیر۔۔
وہ اکسائیٹڈ سی تھیں۔۔ تم لوگ جاؤ گی کیسے،؟ گاڑی تو میں لے کر جا رہی ہوں،، صائمہ کو فکر ہوئی۔۔

آنٹی گاڑی کی ضرورت ہے بھی نہیں،،، میرا گھر تو قریب ہی ہے ناں اور رکشہ باہر کھڑا ہے جس پر میں آئی ہوں اسی پر واپس جائیں گے۔۔
گل کے پاس ہر مشکل کا حل تھا۔۔

جلد ہی گل نے ضد کر کے اسے چینج کروایا،، براؤن شارٹ فراک،، براؤن ٹراؤزر،، اور براؤن اور بلیک سجارف لیے وہ اس کے ساتھ نکلی۔۔گل کے لاکھ اصرار کے بعد اس نے میک اپ نہیں کیا تھا،،

ہاں کاجل ضرور لگایا تھا۔۔

رکشہ جب جی ٹی روڈ پر آیا تو ثوبی کو حیرت ہوئی،،،
گل یہ تمھارے گھر کا رستہ تو نہیں ہے۔۔

جانتی ہوں،، اب چپ کر کے بیٹھی رہو،،، وہ بے نیازی سے بولی،، ثوایبہ کو مزید حیرت ہوئی
یہ حیرت صدمے میں بدلی جب رکشہ آ کر ایک مشہور کیفے ٹیریا کی پارکنگ میں آ کر رکا،،، اور وہاں وہ نشوان کی گاڑی دیکھ چکی تھی۔۔

گل یہ کیا بے ہودہ حرکت ہے،،، تمھاری ہمت کیسے ہوئی مجھے دھوکے سے ایسے یہاں لانے کی۔۔
وہ غصے میں غرائی،،، مگر پرواہ کسے تھی۔۔

اففف او اب تم اپنا میلو ڈرامہ مت شروع کر دینا ثوبی،،، آج یا آر یا پار،، ابھی نہیں تو کبھی نہیں،،، گل نے زبردستی اسے رکشے سے باہر کھینچا،،

اور اسے لئے اندر بڑھی،،، ثوبی کے پیروں نیچے سے زمین کھسکی تھی،، نازک جان لرز کر رہ گئی۔۔

💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖

وہ کافی دیر سے کیفے میں بیٹھے تھے،، اور اب شاہِ من کا غصہ اور طیش اپنی حدوں کو چھونے لگا تھا۔۔
اس نے نشوان کو گھورا۔۔
اس نے دانت نکالے،،،،

بھاڑ میں جاؤ،،،، نشوان،،، وہ کہتا اٹھا،،، نشوان بوکھلایا،،

پلیز یار پانچ منٹ اور پھر واپس چلے جائیں گے،،

کہیں نہیں جا رہا،،، پارکنگ میں ہوں،،،یہاں سموکنگ الاؤ نہیں،، وہ کہتا باہر آیا۔۔ایک پلر سے ٹیک لگائی۔۔اور سموکنگ کرنے لگا۔۔

تبھی ایک دبی دبی سی سرگوشی سنائی دی۔۔

گل تمھیں الله کا واسطہ،،، ابھی بھی وقت ہے واپس چلو،،،، پلیز،،، پلیز،،، پلیز،،

شاہِ من نے آواز کی جانب دیکھا تو سامنے ہی ایک لڑکی ایک چھوٹی سی لڑکی کا بازو دبوچے اسے اندر لانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔

اس نے غور سے اور دلچسپی سے اس براؤن سوٹ والی لڑکی کا ہوائیاں اڑا چہرہ دیکھا،،،
کیا کسی چہرے پر ڈر اور خوف بھی اس قدر دلربا اور پیارا لگ سکتا تھا۔۔

ثوبی تماشہ مت کرو،،، چپ چاپ چلو،،، گل میڈم دانت پیس کر بولی،،

گل پلیز،،، مجھے نہیں جانا اندر،،، وہ روہانسی سی بولی،، مگر وہ اس کا بازو دبوچے چلتی رہی،،،
پلر کے پاس سے گزریں،،، ایک لڑکا اپنی جانب دیکھتا ملا،،، گل تو لاپروائی سے گزر گئی۔۔
مگر ثوبی کے کنفیوز ہوتے ماتھے پر ضرور پسینے چھوٹے تھے۔۔

وہ اندر داخل ہوئیں ۔۔
من بھی دھیمے قدموں سے چلتا اندر آیا۔۔
ایک کونے والی ٹیبل پر نشوان بیٹھا تھا،، گل اس کی جانب بڑھی ۔۔ثوبی تقریباً گل کے پیچھے چھپ ہی گئی۔۔
اسے یوں لگ رہا تھا وہاں بیٹھا ہر شخص اسے گھور رہا تھا،،، پورا جسم لرز رہا تھا،،

ہائے،،، گل خوشدلی سے بولی،،، نشوان دیکھ کر مسکرایا،،، مگر ثوبی کو دیکھ کر دھچکا سا لگا،،

ہائے،،، بیٹھیں،،،
وہ دونوں بیٹھ گئیں،،، ثوبی نے مضبوطی سے اب بھی گل کا ہاتھ تھام رکھا تھا،،، ایک گھٹلی سی ابھر کر معدوم ہوئی۔۔۔تبھی من بھی ٹیبل تک آیا۔۔

یہ میرا دوست اور چچا زاد بھائی ہے شاہِ من ،،،نشوان نے تعارف کروایا۔۔
ہائے،،، گل نے کہا،،،
من نے صرف سر ہلا کر وش کرنے پر اکتفا کیا۔۔

ثوبی تو سر جھکائے زمین پر جانے کیا تلاش کر رہی تھی،، اس کی لرزتی پلکیں ہلکے سے کپکپاتا وجود کوئی بڑی دیر سے بڑے غور سے آبزرور کر رہا تھا۔۔

میں اسے ملانے لائی ہوں آپ سے،،،پھپھو کی بیٹی ہونے کہ باوجود آپ اسے جان نہیں پائے،،،افسوس،،،،، یہ آپ کو،،،،،،
گل کی بات پوری ہونے سے پہلے ثوبی نے بری طرح گل کے ہاتھ پر ناخن کھبو ڈالے جو نشوان تو نا دیکھ پایا مگر کسی کی زیرک نگاہوں سے چھپا نا رہا۔۔

نشوان نے ناگواری سے اس ڈری سہمی دبو سی اپنی کم عمر کزن کو دیکھا،،
جو بیس اکیس سال کی ہونے کے باوجود آج یوں ڈری سہمی پندرہ سولہ سالہ بچی ہی لگ رہی تھی۔۔

ہاں مگر سامنے والی کا کانفیڈینس اسے ضرور اچھا لگا تھا۔۔

اس کی اور میری عمر میں فرق دیکھا ہے آپ نے،،،، نشوان نے ناگواری سے کہا۔۔اگر اس کے دل میں کچھ ہے بھی تو اسےکہو نکال دو ،، کیونکہ میں اس میں انٹرسٹڈ نہیں ہوں،،،، رانا صاب سن رہی ہیں ناں آپ،،،،،
ہاں مگر آپ میں دلچسپی ضرور ہے مجھے،،،،

اس کے ہر لفظ پر ثوایبہ کا چہرہ لٹھے کی طرح سفید پڑا تھا،،،
شاہِ من نے حیرت سے نشوان کو دیکھا،،، اور پھر سامنے بیٹھی اس لڑکی کے سفید پڑتے کتابی چہرے پر نگاہ ڈالی۔۔
شاہِ من نے نشوان کے سامنے بیٹھی لڑکی کی نگاہوں میں چھپی فاتحانہ مسکراہٹ بھی آبزرور کر لی تھی۔۔

اوہہہہ تو یہ بات ہے،،،، شاہِ من کو تمام کہانی سمجھ آ گئی،،،
تو دوست نے اپنی منزل کے حصول کے لئے ثوبی بی بی کو صرف ایک زریعہ بنایا،،، عورت ذات سے نفرت مزید بڑھی مگر سامنے بیٹھی لڑکی سے اسے ناچاہتے ہوئے بھی ہمدردی محسوس ہوئی تھی۔۔

ثوبی گل سے ہاتھ چھڑا کر فوراََ اٹھی،،، اور باہر کی جانب لپکی۔۔
اب گل دلچسپی سے نشوان کو دیکھ رہی تھی۔۔

شاہِ من نے ایک نفرت بھری نگاہ اس کی فاتحانہ مسکراہٹ پر ڈالی اور فوراََ سے پہلے باہر آیا۔۔

باہر آ کر ادھر ادھر دیکھا تو وہ مردہ سا وجود لیے ایک بینچ پر بیٹھی دکھی۔۔

ثوایبہ کو لگا اس کا دم گھٹ جائے گا،،، گلے میں پھندا سا لگا تھا،، مگر روتی تو پبلک پلیس پر تماشا بنتا،،، درد سے پھٹتی کنپٹیوں پر انگلیاں رکھ کر انھیں بری طرح مسلا۔۔کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کرے۔۔

تبھی وہ اس کے سر پر آن پہنچا تھا،،
آئیے میں آپ کو گھر چھوڑ دوں،، وہ سنجیدگی سے بولا،،، خود نہیں جانتا تھا اتنی ہمدردی کا بخار اتنی اچانک کیوں چڑھ آیا تھا۔۔

وہ خالی کالی آنکھوں سے بس فرش کو گھورے گئی۔۔تبھی من نے اکتا کر اس کی کلائی سے پکڑ کر اسے کھڑا کیا۔۔۔وہ خالی دماغ خالی نگاہوں سے بس اس کے ساتھ گھسٹتی رہی۔۔

شاہِ من نے لا کر اسے گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بٹھایا۔۔اور خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھال کر گاڑی وہاں سے نکالی۔۔

ڈرائیونگ کے دوران بار بار نگاہ بھٹک کر ساتھ بیٹھی لڑکی کی لرزتی پلکوں پر جم جاتی جو اپنی گود میں رکھے اپنے خالی ہاتھوں کو بس کاجل لگی آنکھوں سے گھورے جا رہی تھی۔۔

وہ ابھی تک شاکڈ سٹیٹ میں تھی،،،ایک تو محبت ہاتھوں سے سوکھی ریت کی جانب پھسل گئی تھی دوسرا جو دوست نے پیٹھ میں دھوکے کا خنجر گھونپا تھا اس سے وہ نا اٹھ پا رہی تھی نا سنبھل پا رہی تھی۔۔ اگر گل نے صرف اپنے لئے راستہ ہموار کرنا تھا تو اس کا کردار کیوں مشکوک بنا ڈالا تھا،، اس کے غرور،،، نسوانیت اور خود داری کی کیوں دھچیاں بکھیری تھیں۔۔۔
کیوں اس کا مان اور فخر توڑ ڈالا تھا،، اسے بیچ میں کیوں گھسیٹا تھا،،،

وہ روئی نہیں تھی۔۔ مگر شاہِ من کو جانے کیوں اس کا کاجل پھیلا پھیلا لگا۔۔ من نے پہلو بدلا۔۔

اس سے پوچھنا بیکار تھا سو شاہِ من نے نشوان کو کال ملائی۔۔

ہاں میں محترمہ کو گھر چھوڑنے جا رہا ہوں۔۔ایڈریس بتا دو،،،
اوکے،،،،
ایڈریس سمجھ کر اس نے فون رکھ کر ایک مرتبہ پھر اپنے پہلو میں نگاہ دوڑائی۔۔۔
شاہِ من کی رگیں تنی تھیں،،، ان کاجل لگی آنکھوں سے تواتر سے بہتے آنسو اسے زہر لگ رہے تھے۔۔

دل میں ایک انوکھی سی فرمائش انگڑائی لے کر بیدار ہوئی تو وہ بے تحاشا چونکا۔۔
کیونکہ دل چاہ رہا تھا کہ وہ آنسو بڑی عقیدت سے اپنے لبوں سے چن لے۔۔

اس کا گھر آ گیا تھا۔۔
نمبر پلیٹ پر رانا ہاؤس لکھا ہوا تھا۔۔ گاڑی ایک جھٹکے سے رکی تو شاید ثوبی کو ہوش آیا۔۔

اتنی دیر میں شاہِ من نے آ کر اس کی جانب کا دروازہ کھولا تھا
اور اس خود پر حیرت ہو رہی تھی۔۔۔کہ یہ سب حرکتیں وہ زندگی میں پہلی مرتبہ کر رہا تھا۔۔

وہ جلدی سے گاڑی باہر نکلی،،، اور بغیر کچھ کہے اہنے گیٹ کی جانب بڑھی۔۔

سنیں،،،، شاہِ من کی آواز پر وہ ٹھٹھک کر رکی،،، مگر پکٹی نہیں ۔۔مگر وہ خود چلتا سامنے آ گیا۔۔۔

نا قدرے لوگوں کے لئے آپ ان پر ظلم کے پہاڑ مت توڑنا۔۔۔ شاہ من نے اس کی حسین ترین کاجل پھیلی آنکھوں کی جانب اشارہ کیا۔
وہ اس کے پہلو سے نکل کر اندر بھاگ گئی۔۔

ایک خوشبو کا جھونکا تھا جو سانسوں میں سمایا۔۔
شاہِ من کافی دیر وہاں گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا رہا۔۔۔
بے مقصد۔۔

وہ بس بے وجہ اسے سوچے گیا،،، براؤن ڈریس،، لرزتی پلکیں،، پھیلا کاجل،، شرم و حیا سے ماتھے پر آتا پسینہ۔۔
لرزتا وجود۔۔
وہ اپنی سوچ اور کیفیت پر حیرت زدہ سا ہوا۔۔۔