Shahe Mun By Wahiba Fatima Readelle50091 Last updated: 16 July 2025
Rate this Novel
Shah E Mun By
Wahiba Fatima
کوئی تدبیر ہے؟ ردِ بلا کی محبت میرے پیچھے پڑ گئی ہے
وہ کافی دنوں سے بےسکون تھا،، کہیں بھی کوئی بھی ایسا کونا نہیں تھا جہاں سے شاہِ من دلاور چین سکون کشید کر لیتا۔۔ بے قراری حد سے سوا تھی۔۔سمجھ نہیں آ رہی تھی یہ بن کیا گیا تھا اس کے ساتھ۔۔
شاہِ من دلاور اعظم کی یہ حالت اس کی مما شازیہ بیگم بھی کافی دنوں سے نوٹ کر رہی تھیں۔۔ پھر نشوان کی شادی کے ہنگامے جاگ اٹھے۔۔۔
سب بے حد خوش تھے۔۔جانے کیوں مگر شاہِ من کو نشوان کی شادی کی بات کے ساتھ لاشعور میں ایک بات،، ایک چہرہ دو آنکھیں بار بار کیوں پریشان کر رہی تھیں۔۔ وہ سخت جھنجھلایا ہوا تھا۔۔۔
اب تو نشے میں دھت ہو کر،،، اپنے مکمل ہوش گنوا کر بھی دو آنکھیں اس کا پیچھا کرنے لگی تھیں۔۔ اسی لئے جھنجھلاہٹ عروج پر تھی۔۔
شادی کے فنکشنز میں اپنے آپ کو بزی اور گم کرنا چاہا مگر ناکام۔۔ بری طرح فیل،،، بلکہ وہ تو لاشعور میں شاید کسی کا انتظار کر رہا تھا۔۔ بلکہ شاید نہیں یقینا۔۔۔
وہ ایک مستقل عذاب سے بڑی آسانی سے بچ نکلی تھی۔۔کہ عین نشوان کی شادی والے دنوں میں اس کے سمسٹر کا آغاز ہو چکا تھا۔۔ الله تعالیٰ بہت مہربان ہے ( بیشک) وہ جو دلوں کے صاف ہوتے ہیں ان پر رحم فرماتا ہے۔۔
سو ثوبی کو کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔۔
چونکہ نلگل بی نی کو پڑھائی سے کوئی دلچسپی نہیں تھی سو بیچ میں ہی چھوڑ چھاڑ دی۔۔
عین ولیمے والے دن وہ فری ہوئی تھی۔۔۔اس نے جانے سے انکار کیا مگر آج شاید اسے اپنے ہر ڈر کا دھوکے کے چہروں کا سامنا کرنا ہی تھا کہ اسما بیگم خود چلی آئیں ادے لینے تو ناچار اسے تیار ہو کر ولیمے میں شرکت کرنی پڑی۔۔
شہر کے بڑے سے ہال میں ولیمے کا فنکشن تھا۔۔
وقت کا اشارہ تھا۔۔ آج ایک تارا آسمان سے ٹوٹا تھا۔۔ ایسا کھیل بدلنے والا تھا کہ تماشائی خود تماشا بننے جا رہا تھا۔۔
تبھی،،،، شاہِ من دلاور اعظم نے جب اس بڑے سے ہال میں قدم رکھا،، تو کئی نوجوان دل اچھل کر حلق میں آئے تھے۔۔ ڈارک بلو جینز کی پینٹ کے اوپر وائٹ ٹی شرٹ اور بلو لیدر جیکٹ،،، جس کے بازو کہنیوں تک فولڈ کر رکھے،،، بے نیازی سے پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے ببل گم چباتا اندر آتے سن گلاسز اتارتا وہ قیامت ڈھا رہا تھا۔۔
اس قدر ہینڈسم،،، ٹال،،، سرخ وسفید رنگت اور ڈیشنگ کے ایک مرتبہ تو سب کی نگاہیں اس کی جانب اٹھی تھیں۔۔مگر ادھر وہی صدا کی لاپروائی۔۔
مگر کہا ناں کہ تماشائی آج خود تماشا بننے آیا تھا۔۔ کیونکہ اس کی قسمت کے تارے نے ٹوٹ کر خود اس سے بغاوت کی تھی۔۔
وہ اسی بے نیازی سے سٹیج کی جانب بڑھا۔۔
