Shahe Mun By Wahiba Fatima Readelle50091 Episode 6
No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
Episode 6.….
ماضی۔۔
وہ سٹڈی میں بزی تھی جب باہر افراتفری سی محسوس ہوئی۔۔
شاید کوئی مہمان تھے۔۔
کافی دیر لاؤنج سے ہنسی قہقہوں اور باتوں کی آوازیں آتی رہیں۔۔
ثوبی کو حیرت تب ہوئی جب پاپا کی بھی آواز آئی۔۔
تبھی دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی تو وہ الرٹ ہو گئی۔۔
رانا جہانگیر اندر آئے تو وہ حیران ہوئی۔۔
آؤ پرنسز،،، گیسٹ آئیں ہیں ان سے ملو،،،
بٹ پاپا،،، وہ کنفیوز ہوئی،،،
بیٹا کتنی غیر اخلاقی بات ہے کہ گھر گیسٹ آئے ہوں اور آپ ان کی مہمان نوازی نا کریں۔۔
پاپا میرا حلیہ،،،،،وہ روہانسی ہوئی۔۔۔بلیک ٹی شرٹ اور بلیک ہی ٹراؤزر میں اس کا دودھیا رنگ دمک رہا تھا۔۔
جہانگیر نے اس کا سکارف سر پر درست کیا،، میری چھوٹی سی ڈول ہر حلیے میں میری پرنسز ہی رہے گی۔۔وہ مسکرائے۔۔
پاپا،،، میں چھوٹی سی نہیں ہوں،، وہ منہ بسور کر بولی۔۔
ہاں مجھے بھی ابھی آج ہی اس بات کا اندازہ ہوا کہ میری پرنسز چھوٹی سی نہیں رہی بہت بڑی ہو گئی ہے۔۔۔
وہ اداس سی مسکان لیے صلح جو انداز میں بولے تو ثوبی چونکی۔۔
کیا مطلب پاپا،،،
اب چلو کہ مہمانوں کو بتانا ہے کہ بابا کی پرنسز کتنی بد اخلاق ہے۔۔۔انھوں نے چھیڑا۔۔
وہ شرمندہ ہوئی اور ان کا بازو تھامے ڈرائنگ روم میں آئی تو حیران ہوئی۔۔
سامنے ہی دلاور اعظم،، شازیہ بیگم،،، بی جان اور رابی بیٹھیں اسے ہی پرشوق نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔۔
السلام وعليكم،،، اس نے دھیمے سے سلام کیا،،
مگر شازیہ بیگم نے بانہیں پھیلائے اسے اپنے پاس بلایا،،
بی جان کو غش بڑا۔۔وہ جو اس سادہ سے حلیے میں بلکل سولہ سترہ سال کی معصوم سی بچی لگ رہی تھی۔۔
بی جان کو صدمہ لگا۔۔
اے بہو باؤلا،،، ہو گیا یہ تیرا لڑکا بلکل پاگل،،، آٹھائیس سال کا اس بچی سے بیاہ رچائے گا۔۔
وہ زیادہ دیر برداشت نا کر سکیں۔۔اور شازیہ بیگم کے کان میں بول بیٹھی۔۔
مگر اس سے پہلے وہ جواب دیتیں۔۔
ثوبی بلکل ان کے قریب آ چکی تھی۔۔
شازیہ بیگم نے اسے اپنے اور بی جان کے درمیان بٹھایا۔۔
پہلے تو وہ کنفیوز ہو رہی تھی۔۔مگر جب وہ سب محبت اور نرمی سے نارمل گفتگو کرنے لگے تو وہ بھی ریلکیس ہو کر ہلکی پھلکی گفتگو میں شامل ہو گئی۔۔
بیٹا بی جان کو بتاؤ تم کونسی کلاس میں پڑھ رہی ہو،، شازیہ بیگم نے دانتوں تلے لب دبا کر پوچھا۔۔
وہ مسکرائی،،، بی جان بی ایس سی میں ہوں،،،
مطلب،،، بی جان کو سمجھ نہیں آئی،،، وہ خود گاؤں کی رہنے والی سادہ سی خاتون تھیں۔۔
مطلب بی جان،، چودہ کلاسیں پاس کر لے گی اس سال،،، شازیہ بیگم پھر شرارت پر آمادہ ہوئیں۔۔
بی جان نے سر تا پا ثوبی کو دیکھا،،، اور پھر صدقے واری گئیں۔۔
ارے بچی کھاتی پیتی نہیں ہو کیا۔۔۔کھایا پیا کرو جی بھر کر،، آگے جا کر بہت مشکلین ہوتی ہیں۔۔
وہ معنی خیز سی بولیں۔۔
ثوبی نا سمجھی سے انھیں دیکھے گئی۔۔
پھر سب نے کھانا کھایا۔۔اور وہ لوگ چلے گئے۔۔
اسے عجیب لگا کیونکہ جلد ہی اسے پاپا نے اپنے روم میں بھیج دیا اور خود پر سوچ سے صائمہ بیگم کے ہمراہ سٹڈی میں چلے گئے۔۔
جیسے کسی ضروری بات کی ڈسکشکن کرنی ہو۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
اگلے ایک دو دن وہ اپنی ضروری اسائنمنٹ میں سخت بزی رہی،،، آج سنڈے تھا،، بھر پور نیند لینے کے بعد وہ دس بجے سو کر اٹھی تھی۔۔
دن کافی سست گزرا مگر شام میں وہ اپنے روم میں بیٹھی تھی۔۔جب صائمہ اس کے روم میں آئیں،،،
بیٹا جلدی سے اچھا سا ریڈی ہو جاؤ،،، کہیں جانا ہے تمھارے پاپا بھی پہنچنے والے ہیں،،
مما کدھر جانا ہے،،؟ وہ اکسائٹڈ سی پوچھ بیٹھی۔۔
شازیہ کی طرف انھوں نے ڈنر پر بلایا ہے۔۔ ثوبی کے چہرہ پر یہ سن کر سایہ سا لہرایا،،،
مگر اگنور کر گئی۔۔
اوکے مما،،، وہ کہتی تیار ہونے اٹھی۔۔
اونہہہہ بھلا میرا کیا لینا دینا اس فضول شخص سے،،، اب اس کی وجہ سے نا مما پاپا کا دل توڑا جا سکتا ہے نا شازیہ آنٹی،، رابی،، بی جان اور انکل کی اتنی محبت کو اگنور کیا جا سکتا ہے۔۔
وہ اٹھی اور براؤن گھٹنوں سے تھوڑی نیچے فراک اور جینز کی بلیک ٹائٹس لے کر واش روم میں گھسی،، کچھ ہی دیر بعد ہلکا سا گلوز لگا کر آنکھوں میں کاجل لگایا۔۔
اور سکارف لیے باہر آ گئی ،،باہر مما بلکل تیار تھیں اور پاپا ابھی پینچے تھے۔۔
واہ جی شکر ہے،، واحد اس گھر کی خواتين ہیں جو وقت پر تیار رہتی ہیں۔۔۔
انھوںنے چھیڑا،،،
تو وہ دونوں مسکرا دیں۔۔
پاپا میں کیسی لگ رہی ہوں۔۔۔
ہمیشہ کی طرح میری پرنسز بہت کیوٹ لگ رہی ہے،، جہانگیر نے اسے اپنے ساتھ لگایا۔۔
اور انھیں لئے گھر سے نکلے۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
اعظم مینشن میں آج بہت افراتفری تھی۔۔
کیونکہ شاہِ من کے رشتہ ہونے کا سن کر سارا بھی پاکستان آ گئی تھی۔۔
اس کی دو سالہ پٹاخہ بیٹی امرحہ گھر بھر کی آنکھ کا تارا بنی ہوئی تھی۔۔
لاؤنج میں خوب ہلا گلا مچا رکھا تھا انھوںنے۔۔
سارا اور رابی بے تحاشا خوش تھیں۔۔من اپنے روم میں تھا۔۔وہ ان کی چھیڑ خانیوں سے پک چکا تھا۔۔
جب مہمانوں کی آمد کی اطلاع ملی۔۔ تو سب الرٹ ہو گئے۔۔
وہ تینوں لاؤنج میں داخل ہوئے تو سب ان کے استقبال کو آگے بڑھے۔۔
سارا نے پہلی مرتبہ ثوبی کو دیکھا تو اپنے بھائی کی پسند پر غرور سا آیا۔۔وہ بھی بہت محبت سے ملی اسے،،
سب لاؤنج میں بیٹھ گئے۔۔
شازیہ بیگم کے اشارہ کرنے پر رابی اسے اپنے روم میں لے آئی۔۔وی دونوں آپس میں باتیں کرنے لگیں۔۔
تبھی سارا اپنی ڈول کو لیے ان کے پیچھے ہی آ گئی۔۔
امرحہ بے بی ان سے ملو یہ بہت اسپیشل گیسٹ ہیں،،،، سارا نے کہا۔۔
امرحہ نے ثوبی کو اور ثوبی نے دلچسپی سے اس براؤن آنکھوں والی گڑیا کو ملاحظہ کیا۔۔
اووو،،، ویلی نائش،،، آئی لائک ہل ویلی مچ،، شی از شو کیوت مما،، تبھی ماموں،،،،
وہ توتلی زبان میں بولتی جانے کیا پول پٹی کھولنے لگی تھی کہ
امرحہ ہینڈ تو آگے کرو،،، رابی گڑبڑا کر بولی۔۔ تو اس نے ثوبی کے ساتھ شیک ہینڈ کیا۔۔ثوبی نے اسے گود میں بٹھا لیا۔۔
وہ جلد ہی ثوبی سے بے تلکف ہو گئی۔۔اور کیوٹ کیوٹ سے منہ بناتی ثوبی سے باتیں کرنے لگی۔۔
یو نو واٹ ثوبی،،، بنگلے کہ بیک یارڈ میں چھوٹا سا گرین ہاؤس بنا ہوا ہے جہاں کئی ممالک کے ہر قسم کے پھول ہیں دیکھنا چاہو گی۔۔
وائی ناٹ،،، ثوبی اکسائیٹڈ ہوئی۔۔
تو چلو پھر،،
وہ تینوں کوریڈور سے گزر کر بنگلے کی بیک سائیڈ تک گئیں۔۔
توبی کو لگا وہ کسی کی نگاہوں کے پر حدت حصار میں ہے۔۔مگر سر جھٹکتی اگنور کر گئی۔۔
تبھی امرحہ بے چین سی ہوئی۔۔
واٹ ہیپنڈ امرحہ،،، ثوبی نے پوچھا،،
آئی ہیو تو گو واش لوم،،،،،، اس نے معصومیت سے پاؤں پٹخے۔۔
اس کے شوشے پر رابی اور ثوبی قہقہہ لگا کر ہنس پڑیں۔۔
ثوبی یہ سامنے گرین ہاؤس ہے تم دیکھو میں آتی ہوں،،
اوکے،،، ثوبی نے سر ہلا کر کہا تو رابی امرحہ کو لیے وہاں سے چلی گئی۔۔
وہ پیچھے مڑ کر پھر گرین ہاؤس کی جانب بڑھی تو مبہوت سی رہ گئی۔۔
گلاس کی بڑی بڑی چار دیواری اور چھت،،، دیواروں سے باہر جھانکتے بے تحاشا خوبصورت اور کئی طرح کے پھول۔۔
بہت میجیکل منظر تھا ۔۔وہ کافی قریب پہنچ چکی تھی اور دھیمے قدموں سے آگے بڑھی جب محسوس ہوا کہ کوئی اس کے ہمقدم ہے۔۔
اس نے جھٹکے سے پیچھے مڑ کر دیکھا۔۔
سامنے ہی وہ بلو جینز کے اوپر،، ییلو ٹی شرٹ اور بلو ہی جینز کی جیکٹ پہنے اپنی تمام تر وجاہت سمیت کھڑا اسے پرشوق اور پرتپش نگاہوں سے دیکھنے میں مصروف تھا۔۔
وہ بری طرح گڑبرائی مگر ظاہر نا ہونے دیا۔۔
کیسی ہیں آپ رانا صااااب،،، بھاری گھمبیر آواز سے پوچھا گیا۔۔
ٹھیک ہوں،،،
افففففف یہ طرزِ تخاطب،،،، ثوبی کو تب چڑھی مگر برداشت کر گئی۔۔۔اسی لئے نارمل سی کہتی وہ واپسی کے لئے پلٹ گئی۔۔
حالانکہ شدت سے دل چاہ رہا تھا کہ وہ گرین ہاؤس دیکھے۔۔
آپ جانتی ہیں ثوایبہ اندر بڑوں میں میرے اور آپ کے رشتے کی بات چل رہی ہے،،،، مگر میں ڈائریکٹ آپ سے ہی پوچھنا چاہتا تھا،،،اسی لئے آپ کو کسی نے نہیں بتایا،،،، بہت محبت کرتا ہوں آپ سے،،، ول یو میری می،،،؟
وہ سکون سے کہتا اس کے سر پر بم پھوڑ گیا۔۔ سیکنڈوں میں اس کا چہرہ غم و غصے سے لال بھبوکا ہوا تھا۔۔
ہاؤ ڈئیر یو،،،، آپ کی ہمت کیسے ہوئی مجھ سے ایسی بات کرنے کی بھی،،،،آپ نے سوچا بھی کیسے کہ ایسا کچھ ہوگا،،،، وہ جھٹکے سے مڑی اور دانت پیس کر بولی۔۔
اس کا متوقع رد عمل دیکھ کر اس نے ایک سرد سی سانس کھینچی۔۔
میرے دل نے کہا،،، دل کی ضد نے،،، جو مرنے لگا ہے آپ پر،،، آپ کے بغیر اب یہ ایک پل بھی زندگی کا تصور نہیں کرتا،، بہت سر پھرا ہے میری طرح،،، آپ کو اپنا بنا کر ہی چین کی سانس لے گا۔۔
وہ اطمینان سے اپنی آپ بیتی سنا رہا تھا۔۔
وہ شاکڈ سٹیٹ میں اسے گھورے گئی۔۔مگر سامنے والا بھی اسے نہارے گیا۔۔ایسا کبھی نہیں ہو سکتا،، آخر وہ بولی،،
بڑوں میں سب طے ہو چکا ہے،،، اطمینان قابلِ دید تھا۔۔
نو،،،، پاپا مجھ سے پوچھے بغیر کبھی کسی کہ حق میں فیصلہ نہیں دیں گے،،، اور میں انکار کرنے والی ہوں،،،
اب وہ بھی سکون سے بولی تھی۔۔
جبکہ یہ سن کر اس کے ماتھے پر بے شمار بل آئے تھے۔۔آپ ایسا کچھ نہیں کریں گی،، سنا آپ نے،،،
درشتگی سے کہتا وہ اب اس کی جانب بڑھا تھا۔۔
وہ سہم کر دو قدم پیچھے ہٹی مگر جلد ہی رکنا پڑا ۔۔کمر گلاس وال کے ساتھ لگی تھی۔۔
دور رہیں،،، پیچھے ہٹیں،،،، اسے سٹل اپنی جانب بڑھتا دیکھ وہ غرائی۔۔
ناممکن،، میری جان،،، نا اب آپ سے دور رہ پاؤں گا نا پیچھے ہٹو گا۔۔اور یہ جان لیں کہ شاہِ من دلاور اعظم کے ارادے چٹانوں کی طرح مضبوط ہوتے ہیں،۔۔۔
وہ بوجھل آواز میں کہتا اسے گہری نظروں کے حصار میں لیتا پانی پانی کر گیا۔۔
وہ اس کا ڈر محسوس کرتا اب ناچاہتے ہوئے بھی گرین ہاؤس میں داخل ہو چکا تھا۔۔
ثوبی نے موقع غنیمت جانا اور اندر دوڑ لگا دی۔۔
مگر اندر سے آتی چیخ پکار سن کر ٹھٹھکی۔۔
اتنی سی دیر میں یہ کیا ہوا تھا۔۔تیز قدموں سے اندر آئی تو پیروں نیچے سے زمین کھسکی۔۔
کچن میں ہر طرف آگ بھڑکی ہوئی تھی۔۔ہر طرف بنا ووڈ ورک جل کر خاکستر ہو رہا تھا کچن کے بیچ و بیچ امرحہ بےبی کھڑی زارو زار رو رہی تھی۔۔
جس نے اسٹوو کھلا چھوڑ کر آگ دکھا دی تھی۔۔
اندر جانے کا کوئی راستہ نہیں تھا چاروں جانب آگ بڑھک اٹھی تھی۔۔ کچن کے دروازے میں بھی لکڑی کا بڑا سٹینڈ جل رہا تھا۔۔
سارا چیخ پکار کر رہی تھی۔۔
فائر بریگیڈز کو فون کر دیا گیا تھا۔۔مگر امرحہ کی حالت بگڑتی جا رہی تھی۔۔
کیونکہ دھوئیں کے مرغولے اس قدر اٹھ رہے تھے کہ امرحہ کا دم گھٹنے لگا تھا۔۔
ثوبی نے ادھر ادھر دیکھا،،، بغیر سوچے سمجھے رابی کے روم کی طرف بھاگی۔۔
کمفرٹر اٹھا کر باہر آئی۔۔اور کچن کے پیچھے بنی کھڑی کی جانب بھاگی۔۔
کمفرٹر اندر آگ پر پھینکا،،، جونہی آگ تھوڑی دبی،، وہ سیکنڈوں میں اندر کود گئی۔۔
بجلی کی سی تیزی سے امرحہ کو اٹھایا۔۔
اور اپنے سکارف میں اسے لپیٹا۔۔
سب پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھے گئے ،،ثوبی نے اپنے پاپا کی جانب اشارہ کیا اور دروازے تک آئی۔۔۔جہانگیر آگے بڑھے۔۔ ثوبی نے امرحہ کو پورا زور لگا کر ہوا میں اچھالا۔۔
جہانگیر نے پھرتی سے امرحہ کو گود میں کیچ کر لیا۔۔ اور سارا کی گود میں دیا۔۔وہ بری طرح کھانس رہی تھی مگر ٹھیک تھی۔۔
جب شاہِ من لاؤنج میں داخل ہوا تھا تو سامنے کے منظر نے اس کا دل دہلایا۔۔
ثوبی نے پیچھے مڑ کر دیکھا،،، تب تک کمبل میں بھی آگ بھڑک اٹھی تھی۔۔اس کا دم گھٹا،، آنکھیں سرخ ہوئیں اور پانی بہنے لگا۔۔
وہ بری طرح گلا پکڑ کھانسنے لگی۔۔
اور فرش پر بیٹھتی چلی گئی۔۔
ثوبی،،، وہ دھاڑا اور کچن کی جانب لپکا،، دلاور اعظم نے اسے دبوچا۔۔
تب تک فائر فائٹرز ہاتھوں میں پائپ تھامے اندر داخل ہو چکے تھے۔۔
انھوں نے آگ بجھائی۔۔ایک فائر فائٹر ثوبی کی جانب بڑھا۔۔
ہیے یو،،، ڈونٹ ٹچ ہر،،، وہ دھاڑا۔۔
اور اندر لپک کر اس پر جھکا جو اب اپنے ہوش کھو بیٹھی تھی۔۔
اپنی جیکٹ اتار کر اس کے اوپر ڈالی۔۔
ثوبی،،، سر اٹھا کر بازو پر رکھا اور چہرہ تھپتھپایا۔۔
سر ان کا دم گھٹ گیا ہے انھیں دھوئیں سے دور لے جائیں۔۔
جہانگیر قریب آئے۔۔
وہ جانتا تھا ابھی اس کا اسے چھونے کا کوئی حق نہیں مگر وہ پھر بھی تڑپ کر کسی کی بھی پرواہ کیے بغیر اسے بانہوں میں بھر چکا تھا۔۔
صائمہ بیگم بے تحاشا رو رہیں تھیں۔۔ رنگ تو جہانگیر کے اور ان سب کے چہرے کا بھی اڑ چکا تھا۔۔
وہ اسے لئے اپنے روم کی جانب ہی بڑھا تھا۔۔
نرمی سے بیڈ پر لٹایا۔۔سب اس کے گرد جمع تھے۔۔
شاہِ من نے اس کی نبض چیک کی،، جو دھیمی تھی مگر چل رہی تھی۔۔
اس کی بند پلکیں دیکھ شاہِ من کی سانس سینے میں الجھ رہی تھیں۔۔
ثوبی،،، وہ مکمل اس پر جھکا اس کا گال تھپتھپا رہا تھا۔۔ کبھی اس کے ہاتھ کی ہتھیلیاں مسل رہا تھا۔۔
رانا جہانگیر سنجیدگی سے اسے دیکھ رہے تھے۔۔
رابی بھاگ کر پانی لے آئی۔۔تو شاہِ من نے اس کے منہ پر آہستگی سے چھینٹے پھینکے۔۔
ثوبی نے آہستگی سے کھانستے آنکھیں کھولیں۔۔
شاہ من نے ایک ہاتھ اس کی پچھلی گردن پر رکھا اور اسے زرا سا اوپر اٹھا کر لبوں سے پانی کا گلاس لگایا۔۔
ثوبی نے دو تین گھونٹ پانی کے پیے۔۔اور اوپر نگاہ اٹھائی خود پر جس شخص کو اتنے قریب جھکے پایا تو اس کے حواس سلب ہوئے۔۔
ہڑبڑا کر اٹھی۔۔ خود کی بکھری حالت ملاحظہ کی۔۔
سب کی سانس میں سانس آئی۔۔
ثوبی،، ،،،صائمہ بیگم نے پکارا۔۔ تو وہ ان کے سینے میں شرمندگی سے منہ دے گئی۔۔
رابی جاؤ،،، ثوبی بیٹی کے لئے اپنی کوئی شال لے کر آؤ،، دلاور اعظم نے کہا تو رابی کو ہوش آیا۔۔
وہ تیزی سے اپنے کمرے کی جانب گئی۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
وہ اب سب اسے آرام کرنے کا بول کر روم سے باہر آئے تھے۔۔
شاہِ من کو بھی نا چاہتے باہر آنا پڑا۔۔
آج اپنے روم سے ہی ایک نازک وجود کی موجودگی کی وجہ سے عشق میں گرفتار ہوا تھا جیسے۔۔ بوجھل قدموں سے باہر آیا تھا۔۔
سب لاؤنج میں پرسکون سے بیٹھے تھے۔۔
آج اگر ثوایبہ نا ہوتی تو جانے کیا ہوتا،،، سارا کی آنکھوں میں خوف کے سائے لہرائے مگر ساتھ ہی ثوبی کے لئے لہجے میں محبت اور عقیدت بھی تھی۔۔
بہت بہادر بچی ہے ماشاء اللہ،،، ثابت کر دیا کہ ایک بہادر سپاہی کی بیٹی ہے،،، دلاور اعظم بولے۔۔تو رانا جہانگیر کا سر فخر سے بلند سا ہوا۔۔
ادھر اندر وہ بے چین سی تھی۔۔اٹھ کر بیٹھی۔۔چاروں اور نگاہ دوڑائی کہ کس کے روم میں ہے۔۔مگر بیڈ کراؤن کے پیچھے بڑی شان سے دیوار پر لٹکے اس شاندار شخص کے پورٹریٹ پر پڑی تو اچھل کر بیڈ سے ایسے نیچے اتری جیسے بیڈ کوئی موذی چیز ہو۔۔
وہ جو کھڑکی پھلانگ کر پھر سے روم میں چلا آیا تھا اور اب کھڑکی میں کھڑا اس کے تاثرات نوٹ کر رہا تھا۔۔
اس کے تصویر دیکھ کر یوں اچھل کر بیڈ سے اترنے پر گہرا مسکرایا۔۔
اب وہ بھی اسے دیکھ چکی تھی۔۔
آپ یہاں کیا کر رہے ہیں،،،؟ وہ غرائی۔۔
اپنے روم کی نئی ہونے والی مالکن کو دیکھنے آیا تھا جو ابھی سے روم پر اپنا حق جتا رہی ہے،، اس نے دانتوں تلے لب دبا کر اسے چھیڑا تو وہ گڑبڑائی۔۔
دیکھئے آج آپکے گھر والے بھی کہہ رہے ہوں گے کہ میرے قدم آپ لوگوں کے لئے کس قدر منحوس ہیں کہ میرے پاؤں پڑتے ہی یہ حادثہ ہو گیا۔۔ اسی لئے آپ باز آ جائیں۔۔
ثوبی نے اسے اپنے سائیڈ افیکٹ بتائے۔۔
میرے گھر والے کہہ رہے ہیں کہ آپ کے قدم اس گھر کے لئے کتنے مبارک ہیں کہ آپ کی وجہ سے اس گھر کی بچی کی جان بچ گئی آج وہ زندہ ہے تو آپ کی وجہ سے۔۔
وہ گہرا مسکراتا بولا۔۔
ثوبی نے دانتوں تلے لب کچلے،،،
کبھی رو کر ان آنکھوں پر ظلم کرتی ہیں،، اور اب ان لبوں کی سختی لے آئیں ہیں،،، آخر مسئلہ کیا ہے آپ کو میری چیزوں سے۔۔۔
وہ اطمینان سے کہتا اس کے ہوش ٹھکانے لگا گیا۔۔
آپ کا دماغ خراب ہو گیا اور کچھ نہیں،، ،،، وہ سرخ پڑتی غرائی
گال دہک چکے تھے۔۔ روم سے باہر جانے لگی۔۔
تبھی اس کی کلائی شاہِ من کی سلگتی گرفت میں آئی تھی۔۔
وہ ٹھٹھک کر رکی۔۔
ثوبی کی اس تپش سے جان جلی۔۔
کیا ضرورت تھی رانا صاااب جھانسی کی رانی بننے کی اگر آپ کو ایک کھروچ بھی آتی تو میں پورے اعظم مینشن کو آگ لگا دیتا۔۔ اگر آپ کو کچھ ہو جاتا تو،، جس وقت میں آپ کو کچن سے اٹھا کر لایا تو آپ کو بے ہوش دیکھ کر میری جان لبوں پر آ گئی تھی،،،؟
اسکی آخری بات پر ثوبی کی آنکھیں حیرت سے پھٹی باہر ابلنے کو ہو گئیں۔۔۔
آپ،،، آپ کی ہمت کیسے ہوئی مجھے چھونے کی،،، وہ حیرت سے گنگ تھی۔۔
کیونکہ آج،،، کل ،،،پرسوں،، برسوں،،، اور ہمیشہ ہمیشہ آپ کو چھونے کا حق صرف اور صرف میرا ہوگا۔۔۔
وہ سنجیدگی سے بوجھل آواز میں بولا۔۔ ثوایبہ کی جان ہوا ہوئی،، ایک جھٹکے سے اس کی نرم گرفت سے کلائی چھڑائی اور باہر آ گئی۔۔
سب نے تشکر آمیز نگاہوں سے اسے دیکھا
شازیہ اور سارا نے اس کا ماتھا چوما،، بی جان نے اسے ڈھیر سارا پیار کیا۔۔
وہ بلش کر گئی۔۔
جلد ہی وہ گھر آگئے۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
کوئی خاص وجہ بیٹا اس رشتے کو ریجیکٹ کرنے کی،،،
جہانگیر جو کب سے اسے سمجھا رہے تھے اب سنجیدگی سے پوچھا۔۔
پاپا مجھے وہ پسند نہیں،،،،، اس نے نگاہیں چراتے کہا۔۔
اور ناپسند کرنے کی خاص وجہ،، وہ پھر پوچھ بیٹھے۔۔
پاپا،،، وہ بے چین سی انگلیاں مروڑے گئی۔۔پاپا وہ اچھا نہیں،،، آخر کچھ تو بولنا تھا۔۔
رانا جہانگیر کے ماتھے پر ڈھیر سارے بل آئے،،،، کیوں پرنسز اس نے کوئی بدتمیزی کی میری گڑیا کے ساتھ۔۔
وہ گڑبڑائی،،، مگر اب تو پھنس چکی تھی۔۔ جج جی پاپا۔۔
اوکے میں ان لوگوں کو انکار کر دیتا ہوں۔۔۔
آپ ریلیکس ہو جائیں۔۔
جی پاپا،،،، وہ بے چین ہوئی۔۔
اعظم مینشن میں ایک بھونچال سا آیا تھا جب ثوبی کے انکار کا پیغام ان تک پہنچا تھا۔۔
Continue,,,,,,,,,
