Shahe Mun By Wahiba Fatima Readelle50091 Episode 5
No Download Link
Rate this Novel
Episode 5
Episode 5.….
ماضی۔۔۔۔۔
ناتو خوشی کا غم ہے نا غم کی خوشی مجھے
بے بس بنا چکی ہے ،،،،،،، اب زندگی مجھے
یوں دیجئے،،،،،،،،، فریب محبت کا،،،،، عمر بھر
میں زندگی کو یاد کروں،،،،،،،،،، زندگی مجھے
وہ بری طرح ٹوٹ کر بکھری تھی کہ اپنا وجود سمیٹنا مشکل ترین امر لگ رہا تھا۔۔
کچھ دنوں تک بخار میں پھنکتی رہی۔۔
کہ ایک مرتبہ تو صائمہ بیگم اور رانا جہانگیر بھی پریشان ہو گئے تھے اس کی جانب سے۔۔
صائمہ نے رو رو کر برا حال کر دیا۔۔
اس دوران اسما بیگم بھی آئیں تھیں،،نشوان کی منگنی ہونے اور شادی کی ڈیٹ رکھے جانے کی مٹھائی لے کر۔۔
اس کی کچھ طبیعت سنبھلی تو وہ کالج گئی تھی۔۔ گل سب سے مبارکباد وصول کرتی پھر رہی تھی۔۔
اسے دیکھ لحظہ بھر کو گڑبڑائی مگر
بے شرمی تیرا آسرا کے مصداق مسکراتی اس کے پاس آئی۔۔
افففف اب دل پہ مت لینا ،،، نصیب نصیب کی بات ہوتی ہے یار۔۔۔ وہ سکون سے بولی۔۔
ثوبی نے ایک تحقیر بھری نگاہ سے اسے دیکھا۔۔ اور کلاس میں چلی گئی۔۔
اب یہ بات تو طے تھی کہ جب تک گل کی شادی نا ہو جاتی اور وہ اپنا منحوس وجود لے کر کالج سے دفع نا ہو جاتی وہ کالج نہیں آنے والی تھی۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
کوئی تدبیر ہے؟ ردِ بلا کی
محبت میرے پیچھے پڑ گئی ہے
وہ کافی دنوں سے بےسکون تھا،، کہیں بھی کوئی بھی ایسا کونا نہیں تھا جہاں سے شاہِ من دلاور چین سکون کشید کر لیتا۔۔ بے قراری حد سے سوا تھی۔۔سمجھ نہیں آ رہی تھی یہ بن کیا گیا تھا اس کے ساتھ۔۔
شاہِ من دلاور اعظم کی یہ حالت اس کی مما شازیہ بیگم بھی کافی دنوں سے نوٹ کر رہی تھیں۔۔
پھر نشوان کی شادی کے ہنگامے جاگ اٹھے۔۔۔
سب بے حد خوش تھے۔۔جانے کیوں مگر شاہِ من کو نشوان کی شادی کی بات کے ساتھ لاشعور میں ایک بات،، ایک چہرہ دو آنکھیں بار بار کیوں پریشان کر رہی تھیں۔۔
وہ سخت جھنجھلایا ہوا تھا۔۔۔
اب تو نشے میں دھت ہو کر،،، اپنے مکمل ہوش گنوا کر بھی دو آنکھیں اس کا پیچھا کرنے لگی تھیں۔۔
اسی لئے جھنجھلاہٹ عروج پر تھی۔۔
شادی کے فنکشنز میں اپنے آپ کو بزی اور گم کرنا چاہا مگر ناکام۔۔
بری طرح فیل،،،
بلکہ وہ تو لاشعور میں شاید کسی کا انتظار کر رہا تھا۔۔
بلکہ شاید نہیں یقینا۔۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
وہ ایک مستقل عذاب سے بڑی آسانی سے بچ نکلی تھی۔۔کہ عین نشوان کی شادی والے دنوں میں اس کے سمسٹر کا آغاز ہو چکا تھا۔۔
الله تعالیٰ بہت مہربان ہے ( بیشک) وہ جو دلوں کے صاف ہوتے ہیں ان پر رحم فرماتا ہے۔۔
سو ثوبی کو کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔۔
چونکہ نلگل بی نی کو پڑھائی سے کوئی دلچسپی نہیں تھی سو بیچ میں ہی چھوڑ چھاڑ دی۔۔
عین ولیمے والے دن وہ فری ہوئی تھی۔۔۔اس نے جانے سے انکار کیا مگر آج شاید اسے اپنے ہر ڈر کا دھوکے کے چہروں کا سامنا کرنا ہی تھا کہ اسما بیگم خود چلی آئیں ادے لینے
تو ناچار اسے تیار ہو کر ولیمے میں شرکت کرنی پڑی۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
شہر کے بڑے سے ہال میں ولیمے کا فنکشن تھا۔۔
وقت کا اشارہ تھا۔۔
آج ایک تارا آسمان سے ٹوٹا تھا۔۔
ایسا کھیل بدلنے والا تھا کہ تماشائی خود تماشا بننے جا رہا تھا۔۔
تبھی،،،،
شاہِ من دلاور اعظم نے جب اس بڑے سے ہال میں قدم رکھا،، تو کئی نوجوان دل اچھل کر حلق میں آئے تھے۔۔
ڈارک بلو جینز کی پینٹ کے اوپر وائٹ ٹی شرٹ اور بلو لیدر جیکٹ،،، جس کے بازو کہنیوں تک فولڈ کر رکھے،،، بے نیازی سے پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے ببل گم چباتا اندر آتے سن گلاسز اتارتا وہ قیامت ڈھا رہا تھا۔۔
اس قدر ہینڈسم،،، ٹال،،، سرخ وسفید رنگت اور ڈیشنگ کے ایک مرتبہ تو سب کی نگاہیں اس کی جانب اٹھی تھیں۔۔مگر ادھر وہی صدا کی لاپروائی۔۔
مگر کہا ناں کہ تماشائی آج خود تماشا بننے آیا تھا۔۔ کیونکہ اس کی قسمت کے تارے نے ٹوٹ کر خود اس سے بغاوت کی تھی۔۔
وہ اسی بے نیازی سے سٹیج کی جانب بڑھا۔۔
اپنے جگر نشوان احمد سے ملکر شادی کی مبارک دی۔۔۔
جبکہ ایک اچٹتی سی نگاہ اس کے پہلو میں بیٹھی اس داغا باز لڑکی پر ڈالی۔۔
یقینا نشوان احمد نے خسارے کا سودا کیا تھا کیونکہ جو لڑکی دوستی میں مخلص نا بن پائی وہ کوئی اور رشتے میں خاک مخلص ہوگی۔۔
افسوس،،،،
مگر وہ یونہی لاپرواہ سا بنا سٹیج سے نیچے اتر آیا۔۔
کچھ ہی دور جا کر اس کے قدم بے تحاشا ٹھٹھک کر وہیں فریز ہوئے تھے۔۔
کیونکہ وہ منظر دکھائی دیا تھا جس دیکھنے کی چاہ میں اس کا دل دن رات بے پناہ اذیت سے کرلایا تھا۔۔
نگاہیں ایک مرکز کی جانب اٹھیں تو پلٹنا بھول گئیں تھیں۔۔
اپنے خود کے الفاظ کانوں میں گونجے،،،، اونہہہ نفرت ہے مجھے مما،،، شدید ترین نفرت،،، اس ایک لفظ،،، لڑکی سے،، محبت سے،،، شادی سے،، ابھی تو اٹھائیس کا ہوں،، ایٹی کے بعد بھی یہی کہوں گا کہ اپنے فیصلے سے ایک انچ بھی نہیں ہلنے والا،،،، اور دنیا میں ایسی کوئی ہے نہیں جو شاہِ من دلاور کو اپیل کرے۔۔
اور اب وہ سامنے نظرین گاڑے کھڑا تھا۔۔ اور شدید قسم کا جھٹپٹا رہا تھا۔۔
اونہہہہہہ،،، اتنے کیل کانٹوں سے لیس ہوں گی تو کسی بھی مرد کو اپیل کریں گی۔۔
مگر وہ بھول گیا تھا وہ کسی بھی نہیں تھا وہ شاہِ من دلاور تھا۔۔
اور سامنے والی نے تو ہلکی لپ اسٹک اور نین کٹورا آنکھوں میں کاجل ہی لگا رکھا تھا تو۔۔
کیل کانٹے کہاں سے آ گئے۔۔
جب کہ حال میں باقی سب نے بہت ماڈرن ڈریس اور تیز میک اپ کر رکھے تھے۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
وہ کافی دیر سے اندر اٹھتے غم کے لاوے اور ابال کو دبانے کی کوشش میں ہلکان ہو رہی تھی۔۔
اور سٹیج سے کافی دور بیٹھی اپنے اندر ٹھنڈی ٹھار کولڈ ڈرنک گھونٹ گھونٹ انڈیل رہی تھی۔۔
ڈارک براؤن پیروں تک میکسی،، میں سفید رنگ ہیروں کی طرح دمک رہا تھا۔۔بالوں کا اونچا سا جوڑا بنائے۔۔سکارف کندھوں پر پھیلائے،، میک کے نام پر شاکنگ گلوز اور آنکھوں میں بھرا بھرا سیاہ کاجل،،، وہ بلکل باربی لگ رہی تھی۔۔
مگر چہرے پر ایک بے نام سی وحشت تھی۔۔
ثوبی،،،،، میں سلامی دے آؤں،،، مما کہہ کر سٹیج پر جا چکی تھیں ۔۔
وہ خالی، بے تاثر اور سرد نگاہوں سے سٹیج پر بیٹھے دلہا دلہن کو دیکھ رہی تھی۔۔
صد شکر کے اپنی نسوانیت، خودداری اور پندار کو نا ٹھیس لگوائی تھی کہ جی ہی نا پاتی،،،،، ڈی آئی جی رانا جہانگیر کی اکلوتی پرنسز پر جو قیامت کا طوفان گزرا تھا اس کی آنچ اس کہ ماں پاپا یا کسی خاندان والے تک ناں پہنچا تھا۔۔
اس کے خود کے علاوہ تین لوگ ہی تو جانتے تھے اس کی محبت کی بربادی کی داستان،، سٹیج پر بیٹھے دلہا دلہن،،
اور ایک اور شخص ۔۔
جس کے لئے اس نے دل کی گہرائیوں سے دعا کی تھی کہ اس کا کبھی دوبارہ زندگی میں سامنا نا ہو۔۔
مگر نہیں جانتی تھی رانا ثوایبہ جہانگیر،،، کہ اس کی محبت کی باقی دعاؤں کی طرح یہ دعا بھی قبولیت کا شرف بلکل بھی نہیں پا سکی تھی۔۔۔
کیونکہ کافی دیر سے اسے اپنا جسم کسی کی نگاہوں کی تپش سے جھلستا سلگتا سا محسوس ہو رہا تھا۔۔
ثوایبہ نے بے چین سا ہو کر پہلو بدلہ تبھی نگاہ ایک جانب اٹھی۔۔
اس کے پیروں نیچے سے زمین کھسکی تھی۔۔
چہرہ لہو چھلکاتے رنگ میں بدلا،،
مگر اس کے دیکھنے لینے کے باوجود سامنے والا ڈھیٹوں کی طرح اسے دیکھے گیا اور نگاہ اس پر سے ہٹانے کی بلکل بھی زحمت نہیں کی تھی۔۔
ثوایبہ کا دل کیا اس کا منہ نوچ لے۔۔یا کم از کم آنکھیں۔۔
من دھیمے قدموں سے چلتا اس کے قریب آیا تھا۔۔
جانے کیوں غیض وغضب ،،طیش،، کا طوفان دل میں اٹھا،، اور سامنے والی سے پنگا لینے کو دل کیا۔۔
آپ میرے دوست کو بددعائیں دے رہی ہیں،، اس نے ایک نظر سٹیج کی جانب دیکھ کر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں۔۔
ثوایبہ کا دل کیا اس کا منہ توڑ دے،،زبان کھینچ لے،،،،، دل میں ایک غم وغصے کا طوفان سا اٹھا۔۔
وہ اٹھ کر جانے لگی۔۔
میں نے آپ سے کچھ پوچھا ہے رانا صاااااااب،،، وہ لاپروائی سے بولا۔۔ اور نشوان کی طرح رانا کے بعد صاحب کو کھینچ کر بولا،
میں جواب دینا ضروری نہیں سمجھتی،،،، وہ بھوکی شیرنی بنی غرائی۔۔
من نے اس کا سرخ غصیلا چہرہ غور سے دیکھا۔۔
اس کی نگاہوں کی حدت،، سے وہ روح تک سلگ اٹھی۔۔
اور جانے لگی،، تبھی وہ اس کے سامنے چلا آیا،،
ثوایبہ کا چہرہ لال بھبوکا ہوا تھا،، سامنے والے کی دہکتی نگاہیں اس کے وجود کا طواف کر رہی تھیں ۔۔اس کا دل کیا انھیں نوچ کے پھینک دے۔۔
سنیں،،، آپ آنکھوں میں کاجل مت لگایا کریں،،، وہ اطمینان سے کھڑا اب اس کی ذات پر تبصرہ کر رہا تھا۔۔
بس کسی بہانے اسے اپنے سامنے روکنا چاہتا تھا اور کوئی بات کرنا چاہتا تھا۔۔
ادھر اپنی فرینڈ کے ساتھ کھڑی رابی پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹے تھے،،اپنے بھائی کو کسی لڑکی سے ایسے بات کرتے دیکھا کہ وہ جانے کو پر تول رہی ہو اور بھائی اس کی راہ میں حائل ہو کر کھڑا ہو،، اس سے پہلے یہ خوش کن منظر آنکھوں سے اوجھل ہوتا۔۔
وہ بہت تیزی سے کچھ دور بنے ٹیبل تک گئی۔۔
مما،،،، مما،،، ادھر آئیں میری بات سنیں،،، وہ انھیں گھسیٹتی کچھ دور لائی۔۔
رابی کیا آفت آ،،،،،، رابی کہ ایک طرف اشارہ کرنے پر اب حیرتوں کے پہاڑ شازیہ بیگم پر ٹوٹے تھے۔۔۔
ہٹیے سامنے سے،،، میرے راستے میں کھڑے ہیں آپ،،، ثوبی دانت پیس کر بولی۔۔
کیا پتہ جسے آپ رستے کا پتھر سمجھتے ہوں وہ کل کو نشانِ منزل بن جائے،،، لاپروائی پھر عروج پر تھی۔۔
اور بسسسس،،،،،،، ثوبی کی برداشت یہیں تک تھی۔۔وہ اس کے پہلو سے چھوٹے سے رستے سے نکلی۔۔
اس کا بازو شاہِ من کے بازو سے مس ہوا تھا،، مگر وہ اس قدر غصے میں تھی۔۔کہ نکلتی چلی گئی۔۔
وہ پتھر کا بنا کافی دیر وہیں کھڑا رہا۔۔اس لمس کے جادو نے اسے پتھر کا بنا دیا تھا۔۔۔
شازیہ بیگم بیٹے کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھتی رہیں۔۔جہاندیدہ تھیں آخر،،،
ان کی نگاہوں نے اس پیاری سی چھوٹی سی لڑکی کا بھی تعاقب کیا تھا۔۔ مگر جب وہ لڑکی ان کی بیسٹ فرینڈ صائمہ کے پاس جا کر رکی تو بے اختیار ہی ان کے قدم ان کی جانب بڑھے۔۔
سامنے ہی ثوبی کو مما نظر آ گئیں۔۔
مما چلیں ناں گھر،،، میری،،،،،
ارے شازیہ،،، کہاں گم تھیں بھئی میں کب سے تمھیں ڈھونڈو رہی ہوں،،، صائمہ نے قریب آتی شازیہ کو خود میں بھینچا،،،
میں تو یہیں ہوں تم بتاؤ یہ چھوٹی سی پری کون ہے اور پہلے نہیں ملوایا تم نے کبھی مجھے اس خوبصورت سی گڑیا کے ساتھ،،،
شازیہ نے مسکرا کر کہا تو ثوبی جھینپ گئی۔۔چہرہ گلنار ہو گیا،، اپنی مما کا بازو مضبوطی سے پکڑ لیا۔۔
شازیہ یہ میری اکلوتی بیٹی،،، میری پری ثوایبہ ہے،،، اور ثوبی ان سے ملو یہ میری کالج کی بہترین دوست شازیہ ہے،، اس دن میں ان سے تو ملنے گئی تھی۔۔
شاہِ من جو کافی دیر سے یہ سب دیکھ رہا تھا دھیمے دھیمے قدم اٹھاتا اپنی مما تک آیا۔۔
اسے دیکھ ثوبی کے چہرے پر پھر سایہ سا لہرایا جسے شازیہ بیگم اور شاہِ من نے بہت اچھے سے نوٹ کیا۔۔
مما میں گھر جا رہا ہوں،،، وہ بظاہر لاپروائی سے بولا ۔۔
شاہِ من ان سے ملو میری بیسٹ فرینڈ صائمہ ہیں اور نشوان کی مامی ہیں،، اور یہ ان کی بیٹی،،،
آگے سے بیٹی اپنی مما کے پیچھے تقریباً چھپ ہی گئی تھی۔۔شاہ من نے دانتوں تلے لب دبایا۔۔
ہائے آنٹی،،، کیسی ہیں آپ،،،
اور صائمہ یہ میرا پیارا سا بیٹا ہے شاہِ من ،، شازیہ نے سامنے کھڑی اس گھبرائی ہوئی سی لڑکی کا آنکھوں ہی آنکھوں میں صدقہ اتارا،۔۔
مما آنٹی کو دعوت دیجئے کہ وہ آئیں ہمارے گھر،،، وہ کن اکھیوں سے اسے دیکھتا بولا۔۔شازیہ بیگم کو جھٹکا لگا،، مگر یہ جھٹکا بےحد پیارا اور خوشگوار تھا۔۔
ہاں ہاں کیوں نہیں،،، صائمہ آنا ہمارے گھر،، جہانگیر بھائی کو لے کر اور اس پیاری سی پری کو لے کر،،، میری رابی سے بہت اچھی دوستی ہو جائے گی اس گڑیا کی۔۔
شازیہ بیگم اسے چٹا چٹ چومتے بولیں۔۔
وہ بے تحاشا نروس ہوئی۔۔
شاہِ من نے ایک مرتبہ پھر گہری نظر سے اسے دیکھا اور وہاں سے کسی فرینڈ کے بلانے پر نکلتا چلا گیا۔۔
ران صاحب آئے تو ثوبی کی گلو خلاصی ہوئی۔۔
پاپا میں تھک گئی ہوں ناں،،، طبیعت بھی ٹھیک نہیں میں نے گھر جانا ہے،،، وہ منہ بسور کر جہانگیر سے بولی تو انھیں ہنسی آئی۔
ثوبی نے دونوں ہاتھوں سے ان کا بازو تھام لیا کہ یہ اس کا مخصوص سٹائل تھا کھڑے ہونے کا۔۔
اب تمھاری مما کی باتیں ختم ہوں گی تو ہم جا پائیں گا ناں پرنسز،، جہانگیر صاحب نے چھیڑا۔۔
وہ تو لگتا پے آج ختم ہونی ہی نہیں،،، مما بھی جانے کب کب کے قصّے لے کر بیٹھ گئی ہیں پاپا،،، مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آئی سب سر سے گزر گئیں،،، وہ جھنجھلا کر بولی۔۔
تو رانا جہانگیر ہنس دیے۔۔جبکہ ثوبی کو پھر محسوس ہوا کہ وہ کسی کی پرتپش نگاہوں کے حصار میں ہے۔۔
اسی لیے اس کے جلدی کے شور مچانے پر وہ واپس آ گئے۔۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
وہ کافی دیر سے کھڑکی میں کھڑا فضول میں سموکنگ کر رہا تھا۔۔۔
اور دانیال کافی دیر سے اسے آبزرور کر رہا تھا۔۔
وہ اپنی خود کی کیفیت سے گھبرا کر دانیال سے ملنے اس کے اپارٹمنٹ میں آیا تھا۔۔
مگر یہاں آ کر اس کی وحشت،، بے چینی،، بے قراری مزید دو چند ہو گئی تھی۔۔
اس کے ہر عمل سے بے قراری اور بے سکونی چھلک رہی تھی۔۔
دانیال اس کے پاس آ کر کھڑکی میں کھڑا ہوا۔۔۔
کیسی گزری نشوان کی شادی،، دانیال نے پوچھا اور اسے غور سے دیکھا۔۔
نشوان کی شادی کے نام پر دو کاجل لگی غصیلی آنکھیں پھر زہن کے پردے پر لہرائیں۔۔
اچھی گزری،،، آپ کیوں نہیں آئے بھائی،،، اس کے لہجے میں شکوہ تھا۔۔
مگر زہن میں ایک غراتی آواز گونجی،،، ہٹیے سامنے سے،،، میرے رستے میں کھڑے ہیں آپ،،،،
ہونٹوں پر مبہم سی مسکان تھی۔۔
میری چھوڑو،،،،،،،،، تم بتاؤ،،،، دانیال کی گہری نگاہ تھی اس پر
Who is that girl,,,,,,,?????
واٹ،،، شاہِ من اپنی جگہ سے اچھلا۔۔
میں نے پوچھا کہ کون ہے وہ لڑکی،،، دانیال نے اسی اطمینان سے پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے اس سے پوچھا،، من دانیال کی جانب دیکھے گیا۔۔
مگر پھر نگاہ چرانی پڑی۔۔
یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ بھائی،،، ایسا کچھ نہیں ہے،،، وہ بے سکونی سے بولا
رئیلی،،، بس یہ بتا دو کہ کتنی راتوں سے سو نہیں پائے ہو،،، یا کب سے بے چین ہوں،، بے قرار ہو،، کہیں دل نہیں لگ رہا،، کسی چیز میں نہیں،،، بھوک پیاس کب سے اڑی ہے۔۔
دانیال نے اطمینان سے کہا۔۔
تو شاہِ من نے حیرت سے اسے دیکھا کہ اسے کیسے معلوم کہ اس کے ساتھ یہی کچھ ہو رہا ہے۔۔
تمھیں محبت ہو گئی ہے شاہِ من،، مان لو،،، جتنی جلدی مانو گے،، اتنا ہی سکون میں رہو گے۔۔
دانیال نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر سکون سے کہا۔۔
نو بھائی،،، ایسا نہیں ہو سکتا،،، اس کی آنکھوں میں خون اترا،،، میں اپنے ہاتھوں سے اس کا گلا دبا کر اسے مار ڈالونگا،،،
وہ دانت پیس کر بولتا آخر خود اپنے منہ سے اعترافِ جرم کر گیا کہ ہاں کوئی ہے جس نے اسے بس پاگل کر دیا ہے۔۔
دانیال مبہم سا مسکرایا۔۔رئیلی،،، کوشش کر کے دیکھ لو،،، شاید جان چھوٹ جائے،، مگر جان لو اب یہ ناممکن ہے،،
بھائی،،، وہ میرے دل و دماغ اور حواسوں پر زبردستی سوار ہو چکی ہے،،، کوئی ایسا طریقہ بتائیں نا کہ اسے جھٹک کر اپنی زندگی سے دور پھینک دوں،، اس کا ہر خیال نوچ دوں اپنے زہن سے،،،،
وہ بے بسی سے بولا۔۔۔
تو دانیال کے دل کو کچھ ہوا۔۔
کیوں،، ایسا کیوں کرو گے،،،،سکون حاصل کرنے کا دوسرا طریقہ بھی تو ہے،وہ یہ کہ حاصل کر لو اسے ،،،، مجھے بتاؤ کون ہے وہ،، اسے تمھارا بنا کر ہی چھوڑوں گا،،، ہر حال میں ہر قیمت پر،،، بتاؤ شاہِ من کون ہے وہ؟؟؟
دانیال نے اسے جھنجھوڑا۔۔
بھائی ،،،پلیز،،،، ابھی کچھ مت پوچھیں،،، وہ کہتا وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔
دانیال نے کرب و اذیت سے لب بھینچے۔۔
مگر یہ تو طے تھا کہ وہ زمین آسمان ایک کر دے گا مگر اپنے بھائی کی محبت پر آنچ تک نہیں آنے دے گا۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
وہ نشوان کے آفس میں اس کے سامنے بیٹھا کب سے پیپر ویٹ گھمانے کا شغل فرما رہا تھا۔۔
نشوان جو ابھی کچھ دن اپنے ہنی مون سے واپس آیا تھا غور سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔
خوشی اس کے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی۔۔
او بھائی میرے مسئلہ کیا ہے تمھارے ساتھ،،، نشوان نے پوچھ ہی لیا۔۔
I am in love,,,,,,,
شاہِ من نے سکون سے کہتے نشوان کے سر پر بم پھوڑا۔۔
What,,,,,,,,,,,, with who?
نشوان چلایا،،، مگر خوشگوار حیرت بھی ہوئی۔۔
With Rana Soiaba Jahngeer…
وہ اسی سکون سے بولا۔۔
تو پرابلم کیا ہے میرے بھائی ،،،،رشتہ بھیج،،،، نشوان سکون سے بولا،،، شاہِ من نے عجیب سی نگاہوں سے اسے کے خوشی سے دمکتے چہرے کو گھورا۔۔
اور تمھیں لگتا ہے یہ سب اتنا آسان ہے،،، وہ مان جائے گی،،، من کے دل میں عجیب سے وسوسے تھے۔۔ مگر وہ یہ نا بول پایا کہ اس کے دل میں جو تمھارے لئے فیلنگز ہیں ان کا کیا؟؟
تو منا میرے بھائی،، تم کس مرض کی دوا ہو،،، اب آگ کا دریا ہے تو ڈوبنا تو پڑے گا،،، اب چاہے منتیں ترلے کر یا پاؤں پکڑ یا گڑگڑا،
کچھ بھی کرو،،،
وہ لاپروائی سے بولا۔۔
شاہِ من نے اسے گھورا۔۔
مگر نشوان جب اٹھ کر لڈی ڈالنے لگا تو وہ بھی قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔۔
آنکھ ونک کرتا فوراً گھر آیا۔۔مگر راستے میں دانیال کو یہ خبر سنانا نہیں بھولا کہ اس نے محبت کے آگے گھٹنے ٹیک دئیے ہیں۔۔
سب لاؤنج میں موجود تھے۔۔
گھر آ کر وہ لاؤنج میں ہی شازیہ بیگم کی گود میں منہ دئے لیٹ گیا۔۔
کیا بات ہے میرا بچہ تھک گیا ہے،، شازیہ بیگم نے اس کے گھنے گہرے براؤن بالوں میں ہاتھ پھیرا۔۔
مما وہ آپ کی فرینڈ اور ان کی فیملی نہیں آئیں گھر،،،
اس کے اچانک پوچھنے پر شازیہ چونکی۔۔
ہاں وہ کل سنڈے ہیں ناں کل آنے والی ہے،،، رانا بھائی کو تو شاید فرصت نا ہو مگر وہ ضرور آئے گی۔۔
اور مما،،، ان کی وہ چھوٹی سی فیری بھی ساتھ آئے گی۔۔وہ پوچھ بیٹھا۔۔
رابی بی جان اور دلاور اعظم بھی چونکے۔۔
ہاں میں نے کہا ہے صائمہ کو کے ثوایبہ کو ضرور ساتھ لائے۔۔لیکن اگر تمھیں اس کا یہاں آنا پسند نہیں ہے تو میں صائمہ کو بول دیتی ہوں کہ اسے ساتھ نا لائے۔۔۔
شازیہ جان بوجھ کر لاپروائی سے بولیں۔۔
شاہِ من کے دل کو کچھ ہوا،، فوراََ اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔ مما میں چاہتا ہوں کہ وہ فیری ساری زندگی کے لئے اس گھر میں آ جائے۔۔
وہ سنجیدگی سے منہ لٹکا کے کہتا ان سب کو زندگی کی سب سے بڑی خوشی دے گیا۔۔
کیا؟؟؟ ایک مرتبہ پھر سے کہنا من،،، میں نے سہی طرح سنا نہیں،، دلاور اعظم نے چھیڑا۔۔
وہ جھینپ گیا اور یہ خوشگوار منظر بھی زندگی میں پہلی مرتبہ ہی دیکھنے کو ملا تھا۔۔
کم آن ڈیڈ،،، مجھے اس لڑکی سے شادی کرنی ہے،،، صرف اسی سے،،، اور کسی سے نہیں،،،
تو پھر دیر کس بات کی آج ہی چلتے ہیں رانا جہانگیر بھائی کے پاس،،، شازیہ سر خوشی سے بولیں
وہ دھیمے سے گہرا مسکرایا۔۔
اور دلچسپی سے اپنے گھر والوں کی پھرتی ملاحظہ کرنے لگا۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
