Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sahiba by Alaya Rajput Last Episode

اور ہمارے اس نمک حرام ملازم کے ہاتھ بابا جو یہ جھوٹا پیغام بھجوایا کہ میں کسی آشنا کے ساتھ بھاگ گئی ہوں۔
میں نیم بے ہوشی کی حالت میں کچرے کے ڈھیر پر پڑی تڑپ رہی تھی جب کسی اللّہ کے نیک بندے نے آکر میری مدد کی, اور مجھے قریبی ڈسپنسری میں لے جا کر ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔
چند گھنٹوں بعد جب میری حالت سنبھلی تو اس انسان نے مجھ سے میرا پتہ پوچھا اور انتہائی عزت کے ساتھ جیسے ہی مجھے حویلی کے دروازے تک چھوڑ واپس مڑا تو میرے بابا کے نمک حرام ملازموں نے جو چوہدریوں کے ہاتھوں بِک چکے تھے,اس غریب پر فائر کھول دیا۔
دیکھتے ہی دیکھتے وہ فرشتہ صفت اجنبی میری آنکھوں کے سامنے خون میں لت پت پڑا آخری سانسیں لے رہا تھا۔
اور مزاحمت کرنے پر میرے اپنے بابا نے اس اجنبی کو میرا آشنا…. اور جانے کیا کیا کہہ کر گھسیٹتے ہوئے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے لائبریری کے پیچھے بنی کال کوٹھری میں زنجیروں سے باندھ کر قید کر دیا۔
جہاں کئی کئی دن بعد ملازم مجھے باسی کھانا دے جاتے, جسے کھا کر میں اب تک زندہ رہی۔
اور آج اتنے سال بعد تم بھی نہ آتی تو شاید وہیں پڑے پڑے میری موت واقع ہوجاتی پر میرے بابا جو مجھ پر ترس نہ آتا, کیونکہ ان کی آنکھوں پر تو دوستی کی پٹی بندھی ہے۔
جسے وہ کبھی کھولنا ہی نہیں چاہتے۔
اسمہ جو دع دن کی لگاتار دیکھ بھال کے بعد اپنے حواسوں میں لوٹی تھیں لفظ با لفظ رتبہ کو خود پر بیتے ظلم بتاتی گئیں۔
جنہیں سن کر رتبہ کی آنکھیں بھیگتی چلیں گئیں۔
“ٹھیک کہا آپ نے!! جو انسان خود اس قدر ظالم ہوگا وہ اپنے پوتے کی بھی تو ایسی ہی تربیت کرے گا۔”رتبہ زہر خند لہجے میں گویا ہوئی۔
“مطلب؟”اسمہ کا لہجہ متحیر تھا۔
مطلب یہ کہ آپ کا بھتیجا اور میرا نام نہاد شوہر محسم مرزا اک زانی اور قاتل ہے۔
اس درندہ صفت انسان نے میری معصوم پندرہ سالہ بہن کو اپنی خود کو نشانہ بنا کر زندہ جلا دیا اور اس کے ساتھ ساتھ میرے پورے خاندان کو بھی نذر آتش کرڈالا۔رتبہ کے
لہجے میں شدید نفرت تھی۔
نہیں!!
ایسا نہیں ہوسکتا میرا خون اتنا گندا کبھی نہیں ہوسکتا۔
میں نے اپنے بھتیجے کو پالا نہیں پر اتنا یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ وہ اتنا کبھی نہیں گر سکتا, لکھوالو مجھ سے کہ ضرور کہیں کچھ گڑبڑ ہے,میرا محسم اتنا نہیں گر سکتا کبھی نہیں…
**********
“رتبہ کیسی ہو ؟”رتبہ جو غریبوں میں راشن تقسیم کرکے واپس حویلی کی جانب پلٹ رہی تھی کسی جانی پہچانی آواز پر رک گئی۔
“آ ااپ؟”رتبہ جونہی پلٹی اپنے عقب میں کھڑے موسٰی کو دیکھ کر حیران رہ گئی۔
“موسٰی آپ یہاں؟”
“ہاں میں یہاں تم سے ملنے آیا ہوں رتبہ ۔
“بہت سال ہوئے تمہیں دیکھے ہوئے۔ تم جو اک بار گئی تو لوٹی ہی نہیں۔لوٹا تو میں بھر نہیں پر کچھ مجبوریاں ہی ایسی تھیں کہ لوٹنا چاہتا بھی تو لوٹ نہ پاتا, زندگی نے رخ ہی ایسا بدلہ تھا کہ لوٹنا ناممکن سا ہوگیا تھا ۔محسم نے جھکی نظروں اور اداس لہجے کے ساتھ کہا۔
زندگی نے مجھے بھی اس موڑ پر لا پھینکا ہے کہ نہ تو میں آگے بڑھ سکتی ہوں نہ پیچھے مڑ سکتی ہوں۔رتبہ نے اپنی نظروں کا رخ آسمان کی جانب کر کے جواب دیا۔
“ایسا کچھ نہیں ہے رتبہ… تم آگے ضرور بڑھو گی اور آگے بڑھنے میں, میں تمہاری مدد کروں گا۔پر اس سے پہلے میں امید کرتا ہوں کہ تم مجھے معاف کردو گی۔میری بےوقوفی کے لئے۔”
“میں بھی کیا کرتا میں بدلے کی آگ میں اندھا ہوگیا تھا ۔”
“آپ کھا بول رہے ہیں موسٰی مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا۔اور پھپھو نہیں آئیں آپ کے ساتھ ؟”
“تمہاری پھپھو آج سے چار سال پہلے ہی مجھے تنہا چھوڑ کر اپنے پیارے شوہر کے پاس جاچکی ہیں۔😞
“کیا ااا؟”😱😲😲
“اور آپ نے مجھے بتانا بھی مناسب نہ سمجھا ؟”رتبہ کے لہجے میں ہزار شکوے تھے۔
“رتبہ مجھے معاف کردو پر تب حالات ہی کچھ ایسے تھے کہ میں نہ تو تم سے مل پایا نہ اپنا دکھ بتا پایا ,بس بدلے کی آگ میں جل جل کر دیوانہ ہوتا تم سے بھی تمہاری ساری خوشیاں چھین بیٹھا۔جس کے لئے میں حد درجہ نادم ہوں۔”
آپ کیا بول رہے ہیں مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا مُوسٰی۔رتبہ دو قدم آگے بڑھ کے موسی کے قریب آگئی۔
“دراصل تمہارے شوہر محسم مرزا اتنے سال سے بنا کسی سزا کے جیل کاٹ رہا ہے۔”😩
میں اسے اپنا کچھ نہیں مانتی تو پلیز اسے میرا شوہر مت بلائیں۔اور ویسے بھی وہ قاتل ہے میرے اپنوں کا۔”رتبہ کا لہجہ پل بھر میں سخت ہوا۔
“یہ سچ نہیں رتبہ۔”
دراصل تم بھی میری طرح اب تک اصل حقیقت سے ناواقف ہو۔”
پھر اک اک کرکے موسٰی رتبہ کو ہر بات بتاتا چلا گیا اور آخر میں اصل مجرم چوہدری شہباز کا بھی بتادیا۔
“کیااا؟”😱
“پر یہ سب آپ کو کیسے پتا چلا۔”اس سے پہلے کے رتبہ چکرا جاتی درخت کا سہارا لے لیا۔
“میں تو شاید یونہی انجان رہتا اگر مجھے میری پیاری بیوی نہ ملتی۔”اب کی بار موسٰی کی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی۔
بیوی ؟
آپ نے شادی کب کی۔رتبہ کو اس بار خوشگوار حیرت ہوئی۔
ملواتا ہوں,صبر کرو لڑکی۔موسٰی نے اپنی مسکراہٹ پر قابو پاتے کہا۔
سنو…موسٰی نے دائیں جانب منہ کرکے کسی کو مخاطب کیا تو پیچھے سے ل
پنک جوڑے میں ملبوس تتلی بنی فرح سامنے آئی جسے دیکھ کر رتبہ کی خوشی اپنے عروج پر تھی۔
فرح میری بہن تم زندہ ہو؟ رتبہ نے آگے بڑھ کے فرح کو گلے لگا کر پوچھا۔
جی آپی میں زندہ ہوں۔جانتی ہیں جس دن اس ذلیل انسان چوہدری شہباز نے ہمارے گھر کو آگ لگوائی اس دن قدرتی طور رانا مجھے اپنے ساتھ اپنے گھر لے گئی تھی۔
اور شاید قدرت کو میرا بچنا منظور تھا اس لئے مجھے بچا لیا۔
پھر مجھے کسی سے خبر ملی کہ آپ نے محسم مرزا کو مجرم سمجھ کر گرفتار کروا دیا ہے۔
انہیں دنوں موسٰی ہمارے جلے ہوئے گھر میں آئے تو رشنا نے انہیں ساری بات بتادی۔
تبھی موسٰی رشنا کے ساتھ مجھے ملنے آئے اور شادی کی پیشکش کی۔
میرے انکار پر انہوں نے مجھ سے کہا کہ فرح ہر مرد اک جیسا نہیں ہوتا میں تمہیں اپنی خوشی سے اپنا رہا ہوں۔
پھر رشنا اور رشنا کی امی کے زور پر میں نے ہاں کہہ دی اور آج میں اور موسٰی اک دوسرے کے ساتھ ہیں۔😍
مجھے معاف کردو رتبہ …میری ہی وجہ سے محسم نے اپنے ناکردہ گناہ کی چار سال سزا کاٹی۔پر اب مزید ایسا کچھ نہیں ہوگا میں نے اصل مجرموں (چوہدری شہباز اور اس کے باپ چوہدری دلاور) کو کیفرکردار تک پہنچایا ہے۔اب وہ دونوں باپ بیٹا جلد ہی زیادتی اور قتل کے جرم میں تختہ دار تک. پہنچ جائیں گے ۔
اور محسم؟😔
رتبہ نے اتنے عرصے میں پہلی بار تڑپ کر اپنے محبوب شوہر کا نام لیا۔
آج رات تک باعزت بری ہوکر گھر لوٹ آئے گا۔موسٰی نے. مسکرا کر کہا تو رتبہ جھینپ سی گئی ۔
********
رتبہ نے آج محسم کا دیا وہی لال جوڑا زیب تن کیا تھا جو اس نے اسے نکاح کے دن دیا تھا ۔
وہ کمرے میں ہر دیے جلائے پھولوں کی سیج پر بیٹھی اپنے محبوب شوہر کا انتظار کررہی تھی ,جب ہینڈل گھما کر محسم اندر داخل ہوا ۔
ہر طرف جلتے دیے اور پھولوں کی بکھری پتیاں محسم کو متحیر کرگئیں, پھر سر جھٹک کے جیسے ہی محسم کمرے سےواپس جانے لگا تو اپنے قدموں کو کسی مضبوط حصار میں پا کر رکنے پر مجبور ہو گیا۔
محسم نے جھک کر نیچے دیکھا تو رتبہ محسم کے قدموں سے لپٹی زارو قطار رو رہی تھی۔
“معاف کردیجئے مجھے, حالانکہ میں معافی کے قابل نہیں,پر اب سچائی جان کر اپنی غلطی کے بوجھ تلے جینا بھی آسان نہیں۔”
“چھوڑو مجھے۔”😕محسم نے سپاٹ لہجے میں روتی دھوتی رتبہ سے کہا۔
نہیں… 😨
“میں نہیں چھوڑوں گی۔مجھے پتا ہے آپ مجھ سے کبھی بات نہیں کریں گے اور مجھے تنہا چھوڑ جائیں گے۔”🙄
میں نہیں جی پاؤں گی موسم اب آپ کے بنا…
میرا آپ کے سوا کوئی نہیں, یہ ظلم مت کریں پلیز میں نے جو بھی کیا انجانے میں کیا۔
اس انجانے میں کی جانے والی غلطی کی مجھے اتنی بڑی سزا نہ دیں خدا کے لئے… 😭
“میں کہہ رہا ہوں مجھے چھوڑو… 😐
“نہیں چھوڑنا ۔”😥
“چھوڑو ۔”😠
“نہیں۔”😢
اگر تم چھوڑو گی نہیں تو اپنی منہ دکھائی سے محروم رہ جاؤ گی۔محسم نے آنکھوں میں شرارت لئے رتبہ کو بازوؤں ست پکڑ کے اپنے برابر کھڑا کرکے کہا تو پہلے تو رتبہ حیران ہوئی پھر گھبرا کر نظریں جھکا لیں۔
تبھی محسم نے آہستگی سے رتبہ کو خود سے الگ کیا اور اپنی الماری کی طرف بڑھ گیا۔
تھوڑی دیر بعد محسم چھوٹی سی ڈبیا لئے رتبہ کی طرف آیا اور اسے کھول کر اس میں سے ننھے سے نگینے والی نازک سی چین نکال کر رتبہ کے گلے میں پہنا کر اسے اپنے مضبوط حصار میں لے لیا۔😍
معاف اسے کیا جاتا ہے جس سے کو ناراضگی یو, اور تم سے اب کوئی ناراضگی نہیں تو معافی کیسی….
ہاں گلہ ضرور تھا پر اب موسٰی کی ساری غلط فہمی دور کرنے سے وہ بھی باقی نہیں رہا۔
محسم کی بات سن کے رتبہ کی آنکھیں اک بار
نم ہوئیں جسے محسم نے اپنی انگلیوں کی پوروں سے صاف کرکے ان پر اپنے لب رکھ کر کہا مرزا کی صاحبہ اب بس رونا دھونا اور دکھی باتیں, اب تو محبت ہی محبت ہوگی,محسم کی بات سن کے رتبہ نے شرما کے اپنا چہرہ محسم کے چوڑے سینے میں چھپا لیا۔
چند سال بعد….
موسٰی کیا آپ بھی ہر وقت بچوں کی طرح گندگی مچائے رکھتے ہیں۔
فرح جو کہ ابھی ابھی اپنا سیکنڈ ائیر کا پیپر دے کر لوٹی تھی منہ بنا کر کہتی کمرے میں بکھرے جگہ جگہ لیز اور کرکرے کے خالی پیکٹ اٹھانے لگی۔
دیکھوذرا اک میں ہوں جو پیپر دے کر تھکی ہاری لوٹی بنا آرام کئے کاموں میں جت گئی اور ادھر یہ دونوں باپ بیٹا گندگی پھیلا کر مزے سے سورہے ہیں۔فرح نے بیڈ پر چت لیٹے موسٰی کے اوپر اوندھے منہ سوئے مجاہد کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہتی جیسے ہی مڑی تو اپنا ہاتھ کسی مضبوط گرفت میں پا کر رکنے پر مجبور ہوگئی۔
کہاں جا رہی ہیں محترمہ آئیے نہ دو پل آپ بھی ہمارے ساتھ کھیل لیں۔مُوسٰی نے آنکھوں میں ڈھیر ساری شرارتیں لئے ہوئے کہا تو فرح جھینپ سی گئی۔
نہیں جی مجھے آپ دونوں کے ساتھ بچی بننے کا کوئی شوق نہیں فرح رخ موڑ بس اتنا ہی کہہ پائی۔کیونکہ اس پل مُوسٰی کی معصوم آنکھوں میں چھپی محبت فرح کو شرمانے پر مجبور کررہی تھی۔
“آپ دونوں باپ بیٹا ہمیشہ یوں ہی تنگ کرنے والے ہیں مجھے بتادیں؟”😳فرح نے بات بدل کر کہا۔
“جی ہاں بلکل۔”😍موسٰی نے بھی سعادت مندی سے جواب دیا۔
مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے موسٰی…فرح کے چہرے پر پل بھر میں سنجیدگی در آئی تھی۔
موسٰی میں نے چوہدری شہباز کے روپ میں مرد کا اتنا گھناؤناروپ دیکھا ہے کہ مجھے مرد ذات سے نفرت ہوگئی تھی۔
پر جب آپ ملے آپ نے مجھے کسی اور کے بچے سمیت اپنایا اور اتنی خوشیاں دیں جن کا میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا تو مجھے یقین ہوگیا کہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں۔
بلکہ دنیا میں آپ جیسے اعلٰی ظرف کے مرد بھی ہوتے ہیں جو نہ صرف اک بے آبرو لڑکی کو اپنی عزت بناتے ہیں بلکہ اس کے بچے کو بھی اپنا نام دے کر دنیا کی باتوں ’طعنوں اور ٹھوکروں سے بچاتے ہیں۔
میں چاہ کر بھی آپ کا احسان کبھی نہیں چکا سکتی مُوسٰی….😢
آئی لو یو💗
خبردار جو آج کے بعد تم نے مجاہد کو میری ذات سے الگ کہا تو….
مجاہد میرا بچہ میری جان ہے ۔
اور رہی بات جو میں نے تمہیں اپنایا تو کوئی احسان نہیں کیا تم پر, بلکہ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ اک اتنی معصوم اور پیاری جیون ساتھی مجھے ملی۔
اور ہاں اک بات اور کہنا چاہوں گا جو لوگ ایسی لڑکیوں کو اپنانے سے کتراتے ہیں اور برا کہتے ہیں جو کسی حادثے کا شکار رہ چکی ہوں۔ وہ دراصل خود کم ظرف ہیں۔
مجھے تو میرا دین صلہ رحمی سکھاتا ہے۔محبت بانٹنا سکھاتا ہے۔دوسروں کے کام آنا سکھاتا ہے۔اسی لئے میں تو وہی کروں گا جو مجھے میرا دین اسلام سکھاتا ہے۔
اوروں کی مجھے پرواہ نہیں۔
ہاں اک وقت آیا تھا جب میں اپنوں کو کھو کر بدلے کی آگ میں حد سے سے آگے بڑھ گیا تھا۔
پر شکر اس ذات کریم کا,جس نے مجھے سیدھا راستہ دکھا کر میرے اندر کے شیطان کو ختم کر دیا۔
اچھا بس اب چھوڑو یہ باتیں اور چلو میرے ساتھ پیکنگ کرلیں, کیونکہ تھوڑی ہی دیر پہلے مجھے محسم کی کال آئی تھی جو بتا رہا تھا کہ کل کی ٹکٹس کنفرم ہوگئیں ہیں ہم سب کل عمرہ کی ادئیگی کے لئے جارہے ہیں ۔موسٰی اپنی اور فرح کی آنکھوں میں آئے آنسو صاف کرتا بات بدل گیا اور فرح بھی خوشخبری سن کر فورًا پیکنگ میں لگ گئی۔
*********
موئز ’حائز ’ حزہ رکو سب بیٹا کیا تم سب نے مل کر دھمال مچا رکھی ہے, لان کا حال…اففف میرے اللّہ رکو تم تینوں تمہیں میں پوچھتی ہوں ۔رُتبہ اپنے تڑواں بچوں موئز ‘حائز اور حزہ کے پیچھے بھاگتی بے حال ہورہی تھی جب کسی نے اک دم سے اس کا ہاتھ پکڑ کے اپنے ساتھ لگا روکا۔
اوہو کون ہے؟😳 تیز ہوا کے جھونکوں سے چہرے پر آئے بال ہٹاتی رُتبہ منہ بنا کر بولی۔
اوہ تو آپ ہیں محسم ؟ آپ بھی نہ بچوں والی حرکتیں مت کیجئے گا اب, پہلے ہی میں بچوں کے ساتھ بھاگتی دوڑتی تھکی پڑی ہوں۔👊🙈🙈
رُتبہ محسم کی نگاہوں کی حدت سے گھبراتی بات بدل رہی تھی۔
اچھا جی شرما گئی ہماری بیگم؟😍
چلیں ٹھیک ہے کوئی شرارت نہیں ہوگی جانِ محسم…
میں تو بس یہ بتانے آیا تھا کہ عمرے کی ٹکٹس تیار ہیں اور ہم سب کل شام عمرہ کی ادائیگی کے لئے نکل رہے ہیں۔
چلیے پھر پیکنگ کرتے ہیں۔رُتبہ کے کہنے پر محسم اس کے پیچھے پیچھے چل دیا۔
*********
بابا جانی میں جانتی ہوں آپ نے جو بھی کیا غلط کیا پر اب میں آپ کو معاف کر چکی ہوں۔کیونکہ میرے اور جانے کتنی ہی معصوم لڑکیوں کے مجرم کیفرکردار تک پہنچ چکے ہیں۔
ہاں بابا ان دونوں باپ بیٹے دلاور اور شہباز کو سزائے موت ہوچکی ہے۔
بس بابا اب اک بار آپ بھی اپنی اسمہ کو گلے لگالیں… بس اک بار….😢
اسمہ پھپھو اٹھیں ہماری فلائٹ کا وقت ہورہا ہے۔اپنے بابا مرزا سہراب کی قبر پر آنسو بہاتی اسمہ کو کاندھوں سے پکڑ کے اٹھاتے محسم نے کہا اور خود میں بینچ لیا۔
میں ہوں نہ آپ کا بیٹا پھر کیوں روتی ہیں آپ…😊
چلیے میرے ساتھ…کہتا محسم ان کو اور اپنے بیوی بچوں کو لے کر شہر کی جانب نکل پڑا جہاں سے موسٰی اور فرح کو لے سب عمرہ کی ادائیگی کے لئے جانے والے تھے۔
ختم شد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *