Sahiba by Alaya Rajput NovelR50711 Sahiba by Alaya Rajput Episode 11
No Download Link
185.7K
15
Rate this Novel
Sahiba by Alaya Rajput Episode 01 Sahiba by Alaya Rajput Episode 02 Sahiba by Alaya Rajput Episode 03 Sahiba by Alaya Rajput Episode 04 Sahiba by Alaya Rajput Episode 05 Sahiba by Alaya Rajput Episode 06 Sahiba by Alaya Rajput Episode 07 Sahiba by Alaya Rajput Episode 08,09 Sahiba by Alaya Rajput Episode 10 Sahiba by Alaya Rajput Episode 11 (Watching)Sahiba by Alaya Rajput Episode 12 Sahiba by Alaya Rajput Episode 13 Sahiba by Alaya Rajput Episode 14 Sahiba by Alaya Rajput Episode 15 Sahiba by Alaya Rajput Last Episode
Sahiba by Alaya Rajput Episode 11
رُتبہ اگر دل کی بہت نرم تھی تو بے پناہ غصیلی بھی تھی۔اور آج چوکیدار کے ٹکے سے جواب نے اس کا دماغ گھما کر رکھ دیا تھا۔
“یہ محسم مرزا خود کو بڑی کوئی توپ چیز سمجھتا ہے۔”
“پر اس کو یہ نہیں پتا کہ میں بھی رتبہ ہوں اپنے نام کی ایک!!
“اگر میں کسی کی نیکی کا بدلہ نہیں رکھتی تو رکھتی میں بےعزتی کا بدلہ بھی نہیں۔”
“جیسی بے عزتی اس نے میری کروائی ہے نہ اپنے اس موٹے چوکیدار کے ہاتھوں گیٹ سے واپس بھیج کر ,زندگی میں کبھی ملا تو اس سے ڈبل اس کی کروں گی۔”
“عقل ٹھکانے نہ لگا دی اس محسم مرزا کی تو میرا نام بھی رتبہ نہیں۔”
یہ سچ تھا کہ رُتبہ بہت نرم دل لڑکی تھی پر جب غصے میں آتی سامنے والے کی ایسی کی تیسی کرکے رکھ دیتی تھی, اور یہی ایسی کی تیسی عنقریب اب محسم مرزا کی ہونے والی تھی۔
**********
آج پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ چوہدری شہباز کی
باتوں میں محسم مرزا کا دل نہیں لگ رہا تھا۔
حالانکہ چوہدری شہباز محسم کے دل میں بھائی کا درجہ رکھتا تھا اور وہ ہمیشہ اس کی باتوں کو توجہ سے سنتا تھا پر آج پہلی بار محسم کو اپنے بھائی جیسے شہباز کے ساتھ بیٹھنے کو بھی دل نہیں کر رہا تھا کیونکہ اس کا دل تو رُتبہ میں اٹکا تھا تو وہ کیسے چوہدری شہباز کے ساتھ لگ سکتا تھا۔
“اوہ بھائی میں کب سے بولے جا رہا ہوں اور تم ہو کہ مجھ سے بات کرنا تو دور جواب دینا بھی مناسب نہیں سمجھ رہے۔”چوہدری شہباز نے جب لگاتار ایک گھنٹہ اکیلے ہی بولنے کے بعد محسم مرزا کی خاموشی دیکھی تو خفا ہونے کے انداز میں کہا۔
“ارے نہیں یار دے تو رہا ہوں تمہاری باتوں کا جواب۔”محسم نے کھسیانی ہنسہ ہنس کر کہا۔
“جی جی بلکل دے رہے ہیں محترم میری باتوں کا جواب صرف ہونہہ ہاں میں۔”
شہباز کے منہ بنا کر کہنے پر محسم کا ایک بار پھر جاندار قہقہہ بلند ہوا۔
“ارے نہیں یار ایسی کوئی بات نہیں شاید طبیعت کا اثر ہے جو بولنے کو ٹھیک سے دل نہیں کررہا۔”محسم نے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا۔
“اچھا یار اگر طبیعت ٹھیک نہیں تو یہ لو میڈیسن کھاؤاور آرام کرو۔ “چوہدری شہباز کو شیطانی سوجھی تبھی محسم کی دوا میں نیند کی گولی شامل کر کے اسے کھلا دی تاکہ وہ لمبا سوتا رہے اور چوہدری شہباز جو کانڈ کرنا ہے اسے آسانی سے سرانجام دے۔
میں تو خود یہی چاہتا تھا کہ تو سو جائے گہری نیند تاکہ مجھے آسانی ہو جائے۔
ورنہ اگر تجھ کو پتا چل گیا کہ میں نے تیرے گاؤں کی لڑکی کو اپنے ہاتھ کا کھلونا بنایا ہے تو جان لے لے گا میری تُو۔
اچھے سے جانتا ہوں تجھے تونے تو میری لاکھ کوشش کے باوجود کبھی کسی ناچنے والی عورت کو نظر اٹھا کے نہیں دیکھا تو کسی عزت دار لڑکی کو برباد ہوتے کیسے دیکھ سکتا ہے اوپر سے وہ ہے بھی تیرے گاؤں گی کی۔خون پی جائے گا میرا اگر بھنک بھی لگ گئی تجھے اس بات کی۔ اس لئے تیرا سونا ہی بہتر ہے۔چوہدری شہباز محسم کو دیکھتا دل ہی دل میں سوچتا اسے آرام کرنے کی تاکید کرتا محسم کے کمرے سے باہر نکل کر حویلی کی پچھلی سائیڈ پر آگیا جہاں مکمل طور سنسانی کا راج تھا۔
***********
وہ آدمی چوہدری شہباز کا پیغام پہنچا کر کب کا جا چکا تھا۔
اور فرح اس کے جانے کے بعد بھی اپنی جگہ سے ہل نہیں پا رہی تھی ۔
اسے لگ رہا تھا کے زمین نے اس کے پاؤں جکڑ لئے ہیں اور اب وہ کبھی ہل نہیں پائے گی۔
بہت دیر یونہی کھڑے رہنے کے بعد اپنے اندر ہمت متجمع کرتی فرح مرے مرے قدموں کے ساتھ وہاں سے چلی تو اچانک کسی نے عقب سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا جس کی وجہ سے فرح ایک بار پھر بری طرح خوفزدہ ہوگئی, اور آس بار گھبراہٹ میں اس کے گلے سے ایک چیخ نکلی جس نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کھڑی رشنا کو حیران و پریشان کردیا۔
“ارے پگلی تم ڈر گئی؟”
“یہ میں ہوں رشنا۔” فرح کی بچپن کی سہیلی رشنا نے اس کے عین سامنے آکر اس کے دونوں کندھوں پر ہاتھ رکھ کر کہا تو فرح کی خوف سے رکی سانس بحال ہوئی۔
“ارے تم اتنی ڈری ہوئی کیوں ہو؟”
“تم تو ڈرنے والوں میں سے نہیں۔”
“الٹا تم مجھے بچپن میں پیچھے سے آکر بھاؤ کر کے ڈرایا کرتی تھی یاد ہے نہ؟”
“اور اب تم بس کندھے پر ہاتھ رکھنے سے ایسے ڈری ہو جیسے کوئی وحشی جانور دیکھ لیا ہو۔”
“جو وحشی جانور میں نے دیکھا خدا نہ کرے کہ کبھی کسی کی بیٹی کو دیکھنا پڑے۔”فرح نے ہر ایک کی بیٹی کو دل ہی دل میں صدق دل سے دعاء دی۔
“اووو کہاں کھو گئی بہن؟”
“طبیعت تو ٹھیک ہے نہ تمہاری؟” اب کی بار رشنا نے پریشانی سے فرح کا ماتھا چھوا۔
“ہاں میں؟”
” ہاں ہاں بلکل ٹھیک ہوں۔”فرح کے حواس باختہ انداز پر رشنا نے مشکوک نظروں سے فرح کو دیکھا۔
“سب خیریت ہے نہ فرح؟”
” تمہیں آج سے پہلے کبھی میں نے اتنا گھبرایا ہوا نہیں دیکھا۔”
“اگر کوئی پریشانی کی بات ہے تو مجھے بتاؤ میں تمہاری بچپن کی سکھی ہوں, اگر کوئی پریشانی کی بات ہے تو تم بلا جھجھک مجھ سے کر سکتی ہو۔”رشنا نے محبت سے فرح کو دیکھ کر کہا۔
“ارے نہیں نہیں ایسی کوئی بات نہیں بس یونہی گرمی بہت ہے نہ اس لئے ذرا گرمی نے دماغ گھما رکھا ہے, اور کوئی بات نہیں تم یونہی بنا بات کہ پریشان ہورہی ہو ایسا کچھ نہیں رشنا۔”
“اچھا اگر تم اتنا کہہ رہی ہو تو مان لیتی ہوں۔”
“اچھا یہ بتاؤ شام کو کیا کررہی ہو؟”
“بہت دن ہوئے مل کر کھیلے نہیں ہم چلو آج کھیلتے ہیں۔”
“آاااج شام؟”
” نہیں نہیں آج نہیں پھر ررر کبھی۔”فرح کا ایک بار حواس باختہ انداز رشنا کو پریشان کرگیا۔
“ارے پگلی کیا ہوگیا کیوں اتنا گھبرائی ہوئی ہو تم۔”رشنا کو اس بار یقین ہوگیا کہ ضرور کوئی بات ہے جو فرح جیسی ہر وقت ہنسنے مسکرانے والی لڑکی یوں گھبرائی ہوئی ہے۔
“کچھ نہیں رشنا پھر ملیں گے ابھی مجھے دیر ہو رہی اماں ڈانٹیں گی اگر میں وقت پر گھر نہ پہنچی تو۔”فرح رشنا کے سوالوں سے بچنے کے لئے تیزی سے آگے بڑھ گئی اور رشنا اسے آوازیں دیتی رہ گئی۔
***********
رُتبہ اداس سی اپنے کمرے کی کھڑکی میں بیٹھی چاند کو دیکھ رہی تھی, جب کسی نے پیچھے سے آکر اسے بھاؤ کر کے ڈرا دیا۔
“ہائے اللّہ جی۔”رُتبہ نے دل پر ہاتھ رکھ کے اپنے عقب میں دیکھا تو زبیر کھڑا ہنس رہا تھا۔
“سوری آپی میں نے تو مذاق کیا تھا مجھے نہیں پتا تھا کہ میری آپی کا دل اتنا چھوٹا سا ہے جو صرف بھاؤ کرنے سے ڈر گیا۔” زبیر رُتبہ کی حالت پر مسلسل ہنس رہا تھا۔
نہیں اتنی بھی ڈرپوک نہیں بس اپنے دھیان بیٹھی تھی نہ اس لئے ڈر گئی۔رُتبہ نے اپنی خفت مٹانے کے لئے کہا۔
رُتبہ پہلے ہی اداس سی بیٹھی موسٰی اور بشرٰی کو یاد کر رہی تھی, اوپر سے زبیر کی شرارت نے اسے موسٰی کی مزید یاد دلا دی۔
موسٰی ایسے ہی ہمیشہ رتبہ کو پیچھے سے آ کر ڈرایا کرتا تھا۔
اور وہ بھی ہمیشہ بری ڈر کے موسٰی سے جھگڑا کیا کرتی تھی, جس سے وہ خوب محظوظ ہوتا تھا اور رُتبہ کو مزید تنگ کرتا تھا۔
بشرٰی پھپھو موسٰی پلیز لوٹ آئیں میں بہت اداس ہوں آپ دونوں کے بنا۔ رتبہ کے دل سے صدا نکلی۔
“ارے آپی کہاں کھو گئیں ہیں آپ؟”
آئیں نہ لڈو کھیلیں۔ زبیر ہاتھ میں لڈو لئے اسے کھیلنے کی آفر کر رہا تھا اور رُتبہ کو لڈو دیکھتے ہی ایک پل کے لئے محسم مرزا کے ساتھ خوشگوار ماحول میں کھیلی جانے والی لڈو کی بازی یاد آگئی۔
پر دوسرے ہی پل اسے وہ چوکیدار کی طرف سے دیا گیا ٹکا سا جواب یاد آگیا اور اس کا موڈ آف ہوگیا۔
“ارے آپی بیٹھے بیٹھے آپ کا موڈ خراب کیوں ہوگیا ؟جو یوں غصے بھرا چہرہ لئے بیٹھی ہیں۔”
“کیا آپ کو میرا مذاق کرنا برا لگا؟”اس بار زبیر اپنی حرکت پر نادم ہوا۔
“ارے نہیں میرے پیارے بھائی مجھے تمہاری یہ معصوم شرارت بلکل بری نہیں لگی۔”
“بس مجھے کسی ایسے انسان کی یاد آگئی تھی جس پر مجھے شدید غصہ ہے۔”
“خیر چلو آؤ ہم لڈو کھیلیں۔”
“چلیں آپی کھیلتے ہیں۔”
زبیر بھی خوش ہو کر زمین پر لڈو لے کر بیٹھ گیا, اور ساتھ ہی رتبہ بھی بیٹھ گئی اور دونوں لڈو کھیلنے لگے۔
**********
فرح ہانپتی کانپتی گھر پہنچی تو سیدھی اپنی اماں سے ٹکرائی۔
“ارے فرح میری بچی کیا ہوا تو اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہے؟”
“ہاں ں ں میں ں ں ؟”
“نہیں تو اماں م م میں تو نہیں گھبرائی۔”فرح نے پھولی سانس کے ساتھ جواب دیا۔
“میری جان میں تیری ماں ہوں اور ماں اپنی بچے کے بنا کہے ہی سب کچھ سمجھ جاتی ہے۔
” کیونکہ اللّہ پاک نے ماں کو وہ خاص نظر دی ہے جس سے وہ اپنے بچے کے ہر دکھ درد کو پل بھر میں بھانپ لیتی ہے۔”
“میری بچی بتا مجھے کیا بات ہے؟”
” جو تجھے اندر ہی اندر تڑپا رہی ہےاور تو چاہ کر بھی وہ بات اپنی ماں کو نہیں بتا پا رہی۔”
“بتا مجھے کیوں تو اب پہلے والی فرح نہیں رہی؟ “
“کیوں تو ہر وقت ڈری سہمی پورے گھر میں باؤلی بنی گھومتی ہے؟”
“کیوں تو پہلے کی طرح مستی ,شرارت نہیں کرتی؟”
“بول میری بچی کیا پریشانی ہے؟ جو اندر ہی اندر گھن کی طرح کھا رہی ہے تجھے۔”
فرح کی اماں نے جب فرح کو سینے سے لگا کر نرمی سے پوچھا تو ایک پل کے لئے فرح کا دل کیا پھوٹ پھوٹ کر رو دے۔
اور اپنی اماں کے سینے سے لگ کر خود پر ہونے والا وحشیانہ ظلم لفظ با لفظ ماں کو بتا دے۔
ماں کا لمس فرح کے لئے اتنا راحت بخش تھا کے فرح کو لگ رہا تھا کسی نے اسے جلتی بھٹی سے نکال کر ٹھنڈے پانی میں ڈال دیا۔
فرح کے تپتے وجود کو ماں کے سینے سے لگ کر ٹھنڈ پڑ گئی تھی۔
فرح کا اس وقت شدت سے دل چاہا کہ یہ پل یہیں تھم جائے ,وقت رک جائے گھڑی کی سوئی کی ٹک ٹک بند ہو جائے ۔
کیونکہ انسان ماں کی آغوش میں سمٹ کر ساری دنیا کے دکھ بھول جاتا ہے۔
اور فرح کو بھی ماں کی آغوش میں وہی سکون مل رہا تھا۔
پر کہتے ہیں نہ وقت کسی کے لئے نہیں رکتا۔
گھڑی کی سوئی کی ٹک ٹک کبھی نہیں تھمتی حتی کہ انسان کی سانسیں تھمنے کا وقت آپہنچتا ہے پر گھڑی سوئی تب بھی تیزی سے اپنا سفر جاری رکھتی ہے۔
اور فرح کی بھی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوسکتی تھی۔
کیونکہ وقت کبھی کسی کے لئے نہیں رکتا تو فرح کے لئے کیونکر رکتا۔
“ارے میری پیاری اماں آپ بھی نہ بلا وجہ ہی پریشان ہو جاتی ہیں۔”
“مجھے کچھ نہیں ہوا!!
“بس اب میں بچی نہیں رہی نہ…
” بڑی ہوگئی ہوں اس لئے کوئی مستی کوئی شرارت نہیں کرتی۔”
“اور آپ کو لگتا ہے کہ مجھے کوئی پریشانی ہے۔”
“پر یقین جانیں ایسا کچھ نہیں۔”
“بس وہ گلی کے کونے پر آوارہ کتا گھوم رہا تھا اسی سے ڈر کے بھاگی ہوں تو سانس پھولی ہے اور کوئی بات نہیں میری پیاری اماں۔”
فرح نے ماں کے گالوں پر پیار سے چٹکی بھر کے بولا اور ہمیشہ کی طرح انہیں ادھر ادھر کی باتوں میں الجھا کو ٹاپک چینج کردیا۔
اچھا نہ اماں آپ نے مجھے باتوں الجھا کر یہ بھلا ہی دیا کہ مجھے زوروں کی بھوک لگی ہے۔
چلیں نہ اماں اپنے ہاتھ کے بنے میٹھے پراٹھے کھلائیں نہ۔
بہت دن ہوگئے آپ کے ہاتھ کا بنا میٹھا پراٹھا نہیں کھایا۔ فرح ماں کے ساتھ لاڈ کرتی ان کو کچن تک چھوڑ آئی جو ان کے گھر کے کھلے سے کچے صحن میں ہی بنا تھا۔
اماں میں چاہوں بھی تب بھی نہیں بتا سکتی خود پر ہونے والی ظلم کی کہانی جو نجانے اور کتنی بار مجھ پر قہر بن کے برسے گا۔
اور میں ہر بار وہ ظلم اپنی جان پر سہہ لوں گی پر کبھی اس درندے کو اپنے خاندان کی طرف نہیں آنے دوں گی۔
