Sahiba by Alaya Rajput NovelR50711 Sahiba by Alaya Rajput Episode 12
No Download Link
185.7K
15
Rate this Novel
Sahiba by Alaya Rajput Episode 01 Sahiba by Alaya Rajput Episode 02 Sahiba by Alaya Rajput Episode 03 Sahiba by Alaya Rajput Episode 04 Sahiba by Alaya Rajput Episode 05 Sahiba by Alaya Rajput Episode 06 Sahiba by Alaya Rajput Episode 07 Sahiba by Alaya Rajput Episode 08,09 Sahiba by Alaya Rajput Episode 10 Sahiba by Alaya Rajput Episode 11 Sahiba by Alaya Rajput Episode 12 (Watching)Sahiba by Alaya Rajput Episode 13 Sahiba by Alaya Rajput Episode 14 Sahiba by Alaya Rajput Episode 15 Sahiba by Alaya Rajput Last Episode
Sahiba by Alaya Rajput Episode 12
فرح کے ماں کے ہاتھ کے بنے میٹھے پراٹھے کھا رہی تھی جب اسے رُتبہ کے کمرے سے زبیر اور رُتبہ کے ہنسنے کی آواز آئی, تو جلدی سے آخری دو چار نوالے ختم کرتی فرح رُتبہ کے کمرے کی طرف چل دی۔
جہاں رُتبہ اور زبیر لڈو کھیلتے ہوئے کھلکھلا کر ہنس رہے تھے۔
“ارے واہ میرے بھائی بہن اکیلے اکیلے کھیل رہے ہیں اور مجھے تو کسی نے پوچھا بھی نہیں۔”فرح محبت بھرا شکوہ کرتی رُتبہ کی بغل میں آ بیٹھی۔
“محترمہ میں پہلے پورے گھر میں آپ کو ڈھونڈھتا رہا کھیلنے کے لئے۔ پھر اماں نے بتایا کہ آپ کھیتوں میں تشریف لے کر گئیں ہیں, تبھی میں رُتبہ آپی کے پاس لڈو لے کر آگیا تو ہم دونوں کھیلنے لگے۔”
زبیر نے نہایت مؤدبانہ لہجے میں فرح کی طرف دیکھتے ہوئے اپنی شرارت بھرے انداز پر کنٹرول کر کے کہا تو فرح نے بھی بھائی کے بازو پر زور سے چٹکی بھری۔
“اچھا جی تو کیا انتظار نہیں کر سکتے تھے میرا ؟ اب تو آپ کو مجھ سے پیار ہی نہیں کرتے ہہہن۔”فرح نے منہ پھلا کر کہا۔
“ہا ہا ہا میری پیاری بہن ناراض ہوگئی مجھ سے؟”
“سچ پوچھو تو میرا ہر کام میری پیاری بہن سے شروع ہو کر میری بہن پر ہی ختم ہو جاتا ہے۔”
“اور میری بہن کو شکوہ ہے کہ میں میں اب اس سے پیار نہیں کرتا۔”زبیر نے رُتبہ کو بتایا۔
ارے ہماری چھوٹی ناراض ہوگئی؟رُتبہ نے پیار سے فرح کو اپنے ساتھ لگا کر کہا۔
جی ہاں اور وہ بھی بہت زیادہ۔ فرح نے پھر سے منہ پھولایا تو زبیر اور رُتبہ کی ہنسی نکل گئی۔
“آپ دونوں مجھ پر ہنس رہے ہیں؟”
” جائیں میں نہیں بولتی آپ دونوں سے۔”
” بات مت کرے اب کوئی مجھ سے۔ “فرح خفا ہو کر رُتبہ کے کمرے سے نکل آئی اورپیچھے سے رُتبہ اور زبیر اسے پکارتے رہ گئے۔
**********
“اماں ایک بات تو بتا۔”حویلی کے کچن میں برتن دھوتی رشنا نے پوچا لگاتی اپنی اماں کو مخاطب کیا۔
“ہاں پوچھ۔” اپنے کام میں مگن سی رشنا کی اماں نے جلدی میں جواب دیا۔
کیا تیری بھی بچپن میں کوئی سہیلی تھی؟ جس سے تو بہت محبت کرتی تھی بہنوں کی طرح۔
ہاں تھی نہ میری سہیلی بہت پیاری بہنوں سے بھی بڑھ کے۔
بچپن کی سہیلی کے ذکر پر رشنا کی اماں کی آنکھیں چمکنے لگیں اور وہ پوچا ایک طرف رکھ زمین پر ہی آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئیں۔
ہا ا ا ا ہا کیا وقت تھا بچپن کا زمانہ جس میں نہ تو روزی روٹی کمانے کی فکر تھی نہ ہی گھر چلانے کی۔
“بس خوشیاں ہی خوشیاں تھیں۔”
“تب میری ایک ہم جولی ہوا کرتی تھی شازیہ۔”
“ہم بچپن سے لے کر جوانی تک ساتھ کھیلے ساتھ بڑے ہوئے اور ساتھ ساتھ ہم دونوں کا بیاہ ہوا۔”
“مطلب اماں تم دونوں ایک دوسرے کو بہت اچھے سے جانتی ہوگی نہ؟”
“ہاں ہاں دو جسم ایک جان تھیں ہم دونوں ایک دوسرے کے چہرے پڑھ لیا کرتی تھیں۔”
“اگر شازیہ کو کوئی دکھ کوئی تکلیف ہوتی جو وہ کسی کو نہیں بتاتی تھی وہ بھی میں اس کے چہرے کو دیکھتے ہی سمجھ جایا کرتی تھی, کہ میری سکھی پریشان ہے یا دکھی ہے۔”
“دراصل اس کا ابا نشہ کرتا تھا۔”
“اور ہمیشہ اس کی ماں کو مارتا اور اس کے جہیز کا سامان بیچ کر اپنا نشہ پورا کرتا رہتا تھا۔”
“جب شازیہ سولہ سال کی ہوئی تو اس کی اماں فوت ہوگئی۔”
“پھر تو بیچاری شازیہ مکمل طور پر اپنے ظالم باپ کے رحم و کرم پر آگئی۔”
“بچپن میں تو ان سب باتوں پر کبھی شازیہ کا دھیان نہیں گیا تھا۔”
“پر جیسے ہی ہم دونوں نے جوانی کی دہلیز پر پیر رکھے وہ اپنے ابا کی ان حرکتوں سے اکثر پریشان اور اداس رہنے لگی تھی۔”
“پر کبھی اس نے کسی سے یہ بات نہیں کہی تھی۔”
“پھر بھی میں اس کا چہرہ پڑھ لیا کرتی تھی کہ وہ کس وقت خوش اورکس وقت پریشان ہے۔”
“یہاں تک کے ایک بار اس کے ابا نے نشے کی خاطر پیسوں کے لئے اپنی بیٹی کو ہی جوؤے میں لگا دیا تھا۔”
“تب بھی اس نے یہ بات مجھے نہیں بتائی تھی, پر میں اس کے چہرے پر پریشانی اور گھبراہٹ دیکھ کر ہی سمجھ گئی تھی کہ ہمیشہ ہنسنے مسکرانے والی میری سہیلی پریشان ہے ضرور کوئی بڑی بات ہے جو وہ مجھ سے چھپا رہی ہے, پر اس کے چہرے کی اڑی ہوئی رنگت , ہاتھوں کی لرزش اور گھبرائے ہوئے لہجے نے مجھے بتا دیا کہ کچھ تو ہے جو وہ چھپا رہی ہے۔”
“پر میں بھی اس کی سہیلی تھی سمجھ گئی تھی کہ اگر اس نے نہیں بتایا تو ضرور اس پر کوئی دباؤ ہوگا ۔”
“پھر میں نے خود ہی پتا لگوا لیا تھا کہ آخر ماجرا کیا ہے۔”
“اور ویسے بھی بچپن کی دوستی کا تقاضہ بھی یہی تھا کہ میں اسے پریشانی میں اکیلا نہ چھوڑوں۔”
“پھر بھلے ہی اس نے مجھ سے اپنا دکھ نہیں بانٹا پر تھی تو میری بچپن کی سکھی ہی نہ۔”
“میں کیسے اسے پریشانی میں اکیلا چھوڑ سکتی تھی۔”
“آخر کار دن رات اس کے ابا پر نظر رکھ کر میں نے پتا کروا ہی لیا کہ وہ چند لاکھ کے عوض میری پیاری سکھی کی شادی ایک 61 سالہ بڈھے سے کروارہا ہے۔”
“افففف میرے اللّہ اتنا ظالم تھا اس کا ابا؟
اماں پھر تم نے کیا کیا؟”
“کرنا کیا تھا عین شادی والے دن میں نے اپنی سہیلی کو اس کے گھر سے نکال کے اپنی خالہ کے گھر دوسرے گاؤں بھجوادیا۔”
“ڈھونڈتا رہا اس ابا دیواروں میں سر پھوڑتا رہا پر اسے شازیہ نہیں ملی۔”
“اور میں نے اپنی سکھی کی شادی اپنے خالہ زاد بھائی سے کروادی۔”
“اب وہ خیر سے تیں بچوں کی ماں ہے اور اپنے گھر بہت خوش بھی ہے۔”
“کسی دن اپنی خالہ کے گاؤں گئی تو ضرور ملواؤں گی تجھے۔”
“ہاں ہاں ضرور ملوانا اماں۔”رشنا نے خوش ہو کر کہا۔”
“اچھا اب تو جلدی برتن دھو لے۔”
“مجھے بھی تو نے اپنے ساتھ باتوں میں لگا کر بھلا دیا کہ ابھی چھوٹے مرزا صاحب کا کمرہ صاف کرنا ہے۔”
“پتا ہے نہ تجھے وہ گندگی سے کتنا چڑتے اگر وقت پر ان کا کمرہ صاف نہ کیا تو میری شامت آ جانی۔”
“چل میں جارہی ان کا کمرہ صاف کرنے رو بھی جلدی سے برتن دھو کر باقی کام نپٹالے۔کہتی رشنا کی اماں پوچا اٹھا کر کچن سے نکل گئی۔”
“اماں کی باتوں سے ایک بات کا تو یقین ہوگیا مجھے کہ فرح کو ضرور کوئی پریشانی ہے۔”
“ورنہ اتنی ہنس مکھ لڑکی بنا بات کے اتنی خوفزدہ اور گھبرائی ہوئی ہو ہی نہیں سکتی۔”
“میں اپنی سہیلی کو بچپن سے جانتی ہوں۔
بہت نٹ کھٹ اور ہنسنے ہنسانے والی ہے وہ۔
ایسے کیسے چند دنوں میں اس کی عادت بدل سکتی ہے؟”
“میرا دل کہہ رہا ہے ضرور فرح کسی مصیبت میں ہے ۔”
“کوئی بڑی مصیبت ہے اس پر۔”
“پر مسئلہ یہ ہے کہ میں یہ بات پتا کیسے لگاؤں؟”
“اماں کی سہیلی شازیہ خالہ کا تو ابا ظالم تھا۔”
” اور یہ بات پہلے سے اماں کو معلوم تھی۔”
“اس لئے اماں نے جیسے تیسے پتا کروا لیا تھا کہ ان کی سکھی کو کیا پریشانی ہے۔”
“پر فرح کے تو گھر والے بہت اچھے اور پیار کرنے والے ہیں۔”
“پھر فرح کو ایسی کیا پریشانی آگئی کہ وہ اس قدر خوفزدہ ہے کہ اپنی بچپن کی سہیلی کو بھی بتانے سے گریز پا ہے۔”
“جو بھی ہو فرح کی پریشانی جس بھی نوعیت کی ہو۔”
“میں ہر حال میں پتا لگا کر ہی رہوں گی۔”
“اور نہ صرف پتا لگاؤں گی بلکہ فرح کو اس پریشانی سے نکال کر بھی رہوں گی پھر اس کے لئے چاہے مجھے جو بھی قیمت ادا کرنی پڑے میں اس کے لئے تیار ہوں۔”
“دوستی کی ہے تو دوستی کا حق تو ادا کرنا ہی ہوگا۔”
“اور رشنا دوستی کا حق ادا کرنا خوب اچھے سے جانتی ہے۔”رشنا نے دل میں تہیہ کرلیا اور دوبارہ اپنے کاموں میں جت گئی۔
**********
“شیرو۔”
“جی چھوٹے مالک؟” چوہدری شہباز کی آواز پر اس کا پرانا ملازم شیرو فورًا لپکا۔
“تم نے میرا پیغام اس لڑکی تک پہنچا دیا تھا نہ؟” چوہدری شہباز نے تحکم بھرے انداز میں پوچھا۔
“جی چھوٹے مالک پہنچا دیا تھا۔شیرو نے سعادت مندی سے کہا۔”
“شیرو یاد رکھنا اگر وہ نہ آئی تو تمہیں بڑی بری سزا ملے گی۔ “چوہدری شہباز نے انگارہ ہوتی آنکھوں سے کہا۔
“ارے چھوٹے مالک آپ فکر ہی نہ کریں ایسا ڈرایا ہے اس میں نے ,کہ نہ آنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔” شیرو نے چوہدری شہباز کے غصے سے خوفزدہ ہوتے ہوئے کہا۔
“پھر ابھی تک وہ آئی کیوں نہیں؟”چوہدری شہباز شدید غصے کے عالم میں دھاڑا۔
“چھوٹے مالک ابھی تو بس ساڑھے دس بجے ہیں آجائے گی وہ تھوڑی دیر میں,
آپ اپنا جی کیوں جلاتے ہیں۔”
“اگر نہ بھی آئی تو اگلے آدھے گھنٹے اس کو لا کر آپ کے قدموں میں ڈھیر کردوں گا, چھوٹے مالک۔ “شیرو نے اپنے اوپر خوف سے طاری لرزش پر قابو پاتے ہوئے کہا۔
“یاد رکھنا شیرو کے بچے اگلے آدھے گھنٹے وہ نہ آئی تو تیری چمڑی ادھیڑ دوں گا۔”
“اگر بچنا چاہتا ہے تو دعاء مانگ کے میرا نشہ اترنے سے پہلے وہ لڑکی یہاں آجائے۔”
“ورنہ تجھ پر جو میرا قہر برسے گا اس کے لئے تیار رہنا۔”کہتا چوہدری شہباز شراب کی خالی بوتل دور اچھال کر اگلی بوتل کھولنے لگا
*********
رات کے لگ بھگ گیارہ بجے جب سارا گاؤں اپنی آدھی نیند پوری کر چکا تھا فرح اس بات کی تسلی کرتی کہ سب سو رہے ہیں اپنی اماں کی بغل والی چارپائی سے اٹھ کر باہر نکلی۔
اور دھیرے سے چلتی دوسرے کمرے میں اپنے بابا اور زبیر جو دیکھ کر تسلی کی کہ وہ دونوں بھی گہری نیند سورہے ہیں۔
“بابا اگر ہوسکے تو اپنی بیٹی کو معاف کردینا۔”
“میں نہ چاہتے ہوئے آپ کی عزت کا جنازے نکالنے جارہی ہوں۔”
“پر کیا کروں مجھے آپ کی اور اپنے گھر والوں کی زندگی بہت پیاری ہے۔”
“اور اس کے لئے میں اپنی جان بھی دے سکتی ہوں۔”
“دل تو کرتا ہے خود کشی کرلوں پر میری خود کشی بھی آپ کی بدنامی کا باعث بنے گی اسی لئے میں مر بھی نہیں سکتی۔”
“اور جی کر بھی زندہ لاش ہی ہوں میں۔”
دل ہی دل میں خود سے ہمکلام ہوتی آنکھوں میں آنسو اور دل میں خوف لئے فرح اپنے کچے گھر کی چھوٹی سی دیوار پھلانگ کر گھر سے باہر آگئی۔
گاؤں میں عشاء کی نماز کے بعد لوگ لمبی تان کر سوتے اور صبح کی اذان کے ساتھ فورًا اٹھ جاتے تھے۔
اور اب رات کے گیارہ بج رہے تھے اس وقت گاؤں کے لوگ اپنی آدھی سے زیادہ نیند پوری کر چکے تھے۔
رات کے اس پہر ہر طرف ویرانی کا راج تھا۔
فرح خوفزدہ سی ادھر ادھر دیکھتی محتاط قدم اٹھاتی ابھی چند قدم ہی چلی تھی کہ گلی کے کونے پر آوارہ کتوں کے بھونکنے کی آواز نے اسے مزید خوفزدی کردیا۔
وہ کتنی ہی دیر گلی کے دوسرے کونے میں سہم کر کھڑی رہی۔
پھر جب کافی دیر بعد وہ کتے بھونکتے ہوئے وہاں سے دور چلے گئے تب فرح اپنے اندر دوبارہ ہمت متجمع کرتی تیز تیز قدم اٹھاتی حویلی کی جانب بڑھنے لگی۔
