Sahiba by Alaya Rajput NovelR50711 Sahiba by Alaya Rajput Episode 01
No Download Link
185.7K
15
Rate this Novel
Sahiba by Alaya Rajput Episode 01 (Watching)Sahiba by Alaya Rajput Episode 02 Sahiba by Alaya Rajput Episode 03 Sahiba by Alaya Rajput Episode 04 Sahiba by Alaya Rajput Episode 05 Sahiba by Alaya Rajput Episode 06 Sahiba by Alaya Rajput Episode 07 Sahiba by Alaya Rajput Episode 08,09 Sahiba by Alaya Rajput Episode 10 Sahiba by Alaya Rajput Episode 11 Sahiba by Alaya Rajput Episode 12 Sahiba by Alaya Rajput Episode 13 Sahiba by Alaya Rajput Episode 14 Sahiba by Alaya Rajput Episode 15 Sahiba by Alaya Rajput Last Episode
Sahiba by Alaya Rajput Episode 01
بھاگ جا بیٹی بھاگ جا اگر زندہ رہنے چاہتی ہے تو بھاگ جا ورنہ یہ درندے تجھے بھی مار ڈالیں گے… نوچ ڈالیں گے… درندے ہیں یہ درندے …
اس بوڑھی عورت نے روتے ہوئے اسے کندھے سے ہلا کر وہاں سے بھاگ جانے کا بولا اور وہ سہمی ہوئی دھان پان سی لڑکی اپنی بے ہوش ماں کو سہارا دیتی چھپتی چھپاتی رات کے اندھیرے میں گاؤں سے دور جنگلوں کی جانب چل دی اور جاتی بھی کہاں اس کا اور کوئی بچا ہی نہیں تھا اس کی ماں کے سوا جو بے ہوش تھی اور بچنے کی امید بھی کم ہی لگ رہی تھی وہ جب گاؤں سے کافی دور اک جنگل میں آ کے تھک کر چُور ہوئی تو اپنی ماں کو درخت کے سہارے بِٹھا کر دو پل سانس لینے کے لئے بیٹھی تو پھوٹ پھوٹ کر رو دی .
میں جلد لَوٹوں گی درندے میں جلد لَوٹوں گی اور تم کو تباہ کر دوں گی بر باد کردوں گی… پتہ نہیں اس کانپتی اور گھنے جنگل سے ڈرتی لڑکی میں اک دم اتنا حوصلہ کہاں سے آیا تھا کہ وہ جنگل کی ویرانی اور دور دور سے آتی وحشی جانوروں کی آوازوں کو نظر انداز کرتی چِلَّائی تھی .
……………………..
رُتبہ مٹی کے گھر بنا بنا کر کھیل رہی تھی.
رحیم علی گھر میں داخل ہوا تو بیٹی کو کھیلتا دیکھ کر کِھل اٹھا …ارے میری لاڈو رانی کیا کر رہی ہے ؟؟؟
بابا میں گھر گھر کھیل رہی ہوں رُتبہ نے اپنے کھیل سے سر اٹھا کہ بڑے مصروف انداز میں کہا.
اچھا میری لاڈو رانی کو گھر گھر کھیلنا بہت اچھا لگتا کیا؟؟؟ رحیم علی نے آگے بڑھ کے رُتبہ کو گود میں لیتے ہوئے پوچھا …ہاں بابا بہت اچھا لگتا ہے رُتبہ نے سے خوشی سے چہک کر کہا, اور گڑیا سے کھیلنا بھی.
پر آج اک گندے بچے نے کھیتوں میں مجھ سے میری گڑیا چھین لی اور اسے توڑ بھی دیا مجھے بہت غصہ آیا پھر میں بھی اس کو زبان چڑھا کہ بھاگ آئی 
اچھا چھوڑو اس گندے بچے کو میں اپنی لاڈو کو نئی گڑیا لادوں گا .
اب میری لاڈو رانی گھر گھر کھیل لے وہ بھی میری لاڈو کو کھیلنا پسند ہے نہ ؟؟؟
ہاں بابا وہ بھی مجھے بہت پسند ہے
تو میری دعاء ہے میری لاڈو رانی کو بہت پیارا محلوں جیسا گھر ملے جس میں میری بیٹی شہزادی بلکہ ملکہ بن کر رہے … انشاء اللّہ
رحیم علی نے دل سے بیٹی کو دُعاء دی اور کہتے ہیں نہ باپ کی بدعاء سے بچو اور دعاء ہمیشہ لیتے رہو کیونکہ باپ کی بدعاء اور دعاء دونوں ہی بہت جلد قبول ہو جاتیں ہیں .
پر بابا گھر بعد میں پہلے مجھے پڑھنا ہے بہت سارا رُتبہ نے باپ سے لاڈ کرتے ہوئے کہا.
جس پر رحیم کو اک پل کے لئے جیسے چپ ہی لگ گئی پھر کچھ سوچ کہ بولا ہاں کیوں نہیں میری لاڈو رانی پڑھے گی نہ بہت پڑھے گی پھر سب میری لاڈو کی عزت کریں گے اس نے رُتبہ کا دل رکھنے کو کہا دوسری طرف وہ غریب مزدور رحیم اچھے سے یہ جانتا تھا کہ اس کے گاؤں میں لڑکیوں کی تعلیم پر ایسے پابندی ہے جیسے کوئی گناہ ہو 
رات کے کھانے کے بعد رحیم علی جب اپنی بیوی کے پاس بیٹھا تو باتوں باتوں میں ایسی بات کہہ دی کہ وہ بری طرح اس کی بات سے خوفزدہ ہوگئی …کیا بول رہا ہے رحیم تُو جانتا ہے ہم بہت غریب لوگ ہیں دو وقت کا کھانا مل جائے تو عید کا دن ہوتا ہمارے لئے اور تم اتنی بڑی بات کہہ رہے بنا سوچے سمجھے؟؟؟
بنا سوچے سمجھے نہیں کہہ رہا بہت سوچنے کے بعد کہہ رہا ہوں بلکہ فیصلہ کر چکا ہوں کہ میری لاڈو رانی ضرور پڑھے گی .
خدا کے لئے آہستہ بول رحیم علی دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں اگر کسی نے سن لیا کہ تو اپنی بیٹی کو پڑھانا چاہتا ہے تو قیامت آ جائے گی بڑے مرزا جی کو پتہ چل گیا تو تجھے پتہ ہے نہ کتنی بھیانک سزا ملے گی بس چپ آج کے بعد نام مت لینا پڑھائی کا اس گھر میں
بھاگاں والیے پریشان نہ ہو میں سب انتظام کر چکا ہوں کچھ نہیں ہوگا کسی کو کچھ پتہ نہیں چلے گا تو جانتی ہے میرے چاچے کی دھی(بیٹی) بشرٰی شہر میں رہتی ہے پچھلے سال اس کے شوہر کو جانے کس ظالم نے بھری جوانی میں قتل کر ڈالا اس کے بعد وہ اکیلی رہ گئی بس اک اپنی رُتبہ کی عمر کا بیٹا ہے اس کا گھر بھی اپنا ہے اور اک سکول میں پڑھاتی ہے استانی ہے اپنے سکول کی… اس لئے میں رُتبہ کو اس کے پاس بھیج رہا ہوں میری دھی رانی پڑھ کے کچھ بن جائے گی وہاں ….یہاں تو وہی جہالت اور چھوٹی عمر کی شادی ہی ہے اور میں اپنی بچی کا مستقبل بنانا چاہتا ہوں کل جب میں کام سے شہر گیا تھا تب بشرٰی سے مل کر بات کر آیا تھا وہ بھی بڑی خوش ہوئی اور کہہ رہی تھی بیٹیوں کو بھی پڑھنا چاہیے تاکہ وہ اپنا اچھا برا سمجھنے لگیں اسی لئے میں اتوار کے دن رُتبہ کو اس کے پاس چھوڑ آؤں گا تم بس اس کے سارے کپڑے ڈال دو گٹھڑی میں….
”ہائے رحیم میں کیسے رہوں گی اپنی بچی کے بنا رحیم کی بیوی کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں .اوہ ہ ہ پگلی بیچ بیچ میں اس سے ملوا لایا کروں گا تجھے… اداس مت ہو بس یہ سوچ کے تیری بیٹی کچھ بن کے لوٹے گی تو اپنے پنڈ دی( اپنے گاؤں کی) شکل ہی بدل دے گی ہاں.“
یوں ہی اپنی بیوی کو سمجھانے اور حوصلہ دینے میں رحیم کی رات گزر گئی اور بلآخر وہ مان گئی پر اب یہ سب انہوں نے سب سے چھپ کر کرنا تھا اگر گاؤں میں کسی کو بھی بِھنک پڑ جاتی کہ رحیم اپنی بیٹی کو پڑھائی کے لئے شہر بھیج رہا ہے تو بہت برا ہوتا رحیم اور اس کے خاندان کے ساتھ…
مرزا سہراب مزاج کے سخت اور دل کے نرم انسان تھے وہ جہاں بہت انصاف پسند انسان تھے وہاں عزت کے نام پر مر مٹنے والوں میں سے بھی تھے . تبھی ان کی لاڈلی اکلوتی بیٹی تک کو بھی انہوں نے معافی نہیں دی تھی… اور اس کے نا کردہ گناہ کے بارے میں بنا جانچ پڑتال کیے اسے اک کال کوٹھری میں بند کردیا تھا جہاں وہ اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھی تھی
مرزا سہراب کا اک ہنستا بستا گھرانہ تھا بیوی ان کی بہت سال پہلے ہی انتقال کر گئیں تھیں .
اک بڑا بیٹا اسامہ مرزا تھا جس کی شادی انہوں نے چھوٹی عمر میں ہی کردی تھی اور جلد ہی دادا بھی بن گئے تھے اور اک پیارا سا پوتا بھی گود میں آگیا تھا جس کا نام انہوں نے محسم مرزا رکھا تھا جس میں ان کی جان بستی تھی
اور اسامہ سے چھوٹی اک بیٹی تھی اسمہ جس میں مرزا سہراب کی جان بستی تھی .
آج صبح ہی صبح اسمہ کالج پڑھنے کی ضد لے کر بیٹھی تھی اور مرزا سہراب اسے سمجھا رہے تھے کہ اس کے گاؤں میں آج تک کسی لڑکی نے میٹرک تک نہیں کیا اور وہ واحد لڑکی ہے جس نے میٹرک کیا اب بس کرے ورنہ لوگ باتیں کریں گے کہ میں گاؤں کا کرتا دھرتا ہو کہ انصاف نہیں کر رہا اپنی بیٹی کو پڑھائی جا رہا ہوں اور باقی گاؤں کی کسی لڑکی کو اجازت تک نہیں دی سکول کا منہ دیکھنے کی… پر کیوں بابا لڑکیوں کو بھی پڑھنے کا آتنا ہی حق ہے جنتا لڑکوں کو اب دیکھیں نہ بھیا شادی کے بعد بھی پڑھ رہے اک میں ہی بیٹھی گھر پہ اسمہ نے منہ بنا کر کہا تو مرزا سہراب مسکرا دیے تو کیا آپ کی بھی شادی کر دی جائے انہوں شرارتی لہجہ اپنایا 
نہیں بابا ابھی یہ ظلم مت کریں ابھی تو ہم نے ڈاکٹر بننا ہے اسمہ نے دہائی دی.
میرا بچہ میری بات سمجھنے کی کوشش کریں ہمارے باپ دادا میں سے کسی نے کبھی بیٹی کو پڑھنے کی اجازت نہیں دی .
پر کیوں بابا یہ غلط ہے بیٹیوں کو بھی پڑھنے کا پورا حق ہے اسمہ نے چِڑ کر کہا .
بیٹا کیونکہ ہم اپنی عزت کو گھر کی چار دیواری میں ہی رکھتے ہیں اور دنیا کی بری نظروں سے بچانے کے لئے گھر سے باہر نہیں نکالتے اور پڑھائی کے لئے بھی تو گھر سے باہر نکلنا پڑے گا تب بچیاں طرح طرح کی نظروں میں آئیں یہ ہمیں گوارا نہیں
بابا آپ نے دادا جی نے اور پر دادا جی نے آج تک صرف اسی لئے اپنے گھر کی اور گاؤں کی لڑکیوں کو پڑھنے کی اجازت نہیں دی کیونکہ کوئی ہمیں نہ دیکھے ہم اپنے ماں بابا کی عزت جو ہوتیں سب لڑکیاں !!! اور اگر ہم پردے میں باہر جائیں اور وعدہ کریں کہ کوئی ہماری صورت تو کیا آواز بھی نہیں سنے گا تب تو آپ مجھے اور گاؤں کی بچیوں کو پڑھنے کی اجازت دیں گے نہ؟؟؟
اسمہ نے لاڈ کے ساتھ ان کے کندھے کے ساتھ لگ کر کہا تو مرزا سہراب گہری سوچ میں پڑ گئے …اچھا بیٹا میں سوچ کر بتاؤں گا کہتے وہ اٹھ کر اپنی پنچائیت میں چل دیے وہ گاؤں کے بڑے ہونے کے ناتے پنچائیت کا فیصلہ بھی خود کرتے تھے اور اب ان کا پنچائیت میں جانے کا وقت ہو گیا تھا.
اگلے دن اسمہ بیٹھی کوئی کتاب پڑھ رہی تھی جب مرزا سہراب نے پیچھے سے آ کر اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیے .
ارے کون ہے اسمہ نے کہا …پھر اپنی آنکھوں پر رکھے ہاتھ ٹٹول کر دیکھا تو فورًا سمجھ گئی کے یہ اس کے بابا کے ہاتھ ہیں اور پیار سے اپنی آنکھوں سے ان کے ہاتھوں کو ہٹایا تو سامنے ٹیبل پر پڑی بکس دیکھ کر خوشی اچھل پڑی …ارے بابا میرے پیارے بابا آپ بہت اچھے ہیں آئی لو یو بابا
مجھے پتا تھا میرے بابا میری بات ضرور مانیں گے اسمہ خوشی سے چہک رہی تھی اور مرزا سہراب بیٹی کی خوشی پر مسکرا رہے تھے .
بابا ہم کب جارہے ہیں شہر اسمہ نے پوچھا ؟؟؟
کل مرزا سہراب نے مسکرا کر بتایا اور ہاں صبح سے آ پکو ہمارا پرانا اور اعتبار کا ڈرائیور چندو کالج چھوڑا کرے گا اور چھٹی کے وقت بھی وہی آپ کو لینے آئے گا اس دوران آپ نے پردے کا پورا دھیان رکھنا ہے ہاں اک اور بات اسمہ بٹیا یاد رکھنا ہم نے گاؤں کے اور اپنے بڑوں کے سب اصولوں کے خلاف جا کر آپ کو پڑھانے کا فیصلہ کیا ہے اب ہماری عزت آپ کے ہاتھ میں ہے ہر قدم بہت سنبھل کر اٹھانا بٹیا کیونکہ اگر بیٹی پھسل جائے تو منہ کے بل اس باپ گِرتا ہے مرزا سہراب نے باتوں باتوں میں اسے سمجھا دیا.
جی بابا میں مر تو سکتی ہوں پر اپنے پیارے بابا کی عزت پر آنچ آنے نہیں دے سکتی اس لئے آپ فکر ہی نہ کریں …آپ کی بیٹی آپ کی شان بنے گی ڈاکٹر بن کر پھر اپنے گاؤں میں اک چھوٹا سا ہسپتال کھول کہ سب غریبوں کا مفت علاج کروں گی اسمہ آنکھیں بند کئے مستقبل کے سہانے خواب سجا رہی تھی .
ارے میری ڈاکٹرنی بٹیا چلیں اب جائیں اور تیاری کیجئے کل کالج جانا ہے آپ کو
اگلے دن اسمہ کالج چلی گئی خود کو بڑی سی چادر میں چھپا کر اس نے خود کو ایسا لپیٹا تھا کہ کوئی اس کا چہرہ تو دور اس کے ہاتھ تک نہیں دیکھ سکتا تھا .کالج جاتے ہوئے مرزا سہراب بھی اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھے تو حیرانی سے باپ کو تکنے لگی .
ارے بٹیا ہم نے اگلے گاؤں تک جانا ہے اپنے دوست چوہدری کے ہاں… تو سوچا آپ کے ساتھ ہی چلتیں ہیں ضرور دوسری گاڑی اور دوسرا ڈرائیور لے جانا جب میری اپنی بٹیا اسی طرف جا رہی ہے تو انہوں مسکرا کر بتایا اور ڈرائیور کو گاڑی چلانے کا حکم دیا .
اگلے گاؤں پہنچ کر مرزا سہراب گاڑی سے اتر کر اپنے بچپن کے دوست چوہدری شکور سے ملنے چل دیے جو کہ اپنے گاؤں کا چوہدری تھا … اور ڈرائیور نے گاڑی آگے شہر کی جانب بڑھا دی .
اسمہ کا آج کالج میں پہلا دن تھا وہ بار بار کالج کی دیواروں کو چھو کر دیکھ رہی تھی خوشی تو جیسے اس سے سنبھالی ہی نہیں جارہی تھی .
کلاس شروع ہوئی پڑھائی تو اس نے جم کر کی اور واپس گاؤں آتے ہی لگی اپنے بابا کو کالج کے قصے سنانے
ارے بس بس ٹھیک ہے میری گڑیا سن لیا ہم نے …کھانا کھائیں اور پڑھائی کریں کہتے مرزا سہراب پنچائیت میں چل دیے اور وہ اب اپنے بابا کی جگہ بھائی اسامہ مرزا اور بھابھی کے کان کھانے لگی اور وہ دونوں رونی سی صورت بنا کر اس کی باتیں سننے لگے کیونکہ جب وہ اک بار شروع ہوتی تھی تو کہاں چپ ہونے کا نام لیتی تھی
اک سال بہت اچھا اور خیریت سے گزر گیا اسی دوران مرزا سہراب نے اسمہ کے کہنے پر گاؤں میں بچیوں کے لئے اک چھوٹا سا سکول بنوا دیا تھا جہاں سارے گاؤں کی بچیاں خوشی خوشی پڑھنےآتیں تھیں اور اسمہ کو ڈھیر ساری دعائیں دیتی تھیں پر شاید اسمہ کی قسمت میں وہ دعائیں قبول ہونا لکھی ہی نہیں تھیں …اور اک دن یونہی کالج سے آتے ہوئے چوہدری شکور کے گاؤں سے گزرتے ہوئے اچانک گاڑی جھٹکے سے رک گئی اور چندو مکینک کو لینے کا بول کر ایسا گیا کہ کافی وقت لگا دیا اوپر سے گاڑی کا اے سی بھی خراب تھا تو تنگ آکر ارد گرد نظر دوڑاتی اسمہ گرمی سے تنگ آکر گاڑی سے باہر آگئی شدید گرمی کے باعث دور دور تک کوئی نظر نہیں آرہا تھا پھر بھی اسمہ نے سر سے چادر نہ اتاری اور نہ ہی نقاب کھولا پر اچانک سخت دھوپ کی جگہ ٹھنڈی ہواؤں نے لے لی موسم سہانا ہو گیا اور اسمہ کی چادر بے قابو ہو کر اک دم اس کے چہرے سے اڑتی ہوئی اس کے گلے میں آگئی اور اسمہ کا چہرہ ننگا ہوگیا تبھی اسمہ نے جلدی جلدی چادر کو واپس نقاب کی شکل میں لیا اور شکر کِیا کے آس پاس کوئی نہیں تھا اگر کوئی دیکھ لیتا تو میرا بابا کو دیا وعدہ ٹوٹ جاتا جو میں مر کے بھی نہیں توڑ سکتی اسمہ نے دل میں سوچا… پر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ دور دو آنکھیں چھپ کر اس کو دیکھ رہیں ہیں…
…………………………..
اگلے دن رحیم علی بیٹی کو لے کر شہر اپنی کزن بشرٰی کے گھر پہنچا تو اس نے بہت اچھے سے ان کا استقبال کیا .
ارے میرے بھائی کو بڑے عرصے بعد یاد آئی میری بشرٰی نے مسکرا کر کہا .
کیا بات کرتی ہو بہن ابھی کچھ دن پہلے ہی تو آیا تھا رحیم علی نے کہا.
ہاں جی وہ تو آپ اپنے کسی کام سے آئے تھے شہر تو یونہی آ گئے ورنہ کہاں آتے ہو روز روز
میں تو ویسے بھی اکیلی زندگی کی کٹھنائیوں کا مقابلہ کررہی ہوں بشرٰی نے اداسی سے کہا .
کوئی اکیلا نہیں ہوتا بشرٰی اللّہ سب کے ساتھ ہوتا ہے اور تمہارے ساتھ بھی اللّہ ہے اور یہ چاند سا بیٹا بھی تو ہے نہ تمہارا اور اب تو میری لاڈو رانی بھی آ گئی خوب دل لگائے گی تمہارا بڑی سمجھدار ہے میری بچی رحیم علی نے بیٹی کو پیار کر کے کہا.
ارے واہ میری بھتیجی تو بہت پیاری ہے اور اب تو بڑی بھی ہو گئی جب میں نے آخری بار دیکھا تھا تو صرف چھے ماہ کی تھی .
خیر اب آگئی ہے تو ضرور کچھ بن کے ہی لوٹے گی انشاءاللّہ کہتی بشرٰی ان کے لئے چائے بنانے چل دی اور رُتبہ کمرے کی دائیں جانب کتاب میں سر دیے بچے کے پاس جا بیٹھی .
کیا کر رہے ہو رُتبہ نے پوچھا …
لڈو بانٹ رہا ہوں
ایڈیٹ دِکھتا نہیں سٹڈی کررہا ہوں کہتا وہ بچہ کمرے سے باہر چلا گیا اور رُتبہ حیران سی اس کو دیکھتی رہ گئی.
تھوڑی ہی دیر میں بشرٰی چائے لے کر آگئی اور چائے پیتے ہلکی پھلکی گپ شپ کے بعد رحیم علی اپنی پانچ سالہ رُتبہ کو اپنی کزن کے پاس پڑھنے کے لئے چھوڑتا ہوا خوب نصیحتیں کر کے گاؤں لوٹ گیا…
