Sahiba by Alaya Rajput NovelR50711 Last updated: 31 May 2026
No Download Link
185.7K
15
Rate this Novel
Sahiba by Alaya Rajput Episode 01Sahiba by Alaya Rajput Episode 02Sahiba by Alaya Rajput Episode 03Sahiba by Alaya Rajput Episode 04Sahiba by Alaya Rajput Episode 05Sahiba by Alaya Rajput Episode 06Sahiba by Alaya Rajput Episode 07Sahiba by Alaya Rajput Episode 08,09Sahiba by Alaya Rajput Episode 10Sahiba by Alaya Rajput Episode 11Sahiba by Alaya Rajput Episode 12Sahiba by Alaya Rajput Episode 13Sahiba by Alaya Rajput Episode 14Sahiba by Alaya Rajput Episode 15Sahiba by Alaya Rajput Last Episode
Sahiba by Alaya Rajput
رُتبہ چل پھر کہ چپس کھا رہی تھی اور دھیان دیے بغیر جیسے ہی وہ اسی نک چڑھے پاس سے گزری جس کا نام موُسٰی تھا تبھی چپس پر لگی تھوڑی سی کیچپ اس کی بُک پر گر گئی تبھی وہ بری طرح چِڑ کر اٹھا اور رُتبہ کے منہ پر تھپڑ مار دیا جس سے نازک سی رُتبہ تقریبًا اُڑتی ہوئی سامنے دیوار میں بجی اور اس کی ریڑھ کی ہڈی میں بری طرح چوٹ آئی 
پر وہ سڑیل بچہ یہ دیکھے بغیر کے اس کو کیا ہوا اپنی بکس لے کر وہاں سے چلتا بنا.
بشرٰی بازار سے سبزی لے کر لوٹیں تو رُتبہ کو دیوار کے ساتھ لگا بے ہوش پایا تو گھبراہٹ سے ان کے ہاتھ پاؤں پھُول گئے انہوں نے فورًا اسے اٹھایا ہسپتال لے جا کر ڈاکٹر کو دیکھایا تو ڈاکٹر نے بتایا سب ٹھیک ہے بس اس کی ریڑھ کی ہڈی میں چوٹ آئی ہے پر زیادہ ِٹینشن والی بات نہیں جلد ہی ٹھیک ہو جائے گی .
بشرٰی رُتبہ کی دوائیاں لے کر گھر لوٹی تو کافی پریشان تھیں کیونکہ کسی کی اولاد کی ذمہ داری لینا کوئی چھوٹی بات نہیں اور انہوں نے اپنے کزن سے وعدہ کیا تھا کہ ان کی بیٹی کو کچھ بنا کر واپس بھیجیں گی پر یہاں تو دوسرے ہی دن اس بچی کو بری طرح چوٹ لگی تھی اور انہیں یہ بھی سمجھ آگئی تھی کہ یہ چوٹ کس کی وجہ سے لگی ہے .
رُتبہ کو ہوش آیا تو اس کو سُوپ پلا کر آرام کرنے کا کہہ کر اس پر کمبل اوڑھاتی بشرٰی نے مُوسٰی سے بات کرنے کا فیصلہ کیا اور وہاں سے سیدھی موُسٰی کے کمرے میں گئیں ...
موُسٰی کمرے میں بیٹھا کتابیں الٹ پلٹ کر اپنا غصہ نکالنے کی کوشش کر رہا تھا .
ارے میری جان میرا پیارا بیٹا کیا کر رہا ہے بشرٰی نے اپنا لہجہ نرم رکھتے ہوئے کہا.
کچھ نہیں مُوسٰی غصے میں کتاب پٹخ کر کہا
بیٹا اپنی ماما کے ساتھ کوئی ایسے بات کرتا ہے کیا انہوں بڑے نامحسوس انداز میں موُسٰی کو گود میں بھرتے ہوئے کہا ...
تو کیسے کروں بات آپ بتا دیں اس بار پھر لہجہ اکھڑا اکھڑا سا تھا ...
بیٹا مجھے بتائیں کیا بات ہے جس نے آپ کو ڈسٹرب کیا ہے کیوں کہ آپ تب ہی ایسے بی ہیو کرتے ہو جب ڈسٹرب ہوتے ہو بتاؤ مما کو کیا بات ہے ...
پہلے پاپا مجھے چھوڑ کے چلے گئے سب بچے مجھے سکول میں چِڑھاتے ہیں کہ میرے پاپا نہیں ہیں اور اب یہ پتا نہیں کون آگئی مجھ سے میری مما کو چھیننے میں اس کو اپنے گھر سے نکال دوں گا بات کرتا چھوٹا سا مُوسٰی رو پڑا اس کے ننھے سے دماغ میں باپ کی موت کے بعد جانے کتنی محرومیاں پل رہیں تھیں جو آج اس نے اپنی ماں کے سامنے بیان کیں .
اچھا تو آپ کو یہ لگتا ہے کہ رُتبہ مجھے آپ سے چھین لے گی ؟؟؟ جی مُوسٰی نے ہچکیوں سے روتے ہوئے کہا .
پر میں نے تو اسے آپ کی فرینڈ بننے کے لئے بلایا ہے وہ فرینڈ جو آپ کا ہر بات ہر کام میں ساتھ دے گی اور کبھی بھی آپ کو نہیں چِڑھائے گی بلکہ آپ کر چِڑھانے والوں اک دم سیدھا کردے گی اور وہ آپ کی مما کو چھیننے نہیں آئی بس پڑھے گی اور آپ کی بیسٹ فرینڈ بنے گی پھر جب پڑھ لے گی تب اپنی مما اور پاپا کے پاس چلی جائے گی بیٹا اس کے پاس اس کے مما پاپا ہیں تو وہ کیوں چھینے گی آپ کی مما کو؟؟؟
پلیز اس سے فرینڈ شپ کر لیں بیٹا پلیز میری بات مان لیں آپ کو پتا ہے اس بیچاری کو بہت چوٹ آئی ہے .
دیکھو اگر اس کے مما پاپا کو پتا چلا کہ انہوں نے اپنی بیٹی کو آپ کی فرینڈ بننے کے لئے بھیجا اور آپ نے اسے دھکا دے چوٹ لگا دی تو انہیں کتنا دکھ ہوگا اور وہ اپنی بیٹی کو واپس لے جائیں گے پھر کون لڑے گا آپ کے لئے ہر اک سے کون بنے گا آپ کا بیسٹ فرینڈ 
مما مطلب میں نے غلط کیا معصوم سے مُوسٰی نے گھبرا کر پوچھا ...
کچھ نہیں ہوگا آپ بس اس سے سوری بول دو وہ بہت اچھی ہے مان جائے گی اور میرے بیٹے کو ملے گی اس کی بیسٹ فرینڈ ,بشرٰی نے بڑے طریقے سے مُوسٰی کو وہ سب سمجھا دیا تھا جو سمجھنا اس کے لئے بہت ضروری تھا.
اوکے مما میں کل ہی سوری بول دوں گا اور اب نہیں کروں گا کوئی بدتمیزی پرامس پکا والا مما, مُوسٰی نے ماں سے وعدہ کرلیا اور بشرٰی بھی مطمئین سی ہو کر بیٹے کو سلا کر خود بھی سونے چل دی .
اسمہ پنک فراک پہنے گڑیا لگ رہی تھی مہمان آئے تبھی بنا ان پر دھیان دیے اچھے سے چادر اوڑھ کر ان سے سلام لے کر وہ اپنی پسندیدہ جگہ نہر کنارے آگئی اور پاؤں ڈبو کہ بیٹھ گئی تبھی پیچھے اسے کسی کا ہاتھ اپنے کندھے پر محسوس ہوا تو گھبرا کر اس نے پیچھے مڑ کے دیکھا شکل سے بدمعاش دکھنے والا لڑکا اسے عجیب نظروں سے
دیکھ رہا تھا .
کون ہو تم ؟؟؟ اور تمہاری ہمت کیسے ہوئی ہمیں ہاتھ لگانے کی جانتے ہو ہم مرزا سہراب کی بیٹی ہیں حالت خراب کر دیں گے وہ تمہاری اگر ان کو تمہاری اس حرکت کا پتا چلا ...
چلنے دو جس کو جو پتا چلتا اب تو
آپ ویسے بھی ہماری ہی ہونے والی ہیں تو یہ پردہ کیسا اس نے
آگے بڑھ کہ جیسے ہی اسمہ کا نقاب اتارنہ چاہا تبھی تیش میں آکر اسمہ نے اس کے منہ پر تھپڑ مار دیا ...
اچھا نہیں کیا تم نے چھوری تم کو اس تھپڑ کا حساب دینا پڑے گا سمجھی
کہتا وہ تیزی سے واپس مُڑ گیا اور اسمہ کانپتے جسم کے ساتھ گھر کو بھاگی پتہ نہیں کون تھا کمینہ وہ بڑبڑاتی ہوئی گھر پہنچی تو وہی لڑکا اس کے بابا اور ان کے دوست چوہدری شکور کے ساتھ بیٹھا تھا جسے دیکھ کر اسمہ حیران ہوتی اپنا نقاب ٹھیک کرتی اپنےکمرے میں چلی گئی .
مہمانوں کے جانے کے بعد مرزا سہراب اسمہ کے کمرے میں آئے اور اس سے باتیں کرنے لگے باتوں باتوں میں بات چھڑی ...بیٹا آپ سمجھ تو گئی ہو گی نہ کہ چوہدری صاحب کیوں آئے تھے.
کیوں آئے تھے بابا مجھے نہیں پتا اس نے حیران ہو کر پوچھا ...
ارے میری جھلی وہ بچپن کی دوستی کو رشتے داری میں بدلنے آئے تھے ...
مطلب؟؟؟ اسمہ حیران ہوئی
مطلب وہ آپ کا رشتہ اپنے بیٹے دلاور کے لئے مانگنے آئے تھے جو ان کے ساتھ ہی بیٹھا تھا
مرزا سہراب کی بات پوری بھی نہ ہوئی تھی کہ اسمہ نے جھٹ سے کہہ دیا بابا مجھے اس سے شادی نہیں کرنی
کیا ا ا ا کیا مطلب تمہارا تم ہمارے فیصلے کو جھٹلا رہی ہو ؟؟؟
نہیں بابا میں آنکھیں بند کر کے کہیں بھی شادی کرلوں گی جہاں آپ کا حکم ہو گا پر پلیز اس لڑکے سے نہیں جانے کیوں یہ پہلی نظر میں مجھ کو اچھا نہیں لگا... با با جانی یہ مت سمجھئے گا کہ میں آپ کی حکم ادھولی کرنے کا کبھی سوچ بھی سکتی, پر آپ ہی تو کہتے ہیں نہ کہ اسلام میں بیٹی کی مرضی کے بغیر اس کی شادی کرنا گناہ ہے پلیز بابا کہیں بھی کردیں میں آنکھ بند کر کے ہاں کردوں گی پر یہاں نہیں اسمہ کی بات پر مرزا سہراب کا دل ضرور دُکھا کیونکہ وہ بھی بچپن کی دوستی کو رشتے داری میں بدلنے پر خوش تھے پر بیٹی کی مرضی بھی اہم تھی اس لئے دل پے پتھر رکھ کہ رشتے سے انکار کر آئے اور بیٹی کی خاطر دوست کی ناراضگی بھی مول لے لی.
پر دوسری طرف چوہدری دلاور جو ابھی تک تپھڑ کو نہیں بھولا تھا رشتے سے انکار والی بات نے اس کو تو جیسے پاگل کردیا اور دن رات بدلے کی آگ میں جلنے لگا.
