Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sahiba by Alaya Rajput Episode 07

عصر کے بعد دھوپ ڈھلی تو دھوپ کی جگہ ٹھنڈی ہوا نے لے لی۔
موسم پل بھر میں سہانا ہوگیا پر یہ ٹھنڈی ہوا بھی محسم کی اداسی میں کمی نہیں لا سکی تھی, کیونکہ آج بھی وہ کھیتوں میں نہیں آئی تھی جس کا انتظار وہ روز کھیتوں میں صبح سے شام تک بیٹھ کر کرتا تھا۔
اور آج بھی صبح سے شام ہوگئی تھی پر اس لیڈی ہٹلر کا دور دور تک اتا پتا نہ تھا جو دو ملاقاتوں میں ہی مرزا خاندان کے اکلوتے سپوت کے دل کے تخت پر براجمان ہو گئی تھی , اور اس بات کا علم ابھی تک خود محسم مرزا کو بھی نہیں تھا کہ وہ اس لڑاکا لڑکی کو دل دے بیٹھا ہے۔
وہ ابھی تک اس بات پر حیران تھا کہ آخر وہ کس جذبے کے تحت روز کھیتوں میں چلا آتا ہے؟ اور کیوں اس لڑکی کا اتنی شدت سے انتظار کرتا ہے ؟؟؟
اس کے ارد گرد تو اکثر ناچنے والی عورتوں کا میلہ لگا رہتا تھا ۔
چوہدری شہباز کی لاکھ کوششوں کے باوجود وہ لڑکیوں سے دور رہا تھا, پھر کیوں وہ اس لڑکی کے لئے دیوانہ ہوا جا رہا تھا ابھی یہ بات اس کی سمجھ سے بھی باہر تھی۔
جب شام کے سائے ڈھلنے لگے تب بجھے دل کے ساتھ محسم مرزا واپس حویلی کی طرف چل پڑا ۔
کھیتوں سے تھوڑا آگے جاکر گاؤں کی بہت پیاری سی نہر واقع تھی جس کا پانی گاؤں والوں کے لئے روز مرہ کے کاموں میں بہت اہمیت کا حامل تھا پر شام تک سب لوگ اپنے کام نپٹا کر گھروں کو چلے جاتے تھے ۔
اس لئے شام کے وقت نہر پر اکثر کوئی نہیں ہوتا تھا۔
آج بھی نہر پر کوئی نہیں تھا ,محسم اک سرسری نگاہ نہر پر ڈالتا افسردہ سا آگے بڑھ رہا تھا کہ اچانک اس کی نگاہ واپس نہر کی جانب پلٹی اور خوبصورت درختوں کی اوٹ میں بیٹھی اس لیڈی ہٹلر پر اٹک سی گئی۔
محسم کا دل خوشی سے اچھل اچھل کر باہر آنے کو تھا ۔
کیونکہ اتنے دن سے جس کا وہ دیوانوں کی طرح کھیتوں میں بیٹھ کر انتظار کرتا تھا بلآخر وہ اس کی آنکھوں کے سامنے آ گئی تھی ۔😍
ایسا نہیں تھا کہ وہ کوئی بہت حسین لڑکی تھی بس سادہ سی قبول صورت لڑکی تھی ۔
پر پھر بھی محسم مرزا کا دل اس پر آ گیا تھا ۔
وجہ اس کا کوئی حسن نہیں تھا , کیونکہ حسن تو اسے آئے دن خوار ہوتا دکھائی دیتا تھا امیروں کے بگڑے بیٹوں کے ہاتھوں 😞
وجہ اس کا وہ حجاب وہ پردہ تھا جو اسے ہزاروں لڑکیوں میں سب سے منفرد بناتا تھا ۔
اور شاید اسی حجاب پر محسم پہلی نظر میں ہی دل ہار گیا تھا ۔
کیونکہ اپنی مما کے بعد محسم نے اپنی زندگی میں پہلی بار کسی باپردہ لڑکی کو دیکھا تھا اور شاید اسی لئے اس کا دل اس لڑکی کی جانب کھچا چلا جاتا تھا ۔
شروع ہی سے اس کی خواہش تھی کہ اسے نیک اور باپردہ لڑکی کا ساتھ ملے جو بلکل اس کی مما کی طرح ہو باپردہ اور صاف دل 💟
ماں باپ کے انتقال کے بعد دن رات چوہدری خاندان کے بگڑے لڑکوں کے ساتھ وقت گزار کے جو روپ اس نے عورت کا دیکھا تھا اس سے تو نفرت ہوگئی تھی اسے ,
پر کہتے ہیں نہ نیک عورتیں اللّہ پاک نے نیک مردوں کے بنائی ہیں اور نیک مرد نیک عورتوں کے لئے…
حالانکہ محسم مرزا کوئی پانچ وقت کا نمازی اور نیک نہیں تھا پر اللّہ پاک تو سب کے دلوں کے راز جانتا ہے 💟 اور اللّہ پاک یہ بھی بہتر جانتا تھا کہ محسم نے ہر طرح کے برے ماحول میں رہ کر بھی کبھی کسی عورت کو چھؤا تک نہیں…
تو پھر کیسے ہو سکتا تھا اس کی قسمت میں اچھی لڑکی کا ساتھ نہ ہوتا 😊
شاید اسی لئے اللّہ پاک نے محسم کو رُتبہ سے ملایا تھا اور محسم مرزا کے دل میں رُتبہ کے لئے پاکیزہ جذبات کو جگہ دی ۔
جلد ہی قدرت ان دونوں کا نام اور نصیب بھی اک دوسرے سے جوڑنے والی تھی 💕
پر اک دوسرے کی محبت پانے کے لئے دونوں کو ابھی بہت سی کٹھنائیوں سے گزرنا تھا ۔
محسم دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا اس کی طرف بڑھتا رہا یہاں تک کہ وہ اس کے بلکل قریب پہنچ گیا, پر اب مسئلہ یہ تھا کہ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کس طرح وہ اس لیڈی ہٹلر سے بات کرے کیونکہ پچھلی دو بار جو اس لڑاکا لڑکی نے محسم کی عزت افزائی کی تھی وہ اسے اچھے سے یاد تھی
اس لئے وہ اس سے بات کرنے سے کترا رہا تھا اور یوں ہی کھڑا کھڑا اس کو نہر میں پتھر پھینکتے ہوئے دیکھ رہا تھا
بہت دیر بعد جب محسم نے ہمت کر کے اس سے بات کرنے کی کی سوچی اور اسے بلانے ہی لگا اسی پل درخت کے پیچھے سے اک سانپ نکلا اور اور رُتبہ کو ڈسنے ہی والا تھا تبھی بجلی کی تیزی سے محسم نے آگے بڑھ کر رُتبہ کو دھکا دے دیا جو سیدھی نہر میں جا کے گِری اتنے میں سانپ محسم کو ڈس کے جا چکا تھا ۔
”ارے واہ کتنا پیارا موسم ہےٹھنڈی ٹھنڈی ہوا اور اوپر سے ٹھنڈے پانی میں پاؤں ڈبو کر بیٹھنے کا بھی اپنا ہی مزہ ہے
گاؤں واقعی بہت پیارا ہوتا ہے اگلی بار میں پھپھو اور موسٰی کو بھی لے کر آؤں گی اپنے ساتھ گاؤں میں, ان کے بغیر تو اتنا پیارا منظر اور موسم دونوں ہی خالی خالی لگ رہے ہیں🙁
رُتبہ اداس بیٹھی یہی باتیں سوچ رہی تھی جب کسی نے اچانک پیچھے سے اسے زور سے دھکا دے کر نہر میں گرا دیا , شکر کی بات تو یہ تھی کہ رُتبہ کو تیرنا آتا تھا اگر اسے تیرنا نہ آتا ہوتا تو گرانے والے نے اسے مارنے کی پوری کوشش کی تھی ایسا رُتبہ کو تب تک لگ رہا تھا جب تک مُڑ کر اس نے گرانے والے کی حالت نہیں دیکھی تھی ۔
„کس کی شامت آئی ہے آج جو اس نے اتنی ہمت کی مجھے دھکا دینے کی۔ “
صدا کی لڑاکو رُتبہ غصے میں بولتی مڑی تو سامنے تڑپتے ہوئے محسم اور پاس سے گزرتے ہوئے خوفناک سانپ کو دیکھ کر اس کی جان نکل گئی ۔
رُتبہ نے خوف سے چیخنا چلّانا شروع کردیا ۔
بچاؤ بچاؤ کی آواز سن کر کھیتوں میں اِکّا دُکّا کام کرتے لوگ بھاگے آئے اور محسم مرزا کی حالت دیکھ کر فورًا اسے اٹھا کر ہسپتال کی طرف بھاگے اور پیچھے رُتبہ خوف سے کانپتی ہوئی نہر سے نکلی اور بھاگتی ہوئی واپس اپنے گھر پہنچی تو اسے دیکھ کر سب گھبرا گئے اور بار بار پوچھنے پر بھی رُتبہ کچھ بتائے بغیر ہی بے ہوش ہوگئی۔
رُتبہ کو جب ہوش آیا تو سب گھر والے اسی کے پاس بیٹھے تھے کوئی پریشانی سے اس کا سر دبا رہا تھا اور کوئی اس کا چہرہ سہلا رہا تھا ۔
اور فرح دور کھڑی اپنے دونوں کی انگلیوں کو یوں مڑوڑ رہی تھی جیسے اسے کسی بات کا خوف ہو۔
اور خوف تو اس کے دل میں بیٹھا تھا وہ ڈر رہی تھی کہ کہیں اس کی آپی بھی اس درندے چوہدری شہباز کی غلیظ نظر میں تو نہیں آگئی 😨
رُتبہ کو جیسے ہی ہوش آیا تو زبیر بھاگ کر کچے گڑھے سے پانی لایا اور اسے پلایا ۔
رُتبہ گھونٹ گھونٹ کر کے سارا پانی پی گئی ۔
جب رحیم علی نے دیکھا کہ اب اس کی بیٹی پہلے سے بہتر لگ رہی ہے تب اس نے پوچھا کیا ہوا میری بچی کیوں اتنا ڈری ہوئی تھی بتاؤ ۔
اپنے بابا کے محبت سے پوچھنے پر رُتبہ کو حوصلہ ملا اور وہ ساری بات بتاتی چلی گئی۔
ارے بیٹا تو آپ کو وہاں بہادری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا اور مرزا صاحب کو بچانا چاہیے تھا بجائے اس کے کہ آپ ڈر کے گھر بھاگ آتیں اس بار رُتبہ کی امّاں بولیں۔
”امّاں میں بہت ڈر گئی تھی میں نے آج سے پہلے زندگی میں کبھی سانپ نہیں دیکھا اس لئے بس خوفزدہ ہوگئی تھی , باقی وہ مرزا صاحب کو لوگ ہسپتال لے گئے تھے امید ہے وہ ٹھیک ہوں گے , اور دوسرا میں کل جاؤں گی نہ ان کی طبیعت کا پوچھنے آخر انہوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر مجھے بچایا ہے ۔“
رُتبہ کے دل میں محسم کے لئے نرمی پیدا ہونے لگی تھی کیونکہ محسم نے اپنی جان پر کھیل کر اسے بچایا تھا۔
اگلے دن صبح صبح فجر کی نماز ادا کر کے رُتبہ گھر سے نکلی اور گلی میں کھیلتے چھوٹے سے بچے کو لے کر حویلی تک آ گئی اور جب بچے نے اسے ٹھیک سے حویلی تک پہنچا دیا تب اس نے بچے کو پیار کرتے ہوئے اک چاکلیٹ دی اور واپس بھیج دیا اور خود اپنا حجاب ٹھیک کرتی اندر داخل ہوگئی جہاں گیٹ پر ہی اسے چوکیدار نے روک لیا ۔
اوہ بی بی کون ہو تم اور کہاں گھسی چلی آرہی ہو ۔
چوکیدار کی بدتمیزی پر رُتبہ کو غصہ تو بہت آیا تھا پر صبح صبح وہ کسی سے بحث کر کے اپنا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتی تھی اس لئے اپنے غصے کو دباتے ہوئے نرمی سی بولی…
”بھائی مجھے محسم مرزا سے ملنا ہے دراصل کل ان کو سانپ نے کاٹ لیا تھا نہ تو بس ان کا حال چال ہی پوچھنا ہے۔“
”ٹھیک ہے میں ان کو پیغام دے دوں گا تمہارا ابھی جاؤ یہاں سے ہمیں اجنبیوں کو حویلی کے اندر بھیجنے کی اجازت نہیں دی بڑے مرزا صاحب نے۔“
”آپ اک بار بس اپنے مرزا صاحب سے پوچھیں تو سہی کہ وہ لڑکی آپ سے ملنے آئی ہے جو نہر کے پاس کل بیٹھی تھی مجھے امید ہے وہ اجازت دے دیں گے اندر آنے کی۔“
اس بار بھی رُتبہ نے اپنے اندر اٹھنے والے شدید غصے کو دباتے ہوئے مسکرا کر کہا۔
بی بی اک بار بولا نہ نہیں تو مطلب نہیں جاؤ یہاں سے کہتا وہ سڑیل چوکیدار گیٹ کو زور سےبند کرکے اندر چلا گیا ۔
_____________
”دادا جانی آپ کے بغیر میرا دل نہیں لگتا میں کیسے رہوں گا اتنے دن اکیلے۔“ محسم مرزا ائیر پورٹ پر عمرہ کی ادائیگی کے لئے جاتے ہوئے مرزا سہراب کے گلے میں لاڈ سے بانہیں ڈال کے بولا۔
”ارے میرے بچے میری ساری عمر بلاوے کا انتظار کرتے گزری, اب اگر اس عمر میں آ کر مجھ گناہ گار پر آقا کریم (ص ع و و)کی نظر کرم ہونے جا رہی ہے تو کیوں اداسی کی باتیں کر رہے ہو یار, چند دن کی بات ہے پھر میں نے واپس یہیں آنا ہے اپنے لاڈلے کے پاس,اتنے دن تم شہباز کے پاس چلے جاؤ یار۔“
”میرے بچے اپنا خیال رکھنا, وہاں پر بھی میرا دھیان آپ کی طرف ہی لگا رہے گا۔“
”اوکے میں اپنا پورا دھیان رکھوں گا پر اک شرط پر… “
”کیسی شرط؟“ مرزا سہراب نے حیران ہو کر پوچھا۔
”یہی کہ آپ وہاں بھی وقت پر اپنی دوا لیتے رہیں گے اور اپنی صحت کا پورا خیال رکھیں گے۔“محسم جانتا تھا کہ اس کے دادا جان شوگر کے مریض ہیں اور صحت پر کبھی توجہ نہیں دیتے اس لئے وہ جانے سے پہلے ان سے وعدہ لے رہا تھا تاکہ وہ وہاں جا کر بھی وقت پر دوا لیتے رہیں۔
”اچھا جی میں وعدہ کرتا ہوں کہ وہاں پر بھی دوا وقت پر لوں گا , اب خوش؟“ مرزا سہراب نے پوتے کے ماتھے کا بوسہ لے کر پوچھا۔
”جی خوش۔“ محسم نے ان کے گلے لگ کر الوداع کہا اور مرزا سہراب سعودی عرب چلے گئے۔
************
رُتبہ غصے سے لال پیلی ہوتی واپسی کی لئے مڑی ہی تھی کہ رُشنا سے ٹکرا گئی۔
”ارے آپی آپ یہاں؟“رُتبہ کو حویلی کے آگے دیکھ کے رُشنا کو حیرت ہوئی۔
”آپ کون؟“
”میں نے آپ کو پہچانا نہیں۔“
اک انجان لڑکی کا یوں رُتبہ کو اس کے نام سے پکارنا جیسے ان کی پرانی جان پہچان ہو, رتبہ کو حیرت میں مبتلا کرگیا تھا۔
”آپ مجھے نہیں جانتی پر میں آپ کو بچپن سے جانتی ہوں۔“
”دراصل میں فرح کی بچپن کی دوست ہوں۔“
”اس نے بتایا آپ شہر اپنی پھپھو کے ساتھ ہی رہتیں ہیں۔“
”آپ کی تصویریں بھی دکھائیں تھیں اس نے مجھے اور ابھی کچھ دن پہلے ہی اس نے بتایا تھا کہ آپ آرہی ہیں گاؤں رہنے کے لئے, میں آج شام کو ہی ملنے کے لئے آنے والی تھی آپ سے پر میری خوش قسمتی آپ یہیں مل گئیں۔“
”اوہ اچھا تم فرح کی دوست ہو؟“
”جی۔“ رُشنا نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
”پر آپ یہاں حویلی کے باہر کیا کر رہیں ہیں؟“ ”خیریت؟“
”ہاں بس میں مرزا صاحب کا شکریہ ادا کرنے آئی تھی۔“
”مرزا صاحب کا شکریہ۔؟رُشنا حیران ہوئی۔
”ہاں وہ کل انہوں نے میری جان بچائی اک زہریلے سانپ سے اس لئے۔“
”اوہ تو وہ آپ ہیں جنہیں بچاتے ہوئے چھوٹے مرزا صاحب کو سانپ نے ڈنگ مارا تھا۔“
”بہت بری حالت تھی ان کی اگر انہیں وقت پر ہسپتال نہ لے جایا جاتا تو جان بھی جا سکتی تھی۔“
”بڑے مرزا صاحب تو عمرہ کی ادائیگی کے لئے گئے ہیں اگر وہ یہاں ہوتے تو اپنے اکلوتے پوتے کی اس حالت پر تڑپ کے رہ جاتے۔“
”ان کی تو کل کائنات ہی ان کا پوتا ہے۔“فرح نے افسردہ لہجے میں بتایا۔
”کیوں ان کی باقی فیملی کہاں ہے؟“رتبہ نے پوچھا۔
”سنا ہے ان کا اک بیٹا تھا پر اک ایکسیڈنٹ میں ان کی اور ان کی بیوی کی موت ہوگئی, شاید وہی چھوٹے مرزا صاحب کے اماں بابا تھے۔“
”اور سننے میں آیا کہ اک بیٹی بھی تھی پر جانے کہاں گئی وہ مجھے نہیں پتا, جب کبھی ان کے بارے میں امی ابو سے پوچھتی ہوں تو وہ ڈانٹ کر چپ کروا دیتے پر کچھ بتاتے نہیں ہیں۔“
”اچھا تم حویلی میں کیا کرنے آئی تھی؟“
”جی میں یہاں کام کرتی ہوں, میرے امی ابو بھی یہیں کام کرتے ہیں شروع سے, شاید میری پیدائش سے بھی پہلے کے ۔“رتبہ کے سوال پر رشنا نے جواب دیا۔
”اچھا اگر تم یہاں کام کرتی ہو تو میرا اک کام ہی کردو۔“
”جی کہیے آپی میرے بس میں ہوا تو ضرور کروں گی۔“
”مجھے حویلی کے اندر لے جاؤ میں تمہارے چھوٹے مرزا صاحب سے ملنا چاہتی ہوں۔“
”جی کیوں نہیں آئیے۔“رشنا رتبہ کو اپنے ساتھ لے کر حویلی میں چلی آئی اور اس بار چوکیدار روک بھی نہیں پایا کیونکہ رتبہ کے ساتھ حویلی کی ملازمہ رشنا بھی تھی۔
رشنا رتبہ کو لے کر محسم مرزا کے کمرے کی طرفلے آئی۔
”اب یہاں سے آگے آپ خود جائیں ہم ملازموں کو بنا اجازت چھوٹے مرزا صاحب کے کمرے میں جانے کی اجازت نہیں۔“
اوکے بہت شکریہ تم نے مدد کی یہاں تک آنے میں, ورنہ مجھے تو یہاں تک آنا بھی ناممکن لگ رہا تھا۔“
”چلیں پھر آپ اندر جائیں میں چلتی ہوں مجھے کچن کا کام بھی نپٹانا ہے۔“ کہتی رشنا واپس مڑ گئی اور رتبہ اعتماد بحال کرتی دروازے پر ہلکی سی دستک دیتی اندر داخل ہوگئی۔
***********
بروقت ہسپتال پہنچ جانے کی وجہ سے معجزاتی طور پر محسم کی جان بچ گئی تھی۔
اگلے دن گھر پر آجانے کے بعد بھی طبیعت ناساز سی تھی اس کی, اور اپنی طبیعت بے چین ہونے کے باوجود اس کا دھیان بار بار رتبہ کی جانب جا رہا تھا۔
بار بار اسے یہ فکر ستا رہی تھی کہ وہ لڑکی ٹھیک تو ہوگی نہ, کہیں ڈوب تو نہیں گئی ہوگی۔
پتا نہیں اسے تیرنا بھی آتا ہوگا یا نہیں۔
پتا نہیں اسے کسی نے نہر سے نکالا ہوگا کہ نہیں, وہ انہیں سوچوں میں گم بستر پر لیٹے لیٹے چھت کو گھور رہا تھا جب اس کے کمرے کا دروازہ دستک کے بعد دھیرے سے کھلا اور کوئی اندر داخل ہوا۔
***********
رتبہ میں اعتماد کی بلکل کمی نہ تھی پر آج پہلی بار اک عجیب سا احساس اسے گھیرے ہوئے تھا۔
”اندر جاؤں یا نہیں؟“
رتبہ کیا ہوگیا ہے تم کو کچھ نہیں ہوتا اگر وہ برا انسان ہوتا تو اپنی جان پر کھیل کر کیوں بچاتا تمہیں, میرے خیال سے میں کچھ زیادہ ہی سوچ رہی ہوں کچھ نہیں ہوتا ,اب مجھے اندر چلنا چاہیے۔“رتبہ خود سے سوال کر کے خود ہی جواب دیتی ہمت مجتمع کرتی دروازے پر ہلکے ہاتھ کی دستک دیتی دھیرے سے دروازے کا ہینڈل گھما کر اندر داخل ہوگئی۔
اسلام علیکم! رُتبہ نے اندر داخل ہوتے ہی بیڈ پر لیٹے محسم کو سلام کیا۔
اور وہ جو بیڈ پر لیٹے لیٹے صرف اسی کے بارے میں سوچ رہا تھا اسے اپنے سامنے دیکھ متحیر رہ گیا۔
وہ لڑکی جس کی اک جھلک کے لئے وہ روزانہ کھیتوں میں جاتا تھا اور ہر بار ناکام لوٹتا تھا۔
آج وہ خود سالم اس کے سامنے کھڑی تھی😱
محسم کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔
اور رُتبہ اس کے اس طرح دیکھنے پر نروس سی کھڑی اپنی انگلیاں مڑوڑ رہی تھی۔
”عجیب انسان ہے کیسے پاگلوں کی طرح منہ کھولے دیکھ رہا ہے جیسے پہلے کبھی لڑکی نہ دیکھی ہو۔“
”پہلے تو اتنا شریف بنتا تھا کہ نظر اٹھانے سے بھی گریز پا تھا اور اب کیسے دیدے پھاڑ کے دیکھ رہا ہے۔“ 😏
”خیر اب آ گئی یوں تو ان صاحب کی خیریت پوچھ کہ ہی جاؤں گی۔“
”کیسی طبیعت ہے اب آپ کی۔“ رتبہ نے خاموشی توڑنے میں پہل کی۔
”ج ج جی اب بہتر ہوں۔“ محسم نے پہلی بار رتبہ کے سامنے لب وا کئے۔
”آ اااپ کھڑی کیوں ہیں بیٹھیے نہ۔“ محسم نے ہکلاتے ہوئے اپنی بات مکمل کی۔
”جی شکریہ۔“کہتی رُتبہ بیڈ کی دائیں جانب پڑے صوفے پر بیٹھ گئی۔
”وہ جو کل آپ نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر میری جان بچائی اس کے لئے میں آپ کی مشکور ہوں۔“
”ارے آپ ایسے مت کہیں وہ تو میرا فرض تھا۔“
”اگر آپ کی جگہ کوئی اور انسان بھی وہاں ہوتا تو میں تب بھی یہی کرتا کیونکہ مجھے اچھےسے معلوم ہے سانپ کا کاٹا جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔“
»اور آپ نے یہ سب جانتے بوجھتے اپنی جان خطرے میں ڈال دی کہ سانپ کا کاٹا آپ کے لئے بھی جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ خیر سے انسان تو آپ بھی ہیں۔“رُتبہ نے ڈھکے چھپے الفاظ میں میٹھا سا طنز کیا, جس پر محسم مسکرائے بنا نہ رہ سکا۔
”بجا فرمایا آپ نے, پر کیا ہے نہ کہ بچپن سے میرے دادا جان نے مجھے یہی سکھایا ہے کہ اگر آپ کے سامنے کوئی ایسا انسان ہو جسے مدد درکار ہو تو اسے کبھی نظر انداز مت کرنا, بلکہ آگے بڑھ کے ہر حال میں اس کی مدد کرنا چاہے اس کے لئے خود کی جان خطرے میں کیوں نہ ڈالنی پڑے۔“محسم نے اپنے دادا جان کی بچپن میں کی گئی نصیحت کو لفظ با لفظ دہرایا۔
”اس کا مطلب آپ کے دادا جان بہت عظیم انسان ہیں۔“رُتبہ نے مسکرا کر کہا تو محسم اس کی سحر انگیز مسکان میں اک پل کے لئے کھو سا گیا, پر دوسرے ہی پل فورًا دل پے قابو پا کر بولا…
”جی اس میں کوئی شک نہیں۔“
”آپ کیا لیں گی؟؟؟ٹھنڈا یا گرم۔“محسم نے اپنی خفت مٹانے کے لئے فورًا پہلو بدلا۔
”بہت شکریہ کسی چیز کی حاجت نہیں میں گھر سے ابھی کھانے کھا کر آئی ہوں اور کھانے کے بعد دو گھنٹے تک میں کچھ نہیں کھاتی۔“
”مطلب آپ ڈائٹ پر ہیں۔“محسم نے جھجھکتے ہوئے پوچھا۔
”ارے نہیں نہیں ایسی کوئی بات نہیں دراصل مجھے شروع سے ہی عادت ہے کہ کھانے کے بعد دو گھنٹے تک کچھ کھاتی نہیں , باقی رہی ڈائٹنگ کی بات تو وہ میں نے کبھی نہیں کی۔“رُتبہ نے بمشکل اپنی ہنسی روک کر کہا۔
”چلیے اگر واقعی ڈائٹنگ نہیں کرتیں آپ تو پھر جوس لے لیں,کم سے کم آپ مجھ کو اتنی مہمان نوازی کا موقع تو دے سکتیں ہیں نہ۔“ محسم کے سادہ اور شرمیلے لہجے پر رُتبہ کو پھر سے ہنسی آ رہی تھی جسے اس نے بروقت کنٹرول کر کے محسم کی آفر کو قبول کر لیا کیونکہ رُتبہ کو اس انسان کی نیت اس کے لہجے کی طرح بلکل صاف لگی تھی۔
اور ویسے بھی اللّہ پاک نے عورت کو وہ نظر دی ہے جس سے اسے پل بھر میں پتا چل جاتا ہے کہ سامنا بیٹھا شخص کس نیت سے اس سے مخاطب ہے, اسی لئے اس نے محسم کی نیت کو پانچ منٹ کی مختصر گفتگو کے دوران ہی جانچ لیا تھا جو بلکل صاف تھی محسم نے انٹر کام پر ملازم کو فریش جوس لانے کو کہا۔
”میں نے آپ کے لئے فریش جوس منگوایا ہے کیونکہ فریش جوس تو ڈائیٹنگ کرنے والے اور نہ کرنے والے دونوں کے لئے ہی مفید ہے“۔
”جی شکریہ😊 اتنے تکلف کی کوئی ضرورت تو نہیں تھی پھر بھی اتنا کہہ رہے ہیں تو پی لیتی ہوں۔“ رُتبہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
اتنے میں ملازم جوس لے کر آگیا جسے ہلکی پھلکی گفتگو کے دوران دونوں نے ختم کیا تو رُتبہ واپسی کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی۔
”آپ کی مہمان نوازی بہت اچھی لگی مجھے اب چلتی ہوں اپنا خیال رکھیے گا اور دوا وقت پر لیجیے گا تاکہ آپ جلدی سے صحت یاب ہو جائیں۔“رُتبہ نے مسکرا کر کہا۔😊
”خیال رکھنے کے لئے فلحال ملازم ہی ہیں وہ میڈیسن کھلا دیتے ہیں اور کھانا بھی روم میں ہی آ جاتا ہے۔ “ محسم نے پھیکی سی مسکان چہرے پر سجاتے ہوئے کہا کیونکہ رُتبہ کی بات نے اسے اس کے ماما پاپا کی یاد دلا دی تھی اوپر سے اس کے لاڈ اٹھانے والے دادا جی بھی نہیں تھے اس کے پاس, اسی لئے وہ خود کو بہت اکیلا محسوس کررہا تھا۔
”کیوں کہاں ہیں سب رُتبہ نے اچنبھے سے پوچھا۔“
”بہن بھائی تو ہیں ہی نہیں میں اکلوتا ہوں اور ماما پاپا کی تب ایک کار ایکسیڈنٹ میں ڈیتھ ہوگئی تھی جب میں محض پانچ سال کا تھا۔“محسم نے رُتبہ کے سوال پر آنکھوں میں آئی نمی کو روکتے ہوئے افسردہ لہجے میں کہا۔
”تو اور کوئی نہیں اب آپ کے پاس ؟“رُتبہ کو جانے کیوں اس اجنبی پر ترس آیا۔
”دادا جان ہیں پر وہ بھی عمرہ کی ادائیگی کے لئے گئے ہیں۔“
”آپ کو ان کو بتانا چاہیے تھا نہ کہ آپ کی طبیعت خراب ہے۔“رُتبہ نے اپنے تئیں بہت عقلمندی کی بات کی۔
”نہیں بتا سکتا کیونکہ اگر میں ان کو بتا دیتا تو دور دیس میں بیٹھے وہ پریشان ہو جاتے اور میں دادا جان اور ان مبارک لمحات کے بیچ میں نہیں آنا چاہتا جو انہیں ساری زندگی بلاوے کی دعاؤں کے بعد میسر آئے ہیں۔“
”اگر آپ مناسب سمجھیں تو میں کچھ دن آپ کی دیکھ بھال کر سکتی ہوں؟ ایکچوئیلی میں کہنا یہ چاہ رہی تھی کہ آپ اس تکلیف میں میری وجہ سے مبتلا ہوئے اور فلحال آپ کے پاس آپ کی دیکھ بھال کرنے کے لئے کوئی فیملی میمبر بھی نہیں ایسے میں آپ مکمل طور پر ملازموں کے رحم و کرم پر رہیں گے تو جلدی ٹھیک بھی نہیں ہو پائیں گے اور میں نہیں چاہتی کہ کوئی میری وجہ سے اس طرح بستر کا ہو کر رہ جائے۔“رتبہ کو یہ وقت بہتر لگا محسم کے احسان کو چکانے کا, اور کچھ ہمدردی بھی ہوچلی تھی رُتبہ کو محسم کی بات سن کے۔
»ارے نہیں میں آہستہ آہستہ بہتری کی طرف آ رہا ہوں آپ کو میرے لئے پرہشان ہونے کی ضرورت نہیں۔“ محسم رُتبہ کی بات پر سٹپٹا گیا۔
اسے خود پر غصہ آ رہا تھا کہ کیوں وہ اداسی میں اپنے ماں باپ کا ذکر اس سے کر بیٹھا اب وہ بیچاری لڑکی روز اس کی خدمت کے لئے آئے گی تو کہیں لوگ اس کے بارے میں غلط نہ سوچ لیں۔
چند پل کی ان تین ملاقاتوں میں ہی محسم کے دل میں رُتبہ کے لئے محبت کے ساتھ ساتھ عزت کے جذبات بھی جنم لے چکے تھے اسی وجہ سے محسم اسے انکار کر رہا تھا پر رُتبہ اس کی بات کا برا مان جائے گی اسے اس بات کا علم نہ تھا۔
”اگر آپ کو میرا آپ کی تیمارداری کے لئے آنا یا آپ کی دیکھ بھال کی آفر کرنا برا لگا تو میں معذرت چاہتی ہوں۔“
”میری جان بچانے اور اس مہمان نوازی دونوں کے لئے میں آپ کی مشکور ہوں۔“کہتی رُتبہ باہر جانے کے لئے مڑی ہی تھی کہ محسم کی آواز نے اس کے باہر کی جانب بڑھتے قدم روک دیے۔
”رکیے محترمہ میرا وہ مطلب نہیں تھا۔“
دراصل میں تو آپ کو اس لئے منع کررہا تھا کہ آپ کہاں میرے لئے اپنا قیمتی وقت نکال کر آئیں گی تو آپ کو زحمت ہوگی بس اسی لئے۔“😞
”میرا مقصد آپ کو ہرٹ کرنا نہیں تھا۔“محسم نے شرمندہ ہوتے ہوئے بولا۔
”نہیں مجھے برا نہیں لگا پر اچھا لگتا اگر آپ مجھے اپنی دیکھ بھال کا موقع دیتے۔“ رُتبہ نے سر جھکا کر پھیکی سی مسکان محسم کی جانب اچھالی تو محسم کا دل کٹ کے رہ گیا۔
”چلیے اگر آپ کو اچھا لگے گا تو مجھے کوئی اعتراض نہیں آپ مجھ ناچیز کی دیکھ بھال کریں یہ میرے لئے بہت بڑی بات ہے۔“
„چلیے پھر ٹھیک ہے میں کل صبح آؤں گی اور آپ کے بہت کان کھاؤں گی کیونکہ مجھے بہت زیادہ بولنے کی عادت ہے۔“رُتبہ محسم کی ہاں سن کے پہلے والی شرارتی رُتبہ بن گئی پر اس کا یہ روپ محسم کے لئے نیا تھا جو اسے حیران کرنے کے ساتھ ساتھ مسکرانے پر مجبور کر گیا۔
”اوکے اب میں چلتی ہوں اللّہ حافظ۔“کہتی رتبہ کمرے کا دروازہ کھول کے باہر نکل گئی اور محسم اس کے جانے کے بعد بھی جانے کتنی ہی دیر دروازے کو تکتا رہا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *