Sahiba by Alaya Rajput NovelR50711 Sahiba by Alaya Rajput Episode 04
No Download Link
185.7K
15
Rate this Novel
Sahiba by Alaya Rajput Episode 01 Sahiba by Alaya Rajput Episode 02 Sahiba by Alaya Rajput Episode 03 Sahiba by Alaya Rajput Episode 04 (Watching)Sahiba by Alaya Rajput Episode 05 Sahiba by Alaya Rajput Episode 06 Sahiba by Alaya Rajput Episode 07 Sahiba by Alaya Rajput Episode 08,09 Sahiba by Alaya Rajput Episode 10 Sahiba by Alaya Rajput Episode 11 Sahiba by Alaya Rajput Episode 12 Sahiba by Alaya Rajput Episode 13 Sahiba by Alaya Rajput Episode 14 Sahiba by Alaya Rajput Episode 15 Sahiba by Alaya Rajput Last Episode
Sahiba by Alaya Rajput Episode 04
محسم مرزا کی سالگرہ قریب تھی اس لئے دو دن پہلے ہی اس کے ارد گرد کے گاؤں کے اور شہر سے کالج کے سارے دوست آگئے تھے ایک دن پہلے ہی چوہدری شہباز بھی اپنی شان و شوکت سمیت آچکا تھا ڈھیر سارے تحائف لے کر…
آج پھر سب یار دوست شام کی چائے کے بعد کھیتوں میں گھومنے نکلے تھے سب خوش گپیوں میں مصروف تھے بس اک چوہدری شہباز ہی تھا جس کی نظر ٹیوب ویل پر اٹکی تھی پر آج وہاں کوئی نہ تھا اور اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کیسے اس تتلی کو ڈھونڈ لائے جس پر اب کی بار اس کی گندی نظر آ کر رکی تھی .
سب دوست کھیتوں سے ہو کر باغ میں جارہے تھے تبھی وہ اسے ہاتھوں میں کھانا پکڑے کھیتوں میں آتی دکھائی دی اسے دیکھ کر چوہدری شہباز کے قدم زمین پر جم سے گئے اس کے سب دوست آگے بڑھ گئے پر وہ وہیں کھڑا رہ گیا
وہ اپنے ماں بابا اور تایا تائی کو کھانا نکال کر دے رہی تھی کھانا کھلا کر وہ واپسی کے لئے مڑی تو وہ بھی اس کے پیچھے پیچھے چل دیا اور جیسے ہی اس کےگھر کے قریب تھوڑا سنسان راستہ آیا وہیں آگے بڑھ کر چوہدری شہباز نے فرح کا ہاتھ تھام لیا .
فرح گڑبڑا کہ پیچھے مڑی تو اسی عجیب نَظروں والے انسان کو دیکھ کہ گھبرا گئی …
کیا نام ہے چھمک چھلو کا ؟؟؟
چوہدری شہباز نے اپنی غلیظ نظروں سے فرح کو تاڑتے ہوئے کہا .
تم سے مطلب جو بھی ہو میرا نام ہاتھ چھوڑو میرا فرح نے اپنی کانپتی آواز کو مضبوط بنانے کی کوشش کی .
نہ چھوڑوں تو… چوہدری شہباز نے آگے بڑھ کے جیسے ہی اس کے چہرے کو چھونے کی کوشش کی فرح کا دماغ سلگ اٹھا اور اس نے بنا سوچے سمجھے چوہدری شہباز کے منہ پر تھپڑ دے مارا …
شرم نہیں آتی لڑکیوں کو چھیڑتے ہوئے گھر میں ماں بہن نہیں کیا تمہاری, وہ غصے سے چلاتی اس سے اپنا ہاتھ چھڑا کر بھاگتی ہوئی اپنے گھر میں داخل ہوگئی اور چوہدری شہباز غصے سے لال ہوتا کتنی ہی دیر اس کے گھر کے دروازے کو انگارا ہوتی آنکھوں سے دیکھتا رہا 
…………………………
اِدھر منہ بنا کے رُتبہ ریسٹورنٹ سے باہر نکل آئی تو اس کے پیچھے پیچھے مُوسٰی بھی چلا آیا ہہہہہممم تو محترمہ ناراض ہوگئی ہیں .وہ اس کے پیچھے کھڑا کھڑا بولا تو وہ غصے میں دو قدم اور آگے بڑھ گئی .
آپ کو کیا فرق پڑتا ہے میں ناراض ہوں یا خوش
رُتبہ رو دینے کو تھی .
کس نے کہا فرق نہیں پڑتا میڈم بتائیں ذرا جانتی ہو میرے بابا کی اچانک موت نے مجھے کتنا اکیلا اور ڈرپوک بنا دیا تھا میں نے دوست بنانے چھوڑ دیے تھے میں سب سے کِھچا کِھچا سا رہنے لگا تھا مما سے بھی دور ہو رہا تھا .
اس وقت تم تھی جس نے مجھے جینا سکھایا مجھے حوصلہ دیا کہ کبھی کبھی زندگی کی جنگ اکیلے بھی لڑنی پڑتی ہے اکیلے بھی جینا پڑتا ہے پر میرے پاس تو مما جیسا انمول رشتہ تھا تم ہی نے احساس دلایا کہ بے شک میرے بابا نہیں پر مما ہیں ان کی قدر کرو اور میں نے ان کی قدر کی تو آج اس مقام تک پہنچ گیا جس کا میں نے سوچا بھی نہیں تھا تم میرا حوصلہ ہو میری ماں کے بعد میری زندگی کا سب سے اہم رشتہ ہو تم ,اور کہہ رہی ہو کیا فرق پڑتا
اپنی بات ختم کرکے مُوسٰی وہاں رکا نہیں اور گھر کے لئے رکشہ لیا جس میں چپ چاپ رُتبہ بیٹھی اور بُشرٰی بھی بیٹھ گئیں اور وہ گھر کی جانب چل دیے.
……………………………
محسم مرزا کی سالگرہ خوب دھوم دھام سے منانے کے بعد سب دوست ڈیرے پر چلے گئے اور وہاں پھر سے شراب اور شباب کا اہتمام تھا چوہدری شہباز کی طرف سے ,سب شراب کو پیتے جارہے تھے اور مدہوش ہو رہے تھے نشہ اک لعنت ہے اور وہ سب اس لعنت میں ڈوبے تھے, محسم مرزا بھی انہیں میں شامل تھا پر آج چوہدری شہباز نے شراب کو ہاتھ تک نہیں لگایا وجہ اس کے خوفناک ارادے تھے 
جب سب نشے میں دھت ہو کر مکمل ہوش کھو بیٹھے تبھی چوہدری شہباز اپنے چند ملازمین کے ساتھ نکلا اور فرح کے گھر کے باہر پہنچ کر پلاننگ کرنے لگا گھر کے کتنے فرد تھے وہ یہ سب پہلے سے پتہ لگا چکا تھا اور
آج اس کے گھر کے تمام افراد شہر گئے تھے رُتبہ سے ملنے سوائے فرح اور اس کی ماں کے جن کی آنکھوں کی بینائی رات کو مکمل بند ہو جاتی تھی اور دن میں بھی بہت کم دکھتا تھا یہ مسئلہ انہیں بہت پرانا تھا غربت کے باعث وہ کبھی علاج ہی نہیں کروا پائیں جس کی وجہ سے مرض بڑھتے بڑھتے انتہا کو پہنچ چکا تھا .
وہ سب بہت آہستگی سے دیوار پھلانگ کر اندر داخل ہوئے جہاں فرح اور اس کی ماں سو رہے تھے چوہدری شہباز نے بہت آہستگی سے فرح کے منہ پر بےہوشی کی دوا والا رومال رکھا اور اسے بے ہوش کر کے بڑے آرام سے ساتھ والے کمرے میں لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا اس کا بدلہ تب بھی پورا نہ ہوا تو فرح کے جسم پر جگہ جگہ سگریٹ کے جلتے نشان لگا دیے جس سے فرح تڑپ کر اٹھی اور اپنی حالت دیکھ کر خود کو چھپانے کی کوشش کرنے لگی 
اوہ میری جان اب چھپن چھپائی ختم ہوئی اب تمہارے پاس کچھ رہا ہی نہیں چھپانے کو
اور اک بات! اس نے فرح کے بالوں کو مُٹھی میں دبوچا تو اس کی چیخ نکل گئی جسے دوسرے ہاتھ سے چوہدری شہباز نے دبا دیا .
اگر کسی کو کچھ بتایا تو تیرے پورے خاندان کو برباد کردوں گا سمجھی چوہدری شہباز کی ہر بات چپ چاپ مانے گی تو فائدے میں رہے گی ورنہ اپنی آنکھوں سے اپنوں کی موت دیکھنے کے لئے تیار رہنا سمجھی
میں مرزا خاندان کا بہت قریبی اور خاص ہوں اور تُو جانتی ہے نہ مرزا خاندان کی اس پورے گاؤں میں حکومت ہے آگے تو خود سمجھدار ہے چھوری, وہ اس کے آنسوؤں سے تر گالوں کو اپنےگندے غلیظ ہاتھوں سے چھو کر بولا
اب بتا ہاں یا نہ؟؟؟ اس نے اب کی بار فرح کا بازو دبوچ کر پوچھا …ہاں ہاں فرح نے درد سے کراہتے ہوئے کہا .
شاباش تو جب جب میں اس گاؤں میں آؤں اور تجھے ملنے کا پیغام بھیجوں تو رات میں سب کے سونے کے بعد چلی آنا گھر والوں کی جان پیاری ہے تو و و و …
وہ اسے دھمکاتا ہوا رات کے چار بجے اس معصوم لڑکی کو تباہ کرکے چلتا بنا
……………………………..
ادھر سب گھر والے رُتبہ کو لینے آئے تھے کالج کی چھٹیاں چل رہی تھیں اور مُوسٰی اپنی مما کے ساتھ عمرہ پر جا رہا تھا اس خواہش کے ساتھ اگلی بار عمرے کی سعادت ماں کے ساتھ ساتھ اپنی محرم کے ساتھ ادا کرے گا .
پہلے سب نے مِل کر موسٰی کو اور بشرٰی کو ائیر پورٹ چھوڑا تو بہت ہمت کرکے بھی رُتبہ اپنی بلاوجہ کی لڑائی کی معذرت نہ کرسکی اک عجیب سی جھجھک محسوس ہورہی تھی اسے پہلی بار موسٰی سے, اور موسٰی بھی اس آس پر اسے چور نگاہوں سے دیکھتا رہا کہ شاید وہ پگلی سی لڑکی الوداع ہی کہہ دے پر رُتبہ اتنا حوصلہ ہی نہیں کر پائی اور یوں ہی فلائٹ کا وقت ہوگیا. رُتبہ بشرٰی کے جانے کتنی دیر گلے لگی رہی اور موسٰی دل میں ڈھیروں ارمان لئے سعودی عرب چلا گیا .
اور زبیر, رحیم علی, کریم علی اور رُتبہ کی امی رُتبہ کو لیے بچپن کے بعد پہلی بار گاؤں لوٹے جہاں زندگی اک نیا موڑ لینے کو تیار تھی.
…………………………….
محسم جب نیند سے جاگا تو ارد گرد شراب کی بوتلیں پڑیں تھیں اور اس کے دوست بھی نیند میں الٹے سیدھے سو رہے تھے محسم اٹھ کر بیٹھا تو اس کا سر کافی بھاری ہو رہا تھا چل کر ڈیرے سے باہر نکلا اور ملازم سے چوہدری شہباز کا پوچھا تو ملازم سے پتہ چلا وہ واپس اپنے گاؤں جا چکے انہیں کوئی کام آگیا تھا اس لئے.
اچھا چلو گاڑی نکالو اور مجھے گھر چھوڑ کے آؤ اس کے حکم پر فورًا ملازم نے گاڑی نکالی اور اسے حویلی چھوڑا اور دادا کی آنکھ سے بچتا ہوا محسم مرزا کمرے میں پہنچا اور فریش ہونے واش روم میں چل دیا”‘ کافی دیر شاور لینے کے بعد جب وہ باہر نکلا تو خود کو کافی ہلکا محسوس کررہا تھا .
چینج کرکے جیسے ہی وہ نیچے کھانے کی میز پر پہنچا تو مرزا سہراب کو اپنا منتظر پایا .
ہاں جی میرا شہزادہ اٹھ گیا ؟؟؟ انہوں سوالیہ انداز میں پوچھا .
جی جی دادا جانی محسم مرزا نے گھبرا کر کہا .
رات کہاں تھے ؟؟؟
وہ دادا جانی دوستوں کے ساتھ برتھ ڈے سیلیبریٹ کر رہا تھا بس 
آں ہاں! اچھا چلو ہم تو جارہے ہیں کسی کام سے تم تھوڑا گھڑ سواری بھی کر لیا کرو شہر سے پڑھ کر بلکل شہری بابو ہی بن گئے ہو .
جی جی دادا جانی میں بھی آج یہی سوچ رہا تھا.
پھر سہراب مرزا کے جانے کے بعد محسم مرزا نے بھی جانےکی تیاری پکڑی اور اپنی گاڑی لے کر اس میدان کی طرف نکلا جسے مرزا سہراب نے بنایا تھا.
مرزا سہراب نے اپنے پوتے کی گھڑسواری کے لیے گاؤں میں ایک بہت بڑا میدان الگ سے مخصوص کیا ہوا تھا جہاں اس کے علاوہ کسی کو جانے کی اجازت نہیں تھی کیوں کے وہ جگہ صرف اور صرف اس کی ملکیت تھی
اور محسم مرزا کا جب دل کرتا وہاں گھڑ سواری کرکے اپنا دل بہلانے آ جاتا .
آج بھی وہ حویلی سے گاڑی لے اپنے اس مخصوص میدان میں پہنچا جس میں وہ اپنے فارغ اوقات میں گھڑ سواری کرنے آتا تھا .
جہاں اس کے ملازم اس کے لئے سفید رنگ میں خاص نسل کا گھوڑا لئے کھڑے تھے .
وہ آگے بڑھ کے گھوڑے پر بیٹھا اور پورے میدان کے گول گول چکر لگانے لگا کافی دیر اسی شغل میں مصروف رہنے کے بعد جب اس کا میدان کے چکر لگا لگا کر دل بھر گیا تو وہ موج میں آیا اور اپنے گھوڑے کو میدان سے باہر لے آیا 
ملازموں نے روکا تو وہ سختی سے انہیں ڈانٹ کر چپ کروا گیا … گھوڑا بھی میرا اور میدان بھی تم لوگ بند کرو اپنی بکواس
کہتا وہ اپنی من مستیوں میں گھوڑے کو لے کر گاؤں کی کچی سڑک پر آگیا جس کے دونوں طرف کھیت ہی کھیت تھے.
…………………………
ادھر بشرٰی اور مُوسٰی جیسے ہی فلائٹ کے لئے اندر گئے تو رُتبہ کی آنکھیں بھر آئیں …
آخر اس نے بچپن ان دونوں کے ساتھ گزارا تھا اور گاؤں کی تو اس نے مڑ کر کبھی شکل بھی نہیں دیکھی تھی ہاں البتہ اس کی اماں اور بابا اسے کبھی کبھار شہر ہی ملنے آجاتے تھے اس لئے اس کا لگاؤ زیادہ بشرٰی کے ساتھ تھا ماں باپ کے بنا رہنے کی تو اسے عادت ہوگئی تھی بچپن میں!
پر بشرٰی اس کے لئے ماں سے کم نہ تھی آخر کو بشرٰی ہی نے اسے پال پوس کے بڑا کیا تھا
اور موسٰی کے ساتھ دن میں پانچ بار لڑائی کئے بغیر اس کا دن نہیں گزرتا تھا اور اب ان دونوں کی پہلی بار کی دوری نے اسے بری طرح رلا دیا تھا تبھی اس کی امّاں نے آگے بڑھ کے سینے سے لگا لیا… ارے میری بچی کی آنکھوں میں آنسو کیوں؟؟؟” انہوں نے لاڈ سے کہا…
اماں مجھے بشرٰی پھپھو کے بغیر رہنے کی عادت نہیں میں کیسے رہوں گی ان کے بغیر رُتبہ نے بچوں کی طرح روتے ہوئے کہا.
ارے میری جان تیری ماں ہے نہ تو اکیلی تھوڑی ہے.” چل اپنے گاؤں تیری چچا زاد فرح تیرا شدت سے انتظار کررہی ہے .
دیکھنا تجھے بہت مزہ آئے گا اپنے گاؤں میں اس کے بابا رحیم علی نے اسے پیار سے پچکارتے ہوئے کہا “. اور ویسے بھی بشرٰی تھوڑی نہ ہمیشہ کے لئے گئی ہے عمرہ کی ادائیگی بعد لوٹ آئے گی, پھر تم ان کے پاس آ جانا پر ابھی کے لئے تو چپ کر بابا کی لاڈو رحیم علی نے اس کی چھوٹی سی ناک کھینچ کر کہا تو سب کا اک ساتھ قہقہہ بلند ہوا .
وہ لوگ گاؤں واپسی کے لئے پہلے بس میں بیٹھے جس میں سارے راستے بڑے سوتے رہے اور زبیر اپنی آپی رُتبہ سے پڑھائی کی باتیں کرتا رہا.
ارے واہ میرے بھائی کو بڑا شوق ہے پڑھنے کا رُتبہ نے اس کی باتوں سے متاثر ہو کر کہا…
ہاں نہ آپی میرا تو بس چلے سوتے میں بھی پڑھتا رہوں
اور یقین کریں کبھی کبھی فرح مجھے بتاتی ہے کہ میں سوتے میں سبق پڑھ رہا ہوتا ہوں اکثر 
ہا ہا ہا مطلب میرا جھلا سا بھائی ضرور کچھ بنے گا ؟؟؟” رُتبہ نے پیار سے اپنے پڑھاکو بھائی کے سر میں ہاتھ پھیر کر کہا .
انشاءاللّہ زبیر نے مسکرا کہا .
انشاءاللّہ رُتبہ نے بھی کہا .
ان کی کھٹی میٹھی باتوں میں کب گاؤں کی پکّی سڑک آئی پتہ ہی نہ چلا .”
جہاں وہ سب بس سے اترے اور گاؤں جانے کے لئے چنگچی رکشہ کروالیا .” جس میں رحیم علی ,کریم علی اور رُتبہ کی اماں آگے بیٹھ گئیں جبکہ رُتبہ اور زبیر پیچھے بیٹھ کے گپ شپ کرنے لگے تھوڑی ہی دیر میں ان کے ساتھ بہت ساری سواریاں آکر بیٹھ گئیں جس کی وجہ سے اک تو ان کا بیٹھنا محال تھا اوپر سے گرمی اور حبس نے بھی اس دن اپنے سارے ریکارڈ توڑنے کی قسم کھا رکھی تھی. جس کی وجہ سے رُتبہ کا سانس لینا مشکل ہو رہا تھا اوپر سے اچانک چنگچی رکشہ رک گیا جس کی وجہ سے جو تھوڑی بہت ہوا لگ بھی رہی تھی رکشہ چلتے ہوئے وہ بھی رک گئی اور حبس نے رُتبہ کا سانس لینا محال کر دیا …
ارے یہ رکشہ کیوں رکا ہے رُتبہ نے جھنجھلا کر پوچھا 
ارے آگے مرزا صاحب کھڑے ہیں اپنا گھوڑا لے کر کسی اگلی سِیٹ کی سواری نے کہا جس کی آواز با آسانی رُتبہ کے کانوں تک پہنچ گئی.
اور صدا کی لڑاکو رُتبہ غصے سے تلملا اٹھی .
کون ہے یہ مرزا جس کو سڑک کے بیچ وبیچ سلطان راہی بن کے کھڑے ہونے کا شوق چڑھا ہے اسے تو میں مزہ چکھاتی ہوں وہ غصے سے بولتی سواریوں کو اِدھر اُدھر دھکیلتی رکشے سے نیچے اتر آئی اور سامنے والے سے دو دو ہاتھ کرنے کے لئے دونوں بازؤں کی آستینیں اوپر چڑھانے لگی .
