Sahiba by Alaya Rajput NovelR50711 Sahiba by Alaya Rajput Episode 02
No Download Link
185.7K
15
Rate this Novel
Sahiba by Alaya Rajput Episode 01 Sahiba by Alaya Rajput Episode 02 (Watching)Sahiba by Alaya Rajput Episode 03 Sahiba by Alaya Rajput Episode 04 Sahiba by Alaya Rajput Episode 05 Sahiba by Alaya Rajput Episode 06 Sahiba by Alaya Rajput Episode 07 Sahiba by Alaya Rajput Episode 08,09 Sahiba by Alaya Rajput Episode 10 Sahiba by Alaya Rajput Episode 11 Sahiba by Alaya Rajput Episode 12 Sahiba by Alaya Rajput Episode 13 Sahiba by Alaya Rajput Episode 14 Sahiba by Alaya Rajput Episode 15 Sahiba by Alaya Rajput Last Episode
Sahiba by Alaya Rajput Episode 02
اسمہ کالج سے لَوٹی تو اس کے بابا مرزا سہراب اسی کے انتظار میں بیٹھے تھے …ارے آگئی ہماری بٹیا مرزا سہراب نے آگے بڑھ کہ اسے گلے لگایا .
جی میرے بابا جانی آگئی اسمہ نے ان سے مزید لپٹ کے کہا
تو بیٹھو مجھے تم سے کچھ بہت ضروری بات کرنی ہے …
جی بولیں بابا اسمہ نے صوفے پر بیٹھ کر اپنا بیگ اک طرف رکھتے ہوئے کہا.
بیٹا آپ جانتی ہیں نہ ساتھ والے گاؤں میں ہمارے دوست چوہدری شکور رہتے ہیں آج ان کی کال آئی تھی وہ تھوڑی دیر تک ہم سے ملنے
آرہے ہیں تم بھی تیار رہنا انہوں نے مسکرا کر بیٹی کو بات کا مفہوم سمجھانا چاہا پر وہ پگلی سی ناسمجھی سے کندھے اچکا کر ٹھیک ہے بابا بول کر اپنے کمرے میں چلے گئی
جسے مرزا سہراب ہاں سمجھ بیٹھے
……………………..
رُتبہ چل پھر کہ چپس کھا رہی تھی اور دھیان دیے بغیر جیسے ہی وہ اسی نک چڑھے پاس سے گزری جس کا نام موُسٰی تھا تبھی چپس پر لگی تھوڑی سی کیچپ اس کی بُک پر گر گئی تبھی وہ بری طرح چِڑ کر اٹھا اور رُتبہ کے منہ پر تھپڑ مار دیا جس سے نازک سی رُتبہ تقریبًا اُڑتی ہوئی سامنے دیوار میں بجی اور اس کی ریڑھ کی ہڈی میں بری طرح چوٹ آئی 
پر وہ سڑیل بچہ یہ دیکھے بغیر کے اس کو کیا ہوا اپنی بکس لے کر وہاں سے چلتا بنا.
بشرٰی بازار سے سبزی لے کر لوٹیں تو رُتبہ کو دیوار کے ساتھ لگا بے ہوش پایا تو گھبراہٹ سے ان کے ہاتھ پاؤں پھُول گئے انہوں نے فورًا اسے اٹھایا ہسپتال لے جا کر ڈاکٹر کو دیکھایا تو ڈاکٹر نے بتایا سب ٹھیک ہے بس اس کی ریڑھ کی ہڈی میں چوٹ آئی ہے پر زیادہ ِٹینشن والی بات نہیں جلد ہی ٹھیک ہو جائے گی .
بشرٰی رُتبہ کی دوائیاں لے کر گھر لوٹی تو کافی پریشان تھیں کیونکہ کسی کی اولاد کی ذمہ داری لینا کوئی چھوٹی بات نہیں اور انہوں نے اپنے کزن سے وعدہ کیا تھا کہ ان کی بیٹی کو کچھ بنا کر واپس بھیجیں گی پر یہاں تو دوسرے ہی دن اس بچی کو بری طرح چوٹ لگی تھی اور انہیں یہ بھی سمجھ آگئی تھی کہ یہ چوٹ کس کی وجہ سے لگی ہے .
رُتبہ کو ہوش آیا تو اس کو سُوپ پلا کر آرام کرنے کا کہہ کر اس پر کمبل اوڑھاتی بشرٰی نے مُوسٰی سے بات کرنے کا فیصلہ کیا اور وہاں سے سیدھی موُسٰی کے کمرے میں گئیں …
موُسٰی کمرے میں بیٹھا کتابیں الٹ پلٹ کر اپنا غصہ نکالنے کی کوشش کر رہا تھا .
ارے میری جان میرا پیارا بیٹا کیا کر رہا ہے بشرٰی نے اپنا لہجہ نرم رکھتے ہوئے کہا.
کچھ نہیں مُوسٰی غصے میں کتاب پٹخ کر کہا
بیٹا اپنی ماما کے ساتھ کوئی ایسے بات کرتا ہے کیا انہوں بڑے نامحسوس انداز میں موُسٰی کو گود میں بھرتے ہوئے کہا …
تو کیسے کروں بات آپ بتا دیں اس بار پھر لہجہ اکھڑا اکھڑا سا تھا …
بیٹا مجھے بتائیں کیا بات ہے جس نے آپ کو ڈسٹرب کیا ہے کیوں کہ آپ تب ہی ایسے بی ہیو کرتے ہو جب ڈسٹرب ہوتے ہو بتاؤ مما کو کیا بات ہے …
پہلے پاپا مجھے چھوڑ کے چلے گئے سب بچے مجھے سکول میں چِڑھاتے ہیں کہ میرے پاپا نہیں ہیں اور اب یہ پتا نہیں کون آگئی مجھ سے میری مما کو چھیننے میں اس کو اپنے گھر سے نکال دوں گا بات کرتا چھوٹا سا مُوسٰی رو پڑا اس کے ننھے سے دماغ میں باپ کی موت کے بعد جانے کتنی محرومیاں پل رہیں تھیں جو آج اس نے اپنی ماں کے سامنے بیان کیں .
اچھا تو آپ کو یہ لگتا ہے کہ رُتبہ مجھے آپ سے چھین لے گی ؟؟؟ جی مُوسٰی نے ہچکیوں سے روتے ہوئے کہا .
پر میں نے تو اسے آپ کی فرینڈ بننے کے لئے بلایا ہے وہ فرینڈ جو آپ کا ہر بات ہر کام میں ساتھ دے گی اور کبھی بھی آپ کو نہیں چِڑھائے گی بلکہ آپ کر چِڑھانے والوں اک دم سیدھا کردے گی اور وہ آپ کی مما کو چھیننے نہیں آئی بس پڑھے گی اور آپ کی بیسٹ فرینڈ بنے گی پھر جب پڑھ لے گی تب اپنی مما اور پاپا کے پاس چلی جائے گی بیٹا اس کے پاس اس کے مما پاپا ہیں تو وہ کیوں چھینے گی آپ کی مما کو؟؟؟
پلیز اس سے فرینڈ شپ کر لیں بیٹا پلیز میری بات مان لیں آپ کو پتا ہے اس بیچاری کو بہت چوٹ آئی ہے .
دیکھو اگر اس کے مما پاپا کو پتا چلا کہ انہوں نے اپنی بیٹی کو آپ کی فرینڈ بننے کے لئے بھیجا اور آپ نے اسے دھکا دے چوٹ لگا دی تو انہیں کتنا دکھ ہوگا اور وہ اپنی بیٹی کو واپس لے جائیں گے پھر کون لڑے گا آپ کے لئے ہر اک سے کون بنے گا آپ کا بیسٹ فرینڈ 
مما مطلب میں نے غلط کیا معصوم سے مُوسٰی نے گھبرا کر پوچھا …
کچھ نہیں ہوگا آپ بس اس سے سوری بول دو وہ بہت اچھی ہے مان جائے گی اور میرے بیٹے کو ملے گی اس کی بیسٹ فرینڈ ,بشرٰی نے بڑے طریقے سے مُوسٰی کو وہ سب سمجھا دیا تھا جو سمجھنا اس کے لئے بہت ضروری تھا.
اوکے مما میں کل ہی سوری بول دوں گا اور اب نہیں کروں گا کوئی بدتمیزی پرامس پکا والا مما, مُوسٰی نے ماں سے وعدہ کرلیا اور بشرٰی بھی مطمئین سی ہو کر بیٹے کو سلا کر خود بھی سونے چل دی .
…………………………..
اسمہ پنک فراک پہنے گڑیا لگ رہی تھی مہمان آئے تبھی بنا ان پر دھیان دیے اچھے سے چادر اوڑھ کر ان سے سلام لے کر وہ اپنی پسندیدہ جگہ نہر کنارے آگئی اور پاؤں ڈبو کہ بیٹھ گئی تبھی پیچھے اسے کسی کا ہاتھ اپنے کندھے پر محسوس ہوا تو گھبرا کر اس نے پیچھے مڑ کے دیکھا شکل سے بدمعاش دکھنے والا لڑکا اسے عجیب نظروں سے
دیکھ رہا تھا .
کون ہو تم ؟؟؟ اور تمہاری ہمت کیسے ہوئی ہمیں ہاتھ لگانے کی جانتے ہو ہم مرزا سہراب کی بیٹی ہیں حالت خراب کر دیں گے وہ تمہاری اگر ان کو تمہاری اس حرکت کا پتا چلا …
چلنے دو جس کو جو پتا چلتا اب تو
آپ ویسے بھی ہماری ہی ہونے والی ہیں تو یہ پردہ کیسا اس نے
آگے بڑھ کہ جیسے ہی اسمہ کا نقاب اتارنہ چاہا تبھی تیش میں آکر اسمہ نے اس کے منہ پر تھپڑ مار دیا …
اچھا نہیں کیا تم نے چھوری تم کو اس تھپڑ کا حساب دینا پڑے گا سمجھی
کہتا وہ تیزی سے واپس مُڑ گیا اور اسمہ کانپتے جسم کے ساتھ گھر کو بھاگی پتہ نہیں کون تھا کمینہ وہ بڑبڑاتی ہوئی گھر پہنچی تو وہی لڑکا اس کے بابا اور ان کے دوست چوہدری شکور کے ساتھ بیٹھا تھا جسے دیکھ کر اسمہ حیران ہوتی اپنا نقاب ٹھیک کرتی اپنےکمرے میں چلی گئی .
مہمانوں کے جانے کے بعد مرزا سہراب اسمہ کے کمرے میں آئے اور اس سے باتیں کرنے لگے باتوں باتوں میں بات چھڑی …بیٹا آپ سمجھ تو گئی ہو گی نہ کہ چوہدری صاحب کیوں آئے تھے.
کیوں آئے تھے بابا مجھے نہیں پتا اس نے حیران ہو کر پوچھا …
ارے میری جھلی وہ بچپن کی دوستی کو رشتے داری میں بدلنے آئے تھے …
مطلب؟؟؟ اسمہ حیران ہوئی
مطلب وہ آپ کا رشتہ اپنے بیٹے دلاور کے لئے مانگنے آئے تھے جو ان کے ساتھ ہی بیٹھا تھا
مرزا سہراب کی بات پوری بھی نہ ہوئی تھی کہ اسمہ نے جھٹ سے کہہ دیا بابا مجھے اس سے شادی نہیں کرنی
کیا ا ا ا کیا مطلب تمہارا تم ہمارے فیصلے کو جھٹلا رہی ہو ؟؟؟
نہیں بابا میں آنکھیں بند کر کے کہیں بھی شادی کرلوں گی جہاں آپ کا حکم ہو گا پر پلیز اس لڑکے سے نہیں جانے کیوں یہ پہلی نظر میں مجھ کو اچھا نہیں لگا… با با جانی یہ مت سمجھئے گا کہ میں آپ کی حکم ادھولی کرنے کا کبھی سوچ بھی سکتی, پر آپ ہی تو کہتے ہیں نہ کہ اسلام میں بیٹی کی مرضی کے بغیر اس کی شادی کرنا گناہ ہے پلیز بابا کہیں بھی کردیں میں آنکھ بند کر کے ہاں کردوں گی پر یہاں نہیں اسمہ کی بات پر مرزا سہراب کا دل ضرور دُکھا کیونکہ وہ بھی بچپن کی دوستی کو رشتے داری میں بدلنے پر خوش تھے پر بیٹی کی مرضی بھی اہم تھی اس لئے دل پے پتھر رکھ کہ رشتے سے انکار کر آئے اور بیٹی کی خاطر دوست کی ناراضگی بھی مول لے لی.
پر دوسری طرف چوہدری دلاور جو ابھی تک تپھڑ کو نہیں بھولا تھا رشتے سے انکار والی بات نے اس کو تو جیسے پاگل کردیا اور دن رات بدلے کی آگ میں جلنے لگا.
………………………………
رُتبہ کا سکول کا پہلا دن تھا اور وہ بہت خوش تھی واپسی پر اس نے ٹھیک سے کھانا بھی نہیں کھایا اور پڑھنے بیٹھ گئی تبھی دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی تو رُتبہ نے سر اٹھا کر سامنے دیکھا جہاں مُوسٰی کھڑا تھا …میں اندر آسکتا ہوں ؟؟؟ اس نے نرمی سے پوچھا .
جی ضرور آئیں آپ ہی کا تو گھر ہے رُتبہ نے بھی نرمی سے جواب دیا …بے شک وہ بچی گاؤں کی تھی پر تھی بہت تمیز دار
مجھے تم سے بات کرنی ہے موُسٰی نے گھبراتے ہوئے کہا …جی کریں بات میں سن رہی ہوں رُتبہ نے مزید اچھے سے بات کی .
ایکچوئیلی میں تم سے سوری کرنے آیا ہوں …
موسٰی نے کہا …
کس بات کے لئے ؟؟؟ رُتبہ نے انجان بن کر کہا .
اپنی بدتمیزی کے لئے جو میں نے تم سے اور اسی کی وجہ سے تم کو چوٹ آئی مُوسٰی نے سر جھکا کر کہا.
پر میں تو آپ سے ناراض نہیں کیوں کہ میں آپ کی فرینڈ جو ہوں رُتبہ نے بڑے پیار سے بات کی جس کی مُوسٰی کو بلکل عادت نہیں تھی کیونکہ اس کے کھچے کھچے رویے سے سب بچے اس سے دور بھاگتے یا بدتمیزی سے ہی مخاطب کرتے تھے پہلی بار کسی نے اس کے ساتھ اچھے سے بات کی تھی اسے بہت اچھی لگی تھی رُتبہ …
تو پھر آج سے ہم فرینڈز رُتبہ نے ہاتھ بڑھا کر کہا
تبھی جھجھکتے ہوئے مُوسٰی نے اس سے ہاتھ ملا لیا ,اس کے بعد وہ واقعی بیسٹ فرینڈز بن گئے ہر کام سکول اور گھر میں مل کر کرتے اور اگر کوئی مُوسٰی کو اس کا کلاس فیلو تنگ کرتا تو فورًا رُتبہ اس کا دماغ ٹھکانے لگا دیتی ایسے وقت کے ساتھ ساتھ ان کی دوستی پکی ہوتی گئی اور وقت پر لگا کر اڑا اور دونوں جوان ہوگئے
……………………………..
اسمہ آج بھی کالج سے لوٹ رہی تھی جب چوہدری کے گاؤں میں آکر گاڑی پھر جھٹکے سے رکی اور ڈرائیور چندو مکینک لانے کا بول کر ایسا گیا کہ لوٹنا ہی بھول گیا .
جولائی کی تپتی دوپہر میں دور دور تک کوئی انسان تو کیا جانور بھی نہیں دِکھ رہا تھا اوپر سے چندو کو گئے اک گھنٹہ ہونے کو آگیا تھا پر اس کا کوئی اتا پتا نہ تھا تنگ آ کر اسمہ گاڑی سے باہر نکلی اور اِدھر اُدھر چندو کی تلاش میں نظر گھمانے لگی اسی پل اس کے پاس اک جیپ آکر رکی اور سوچنے سمجھنے کا موقع دیے بغیر کھینچ کر گاڑی میں بٹھاتی لے اُڑی.
**************
شام ہونے کو آئی تھی پر ابھی تک اسمہ کی کوئی خیر خبر نہیں تھی مرزا سہراب کا دل بیٹھا جا رہا تھا اس سے پہلے کے وہ اٹھ کر خود بیٹی کی تلاش میں نکلتے ڈرائیور چندو روتا دھوتا حویلی میں داخل ہوا لٹ گئے مرزا صاحب برباد ہو گئے کچھ نہیں بچا اب ہمارے پاس یہ سب دیکھنے سے پہلے میں مر کیوں نہیں گیا چندو سر پیٹ پیٹ کر رو رہا تھا …
کیا ہوا ہے کچھ بکے گا بھی یا یوں ہی پریشان کر کے جان لے گا ہماری مرزا سہراب کی رعب دار آواز میں بھی لرزش تھی.
صاحب وہ …صاحب وہ بی بی جی مجھ سے بہانے سے گاڑی رکوا کر خود کسی لڑکے کے ساتھ چلی گئی اور دیکھیں اس لڑکے کے ساتھ بہت سارے غنڈے بھی تھے جنہوں نے مجھے بہت پیٹا اور جاتے ہوئے وہ لڑکا ان غنڈوں سے کہہ گیا کہ مار دو اس کے بھائی بھابھی کو بھی …تبھی ہم سکون سے شادی کر سکیں گے تبھی ہماری محبت کو منزل ملے گی
بی بی جی بھی اس کے ساتھ بہت خوش لگ رہیں تھیں, صاحب مجھے ڈر لگ رہا ہے میں تو جیسے تیسے بچ گیا پر چھوٹے مرزا صاحب ….
بچا لیں چھوٹے صاحب کو اس نے روتے پیٹتے کہا.
ہماری بیٹی ہمارا خون ہماری عزت کا جنازہ نکال کہ بھائی کو مروانے کی سازش کرے گی ہم مر کر بھی نہیں سوچ سکتے کیسے کر دیا اس نے یہ سب؟؟؟ کیسے اپنے باپ کی عزت سے بڑھ کر اس کے لئے کسی نامحرم کی محبت ہوگئی ؟؟؟ وہ ابھی اس صدمے سے تڑپ رہے تھے کہ حویلی کا فون بجا جسے انہوں نے کانپتے ہاتھوں سے اٹھایا تو آگے سے ملنے والی خبر نے ان کے دل چِیر کے رکھ دیا
فون کی دوسری طرف پولیس آفیسر تھا جس نے خبر دی تھی کہ ان کے بیٹے اور بہو کو شہر سے واپسی پر نامعلوم افراد گولیاں مار کے قتل کر گئے ہیں 
وہ فون سننے کی دیر تھی کہ مرزا سہراب چکر کھا کر گرے اور بے ہوش ہو گئے اور دو دن بعد جب ان کو ہوش آیا تو اپنے سامنے جگہ جگہ سے پھٹے ہوئے کپڑے اور اجڑی حالت میں کھڑی اسمہ کو دیکھ کر ان کا خون کھول اٹھا اور بستر سے اٹھ کر وہ سیدھا وہ اسمہ پر جھپٹ پڑے اور تب تک اسے پیٹتے رہے جب تک وہ بری طرح لڑکھڑا کر بے ہوش نہیں ہوگئی…
اٹھاؤ اس بد کردار کو اور ڈال دو کال کوٹھڑی میں…
میں چاہتا تو اسے ابھی جان سے مار دیتا ہمارے اعتبار, عزت اور اپنے سگے بھائی
بھابھی کا جنازہ اٹھوانے کی سزا میں, پر
اب ہم اسے پل پل ماریں گے کال کوٹھڑی میں ڈال کر ساری زندگی موت سے بدتر تکلیف دیں گے تاکہ آج کے بعد کوئی لڑکی اپنے باپ کے اعتبار کو ٹھیس پہنچا کر اس کی عزت کو سرِ بازار نہ اچھالے
اٹھاؤ اس کو اور ڈال آؤ کال کوٹھڑی میں سڑنے کے لئے مر گئی یہ ہمارے لئے ….
اسی دن شام کو پنچائیت میں انہوں نے اعلان کردیا کہ آج کہ بعد اس گاؤں میں اگر کسی نے اپنی بیٹی کو پڑھایا تو اسے ایسی عبرت ناک سزا ملے گی کہ اس کی سات پُشتیں یاد کریں گی بند کرو اس سکول کو جس میں گاؤں کی لڑکیاں پڑھنے جاتیں ہیں
مرزا سہراب جلتے ہوئے انگارے کی مانند سلگ رہے تھے ان کی بیٹی نے ان کی عزت کا تماشہ لگا کر انہیں زخمی شیر بنا دیا تھا جو زخمی ہو کر مزید بھڑک جاتا ہے اور ہر اک کو چیر پھاڑ ڈالتا ہے اسی طرح مرزا سہراب نے پورے گاؤں پر پابندیاں لگا کر اپنے دل کی آگ بجھانے کی اک ناکام کوشش کی تھی
