Sahiba by Alaya Rajput NovelR50711 Sahiba by Alaya Rajput Episode 05
No Download Link
185.7K
15
Rate this Novel
Sahiba by Alaya Rajput Episode 01 Sahiba by Alaya Rajput Episode 02 Sahiba by Alaya Rajput Episode 03 Sahiba by Alaya Rajput Episode 04 Sahiba by Alaya Rajput Episode 05 (Watching)Sahiba by Alaya Rajput Episode 06 Sahiba by Alaya Rajput Episode 07 Sahiba by Alaya Rajput Episode 08,09 Sahiba by Alaya Rajput Episode 10 Sahiba by Alaya Rajput Episode 11 Sahiba by Alaya Rajput Episode 12 Sahiba by Alaya Rajput Episode 13 Sahiba by Alaya Rajput Episode 14 Sahiba by Alaya Rajput Episode 15 Sahiba by Alaya Rajput Last Episode
Sahiba by Alaya Rajput Episode 05
رُتبہ غصے میں رکشے سے اتر کر محسم مرزا کے سامنے آکھڑی ہوئی ,جو گھوڑے پر بڑی شان سے بیٹھا مغلیہ دور کا شہزادہ لگ رہا تھا 
گھنی مونچھیں اور ہلکی سی بڑھی ہوئی شیو کے ساتھ اس پر وائٹ شرٹ اور بلیو جینز بڑی جچ رہی تھی اور ساتھ میں پہنے لانگ شوز اوپر سے سفید گھوڑے پر بیٹھا وہ,,, سچ میں مغلیہ دور کا جنگجو شہزادہ لگ رہا تھا ۔
***************
فرح کی اماں جب صبح جاگی تو فرح جو رات کو ان کے ساتھ والی چارپائی پر سوئی تھی کہیں دکھائی نہیں دی , انہیں لگا شاید نماز کے لئے وضو کر رہی ہو.
پر جب وہ نماز کے لئے وضو کرنے باہر صحن میں آئیں تو وہ وہاں بھی نہیں تھیں.
تبھی پریشان ہو کر وہ فرح کو دیکھنے دوسرے کمرے میں گئیں جہاں فرح اوندھے بے سدھ سو رہی تھی.
فرح کی اماں کو یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ ان کی بیٹی نے تو کبھی نماز قضاء نہیں کی نہ ہی کبھی نماز پڑھنے میں سستی کی پھر آج کیوں وہ نماز کے وقت سو رہی ہے وہ بھی میرے پہلو سے اٹھ کر دوسرے کمرے میں آ کر …
حیرانی کے بعد اب پریشان ہونے کا وقت تھا کیوں کہ جب ا نہو ں نے فرح کو ہلا کر سیدھا کیا تو تو اس کے گال تیز بخار سے دہکتے ہوئے کوئلے کی طرح لال اور گرم تھے ۔
اففف اللّہ میری بچی کو کیا ہوا فرح کی اماں نے پریشانی میں بیٹی کے سر پے ٹھنڈے پانی کی پٹیاں شروع کر دیں .ٹھنڈا پانی چہرے پر پڑتے ہی فرح کو جیسے ہی تھوڑا ہوش آیا تو وہ چلَّا کر ماں سے لپٹ گئی مجھے چھوڑو مجھے ڈر لگ رہا چھوڑ دو چھوڑ دو………
فرح کی یہ حالت دیکھ کر اس کی اماں پریشان ہو گئیں اور اس پر آیت الکرسی پڑھ پڑھ کے دم کرنے لگیں۔
اور فرح نیم بے ہوشی میں یوں ہی بڑبڑاتی ہوئی پھر سے خاموش ہو گئی ۔
**************
چوہدری شہباز محسم مرزا کے گاؤں سے واپس گھر لوٹا تو اس کا باپ دلاور چوہدری شدید غصے میں بیٹھا تھا …
ارے بابا کیا ہوا یوں پریشان کیوں بیٹھے ہیں ؟؟؟ چوہدری شہباز نے پوچھا ۔
جس کی اولاد اتنی نکمی ہو وہ پریشان نہیں ہوگا تو اور کیا ہوگا۔
مطلب؟؟؟ چوہدری شہباز نے حیران ہو کر پوچھا ۔
اک کام دیا تھا تم کو کہ کسی طرح اس محسم کو بگاڑ کر مکمل اپنے قابو میں کر لو پر تم سے اب تک اک کام نہیں ہو سکا
او ہو بابا وہ بچپن سے میرے ساتھ ہی کھیلا کودا ہے میں نے اسے ہر بری عادت تو ڈال دی ہے سگریٹ, شراب اور بھی بہت کچھ…
پر اس گدھے پر اتنی محنت کے بعد بھی اسے کسی عورت کا عادی نہیں بنا پایا…
بہت بار ناچنے والیوں کو بلا کر اسے شراب پلائی پر وہ ہمیشہ ان سے دور ہی رہتا ہے اور وجہ پوچھنے پر بول دیتا ہے نشہ جتنا بھی کر لوں پر عورت میں کشش محسوس نہیں ہوتی اور ویسے بھی عورت تو وہ ہوتی جو شرم حیا کا پیکر ہو اور اپنے حسن کو صرف اپنے محرم پر ظاہر کرے اس کا کردار اور اس کا لہجہ اتنا مضبوط ہو کے کوئی نا محرم اس سے بات کرتے ہوئے ہزار بار سوچے۔
اپنے آپ کو ہر مرد کے لئے پیش کرنے والی عورتوں میں مجھے کوئی دلچسپی نہیں …
ہر معاملے میں, میں کامیاب ہوگیا بس اک یہ لت نہیں لگ رہی اس کو اب آپ ہی بتاؤ کیا کروں؟؟؟۔
گدھا وہ نہیں گدھا تو ہے جو یہ نہیں سمجھ پا رہا کہ گھی اگر سیدھی انگلی سے نہ نکلے تو انگلی ٹیڑھی کرنے میں کوئی حرج نہیں دلاور چوہدری نے بیٹے کو آنکھیں دکھا کر کہا۔
اور انگلی ٹیڑھی کیسے کروں ؟؟؟ یہ بھی آپ ہی بتادیں چوہدری شہباز نے چِڑ کر کہا۔
فلحال یہ شکل غائب کرو اپنی تم میرا موڈ اچھا نہیں دلاور چوہدری نے غصے سے کہا تو چوہدری شہباز منہ بنا کے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
**************
محسم مرزا یوں ہی کھیتوں کے بیچ و بیچ بنی چھوٹی سی پگڈنڈی پر اپنے گھوڑے کو لے کر دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہا تھا ارد گرد سبزہ دیکھ کر اس کی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچ رہی تھی تبھی محسم کو یاد آ رہا تھا اپنا دھندلا سا بچپن جس میں اس کے مما بابا اسی کھیتوں میں گھومتے پھرتے خوب ہنسی مذاق کیا کرتے تھے انہیں دیکھ کر ہی لگتا تھا کہ اللّہ نے انہیں اک دوسرے کے لئے بنایا ہے اس کی پاکیزہ سی مما اور اچھے سے پاپا کتنی پیاری جوڑی تھی وہ, اس نے ان کے بعد ایسی پیاری جوڑی کبھی نہیں دیکھی تھی اس کے بابا جیسا پیارا سا پانچ وقت کا نمازی اور نرم دل انسان اور اس کی مما جیسی پیاری اور معصوم سی جیون ساتھی اللّہ نے اس کے بابا کی قسمت میں لکھی تھی۔
انہیں کھیتوں میں اس کے بابا اس کی مما کو اپنی پیاری پیاری شرارتوں سے ہنساتے تھے.
اپنی بچپن کی اچھی یادوں میں گم کھیتوں کی طرف دیکھتے محسم مرزا کو یہ پتہ ہی نہ چلا کہ کب سے اک چنگچی رکشہ اس کے سامنے کھڑا ہے اور رکشہ ڈرائیور اس خوف سے کہ مرزا صاحب برا نہ مان جائیں منہ سے بھی نہیں کہہ رہا کہ راستہ دے دو۔
اوپر سے اس چھوٹی سی پگڈنڈی پر اک وقت پر اک ہی سواری گزر سکتی تھی اور وہاں محسم پہلے سے اپنا گھوڑا لئے کھڑا تھا اور ادھر رکشہ ڈرائیور اور سواریوں کی خاموشی کو دیکھ کر گرمی سے کوئلہ ہوتی رُتبہ بنا یہ جانے کہ سامنے کون کھڑا ہے آگئی میدان میں جنگ کرنے
اوہ مسٹر 
سلطان راہی بننے کا اتنا ہی شوق ہے
تو کسی پنجابی فلم میں کام کیوں نہیں کرتے
یہاں بیچارے گرمی کے ستائے لوگوں کا راستہ روک کر کونسا ایوارڈ مل جانا آپ کو 
عبایا پہنے سر کو اچھی طرح حجاب میں لپیٹے دھان پان سی لڑکی دونوں ہاتھ اپنی کمر پے ٹکائے جس طرح اس سے لڑ رہی تھی ایسے تو کبھی کسی مرد کی ہمت نہیں ہوئی تھی کہ محسم مرزا سے اونچی آواز میں بات کرے اور یہاں یہ ٹِڈّی بنا ڈرے اسے کھری کھری سنا رہی تھی
محسم اس لڑکی کی ہمت پر حیران ہوتا اک بار پھر اپنے بچپن میں لوٹ گیا جہاں اس کی مما اس سے لان میں بیٹھی باتیں کررہی تھیں…
”مما آپ کیا کررہی ہیں؟؟؟ لان میں بیٹھی اپنی ماں سے چھوٹے سے محسم نے سوال کیا۔“
”کچھ نہیں میرے چاند میں بس آپ کے بابا کا انتظار کر رہی ہوں آج وہ شہر سے اپنے ضروری کام نمٹا کر واپس آنے والے ہیں نہ اس لئے ۔
آپ کہاں سے آ رہے ہو میرے چاند ؟؟؟ محسم سے اس کی مما نے پوچھا۔
میں کھیتوں میں کھیل رہا تھا وہیں سے آیا ہوں 
مما آپ کو پتا ہےوہاں اک لڑکی اپنی گڑیا سے کھیل رہی تھی ہم نے بولا ہم کو بھی دو یہ گڑیا تو کہتی بھاگو یہاں سے نہیں دینی تم کو اپنی گڑیا…
پھر ہم کو بھی غصہ آیا اور ہم نے اس کی گڑیا ہی توڑ کر اس سے چھین لی 
دادا جانی کہتے ہیں مجھے کوئی ڈانٹنے کی ہمت نہیں کر سکتا کیوں کہ میں محسم مرزا ہوں سب ڈرتے ہیں مجھ سے… اور اس لڑکی کی ہمت تو دیکھیں مجھے ڈانٹ رہی تھی اوپر سے ڈرنے کی بجائے مجھے زبان چڑھا کر بھاگ گئی 
ہا ہا ہا میری دعاء ہے وہی لڑکی تمہاری صاحبہ بنے اور تم کو سیدھا کرے ورنہ اپنے دادا کے لاڈ پیار سے بگڑ جاؤ گے تم 
محسم کی مما نے پیار سے اس کے سر میں ہاتھ پھیر کر کہا.
مما پر یہ صاحبہ کیا ہوتا ہے ؟؟؟ محسم نے حیران ہوتے پوچھا .
صاحبہ ہوتا نہیں… ہوتی ہے.
مطلب لڑکی کو بولتے ہیں صاحبہ 
میرے ضدی مرزا کی صاحبہ جب بھی آئے گی نہ اس کی زندگی میں تو سیدھا کردے گی اسے, ہنستے ہوتے کہتی اس کی مما گیٹ کی طرف چل دیں جہاں حویلی کا بڑا گیٹ کھل چکا تھا اور محسم کے بابا کی چمچماتی گاڑی اندر داخل ہو رہی تھی ۔
اوہ مِسٹر کہاں کھو گئے خوابوں کی دنیا میں, راستہ دو ہمیں 
رُتبہ نے اچھل کر محسم کے سامنے چٹکی بجائی پر پھر بھی وہ گھوڑے پر بیٹھا تھا اس لئے اس کے چہرہ تک نہیں پہنچ پائی پر اسے واپس ہوش میں لانے میں کامیاب ہو گئی تھی 
محسم مرزا نے سر ہلایا اور اب محسم اپنے گھوڑے کو الٹی چال چلوا رہا تھا
مطلب گھوڑا پیچھے کو الٹے قدم چل رہا تھا اور دھیرے دھیرے ڈرتا ڈرتا چنگچی رکشے کا ڈرائیور رکشہ آگے بڑھا رہا تھا اور ادھر میڈم رُتبہ اپنی نگرانی میں ساتھ چلتے چلتے رکشہ گزارنے کی جگہ بنوا رہی تھیں۔
جیسے ہی پگڈنڈی ختم ہوئی محسم نے اپنے گھوڑے کا رُخ موڑا اور رُتبہ کو نرم نگاہوں سے دیکھتا ہوا ہولے سے زیرِ لب صاحبہ کہتا اپنی منزل کی جانب چل پڑا.
اور ادھر صاحبہ جی
اوہ سوری مطلب رُتبہ باقی کا سارا راستہ غصے میں چلتی ہوئی گئی اور ادھر اس کے اماں بابا سمیت پوری فیملی بری طرح ڈری ہوئی تھی کہ ان کی بیٹی نے انجانے میں کس بلا کو چھیڑ دیا ہے 
**************
رتبہ کو لے کر زبیر گھر آیا تو سب سے پہلے فرح کے بارے میں پوچھا, اس کی عادت تھی کہیں سے بھی آتا تو سب سے پہلے فرح کے بارے میں پوچھتا اور آج تو وہ پورے اک دن اور رات کے بعد لوٹا تھا شہر سے, اس لئے آتے ہی اپنی لاڈلی بہن کے بارے میں پوچھا تو اس کی اماں نے بتایا کے وہ بخار میں پڑی تپ رہی ہے.
تبھی اس کو رُتبہ کے آنے کی خوشی بھول گئی اور فرح کی ٹینشن پڑ گئی, اور وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے کمرے میں فرح کو دیکھنے چل دیا.
اسلام علیکم چچی رُتبہ نے زبیر اور فرح کی امّی کے گلے لگ کر کہا.
وعلیکم سلام میری بچی آئی رکو ذرا وہ بھاگتی ہوئیں اندر سے سرسوں کا تیل لائیں اور دروازے کی دونوں طرف گِرا کر دیسی لوگوں کی سادہ سی روایتوں کے مطابق رُتبہ کو ویلکم کیا.
ارے چچی یہ کیا کر رہی ہیں ؟؟؟ رُتبہ نے حیران ہو کر پوچھا کیونکہ شہر میں ایسا کچھ نہیں دیکھا تھا کبھی اس نے, کچھ نہیں بس خوشی منا رہی ہوں اپنی بچی کے آنے کی انہوں نے اپنے سادہ سے لہجے میں کہا
بچے تم اندر تو آؤ انہوں نے مسکرا کر کہا.
جی اچھا کہتی رُتبہ اندر چلی آئی…
چچی فرح کو بخار کیسے ہوگیا رُتبہ نے پریشانی سے کہا کیونکہ وہ اور زبیر اک ساتھ ہی گھر میں داخل ہوئے تھے اور وہ اپنی چچی کی زبانی سن چکی تھی کہ فرح کو بخار ہے.
”موسم بدل رہا ہے شاید اس کا اثر ہو پیچھے سے رُتبہ کی اماں بابا کے ساتھ گھر میں داخل ہوتے اس کے چچا نے کہا.
ہمممم اللّہ پاک جلدی صحت یاب کرے اسے… چلیں جی میں تو تھک گئی ہوں اب میں آرام کروں گی بہت تھک گئی ہوں اوپر سے یہ گرمی اففف پلیز مجھے ٹھنڈا پانی پلا دیں چچی پھر سوؤں گی کچھ دیر رُتبہ نے اپنا عبایا اتارتے ہوئے کہا …
ارے پانی کیوں میں نے اپنی بچی کے لئے ٹھنڈی ٹھار میٹھی لسّی بنائی ہے اسے پی کر نیند بھی اچھی آئے گی, فرح کی اماں نے مسکرا کر کہتے رُتبہ کو سٹیل کا بڑا سا میٹھی لسّی سے بھرا گلاس پکڑایا جسے دیکھ کر رُتبہ کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں ۔
اتنا بڑا گلاس چچی 
میں تو چھوٹے چھوٹے گلاس ہی دیکھے شہر میں, ایسا گلاس تو کبھی نہیں دیکھا نہ گھر میں, نہ کالج میں…
اس کا سائز جَگ جِتنا ہے ,میں تو دو دن میں اتنی لسّی نہیں پی سکتی جتنی آپ نے اک بار میں ہی دے دی 
ہا ہا ہا ارے میری بٹیا گاؤں میں ایسے ہی ہم کُھلا کھاتے پیتے ہیں تم شہر میں رہ کر پوری شہری میڈم بن گئی ہو چلو جتنا دل کرے اُتنا پی لو باقی میں پی لوں گا اس کے چچا کریم علی نے ہنس کر کہا 
اور رُتبہ بھی ہنستے ہوئے تھوڑی سی لسّی پی کر باقی اپنے چاچو کو پکڑا کر اپنے اماں بابا کے کمرے میں سونے چل دی۔
