Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sahiba by Alaya Rajput Episode 14

لگ بھگ رات کے تین بجے بشرٰی کو ہوش آیا تھا اور انہوں سب سے پہلے اپنے موسٰی کو ہی پکارا تھا۔
“سنیے پیشنٹ کے ساتھ آپ ہیں؟”نرس نے ایمرجنسی سے کے باہر بیٹھے موسٰی سے سوال کیا۔
“جی میں ہی ہوں۔”موسٰی نے فوراً آٹھ کر جواب دیا۔
چلیے اندر پیشنٹ کو ہوش آیا ہے وہ بار بار کسی موسٰی کو بلا رہی ہیں۔”نرس اپنی بات مکمل کرکے واپس ایمرجنسی میں چلی گئی اور موسٰی بھی تیزی اس کے پیچھے چل دیا۔
“ماما۔” موسٰی اپنے ماں کو آکسیجن ماسک لگا دیکھ کے تڑپ کے بولا۔
“موسٰی۔”بشرٰی کی آواز اتنی دھیمی تھی کہ بمشکل موسٰی کے کانوں تک پہنچی۔
“جی میری پیاری ماما۔”موسٰی نے تڑپ کر اپنی ماں کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر پوچھا۔
“بیٹا مجھے تم سے کچھ کہنا ہے۔اور مجھے امید ہے کہ تم اپنی ماں کی بات کا مان رکھو گے۔”
“جی ماما حکم کریں آپ کے لئے تو جان بھی حاضر ہے آپ ہی تو میری دنیا ہیں۔”موسٰی نے شدت جذبات میں آکر کہا۔
“بیٹا جس انسان کو تم نے آج میرے ساتھ دیکھا خدارا اس سے دور رہنا۔”بشرٰی نے کپکپاتے آواز میں کہا۔
“پر کیوں؟ آخر کون تھا وہ ؟ اور ایسا کیا ہوا تھا آپ لوگوں کے بیچ, جو اس کے جاتے ہی آپ کی یہ حالت ہوگئی؟”
“بتائیں ماما مجھے جاننا ہے۔”
“بیٹا اسی انسان نے تمہارے بابا کو مارا تھا اور اب وہ تمہاری جان کے درپے ہے۔”
“خدارا اس سے دور رہنا۔”بات ابھی مکمل بھی نہ ہوئی تھی بشرٰی ابھی اور بھی کچھ کہنا چاہ رہیں تھیں کہ ان کی سانسیں اٹکنے لگیں۔
اور جتنی دیر میں موسٰی ڈاکٹر کو لینے بھاگا بشرٰی کا دم ٹوٹ چکا تھا۔😭
*********
رُتبہ جب گھر پہنچی تو سب گھر والے ناشتے کے لئے دستر خوان پر بیٹھے تھے۔رُتبہ کو بھی اس کی اماں نے ناشتے کے بلایا تو وہ ہاتھ منہ دھو کر دستر خوان پر آکر بیٹھ تو گئی پر اب بھی اس کی گھبراہٹ میں کوئی کمی نہیں آئی تھی۔
ہمیشہ کی لڑاکو اور بہادر رُتبہ آج اک انسان کے آگے اتنا گھبرا گئی تھی کہ وہ خود بھی اپنی حالت پر متحیر تھی۔
“رتبہ کھانا کھاؤ بیٹا کیا سوچے جارہی ہو؟”رتبہ کے ابا کےمخاطب کرنے پر رُتبہ اپنےاے ہگھبراہٹ پرقابو پانے کی ناکام کوشش کرتی لسی کا گلاس اٹھانے لگی تو اس کے ہاتھوں کی لرزش کے باعث لسی کا گلاس بھی لڑکھڑا گیا اور کچھ لسی ساتھ بیٹھے اس کے ابا پر گر گئی۔
“کیا ہوا کیا بیٹا تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نہ اتنی گھبرائی ہوئی کیوں لگ رہی ہو؟”
“ک ک کچھ نہیں بابا بس طبیعت تھوڑی خراب ہے شاید۔”رتبہ اپنے کپکپاتے ہاتھ دوپٹے میں چھپاتی کہتے ہوئے آرام کرنے کے بہانے سے اٹھ کر اپنے کمرے میں آ گئی۔
دل کی دھڑکن ہنوز بے قرار تھیں۔
جہاں اس پر گھبراہٹ طاری تھی وہیں دل کی تاریں عجیب لے پر رقص کررہی تھیں۔
“یہ مجھے کیا ہورہا ہے؟ آج سے پہلے تو ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی کے یوں پیار سے بات کرنے پر دل بغاوت کرجائے۔
میں تو رُتبہ ہوں نہ!! جس سے کوئی بھی لڑکا بدتمیزی کرکے اپنی شامت بلانے کی غلطی نہیں کرتا۔پھر کیسے اس انسان نے سیدھا سیدھا بول دیا کہ مجھے اپنی ہمسفر بنانا چاہتا ہے۔
“کیا واقعی وہ مجھ سےمحبت کرتا ہے؟”🤔
کہیں اس نے مذاق تو نہیں کیا نہ… رتبہ کے دماغ نے کہا۔
“ویسے بھی سنا ہے ان امیر زادوں کی لئے محبت اک کھیل کے سوا کچھ نہیں ہوتی۔”
“نہیں!! کہتے ہیں آنکھیں دل کا آئینہ ہوتیں ہیں اور میں نے اس کی آنکھوں میں محبت دیکھی ہے۔ایسی محبت جس میں حوس اور دھوکا دور دور تک نہیں تھا صرف معصومیت اور پاکیزگی تھی۔ہاں یہ محبت ہی ہے۔رتبہ کےدل نے دماغ کی نفی کی تو رُتبہ مزید کشمکش میں مبتلا ہوگئی۔
“یا اللّہ میں کیا کروں کیا سہی ہے اور کیا نہیں آپ ہی بتا دیں نہ پلیز۔”
“ویسے میں اس انسان کے بارے میں اتنا سوچ سوچ کر ہلکان کیوں ہورہی ہوں؟”🤔
“مجھے نہیں سوچنا اس کے بارے میں ہاں بس مجھے آرام کی ضرورت ہے سو کر اٹھوں گی تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔
ہاں یہی سہی رہے گا۔”رتبہ خود سے ہمکلام ہوتی لیٹی تو کب نیند کی وادی میں پہنچی اسے پتا ہی نہ چلا۔
**********
“صاحب خدا کے لئے مجھے اپنا لو, پھر چاہے مجھے پھینک دینا گھر کے کسی کونے میں, میں وہیں کسی کونے میں پڑی رہوں گی۔اور کسی کو نہیں بتاؤں گی کہ میں آپ کی منکوحہ ہوں۔”
“میں آپ کی حویلی میں تمام عمر ملازمہ کی صورت میں گزار دوں گی۔پر کبھی کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گی۔”فرح نے روتے ہوئے چوہدری شہباز سے التجا کی۔
“کیا بکواس کررہی ہے تو؟😠
تجھ کم ذات کو منہ لگا لیا تو تجھے لگنے لگا میں تجھ سے شادی بھی کروں گا!! چوہدری شہباز دھاڑا…
نہیں صاحب میری کیا جرات جو میں اپنی اوقات سے بڑھ کر سوچوں!!
میں تو بس اتنا کہہ رہی ہوں کہ صرف نکاح کرلیں پھر بے شک ساری زندگی میری شکل بھی مت دیکھیے گا۔
میں چپ چاپ آپ کی ملازمہ بن کے حویلی کے کسی کونے میں پڑی رہوں گی۔
صاحب رحم کرو میں آپ کے بچے کی ماں بننے والی ہوں۔ اپنی بات کے اختتام پر فرح پھوٹ پھوٹ کر رودی۔اور فرح کی بات سن کر چوہدری شہباز کی سیٹی گم ہوگئی۔
وہ تو ہمیشہ معصوموں کی زندگیوں سے کھیلنے کا عادی پکا کھلاڑی تھا۔
پھر اتنی بڑی چوک کیسے ہوگئی اس سے,اسی سوچ نے اس کا دماغ گھما کر رکھ دیا تھا۔
اوہ میرا بچہ؟😨
جی آپ کا بچہ… میں ماں بننے والی ہوں۔اور آپ تو جانتے ہیں نہ بن بیاہی ماں کے ساتھ کیا کرتے یہ گاؤں والے!!
رحم صاحب رحم… 😭
ہاں ہاں تم فکر نہ کرو اپنے بچے کے لئے میں کچھ بھی کروں گا۔
فی الحال تم یہاں سے جاؤ میں کرتا ہوں کچھ۔ آگ کا گولہ بنے چوہدری شہباز کا پل بھر میں شہد کی ڈھلی بننے کے پیچھے ضرور کوئی راز پوشیدہ تھا, پر معصوم فرح اس بات سے انجان اس امید کے ساتھ گھر لوٹ گئی کہ شہباز جلد اسے اپنا کے بدنامی سے بچا لے گا۔
پچھلے کچھ دنوں سے فرح کی طبیعت گری گری سی تھی جسے رشنا کی اماں نے نوٹ کیا تو رشنا نے اپنی اماں کو بھی اپنا ہم راز بنا کر ان سے مشورہ کیا کہ تو انہوں نے سیدھا چوہدری شہباز سے بات کرنے کا مشورہ دیا۔کیونکہ اب اس کے علاوہ اور کوئی حل سجھائی نہیں دے رہا تھا۔
ویسے بھی اگر فرح کی اس حالت کے بارے میں گاؤں میں سے کسی کو علم ہوجاتا تو گاؤں والے فرح اور اس کے خاندان پر زندگی تنگ کر دیتے۔اس لئے اب شہباز سے سیدھی بات کرنا ضروری ہوگیا تھا اسی لئے اس بار جب چوہدری شہباز محسم سے ملنے اس کے گاؤں آیا تو فرح نے موقع غنیمت جان کر چوہدری شہباز سے اس امید پر بات کرلی کہ شاید اپنے بچے کے نام پر وہ ظالم اسے اپنالے۔
پر اس معصوم لڑکی کو کہاں خبر تھی کہ ایسے بگڑے امیر زادے رات کی سیاہی میں کئے گئے اپنے سیاہ گناہوں کو دن کی روشنی میں چھپانے کے لئے ہر حد تک گزر جاتے ہیں۔
آخر انہیں اپنی بنائی نام نہاد عزت بھی تو قائم رکھنی ہوتی ہے۔😒
********
“دیکھ یار عمران بحث مت کر تجھے جو بولا ہے بس اس کا بتا کرے گا یا نہیں؟”
“یار مجھے کام کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں!!
ٹینشن تو تمہاری ہے جو تم اتنے امیر انسان سے خلاف جھوٹے کیس کرواکے مصیبت اپنے گلے ڈال رہےہو”عمران نے مصالحتی لب و لہجہ اختیار کیا, پر دوسری طرف کہاں کسی بات کا اثر ہورہا تھا۔ وہاں تو بس بدلے کی آگ تھی اور اب شعلوں کی شکل اختیار کرچکی تھی,جو پانی ڈالنے پر بجھنے کی بجائے مزید بھڑکتی جارہی تھی۔
ٹھیک ہے میں ڈال دیتا ہوں سارے کیس اس پر, جو تم کہہ رہے اب پلیز ریلیکس کرو یار…
عمران نے ماحول کو ہلکا پھلکا کرنے کے لئے بات بدلی۔
“نہیں کرسکتا ریلیکس میں۔😠
اب تو تب ہی دل کو چین ملے گا جب میرے دشمن کی زندگی کا سب سے اہم سرمایہ تا عمر سلاخوں کے پیچھے سڑے گا۔
اور میرا دشمن روز جئے گا, روز مرے گا۔
جیسے میں روز مرتا ہوں, پھر اپنی زندہ لاش کو گھسیٹ کر لئے پھرتا ہوں۔😢
“عمران میرے یار میں درد کی انتہا پر ہوں۔
تم میرا درد کم کر سکتے ہو ۔
اپنی دوستی کی خاطر میرا درد کم کردو, ورنہ میں کتنی حدیں پار کر جاؤں گا اس کا مجھے خود کو بھی علم نہیں۔”
“پاگل مت بنو میں نے کہا نہ کہ میں وہ سب کیس اس پر ڈالوں گا جو تم کہو گے, پھر آن فضول باتوں کا کیا مطلب؟”😑
خبردار جو تم نے کوئی غلط قدم اٹھا کر اپنے آپ کو خطرے میں ڈالا تو….
عمران نے اسے سمجھا بجھا کر وقتی طور پر ٹھنڈا کرلیا تھا,پر اس کے اندر کی آگ تو اپنے دشمن کو اپنے جیسا درد دے کر ہی بجھنی تھی۔
*******
اسے لکڑیوں سے اونچا باندھ کر نیچے آگ جلا کر اسے زندہ پکانے کی تیاری چل رہی تھی ۔
اور ارد گرد جنگلی اچھل کود کرتے ٹپکتی رال کے ساتھ اسے دیکھ رہے تھے ۔
اتنے میں اک جنگلی آگے بڑھا اور اسے بالوں سے دبوچ کر ابھی اس کے چہرے پر جھکا ہی تھا کہ کسی نے پیچھے زور دار گھونسا مار کے اس جنگلی کو زمین بوس کردیا۔
وہ جنگلی زمین پر گر کر درد سے کراہ اٹھا۔
جبکہ باقی جنگلی اس جوشیلے نوجوان پر جھپٹ پڑے, جس نے رتبہ پر جھکے جنگلی پر وار کیا تھا۔
دیکھتے ہی دیکھتے اس نوجوان نے سب جنگلیوں کو مار گرایا اور رسیوں سے بندھی رتبہ کو کھول بڑی شان سے اپنے ساتھ اپنی بگھی میں بٹھا کر چل پڑا۔
رات کے وقت جنگل میں اتنا اندھیرا تھا کہ رتبہ چاہ کر بھی اس بہادر جوان کا چہرہ نہیں دیکھ پائی۔
بگھی تیزی سے اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی جب رات کی سیاہی کی جگہ چمکتی دودھیا سفیدی نے لینی شروع کی تبھی رتبہ نے اپنی دائیں طرف گھوڑا دوڑاتے نوحوان کی طرف دیکھ کر مبہوت رہ گئی۔
کیونکہ اس کی بغل میں بیٹھا بہادر جوان کوئی اور نہیں بلکہ محسم مرزا تھا۔
********
افف میرے خدا یہ میں نے کونسی بے وقوفی کردی۔وہ لڑکی میرے بارے میں کیا سوچتی ہوگی۔
مانا کے دل اسی کی جانب رہ رہ کر لپکتا ہے,اور میری محبت بھی سچے جذبے لئے ہوئے یے۔
پر پھر یوں اچانک بنا سوچے سمجھے اظہار محبت کرنا بھی ٹھیک نہیں۔
ہوسکتا ہے میری اس بے وقوفی اسے بیت غصہ آیا ہو اور وہ کبھی میرا سامنا ہی نہ کرے۔ تب میں کیا کروں گا؟🤔 کیسے جیوں گا اس کے بنا۔
میں تو اس کے نام کے سوا اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا,کہان ڈھونڈوں گا اسے؟
اور اگر ڈھونڈ بھی لیا تو کس منہ سے اس کا سامنا کروں گا؟
افف میرے رحم کر مجھ پر… تو جانتا ہے میری محبت سچی اور دل صاف ہے۔
میں مانتا ہوں کہ شدت جذبات میں آکر بے اختیار ہو کہ میں نے اپنے محبوب کے سامنے دل کا حال بیان کر ڈالا۔ جو کہ مجھے نہیں کرنا چاہیے تھا۔
پر اب سوال یہ ہے کہ میں اپنی غلطی کا مداوا کیسے کروں؟🤔
کیسے اس سے معافی مانگوں؟🤔
کہاں ڈھونڈوں اس کو؟🤔
میرے اللّہ مجھے کوئی راستہ دکھا۔محسم دل ہی دل میں اپنے رب سے مخاطب ہوتا مدد طلب کررہا تھا کہ اچانک اس کے دماغ میں جھماکا ہوا اور اسے یاد آیا کہ ان کی ملاقات اکثر کھیتوں میں ہوا کرتی ہے۔
شاید آج بھی رتبہ کھیتوں میں آئی ہو ؟اسی سوچ کے ساتھ محسن تیزی سے اپنے جہازی سائز کے بیڈ سے اٹھا اور کھیتوں کی طرف چل دیا۔
********
رتبہ گھبرا کر بستر سے اٹھی تو کافی دیر خالی خالی نظروں سے اپنے ارد گرد دیکھتی رہی۔
کافی دیر اپنے گرد دیکھنے کے بعد اسے اس بات کا احساس ہوا کہ اب وہ حقیقی دنیا میں ہے اور جو کچھ وہ تھوڑی دیر پہلے دیکھ رہی تھی وہ محض اک خواب تھا۔
تو کیا وہ خواب تھا؟🤔
اور اس خواب میں مجھے ان جنگلی درندوں سے بچانے والا کوئی اور نہیں محسم مرزا تھا۔😍
اس کا مطلب وہ واقعی مجھ سے محبت کرتا ہے۔اور اس کا وہ اظہار محبت کرنا…. 🙈
رتبہ کو بیٹھے بیٹھے اپنی بشرٰی پھپھو کی بات یاد آئی کہ… حوس اور محبت دونوں انسان کی آنکھوں سے عیاں ہوتی ہے۔
حوس پرست انسان جب نظر اٹھا کے دیکھتا ہے تو عورت کو اپنا بدن اس کی غلیظ نظروں سے چھلنی ہوتا محسوس ہوتا ہے جبکہ سچی محبت کرنے والا محرم بننے تک تو اپنے محبوب کی تعظیم میں نظر ہی نہیں اٹھاتا کہ کہیں اس کی نظر سے اس کی محبت کی توہین نہ ہو جائے۔
اور محسم نے بھی تو کبھی نظر نہیں اٹھائی۔
ہمیشہ اس انسان نے نظریں جھکا کر مجھے مخاطب کیا۔
اس کا مطلب وہ مجھے سچ میں چاہتا ہے؟🤔
یعنی امی ٹھیک کہتیں ہیں کہ مجھے جب میرا مرزا ملے گا تو میرا دل خود بخود اس کی جانب کھچا چلا جائے گا۔
اور اب یہی تو ہورہا ہے میرے ساتھ,کہ میرے خوابوں میں بھی اب اس انسان نے اپنا قبضہ جما لیا ہے۔اب میں اسے کیا جواب دوں کچھ سمجھ میں نہیں آرہا۔
کھیتوں میں جاؤں کیا؟🤔
ہاں یہی سہی رہے گا کھیتوں میں چلتی ہوں شاید وہ انسان مجھے وہیں مل جائے۔سوچوں کے تانے بانے بُنتی رتبہ اپنا دوپٹہ سلیقے سے سر پر جماتی کھیتوں کی طرف چل دی۔
*******
تیز ٹھنڈی ہوائیں محسم کے چہرے سے ٹکراتیں تو بے اختیار اسے رتبہ کی یاد آتی۔
کیا کروں؟کہان ڈھونڈوں تمہیں؟
اے کاش کے کہ جب آنکھیں جھولوں تو تم میرے سامنے ہو اور مجھ سے کہو ہاں تم مجھے قبول ہو۔
“ہاں تم مجھے قبول ہو۔” 💗
محسم آنکھیں بند کئے کھیتوں کے بیچ و بیچ کھڑا اپنے دل پر ہاتھ رکھے خود سے ہمکلام تھا جب رتبہ کی میٹھی آواز نے اس کے کانوں میں ایسا رس گھولا کہ اس نے فوراً تڑپ کے آنکھیں کہ شاید اس کا وہم ہو۔
پر یہ اس کا وہم نہیں حقیقت تھی رتبہ سچ مچ اس کے سامنے کھڑی اس کی محبت کو اپنانے کا کا بول رہی تھی۔
آپ مجھے قبول ہیں پر محرم کی صورت میں۔رتبہ اپنی بات مکمل کرکے وہاں رکی نہیں تھی کیونکہ اب اس کے لئے محسم کی لو دیتی نظروں کا سامنا کرنا مشکل تھا اسی لئے اپنی بات کہہ کر رتبہ تقریباً بھاگتی ہوئی گھر لوٹ آئی۔
اور محسم جو معافی مانگنے کی نیت سے آیا تھا اپنی محبت کے قبول کئے جانے پر وہیں سربسجود ہوگیا۔
********
رتبہ لجائی لجائی سی اپنے گھر کے باہر پہنچی تو ہر طرف گاؤں کے لوگوں کی بِھیڑ اور چیخ و پکار دیکھ کر گھبرا گئی۔
ک ک کیا ہوا ہے یہاں؟ پیچھے ہٹیں آپ لوگ کہتی رتبلوگوں کو پیچھے دھکیلتی جیسے ہی اپنے گھر کے عین سامنے پہنچی تو سامنے کا منظر دیکھ کر اسے اپنے جسم سے جاں نکلتی ہوئی محسوس ہوئی, کیونکہ سامنے اس کے گھر کو لگی آگ کے شعلے اتنے بلند ہو چکے تھے کہ انہیں بجھانا ناممکن تھا۔
ک ک کیا ہوا یہاں میرے گھر میں آگ کیسے لگی۔رتبہ نے چلا کر گاؤں والوں سے سوال کیا تو سب لوگ انجان بنے بیٹھے تھے۔
کچھ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت پانی کی بالٹیاں ڈال رہے تھے پر آگ کے شعلے اتنے بڑھ چکے تھے کہ انہیں روکنا گاؤں والوں کے بس کی بات نہیں تھی۔
رتبہ چلاتی رہی اور اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے سب اپنے زندہ جل گئے۔
اور جب تک شہر سے فائر برگیڈ کی گاڑی گاؤں پہنچی سب ختم ہوچکا تھا۔
رات کے سائے گہرے ہوتے جاتے تھے اور سب لوگ افسردگی کا اظہار کرتے اپنے گھروں کو لوٹنے لگے تھے جب اپنے ہوش و حواس سے بیگانہ رتبہ اپنی اماں کو جو کہ مکمل جلنے کی وجہ سے شاید آخری سانسیں لے رہیں تھیں اپنے کندھے پر ڈالے مرے مرے قدموں سے انجان راستوں پر چل پڑی۔
تبھی اچانک اک میں پاگل عورت اس کے سامنے آئی اور اپنے بال اور چہرہ ناچتے ہوئے کہنے لگی بھاگ جا بیٹی بھاگ ورنہ یہ درندے تجھے بھی نوچ ڈالیں گے, مار ڈالیں گے۔
یہ مرزا خاندان ہے ہی بہت ظالم۔
جیسے انہوں نے اس معصوم کو اک ناکردہ گناہ کی سزا دی تھی۔اور جیسے تیری بہن آدھی رات کو پھٹے کپڑے لئے حویلی کے پچھلے دروازے سے نکلی تھی۔
یہ نہ ہو کہ وہی سب تیرے ساتھ بھی ہو۔
اسی لئے کہہ رہی ہوں بھاگ جا یہاں سے بھاگ جا۔ اپنی بات کہہ کر وہ دیوانی عورت ویسے ہی اپنے بال اور چہرہ ناچتے آگے بڑھ گئی جبکہ صدمے سے نڈھال ہوتی رتبہ تڑپ اٹھی۔
سنا ہے فرح اکثر راتوں کو مرزا صاحب کی حویلی میں چھپ چھپ کر جایا کرتی تھی۔
ضرور اس کا چھوٹے مرزا کے ساتھ چکر ہوگا۔
ویسے بھی کچھ دن میں دیکھ رہی تھی اس کے بے ڈول سے جسم کو۔
ضرور کوئی گل کھلا کے آئی ہے یہ لڑکی چھوٹے مرزا کے ساتھ۔
ہاں بہن اکثر غریب گھروں کی لڑکیاں پیسے کی لالچ میں امیر زادوں سے پیسوں کے لئے تعلق بناتے ہوئے یہ نہیں سوچتیں کہ ان امیر زادوں کے لئے محبت وحبت اک کھیل کے سوا کچھ نہیں۔
اور ویسے بھی اب یہ لڑکی پیٹ سے تھی تو وہ کیونکر اپناتا اسے۔مجھے تو یہی لگتا کہ چھوٹے مرزا نے ہی اپنے گناہ کا ثبوت مٹانے کے لئے ہی ان کے گھر میں لگوا کے سارے گھر والوں کو زندہ جلا کر مار ڈالا۔
ہائے ہائے اپنی بیٹی کے گناہ کی سزا سب گھر والوں کو چکانی پڑی۔رتبہ کے عقب میں کھڑیں تین عورتیں آپس میں چہ میگوئیاں کررہی تھیں جو رتبہ کے کانوں تک بآسانی پہنچ رہیں تھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *