Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sahiba by Alaya Rajput Episode 06

جن کے قہقہے ختم نہیں ہوتے
ان کے روگ بہت گہرے ہوتے ہیں
وہ اپنے کھلے صحن میں رات کے تین بجے کھڑی آنسو بہا رہی تھی سب سو رہے تھے سوائے اس کے, تبھی تیز ہوا کا جھونکا اس سے آکر ٹکرایا تو اس کے سارے جسم میں اٹھتی ٹِیسیں مزید شدت اختیار کر گئیں اور سِی ی ی ی کی آواز سے ساتھ ہی وہ اپنی چیخ کو دبانے کے لئے منہ پر زور سے ہاتھ رکھ کر زمین پر بیٹھتی چلی گئی اور بے آواز ہچکیوں سے روتی اپنی آبرو کے بے پردہ ہونے پر ماتم کرنے لگی 😢
ابھی دوپہر میں جب زبیر شہر سے لوٹا تھا تو کتنی بار اسے ہلا ہلا کر پوچھتا رہا تھا کہ گڑیا کیسے ہوگیا تم کو بخار کیوں میری نٹ کھٹ بہن آج چپ چپ سی ہے.
پر وہ بخار کی وجہ سے شدید سر درد کا بول کر یہ کہتی رُخ موڑ گئی تھی کہ اسے نیند آئی ہے اور اسی لئے زبیر بھی خاموشی سے کمرے سے نکل گیا کہ شاید واقعی اس کی بہن کو آرام کی ضرورت ہو, پر وہ یہ نہیں جانتا تھا آرام سکون اور خوشی جیسی نعمتیں اب اس کی گڑیا جیسی بہن کی قسمت میں نہیں تھیں 🙁
ابھی تو معصوم سی فرح کا کانٹوں پر ننگے پاؤں سفر شروع ہوا تھا ابھی تو اس معصوم کا لہولہان ہونا باقی تھا
**************
صبح صادق کے بعد جب رُتبہ فجر کی نماز کے بعد فارغ ہوئی تو دیکھا کہ سب ابھی اپنے اپنے کمروں میں نماز پڑھنے میں مصروف ہیں .
تبھی اسے اپنی بشرٰی پھپھو کی یاد ستانے لگی اس وقت وہ ان کے ساتھ مارننگ واک پر جاتی تھی اور مُوسٰی ان کے پیچھے پیچھے رُتبہ کو چڑانے بھاگا آتا تھا ادھ کھلی اور بند آنکھوں سے 😉
پھر کبھی وہ درخت کی کوئی ٹہنی توڑ کر اس سے رُتبہ کو گدگدی کرتا اور کبھی اس کی چوٹی پیچھے سے کھینچ کر انجان بن جاتا اور پھر دونوں کی راستے میں ہی جنگ شروع ہو جاتی😂 اور بشرٰی ان دونوں کی لڑائی دیکھ کر مسکراتی رہتیں ۔
اسے ان دونوں کی ایسی عادت ہوئی تھی کہ ان کے بنا رہنا عجیب لگ رہا تھا پھر وہ اپنا دل بہلانے کو گھر سے باہر نکل کر کھیتوں کی جانب چل دی ۔
صبح سویرے ہرے بھرے کھیت ہوا میں یوں جھوم رہے تھے جیسے کوئی انہیں محبت کے نغمے سنا رہا ہو اور انہیں نغموں کی دھن رُتبہ کے کانوں تک پہنچنے سے پہلے ہی کسی معصوم کی چیخوں تلے دبنے والی تھی 😢
رُتبہ لہلہاتے کھیتوں کے درمیان مستیاں کرتی پھررہی تھی جب یوں ہی اچھل کود کرتے اس کا پیر پِھسلا اور اس سے پہلے کے وہ بری طرح زمین بوس ہوتی کسی نے سہارا دے کر اسے گرنے سے بچا لیا ۔
***************
یہ اس کی زندگی کی پہلی رات تھی جس میں اس کا شراب پینے کا دل نہیں کِیا تھا وہ مسرور سا گنگنا رہا تھا…
تیرا مُکھڑا حسیں جادو کر گیا
یہ دل لے گیا میری جاں 💟
یوں ہی گنگناتے ہوئے وہ بلا ارادہ ہی ٹی وی لگا کر بیٹھ گیا تو سامنے سکرین پر سلطان راہی کی کوئی فلم چل رہی تھی جسے دیکھ کر اسے نجانے کیوں وہ حجاب والی لڑاکو لڑکی یاد آ گئی جو آج صبح ہی اسے سلطان راہی بول کر عزت کر کے گئی تھی…
وہ یوں ہی سوچوں میں گُم مسکرا دیا اور ٹی وی کے سامنے سے اٹھ کر اپنے کمرے میں لگے بڑے سے آئینے کے سامنے آ کھڑا ہوا جسے مرزا سہراب نے خاص ملائیشیا سے منگوا کر پوتے کے کمرے کی زینت بنایا تھا۔
وہ آئینے کے سامنے کھڑا ہو کر خود کو کبھی آگے سے دیکھتا اور کبھی پیچھے سے, اور کبھی آئینے میں خود کو دیکھتا اور کبھی ٹی وی پر سلطان راہی کو دیکھتا 😂 اسے اپنا آپ کہیں سے بھی سلطان راہی جیسا نہیں لگ رہا تھا پر اسے یہ سمجھ بھی نہیں آ رہی تھی کہ اس لڑکی نے اسے سلطان راہی کیوں بولا…
”حالانکہ سلطان راہی صاحب کی اپنی گریس ہے , پر پھر بھی میں ان کی طرح تو نہیں دِکھتا یار اگر وہ مجھے مغلیہ دور کا شہزادہ بول دیتی تو سمجھ بھی آتا کیونکہ میں ویسا دِکھتا بھی ہوں ۔“
پر پنجابی فلموں کا ہیرو تو نہیں لگتا یار میں 😕
محسم مرزا کب سے دل ہی دل میں سوچ رہا تھا 🤔 تبھی دروازے پر کسی کے ہنسنے کی آواز نے اس کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی۔
دروازے پر اس کے دادا مرزا سہراب اس کی اوٹ پٹانگ حرکتیں دیکھ کر ہنس رہے تھے .
”کیا ہوا دادا جانی آپ ہنس کیوں رہے ہیں ؟؟😨
محسم مرزا دادا کو ہنستے دیکھ کے حیران ہوا.
مجھے لگ رہا ہے میرا پوتا سلطان راہی کا فین ہے 😁🤔🤔
مرزا سہراب نے بمشکل اپنا قہقہہ روک کر کہا…
”کیا دادا جانی آپ مذاق مت بنائیں یہ بتائیں کیا واقعی میں پنجابی فلموں کا ہیرو لگتا ہوں ؟؟؟“
محسم نے اپنے دادا سے پوچھا۔
”نہیں تو … کس نے کہا تم سے ایسا“ 😤 مرزا سہراب نے مصنوعی خفگی سےکہا ۔
”کسی نے نہیں کہا دادا جانی بس میں ویسے ہی پوچھ رہا تھا محسم گڑبڑا سا گیا“
”میرا لاڈلا بچہ تو مغلیہ دور کا شہزادہ لگتا ہے ۔“😘
”اب اتنا بھی پیارا نہیں میں صرف آپ کا لاڈلا ہوں اس لئے آپ کو شہزادہ لگتا ہوں ۔“
محسم نے لاڈ سے ان کے کندھے پر سر رکھ کر کہا ۔
یقین نہیں آتا تو اپنی زندگی میں آنے والی صاحبہ سے پوچھ لینا مرزا صاحب 😜
مرزا سہراب کے شرارت بھرے انداز نے محسم کی آنکھوں کے سامنے اک پل کے لئے وہ لڑاکو لڑکی لا کھڑی کی تھی ۔
”کیا دا دا جانی آپ بھی نہ“… محسم نے اپنے ذہن سے فورًا اس لڑکی کے خیال کو جھٹک کر کہا تو دادا پوتا اک ساتھ مسکرا دیے😊
اچھا میرے شہزادے تم آرام کرو میں چلا سونے کہتے سہراب مرزا اپنے کمرے کی طرف چل دیے اور محسم ساری رات کروٹیں بدلتا رہا پھر بھی نیند نہ آئی بس اپنی کھیتوں میں ہونے والی عزت کے بارے میں سوچتا رہا 😂
ساری رات بے چین رہنے کے بعد صبح ہی صبح تنگ آ کر محسم حویلی سے نکل کر کھیتوں میں آگیا صبح صبح ٹھنڈی ہوا میں جھومتے کھیت دلکش منظر پیش کر رہے تھے… جنہیں دیکھ کر محسم کی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچ رہی تھی 😍
”ارے واہ صبح صبح اُٹھنا اور تازہ ہوا کے جھونکوں کا مزہ لینے کی بھی کیا بات ہے ۔ کبھی آج سے پہلے میں اتنی صبح اُٹھا ہی نہیں , کتنا بد نصیب ہوں میں اتنا دلکش منظر نہیں دیکھ پایا کبھی قدرت کا 😍 یہ قدرتی ٹھنڈی ہوائیں روح تک ایسا سکون پہنچا رہی ہیں جیسا کبھی کسی اے سی کی ہوا بھی نہیں دے پائی …
اور میں مِس کرتا رہا آج تک اس حسین منظر کو, پر آئندہ ہمیشہ صبح اُٹھوں گا اور لازمی کھیتوں کا چکر لگا کر قدرت کے ان حسین نظاروں سے لطف اندوز ہوں گا۔“ 💞
یوں ہی کھیتوں کو چھو کر خوش ہوتے محسم کو اچانک ٹھاہ کی آواز نے پلٹ کر دیکھنے پر مجبور کر دیا 👈😂
محسم نے مُڑ کر دیکھا تو وہی لڑاکو لڑکی زمین بوس ہوئی پڑی تھی 😂 جو کل محسم مرزا کی طبیعت صاف کرکے گئی تھی۔
آؤووچ … ہائے اللّہ جی کہتی رُتبہ اس بات سے بلکل انجان تھی کہ کوئی اس کے پاس کھڑا بڑے مزے سے اس کا زمین پر پٹاخہ بجتے دیکھ چکا ہے 😂
”توبہ کتنی دھول مٹّی ہے یہاں سارے کپڑے خراب ہوگئے میرے اوپر سے کہنی چِھل گئی میری ایویں آ گئی میں یہاں چوٹ لگوانے , اوپر سے اتنی صبح یہاں کوئی ہوگا بھی نہیں جو مجھے فرسٹ ایڈ دے۔“ 😏
رُتبہ منہ میں بڑبڑا رہی تھی جب کوئی اس کے قریب بیٹھ کر اپنا رومال اس کی کہنی پر باندھنے لگا جہاں سے خون کی چند بوندیں نکلی تھیں جو رومال باندھتے محسم کے ہاتھ پر لگ گئیں تھیں جنہیں اس نے بے دھیانی میں اپنی سفید رنگ کی شرٹ سے صاف کر لیا تھا۔
رُتبہ شرمندہ سی نظریں جھکائے بیٹھی تھی کیونکہ وہ رومال سےپٹّی کرتے انسان کو دیکھ کر پہچان گئی تھی کہ یہ وہی شخص ہے جسے وہ کل دل کھول کہ ذلیل کرکے آئی تھی اور اب وہی انسان اس کی مدد کر رہا ہے بنا کچھ کہے
محسم نے رومال کو کَس کے رُتبہ کی کہنی پر باندھا اور اسے سہارا دے کر اٹھایا اور بنا کچھ بولے واپس چلا گیا ۔
اور رُتبہ اپنی کل والی بدتمیزی پر شرمندہ ہوتی گھر کی جانب چل دی۔
_________
عمرہ کی ادائیگی کے لئے گئے مُوسٰی اور بُشرٰی جس ہوٹل میں ٹھہرے تھے وہاں اک ویٹرس بار بار مُوسٰی کو دیکھ کر مُسکرا رہی تھی ۔
دیکھ لیں پیاری مما لڑکیاں آپ کے گبھرو جوان پر مر مِٹتی ہیں اور اک وہ آپ کی لاڈلی ہے جسے آج تک میرے دل کا حال ہی سمجھ میں نہیں آیا 😏
باہر ہال میں کھانا کھانے کے لئے بیٹھے مُوسٰی نے ماں کے کان میں سرگوشی کی…
انسان بنو مُوسٰی ہر جگہ شرارتیں کرنے لگتے ہو 😠 بشرٰی نے بیٹے کے شرارتی انداز پر برا مانتے ہوئے کہا ۔
کیا مما میں تو بس بات کررہا ہوں آپ نے تو مجھ معصوم کو ڈانٹنا ہی شروع کردیا مُوسٰی نے منہ بنا کر کہا۔
بیٹا اگر موقع اور جگہ دیکھ کر بولو تو ڈانٹ نہ پڑے , باقی رہی بات رُتبہ کی تو یہاں سے جاتے ہی اس کا ہاتھ مانگ لوں گی اس کے بابا سے 😊
اب آرام سے مجھے کھانا دو اور مجھے سکون سے اس مبارک مقام پر اپنے ربّ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہونے دو
ٹھیک ہے مما سوری اب نہیں کرتا آپ کو تنگ پکّا , آپ کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش تھی عمرہ کرنا 💟
اپنے ربّ کے گھر کو قریب سے دیکھنا 💟
اس مبارک مقام پر عبادات کرنا 💟
میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش تھی اپنی عظیم مما کی سب سے بڑی خواہش کو پورا کرنا تھا 💟اور اب یہاں آکر میں آپ کو کیسے ڈسٹرب کرسکتا ہوں , میں تو بس آپ کا موڈ اچھا کرنے کی کوشش کررہا تھا😊 کیونکہ مجھے لگا کہ آپ رُتبہ کو مِس کر رہی ہیں
مُوسٰی کے مسکرا کر کہنے پر بُشرٰی بھی مسکرا دیں 😊 میرے بچے کر تو رہی ہوں میں اپنی لاڈلی کو مِس پر جب اپنے ربّ کے ساتھ دل کے دکھ درد بانٹتی ہوں جائے نماز پر بیٹھ کر تو اس وقت بلکل پُرسکون ہوجاتی ہوں, اور ویسے بھی جلد ہی ہم رُتبہ کے پاس ہی لوٹ جائیں گے اس لئے پرسکون ہوں میں, کیونکہ وہ اپنے امّاں بابا کے پاس ہے کسی غیر کے پاس نہیں, تو اداسی کیسی ؟چلو اب تم اپنے کمرے میں جاؤ سونے ,میں بھی آرام کرنے جارہی ہوں پھر صبح جلدی بھی اٹھنا ہے چلو شاباش بشرٰی نے بیٹے کے سر پے پیار سے ہاتھ پھیر کر کہا تو مُوسٰی بھی سونے چل دیا ۔
***************
چوہدری دلاور اپنے بیٹوں کے ساتھ بیٹھا چائے پی رہا تھا جب سب سے چھوٹے چوہدری نوید نے بات شروع کی…
” بابا کیا یہ محسم مرزا آئے دن ہمارے گھر میں گُھسا رہتا ہے شدید چِڑ ہے مجھے اس سے , جب دیکھو ہم پر حکم چلاتا رہتا ہے جیسے ہم اس کے باپ کے نوکر ہوں۔ 😠
پہلے بچپن میں دادا جی نے اسے ہمارے سر پر تھوپ دیا تھا تب ہم کچھ بول بھی نہیں سکتے تھے کیوں کہ تب ہم بچے تھے اور دادا جی کو بڑا شوق تھا دوستیاں نبھانے کا, اور دوست کی محبت میں آ کر انہوں نے اس کے پوتے کی ساری ذمہ داری اپنے سر لے لی تھی,
پر اب تو دادا جی کو دنیا چھوڑے 3 سال ہونے کو آئے اب آپ کیوں ہر وقت اسے ہمارے سر پر سورا رکھتے ہیں بابا؟
کیا اب آپ بھی کوئی دوستی نبھا رہے ہیں؟؟؟ 😏
”میری بےوقوف اولاد میں سے کوئی اپنے باپ پر نہیں گیا۔ سب گدھے جلدی جلدی میں گرم گرم کھا بیٹھتے ہیں اور پھر شکوہ بھی کرتے ہیں کہ منہ جل گیا, اک بات ہمیشہ یاد رکھنا جو ٹھنڈی کر کے کھاتا ہے نہ تو کبھی اس کا منہ جلتا ہے اور نہ ہی کبھی اس کا نظامِ انہظام خراب ہوتا ہے۔ “
”کیا بابا میں یہاں اس محسم کی بات کررہا ہوں اور آپ مجھے گرم روٹی کے نقصانات اور ٹھنڈی روٹی کے فوائد بتا رہے ہیں , میرا کوئی معدہ خراب نہیں جو آپ ڈاکٹر بن کے پرہیز بتا رہے ہیں۔“
نوید چوہدری نے برا سا منہ بنا کر کہا تو پیچھے سے اپنی گردن کو اک مضبوط شکنجے میں پایا 😂
”اوہ گدھے 20 سال کا ہوگیا اور عقل ابھی بھی گھٹنوں میں ہے تیری , میں دنیاداری کی بات کر رہا ہوں اور یہاں صاحب زادے کی بکواس باتوں نے میرا دماغ گھما کر رکھ دیا ۔“
”اچھا بابا غلطی ہوگئی آئندہ سے ہمیشہ سوچ کے بولوں گا پر ابھی کے لئے گردن چھوڑ دیں , قسم سے بہت بھاری ہاتھ ہے آپ کا پیچھے سے پکڑا پھر بھی سانس رُک رہی ۔“
ارے بابا اس کو تو عقل نہیں چھوڑیں آپ اس کو , اور بتائیں محسم کا بندوبست کیا یا نہیں ؟؟؟ چوہدری دلاور کے منجھلے بیٹے شہزاد نے پوچھا تو اس کے چہرے پر اِک مکروہ سی ہنسی آئی ۔
”مجھے یہ بات اچھے سے سمجھ میں آ گئی ہے کہ یہ کام شہباز کےبس کی بات نہیں, بلکہ اب اس بڑی اور بیش قیمت مچھلی کے لئے مجھے ہی مضبوط جال بچھانا ہوگا اور تم تینوں زیادہ کچھ نہیں کر سکتے تو بس یہ دھیان رکھنا کہ اس جال میں کوئی سوراخ نہ ہو نہیں تو مچھلی ہاتھ سے نکل جائے گی سمجھے؟ “
چوہدری دلاور نے اک جھٹکے سے نوید کی گردن چھوڑتے ہوئے کہا تو سب بیٹوں نے باپ کی ہاں میں ہاں ملائی ۔
”اب بابا کس دریا پر مچھلی پکڑنے جائیں
گے 🤔
چلو جدھر بھی جائیں میں پریشان کیوں ہو رہا ہوں مجھے مچھلی کھانے سے مطلب ہونا چاہیے کانٹے گِن کے میں کیا کروں گا ۔“ چوہدری نوید سوچتا ہوا باہر کی جانب چل دیا
**************
رُتبہ اور زبیر باتیں کررہے تھے جب فرح دونوں کے لئے ٹھنڈی ٹھار لسّی لے کر آئی اور دھیمے سے مسکراتے ہوئے ان دونوں کو لسّی پکڑا کر واپسی کے لئے مُڑ گئی…
بہت دن اذیت میں رہنے کے بعد فرح نے سوچ لیا تھا کہ اب وہ مزید اپنے گھر والوں کو پریشان نہیں کرے گی اس لئے وہ چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ سجائے گھر کے کاموں میں جُت گئی 😢
”ارے فرح تم کیا ہر وقت کاموں میں لگی رہتی اِدھر آؤ ذرا رُتبہ آپی کے پاس بیٹھو پہلے تو اتنا انتظار تھا تم کو رُتبہ آپی کا , اب جب وہ آگئیں ہیں تو تم کام میں لگی ہو ۔“
چلو اِدھر بیٹھو میرے پاس رُتبہ نے مسکراتے ہوئے اپنا ہاتھ فرح کی جانب بڑھا کر اسے اپنے ساتھ بٹھاتے ہوئے کہا ۔
سوری آپی بس میں ذرا کام میں مصروف تھی اس لئے آپ کو وقت نہیں دے پائی اب تو آپ کے اِرد گرد ہی منڈلاتی رہوں گی فرح نے اِک بار پھر مصنوعی مسکان چہرے پر سجاتے ہوئے کہا۔😢
ہاں ہاں مچھر بن کر… زبیر کے شرارتی لہجے پر زبیر اور رُتبہ کا قہقہہ اک ساتھ بلند ہوا , اور فرح اپنے بہن بھائی کے چہرے پر خوشی دیکھتی سر جھکا کر گہری سوچ میں ڈوب گئی 🙁
اگر میں اس درندے کی بات نہیں مانتی تو وہ
پورے خاندان کے چہروں کی مسکان چھین لے گا مار ڈالے گا وہ میرے اپنوں کو, نہیں میں اپنے پیاروں کو اس درندے کے ظلم کا شکار نہیں بننے دوں گی 😨
اپنوں کی جان خطرے میں ڈالنے سے بہتر میں اپنی جان دوں…
پر اگر میں نے خودکشی کی تو میرے گھر والوں سے لوگ سوال کریں گے کہ میں نے کیوں اپنی جان لی , پھر وہ کیا جواب دیں گے , نہیں میں ان کی بدنامی کا باعث بھی نہیں بن سکتی تو کیا کروں میں؟؟؟ 😢
اپنی ہی قربانی دینی پڑے گی اپنوں کی جان بچانے کے لئے ہاں یہی سہی رہے گا, وہ خود سے جنگ لڑتی آخر میں خود ہی سے جنگ ہار گئی😞 اپنوں کی جان بچانے کے لئے , پر اسے کیا خبر تھی جس درندے سے وہ اپنوں کی جان بچانے کے لئے خود کو آگ میں جھونک رہی تھی وہ صرف اسے ہی نہیں اس کے سب اپنوں کو تباہ کر دے گا ۔
لو بھئی اب میں تو چلی گاؤں گھومنے تم دونوں کرو پڑھائی 😊…رُتبہ کی آواز پر فرح سوچوں کے دریا میں ڈوب کر اُبھری اور حقیقت کی دنیا میں لوٹی ۔
چلو فرح بُکس پکڑو جس دن سے تم کو بخار ہوا پڑھائی نہیں کی تم نے, پہلے ہی بہت حرج ہو گیا تمہارا اب صرف کتابوں کو وقت دو سمجھی زبیر نے فرح کا کان پکڑ کر کہا تو فرح پھیکی سی مسکان کے ساتھ اپنی کتابیں اُٹھا لائی اور دونوں بہن بھائی پڑھائی کرنے لگے اور رُتبہ پورا گاؤں گھومنے کی نیت سے گھر سے نکل آئی۔ 😊
****************
محسم جانے کیوں اداس اداس سا رہنے لگا تھا چوہدری شہباز کے بلاوے پر بھی اس سے ملنے اس کے گاؤں نہیں جا پایا تھا ۔
روز جانے کس امید پر صبح صبح کھیتوں میں چلا آتا پر جسے وہ دیکھنے آتا وہ تو اسے کہیں دکھائی نہ دیتی اسے تو اس لڑکی کا اتا پتا بھی معلوم نہ تھا بس روز اسی امید پر کھیتوں میں چلا آتا کہ شاید وہ کہیں دِکھ جائے ۔
ایسا نہیں تھا کہ محسم مرزا کوئی دل پھینک لڑکا تھا, اس نے تو بے پناہ دولت اور بِگڑے ہوئے دوستوں کے ساتھ رہ کر بھی کبھی کسی لڑکی کو لفٹ نہیں کروائی تھی , پھر اب اچانک اسے کیا ہوگیا تھا وہ چاہ کر بھی اپنی کیفیت سمجھ نہیں پا رہا تھا ۔
دو ہی ملاقاتوں میں وہ لڑکی اس کے دل و دماغ پر حاوی ہوگئی تھی ۔
حالانکہ محسم مرزا کے ساتھ آج تک کوئی اونچی آواز میں بات کرنے کی ہمت نہیں کر پایا تھا پر وہ لڑکی اس کی دو بار ٹھیک ٹھاک کلاس لے گئی تھی😂
پھر بھی محسم کا دل جانے کیوں اس کی طرف کھچا چلا جا رہا تھا یہ بات خود ابھی محسم کی سمجھ سے باہر تھی ۔
آج بھی وہ ساری رات بے چین رہنے کے بعد جانے کس جذبے کے تحت کھیتوں میں چلا آیا تھا ۔
حالانکہ دو دن سے چوہدری شہباز اسے کال کر رہا تھا اور ملنے کے لئے اپنے گاؤں بلا رہا تھا… پر محسم کا دل تھا کہ کہیں جانے کو تیار نہ تھا سوائے کھیتوں کے…
جہاں اسے اس لیڈی ہٹلر کے ملنے کی امید تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *