Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sahiba by Alaya Rajput Episode 10

مغرب کے نماز کے بعد رُتبہ زبیر اور فرح کے پاس آ بیٹھی جو پڑھائی میں مصروف تھے۔ ”ارے واہ پڑھاکو بچے پڑھائی کر رہے ہیں۔“
”جی آپی آئیے بیٹھیے آپ بھی۔“ فرح اس کے لئے جگہ بناتی خود زبیر کے ساتھ دوسری چارپائی پر جا بیٹھی۔
”زبیر تم سے اچھی لکھائی تو فرح کی ہے۔“
” یوں لگتا ہے جیسے کاپی پر موتی پروئے ہیں کسی نے۔“رتبہ نے فرح کو پیار سے دیکھ کر کہا۔
”شکریہ آپی۔“فرح نے دھیمے سے مسکرا کر رُتبہ کا شکریہ ادا کیا۔
”میں سوچ رہی تھی جتنی ہماری فرح ذہین اور پیاری ہے اس کے لئے تو ضرور کوئی شہزادہ ہی اترے گا آسمان سے۔“رُتبہ اپنی دھن میں مگن جانے اور کیا کیا بول رہی تھی پر فرح کے لئے اس سے آگے اک لفظ سننا بھی محال تھا اس لئے پانی پینے کے بہانے آنسو پیتی اٹھ کر کمرے سے باہر برآمدے میں آگئی۔
کمرے سے باہر آکر اس کا ضبط جواب دے گیا تو اس نے اپنا سر پلر سے ٹکادیا اور گھٹی گھٹی سسکیوں کے ساتھ روتی ہوئی اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے لگی۔
”آپی آپ کیا جانیں مجھے اک درندے نے کس طرح برباد کیا ہے۔“
“میں تو خود کو آئینے میں دیکھنے کے قابل نہیں رہی تو کوئی شہزادہ کیا دیکھے گا مجھے۔“
“چھوٹی ہوں بہت سمجھ بوجھ نہیں رکھتی پر اتنا ضرور جانتی ہوں کہ یہ ظالم سماج مجھ جیسی لڑکی کو کبھی نہیں اپناتا۔“
“آپی کوئی مرد اتنا اعلٰی ظرف نہیں ہوسکتا کہ مجھ جیسی لڑکی کو اپنائے,اور آپ شہزادے کی بات کرتی ہیں۔”
فرح خود سے ہمکلام ہوتی ایک بار پھر تڑپ کر رودی۔
**********
رات کے کھانے کے بعد جب رُتبہ سونے کے لئے لیٹی تو دن بھر محسم مرزا کے ساتھ گزرا وقت یاد کرکے مسکرا دی۔
”انسان برا نہیں ہے اور میں نے بیچارے کے ساتھ ہر ملاقات میں بدتمیزی کی۔“
“کہنے کو تو گاؤں کے سرپنچ کا پوتا ہے اور ایسے وڈیروں کے بارے میں تو آج تک میں نے یہی سنا بہت ظالم ہوتے, پر یہ تو بلکل مختلف ہے معصوم سا۔”💟
” میں نے ہمیشہ بدتمیزی کی اس سے پھر بھی بنا کسی مطلب کے اس نے میری جان بچائی, پھر تنہائی میں اس کے ساتھ میں نے آج کا پورا دن گزارا اگر ایسا ویسا ہوتا تو ضرور مجھے محسوس ہو جاتا۔”
“کیونکہ وڈیروں کے بچے اکثر بگڑے ہوتے ہیں پر اس میں تو ایسی کوئی بات دکھائی نہیں دی مجھے ۔”🤔
“ہممم خیر جیسا بھی ہے مجھے کیا میں تو اس کے احسان کا بدلہ چکانا چاہ رہی ہوں, تو بس چند دن اس کی دیکھ بھال کے بعد ہری جھنڈی دکھا دوں گی۔”
“ویسے بھی مجھے اس سے کیا لینا دینا بس چند دن کی بات ہے جیسے ہی اس کی طبیعت بہتر ہوگی میں جانا چھوڑ دوں گی۔”
“ہاں یہی ٹھیک رہے گا میں بھی نہ بس یونہی چھوٹی چھوٹی باتوں کی ٹینشن لے لیتی ہوں۔”
“وہ سب باتیں تو اک طرف پر وہ لائبریری میں رونے کی آواز کہاں سے آرہی تھی؟”
“ہر طرف تو دیوار تھی۔ “🤔
“اور تو اور وہاں بھی دیوار تھی جہاں سے رونے کی آواز کلئیر آرہی تھی۔”
“وہ کوئی جن بھوت تھا یا پھر دیوار کے پیچھے کوئی رو رہا تھا۔”🤔
“اگر وہ جن بھوت نہیں تھا تو پھر دیوار کے پیچھے کوئی انسان کیسے پہنچ گیا؟”🤔
“وقتی طور پر میں ڈر کے بھاگ آئی تھی وہاں سے, پر اب جانے کیوں دل کہہ رہا ہے کہ مجھے دیکھنا چاہیے تھا آخر وہ ہے کون جو رو رہا تھا؟”
“خیر جو بھی ہو اگلی بار لازمی دیکھوں گی وہاں کون روتا ہے۔”
“بھوت یا انسان؟”
“اگر بھوت شوت بھی ہوا تو آیت الکرسی پڑھ کہ جاؤں گی۔ پھر جو ہوگا دیکھا جائے گا۔”
اس بار بھوت کی بھی ایسی کی تیسی۔😏
“رتبہ سے پنگا لے کے جائے گا بھی کہاں یہ بھوت کا بچہ۔”👊
“پر اس بار پتا ضرور کرنا ہے وہ لائبریری کا راز۔”
رتبہ دل میں خود سے باتیں کر کے خود ہی خود کو تسلی دیتی سوگئی۔
**********
کر کے کاجل سے دوستی ایک دن
میں بھی اتروں گا تیری آنکھوں میں👀
💞💞💞
رات کے دوسرے پہر محسم کو اس کا دل بے چین کئے ہوئے تھا۔رُتبہ کی ہرنی جیسی کجراری آنکھیں بار بار اس کی نظروں کے سامنے آرہی تھیں۔
گو کہ اس نے نظر بھر کے اک بار بھی رُتبہ کو نہیں دیکھا تھا کیونکہ اس کے خیال میں ایسا کرنا اس باحیا لڑکی کے حجاب کی توہین تھی۔
پر پھر بھی پہلی ملاقات میں جو رُتبہ سے آنکھیں چار ہوئیں تھیں وہی بھولنا اب محسم مرزا کو عذاب لگ رہا تھا۔
اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اس احساس کو کیا نام دے۔
دل کا کہنا تھا کہ یہ محبت ہے اور دماغ کا کہنا تھا کہ یہ وقتی احساس ہے۔
دل اور دماغ کی جنگ نے اسے ساری رات عجیب کشمکش میں مبتلا رکھا اور بلآخر ساری رات کی جنگ کے بعد جیت دل کی ہوئی۔
دماغ: “محسم پاگل ہوگئے ہوتم کیا؟جو اک انجان لڑکی پر دل و جان سے فدا ہوگئے ہو؟”
دل: “محسم محبت اک حسین احساس ہے۔ جب ہوگیا سو ہوگیا, پھر اس احساس سے انکار کیسا۔ “
دماغ:”محسم محبت کرکے پچھتاؤ گے۔”
دل: “محسم محبت کی نہیں جاتی …بلکہ ہو جاتی ہے ,کیونکہ محبت اک احساس ہے۔”
دماغ:”محسم تم اس لڑکی کی ذات پات, نسل, حسب ونسب کچھ بھی نہیں جانتے اور چلے اس سے محبت کا دعوٰی کرنے۔”
دل: “محسم سن لے…
عشق نہ پوچھے دین دھرم
تے عشق نہ پوچھے ذاتاں!!
دماغ: “محسم محبت درد ہے۔”
دل: “محسم محبت ہی ہر درد کی دوا ہے۔”
دماغ نے لاکھ جتن کئے پر دل کا پلڑا بھاری تھا جس نے محسم مرزا کی تمام توجہ اپنی جانب مبذول کرالی,اور بلآخر دل جیت گیا۔
اور محسم مرزا دل کے ہاتھوں مجبور ہو کے اس بات کا اقرار کرنے پر مجبور ہوگیا کے اسے محبت ہوگئی ہے۔
“ہاں مجھے محبت ہوگئی ہے۔”
“رتبہ سے محبت ہوگئی ہے ۔”💖
“یا اللّہ اب مجھے اتنی ہمت بھی دے دینا کہ میں اپنی محبت کا اظہار کر سکوں رتبہ سے۔”😍
محسم مرزا دل اور دماغ کے بیچ ہونے والی شدید جنگ کے بعد ابھی نتیجے پر پہنچا ہی تھا کہ اس کے موبائل پر چوہدری شہباز کی کال آنے لگی۔
“میرا یار تو مجھے بھول ہی گیا۔”
“نہ کوئی کال نہ کوئی چکر میرے گاؤں کا خیر تو ہے نہ؟”
” پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ تم اتنے دن سے ملنے نہیں آئے نہ کوئی رابطہ کیا۔” چوہدری شہباز نے چھوٹتے ہی پوچھا۔
“بس یار کیا بتاؤں طبیعت کچھ خراب سی ہے ۔”
“سانپ نے کاٹ لیا تھا اس لئے نہیں آ پایا۔”
“کیا ا ا؟ 😱تم کو سانپ کے کاٹ لیا اتنی بڑی بات ہو گئی اور تم نے اپنے یار کو بتانے کی زحمت تک نہیں کی ,مطلب میں تو تمہارا کچھ لگتا ہی نہیں جیسے۔”😒شہباز نے مصنوعی خفگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔
ارے نہیں میرے یار ایسی کوئی بات نہیں بس میں تم کو بلاوجہ پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا۔
“ویسے بھی اب میں بہت بہتر ہوں۔ تو اس لئے تم کو یونہی پریشان کرنا مناسب نہیں سمجھا۔
” بس اور تو کوئی بات نہیں میرے لئے تم تو سگے بھائی جیسے ہو یار۔”
“تم سے کیوں چھپاؤں گا کچھ !!محسم نے اسے تسلی دینے کی اپنی سی کوشش کی, پر وہ بھی اپنے نام کا ایک چوہدری شہباز تھا۔
چالاکی اور چالبازی میں اس کا مقابل ابھی تک پیدا ہی نہیں ہوا تھا۔اس لئے بڑے آرام سے سیدھے سادھے محسم کو ہر بار شیشے میں اتارنا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔
“مجھے کچھ نہیں سننا بس میں ابھی آرہا ہوں اپنے یار کے پاس, اور خود دیکھ بھال کروں گا تمہاری بس آگے کچھ نہیں سننا مجھے اللّہ حافظ۔”
“ارے ےے یار لیکن میری بات تو….. محسم کی بات منہ میں ہی رہ گئی اور دوسری جانب سے کال کاٹ دی گئی۔
“اگر شہباز آگیا تو رُتبہ کا کیا ہوگا رُتبہ کو اک دو دن کے لئے روک دینا چاہیے۔”محسم چوہدری شہباز کی عورت پر لٹو ہونے کی گندی خصلت سے خوب واقف تھا, اسی خوف کے تحت کہ کہیں شہباز رُتبہ پر نظر نہ رکھ لے اس نے چوکیدار کو کمرے میں بلا کر سمجھا دیا ,کہ جب تک وہ نہ کہے رُتبہ کو ٹالتے رہنا یہ کہہ کر مرزا صاحب شہر اپنے دوست کے ساتھ چیک اپ کے لئے گئے ہیں۔ تب تک چوہدری شہباز بھی واپس لوٹ جائے گا۔
**********
اگلے دن چوہدری شہباز صبح ہی صبح محسم کی حویلی میں آدھمکا اور محسم کے گلے لگ کے ڈرامہ کرنے لگا۔
“کیا ہوگیا میرے بھائی کو؟ اگر مجھے پہلے پتا ہوتا تو اڑ کے آجا تا اپنے بھائی کے پاس۔”
“خیر اب آگیا ہوں تو تب تک نہیں جاؤں گا جب تک میرا بھائی مکمل فٹ نہیں ہوجاتا۔”
چوہدری شہباز کی ڈرامے بازیاں عروج پر تھیں جب محسم سے اسے آہستگی سے خود سے الگ کیا اور کہا۔
“اووو میرے یار اب میں ٹھیک ہوں تم میرے پاس رکنا چاہو تو جتنی دیر چاہو رک سکتے ہو, پر میری طبیعت کی فکر مت کرو میں اب بلکل فٹ ہوں۔”
“بس ذرا سی نقاہت ہے, وہ بھی اچھی خوراک لینے سےجلد ٹھیک ہو جائے گی dont worry bro۔”محسم اسے سمجھانے کے انداز میں گویا ہوا۔
“تم جو بھی کہو پھر بھی میں کم سے کم دو دن اپنے یار کے پاس رہوں گا, اس کی دیکھ بھال کروں گا اور اسے اپنے ہاتھ سے کھانا کھلاؤں گا۔”
“ارے تم جب تک چاہو رہو تمہارا اپنا ہی گھر ہے یار۔” محسم نے پرخلوص انداز میں کہا۔
“فکر نہ کر جلد ہی یہ گھر بھی میرا اور تیری جائیداد بھی۔” چوہدری شہباز نے محسم کو دیکھتے ہوئے دل ہی دل میں سوچا۔
چلو جی یہ طے ہوگیا کہ دو دن میں اپنے بھائی کا خوب خیال رکھوں گا اور سب سے پہلے ہم دونوں یار مل کے ناشتہ کریں گے اک ساتھ۔ کہتا چوہدری شہباز اٹھ کر باہر ملازم کو کھانے کی ہدایت دینے چل پڑا۔
اور محسم کا دل یہ سوچ کر تڑپنے لگا کہ وہ دو دن کیسے رُتبہ کے بنا رہے گا اور اگر ضدی سی رُتبہ بار بار گیٹ سے واپس بھیجے جانے پر ناراض ہو کر کبھی واپس نہ لوٹی تو کیا ہوگا۔
محبت چیز ہی ایسی ہے جو اچھے اچھوں کو تڑپا کر رکھ دیتی ہے محسم تو پھر اک صاف دل سادہ سا انسان تھا۔
**********
اگلے دن اپنی روٹین کے مطابق ناشتے کے بعد رُتبہ جلدی سے تیار ہوئی اور تیز تیز چلتی حویلی پہنچی کے کہیں محسم اس کے انتظار میں بھوکا نہ ہو, کیونکہ اس نے محسم کو سختی سے بولا تھا کہ کھانا صرف اور صرف اسی کے ہاتھ کا بنا کھائے ۔اور ملازموں کو بھی بول آئی تھی کہ کوئی محسم کے لئے کھانا نہ بنائے وہ خود آ کر بنائے گی۔
اسی فکر کے تحت کے محسم اب تک بھوکا ہوگا وہ تیز تیز قدم اٹھاتی حویلی کے دروازے پر پہنچی۔
اور جیسے ہی اس نے آگے بڑھ کر دروزے کو کھول کر اندر جانا چاہا تو چوکیدار نے یہ کہہ کر اندر داخل کرنے سے منع کردیا کہ مرزا صاحب چیک اپ کے لئے اپنے دوست کے ہمراہ شہر گئے ہیں۔ اور لگ بھگ دو دن بعد لوٹیں گے لحاظہ وہ بھی دو دن بعد ہی آئے۔
اور وہی ہوا جس کا محسم کو ڈر تھا۔رُتبہ کو اپنی بے عزتی اس قدر ناگوار گزری کے غصے میں اس نے وہیں کھڑے کھڑے سوچ لیا کہ آئندہ کبھی اس امیر زادے کی حویلی نہیں آ ئے گی۔
سمجھتا ہے کیا ہے خود کو اگر شہر جانا ہی تھا تو مجھے کل ہی بتا دیتا یوں اپنی حویلی تک بلوا کہ چوکیدار سے بے عزت کروانے کی کیا ضرورت تھی۔
ان امیر لوگوں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانا ہی نہیں چاہیے۔
اور اگر غلطی سے بڑھالو تو خود پتہ نہیں کیا سمجھنے لگتے ہیں۔
بھاڑ میں جائے یہ محسم اور بھاڑ میں جائے اس کی تیمارداری میں نے اپنا فرض نبھا دیا۔
اس نے اگر میری جان بچائی تو میں نے بھی دو دن اس کی دیکھ بھال کی۔
اب اگر وہ مجھے نکھرے دکھا رہا تو میں بھی کوئی اتنی گری پڑی نہیں کے روز روز اس کی حویلی میں چلی آؤں بے عزتی کروانے۔
غصے میں بڑبڑاتی رُتبہ واپس اپنے گھر کی طرف چل دی اس سوچ کے ساتھ کے دوبارہ کبھی اس حویلی کا رخ نہیں کرے گی, پر قسمت کو تو کچھ اور ہی منظور تھا جس سے ابھی وہ مکمل طور پر انجان تھی۔
**********
فرح کی اماں نے اسے اس کے ابا اور تایا کے لئے کھانا دے کر کھیتوں میں بھیجا تھا۔
فرح کافی عرصے سے گھر سے باہر نہیں نکلی تھی پر آج اسے اپنی اماں کے اسرار کرنے پر جانا ہی پڑا تھا۔
“اماں آپ کسی اور کو بھیج دیں میرا دل نہیں کرتا باہر جانے کو۔“فرح نے جان چھڑانے والے انداز میں کہا۔
“ہو کیا گیا ہے تم کو؟”
” فرح میں دیکھ رہی ہوں کافی دنوں سے تم خود کو گھر میں بند کئے بیٹھی ہو کیا بات ہے میری جان؟” فرح کی امی نے اسے سینے سے لگا کر پوچھا تو ماں کے سینے ماں کی ممتا کی ٹھنڈک پا کر اک پل کے لئے فرح کا دل کیا کہ سب کچھ ماں کو بتادے۔
بتادے کے کیسے اس درندے نے اس کی لاڈلی کو اپنی درنگی کا نشانہ بنایا۔
کیسے وہ خود کو آئینے میں دیکھنے سے کترانے لگی ہے۔
کیسے وہ تنہائی میں اپنی اجڑی تقدیر پر پھوٹ پھوٹ کر روتی ہے۔
لیکن دوسرے ہی پل چوہدری شہباز کی اس دھمکی نے اس کا منہ کھلنے سے پہلے ہی بند کر دیا, جس میں اس نے کہا تھا کہ اگر کسی کو کچھ بتایا تو تیرے سارے گھر والوں کو جان سے مار دوں گا۔
“ک ک کچھ نہیں اماں بس گرمی بہت ہے نہ اس لئے دل نہیں کرتا دھوپ میں باہر جانے کو چلیں لائیں آپ بھی کیا یاد کریں گی فرح ابھی کھیتوں میں کھانا پہنچا دے گی۔”
فرح نے اپنے فرضی کالر جھاڑ کے مصنوعی مسکان چہرے پر سجا کر کہا تو اس کی اماں کو کچھ تسلی ہوئی۔
پر دل تو ماں کا تھا جو اپنی بیٹی کی آنکھوں میں باہر جانے کا نام سن کے وحشت دیکھ چکا تھا۔
فرح سمجھ گئی تھی کہ اس اماں اس کی آنکھوں کا خوف دیکھ چکیں ہیں اس لئے کچھ زیادہ ہی اٹکھیلیاں کرنے لگی ماں کے ساتھ ۔اور اپنی اماں کے گلے میں بانہیں ڈال کے ان سے ادھر ادھر کی باتیں کرتی کھانا تیار کرواکے ڈرتی ڈرتی گھر سے نکلی۔
فرح تیز تیز قدم اٹھاتی کھیتوں میں پہنچی اور اپنے بابا اور تایا کو کھانا دے اسی تیزی سے گھر کی جانب لپکی۔
پر اس بار اس کی قسمت نے ساتھ نہ دیا اور کھیتوں سے چند قدم آگے ہی اسے چوہدری شہباز کا خاص ملازم مل گیا۔
“اے چھوری بات سن۔“لمبی لمبی گھنی مونچھوں اور گہری گندمی رنگت والے آدمی نے فرح کا راستہ روک کر کہا۔
فرح اس عجیب سے حلیے والے آدمی کو دیکھ کر بری طرح گھبرا گئی۔ جس نے کاندھے پر بندوق لٹکا رکھی تھی اور اپنی ایک مونچھ کو تاؤ دیتا بڑی غلیظ نظروں سے فرح کو سر سے پاؤں تک گھور رہا تھا۔
“ج ج جی۔”فرح کے منہ سے بمشکل اک لفظ نکلا۔ وہ بری طرح کانپ رہی تھی کیونکہ اسے شک ہوگیا تھا کہ یہ آدمی ضرور چوہدری شہباز کا بھیجا ہوا ہے۔
“سن لڑکی میں چوہدری صاحب کا بندہ ہوں۔”
“انہوں نے تیرے لئے پیغام بھیجا ہے کہ جب رات کو سب سو جائیں تو مرزا سہراب کی حویلی کی پچھلے دروازے سے حویلی میں آ جانا چوہدری صاحب نے بلایا ہے۔”
“اور ہاں اگر نہ آئی یا دیر سے آئی تو تیرا اور تیرے گھر والوں کا جو حشر ہوگا اس کی ذمہ دار تو خود ہوگی۔کہتا وہ آدمی جس تیزی سے آیا تھا اسی تیزی سے واپس چلا گیا فرح کو خوف سے کانپتا چھوڑ کر۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *