Sahiba by Alaya Rajput NovelR50711 Sahiba by Alaya Rajput Episode 08,09
No Download Link
185.7K
15
Rate this Novel
Sahiba by Alaya Rajput Episode 01 Sahiba by Alaya Rajput Episode 02 Sahiba by Alaya Rajput Episode 03 Sahiba by Alaya Rajput Episode 04 Sahiba by Alaya Rajput Episode 05 Sahiba by Alaya Rajput Episode 06 Sahiba by Alaya Rajput Episode 07 Sahiba by Alaya Rajput Episode 08,09 (Watching)Sahiba by Alaya Rajput Episode 10 Sahiba by Alaya Rajput Episode 11 Sahiba by Alaya Rajput Episode 12 Sahiba by Alaya Rajput Episode 13 Sahiba by Alaya Rajput Episode 14 Sahiba by Alaya Rajput Episode 15 Sahiba by Alaya Rajput Last Episode
Sahiba by Alaya Rajput Episode 08,09
تیری ابتداء کا مجھ پے یہ اثر ہے
تیری انتہا کا مجھ پے کیا وار ہوگا
رُتبہ تو چلی گئی تھی پر جاتے جاتےمحسم کو نہ ختم ہونے والی بے چینی کا تحفہ دے گئی تھی۔
دن سے لے کر رات تک اور پھر رات سے لے کر اگلی صبح تک محسم کی سوچوں کا محور صرف اور صرف رُتبہ ہی تھی۔
دن تو کچھ ٹی وی دیکھ کے اور کچھ چوہدری شہباز سے فون پر گپ شپ کر کے کٹ گیا تھا, پر اب رات کی باری تھی اسے ستانے کی۔
وہ اپنے کمرے میں اپنے جہازی سائز کے بیڈ کی دائیں طرف لگی ادھ کھلی کھڑکی سے نظر آنے والے چاند میں جانے کتنی دیر سے رُتبہ کی صورت دیکھ رہا تھا۔
اس پل چاند اسے رُتبہ کی شبیہہ معلوم ہورہا تھا۔
کالے بادلوں کی اوٹ میں چھپا چاند یوں معلوم ہوتا تھا جیسے چاند, چاند نہیں…. رُتبہ کا حجاب میں لپٹا پرنور چہرہ ہو۔
”یا اللّہ یہ کیسی بے چینی ہے؟“
”آخر کب گزرے گی یہ ظالم رات؟ اور کب آئے گا دن؟ جب وہ دشمن جاں کی صورت دیمھنا نصیب ہوگی۔“
”میرے مولا پہلے میں اس احساس کو سمجھ نہیں پایا تھا, پر اب میں اپنی کیفیت سمجھنے لگا ہوں۔“
”مجھے محبت ہوگئی ہے
اک پاکیزہ لڑکی سے۔“
”شاید میری ماں کی دعاء قبول ہوگئی۔“
”شاید مجھے میری صاحبہ مل گئی۔“
”اب تیرے بارگاہ میں اتنی سی عرض ہے کہ میری محبت کو میرا نصیب بھی بنا دے۔“
”کسی بھی حالت میں بس اسے میرا نصیب بنا دے میرے مالک!!
”میں نے آج سے پہلے تجھ سے کبھی کچھ نہیں مانگا, آج پہلی بار تیرے سامنے اک عرض لے کر حاضر ہوا ہوں مولا قبول کرلے اور میری چاہت کو میری محرم بنا دے۔“محسم چاند کو تکتا دل ہی دل میں اللّہ سے دعاء مانگتا کب سویا اسے پتا ہی نہ چلا۔
***********
رُتبہ کی اماں عشاء کی نماز کے بعد ہاتھ اٹھائے دیر تک اللّہ سے کچھ مانگتیں رہیں تو ان کے پیچھے کافی دیر سے کھڑی رُتبہ ان کے قریب آ کر پیچھے سے ان سے لپٹ گئی۔
”کونسی راز ونیاز کی باتیں ہو رہی ہیں اللّہ پاک سے مجھے بھی بتائیں نہ۔“رتبہ نے ماں سے لاڈ کرتے ہوئے کہا تو اس کی اماں مسکرا دیں اور دعاء ختم کرکے اپنا رخ رُتبی کی جانب موڑ کر اسے سینے سے لگائے اس کے بال سہلانے لگیں۔
”اپنی صاحبہ کے لئے رب سے اس کا مرزا مانگ رہی تھی۔“رتبہ کی اماں نے رُتبہ کا چہرہ اپنے سینے سے اٹھا کر اپنے سامنے کیا اور اس کے ماتھے پر بوسہ دے کر بولیں۔
”کیا اماں آپ بھی نہ!!
”کیا میں بھی؟“
”پگلی ہر ماں کی خواہش ہوتی کہ اس کی بیٹی کے نصیب میں اک ایسا شہزادہ لکھا ہو جو اس کی لاڈلی کو بہت چاہے اور اس کے ناز اٹھائے۔“ رُتبہ کی اماں کی آنکھوں میں بولتے بولتے نمی آگئی۔
”اچھا بابا ٹھیک ہے آپ میری ماں ہیں جو بھی اللّہ سےمانگیں گی میرے لئے میرے حق میں بہتر ہی ہوگا۔“
”چلیں یہ تو بتائیں مجھے کیسے پتا چلے گا کہ مجھے میرا مرزا مل گیا؟“رُتبہ نے جذباتی ہوئی اپنی اماں کا موڈ ہلکا پھلکا کرنے کی اپنی سی کوشش کی ,جس میں وہ کچھ حد تک کامیاب بھی ہوگئی۔
”ہمممم جس دن تیرے خوابوں کے شہزادے کا چہرہ تمہیں چودھویں کے چاند میں دکھے تب سمجھ لینا وہ ہی تیرا شہزادہ ہے۔“رتبہ کی اماں نے شرارت سے اس گالوں پر چٹکی بھر کے بولا تو دونوں ماں بیٹی کا اک ساتھ قہقہہ بلند ہوا۔
”اچھا چلو اب بہت رات ہوگئی سونے کے لئے لیٹ جاؤ میری جان ورنہ صبح جلدی نماز کے لئے آنکھ نہیں کھلے گی۔“رُتبہ کی اماں نے پیار سے اس کے بال بگاڑ کر کہا تو رتبہ مسکراتی ہوئی اپنے کمرے میں سونے کے لئے چل دی۔
************
بشرٰی اور موسٰی آج ہوٹل سے رُتبہ کے لئے کچھ شاپنگ کرنے نکلے تھے۔
”ماما سب کچھ اس چڑیل کے لئے ہی لیں گی یا کچھ اپنے بیٹے کو بھی دلائیں گی؟“موسٰی کے منہ بنا کر کہنے پر بشرٰی نے اک زور دار دھموکا موسٰی کی کمر میں جڑ دیا۔
”آہ ہ ہ ماما یہ کیا اک تو مجھے کچھ دلایا نہیں اوپر سے مار پیٹ بھی کر رہی ہیں۔”
”گدھے جس کو تم چڑیل بول رہے ہو نہ وہ میرے آنگن کی وہ چڑیا ہے جس کے چہچہانے سے میرے گھر میں رونق ہے۔“
”اور خیر سے وہی چڑیل تمہارے دل پر راج کررہی ہے, پھر میرے سامنے یہ سب ڈرامہ کیوں کررہے ہو؟“
”دل میں تو لڈو پھوٹ رہے ہوں گے کہ تمہاری ہونے والی دلہن کے لئے تحفے تحائف لے رہی ہے تمہاری ماں۔“
”ہا ہا ہا ما ما اگر مذاق کر ہی بیٹھا ہوں تو کیا بچے کی جان لیں گی آپ۔“
”بچہ کونسا بہت معصوم ہے۔ وہ بھی تو شیطان کا استاد ہے۔“بشرٰی نے ہنستے ہوئے بیٹے کا کان کھینچ کر کہا۔
”آہ ہ ہ آؤووچ مما بس بھی کریں اب کیا اپنی لاڈلی کے لئے کان توڑیں گی میرا۔“موسٰی نے رونی صورت بنا کر کہا تو بشرٰی مسکرا کر رہ گئیں۔
”تم دونوں تو میرے جینے کی وجہ ہو میرے بچے, اب بس یہاں سے جاتے ہی بھائی صاحب سے ہاتھ مانگوں گی اپنی رُتبہ کا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اسے اپنے گھر کی رونق بنا لوں گی بس۔“
”اسی بات پر دل چاہ رہا کہ آپ کی بلائیں لے لوں مما۔“
”اچھا اچھا اب بند کرو یہ شرارتیں اور بتاؤ کونسا برکھا خریدیں رُتبہ کے لئے۔“بیٹے کی شرارتوں کو بریک کو بریک لگانے کے لئے بشرٰی نے بات بدلی۔
”ہہہہم یہ تیسرے نمبر والا سب سے پیارا لگا مجھے یہی لے لیں۔“محسم نے چمکتی آنکھوں سے رُتبہ کو تصور میں یہی برکھا پہنے ہوئے دیکھا اور مسکرا دیا۔
”چلو ٹھیک ہے یہی لیتے ہیں۔“بشرٰی نے بیٹے کی مسکان دیکھ کر دل ہی دل میں اس کی بلائیں لیتے کہا۔
”اچھا چلیں آپ چل کر گاڑی میں بیٹھیں میں بل ادا کرکے آیا۔“
”اچھا ٹھیک ہے۔“کہتیں بشرٰی مال سے باہر گاڑی کی جانب چل دیں۔
اور جیسے ہی وہ گاڑی کے قریب پہنچیں تو سامنے اک گاڑی سے نکلتے ہوئے شخص کو دیکھ کر ٹھٹھک کر رہ گئیں۔
*************
رُتبہ کا بستر کھڑکی کے بلکل پاس لگا تھا۔ اسی لئے وہ کھڑکی کھول کر اکثر رات کو ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں سے لطف اندوز ہوا کرتی تھی,اور دیر تلک چاند کو بے مقصد ہی تکا کرتی تھی۔
آج بھی رُتبہ اپنے اسی پسندیدہ مشغلے میں مصروف تھی, جب اسے اچانک ابھی کچھ دیر پہلے کی اس کی اماں کی بات یاد آئی۔
”اچھا تو وہ محترم کب چاند میں جلوہ گر ہوں گے؟“خود سے ہمکلام ہوتی رُتبہ خود ہی شرما گئی۔ اور یوں ہی چاند میں اپنے مرزا کے تلاشتی سو گئی۔
***********
ہر طرف آگ لگی تھی اور وہ زور زور سے چلّا رہی تھی۔
بچاؤ بچاؤ خدارا کوئی تو مدد کرو پر کوئی اس کی مدد کو تیار نہ تھا۔
پھر اچانک لوگوں کی بھیڑ سے نکل کر کسی نے اس ہاتھ تھاما اور چند قدم اس کے چلتا آگ کے طوفان سے خانہ کعبہ کے سامنے لے آیا۔
اور دونوں اک ساتھ اپنی ربّ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوگئے۔
اور اسی کے ساتھ رُتبہ گھبرا کر گہری نیند سے اٹھ بیٹھی۔
آج بھی اسے اس خواب نے گھبرا کر اٹھنے پرجبور کر دیا تھا جو پچھلے ایک سال سے اکثر اس کی رات کی نیندیں اڑا دیتا تھا۔
”یا اللّہ کیوں مجھے یہ خواب بار بار آتا ہے۔“
یہ آگ اور پھر تیرا گھر کا بار بار دکھنا آخر کیا مطلب ہے اس کا؟“
”میرے مولا جو بھی ہو مجھے تیری ذات پر خود سے زیادہ بھروسہ تو جو کرے گا اس میں کوئی نہ کوئی بہتری ہی ہوگی۔“رُتبہ کی بات کے اختتام پر مؤذن نے اپنی میٹھی آواز میں اپنے ربّ کی حمد و ثناء بیان کی تو رُتبہ اپنےماتھے پر آیا پسینہ پونچھتی اٹھ کر وضو کرنے چل دی۔
نماز کے بعد رتبہ اپنی اماں کو مرزا صاحب کی حویلی ان کی تیمارداری کرنے کا بتا کر گھر سے نکل آئی۔
رُتبہ نے اپنے بابا اور اماں کو پہلے ہی اس بات سے آگاہ کردیا تھا کہ وہ مرزا صاحب کی طبیعت بہتر ہونے تک ان کی تیمارداری کرے گی۔
وجہ بھی سب جانتے تھے کہ ان کو سانپ نے کاٹا بھی رُتبہ کو بچاتے ہوئے تھا, اس لئے وہ ان کی تیمارداری کرکے ان کے احسان کا بدلہ چکانا چاہتی تھی۔ اسی لئے کسی نے اس کو منع نہیں کیا اور اس کے بابا نے بھی اسے آسانی سے اجازت دے دی۔
***********
رتبہ گھر سے نکل کر راستے میں لہلہاتے کھیتوں سے کھیلتی حویلی تک پہنچی تو چوکیدار جسے محسم کی طرف سے خاص ہدایت تھی رُتبہ کو سلام کر کے عزت سے اندر لانے کی, اس نے اٹھ کر رُتبہ کو سلام کیا اور اس کے لئے گیٹ کھول دیا۔
”ارے واہ کھڑوس جو کل مجھے اندر جانے نہیں دے رہا تھا, آج تو بڑی عزت سے پیش آ رہا ہے۔“
”خیر میری بلا سےہہہن۔“ 
چونکہ رُتبہ نے گزشتہ روز محسم کا کمرہ دیکھ لیا تھا اس لئے با آسانی وہ اس کے کمرے تک پہنچ گئی۔
”اسلام علیکم۔“رُتبہ آہستگی سے دروازے پر دستک دیتی اندر داخل ہو کر سلام کرتی صوفے پر بیٹھ گئی۔
”کیسی طبیعت ہے اب آپ کی؟“رتبہ نے آنکھیں مسلتے ہوئے محسم سے پوچھا۔
”جی اللّہ کا شکر جس بھی حال میں رکھے۔“محسم اپنے ادا کئے الفاظ پر خود حیران تھا کیونکہ آج سے پہلے اس نے کبھی اللّہ کا شکر ادا نہیں کیا تھا۔
اور آج رُتبہ کے حال چال پوچھنے پر بے اختیار ہی اس کے منہ سے یہ الفاظ ادا ہوئے تھے جن پر وہ خود بھی حیران ہوا تھا۔
پر اس نے یہ بات رُتبہ پر ظاہر نہیں ہونے دی۔
”آپ سنائیے کیسی ہیں؟“
”میں اک دم فٹ۔“
”آپ بتائیں آپ نے ناشتہ کیا یا نہیں؟“رُتبہ نے مسکرا کر پوچھا۔
”جی ابھی تو آنکھ کھلی ہے۔“محسم نے اک زور دار انگڑائی لے کر کہا۔
”اوکے پھر یہ بتائیں کے کچن کہاں ہے؟ میں آپ کے لئے پرہیزی ناشتہ بنا جر لاتی ہوں۔“
”ارے نہیں نہیں آپ تو ہماری مہمان ہیں اور ہماری حویلی کا برسوں پرانا اصول ہے کہ ہم کبھی مہمانوں سے کام نہیں کرواتے۔“
”حد ہے پھر آپ تیمارداری کس کو کہتے ہیں بتائیں ذرا؟“رُتبہ کی تیوری چڑھ گئی۔
”میں یہاں مہمان بننے نہیں بلکہ آپ کی تیمارداری کی نیت سے آئی ہوں اور آپ کا یہ پرتکلف انداز مجھے اچھا نہیں لگا۔“
تیکھے مزاج کی رتبہ نے پل بھر میں محسم کی مہمان نوازی کے جملے کی دھجیاں اڑا دیں۔
”ارے نہیں میرا مقصد ہر گز آپ کا دل دکھانا نہیں تھا۔“
”میں تو بس میزبانی کے فرائض انجام دے رہا تھا۔“
”اگر آپ کو برا لگا تو معذرت چاہتا ہوں۔“
”اگر آپ کھانا بنانا چاہتی ہیں تو ضرور بنائیں پر پلیز ناراض مت ہوں۔“
”میرے کمرے سے نکل کر دائیں اور بائیں دونوں جانب سیڑھیاں ہیں۔اور آپ بائیں جانب سے آئیں ہوں گی کمرے میں ,کیونکہ وہی گیٹ کی طرف جانے کا راستہ ہے۔
آپ اسی طرف سے نیچے جائیں گی تو دس قدم چل کر پھر بائیں ہی ہاتھ مڑ جائیے گا وہاں سے دائیں ہاتھ تقریباً تین قدم پر کچن ہے۔“
”جی ی ی ی اچھا میں کھانا لاتی ہوں بنا کے۔“رُتبہ کے پلے کچھ بھی نہیں پڑا تھا اسی لئے وہ سر کھجاتی اپنی خفت مٹانے کو بات کو سمجھنے کی ایکٹنگ کرتی محسم کے کمرے سے نکل آئی۔“
”توبہ اب دائیں جاؤں یا بائیں کچھ یاد نہیں کیا بولا اس محسم مرزا نے یار ر ر۔“
”اچھا دائیں ہی بولا ہوگا شاید۔“رتبہ اپنے دماغ کے لنگڑے گھوڑے دوڑاتی دائیں جانب کی سیڑھیاں اترنے لگی۔
»اب کہاں جاؤں؟“ رُتبہ سیڑھیاں اتر کر عجیب پریشانی میں مبتلا ہوگئی۔
”شاید بائیں طرف دس قدم چلنے تھے۔ “
دس قدم چل کر رُتبہ پھر بائیں جانب ہی مڑ گئی اور تین قدم چل کے ارد گرد دیکھنے لگی۔
”اففف یہ میں کیسی سنسان جگہ میں آگئی۔“
”شاید میں راستہ بھٹک گئی ہوں یار کچن بھی تو کوہ کاف پر بنایا ہے ان لوگوں نے۔“
”اس سے پہلے کے میں واپسی کا راستہ بھی بھول جاؤں!! مجھے واپس جانا چاہیے۔“
رُتبہ جلدی سے واپسی کے لئے مڑی تو گھٹی گھٹی سسکیوں نے اس کی توجہ اپنی جانب مبذول کرکے اس کے قدم اپنی جگہ جما دیے۔
Episode 9
”افففف اللّہ جی اس سنسان جگہ پر کون رو رہا ہے۔“
رُتبہ پریشانی کے عالم میں اس طرف بڑھی جدھر سے گھٹی گھٹی سسکیوں کی آواز آ رہی تھی۔
پر جب وہ اس آواز کا تعاقب کرتی عین اس جگہ پہنچ گئی جہاں سے آواز آرہی تھی تو کیا دیکھتی ہے کہ وہاں تو دیوار ہے۔
اور آگے کوئی دروازہ یا کھڑکی کچھ بھی نہیں تھی۔
ہاں پر وہ جگہ لائبریری لگ رہی تھی اور جہاں تک رُتبہ اس آواز کا تعاقب کرتی پہنچی تھی وہاں اک دیوار تھی جس کی شیلف میں بکس پڑیں تھیں۔
”یہ کیا یہاں تو دیوار ہے۔“
”مطلب یہاں کوئی انسان نہیں بلکہ یہ آواز کسی جن بھوت کی ہے؟“
”پلیز اللّہ جی مجھے بچا لیں مجھے بھوتوں سے بہت ڈر لگتا ہے۔“
”آپ کو تو سب پتا ہے۔“ خوفزدہ ہوتی رُتبہ فورًا وہاں سے واپسی کے لئے بھاگی اور محسم کے کمرے تک پہنچ کر ہی دم لیا۔
جہاں اسے اک ملازم پہلے سے محسم کا ناشتہ لےکر کھڑا دکھائی دیا۔
”ارے رے ے ے بی بی جی دھیان سے, کہیں گر مت جائیے گا۔“رُتبہ کے زور سے ٹکرانے پر ملازم ہڑبڑا کر بولا۔
”کیا ہوا بی بی جی آپ اتنی خوف زدہ کیوں دکھائی دے رہی ہیں؟“ملازم نے رُتبہ کی پھولی سانس اور بکھرے بالوں دیکھ کر سوال کیا۔
”ک ک کچھ نہیں, وہ بس پاؤں پھسل گیا تھا اس لئے گھبرا گئی تھی۔“رُتبہ نے فورًا اپنے بال درست کرکے حجاب کی صورت اپنا سکارف اوڑھتے ہوئے کہا۔
”ویسے میں کچن ڈھونڈ رہی تھی کہاں ہے کچن؟اور یہ کیا لائے ہو آپ کھانے میں؟“
”بی بی جی کچن یہ ادھر بائیں طرف کی سیڑھیاں اتر کے آتا ہے اور یہ آلو کے پراٹھے ہیں چھوٹے مرزا صاحب کے لئے۔“
”واٹ؟“
”دماغ تو ٹھیک ہے آپ کا؟مریض کو پراٹھے کون کھلاتا ہے؟وہ بھی آلو والے۔“
”بی بی جی مجھے کیوں ڈانٹ رہی ہیں اس میں مجھ غریب کا کیا قصور ہے؟“
”دراصل ہمارے چھوٹے مرزا صاحب آلو والے پراٹھے بہت پسند ہیں۔ اور وہ اکثر آلو کے پراٹھوں کا ناشتہ ہی پسند کرتے ہیں اس لئے میں ان کے لئے یہی بنا لایا۔“
”اچھا تو کھانا بھی آپ بناتے ہیں۔“رُتبہ نے پوچھا۔
”جی بی بی جی میں ہی کھانا بناتا ہوں دراصل میں کھانساماں ہوں حویلی کا۔“
”اچھا!!
”چلیں ذرا مجھے کچن دکھا دیں اور یہ آلو کے پراٹھے بھی واپس لے چلیں کچن میں۔“
”آج سے آپ کے صاحب کا پرہیزی کھانا میں بناؤں گی۔ اور آپ بھی مجھ سے سیکھ لیں۔ تاکہ اگر میں نہ بھی آ سکوں تو آپ میری غیر موجودگی میں چھوٹے مرزا صاحب کو پرہیزی کھانا بنا کر دے سکیں۔“
”اور جب تک وہ مکمل طور پر صحت یاب نہیں ہوتے ان کو آلو کے پراٹھوں کی شکل بھی نہیں دکھانی بس پرہیزی کھانا ہی دینا ہے۔“
”ٹھیک ہے؟“
”ٹھیک ہے بی بی جی۔“ رُتبہ اور خانساماں باتیں کرتے کرتے کچن میں پہنچ گئے ۔جہاں
رتبہ خود دلیہ نکلوا کر صاف کرنے لگی اور ملازم کو دودھ چولہے پر چڑھانے کے لئے بول دیا۔
منٹوں میں دلیہ بن گیا تو رُتبہ دلیہ لے کر محسم کے کمرے میں چلی آئی۔
خانساماں کے راستہ سمجھانے پر رُتبہ کو کچن سے محسم کے کمرے تک کا راستہ اچھی طرح سمجھ آگیا تھا۔
ورنہ وہ تو اس پراسرار سی حویلی کی بھول بھلیاں سے خوفزدہ سی ہوگئی تھی۔
کمرے کے باہر پہنچ کر رُتبہ دوبارہ ہلکی سی دستک دیتی اندر داخل ہوئی تو محسم ملازم کے سہارے واش روم سے فریش ہو کر نکل رہا تھا۔
”یہ لیجئے آپ کا ناشتہ تیار ہے۔“ رُتبہ نے ایسے چہک کر کہا جیسے کوئی بڑا معرکہ سر کرکے آئی ہو۔
”جی بہت شکریہ۔“محسم مسکراتا ہوا ناشتہ کرنے بیٹھا تو دلیہ دیکھ کر اس کا موڈ اور دل دونوں خراب ہوگئے۔ کیونکہ وہ ہمیشہ سے چٹ پٹا ناشتہ کرنے کا عادی تھا۔
پر یہاں وہ رُتبہ کا دل بلکل نہیں توڑنا چاہتا تھا۔
پر اس نے یہ بات رُتبہ پر بلکل ظاہر نہیں دی۔
اور چپ چاپ منہ پر مصنوعی مسکراہٹ سجاتا دلیہ پیالی میں ڈالنے لگا۔
محسم نے جیسے ہی دلیہ کا پہلا چمچ منہ میں ڈالا تو اس کے منہ کا ذائقہ بری طرح خراب ہوگیا کیونکہ پھنے خان بننے والی رُتبہ صاحبہ جلدی میں دلیے میں چینی ڈالنا بھول گئیں تھی اور پھیکا دلیہ لے کر ہی محسم کو کھلانے پہنچ گئیں تھی۔
”کیسا لگا دلیہ آپ کو۔“ رتبہ چہکتے ہوئے ایسے پوچھ رہی تھی جیسے کوئی بریانی بنا کر لائی ہو۔
”دوائی بنا کر لے آئیں ہیں اور پوچھتی ہیں کیسا لگا۔“محسم یہ بات دل میں ہی کہہ کہ رہ گیا۔کیونکہ وہ رُتبہ کو چہکتے ہوئے دیکھ کر خود بھی خوش تھا۔
”جی بہت اچھا بلکہ یہ کہنا زیادہ ٹھیک ہوگا کہ آپ کو تو شیف ہونا چاہیے تھا کیونکہ جتنا اچھا کھانا آپ بناتی ہیں, اتنا تو کوئی شیف ہی بنا سکتا ہے۔“محسم دل پر پتھر رکھ کہ رُتبہ کی تعریف کر رہا تھا جس پر رُتبہ پھولے نہیں سما رہی تھی۔
”واقعی؟“
چلیں پھر تو میں روز آپ کے لئے ایسا ہی دلیہ بناؤں گی جب تک آپ مکمل صحت یاب نہیں ہوجاتے۔“رُتبہ کی بات سن کے محسم کو گلے کو ایسا دلیہ لگا کہ پھر دیر تک اس کی کھانسی نہیں رکی۔
”کیا ہوا آپ کو؟ آپ ٹھیک تو ہیں نہ؟“رتبہ نے گھبرا کر پوچھا۔
جی جی میں بلکل ٹھیک بس ذرا گلے کو لگ گیا تھا دلیہ جلدی میں کھاتے ہوئے۔
”دراصل آپ کے ہاتھ میں لذت ہی اتنی ہے کہ میں خود پر کنٹرول ہی نہیں نہیں کر پایا اور جلدی میں کھاؤں گا تو ایسا تو ہوگا ہی۔“ محسم نے اپنی خفت مٹانے کے لئے اور کچھ رُتبہ کی خوشی کے لئے مزید جھوٹ بولا۔
”پھر تو یہ طے ہوگیا کہ اگلے دس دن تک آپ کے لئے یہی دلیہ بنے گا۔“رتبہ نے پرجوش انداز میں کہا تو محسم کو اک بار پھر ایسی کھانسی شروع ہوئی کہ دلیہ چھوڑ کر بیڈ پر جا کر بیٹھنے تک رکی نہیں۔
”ارے آپ کو تو پھر کھانسی آنے لگی۔“
”میرے خیال سے آپ کے لئے کھانسی کا سیرپ بھی منگوانا پڑے گا۔“رتبہ نے پرسوچ انداز میں کہا تو محسم کو اپنے کھانسنے پر غصہ آنے لگا۔
”ج ج جی؟“ 
”نہیں نہیں مجھے سیرپ کی ضرورت نہیں بس وہ گلے کو دلیہ ہی لگا اور کچھ نہیں۔“محسم کا دل کیا کہ اپنا سر پیٹ لے۔
”کوئی اور بات کریں پلیز ایسے تو مجھے اپنا آپ کچھ زیادہ ہی مریض مریض ٹائپ لگ رہا۔“محسم نے ہچکچاتے ہوئے کہا تو رُتبہ کھلکھلا کر ہنس دی۔
”اوکے سوری میں بھی کچھ زیادہ ہی دادی امّاں بن رہی ہوں۔“
”چلیں چھوڑیں ان باتوں کو ہم کچھ بہت مزے کا کرتے ہیں جسے ے ے….
”آئیڈیا ہم لڈو کھیلتے ہیں مجھے بہت پسند ہے لڈو۔“
”اور آپ کو؟“
”جی میں بھی کھیلتا بچپن میں اچھی لگتی تھی مجھے بھی پر اب لمبے عرصے سے نہیں کھیلی پر اگر آپ کہتیں ہیں تو ضرور کھیل لیتے ہیں۔“رُتبہ کے معصوم سے سوال پر محسم نے مسکرا کر جواب دیا۔
”پھر تو پکا ہوگیا ہم لڈو کھیل رہے ہیں؟“
”جی بلکل پکا ہوگیا۔“محسم نے اس چمکتی آنکھوں میں چور نظر سے دیکھ کر کہا۔
”چلیں پھر منگوائیے لڈو۔“
”جی ابھی منگواتا ہوں۔“کہہ کر محسم مرزا نے انٹر کام پر ملازم کو پانچ منٹ میں لڈو لانے کا کہا تو ملازم پانچ منٹ سے بھی پہلے لڈو لے کر حاضر ہوگیا۔
”چلیں جی آگئی لڈو اب ہو جائیں دو دو ہاتھ؟“رُتبہ نے شرارت بھری نظروں سے محسم مرزا کو دیکھتے ہوئے کہا۔
”جی ضرور۔“محسم رُتبہ کے شرارتی انداز پر مسکراتے ہوئے بس اتنا ہی کہہ پایا۔
*********
”کیا ہوا ماما؟“
”آپ ابھی تک یونہی کھڑیں ہیں گاڑی میں کیوں نہیں بیٹھیں؟“
”ہہہہن کیا ااا میں ں ں وہ ہ ہ….ہاں ہاں بیٹھنے ہی والی تھی بس۔“بشرٰی بیٹے کی آواز پر چونک گئیں۔
”ماما آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی مجھے چلیں گاڑی میں بیٹھیے جلدی ڈاکٹر کے پاس چلیں۔“ متفکر لہجے میں کہتا موسٰی بشرٰی کو گاڑی میں بٹھا کر زن سے گاڑی ہسپتال کی طرف بھگا لے گیا۔
ہسپتال پہنچ کر موسٰی ماں کو ایمرجنسی وارڈ میں لے گیا جہاں ڈاکٹرز نے بتایا کہ کسی صدمے کے باعث بشرٰی کا اچانک خطرناک حد تک بلڈپریشر لو ہوگیا ہے۔
موسٰی یہ سن کر مزید پریشان ہوگیا کہ آخر مال کے باہر ایسا کیا ہوا جو اس کی ماما کی طبیعت چند منٹوں میں بگڑ گئی۔
**********
”یسسس اور یہ گئی آپ کی تیسری گوٹ بھی گھر کے اندر۔“
”میں تو سمجھی تھی کہ جم کر کھیل ہوگا پر آپ تو بہت کچے کھلاڑی نکلے۔“رتبہ نے محسم کا مذاق اڑایا تو جواب میں وہ ہتھیار ڈال دینے کے انداز میں مسکرادیا۔
”سچ پوچھیں تو یہ سب میرے بس کی بات نہیں کبھی کھیلی ہی نہیں لڈو بچپن کے بعد میں نے۔“
”نہیں کھیلی تو اب کھیل رہے ہیں نہ سیکھ لیں۔“رتبہ کے آنکھیں گول گول گھما کر کہنے پر محسم مرزا کا قہقہہ بلند ہوا۔
”جی ضرور محترمہ سیکھائیے۔“محسم نے اس کے شرارتی انداز سے محظوظ ہو کر کہا تو رُتبہ بھی اس کی استانی بن کے لگی اسے لڈو سکھانے
اور دوسری طرف محسم کو لڈو کی سمجھ آئے نہ آئے لیکن رُتبہ کی اوٹ پٹانگ باتوں اور حرکتوں کو وہ بڑی محویت سے دیکھ رہا تھا
”کچھ پلّے پڑا یا میں اکیلی ہی بولے جارہی ہوں تب سے؟“ رتبہ نے جب محسم کو اپنی بونگیوں کو اتنی محبت سے دیکھتے دیکھا تو پوچھ ہی لیا۔
”جی کچھ کچھ سمجھ گیا ہوں اب دوبارہ گیم شروع کریں نہیں تو آپ مجھے دنیا کا سب سے بورنگ انسان بول دیں گی۔“محسم نے تھوڑا شرمندہ ہوتے ہوئے کہا۔
”ارے نہیں نہیں اتنی بھی بدتمیز نہیں ہوں میں,اور جہاں تک بات رہی آپ کے بورنگ ہونے یا خاموش طبع ہونے کی تو رُتبہ تو گونگوں کو بھی بولنے پر لگا لیتی ہے آپ تو پھر اک ٹھیک ٹھاک انسان ہیں۔“
”ویسے اک بات بتائیں آپ تھک تو نہیں گئے نہ صبح سی میری نان سٹاپ باتیں سن کے؟“رُتبہ نے کھسیانی ہنسی ہنس کر پوچھا۔
”آپ سے کس نے کہہ دیا کہ میں تھک گیا بلکہ میں تو پہلے سے کافی فریش فِیل کر رہا ہوں آپ کی کمپنی میں۔“
”ہمممم مطلب ہم اچھے دوست بن گئے اور مجھے پتا بھی نہیں چلا۔“
”جی بلکل محترمہ۔“
محسم اک بار پھر دھیمے سے مسکرایا تو رُتبہ اس کی دلکش مسکان میں ایک پل کے لئے کھو سی گئی, پر اگلے ہی لمحے اپنی نظر اور دل کو ڈپٹ کر واپس اپنی ٹون میں آگئی۔ اور پھر شروع ہوئی لڈو کی اک اور بازی محبت کی بازی میں بدلنے کو۔
***********
پورے تین گھنٹے بعد جب بشرٰی کو ہوش آیا تو موسٰی جو ساتھ ہی کرسی پر بیٹھا تھا فورًا ماں کی جانب لپکا۔
”ماما کیا ہوا تھا آپ کو بتائیں؟ ڈاکٹر نے بولا کسی صدمے کی وجہ سے آپ نیم بے ہوش ہوگئیں تھیں اور بی پی بھی بہت لو تھا۔“موسٰی گھبراہٹ میں اک سانس میں کتنے ہی سوال کر گیا۔
”ک ک کچھ نہیں بیٹا بس چکر سا آگیا تھا۔“بشرٰی نے بیٹے کی بے چینی کو دیکھ کر بات کو سنبھالنے کی اپنی سی کوشش کی۔
»لیکن ماما آپ تو مال کے اندر مجھ سے ہلکے پھلکے موڈ میں باتیں کررہی تھیں اک دم سے چکر کیسے آگیا۔“موسٰی بھی پیشے کا وکیل تھا وہ بھی اپنے مرحوم باپ کی طرح بات کی تہہ تک پہنچے بنا پیچھے نہیں ہٹتا تھا۔
اس بات کا اندازہ آج بشرٰی کو اچھے سے ہورہا تھا۔
”و و وہ بیٹا ایسا کچھ نہیں بس گرمی کی وجہ سے آیا تھا چکر یہ ڈاکٹر بھی نہ کچھ بھی بول دیتے ہیں۔“بشرٰی نے بات کو سنبھالنے کی اپنی سی کوشش کی جس میں وہ کچھ حد تک کامیاب بھی ہوگئیں۔
”آپ کہتیں ہیں تو مان لیتا ہوں چلیں آپ لیٹیں میں آپ کے لئے جوس لے کر آتا ہوں۔“کہتا موسٰی باہر چلا گیا اور اس کے جاتے ہی بشرٰی کو ماضی کی خوفناک یادوں نے گھیر لیا۔
*********
”چلیں جی دن بھی گپ شپ کرتے اور لڈو کھیلتے گزر گیا اور شام کا کھانا بھی ہوگیا اب میں چلتی ہوں کل پھر آؤں گی آپ کو تنگ کرنے۔“رُتبہ شرارت سے اللّہ حافظ کہتی محسم کے کمرے سے نکل آئی اور محسم کو اس کے جانے کے بعد خالی کمرہ دیکھ کر اس کی کمی شدت سے محسوس ہونے لگی۔
رُتبہ گھر آی
ئی تو شام کا کھانا تیار تھا پر وہ حویلی سے لذیز کھانا کھا کر آرہی تھی اس لئے سہولت سے انکار کرتی مغرب کی نماز کے لئے وضو کرنے چل دی۔
