Sahiba by Alaya Rajput NovelR50711 Sahiba by Alaya Rajput Episode 15
No Download Link
185.7K
15
Rate this Novel
Sahiba by Alaya Rajput Episode 01 Sahiba by Alaya Rajput Episode 02 Sahiba by Alaya Rajput Episode 03 Sahiba by Alaya Rajput Episode 04 Sahiba by Alaya Rajput Episode 05 Sahiba by Alaya Rajput Episode 06 Sahiba by Alaya Rajput Episode 07 Sahiba by Alaya Rajput Episode 08,09 Sahiba by Alaya Rajput Episode 10 Sahiba by Alaya Rajput Episode 11 Sahiba by Alaya Rajput Episode 12 Sahiba by Alaya Rajput Episode 13 Sahiba by Alaya Rajput Episode 14 Sahiba by Alaya Rajput Episode 15 (Watching)Sahiba by Alaya Rajput Last Episode
Sahiba by Alaya Rajput Episode 15
میں نے ایسے ایسے کیس ڈالے ہیں اس مرزا کے ہوتے پر کہ کم سے کم سات سال تو چکی پِیسے گا۔عمران نے اسے خوشخبری سنائی۔
اور پولیس کا چھاپہ کب ڈلوا رہا ہے تو یار؟اور اگر اس کے دادا نے اپنے پیسے کے زور پر اسے چھڑوالیا تھا تو… موسٰی کا لہجہ ابھی بھی بے چینی لئے ہوئے تھا۔
اوہ میرے یار تو بھی پیشے کا وکیل ہے تو اتنا بچگانہ سوال کیوں کررہا ہے؟
کل شام کو پولیس جائے گی گرفتار کرنے محسم مرزا کو۔
میں نے زبان دی ہے تجھے کہ کسی بھی حال اس مرزا کے پوتے کو جیل سے نکلنے نہیں دوں گا۔
پھر تو فکر کیوں کرتا ہے یار…
اور ویسے بھی سات سال بہت ہوتے ہیں کسی کو ذہنی اذیت دینے کے لئے۔
ویسے بھی اس کی آدھی جان تو تب ہی نکل جانی جب اس کے اکلوتے لاڈلے پوتے کو پولیس گرفتار کرکے لائے گی۔
باقی کی آدھی پوتے کی جدائی سے چلی جائے گی۔
ہاں میں بھی تو یہی چاہتا ہوں کہ وہ مرزا پل پل مرے۔
تب ہی تو اسے احساس ہوگا کہ کیسے میں نے یتیمی کی زندگی گزاری اور کیسے پل بھر میں اس نے مجھے مسکین بھی بنادیا۔
اب پتا چلے گا اس بڈھے کو کہ اپنوں کے بغیر جینا کیسا ہوتا ہے۔
موسٰی نفرت سے کہتا ہوا باہر کی جانب نکل گیا۔اور اب اسے شدت سے اگلے دن کی شام کا انتظار تھا جب وہ اپنی آنکھوں سے اس ظالم مرزا سہراب کو تڑپتے دیکھتا۔
********
رتبہ اپنے گاؤں سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر بنے جنگل کے بیچ و بیچ بیٹھی اپنی نوے فیصد جلی ہوئی مردہ ماں کو خالی خالی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔جہاں تک وہ جانے کتنی دیر پیدل چلتی اپنے اماں کو لے کر پہنچی تھی۔اس وقت جنگل کے علاوہ اس کا کوئی اور ٹھکانہ بھی نہ تھا۔
وہیں راستے میں ہی اس کی اماں نے اس کی ہاتھوں میں آخری ہچکی بھری تھی۔
اس پل اس کی آنکھوں میں نہ آنسو تھے نہ جنگل کے وحشی جانوروں کا خوف۔ بس تھی تو بدلے کی آگ جو اسے جلا کر راکھ کرنے کے درپے تھے۔
رتبہ مرے مرے قدم اٹھاتی اپنی جگہ سے اٹھ کر اپنے دائیں طرف مٹی کھودنے لگی۔
لگاتار تین گھنٹے ہاتھوں سے مٹی کھود کر اپنی اماں کو اس مٹی کے سپرد کرتے رتبہ کے ہاتھ لرزے تھے, دل کانپتا تھا, پر حقیقت تو یہی تھی کہ مردہ ماں کو چاہ کر بھی رتبہ اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتی تھی۔
میں تمہیں تباہ و برباد کردوں گی درندے ,میں تمہیں نہیں چھوڑوں گی محسم مرزا ,وعدہ ہے میرا اپنے آپ سے جب تک تمہیں برباد نہ کیا چین سے نہیں بیٹھوں گی۔”اپنی اماں کی قبر پے مٹی کی آخری مٹھی ڈالتے ہوئے رتبہ نے آسمان کی جانب منہ کرکے دلسوز چیخ ماری تھی۔
********
“کیا آپ واقعی مجھ سے محبت کرتے ہیں؟”
محسم جو کافی دن بعد اپنے دادا کی طرف سے دیے گئے میدان میں گھڑ سواری کی نیت سے آیا تھا میدان کے باہر کھڑی رتبہ کو دیکھ کر وہیں رک گیا۔تبھی رتبہ نے چھوٹتے ہی اس سے سوال کر ڈالا۔
“یہ کیسا سوال ہے؟”محسم نے مسکرا کر جھکی نظروں سے کہا۔
“آپ جواب دیں۔”رتبہ کا لہجہ سپاٹ تھا۔
“جی ہاں بہت محبت کرتا ہوں۔”محسم کی مسکراہٹ ہنوز قائم تھی۔
“تو کیا مجھے اپنے نکاح میں لیں گے؟”رتبہ کے سوال پر محسم گڑبڑا گیا۔
“ج ج جی؟”
“ابھی تو کہہ رہے تھے کہ محبت کرتے ہیں مجھ سے تو پھر اپنانے میں کیسی دقت؟”
“اگر اپنانے کی ہمت نہیں تھی تو محبت کا اظہار کیوں کیا؟”
ایسی کوئی بات نہیں۔
میرا وہ مطلب نہیں تھا۔میں تو یہ کہہ رہا ہوں کہ آپ کے گھر باقاعدہ رشتہ بھیجوں۔
ویسے میرے ممی پاپا کی ڈیڑھ ہوچکی ہے میرے پاس میرے بڑے میرے دادا جی ہی ہیں اور وہ بھی عمرہ کی ادائیگی کے لئے گئیے ہیں ۔میں یہ کہہ رہا تھا کہ وہ لوٹ آئیں پھر ہی بات آگے بڑھے گی۔ محسم کو رتبہ کے لہجے سے پریشانی سی ہونے لگی تھی اسی لئے تفصیل سے بات سمجھانے لگا۔
“میرے آگے پیچھے کوئی نہیں تو کیا اپنائیں گے نہیں مجھے؟”رتبہ نے دو ٹوک لہجہ اپنایا۔
“آپ سے یہ کس نے کہہ دیا کہ نہیں اپناؤں گا۔”
“محبت کی ہے آپ سے دل لگی نہیں, جو بیچ راہ میں چھوڑ دوں۔وہ بھی صرف اتنی سی بات پر کہ آپ کے آگے پیچھے کوئی نہیں۔”
“کہیے کب بارات لاؤں؟”محسم نے محبت سے چُور لہجے میں کہا۔
ابھی!! رتبہ کا لہجہ بلا کی سختی لئے ہوئے تھا۔
“کیا؟”محسم کو رتبہ کی بات سے شدید حیرانی کا جھٹکا لگا۔
اگر آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں تو اپنائیں بھی ابھی!!
ورنہ دوبارہ کبھی میرے راستے میں مت آئیے گا۔رتبہ اپنی بات مکمل کرکے تیزی واپس پلٹنے ہی والی تھی کہ محسم نے دو قدم آگے بڑھ کر رتبہ کا راستہ روک لیا۔
میں تیار ہوں آپ ابھی اپنانے کے لئے بنا کسی سوال کے۔
کیونکہ محبت میں سوال جواب اچھے نہیں لگتے۔محبت میں تو بس اعتبار اچھا لگتا ہے اندھا اعتبار,اور وہ میں آپ پر کرتا ہوں اندھا اعتبار۔
چلیے میرے ساتھ میری حویلی میں ابھی قاضی کا بندوبست کرتا ہوں۔کہتا ہوا محسم رتبہ کو اپنے ساتھ حویلی لے آیا, جہاں اس نے رتبہ کو اپنی ماما کا شادی کا لال جوڑا پہننے کو دیا۔اور خود قاضی کو لینے چل دیا۔
*********
“ہاں عمران کیا رپورٹ ہے؟” موسٰی نے عمران کو کال کرکے پوچھا۔
بس یار پولیس کسی بھی لمحے مرزا سہراب کو پوتے کو اریسٹ نکلنے ہی والی ہے۔عمران نے بتایا۔
ہاں اک بات اور, اس بات کا خیال رکھنا کہ کچھ دیر میں ہی مرزا سہراب کی واپسی ہورہی ہے سعودی عرب سے, کوشش کرنا کہ اس گرفتاری کا عمل مرزا سہراب کی آنکھوں کے سامنے ہو۔ تاکہ میرے اندر لگی آگ کے شعلوں میں کچھ کمی ہو۔موسٰی نے اپنی سلگتی آنکھوں سے گرتے گرم آنسوؤں کو بےدردی سے صاف کرتے ہوئے کہا۔
فکر نہ کر میرے یار یہ سارا ڈرامہ تیری آنکھوں کے سامنے ہوگا۔
بس پانچ منٹ میں پہنچو تم بھی میرے پاس, چلیں پھر پولیس کے ساتھ مرزا سہراب کی بربادی کا سامان کرنے۔عمران کے اپنی بات مکمل کرکے کال منقطع کردی۔
اور دوسری طرف بدلے کی آگ میں جلتے موسٰی کے دل کو عجیب سی ٹھنڈک ملی۔
*********
وہ کم سخن ——– وہ کم ادا
وہ بے وفا ——— اچھا لگا !
جب بھی ملا ——- روٹھا ھوا
جب بھی ملا ——- اچھا لگا !
وہ ظلم میں ——- مائل بہت
وہ جبر کا ——— قائل بہت
اُس کا ستم ——- ھر اک ستم
مجھ کو سدا —— اچھا لگا !
تم پیار کے ——- قابل نہیں
تم پیار کے ——- لائق نہیں
اُس نے کہا ——- ھم سے کہا
ھم نے سنا ——- اچھا لگا ….
رتبہ لال جوڑے میں گھونگھٹ نکالے محسم کے ساتھ بیٹھی تھی۔
جہاں قاضی صاحب اور محسم کے چند دوست نکاح کی ادائیگی کے بعد مبارک دیتے ہوئے واپس جا چکے تھے۔ ان چند مہمانوں کے جانے کے بعد ڈرائنگ روم میں رتبہ اور محسم اب اکیلے بیٹھے تھے۔
رتبہ اب محسم کی بیوی تھی اور شوہر کے حق سے وہ رتبہ کا گھونگھٹ اٹھا کر اس کا چہرہ دیکھ سکتا تھا, پر محبت اس قدر پاکیزہ بھی ہوتی ہے کہ انسان کی محبت اس کی محرم بن کے بس دو قدم کے فاصلے پر ہو اور نگاہیں پھر بھی اٹھیں تو بس پاؤں تک…
محسم کی محبت بھی کچھ ایسی ہی پاکیزہ تھی۔
کتنے ہی پل یونہی خاموشی کی نظر ہوئے تھے جب محسم نے ہمت کرکے بات کا آغاز کیا۔
“کیسا لگ رہا ہے آپ کو میری شریک حیات بن کر۔”نظریں ہنوز زمین کی طرف تھیں۔
بہت خوش ہوں تمہاری بیوی بن کر ,اور اس سے زیادہ خوشی تب ہوگی جب تمہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر مرتا دیکھوں گی۔
رتبہ جو کافی دیر سے گھونگھٹ کی آڑھ میں لب سئیے بیٹھی تھی جب بولی تو محسم کو بولنے کے قابل ہی نہ چھوڑا۔
“ک ک کیا؟ “
“کیا بول رہی ہیں آپ؟”
“وہی جو حقیقت ہے۔” اس سے پہلے کہ رتبہ کچھ بولتی گاؤں کی مقامی پولیس نے چھاپہ مار کر محسن کو ہتھکڑیاں میں جکڑ لیا۔
یہ سب کیا کررہے ہیں آپ لوگ؟میرا جرم کیا ہے؟ کوئی بتائے گا…
محسم ہکا بکا کبھی پولیس اور کبھی رتبہ کی جانب دیکھ رہا تھا۔
“محسم مرزا آپ کےخلاف مس رتبہ نے رپورٹ درج کروائی ہے کہ آپ نے نہ صرف ان کی بہن کو زیادتی کا نشانہ بنا کر مار ڈالا بلکہ ان جو بھی قتل کی دھمکی دے زبردستی اپنے نکاح میں لیا ہے۔” اس سے پہلے کہ محسن مزید کوئی سوال کرتا انسپکٹر نے ساری بات خود ہی تفصیل سے بتادی۔
“اس کے علاوہ بھی شہر کی پولیس سے ہمیں
اطلاع ملی ہے کہ آپ نے بہت سی لڑکیوں کو زیادتی کا نشانہ بنا کر موت کے گھاٹ اتارا ہے۔”انسپیکٹر نے مزید تفصیل بتائی۔
“یہ سب آپ کیا کہہ رہے ہیں مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا۔”
“ارے واہ محسم مرزا الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے… “رتبہ جو کافی دیر سے چپ گھونگھٹ لئے بیٹھی تھی پک. بھر چہرے پر لیا گھونگھٹ اتار کر پھینکتی آگے بڑھ کے محسن کا گریبان پکڑ کے بولی۔
میری معصوم بہن کو اپنی درندگی کا شکار بنا کر اپنا گناہ چھپانے کے لئے میرے پورے خاندان کو زندہ جلانے والا پوچھ رہا کہ میرا جرم کیا ہے۔
“بتاؤ محسم مرزا کیا بگاڑا تھا میری کمسن بہن نے تمہارا جو اسے بار بار تم اپنی درندگی کا نشانہ بناتے رہے, بتاؤ کیا بگاڑا تھا میرے غریب خاندان نے تمہارا جو انہیں زندہ جلا کر مار کے گھاٹ اتار دیا تم نے۔”
تمہیں کیا لگا تھا کہ تم اپنے گناہ کو چھپانے کے لئے معصوموں کی جان کے لو گے تو بچ جاؤگے؟
“نہیں محسم مرزا نہیں!!
“سیاہ راتوں میں کئے گئے سیاہ کرتوت کبھی کبھی چہرے پر سیاہ داغ بن کر ایسے چمٹتے ہیں کہ تم جیسے چاہ کر بھی انہیں دن کے اجالے میں چھپا نہیں پاتے۔” رتبہ محسم کا گریبان جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر پوچھ رہی تھی اور محسم جسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آخر ماجرا کیا ہے بس بت بنا اپنی نئی نویلی بیوی(محبت) کے الزامات پر سہہ رہا تھا۔
“لے جائیے اس مجرم کو یہاں سے انسپیکٹر صاحب اس سے پہلے کے میں قانون اپنے ہاتھ میں لے کر اس درندے کا یہیں خون کردوں۔”رتبہ نے اپنی خون رنگ آنکھیں محسم کے چہرے ہٹاتے ہوئے کہا۔
تبھی پولیس محسم کو اپنی تحویل میں لیا پولیس وین میں بٹھا کر ساتھ لے گئی۔
اور اس سارے عمل کے دوران محسم کن اکھیوں سے ہرجائی کی جانب دیکھتا رہا یہ بیان سے باہر ہے۔
__________
موسٰی اور عمران شہر سے گاؤں کی طرف نکلے تو ان کے ساتھ ان کا دوست ڈی ایس پی ہاشم بھی تھا۔
عمران موسٰی اور ہاشم اک ہی سکول میں پڑھے تھے۔سکول کے زمانے میں تینوں کی خوب دوستی ہوا کرتی تھی۔
پھر میٹرک کے بعد ہاشم کے بابا کا تبادلہ لاہور سے کراچی ہوگیا۔
تبھی ہاشم اپنے دوستوں سے الگ ہوگیا تھا۔
پر وقت کا کرنا کچھ ایسا ہوا کہ آج اتنے سال بعد پولیس آفیسر بن کر ہاشم پھر سے اپنے دوستوں کے ساتھ نہ صرف لاہور میں تھا بلکہ اپنے دوستوں کے ساتھ مرزا سہراب کو اس کے کئے کی سزا بھی دینے جارہا تھا۔
پلان یہ تھا کہ گاؤں پہنچ کے وہاں کی مقامی پولیس کو ساتھ لے کر محسم کی گرفتاری کو عمل میں لایا جائے گا۔اور اس سلسلے میں ہاشم پہلے ہی گاؤں کی پولیس سے رابطے میں تھا۔
پر عین وقت پر گاؤں پہنچ کر انہیں پتا چلا کہ محسم کے خلاف اس کی بیوی نے بھی رپورٹ درج کروا رکھی ہے۔
موسٰی کو یہ سب سن کر مزید خوشی ہوئی کیونکہ اب محسم کے خلاف مزید ثبوت اکٹھے کرکے اسے لمبی سے لمبی سزا دلوا کر مرزا سہراب کو زیادہ سے زیادہ ایذا پہنچائی جاسکتی تھی۔
گاؤں کی پولیس کو ساتھ لے کر ہاشم’ عمران اور موسٰی جونہی حویلی پہنچے تو سامنے کا منظر موسٰی کے پیروں تلے زمین سے کھسکانے کے لئے کافی تھا۔
سامنے موسٰی کی پہلی محبت اس کے دشمن کے پوتے کی بیوی کے روپ میں کھڑی بین کررہی تھی۔
اپنی محبت کا کسی اور کا ہونے کا اور اپنے باقی خاندان کو کھونے کا زخم اتنا گہرا تھا کہ سامنے سے آتے مرزا سہراب کو دل پر ہاتھ رکھ کر زمین پر گرتا دیکھ کر بھی اسے وہ سکون میسر نہ آیا جس کی تلاش میں اس نے اپنے دوست کے لاکھ سمجھانے کے باوجود یہ انتہائی قدم اٹھایا تھا۔
********
پوتے کے لئے ڈھیر سارے تحائف لئے مرزا سہراب ائیر پورٹ پر پہنچے تھے۔
ائیر پورٹ پہنچ کر ان کا ارادہ محسم کو کال کرکے ائیر پورٹ بلانے کاتھا۔
جسے کچھ سوچ کر ترک کرتے مرزا سہراب خود ہی گاؤں کے لئے ٹیکسی لے کر نکل پڑے۔
ارادہ تو پوتے کو سرپرائز دینے کا تھا پر وقت نے ان کو ایسا سرپرائز دیا کہ ہتھکڑیوں میں جکڑے پوتے کو دیکھ کر مرزا سہراب دل میں اٹھنے والی شدید تکلیف کے باعث وہیں زمین پر بیٹھتے چلے گئے۔
*********
اپنی جانب سے ظالموں کو کیفرکردار تک پہنچا کر رتبہ خود کو ہلکا محسوس کرنا چاہ رہی تھی,پر وہ اس بات کو سمجھنے سے قاصر تھی کہ محسم مرزا کو سزا دلوا کہ بھی اسے اب تک سکون میسر کیوں نہیں آیا۔
حالانکہ محسم مرزا کی بیوی ہونے کے ناتے رتبہ کا اب پوری حویلی پر نہ صرف راج تھا بلکہ اب تو حویلی کے درخت سے ٹوٹا اک پتہ بھی رتبہ کی مرضی کے بغیر نہیں ہلایا جاسکتا تھا۔
مرزا سہراب لمبا عرصہ ہسپتال میں رہنے کے بعد گھر تو آگئے تھے مگر دل اور فالج کے شدید اٹیک کے باعث وہ اب چلنے پھرنے اور بولنے سے قاصر تھے۔
اسی لئے اب وہ کسی شو پیس کی مانند حویلی کے اک کونے میں پڑے رہتے تھے۔جنہیں ملازم رتبہ کی اجازت سے دن میں دو بار پرہیزی کھانا کھلا آتے تھے۔
حویلی میں رتبہ کی حکومت کو تین سال کا عرصہ بیت چکا تھا۔جس میں ہر گزرتے پل نے رتبہ کو مزید بے چین ہی کیا تھا۔
وہ جتنا بھی گاؤں کے لوگوں کو انصاف اور سہولیات دیتی بے چینی میں بھی اتنا ہی اضافہ ہوتا جاتا۔
رتبہ عجیب کشمکش میں مبتلا تھی, کیونکہ وہ اب تک اپنی بے چینی کی وجہ نہیں ڈھونڈ پائی تھی۔
آج بھی رتبہ انہیں سوچوں میں گم چلتے چلتے اسی لائبریری کی جانب آگئی تھی جہاں سے تین سال پہلے کسی کی رونے کی آواز سن کر ڈر کے بھاگی تھی۔
بہت عرصہ ہوا تھا زندگی کی تلخیوں نے رتبہ کو کتابوں سے دور کردیا تھا۔
اور آج اک ساتھ اتنی ساری کتابیں دیکھ کر بے اختیار ہی وہ شیلف میں رکھی اک اسلامی کتاب کی جانب بڑھی۔
جیسے ہی اس نے کتاب اٹھانے کے لئے شیلف پر ہاتھ رکھا تو وہ شیلف دروازے کی صورت کھلتی چلی گئی۔
جسے دیکھ کر پہلے تو رتبہ حیران ہوئی پھر اس دروازے کے آگے بنی سیڑھیاں اترنے لگی۔
رتبہ جیسے جیسے سیڑھیاں اترتی جاتی اندھیرا بھی بڑھتا جارہا تھا
سیڑھیوں کے ختم ہوتے ہی جب اندھیرا ہی اندھیرا ہوا تو رتبہ نے اپنے ہاتھ میں پکڑے اپنے موبائل کی ٹارچ آن کی اور دائیں جانب جہاں سے کسی زنجیر کے ہلنے کی ہلکی ہلکی آوازیں آرہی تھیں اس طرف چل پڑی۔
چند قدم دائیں جانب چلنے کے بعد گرد سے اٹی کال کوٹھڑی میں اوندھے منہ پڑا اک نیم بے ہوش وجود دیکھ کر رتبہ کے اوسان خطا ہوگئے۔
رتبہ بجلی کی سی تیزی سے آگے بڑھی اور اس میں. بے ہوش وجود کو ان زنگ آلود زنجیروں سے آزاد کرنے لگی۔
کافی دیر کی محنت کے بعد جب رتبہ نے وہ زنجیریں کھول لیں تو اس نیم بے ہوش وجود کو کندھے پر ڈالے بمشکل اپنے کمرے تک آئی جو کبھی محسم کا ہوا کرتا تھا, اب وہی کمرہ رتبہ کے استعمال میں تھا۔
رتبہ نے اس وجود کو اپنے بیڈ پر لٹایا اور خود تیزی سے سائیڈ ٹیبل سے پانی کے جگ سے گلاس میں پانی انڈیل کر اس انسان کو پلانے کے لئے اس کے پاس بیٹھ گئی۔
رتبہ نے اس کے چہرے سے گرد سے اٹے بال ہٹا کر دیکھا تو وہ اک عورت تھی ,جس کی شبیہ کافی حد تک محسم سے ملتی تھی۔پر شاید اتنا عرصہ قید میں رہنے کی وجہ سے اس کی اصل خوبصورتی کہیں ماند پڑگئی تھی ۔
کون ہیں آپ ؟ اور اس کال کوٹھری میں کیا کررہی تھیں؟
جیسے ہی اس عورت کو ہوش آیا رتبہ نے پوچھا۔
مار ڈالا ,اس بے گناہ کو ظالموں نے مار ڈالا۔
وہ عورت چلا کر کہتی رتبہ کے گلے لگ گئی۔
اچھا چپ کریں پلیز, چپ کریں ۔رتبہ اسے چپ کرانے کی کوشش میں ہلکان ہوتی اسے لیٹا کر ڈاکٹر جو کال کرنے لگی۔
*********
ہم نے اُس شخص سے تسخیر کہاں ہونا تھا
رتبہ کیوں دی تم نے مجھے محبت کی سزا؟
سیدھا جان مانگ لیتی, میں کب انکار کرتا۔
اتنا گھٹیا الزام لگا کر مجھے میری ہی نظروں میں گرا کر کیا پالیا تم نے نادان لڑکی؟
جیل کے چھوٹے سے کمرے میں جائے نماز پر بیٹھا محسم دعاء کے لئے ہاتھ اٹھا ئے رتبہ کی بے وفائی یاد کرکے آنسو بہا رہا تھا۔
جب سے محسم جیل میں آیا تھا صوم صلوۃ کا پابند ہوگیا تھا۔
اب سوائے اپنے ربّ کے وہ کسی سے دل کا حال نہیں کہتا تھا۔
اچھا میرے مالک تو بے شک مجھے مجھ سے بھی بہتر جانتا ہے۔اور تو یہ بھی جانتا ہے کہ میں تب بھی کسی عورت کو نظر اٹھا کر نہیں دیکھتا تھا جب میں بگڑے ہوئے لڑکوں کی صحبت میں رہتا تھا۔
تو پھر اب کیسے میں کسی معصوم لڑکی کے ساتھ یہ گھناؤنا کھیل, کھیل سکتا ہوں؟
میں حیران ہوں کہ کیسے میری محبت نے مجھے اتنا گرا ہوا سمجھ لیا؟
محسم جائے نماز پر ہی اللّہ پاک کو اپنے دل کا حال سناتا کب سویا اسے خبر ہی نہ ہوئی۔
********
میں اپنے بابا جانی کی بہت لاڈلی اور اکلوتی بیٹی ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے گاؤں کی وہ واحد لڑکی تھی جو میٹرک کرنے کے بعد شہر تک پڑھنے گئی تھی۔
میں اپنے بابا کی بہت لاڈلی تھی اسی لئے اپنی ہر بات منوا لیا کرتی تھی, اور اس بات کو بھی منوا ہی لیا تھا۔
میں روز چوہدریوں کے گاؤں سے گزر کر شہر اپنے کالج جایا کرتی تھی۔
چوہدری میرے بابا کے پرانے دوست اور آستین کے سانپ تھے۔پر میرے بابا اس بات سے انجان جی خان سے اپنی دوستی نبھانے میں مصروف تھے۔
انہیں دنوں چوہدریوں کے اوباش بیٹے چوہدری دلاور کا میرے لئے رشتہ آیا جسے میں نے رد کر دیا۔
وجہ اس انسان کی غلیظ نگاہیں تھیں جو مجھے اپنے تن پر سوئیوں کی مانند چبھتی ہوئی محسوس ہوئی تھیں۔
اور میں تب ہی سمجھ گئی تھی کہ یہ انسان جیون ساتھی بننے کے قابل نہیں۔
اسی لئے میں نے دو ٹوک لہجے میں بابا کو انکار کر دیا۔اور بابا بھی آسانی سے مان گئے۔
پر چوہدری دلاور کو اپنی کی یہ توہین برداشت نہ ہوئی تبھی اس نے ہمارے پرانے ملازم کو چند نوٹوں کے عوض خرید کر کالج سے واپسی پر مجھے اپنے گاؤں میں اغواء کرواکہ اپنی درندگی کا نشانہ بنا کر کچرا کنڈی پر پھینک دیا
