Sahiba by Alaya Rajput NovelR50711 Sahiba by Alaya Rajput Episode 03
No Download Link
185.7K
15
Rate this Novel
Sahiba by Alaya Rajput Episode 01 Sahiba by Alaya Rajput Episode 02 Sahiba by Alaya Rajput Episode 03 (Watching)Sahiba by Alaya Rajput Episode 04 Sahiba by Alaya Rajput Episode 05 Sahiba by Alaya Rajput Episode 06 Sahiba by Alaya Rajput Episode 07 Sahiba by Alaya Rajput Episode 08,09 Sahiba by Alaya Rajput Episode 10 Sahiba by Alaya Rajput Episode 11 Sahiba by Alaya Rajput Episode 12 Sahiba by Alaya Rajput Episode 13 Sahiba by Alaya Rajput Episode 14 Sahiba by Alaya Rajput Episode 15 Sahiba by Alaya Rajput Last Episode
Sahiba by Alaya Rajput Episode 03
رحیم علی کے چھوٹے بھائی کریم علی کے دو بچے تھے بڑا ایک بیٹا زبیر اور اس سے ایک سال چھوٹی فرح …
رحیم علی اور کریم علی اکٹھے رہتے تھے زبیر دسویں جماعت کا طالبِ علم تھا اور گھر آکر گاؤں والوں سے چھپ کر تھوڑا بہت بہن کو بھی پڑھنا لکھنا سکھاتا تھا .
زبیر کی عمر سولہ سال جبکہ فرح پندرہ سال کی تھی.آج بھی زبیر گھر آیا تو فرح نے آگے بڑھ کے بھائی کا بیگ پکڑ کے اسے جلدی سے ٹھنڈی ٹھار لسّی پلائی …
ارے واہ مزہ آگیا تپتی دھوپ سے آکر ٹھنڈی لسی پینے کا زبیر نے بہن کی ناک چھو کو مسکراتے ہوئے کہا .
اور ایسا ہو سکتا ہے میرا بھائی دھوپ سے آئے اور میں اسے لسّی نہ پلاؤں ؟؟؟ فرح نے لاڈ سے بھائی کے کندھے پر سر رکھ کر کہا تو دونوں ہی مسکرانے لگے چلو چھوٹی آؤ شاباش جب تک میں ذرا نہا لوں تم اپنی کتابیں لے کر کمرے میں بیٹھو .
ٹھیک ہے بھائی کہتی فرح کمرے کی طرف قدم بڑھا ہی رہی تھی کہ زبیر کی آواز پر اس کے بڑھتے قدم رُک گئے .
جی بھائی فرح نے پوچھا, چھوٹی گلی کا دروازہ لگا دو یار پتا ہے نہ اگر اچانک سے کوئی ہمسائی آگئی اور تم کو پڑھتے ہوئے دیکھ لیا تو کیا ہوگا ؟؟؟
جی بھائی ابھی لگاتی ہوں دروازے کی کنڈی کہتی وہ زبان دانتوں تلے دبا کہ دروازہ بند کرنے بھاگی …
_______________
چوہدری دلاوراپنی حویلی کے بڑے سے لان میں اپنے پالتو کتوں کے ساتھ کھیل رہا تھا جب اس کا بڑا بیٹا سگریٹ کا دھواں اڑاتا ہوا آیا بابا کچھ پیسے چاہئیں میں اپنے دوستوں اور محسم کے ساتھ گھومنے جا رہا ہوں مری …
واپسی پر محسم کے گاؤں جاؤں گا …چوہدری شہباز نے ناک سے سگریٹ کا دھواں نکالتے اپنی بات مکمل کی .
ہاں ہاں میرا لاڈلا جتنے مرضی پیسے لے جائے …
میرے کمرے میں جاؤ اور وہاں سے لے جاؤ جتنے بھی پیسے چاہئیں .
ہممم چلیں ٹھیک ہے چلتا ہوں کہتا شہباز اندر کی جانب پیسے لینے چل دیا …
اور ہاں اچھے سے انجوائے کروانا محسم کو آگے تم خود عقلمند ہو میرے شہزادے
پیچھے سے چوہدری دلاور کی آواز نے اس کا پیچھا کیا …جس پر چوہدری شہباز اور چوہدری دلاور کا اک مکروہ قہقہہ بلند ہوا تھا.
_________________
موسٰی گھر لوٹا تو رُتبہ اور بشرٰی کی کچن سے ہنسنے کی آواز سنائی دی تو وہ بھی اسی طرف چل پڑا …ارے کیا ہو رہا ہے لیڈیز اتنی ہنسی کی آوازیں ہمارے بنا؟؟؟
تو آپ بھی ہنس لو کس نے روکا ہے آپ کو رُتبہ کے آنکھیں گھما کر شرارت سے کہنے پر مُوسٰی کا قہقہہ بلند ہوا.
جی جی ہم بھی ہنس لیں گے اگر کھانا مل جائے تو و و و !
کیوں کہ خالی پیٹ ہنسنے کی کچھ خاص ہمت نہیں ہو رہی موُسٰی کی بات پر بشرٰی اور رُتبہ دونوں کی ہنسی نکل گئی .
اچھا جی یہ لیں آنٹی کے ہاتھ کی بنی گرما گرم روٹی ساتھ میں سبزی گوشت کا سالن, اور میں بناتی ہوں آپ کے لئے چائے
ڈائننگ ٹیبل پر کھانا رکھ کر کہتی ہوئی رُتبہ جیسے ہی مُڑی اس کا دوپٹہ ڈائیننگ ٹیبل میں اٹکا اور وہ الٹ گئی اور اس کھلے بال سالن کے باؤل میں جا گرے اور سارے گندے ہوگئے
اُفففف میرے بال گندے ہوگئے آپ بچا نہیں سکتے تھے مجھے الٹنے سے ؟؟؟ غصے سے کہتی رُتبہ اپنا رُخ مُوسٰی کی طرف موڑ کے دونوں ہاتھ کمر پر رکھے لڑاکا لڑکیوں کی طرح بولی 
میں کیوں بچاؤں مجھے تو بہت مزہ آیا فری کی فلم دیکھنے کا جس میں ہیروئن ہیرو کے لئے کھانا رکھ کر جیسے ہی مڑی اس کا دوپٹہ اٹکا اور ہیروئن سمجھی ہیرو نے پکڑا ہے حالانکہ وہ تو ٹیبل میں اٹکا تھا اور پھر ہیروئن کے حسین بال سالن کے ساتھ مزید حسین ہوگئے
آ ہا ااا واہ واہ ہیرو کی شکل تو دیکھو چائنہ کا معمر رانا ہہہہن
رُتبہ نے بھی دل کی بھڑاس نکالی .
اف میرے اللّہ کبھی یہ دونوں ایسے بیٹھے ہوتے جیسے آپس میں بہت سلوک ہو اور کبھی جانی دشمن بن جاتے بشرٰی بڑبڑاتی ہوئیں خود ہی چائے بنانے لگیں اور رُتبہ منہ بسور کر موُسٰی کے آگے لگا کھانا اٹھا کر خود کھانے لگی…
اے اااے لڑکی یہ میرا کھانا ہے تم اپنے لئے اور نکالو 
جی نہیں یہ کھانا میں لائی تھی اس لئے اب میرا ہے آپ نے میرا مذاق اڑایا اب خود ہی لائیں اپنے لئے کھانا
بہت بری ہو تم ویسے مُوسٰی رونی صورت بنا کر خود ہی اپنے لئے کھانے نکالنے لگا
آپ سے کم
کہہ کر رُتبہ مزے سے کھانا کھانے لگی.
مُوسٰی اور رُتبہ کی بچپن کی دوستی ویسے ہی قائم تھی پر اکثر دونوں میں میٹھی میٹھی نوک جھونک چلتی رہتی تھی جو مُوسٰی کے دل میں محبت بن کر چمکنے لگی تھی
پر رُتبہ ابھی اس احساس سے ناواقف تھی وہ مُوسٰی کو بس اک اچھا دوست سمجھتی تھی.
_________________
چوہدری خاندان اور مرزا خاندان کی دوستی برسوں سے چلی آرہی تھی اس لئے ان کے بچوں کے بچوں کی بھی آپس میں دوستی تھی.
چوہدری خاندان کے تین بگڑے لڑکے تھے جبکہ مرزا سہراب کے پاس ان کے خاندان کا اک ہی چشم و چراغ تھا محسم مرزا تھا اور وہ بھی اپنے دادا کی طرح چوہدری خاندان کی چکنی چپڑی باتوں میں آ کر دوستی کے نام پر اک ایسی دلدل میں گھسا چلا جا رہا تھا جس سے بچ کر نکلنا نا ممکن تھا اور مرزا سہراب اور ان کا پوتا انجانے میں اس دلدل میں باخوشی پاؤں رکھ چکے تھے جو انہیں بہت جلد نگلنے والی تھی.
________________
زبیر اور فرح دونوں بہن بھائی پڑھائی ختم کر کے لازمی ہر شام کھیتوں میں گھومنے نکلتے تھے پر آج زبیر نے جانے سے اس لئے انکار کر دیا تھا کیوں کے اس کے امتحان نزدیک تھے اور وہ گھر پر رہ کر صرف پڑھائی کرنا چاہتا تھا پر اِدھر فرح کو گرمیوں کی اتنی لمبی دوپہر کے بعد گھر میں بیٹھنا دنیا کا سب سے بورنگ کام لگ رہا تھا
اسی لئے شرارتی دل کے ہاتھوں مجبور ہو کہ وہ اکیلی ہی کھیتوں میں گھومنے چلی آئی .
کھیتوں میں بہت سے مزدور کام کررہے تھے جس میں اس کے بابا اور تایا بھی تھے وہ سب کو اتنی محنت سے کام کرتا دیکھ کہ اس سوچ میں تھی کہ غریبوں کو کتنی محنت کرنی پڑتی ہے تب جا کہ دو روٹی ملتی ہے کھانے کو پھر چاہے وہ روکھی سوکھی ہی کیوں نہ ہو غریب انسان صبر شکر کر کے کھا لیتا ہے اور امیروں کو بنا بنایا بھنا گوشت ملتا ہے اور اس کو بھی اسی صورت میں کھاتے ہیں اگر پسند آئے …نہیں تو بہت آرام سے اللّہ کے دیے رزق کو کوڑے دان کی نظر کر دیتے ہیں بنا یہ سوچے بہت سے لوگ دنیا میں ان کے جیسا کھانا صرف زندگی میں اک بار کھانے کو ترستے ہیں اور امیر ہر روز ویسا کھانا کوڑے دان میں تو ڈال دیتا ہے پر کسی غریب کو دیتے دل ہلتا ہے
انہیں سوچوں مین گم فرح کی نظر جب ٹیوب ویل پر پڑی تو اس کی دماغ ساری منفی سوچوں کی جگہ خوشی نے لے لی کیونکہ اسے ہمیشہ سے ٹیوب ویل کے پانی سے کھیلنا اچھا لگتا تھا اور اب وہ پانی میں گھسی اپنے چہرہ پر بچوں کی طرح پانی کے چھینٹے مار رہی تھی جس سے اس کے سارے کپڑے بھی بھیگتے جارہے تھے پر اسے پرواہ ہی کہاں تھی وہ تو بس اپنی مستیوں میں گم تھی .
اس کے ساتھ زبیر ہوتا تو ہمیشہ اسے پانی میں گھسنے سے روک لیتا تھا کیونکہ وہ تھوڑا سمجھدار تھا .
پر آج تو زبیر بھی نہیں تھا جو اسے روکتا اسی لئے وہ خوب مستیاں کررہی تھی خود پر پانی ڈال ڈال کر …لا ابالی تھی فرح اسے کہاں پتا تھا ہر کوئی باپ اور بھائی کی نظر سے نہیں دیکھتا بلکہ کچھ نظریں اتنی غلیظ ہوتیں ہیں کہ پل بھر میں اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں معصوموں کو اک خوفناک اثدھے کی مانند
_______________
اچھا سنیں …مُوسٰی کتابوں میں سر دیے بیٹھا تھا جب رُتبہ اس کے اور اپنے لئے چائے لے کر اس کے کمرے میں آئی
جی سنائیں مُوسٰی نے بھی اسی کے انداز میں کہا تو وہ تپ گئی ….
کیا ہے آپ سیدھا سیدھا جواب نہیں دے سکتے میری نقل کرنا ضروری ہوتا ہے کیا ہر بار
ارے ارے ارے ے ے ے بریک پر پاؤں رکھو بی بی میں نے کوئی نقل نہیں اتاری عام سا جواب دیا کوئی تمہاری نقل نہیں اتاری اور تم ہاتھ پاؤں منہ پتا نہیں کیا کیا دھو کہ میرے پیچھے پڑ گئی …
اچھا آپ نے نقل نہیں اتاری مان لیا پر اب آپ نے مجھے بی بی کیوں بولا اب وہ نئی لڑائی نکال کے بیٹھ گئی بی بی تو بوڑھی عورتوں کو بولتے ہیں نہ اور میں کیا آپکو بوڑھی عورت دکھائی دیتی ہوں آپ کو ؟؟؟
پھر سے آئی مُوسٰی کی شامت 
اوہ ہیلو مِس رُتبہ ہر بات پر لڑائی اپنا فرض سمجھ کہ مت کیا کرو اور جہاں تک بات رہی بی بی لفظ کی تو وہ عزت کے لئے استعمال ہوتا نہ کے بوڑھی عورت کے لئے 
اب بولو کیا کہنے آئی تھی یا صرف لڑنے آئی ہو ؟؟؟ مُوسٰی نے جل کر پوچھا کیوں کہ وہ اپنی پڑھائی کے وقت کسی بھی بحث میں وقت ضائع نہیں کرتا تھا پڑھائی کے وقت بس پڑھائی ہی کرتا تھا 
اچھا ٹھیک ہے ٹھیک ہے, زیادہ لیکچر دینے کی ضرورت نہیں میں تو بس یہ چائے لائی تھی آپ کے لئے اور پوچھنے والی تھی کہ جب آپ وکیل بن جاؤ گے تو سب سے پہلا کیس کس کا لڑو گے ؟؟؟ رُتبہ نے پوچھا.
تمہارا …
ہاں تمہارے دل سے کیس لڑوں گا اور جیت کے تمہیں پا لوں گا
…مُوسٰی تمہارا بول کر باقی بات اپنے دل میں کہہ گیا کیونکہ ابھی اظہار کرنے کا مناسب وقت نہیں تھا دونوں ہی پڑھ رہے تھے مُوسٰی کو وکیل بننا تھا اور ویسے بھی مُوسٰی کو پتا تھا کہ ان کا رشتہ آسانی سے ہو جائے گا اس کی مما بُشرٰی اس سے وعدہ کر چکی تھیں کہ رُتبہ کی پڑھائی ختم ہوتے ہی وہ اپنے کزن رحیم علی سے اس کا ہاتھ مانگ لیں گی اور رحیم علی کبھی انکار بھی نہیں کریں گے.
کیا ا ا ا تمہارا بول کے آپ کس دنیا میں کھو گئے آنکھیں بند کئے نشئیوں کی طرح جھومتے جا رہے ہیں
پھر کہتے تم ہر بات پے لڑتی ہو کیوں نہ لڑوں مجھے اک معصوم سی لڑکی کو کوئی مجرم سمجھ رکھا ہے جو میرا کیس لڑیں گے آپ سے تو بات کرنا ہی فضول ہے جارہی ہوں میں اپنے کمرے میں آپ سے مغز کھپائی میں میری چائے بھی ٹھنڈی ہوگئی رُتبہ غصے میں پیر پٹختی اپنے کمرے میں چلی گئی
ہاں نہ تم مجرم ہی تو ہو میرے دل کی چوری کرکے انجان بنی رہتی ہو پہلا کیس تو تمہارا ہی لڑوں گا وعدہ رہا اک بار پھر دل میں کہتا مُوسٰی مسکرا دیا
_________________
چوہدری شہباز محسم مرزا کو اس کے گاؤں سے مری لے جانے کے لئے آیا تو محسم مرزا نے اس کی بہت خاطر مدارت کی پھر باتوں باتوں میں دونوں کھیتوں کی طرف نکل آئے دونوں مری میں کس کس دوست کو لے کر جائیں گے اسی بارے میں بات چل رہی تھی جب سامنے ٹیوب ویل پر بچوں کی طرح پانی میں کھیلتی فرح پر چوہدری شہباز کی نظر پڑی تو پلٹنا بھول گئی وجہ دودھ سے سفید گوری رنگت پر کچا پیلا لان کا سوٹ اور وہ بھی سارا بھیگا جس میں سے اس کی کمر صاف دکھائی دے رہی تھی اس پر بد قسمتی سے پڑی چوہدری شہباز کی غلیظ نگاہ آنے والی کسی تباہی کا پتا دے رہی تھی جس سے بے خبر اپنی من مستیوں میں مگن فرح اچھل اچھل کر ٹھنڈے پانی سے کھیل کھیل کر بھیگ رہی تھی .
محسم سے باتیں کرتے چوہدری شہباز کو شیطانی سوجھی تو بولا یار پانی پلادو تبھی محسم مرزا نے اپنے ملازم کو حکم دیا کہ جا کہ پانی لاؤ تبھی چوہدری شہباز بولا یار تم کو تو پتا ہے میں ان ملازموں کے گندے مندے ہاتھوں کا پانی نہیں پیتا ہو سکے تو میرا یار میرے لئے تھوڑی تکلیف کرکے پانی پلادے .
چوہدری شہباز کو پتا تھا کہ کھیتوں میں منرل واٹر ملنے سے رہا اسی لئے اس نے جان بوجھ کر پانی کی فرمائش کی اور محسم بھی دوست کی فرمائش پر پانی لینے حویلی چلا گیا تبھی موقعے کا فائدہ اٹھا کر وہ سیدھا ٹیوب ویل پر فرح کے پاس آیا اور پہلے تو اپنی گندی نظروں کے حصار میں جانے کتنی دیر اس کی کمر کو رکھا پھر پیچھے سے فرح کے کان کے پاس ہو کر بولا بہت حسین ہیں آپ اور شاید اس بات کا اندازہ آپ کو خود بھی نہیں
تبھی فرح نے مردانہ آواز اپنے اتنی قریب سے سن کر گھبرا کر مُڑ کر دیکھا تو کانپ سی گئی اک لمبا چوڑا گھنی مونچھوں والا لگ بھگ 27 سالہ مرد اسے عجیب سی نظروں سے دیکھ رہا تھا جس کا بنا کوئی جواب دیے وہ تیزی سے گھر کی طرف بھاگ گئی …
ارے تتلی اڑ گئی, پر آخر کب تک ,جلد ہی دبوچ لوں گا اسے
چوہدری شہباز کی نظر میں اک بار جو تتلی آ جائے وہ کتنا بھی پھڑ پھڑا لے بچنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اس نے مکروہ سی ہنسی ہنس کر کہا.اتنے میں محسم پانی لے کر آگیا اور وہ پانی پینے لگا پر نظر اس کی اب بھی اسی راہ پر تھی جہاں سے ابھی فرح بھاگ کر گئی تھی.
____________
فرح گھر میں داخل ہوئی تو سانس پھولی ہوئی اور کپڑے بھیگے ہوئے تھے .جسے دیکھ کر زبیر پہلے تو گھبرا گیا پھر اسے ڈانٹنے لگا …فرح منع کیا تھا اکیلے جانے سے کہاں سے بچوں کی طرح بھیگ کر ہانپتی ہوئی آ رہی ہو حد ہے فرح بڑی ہوگئی ہو بچوں والی حرکتیں مت کیا کرو آخر کس دن عقل آئے گی تمہیں زبیر نے سر دونوں ہاتھوں پر گرا کر کہا .اسے اپنی جوانی کی دہلیز پر پاؤں رکھتی بہن کا یوں باہر سے بھیگ کر آنا اچھا نہیں لگا تھا اور اس کی چھٹی حِس نے بھی اسے خطرے کا پتا دیا تھا زبیر کی اپنی پگلی سی بہن کی اس حرکت پر نظریں جھک گئیں تھیں اس کے بھیگے کپڑوں سے صاف دکھتی کمر دیکھ کر”” تو کوئی اور اسے باہر کن کن نظروں سے دیکھ رہا ہوگا یہ سوچ کر ہی اس کا دل کانپ سا گیا 
اب اس نے تھوڑی سی سختی کرنے کا سوچا تاکہ اس کی پگلی بہن دنیا کی غلیظ نظروں سے بچ سکے .
اِدھر فرح بچوں کی سی ذہنیت کی مالک تھی پندرہ برس کی ہو کر بھی, اس کے اندر بچوں کی سی نادانیاں بھریں تھیں ابھی وہ خود کو جوان سمجھتی ہی نہیں تھی اسی لئے بچوں کی طرح پورے گاؤں میں اچھلتی پھرتی تھی اور بھائی کی کسی نصیحت پر کان نہیں دھرتی تھی پر آج اس کا دل بھی تھوڑا ڈر سا گیا تھا اس عجیب سے انسان کی عجیب سی بات سن کر پر اک ,دو دن کے بعد وہ پھر سے بھول گئی اور اپنی من مستیوں میں مگن ہوگئی.
________________
چوہدری شہباز نے اپنے ساتھ ارد گرد کے گاؤں کے چوہدریوں کے بگڑے دوست ساتھ لئے اور سب مل کر مری چلے گئے محسم بھی ساتھ تھا .
محسم مرزا بذاتِ خود کوئی بگڑا ہوا انسان نہیں تھا پر ماں باپ کے بچپن سے چلے جانے پر اس کی پرورش کی ذمہ داری اس کے دادا مرزا سہراب پر آگئی تھی اور انہوں اپنے دوست چوہدری شکور کے کہنے پر زیادہ وقت کے لئے محسم کو چوہدریوں کے پاس چھوڑ دیا تاکہ اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ رہ کر وہ خوش رہے پر وہ یہ نہیں جانتے تھے جنتا وقت وہ چوہدری خاندان میں گزارے گا اس کی ذات تباہ ہو کر رہ جائے گی اور وہ نشہ شراب یہ سب کرنے لگے گا چھپ کر”” اب محسم مرزا جوان ہو چکا تھا پر اب بھی اس کا زیادہ وقت چوہدریوں کے گاؤں گزرتا کبھی وہ خود چلا جاتا تو کبھی چوہدری شہباز اس کے پاس پہنچ جاتا .محسم کے پاس نہ تو ماں باپ جیسا پیارا اور خونی رشتہ تھا جو اس کی اچھی تربیت کرتا اور نہ ہی بہن بھائی, ویسے بھی مرزا سہراب نے بیٹے اور بہو کی جوانی کی موت کا ایسا دکھ دل پر لیا تھا کہ خود کو صرف گاؤں کے کاموں تک محدود کرلیا اور پوتے کو مکمل طور پر چوہدریوں کے حوالے کردیا اپنا سمجھ کر… پر ان کو یہ نہیں پتہ تھا کہ وہی اپنے ان کی اندر سے جڑیں کاٹ رہے ہیں اور ان کے پوتے کی تباہی کا سامان کر رہے ہیں .
آج بھی سارا دن مری میں گھومنے پھرنے کے بعد چوہدری شہباز محسم مرزا اور باقی دوستوں کو اپنے دادا کے ذاتی گھر جو مری ہی میں واقع تھا وہیں لے آیا اور کھانے کے ساتھ ساتھ شراب اور شباب دونوں کا انتظام تو چوہدری شہباز نے پہلے سے ہی کر رکھا تھا اور ساری رات وہ نہ نہ کرتے محسم مرزا کو بھی اپنی ساتھ شراب پلاتا رہا اور محسم نشے میں دھت ہو کر اپنے دادا کے حلال پیسے کو ان لڑکیوں پر پھینکتا رہا جو خاص چوہدری شہباز نے ناچنے کے لئے بلائیں تھیں 
رات کے تین بجے محسم مرزا کب بے سدھ ہوگیا اسے پتا تک نہیں چلا پر فجر کی اذان نے اسے ہلنے پر مجبور کیا اسے نشے میں دھت دکھتے جسم کے ساتھ بھی میٹھی میٹھی مؤذن کی آواز اک عجیب سا سکون دے رہی تھی وہ سکون جو اسے لاکھوں روپے گناہوں کی طرف لٹا کر بھی نہیں ملا تھا نماز پڑھنا تو اسے کبھی کسی نے سکھائی ہی نہ تھی مرزا سہراب نے بھی کبھی مڑ کے یہ نہ پوچھا کہ جس دوست پر وہ اندھا اعتماد کر کے اپنا اکلوتا پوتا ان کے حوالے کر رہے ہیں وہ دنیاوی کے ساتھ ساتھ اسے دینی تعلیم بھی دے رہا ہے یا نہیں ….
اِدھر محسم مرزا کا دھیان بھی کبھی نماز اور اللّہ کی طرف نہیں گیا تھا یا یہ کہنا زیادہ بہتر ہوگا چوہدری خاندان نے اسے کبھی اپنے رب کی طرف دھیان دینے کا موقع ہی نہیں دیا تھا ,انہوں نے تو کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی اس کو بگاڑ کر تباہ کرنے میں …پر کہتے ہیں نہ انسان لاکھ طریقے اپنائے اپنی من مانی کے پر ہوتا وہی ہے جو منظور خدا ہوتا ہے .
اور اللّہ نے کہیں نہ کہیں محسم مرزا کا اس دلدل سے نکلنا لکھ چھوڑا تھا جو وقت آنے پر پورا ہو کر رہنا تھا.
اور بے شک میرا رب جو چاہے ہوتا وہی ہے اور میرا رب جو نہ چاہے اس کے لئے پوری کائنات بھی کوشش کر لے وہ نہیں ہوتا کیونکہ اس میں میرے رب کی چاہت نہیں ہوتی … اور ستّر ماؤں جتنا پیار کرنے والا کہاں اپنے برے سے برے بندے کو بھی اکیلا چھوڑتا ہے کیونکہ وہ عظیم ہے”” بے شک میرا رب عظیم ہے
___________________
مُوسٰی آج گھر میں داخل ہوا تو بُشرٰی بیٹے سے نظر ہٹانا ہی بھول گئیں ان کا لاڈلا گریجوئیشن کوٹ اور گریجوئیشن کیپ میں بہت پیارا لگ رہا تھا انہیں, مُوسٰی کو آگے بڑھ کے گلے لگاتے ان کی آنکھیں بھیگ چکیں کیونکہ آج انہیں اپنے شوہر کی یاد شدت سے آئی تھی کیونکہ وہ بھی وکیل تھے.
آج اگر تمہارے پاپا ہوتے تو کتنا خوش ہوتے بشرٰی نے بیٹے کے کندھے سے لگ کر کہا تو مُوسٰی نے بھی اپنی عظیم ماں کو جس نے سنگل پیرنٹ ہوتے ہوئے اپنے بیٹے اس مقام تک پہنچایا اپنے مضبوط بازؤں میں سمیٹ لیا آج سے آپ کی ہر ذمہ داری میری “آپ کا ہر دکھ میرا “آپ کا ہر آنسو میرا …کیونکہ آج آپ کا بیٹا اپنے پاؤں پر کھڑا ہو گیا ہے اب میری ماں صرف آرام کریں گی اور ان کا بیٹا ان کی خدمت اور بس اب آپ کہیں پڑھانے کے لئے بھی نہیں جائیں گی اب آپ کا بیٹا کمائے گا جسے آپ نے
اس مقام تک پہنچانے کے لئے دن رات کا فرق کئے بنا محنت کی, موسٰی نے ماں کے ماتھے پر عقیدت سے لب رکھ کر کہا
بس بس بس ایموشنل سین بس… وکیل صاحب چلو آئسکریم کھلا کر لاؤ بلکہ خالی آئسکریم ہی کیوں ڈنر کروا کے لاؤ چلو باہر سے…
پھولوں سی مہکتی اور شرارتوں سے چہکتی رُتبہ سامنے کمرے سے نمودار ہو کر پٹ پٹ پٹاخ شروع ہو چکی تھی
توبہ ہے لڑکی کوئی مبارک ہوتی ہے کوئی دعاء کوئی نیک تمنائیں ہوتی ہیں تم کیا بھوکوں کی طرح سر پر چڑھ گئی اپنی فرمائشی لسٹ لے کر چلو نکلو یہاں سے کچھ نہیں کھلانے والا میں 
مبارک کیوں دوں جی …آپ وکیل بنے ہو کوئی ابّا تو نہیں بنے جو کاکے کی مبارک دوں
اور رہی بات دعاء کی تو میں کوئی دادی اماں نہیں جو دعائیں دوں جاؤ کسی ملنگنی سے دعاء لو 
کنجوس سیدھا کہہ دو کے شیخوں والی خصوصیات آپ میں پائی جاتیں ہیں یہ اتنا ڈرامہ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟؟؟
نہیں تو نہ سہی مجھے آپ کے ساتھ جانے کا شوق بھی نہیں ہہہہن جا رہی ہوں اپنے کمرے میں
ارے پاگل اگر اس بیچاری نے کہہ ہی دیا کہ باہر سے کھلا دو تو کھلا دیتے اتنے کنجوس تو نہیں جتنا تنگ اس کو کر رہے تھے بُشرٰی نے بیٹے کو ڈپٹ کر کہا, اور ہاں مبارک کیوں بھئی واقعی تم وکیل بنے ہو جب ابّا بنو گے نہ تب دیں گے ہم تم کو مبارک بشرٰی نے شرارت سے بیٹے کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا …
وکیل بھی آپ کی مہربانیوں سے بنا ہوں مما اب ابّا بھی آپ کی اک نظرِ کرم سے بنوں گا
جائیے نہ رحیم ماموں کے پاس رشتے کی بات کرنے اور پھر دیکھیے گا کیسے یہاں بچوں کی لائن لگتی 
بے شرم ماں کے سامنے کیسی باتیں کر رہے ہو گدھے انہوں نے مُوسٰی کا کان کھینچ کر کہا تو مُوسٰی آئی اوئی کرتا وہاں سے بھاگ نکلا …
اور ہاں اب رُتبہ کو بھی منا لینا روٹھی نہ رہے کہیں انہوں نے جان بچا کے بھاگتے مُوسٰی کو آواز لگائی… اور مُوسٰی اگر ناراض کرنا جانتا تھا تو منانا بھی اسے خوب آتا تھا
رُتبہ منہ پھلائے کتابوں میں سر دیے بیٹھی تھی جب مُوسٰی اس کے پیچھے سے دبے پاؤں آیا اور ابھی بھؤو کر کے ڈرانے ہی والا تھا کہ رُتبہ بول پڑی خبردار جو کسی نے میرے ساتھ فری ہونے کی کوشش کی”” اور میں ان لڑکیوں میں سے نہیں جو بھؤو کرنے سے ڈر جائیں اسی لئے بہتر ہوگا کہ جو انسان میرے پیچھے چھپا ہے وہ چپ چاپ باہر کا راستہ ناپیں آئی سمجھ
مجھے معلوم ہے تم ان لڑکیوں میں سے نہیں جو بھؤو کرنے سے ڈریں کیونکہ تم خود چڑیل ہو 
کیا ااا کہا میں چڑیل ہوں رُتبہ رو دینے کو تھی .
جی بلکل آپ چڑیل ہی نہیں ڈائن بھوتنی اور جانے کیا کیا ہیں محترمہ مُوسٰی آج فُل شرارت کے مُوڈ میں تھا .
نکلیں میرے کمرے سے میں کہہ رہی ہوں نکلیں باہر وہ غصے سے اس کی بازو پکڑ کے اسے باہر نکال آئی اور دروازہ پٹخ کر ابھی واپسی کے لئے مڑی ہی تھی کہ مُوسٰی دروازہ
سے منہ نکال کے بولا منہ جتنی مرضی دیر پھلانا کوئی مسئلہ نہیں پر رات کا کھانا ہم تینوں باہر کھائیں گے اس لئے تیار رہنا نہیں تو …
نہیں تو کیا رُتبہ چٹخ کے بولی …
نہیں تو میں سوتے میں تمہارے بالوں میں ایلفی ڈال دوں گا مُوسٰی اپنی ہنسی روک کر کہتا ہوا چلتا بنا جبکہ مُوسٰی کی بات پے رُتبہ کا منہ کھلے کا کھلا ہی رہ گیا
______________
مری سے واپسی پر محسم مرزا بہت سارے تحفے اپنے دادا مرزا سہراب کے لئے لایا جنہیں دیکھ کر وہ مسکرا دیے ارے بیٹا مجھ بوڑھے کے لئے اتنے تحفے لے آئے ہو میں کیا کروں گا ان کا ؟؟؟
دادا جانی اب ایسی بھی بات نہیں میرے دوستوں کو تو آپ میرے دادا نہیں بلکہ بڑے بھائی لگتے ہیں اتنے تو ہینڈسم ہیں آپ سچی
اب بھی بہت سی حسینائیں آپ پر دل ہار سکتیں ہیں محسم کے شرارت بھرے انداز پر دونوں دادا پوتے کا اک ساتھ قہقہہ بلند ہوا .
بہت شرارتی ہو گیا ہے ہمارا شہزادہ ہاں انہوں نے پیار سے محسم کا کان پکڑ کے کہا””” جی بلکل ہو گیا ہوں شرارتی اپنے بابا کی طرح سب کہتے میرے بابا بھی بہت شرارتی تھے محسم کے پوچھنے پر مرزا سہراب بیٹے کے ذکر پر افسردہ ہوگئے ہاں بہت شرارتی اور پیارا تھا میرا لال بہت پیارا 
اچھا دادا جانی پلیز اب اداس مت ہوں آئیے باغ میں گھوم کے آئیں اور وہاں سے خوب سارے تازہ پھل بھی توڑ کر کھائیں گے
مرزا سہراب کا اپنا پھلوں کا باغ تھا جہاں جانا ان کو ہمیشہ سے بہت اچھا لگتا تھا اس لئے محسم نے بھی ان سے باغ کا ذکر اسی لئے کیا تاکہ ان کی اداسی کم ہو …اور نہ نہ کرتے مرزا سہراب کو وہ اپنے ساتھ کھینچ کھانچ کر باغ میں لے گیا
______________
بشرٰی تیار تھیں اور مُوسٰی بھی… پر رُتبہ کے کمرے کا دروازہ ابھی تک بند تھا اور دونوں ماں بیٹا کب سے بند دروازے کو دیکھ رہے تھے کہ اب کھلے تب کھلے, پر دروازہ کھلنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا تنگ آکر مُوسٰی کو شرارت سُوجھی اور وہ شروع ہوگیا
ایلفی لے آیا ہوں اب بس ڈالنی باقی ہے آگے جو آپ کی مرضی 
یہ کیا بول رہے ہو بُشرٰی کو بیٹے کی دماغی حالت پر شک ہوا
مما چپ کریں نہ پلیز آپ کی لاڈلی کو باہر لا رہا ہوں اس نے ماں کے قریب ہو کر سرگوشی کی.
اچھا ایلفی بھی اچھی والی ہے کم سے کم اس کے بعد ٹِنڈ ہوگی کیونکہ وہ تو نکلے گی نہیں وہ اک بار پھر دروازے کے باہر اونچی آواز میں بولا مگر دروازہ پھر نہ کھلا .
تنگ آکر اس نے آخری حربہ آزمایا ٹھیک ہے مما چلیں ہم دونوں چلتے ہیں مجھے لگتا اس ایلفی کی قسمت میں کسی کے بالوں سے چِپکنا ہی ہے, اتنا کہنے کی دیر تھی کہ جھٹ سے دروازہ کھلا اور رُتبہ منہ پھلائے تیار کھڑی تھی جسے دیکھ کر بُشرٰی اور مُوسٰی دونوں نے ہنسی بمشکل روکی اور باہر کی چل پڑے رُتبہ بھی ان کے پیچھے پیچھے تھی باہر جا کر انہوں نے رکشہ لیا اور اک ریسٹورنٹ کا کہہ کر اس میں بیٹھ گئے وہاں پہنچ کر انہوں کھانا کھایا اور بیچ بیچ میں مُوسٰی رُتبہ کو تنگ کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ کہہ دیتا جس سے وہ مزید چِڑ جاتی اور بُشرٰی دونوں کو ساتھ نوک جھونک کرتا دیکھ کر مسکراتی رہیں…
