Sahiba by Alaya Rajput NovelR50711 Sahiba by Alaya Rajput Episode 13
No Download Link
185.7K
15
Rate this Novel
Sahiba by Alaya Rajput Episode 01 Sahiba by Alaya Rajput Episode 02 Sahiba by Alaya Rajput Episode 03 Sahiba by Alaya Rajput Episode 04 Sahiba by Alaya Rajput Episode 05 Sahiba by Alaya Rajput Episode 06 Sahiba by Alaya Rajput Episode 07 Sahiba by Alaya Rajput Episode 08,09 Sahiba by Alaya Rajput Episode 10 Sahiba by Alaya Rajput Episode 11 Sahiba by Alaya Rajput Episode 12 Sahiba by Alaya Rajput Episode 13 (Watching)Sahiba by Alaya Rajput Episode 14 Sahiba by Alaya Rajput Episode 15 Sahiba by Alaya Rajput Last Episode
Sahiba by Alaya Rajput Episode 13
چوہدری شہباز حویلی کے پچھلے گیٹ کے پاس بیٹھا دھڑا دھڑ شراب پی رہا تھا۔اور اب تک دو بوتلیں ختم بھی ہو چکیں تھیں۔
پر اس کا ہاتھ رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا اور اب وہ تیسرا بوتل کو کھول کر گلاس میں شراب انڈیل رہا تھا۔
تبھی حویلی کا پچھلا گیٹ کھول کر کوئی اندر آیا۔
*********
فرح تیز تیز قدم اٹھاتی حویلی کی پچھلی طرف جانے لگی۔
حویلی کی پچھلا حصہ رات کے اس پہر اور بھی ویرانی کا منظر پیش کررہا تھا۔
فرح ہمت کرکے حویلی کے پچھلے دروازے تک پہنچی جہاں پہلے سے وہی بڑی بڑی مونچھوں والا آدمی جو فرح کو دھمکا کر گیا تھا کھڑا تھا۔
“اے لڑکی اتنی لیٹ کیوں آئی۔”
“اب جلدی دفع ہوجا اندر ورنہ ہڈیاں توڑ دوں گا تیری۔”اس جلاد نما آدمی کے غرانے پر فرح مزید خوفزدہ ہوتی تیزی سے گیٹ کے اندر داخل ہوگئی,جہاں فرح کو ایک اور درندے کا سامنا کرنا تھا۔
**********
چوہدری شہباز نشے میں جھول رہاتھا جب سامنے سے اسے ڈری سہمی فرح اندر آتی دکھائی دی۔
“زہے نصیب!!
“ارے دیکھئیے سامنے کون آیا ہے۔”
“دیکھئیے دیکھئیے۔”چوہدری شہباز نشے میں دھت ہو کر درختوں کو مخاطب کرنے لگا۔
“ارے ملکہ عالیہ آپ اتنی دور کیوں کھڑی ہیں؟”
” آئیے نہ ہمارے پہلو میں آئیے ہم آپ کے حسن کو خراج بخشیں گے۔”
چوہدری شہباز کی بات پر فرح کو اپنے جسم سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی ۔
“ارے ملکہ عالیہ آپ وہاں کیوں کھڑیں ہیں آئیے نہ مجھ نا چیز کے پاس ,ہم کو بھی خدمت کا موقع دیجئے نہ۔”چوہدری شہباز کے الفاظ فرح کی روح تک کو زخمی کر رہے تھے۔
“ن ن نہیں۔” فرح کے منہ بمشکل ایک لفظ نکلا۔
اوہ ہ ہ ملکہ عالیہ ایک تو آپ اتنی لیٹ آئی ہیں اوپر سے یہ فضول کے نکھرے
… چعہدری شہباز لڑکھڑاتا ہوا فرح تک آیا اور میٹھا بولتے بولتے ایک دم سے فرح کے بال اپنی جاندار مٹھے میں پکڑ کے غرایا۔
؟
دو ٹکے کی چھوری میں تیرے باپ کا نوکر ہوں جو تیرا انتظار بھی کروں؟”
“اور تیرے نکھرے بھی اٹھاؤں؟”
بولتا ہوا چوہدری شہباز فرح کو بالوں سے گھسیٹ کر سرونٹ کواٹر میں لے گیا جو وہیں حویلی کے پچھلے حصے میں بنا تھا۔
اور پھر کئی گھنٹے معصوم فرح اس درندے کا عتاب کا شکار بنتی رہی۔
********
موسٰی ماں کو ہوسپیٹل سے ڈسچارج کروا کے واپس ہوٹل میں لے آیا تھا۔
بشرٰی کی بھی طبیعت پہلے سے بہتر تھی۔
پر ایک عجیب سی اداسی تھی جس نے بشرٰی کو آن گھیرا تھا۔
اور اسی بات کو موسٰی کافی دن سے نوٹ بھی کر رہا تھا۔
“ماما اب تو ہماری واپسی میں صرف ایک ہفتہ ہی رہ گیا ہے, کیوں نہ باقی کی زیارات کر لیں۔”
“جو سلسلہ آپ کی طبیعت کی خرابی کے باعث رک گیا تھا میں چاہ رہا ہوں اسے اب دوبارہ شروع کیا جائے۔”
“ویسے بھی خوش نصیب ہے جو اپنے ربّ کے گھر کو اتنی قریب سے دیکھے۔”
“اور ہم ان خوش نصیبوں میں شامل ہیں۔”
“ورنہ کتنے ہی دیوانے ہیں جو اپنے ربّ اور آقا کریم( ص ع و و) کے روضہ مبارک کی زیارت کی خواہش دل میں لئے دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔”
“ہاں بیٹا بات تو تمہاری ٹھیک ہے اب ہمیں باقی کے تمام مقدس مقامات کی زیارت کے لئے نکلنا چاہیے ۔” بشرٰی بھی بیٹے کی بات سے متفق تھیں اسی لئے وقتی طور پر دماغ سے ساری سوچیں جھٹک کر زیارات کے لئے ہوٹل سے موسٰی کے ساتھ نکلیں۔
“ماما۔” موسٰی نے بشرٰی کو مخاطب کیا۔
“جی میرا بچہ۔” بشرٰی نے بھی محبت سے اپنے بیٹے کو دیکھ کر جواب دیا۔
“آپ مجھ پر اعتبار کرتی ہیں نہ؟”موسٰی کا اچانک اس طرح کا سوال کرنا بشرٰی کو پریشانی میں مبتلہ کر گیا۔
“ہاں میری جان خود سے بھی زیادہ اعتبار کرتی ہوں تم پر۔” بشرٰی نے موسٰی سے سر پر محبت سے ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
“تو پھر اپنی پریشانی شئیر کیوں کرتیں مجھ سے؟”موسٰی نے خفگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔
“کس نے کہا تم سے کہ میں پریشان ہوں؟”بشرٰی موسٰی کے سوال پر گھبرا گئیں اور الٹا سوال کر ڈالا۔
“آپ کی آنکھوں نے۔”
“جن میں مسلسل کچھ دنوں سے مجھے نمی دکھائی دے رہی ہے جسے آپ مجھ چھپانے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں۔”
“پر مما میں بھی آپ ہی کا بیٹا ہوں اچھے سے سمجھتا ہوں کہ میری مما پریشان ہیں۔”
“پر پتا نہیں کیوں مجھ سے اپنی پریشانی شئیر کرنے سے گریزاں ہیں۔”
“نہیں بیٹا ایسی کوئی بات نہیں۔”
“میں پچھلے دنوں بیمار رہی اس لئے تم کچھ زیادہ ہی سوچ رہے ہو۔”
“پر ایسا کچھ نہیں۔”
“اب دھیان سے ڈرائیو کرو کہیں مار مت دینا گاڑی کو۔”
بشرٰی کے چہرے کی گھبراہٹ اور بات بدلنے کے انداز نے موسٰی کو مزید تشویش میں مبتلا کر دیا۔
**********
جب سے محسم کو سانپ نے ڈسا تھا تب سے سارے ملازم حویلی میں ہی سرونٹ کواٹر میں رہائش پذیر تھے۔
اور جب تک محسم مکمل ٹھیک نہ ہوجاتا تب تک کسی کو واپس اپنے گھر جانے کی اجازت نہیں تھی۔
رشنا بھی انہیں میں سے ایک سرونٹ کواٹر میں سو رہی تھی جب تہجد کی اذان نے اس کی نیند توڑی, اور وہ نماز کے لئے اٹھ بیٹھی پر جیسے ہی اس نے ٹوٹی کھولی تو پانی ختم تھا اور لائٹ بھی بند تھی۔
اس لئے وہ پمپ بھی نہیں چلا سکتی تھی۔
تبھی اس کے ذہن میں اک خیال آیا کہ کیوں نہ اپنے کوارٹر کے باہر لگے نلکے سے وضو کے لئے پانی بھر لیا جائے۔
پانی بھرنے کے لئے جیسے ہی رشنا نے اپنا دروازہ کھولا تو سامنے محسم مرزا کے دوست چوہدری شہباز کو نشے میں جھومتے ہوئے دائیں طرف واپس حویلی میں جاتے دیکھا اور اس کے پیچھے پیچھے اس کا ملازم شیرو بھی تھا۔
ان کی نظروں سے بچنے کے لئے رشنا جلدی سے دروازے کی اوٹ میں چھپ گئی۔
پھر جب اسے یقین ہوگیا کہ وہ لوگ جاچکے تب باہر نکلی۔
“یہ صاحب لوگ سرونٹ کواٹر کی طرف کیا کرنے آئے تھے؟”
“بڑے لوگوں کو اگر نشہ ہی کرنا ہی ہے تو اپنے کمرے میں بھی تو کر ہی سکتے ہیں۔”
“انہیں چھپ کر یہ سب کرنے کی کیا ضرورت؟”
ابھی رشنا انہیں سوچوں میں گم تھی کہ اسے بائیں جانب بنے آخری سرونٹ کواٹر سے کسی کے رونے کی آواز نے چوکنا کر دیا۔
یہ بائیں طرف بنا آخری کواٹر تو کسی کے استعمال میں بھی نہیں۔”
پھر یہاں سے کس کے رونے کی آواز آرہی؟”
“کون ہے یہاں؟”
انہیں سوچوں میں گم رشنا چھپ کر دروازے کی اوٹ سے بائیں جانب بنے کواٹر کی جانب دیکھنے لگی۔
جہاں مکمل اندھیرا تھا, پر کواٹر کے باہر ایک لائٹ چل رہی تھی۔
اور رشنا کو انتظار اس بات کا تھا کہ کواٹر میں سسکیاں لے کر رونے والا انسان کب باہر نکلے اور وہ اس کی شکل دیکھے۔
پانچ منٹ مسلسل رونے کے بعد کوئی مرے مرے قدم اٹھاتا کواٹر سے باہر نکلا,جسے دیکھ کر رشنا کو پیروں تلے سے زمین کھسکتی ہوئی محسوس ہوئی۔
********
“ارے یار یہ میرا سر اتنا بھاری کیوں ہورہا۔”
محسم کی آنکھ کھلی تو اسے چکر آرہے تھے۔
“چھوٹے مرزا صاحب ناشتہ تیار ہے آپ کہیں تو لے آؤں؟”محسم مرزا چکراتے سر کو پکڑ کے بیٹھا تھا تبھی اس کی دائیں طرف کھڑے ملازم نے پوچھا۔
“تم یہاں کیا کرہے ہو؟”
“اور چوہدری شہباز کہاں ہے ان کو بلاؤ ہم دونوں مل کر ناشتہ کریں گے۔”
“چھوٹے مرزا صاحب چوہدری صاحب تو صبح صبح ہی اپنے گاؤں لوٹ گئے۔”
“ہاں پر جاتے ہوئے یہ پیغام دے گئے کہ ان کو کوئی ضروری کام آگیا, اس لئے جا رہے ہیں اور جلد ہی لوٹیں گے آپ سے ملنے کے لئے تب تک آپ اپنا خیال رکھیے گا۔”
“اور میں تو صبح آٹھ بجے کا آپ کے پاس کھڑا ہوں آپ ہی لیٹ اٹھے ہیں صاحب۔”
“اچھا کیا وقت ہوا ہے؟”
“جی چھوٹے مرزا صاحب اب تو گیارہ بج رہے ہیں۔”محسم کے پوچھنے پر ملازم نے مؤدبانہ انداز میں بتایا۔
“اففف اتنی دیر تک میں کیسے سوتا رہا؟”
“خیر تم جاؤ اور چائے بنا کر لاؤ میرا سر بہت بھاری ہورہا ہے۔”
“اور ابھی ناشتہ کرنے کا میرا کوئی موڈ نہیں بس چائے ہی پیئوں گا۔”
“جی ٹھیک ہے چھوٹے صاحب۔”کہتا ملازم کمرے سے باہر نکل گیا۔
“یہ شہباز بھی عجیب انسان ہے۔”
“پہلے بول رہا تھا کہ جب تک میرا بھائی ٹھیک نہیں ہوتا یہیں رہوں گا۔”
“اور اب چپ چاپ ہی نکل گیا بنا ملے۔”
“اس نے پچھلی بار بھی یہی کیا تھا بنا ملے ہی لوٹ گیا تھا۔”
“اور اب دوسری بار اس نے یہی کیا ہے۔”
“میری سمجھ سے باہر ہے یہ بار بار ایسا کیوں کررہا ہے۔”
“خیر جو بھی ہے اگلی بار پوچھ ہی لوں گا کہ کیوں بنا بتائے جاتا ہے۔”
“فی الحال میں فریش ہو لوں سر بہت بھاری ہو رہا ہے۔”
**********
مکہ سے مدینہ منورہ کا سفر اتنا لمبا تھا کہ راستے میں موسٰی نے تھک کر گاڑی روکی اور جوس لینے اک شاپ میں چلا گیا۔
بشرٰی کافی دیر جب بیٹے کے انتظار میں بیٹھی بیٹھی تھک گئیں تو گاڑی سے باہر نکل آئیں۔
ویسے بھی گاڑی میں اتنی دیر سے بیٹھے بیٹھے بشرٰی تھک سی گئیں تھیں۔
اس لئے تھوڑی چہل قدمی کرنے کی سوچ سے چند قدم چلتی ہوئیں گاڑی سے کچھ آگے نکل آئیں۔
جہاں سامنے سے بے دھیانی میں آتے اک بزرگ سے ان کی ٹکر ہوگئی۔
“ارے آپ کو لگی تو نہیں؟” اس بزرگ نے زمین سے اپنے جوس کے ڈبے اور باقی کی کھانے پینے کی اشیاء اٹھا کر سیدھا ہوتے ہوئے پوچھا۔
تو جیسے ہی بشرٰی اور اس بزرگ کی نظریں ملیں بشرٰی اپنی جگہ ساکت کھڑی رہ گئیں۔
“تم م م م ؟”
اس بے حیا کی بیوی!!
“اس پاک جگہ پر اپنے ناپاک قدم لے کر چلی آئی۔”
“بس مرزا سہراب بس۔”
“کون پاک ہے اور کس کے ہاتھ اک بے گناہ کے خون سے رنگے میں سب جانتی ہوں۔”
“وہ بے غیرت آدمی بے حیا نہیں تھا سمجھی۔”
“وہ میری بیٹی کو بھگا کر لے گیا تھا۔”
ہماری عزت سے کھیلنے کی جرات کی تھی اس نے۔
اور تم کہتی ہو وہ بے گناہ تھا۔
بس کریں مرزا سہراب میرے بے گناہ شوہر پر الزام لگانا۔”
جتنی نفرت آپ نے اپنی معصوم بیٹی اور بے گناہ شوہر سے کی ہے۔
اتنی اگر اس کے اصلی گناہ گار سے کرلیتے تو نہ صرف آج میرا سہاگ زندہ ہوتا, بلکہ آپ کی بیٹی عام انسانوں کی طرح زندگی گزار رہی ہوتی۔”
پر آپ نے اپنی نفرت کی آگ میں اپنی بیٹی کے ساتھ ساتھ میرے سہاگ کو بھی جلا ڈالا۔”
جس کے لئے میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی اور قیامت کے دن بھی آپ میرے جوابدہ ہوں گے۔”
بس بس میرے منہ مت لگو سمجھی۔”
ورنہ تم سے تمہارا آخری سہارا بھی نہ چھن جائے۔”
کہتے مرزا سہراب بشرٰی کو دھکا دیتے آگے بڑھ گئے جسے شاپ سے نکلتت موسٰی نے اچھے سے دیکھ لیا تھا۔
____________
‘فرح تم!
“یہاں کیا کررہی ہو؟”
رشنا نے اپنے کواٹر سے نکل کر فرح کا بازو پیچھے سے پکڑا اور جنجھوڑ کر پوچھا۔
رشنا اس بات سے تو اچھی طرح واقف تھی کہ امیر زادے بہت بگڑے ہوتے۔
کیونکہ اکثر جب بھی محسم مرزا کے بگڑے دوست اور خاص طور پر چوہدری شہباز اسے ملنے آتا تو رشنا کی اماں اسے کبھی ان کے سامنے جانے کی اجازت نہیں دیتی تھی۔
اور وجہ پوچھنے پر ہمیشہ یہی بولتی تھی کہ…
“ان امیر زادوں کا پسندیدہ کھلونا ہوا کرتیں ہیں غریبوں کی لڑکیاں۔اس لئے جتنا بچ سکو بچو بلکہ جب بھی چھوٹے صاحب کے دوست آئیں تو تم کچن میں بھی گھونگھٹ اوڑھ کے رہا کرو۔
کیا پتا ان امیر زادوں کی بری نظر کب کسی کی زندگی برباد کردے۔
“فرح بولو رات کے اس پہر تم یہاں کیا کررہی ہو؟ اور یہ تمہارے بال کیوں بکھرے ہیں؟اور یہ تمہاری گردن پر جگہ جگہ جلے کے نشان کیوں ہیں؟
“بولو کچھ فرح تم بت بنی کیوں کھڑی ہو؟رشنا لگاتار سوال پر سوال کررہی تھی پر فرح ٹس سے مس نہیں ہوئی۔
تنگ آکر رشنا فرح کو بازو سے پکڑ کے اپنے کوارٹر میں لے گئی۔اور اپنے بستر پر بٹھا کر اس کے لبوں سے پانی لگایا جسے فرح ایسے پینے لگی جیسے صدیوں کی پیاسی ہو۔
پانی پلا کر رشنا نے پھر اپنا سوال دہرایا تو فرح اس بار تڑپ کر اپنی سہیلی کے ساتھ جا لگی۔
میں برباد ہوگئی رشنا!! میں برباد ہوگئی۔
رشنا کے گلے لگ کر فرح من و عن سب کچھ بتاتی چلی گئی۔
فرح کی بات سن کر رشنا کو قدموں تلے زمین کھسکتی ہوئی محسوس ہوئی۔
“یہ کیا کہہ رہی تم۔
تم پر تکلیفوں کے پہاڑ ٹوٹ گئے اور تم نے اپنی سکھی کو بتایا تک نہیں۔”رشنا نے اپنے آنسو پونچھ کر محبت بھرا گلہ کیا۔
“کیسے بتاتی تم کو اپنی بربادی کی کہانی اور بتانے سے کیا میری عزت مجھے واپس مل جانی تھی؟یا میں جس کرب میں مبتلا ہوں اس میں کسی کمی کا امکان تھا؟کچھ بھی تو نہیں بدلنا تھا اسی لئے میری ہمت ہی نہ ہوئی تم کو بھی دکھی کرنے کی۔”
اچھا اب تم گھر جاؤ فخر کا وقت ہونے والا ہے اگر تمہارے گھر میں کسی کو پتا چل گیا تو رات کے اس پہر تم گھر سے باہر ہو تو قیامت آجائے گی۔کہتی رشنا فرح کی چادر ٹھیک سے اوڑھاتی اسے حویلی کے پچھلے دروازے سے باہر تک چھوڑ آئی۔اور خود گہری سوچ میں ڈوب گئی کہ اب کیسے اپنی سکھی کو اس دلدل سے نکالے۔
**********
“مما آپ ٹھیک تو ہیں؟”موسٰی چکر کھا کر گرتی بشرٰی کو تھامتے ہوئے بولا۔
پر بشرٰی تب تک بے ہوش ہو چکی تھیں۔اسی لئے کوئی جواب نہیں دے سکیں۔
موسٰی اپنی ماں کی اس حالت کو دیکھ کر بری طرح گھبرا گیا اور بشرٰی کو سہارا دیتا گاڑی میں ڈال کر فوراً ہسپتال کی طرف چلا۔
ہسپتال پہنچ کر اسے ڈاکٹر سے پتا چلا کہ اس کی ماما کو دل کا دورہ پڑا ہے۔
“افف میرے خدا یہ کیا ہوگیا میری ماما کو۔میری ماما کو بچالیں اللّہ جی میرا میری ماں کے سوا اس دنیا میں کوئی نہیں۔
آپ تو جانتے ہیں کہ میرے بابا بھی مجھے چھوڑ گئے تھے جب مجھے ان کی بہت ضرورت تھی۔اور اب جب مجھے میری ماما کی بہت ضرورت ہے تو وہ بھی مجھے بہت دور دکھائی دے رہیں ہیں۔میری ماما کو ٹھیک کردے مولا ٹھیک کردے۔میں نہیں رہ پاؤں گا اپنی ماں کے بنا۔”
موسٰی رو رو کر آپریشن تھیٹر کے باہر بیٹھا دعائیں مانگتارہا۔
*********
ساری رات کروٹ بدل بدل کے گزری ۔یہاں تک کے اب فجر کی اذان ہونے لگی پر بے چینی تھی کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔
تنگ آکر رُتبہ نے بستر چھوڑا اور اٹھ کر وضو کرنے چل دی۔وضو کے بعد اس نے فجر کی نماز ادا کی تو اس کی بے چینی میں کچھ حد تک کمی آئی۔
“یاللّہ یہ کیسی بے چینی ہے؟
آج سے پہلے تو کبھی ایسا نہیں ہوا کہ مجھے ایسی بے چینی ہوئی ہو۔جانے کیوں مجھے لگ رہا ہے کہ کچھ برا ہونے والا ہے۔کچھ بہت برا۔”
یونہی نماز کے بعد اپنی بے چینی کو کم کرنے کی نیت سے رُتبہ گھر سے باہر کھیتوں میں نکل آئی اور صبح صبح چلتی ٹھنڈی ہوا میں اسے اپنے اوپر طاری بے چینی کم ہوتی محسوس ہونے لگی۔
***********
ناشتہ کرنے کے بعد محسم جو اتنے دن سے گھر پر بیٹھا بیٹھا اکتا گیا تھا فریش ہوکر حویلی سے باہر نکل کر باہر یونہی بے مقصد گھومنے لگا۔ کافی دیر یونہی کچی سڑک پر چلتے چلتے محسم کھیتوں کی طرف آگیا۔
“ارے یار صبح صبح ہی دھوپ نکل آئی اور وہ بھی اچھی خاصی چبھن والی۔ اففف یہ گرمی بھی نہ صبح صبح ہی موڈ خراب کردیا۔ کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ اس چبھن بھری دھوپ کی جگہ ٹھنڈی ہوا لے لے۔”محسم خود سے ہمکلام ہوتا جیسے ہی کھیتوں میں پہنچا تو ہلکی دھوپ کی جگہ پل بھر میں ٹھنڈی ہواؤں نے لے لی۔ اتنے گرمی بھرے موسم میں موسم کی یہ خوشگوار تبدیلی محسم کی روح تک تازہ کر گئی۔
ارے واہ اگر میں اس وقت کچھ اور بھی مانگ لیتا تو شاید وہ بھی پورا ہو جاتا۔ آہ ہ ہ کاش اس دہانے موسم میں وہ دشمن جاں کا دیدار نصیب ہوجائے محسم نے دل پر ہاتھ رکھ کر صدق دل سے دعاء کی اور لہلہاتے کھیتوں کے ساتھ کھیلتا آگے بڑھنے لگا۔
**********
رتبہ جب گھر سے نکلی تھی تو چبھن بھری ہلکی ہلکی دھوپ نکلی تھی۔ چلتے چلتے جیسے ہی وہ کھیتوں تک پہنچی تو موسم کی اس انگڑائی پر خود بھی حیران رہ گئی۔کیونکہ پل بھر میں حبس اور چبھن کی جگہ ٹھنڈی ہواؤں نے لے لی تھی۔
سہانا موسم اور ٹھنڈی ہوائیں ہمیشہ سے رتبہ کی کمزوری رہا تھا اور وہ ایسے موسم میں اکثر خود پر قابو نہیں رکھ پاتی تھی اور بچوں کی طرح اٹکھیلیاں کرنے لگتی تھی۔
آج بھی یہی ہوا تھا رتبہ ٹھنڈی ہواؤں کے چلتے ہی خوشی سے جھومنے لگی اور چلتے چلتے عین اسی جگہ آگئی جہاں پچھلی بار اسے چوٹ لگی تھی اور محسن نے اس کی مدد کی تھی۔
وہ محسم کی جانب سے کئے گئے سلوک سے جتنی بھی خفا تھی پر اس پل اسے بے اختیار ہی محسم کی یاد آئی تھی جس پر چاہ کر بھی وہ بندھ نہیں باندھ پائی۔
“شکل سے کتنا معصوم اور عادتوں سے کتنا اچھا انسان لگتا تھا وہ محسن مرزا پر بات پھر وہی آ جاتی امیر لوگ اوپر سے جتنے بھی خوش اخلاق دکھتے ہوں اندر سے ہوتے مغرور ہی ہیں۔اور وہ محسم مرزا جسے میں اتنا اچھا سمجھ بیٹھی تھی درحقیقت نکلا وہ بھی ویسا ہی جیسے ہوتے ہیں یہ امیر لوگ ہہہن۔”
“ضروری تو نہیں جیسا آپ سوچتی ہیں سب ویسے ہی ہوں کچھ لوگ جیسے دکھتے ہیں کبھی کبھی وہ ویسے نہیں ہوتے۔”رتبہ خود کلامی کرتی منہ بنا کر آگے بڑھنے ہی والی تھی عین اسی وقت کسی عقب سے اس کے کان میں سرگوشی کرکے اسے ڈرا دیا
جس پر ہڑبڑا کر رتبہ پلٹی تو اپنا توازن قائم نہ رکھ سکی اور پلٹتے پلٹتے پیچھے الٹ گئی۔
اور شاید اس بار اسے شدید چوٹ لگ بھی جاتی اگر بروقت محسم اسے تھام نہ لیتا۔
**********
محسم یونہی کھیتوں سے کھیلتا آگے بڑھ رہا تھا جب تیز ہوا کے جھونکے نے اس رکنے پر مجبور کردیا اور رک کر وہ یونہی ادھر ادھر دیکھنے لگا جبھی اس کی بھٹکتی ہوئی نظر اسی دشمن جاں پر اٹکی جس سے ملنے کے لئے وہ ابھی اللّہ پاک سے دعائیں مانگ رہا تھا۔
“میں نے آج سے پہلے کبھی دعاء نہیں مانگی آج پہلی بار جو دعاء مانگی وہ اتنی جلدی قبول ہوگی مجھے اندازہ نہ تھا۔”
“آج تو باد موافق بھی مجھے میرے پیار سے ملانے کی سر توڑ کوشش میں ہے تبھی تو تپتے سورج کو شکست دے کر خود میدان میں آئی ہے۔”
“افف یہ محبت بھی انسان کو کسی کام کا نہیں چھوڑتی۔”محسم اپنی حالت پر مسکراتا رتبہ کی جانب بڑھا ہی تھا کہ اسے خود باتیں کرتا پاکر چپکے سے اس کے پیچھے کھڑا سننے لگا۔اور جب محسم نے رتبہ کی باتوں میں اپنا ذکر سنا تو اس کے چہرے پر مسکان پھیلی۔تبھی اس نے دل پر ہاتھ رکھ کر رتبہ کے کان میں سرگوشی کر ڈالی۔ جس کی وجہ سے رتبہ پلٹی اور پھسل گئی۔اور اسے بچانے کے چکر میں محسم نے اسے مضبوطی سے تھام لیا۔
********
چند منٹ کے لئے دونوں کی آنکھیں چار ہوئیں تو دونوں پلک جھپکنا بھول گئے۔رتبہ کو زندگی میں پہلی بار اپنا دل بے قابو ہوتا محسوس ہوا۔اور دوسری طرف محسم کا دل تو سینے کے نکل کر باہر آنے کو تھا۔
تیز ہوا کے ساتھ زوروں کی بارش نے رُتبہ کے دل پر رکھا پتھر اور شدید غصہ پل بھر میں ہٹا اور رُتبہ کے دل نے مچل کر اقرار کیا کہ اسے محبت ہوگئی ہے۔
ادھر محسم جس کا دل پہلی نظر میں ہی رُتبہ کو اپنی زندگی ماں چکا تھا وہ تو خوشی سے جھوم رہا تھا کیونکہ اس کی محبت اس کے سامنے اس کے بہت پاس تھی۔
بارش نے زور پکڑا تو رُتبہ کو اپنا آپ بھیگتا ہوا محسوس ہوا تو گھبرا محسن سے الگ ہوئی اور اچھے سے خود کو دوپٹے میں لپیٹنے لگی اور اس کی اس گھبراہٹ کو دیکھ کر محسم نے بھی نگاہیں پھیر لیں کیونکہ وہ محبت سے بڑھ کر رُتبہ کی عزت کرتا تھا۔
اسے اس پگلی سی لڑکی کی پہلی نظر میں سب سے پیارا انداز اس کا حجاب ہی تو لگا تھا جس نے محسم کا دل موہ لیا تھا اور محبت جیسا پیارا احساس پہلی بار محسم کو ہوا تھا۔
“سنیے۔”رُتبہ دوسری طرف رخ کئے جب اپنا دوپٹہ ٹھیک کرچکا تو محسم نے جھکی نظروں کے ساتھ ہی رُتبہ کو مخاطب کیا۔
“جی۔” رُتبہ نے اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے ہوئے دھیمے لہجے میں جواب دیا۔
“میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔کیا آپ مجھے اس قابل سمجھتی ہیں کہ مجھے اپنے جیون ساتھی کی صورت میں اپنا سکیں۔”
محسم جسے خود بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ شدت جذبات میں آکر کیا بول گیا ہے۔
اپنی بات مکمل کرکے خود بھی اپنی بیوقوفی پر حیران و شرمندہ سا ہوگیا۔
اور رُتبہ جو پہلے ہی محسم کے حصار سے بوکھلائی ہوئی تھی مزید گھبرا گئی اور بنا کچھ کہے تقریباً بھاگتی ہوئی گھر لوٹ آئ
