Raah e Yaar Teri Musaftein by Umme Abbas NovelR50606 Raah e Yaar Teri Musaftein (Episode 15)Part 1,2
No Download Link
Rate this Novel
Raah e Yaar Teri Musaftein (Episode 15)Part 1,2
Raah e Yaar Teri Musaftein by Umme Abbas
مگ پر دونوں ہاتھوں کی گر فت مضبوط کرتی وہ اسے دیکھنے لگی تھی جو اسکی طرف نہیں پوری طرح چائے کی طرف متوجہ تھا ۔
“ہاں ۔۔۔پوچھو ۔” بدقت میٹھی چائے حلق سے اتاری تھی مگر کڑوی لگنے لگی تھی ۔
منہ سے کپ الگ کرتے وہ عجیب سے انداز میں مسکرایا تھا ۔ایک ہاتھ میں کپ پکڑے دوسرے ہاتھ سے وہ اسکے کناروں پر انگلی پھیر رہا تھا ۔یک دم نظریں اٹھا کر اسے دیکھا تھا ۔کاٹ دار سی نظریں جو اندر تک کا بھید جان لیں ۔اسکی آنکھوں میں جو سرد بیگانگی لئے تاثر تھا وہ ماہی کو نظریں چرانے پر مجبور کر گیا تھا ۔
“اگر زندگی میں کبھی کوئی مجھ سے بہتر متبادل ملے تو کیا چھوڑ دو گی مجھے ؟” دوبدو سوال پوچھتے وہ نظریں اسکے زرد پڑتے چہرے پر گاڑھے ہوئے تھا ۔ماہی کے ہاتھوں کی لرزش میں کپ میں موجود چائے چھلک کر اسکے کپڑوں پر گری تھی ۔خوفزدہ نظروں سے اس نے اسے دیکھا تھا ۔چائے زیادہ گرم نہیں تھی پھر بھی جلن کا احساس شدید ترین تھا ۔ہربڑا کر اٹھتے اس نے کپ میز پر رکھا تھا ۔ہاتھ کو جھٹکا تھا جہاں چائے گری تھی ۔پھر کپڑوں کو جھاڑا ۔اس سب کے دوران اسکی ایک ذرا سی تکلیف پر تڑپ اٹھنے والا طهٰ ابراھیم پر سکون بیٹھا چائے کی میٹھی سی کڑواہٹ گھونٹ گھونٹ اندر اتارتا رہا تھا ۔
ماہی کی نگاہ اس پر پڑی تھی ۔پہلی بار اسے احساس ہوا تھا وہ اتنا بے خبر بھی نہیں ہے جتنا دکھائی دیتا تھا ۔کچھ تو آگہی اسے بھی تھی وہ جان تو گئی تھی بس کتنی تھی یہ جاننا باقی تھا ۔مگر اسکی سانس جیسے اس ذرا سے انکشاف پر ہی رکنے لگی تھی ۔
“یہ کیسی بہکی بہکی ۔۔۔۔باتیں کر رہے ہو تم ۔”
لڑ کھڑاتی آواز میں کہتے اس نے آواز میں ذرا سختی پیدا کرنے کی کوشش کی تھی ۔طهٰ خالی مگ تھوڑا آگے کی جانب ہو کر ٹیبل پر رکھتے اسکی بات پر ہنسا تھا جیسے بہت محظوظ ہوا ہو ۔
“بہکی بہکی باتیں ۔۔۔۔گڈ شارٹ ماہین ۔خیر میں بس یوں ہی پوچھ رہا تھا جنرل نالج کے لئے ۔” چہرے پر ہاتھ پھیر کر بولتے ہوئے اب وہ بالکل نارمل بات کر رہا تھا ۔مگر سب نارمل نہیں تھا ۔اس نے اسے ماہی نہیں کہا تھا ماہین کہا تھا ۔اور ماہی کو نہیں یاد پڑتا تھا اپنے ہوش سنبھالنے کے بعد اس نے کبھی اس کے منہ سے یہ سنا ہو ۔اب کی بار اسے سچ میں اس سے خوف آیا تھا ۔
“میں یہ مگ رکھ کر آتی ہوں پھر یہ داغ بھی دھونا پڑے گا ورنہ پکا ہو جائے گا ۔”اس سے راہ فرار تلاشتی وہ جھک کر اس کے آگے سے مگ اٹھائے ساتھ اپنا بھی اٹھا کر وہ آگے بڑھنے لگی تھی جب اسکی سرسراتی ہوئی آواز نے اسکے قدم جکڑ لئے تھے ۔
“ہاں بالکل وقت رہتے جتنی جلدی داغ مٹ جائے اچھا رہے گا ورنہ ایک بار پکا ہو گیا تو پھر جان نہیں چھوڑے گا ۔۔۔۔۔تمہارے کپڑوں کی ۔”
معنی خیزی سے کہتے رک کر اس نے جملہ مکمل کیا تھا ۔وہ بس ایک نظر اسے دیکھ کر جلدی سے کچن میں گم ہوئی تھی ۔مزید ان نظروں کا سامنا کرنے کا یاراں اس میں نہیں تھا ۔کچن کاؤنٹر پر مگ رکھتے دونوں ہاتھ وہیں جما کر آگے کی طرف جھکتے ہوئے اس نے گہرے گہرے سانس لئے تھے ۔اسکی ہمت ابھی سے چٹخنے لگی تھی ۔حوصلے پست ہونے لگے تھے ۔اندر کوئی چینخ چینخ کر کہہ رہا تھا ۔مت کرو ایسے ۔۔۔اس کے ساتھ مت کرو ۔وہ اس سب کا تو حقدار نہیں ہے ۔مگر اب دیر ہو گئی تھی ۔اب نہ تو وہ اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹ سکتی تھی اور نہ ہی اتنی جرات پڑ رہی تھی کہ آگے بڑھ سکے ۔مگر پھر آنکھوں کے سامنے شہیر اور اسکے ساتھ ملنے والی پر تعش زندگی کا جیتا جاگتا خواب آن ٹھہرا تھا ۔اور فیصلہ آسان ہوتا چلا گیا ۔کپكپاتے ہاتوں سے فریج میں سے پانی کی بوتل نکال کر وہ وہیں کرسی پر بیٹھتی گلاس میں انڈیلنے لگی تھی ۔اسے خود کو تیار کرنا تھا ابراھیم بیگ کا سامنا کرنے کے لئے ۔گھونٹ گھونٹ پانی اندر اتارتے آنکھیں بند کرتے وہ خود کو مضبوط کرنے میں جت گئی تھی ۔
طهٰ نے کچھ دیر یوں ہی بیٹھنے کے بعد موبائل نکالا تھا ۔سر یک دم بھاری بھاری لگنے لگا تھا ۔مگر وہ سر جھٹک گیا تھا ۔موبائل سکرین پر نظریں جمانے کی کوشش کی تو کچھ ٹھیک سے دکھائی نہیں دیا ۔دوسرے ہاتھ کی انگلیوں سے آنکھوں کو مسلتے ہوئے اس نے ایک بار پھر پوری آنکھیں کھول کر دیکھنے کی کوشش کی تھی ۔سب کچھ دهند میں لپٹا دکھائی دے رہا تھا ۔وہ اپنی حالت سمجھ نہیں پا رہا تھا ۔دماغ جیسے مفلوج سا ہونے لگا تھا ۔اٹھ کر اس نے اپنے کمرے کی طرف جانا چاہا تھا ایک زور دار چکر نے اسے اپنی لپیٹ میں لیا تھا ۔بمشکل وہ اپنا توازن برقرار رکھ پایا تھا ۔گھبراہٹ اور جی متلانے کے باعث اس نے اپنی شرٹ کے اوپری دو بٹن کھولے تھے۔وہ بہت مضبوط اعصاب کا مالک تھا مگر ایک تو اسے دی کافی ہائی ڈوز دی گئی تھی اور دوسرا اسکا جسم اس کا عادی نہیں تھا ۔ماہی کو آواز دینے کا جی بلکل نہیں چاہا تھا ۔لڑ کھڑاتے قدموں سے وہ ابھی سیڑھیوں کی جانب بڑھا ہی تھا کہ ہانی اور ماہی کے مشترکہ کمرے سے کچھ گرنے کی زور دار آواز آئی تھی ۔وہ جاتے جاتے رک سا گیا ۔پوری آنکھیں وا کرتے اس نے بند دروازے کو دیکھا تھا ۔پھر اسے ہانی کی خرابی طبیعت کا خیال آیا تھا ۔
اپنے قدموں کی لڑ کھڑاہٹ پر قابو پاتے وہ دروازے کی جانب بڑھا تھا ۔دروازہ کھولا تو سامنے ہی بیڈ سے کچھ فاصلے پر ہانی ہوش و حواس سے بیگانہ زمین بوس ہوئی پڑی تھی ۔بنا ایک بھی پل کی دیری کیے وہ آگے بڑھا تھا ۔دروازہ بلکل تھوڑا سا کھلا تھا اس کے برق رفتاری سے ہاتھ ناپ سے ہٹانے پر خود بخود بند ہوتا چلا گیا ۔جس تیزی سے وہ اس تک آیا تھا اسے خود کے گرنے کا خدشہ ہونے لگا تھا ۔اسکی چادر سر سے ڈھلک چکی تھی ۔چہرے پر آئے بالوں کو پیچھے کرتے اس کا چہرہ تهپتھپایا تھا ۔
“ہانی ۔۔۔آنکھیں کھولو ۔” کمزور سی آواز میں وہ بمشکل بول پا رہا تھا ۔آواز ایسی تھی جیسے وہ غنودگی میں بول رہا ہو ۔خود اپنی آنکھوں کے سامنے چھائی دهند میں اسکے چہرے کے خدوخال صحیح سے دکھائی تک نہ دے رہے تھے ۔
پسینے سے تر وجود کے ساتھ اس نے بے بسی سے ایک بار اور اسکا چہرہ تهپتھپایا تھا جو دہکتے کوئلے کی طرح جل رہا تھا ۔پھر ہمت جمع کرتے اسے اٹھانے کی کوشش کی تھی ۔مگر وہ ایسا کر نہیں پا رہا تھا ۔اس کے خود کے وجود میں اتنی سکت باقی نہیں رہی تھی کہ وہ دھان پان سی ہانی کا وزن اٹھا پاتا ۔بہت مشکل سے تقریباً گھسیٹنے کے سے انداز میں اسے وہ بیڈ پر آڑھا ترچھا منتقل کر پایا تھایوں کہ ہانی کی ٹانگیں زمین بیڈ سے نیچے جھول رہی تھیں ۔اور اسی وقت مین گیٹ پر بیل ہوئی تھی ۔کچن میں کھڑی ماہی نے آنکھ میں آئے آنسو صاف کیے تھے اور اٹھ کر باہر جھانکا تھا ۔طهٰ کہیں نہیں تھا ۔اسے لگا وہ اپنے کمرے میں چلا گیا ہو گا ۔وہ تیزی سے باہر کی جانب بڑھی تھی مین گیٹ کھولا توقع کے مطابق وہاں ابراھیم ہی کھڑے تھے ۔وہ جوں ہی اندر داخل ہوئے ماہی سرعت سے انکے بازو سے لگی تھی ۔
“تایا ابو شکر ہے آپ آ گئے ۔طهٰ کو پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے وہ عجیب سی حالت میں گھر آیا ہے ۔مجھے بہت ڈر لگ رہا تھا اس سے ۔اتنی دیر سے میں نے خود کو کچن میں بند کر رکھا ہے ۔”
وہ روتے ہوئے بتا رہی تھی اور ابراھیم کے قدموں کے نیچے سے زمین جیسے سرک گئی تھی ۔وہ اسے خود سے الگ کرتے تیز تیز قدموں سے اندر کی جانب بڑھے تھے ۔ماہی بوجهل دل کے ساتھ انکے پیچھے لپکی تھی ۔
“کہاں ہے وہ ؟” ابراھیم کی آواز کسی انہونی کے خوف کے باعث کپكپا گئی تھی ۔نخیف اور کمزور سی آواز جیسے وہ یک دم بہت مژدہ ہو گئے ہوں ۔
“میں نے اسے یہی دیکھا تھا تایا ابو ۔پھر میں ڈر کر کچن میں بند ہو گئی تھی ۔” روتے ہوئے وہ بتا رہی تھی ۔
“طهٰ ۔۔۔۔۔طهٰ “۔ ابراھیم اسے اونچی آواز میں پکار رہے تھے ۔پھر وہ سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئے تھے ۔ماہی وہیں کھڑی رہی ۔
انکی پکار کی آواز طهٰ نے بھی سنی تھی مگر وہ چاہ کر بھی اونچی آواز نہیں نکال پا رہا تھا ۔ہانی کو بستر تک لانے میں ہی وہ نڈھال ہو گیا تھا ۔اس ساری جدوجہد میں ہانی کی چادر اسکے وجود سے الگ ہو کر وہیں زمین پر پڑی ره گئی تھی ۔خود طهٰ کی سانسیں بری طرح سے منتشر ہو چکی تھیں ۔سر تھا کہ چکراتا ہوا محسوس ہوا تھا اور اس میں سے اٹھتی ٹیسیں اس کا ضبط بری طرح سے آزما رہی تھیں ۔
وہ خود بھی جیسے اس کے پہلو میں ڈھے سا گیا تھا ۔
ابراھیم اسے اس کے کمرے میں اور چھت پر تلاش کر آئے تھے ۔مگر وہ کہیں نہیں تھا ۔وہ تیزی سے واپس نیچے آئے تھے ۔آخری سیڑھی پر کھڑے ہوتے انھوں نے ماہی کو دیکھا تھا ۔
“کہیں گھر سے باہر تو نہیں نکل گیا ۔” وہ جیسے اسے بتا رہے تھے پھر کسی خدشے کے پیش نظر انکا دل ڈوبتا چلا گیا ۔
“ہانی کہاں ہے ؟” انہیں اپنی ھی آواز غیر شناسا لگی تھی ۔ماہی چونکی تھی ۔
“وہ کمرے میں ہے ۔”
ابھی اسکی بات مکمل نہ ہوئی تھی کہ ابراھیم جلدی سے اسکے کمرے کی جانب بڑھے تھے ۔لرزتے ہاتھ سے دروازہ کھولا تھا اور سامنے کا منظر دیکھ کر ان کے سر پر جیسے آسمان آ گرا تھا ۔
ہوش و حواس سے بیگانہ ہوئی ہانی اور اسکے پہلو میں اسکی طرف کروٹ کے بل لیٹا اسکے چہرے پر جھکا طهٰ ۔انکے ذہن کی شر یانیں جیسے پھٹنے لگی تھیں ۔
سامنے کا منظر جو روداد پیش کر رہا تھا اس سے انکے وجود میں غم و غصے کا لاوا سا پھوٹ پڑا تھا ۔ندامت سے انکی آنکھیں بند ہوئی تھیں ۔انکے کندھے کے پیچھے کھڑی ماہی نے وہ منظر دیکھا تھا اور بے اختیار اسکے ہونٹوں سے دبی دبی سی چینخ نکلی تھی ۔دونوں ہاتھوں کو مضبوطی سے اپنے ہونٹوں پر جمائے وہ بھری ہوئی پھٹی آنکھوں سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی ۔یہ کیا ہو گیا تھا ؟۔اس نے ایسا تو نہیں چاہا تھا ؟۔یہ سب تو اسکے پلان کا حصہ بھی نہیں تھا ۔اس کے دل نے تڑپ کر دہائی دی تھی ۔اب کی بار جو ہوا تھا وہ بہت غلط ہوا تھا ۔مگر پانی سے سے جیسے گزر چکا تھا ۔
ابراھیم غیض و غضب سے آگے بڑھے تھے ۔طهٰ اب بھی جیسے انکی طرف متوجہ نہیں تھا اسکا ہاتھ اب بھی ہانی کے گال پر ٹھہرا ہوا تھا ۔شرٹ کے کا لر سے پکڑ کر اسے جهنجھوڑتے ہوئے سیدھا کیا تھا ۔پتہ نہیں اس وقت ان کے اندر اتنی طاقت کہاں سے آ گئی تھی خود سے بھی دو انچ لمبے طهٰ کو ایک جھٹکے سے اٹھا کھڑا کیا تھا ۔طهٰ جو بمشکل اپنی آنکھیں کھولے ہوئے تھا لڑکھڑاتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔
“ابو ۔۔۔یہ ہانی ” غیر ہموار مدہوش سی آواز میں اس نے کچھ کہنا چاہا تھا مگر اس سے پہلے ہی ایک زناٹے دار تهپڑ اسکے چہرے پر اپنا نشان چھوڑتا چلا گیا تھا ۔وہ لڑھک کر ایک طرف ہوا تھا۔ابراھیم بیگ نے جبڑے سختی سے بھینچ کر اسکی حالت دیکھی تھی ۔اسکے لڑ کھڑاتے قدم ،سرخ بمشکل کھلی آنکھیں ،کھلا گریبان اور مدہوش سا انداز کہ وہ اپنے قد کے ساتھ کھڑا بھی نہیں ہو پا رہا تھا ۔کسی شک کی گنجائش ان سب لوازمات کے بعد رہتی ہی کہاں تھی ۔ماہی كنگ ہوئی بہتی آنکھوں سے سب دیکھ رہی تھی ۔بے اختیار اس نے دروازے کے فریم کا سہارا لے کر اپنی بے جان ہوتی ٹانگوں کے باعث خود کو گرنے سے بچایا تھا ۔
ابراھیم نے آنکھوں میں آئی نمی کو پیچھے دهكیلتے ہوئے طهٰ کو ایک زور دار دھکا دیا تھا ۔وہ خود کو سنبهال نہیں سکا تھا اور منہ کے بل ان سے کچھ دور زمین پر جا گرا تھا ۔دونوں ہاتھ زمین پر ٹیک کر اس نے جیسے اپنا بچاؤ کرنے کی لاشعوری کوشش کی تھی مگر پھر بھی اسکا ماتھا بری طرح ماربل سے لگا تھا ۔پہلے سے درد سے پھٹتے سر میں درد کی ایک تیز لہر بجلی کی طرح کوندی تھی ۔
ابراھیم نے نظریں چرا کر ہانی کا بنا ردا کے وجود كمبل سے ڈھکا تھا اور پھر تیز تیز سانس لینے کے درمیان وہ ادھر ادھر کچھ تلاش کرنے لگے تھے ۔طهٰ جو سیدھا ہو رہا تھا انکی نظر اسکی بیلٹ پر پڑی تھی ۔جھک کر کھینچتے اسکی بیلٹ نکالی تھی اور پھر اسے اپنے ہاتھ پر ہنٹر کی صورت لپیٹ کر پوری شدت سے اسکے بازو پر برسایا تھا ۔درد سے دوہرا ہوتا وہ کراہا تھا ۔اور پھر پے در پے کہیں وار اسکے شانے اور کمر پر وہ کرتے چلے گئے ۔طهٰ سے ٹھیک سے بولا نہیں جا رہا تھا اپنا بچاؤ کرنا تو دور کی بات تھی ۔ماہی نے اپنی آنکھوں کو سختی سے بند کرتے سر کو پوری شدت سے نفی میں جنبش دی تھی ۔
“بے غیرت ۔۔۔۔اپنے ہی گھر میں نقب زنی پر اتر آیا ۔غلیظ انسان اپنی ہی عزت کو داغدار کرنے چلا تھا ۔”
انکی کپكپاتی ہوئی درشت آواز پر گھر میں مین گیٹ کھلا دیکھ کر حیران و پریشان سے ندیم ،فائزہ ،آنسہ اور فہد جو گھر میں داخل ہوئے تھے ۔تیزی سے اس جانب بڑھے تھے ۔
ماہی کے پاس پہنچ کر دروازے میں ہی جیسے سب فریز ہو گئے تھے ۔بہت کچھ نہ سمجھتے ہوئے بھی بہت کچھ سمجھ آ گئی تھی ۔فائزہ کا ہاتھ اپنے دل پر جا پڑا تھا ۔وہ لڑکھڑائی تھیں جب پاس کھڑی آنسہ نے انھیں سہارا دیا ۔
ابراھیم پے در پے پوری قوت سے اس پر بیلٹ برسا رہے تھے ۔طهٰ جو سیدھا ہونے کی کوشش میں تھا بیلٹ اسکے چہرے پر پڑا تھا اور ہونٹوں کے بائیں حصے سے ناک کو چھوتا ہوا دائیں آنکھ کے نیچے تک لگا تھا ۔وہ درد سے بلبلا اٹھا تھا ۔یہ اب تک کی لگنے والی ضربوں میں سب سے جان لیوا ثابت ہوئی تھی ۔اسکے منہ سے چینخ سی نکلی تھی ۔اور وہ وہیں درد کی شدت سے دہرا ہوتا چلا گیا ۔یوں لگا تھا جیسے کسی نے گرم لوہے کی سلاخ سے اسکا چہرہ داغ دیا ہو ۔اپنی غیر ہوئی حالت کے باوجود اس نے اپنے منہ میں خون کا ذائقہ گهلتا محسوس کیا تھا ۔ناک میں سے گرم سيال سرخ گاڑ ھا پانی نکلتا اس کے چہرے کو تر کرنے لگا تھا ۔چہرے کی جلن نا قابل برداشت ہوئی تھی ایسے جیسے اسکا دماغ تک سنسنا اٹھا ہو ۔
دروازے میں کھڑے نفوس کے وجود میں جنبش ہوئی تھی ۔ندیم سرعت سے آگے بڑھ کر انکا ایک بار پھر ہوا میں لہراتا ہوا ہاتھ تھام کر انھیں بازوؤں میں جکڑے پیچھے کر رہے تھے ۔فائزہ بھاگ کر بیٹے تک آئی تھیں اسکا چہرہ ہاتھوں میں لے کر اس پر جھک سی گئی تھیں ۔
“چھوڑو مجھے ندیم ۔میں آج یہ قصہ ہی ختم کر دوں گا ۔ایسی بے شرم اولاد ہونے سے بہتر ہے کہ میں اس کا اپنے ہاتھوں سے گلا دبا دوں ۔اس عمر میں باپ کے سفید بالوں میں خاک ڈال رہا ہے یہ ۔کیا جواب دوں گا میں اس معصوم کی مری ماں کو کہ تمہاری بیٹی کی ٹھیک سے حفاظت تک نہ کر سکا میں ۔”بپهرے ہوئے شیر کی طرح وہ غراتے ہوئے اپنا آپ چھڑوا رہے تھے ۔آخر میں مرحوم بہن کا ذکر کرتے انکی آنکھیں اور آواز بھرا گئی تھی ۔مگر ندیم اپنی گرفت مضبوط سے مضبوط کرتے چلے گئے ۔
فائزہ زار و قطار روتے ہوئے طهٰ کے مضبوط و توانا وجود کو اپنی آغوش میں سمیٹنے کی کوشش کر رہی تھیں ۔دوپٹے سے اسکا خون آلود چہرہ صاف کر رہی تھیں جو نیم بے ہوشی کی کیفیت میں چلا گیا تھا ۔
“بھائی صاحب سنبھالیں خود کو ۔ہم صبح بات کریں گے اس بارے میں ۔آپ چلیں میرے ساتھ باہر ۔”انکے ذرا کمزور پڑنے پر انکے ہاتھ سے بیلٹ لے کر دور پهینكتے ہوئے وہ ان کو تھامے باہر کی جانب بڑھے تھے ۔وہ بھی جیسے اسے مار مار کر نڈھال ہو چکے تھے ۔بنا مزاحمت کے شکست خورده سے انکے ساتھ پاؤں گھسیٹتے چل دیے ۔لمحوں میں وہ جیسے صدیوں کے ضعیف لگنے لگے تھے ۔
دروازے میں بت بنے آنسہ اور فہد نے ہٹ کر انکو باہر نکلنے کی راہ دی تھی ۔ماہی اب بھی پتھر ہوئی وہیں جمی تھی ۔
“آنسہ بچی کو دیکھو تم ۔فہد تم بھائی کو سنبھالو ۔” باہر نکلتے ہوئے وہ ان کو ہدایات دے رہے تھے ۔اس وقت جیسے ایک وہی تھے جن کے حواس ٹھیک ٹھیک کام کر رہے تھے ۔انکا ٹھنڈا اور دھیما مزاج اس وقت کام آیا تھا ۔
وہ ابراھیم کو انکے کمرے میں لے گئے تھے ۔آنسہ جلدی سے ہانی تک گئی تھیں اسکے گالوں کو تهپتھپایا تھا مگر اسکی حالت میں کوئی فرق نہیں پڑا تھا ۔فہد طهٰ کو اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا ۔ندیم واپس آئے تھے ۔
“ندیم اسے ہوش نہیں آ رہا ۔ہوسپٹل لے کر جانا پڑے گا ۔” ان پر نظر پڑتے ہی آنسہ بول اٹھی تو فائزہ نے بھی بھرائی آنکھوں سے انکی طرف دیکھا تھا ۔
“میرے بچے کو بھی لے چلو ندیم ۔” انکے لہجے میں تڑپ تھی التجا تھی ۔ندیم نے ایک نظر طهٰ کو دیکھا تھا جو فہد کے سنبھالنے میں نہیں آ رہا تھا ۔پھر سر ہلا دیا ۔
کچھ دیر بعد وہ ایک ٹیکسی بلا کر لائے تھے ۔اپنی گاڑی میں فہد اور آنسہ کے ساتھ ہانی کو ہسپتال کی طرف روانہ کیا تھا ۔جب کہ ٹیکسی میں خود فائزہ کے ہمراہ طهٰ کو لے کر نکلے تھے ۔ماہی کی ابراھیم کے پاس چھوڑا گیا تھا جو اب بالکل گم صم اپنے کمرے میں ایک کرسی پر لٹے پٹے بیٹھے ہوئے تھے ۔ان کے کمرے کے کھلے دروازے میں ماہی زرد ہوئے چہرے اور سوکھے ہوئے ہونٹوں کے ساتھ چوکھٹ پر ہی دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں کے گرد باندھتی منہ بازوؤں میں چھپائے بے آواز روٹتی جا رہی تھی ۔اسکی خواہشوں کے محل کی تعمیر نے اس گھر کی بنیادیں ہلا ڈالی تھیں ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
ہانی کو تو فوری طبی امداد دی گئی تھی ۔مگر طهٰ کو دیکھتے ہی ڈاکٹرز نے عجیب نظروں سے ندیم کی طرف دیکھا تھا ۔وہ پولیس کیس تھا ۔ڈاکٹرز پہلے تو ہاتھ رکھنے کو ہی تیار نہیں تھے مگر پھر انکی منت سماجت کرنے پر وہ طبی امداد دینے کو تیار ہو گئے تھے ۔
جس کے بعد انھوں نے ندیم کو بلا کر اس کے ڈرگز لینے کا انکشاف کیا تھا ۔اپنی جگہ سے وہ ہل نہیں سکے تھے ۔مگر پھر سچی جھوٹی کہانی گھڑ کر ڈاکٹرز کو یہ کہہ کر مطمئیں کرنا چاہا کہ یہ سب اسکے دوستوں کا کیا دھرا ہے اور اسکے بات نا ماننے پر کسی بات کو لے کر انکا جھگڑا ہوا تھا جس کے نتیجے میں اسے مارا پیٹا گیا ۔اب ڈاکٹر انکی اس بات سے مطمئیں ہوا یا نہیں مگر وہ چپ کر گیا تھا ۔
آدھی رات کو ایک ہی ہوسپٹل کے دو الگ الگ کمروں میں ہوش و حواس سے بیگانہ وہ دو وجود نہیں جانتے تھے کہ کل کا سورج ایک نئی افتاد کے ساتھ طلوع ہونے کو تھا ۔اور پھر سب بدل جانے کو تھا ۔تعلق بھی ،رشتے بھی اور سب سے بڑھ کر دل ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
اگلی صبح جب وہ بیدار ہوا تھا تو چہرے پر سوجن اور درد کا احساس سب سے پہلے جاگا تھا ۔اور پھر جوں جوں حواس بحال ہوتے گئے بہت سے دهند میں لپٹے منظر اسکے ذہن کے پردے پر کسی فلم کی صورت چلتے گئے ۔
ماہی کی چائے ،اسکی طبیعت کا بگڑنا ،ہانی کی بے ہوشی اور پھر ابو کی مار ۔اسے سب من و عن یاد تھا ۔کچھ بھی تو نہیں بھولا تھا ۔درد کی ایک شدید لہر تھی جس نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا ۔وہ درد صرف جسمانی نہیں تھا ۔اس سے کہیں بڑھ کر وہ اسکی جذباتی کیفیت تھی ۔آنکھوں میں بہت سا اپنی آن بھرا تھا جسے اس نے درد کرتی آنکھ کی پرواہ کیے بنا بے دردی سے رگڑ ڈالا تھا ۔وہ کس کس بات کا غم مناتا ۔ماہی کی سنگدلی کا یا پھر اس خوف کا جو اسے اسکی خواہشوں سے ہمیشہ آتا تھا ۔وہ اس حد تک کیسے بڑھ گئی تھی ۔یہ تو اسکی سوچ کی حد سے بہت باہر تھا وہ کبھی اس کے ساتھ بھی کچھ ایسا کر سکتی ہے ۔
اور ابو انھوں نے کیسے ایک ہی پل میں اسے گناہ گار قرار دے دیا ۔نا کوئی سوال کیا نہ کوئی صفائی مانگی ۔سیدھے سیدھے دفع جرم عائد کر کے سزا بھی سنا ڈالی ۔کیا اب اسکی کہی کسی بات کا کوئی اعتبار کرے گا ؟ مگر وہ کہے بھی تو کیا ۔اپنا کردار بچانے کے لئے اسے ماہی کا سچ بتانا پڑتا ۔تو کیا وہ ایسا کر سکتا تھا ۔وہ خود تو اس سے کوئی باز پرس نہیں کر پایا تھا ۔باقی سب کو اس پر سوالوں کی بوجھاڑ کرنے کی اجازت کیسے دے دیتا ۔ایک طرف اسکی اپنی ذات تھی اسکا کردار داؤ پر لگا تھا اور دوسری طرف ماہی تھی ۔جس سے نفرت وہ اتنا سب ہو جانے کے بعد بھی نہیں کر پایا تھا ۔آنکھیں موند کر گہرا سانس لیتے اس نے آخری بار دل سے پوچھا تھا اور پھر چناؤ ہو گیا تھا ۔طهٰ ابراھیم نے خود کو چنا تھا ۔سر درد سے پہلے ہی پھٹا جا رہا تھا ان سوچوں کے گر داب میں پھنس کر مزید ماؤف ہوتا چلا گیا تھا ۔اس کے چہرے پر تکلیف تھی مگر وہ ہر بات سے بے نیاز ہو گیا تھا ۔بستر سے اٹھ کر بیٹھتا وہ اپنی ٹانگیں نیچے کی جانب لٹکائے ہوئے تھا ۔
ہوسپٹل کا بند دروازہ کھلا تھا ۔فائزہ اندر داخل ہوئی تھیں انکو دیکھ کر اس نے آنکھیں موند لی تھیں ۔یہ سب اتنا آسان نہیں تھا ۔گلٹی ہو کر سب کا سامنا کرنا یہ بھی تو ایک کڑا امتحان تھا ۔مگر اس امتحان سے اسے کسی اور کو بچانا تھا ۔وہ جو ساری رات اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑے اسکی تکلیف پر روتی رہی تھیں اب اسے ہوش و حواس میں دیکھ کر پتھر بن گئی تھیں ۔اسکی غلطی اس بار اتنی چھوٹی تو نہیں تھی کہ یوں ہی نظر انداز کر دی جاتی ۔
“کبوتر کی طرح آنکھیں کیوں بند کر لی ہیں طهٰ آنکھیں کھولو اور دیکھو میری طرف ” اسکے عین سامنے آ کر کھڑے ہوتے وہ اسے دیکھ رہی تھیں ۔
انکی سخت آواز پر اس نے آنکھیں تو کھول دی تھیں مگر نظریں ہنوز جھکی رہی تھیں ۔
“ادھر دیکھو طهٰ اور سچ سچ بتاؤ ۔تم نے ڈرگز لی تھیں ؟۔اور ہانی کے کمرے میں کیا کرنے گئے تھے ۔”
ملتجی سے انداز میں وہ اس سے پوچھ رہی تھیں ۔طهٰ نے اپنا نچلا ہونٹ بری طرح سے دانتوں سے کچلا تھا ۔مگر لب پھر بھی چپ رہے تھے ۔
“طهٰ یوں چپ مت رہو ۔تمہاری خاموشی میرا دل ہولا رہی ہے ۔یہ تمہیں قصور وار ثابت کر دے گی ۔بولو بیٹا کچھ تو کہو ۔”
اک موہوم سی آس تھی جو انھیں رات سے دلاسا دیے ہوئے تھی ۔وہ ہوش میں آئے گا تو شاید کچھ ایسا کہہ دے جس سے آنکھوں دیکھا سب جھوٹ ثابت ہو جائے ۔سب نظر کا دھوکہ لگنے لگے ۔مگر اسکی یہ خاموشی اب اس امید کا دیا گل کرنے لگی تھی ۔
“طهٰ مت کرو ایسے کچھ تو کہو ۔” وہ اپنا ضبط ہار کر رو دی تھیں اور اس برف کے مجسمے میں حرکت ہوئی تھی ہونٹ ہلے تھے مگر فائزہ کا جی چاہا وہ نا ہی بولتا ۔
“مجھے کچھ نہیں کہنا ۔جو سمجھنا ہے سمجھتے رہیں ۔” سرد و سپاٹ سی آواز انکی سب امیدوں پر پانی پھیر گئی تھی ۔انکا ہاتھ بے اختیار اٹھا تھا اور دائیں جانب پڑا تھا ۔پہلے سے ہی درد کرتے گال میں تیز جلن کا احساس پوری شدت سے جاگا تھا ۔
“یہ کیا کیا تم نے طهٰ ۔میری تربیت کی ہی کچھ لاج رکھ لی ہوتی ۔میں نے تمہیں کیا بنانا چاہا تھا اور تم کیا بن گئے ۔” انکی کانپتی آواز میں بے یقینی سی تھی ۔دروازے سے اندر داخل ہوتے ندیم نے سرعت سے آگے بڑھے ۔
“کیا کر رہی ہیں بھابھی ! ہم ہوسپٹل میں ہیں ۔اور وہ پہلے ہی زخم زخم ہوا ہوا ہے ۔” اس پر غصہ اپنی جگہ مگر وہ انکا لاڈلا بھتیجا تھا ۔اور اس وقت اسکی ابتر ہوئی حالت پر انکے دل میں اس کے لئے غم و غصے کے ساتھ ساتھ ترحم بھی در آیا تھا ۔
“میں نے ڈاکٹرز سے پوچھ لیا ہے بس اب گھر کے لئے نکلتے ہیں ۔آپ جا کر ہانی کو دیکھیں میں اسے لے کر آتا ہوں ۔” ہانی کے نام پر اسکے چہرے پر کچھ سایا سا آ کر ٹھہرا تھا ۔
“اسے کیسے دیکھوں ندیم ۔اس نے مجھے اسکا سامنے کرنے لائق چھوڑا ہی کب ہے ۔ابھی تو اسے علم نہیں ہے جب پتہ چلے گا تو پتہ نہیں کیا کرے گی وہ بے چاری ۔”
انکی بات پر طهٰ نے خشک ہوتے گلے کو تھوک نگل کر تر کرنے کی کوشش کی تھی ۔اس کہانی کی تیسری اور اہم تکون کو تو وہ اب تک بھولا ہوا تھا ۔اسکی غلطی کوئی نہیں تھی ۔بس وہ حالات کی سازش کا شکار ہو گئی تھی ۔اس کے دل میں سے اک ہوک سی اٹھی تھی ۔
ندیم کے کہنے پر وہ باہر نکل گئی تھیں اور خود وہ طهٰ کو سہارا دینے کو آگے بڑھے تھے مگر ان سے نظریں چراتے ہوئے وہ خود ہی بنا سہارے کے کھڑا ہوا تھا ۔جھک کر جوتے پہنتے وہ انکے ہمراہ باہر نکلا تھا ۔آنسہ اور فہد گھر واپس چلے گئے تھے ۔فائزہ کے ہمراہ جب ہانی باہر گاڑی کے پاس آئی تو طهٰ کو پہلے سے وہاں اس حال میں دیکھ کر ششدر ره گئی تھی ۔
“امی !یہ طهٰ بھائی ۔” حیران سی فکر مندی سے فائزہ کی جانب اس نے دیکھا تھا مگر وہ نظریں چرا گئیں ۔انکے نزدیک آنے پر وہ پہلے ہی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا تھا ۔ڈرائیونگ سیٹ ندیم نے سنبھال لی تو فائزہ اور ہانی پیچھے آ کر بیٹھ گئیں ۔پورے راستے میں گاڑی کی فضا بوجهل سی رہی تھی ۔ان تینوں کے چہرے پر جو تناؤ تھا اسے دیکھ کر ہانی کے سبھی سوال زبان پر آنے سے پہلے ہی دم توڑ گئے تھے مگر گھر جا کر جو انکشاف اس پر ہوا تھا اس نے اسکے پاؤں کے نیچے سے زمین اور سر سے آسمان چھین لیا تھا ۔
Part 2
پورے گھر میں چھائی غیر محسوس خاموشی سے اسے الجھن کے ساتھ ساتھ اب خوف بھی آنے لگا تھا ۔
وہ باری باری سب سے پوچھ چکی تھی مگر کوئی بھی کچھ بتانے کو تیار نہیں تھا ۔فائزہ نے نگاہ چراتے ہوئے اسے آرام کرنے کا کہا تھا پھر خود باہر نکل گئیں تھیں ۔کچھ دیر تو وہ لیٹی رہی تھی مگر دل بری طرح سے گھبرا رہا تھا ۔آج کا دن کچھ عجیب تھا ۔فضا کا بوجھل پن حد سے سوا تھا ۔پہلے طهٰ کی حالت ،سب کی پر اسرار خاموشی اور اب گھر میں گونجتے سناٹے ۔حالانکہ سبھی گھر پر تھے ۔خلاف معمول ابراھیم اور ندیم بھی گھر پر تھے ۔مگر ابراھیم اسکی خیریت معلوم کرنے نہیں آئے تھے یہ اچنبھے کی بات تھی ۔اسکی چھٹی حس اشارہ دے رہی تھی کچھ بہت غلط ہو گیا تھا ۔مگر کیا ؟ کل رات تک سب ٹھیک تو تھا ۔رات کو وہ پانی پینے کے لئے اٹھی تھی اور پھر سر اتنے زور سے چکرایا تھا کہ وہ گری تھی اس کے بعد اسے کچھ بھی یاد نہیں تھا ۔ہوسپٹل میں وہ دواؤں کے زیر اثر سوئی رہی تھی ۔حواس تو صبح بحال ہوئے تھے ۔
کچھ دیر بعد اس نے بے کل ہوتے بستر چھوڑ دیا تھا ۔پتہ نہیں آج ماہی بھی کہاں تھی ۔وہ گھر آئی تو وہ اسے دکھائی دی تھی کچن کی چوکھٹ پر کھڑی تھی ۔مگر پھر وہ بھی نظر نہیں آئی تھی نہ ہی اس کا حال احوال پوچھنے آئی تھی ۔
وہ الجھن زدہ سی خود ہی اٹھ کر باہر نکل آئی تھی ۔دوپٹہ سر پر ٹھیک کرتے وہ کچن کی طرف آئی تھی ۔مگر اندر سے آتی آوازوں کے باعث دہلیز پر ہی جم گئی تھی ۔
“بھابھی آپ خود جائیں کھانا لے کر ۔اسے بھی کسی سنبھالے کی ضرورت ہے ۔” آنسہ فائزہ سے کہہ رہی تھیں جو ٹرے میں کھانا رکھتے ساتھ رو بھی رہی تھیں ۔
“رہنے دو اسے ۔کچھ دیر اکیلا رہے گا تو شاید اپنی غلطی کا احساس ہو اسے…… ۔آنسہ یہ کیا کر دیا طهٰ نے ؟ میں ہانی کا سامنا کیسے کروں گی ۔اور جب اسے پتہ چلے گا تو اسے کیسے سنبھالوں گی ؟ اس پر کیا گزرے گی جس طهٰ کو وہ بھائی کہتے نہیں تھکتی تھی وہی اسکی عزت ۔۔۔۔”
دل اسکی حالت پر ممتا سے کرلایا تھا مگر وہ کٹھور بن گئی تھیں ۔چہرہ دوپٹے سے صاف کرتے وہ بھرائی ہوئی آواز میں بے بسی سے کہہ رہی تھیں ۔ہانی نا سمجھی سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی جنکی اسکی طرف پشت تھی اور اسکی موجودگی سے وہ دونوں یکسر لا علم تھیں ۔انکی باتوں سے جو سمجھ لگ رہی تھی اس کی آنکھیں پتھرا گئی تھیں ۔
“بھابھی آپ رو رو کر خود کو تو ہلکان نہ کریں۔وہ ہوش میں نہیں تھا ۔ورنہ اسکے کردار کی گواہی تو محلے کا بچہ بوڑھا سب دیتے ہیں ۔بس نشہ چیز ہی ایسی ہے ہوش و حواس سلب کر لیتا ہے ۔ہوش میں ہوتا تو کبھی ایسا کرتا ؟۔میں نہیں مانتی ۔پہلے کبھی وہ بچیوں کے کمرے کی طرف گیا بھی نہیں ہے ۔بس بدبختی نے آن لیا تھا جو وہ ایسی حالت میں ہانی تک چلا گیا ۔مگر اللّه کا شکر ہے کوئی نا قابل تلافی نقصان نہیں ہوا ۔۔۔۔۔”وہ اور بھی کچھ کہنے والی تھیں مگر اتنے سے ہی انکشاف نے ہانی کے اوسان خطا کر دیے تھے ۔بے جان ہوتی ٹانگوں کے ساتھ اس نے دروازے کا سہارا لینا چاہا تھا جب کھٹکے کی آواز پر وہ دونوں بھی ایک ساتھ پیچھے مڑی تھیں ۔اور وہاں ہلدی کی سی زرد رنگت لئے غم و صدمے سے نڈھال ہانی کو دیکھ کر ان کے اپنے حواس سلب ہونے لگے تھے ۔یہ سب اسے ایسے نہیں معلوم ہونا چاہیے تھا ۔اس طرح سے تو بالکل بھی نہیں ۔آنسہ پہلے حرکت میں آئی تھیں جا کر اسکو جلدی سے تھاما تھا ورنہ وہ زمین بوس ہو چکی ہوتی ۔اسکا وجود ٹھنڈا پڑنے لگا تھا ۔بڑی مشکل سے اسے تھام کر انھوں نے کرسی تک لاتے بٹھایا تھا ۔
“ہانی بیٹا !کچھ بھی نہیں ہوا سب ٹھیک ہے ۔کچھ بھی نہیں ہوا ۔”اسکے پاس کھڑے اسے خود سے لگاتے وہ اسکے ڈھکے سر کو سہلا رہی تھیں ۔بھل بھل آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کے ساتھ اسکے حواس تحلیل ہونے لگے تھے ۔ایک عرصے سے جو خدشات اس کے ساتھ پروان چڑھ رہے تھے اب پھن پھیلائے کسی ناگ کی طرح اسے ڈس رہے تھے ۔بہت چھوٹی سی عمر میں ہی اس نے خود کو بہت سینت سینت کر رکھنا شروع کیا تھا تو اسی لئے کہ کوئی بدنامی کوئی رسوائی اس کے تعاقب میں نہ آئے ۔مگر سب ندارد ہو گیا تھا ۔اسکی سبھی احتیاطیں ،اسکی ماں کی سبھی دعائیں ۔اسکی بد بختی نے اسے آن لیا تھا شاید یا اسکے باپ کے کرما نے ۔
یخ ٹھنڈے پڑتے وجود کے ساتھ اس پر کپكپاہٹ طاری ہوئی تھی ۔فائزہ وہیں کھڑی رہی تھیں ۔آنسہ بھاری دل سے انکو لا چارگی سے دیکھ رہی تھیں پھر ہانی کی طرف متوجہ ہوئی جو گھٹی گھٹی آواز میں رو رہی تھی ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
ندیم بیگ نے دروازے پر ہلکی سی دستک دی تھی ۔ابراھیم کل سے اپنے کمرے سے نہیں نکلے تھے ۔اب بھی کھڑکی کے پاس کھڑے چہرے پر کہیں پرچھائیاں لئے باہر دیکھ رہے تھے ۔ندیم آہستگی سے جا کر بھائی کے شانے سے شانہ ملا کر کھڑے ہوئے ۔انکی موجودگی پا کر ابراھیم نے چہرے پر ہاتھ پھیر کر نجانے ٹوٹ پھوٹ کے کون سے آثار مٹانے چاہے تھے ۔حالانکہ اس کی ضرورت نہیں تھی ۔وہ سب جانتے تو تھے ۔
“بھائی صاحب سنبھالیں خود کو ۔آپ ہی یوں ہمت ہار جائیں گے تو اس معاملے کو سلجھانا مشکل ہو جائے گا ۔” انکے شانے پر نرمی سے ہاتھ رکھے وہ تسلی آمیز لہجے میں بولے ۔ابراھیم نے انکی طرف نہیں دیکھا تھا ۔اتنی ہمت ہی نہیں پڑ رہی تھی ۔بیٹے نے جیسے کسی سے نظر ملانے لائق نہیں چھوڑا تھا ۔یوں لگتا تھا جیسے بیچ چوراہے میں کسی نے انکے منہ پر کالک مل دی ہو ۔ایک ہی تو بیٹا تھا ۔کتنی کوشش کی تھی اسے زمانے کی بری ہوا سے بچانے کی ۔مگر کیا ہوا نتیجہ تو کل رات کے دل دہلا دینے والے واقعے ہی نکلا تھا ۔انکی آنکھوں میں ایک بار پھر سے ضبط کی سرخی تیرنے لگی تھی ۔
“اب کچھ نہیں سلجھنے والا ندیم ۔میں تم سے معافی مانگتا ہوں میرے بھائی ۔میں نے غلط کیا جو ماہی کو بچپن میں ہی اس بے غیرت کے لئے مانگ لیا ۔تم یہ رشتہ ختم کر دو مجھے کوئی گلہ نہیں ہوگا تم سے ۔”
آج سے پہلے انکی آواز میں اتنی نقاہت و تهكن ندیم نے کبھی نہیں محسوس کی تھی ۔انکا دل بھائی کے لئے غمگیں ہوا تھا ۔
“بھائی صاحب ۔مجھے غلط مت سمجھئے گا ۔طهٰ سے غلطی ضرور ہوئی ہے مگر وہ اب بھی مجھے عزیز ہے ۔اگر ہانی کے ساتھ جو ہوا وہ سب نہ ہوتا تو یقین کریں میں کبھی یہ رشتہ ختم نہ کرتا ۔وہ جس عمر میں ہے وہاں چھوٹی موٹی غلطیاں ہو جاتی ہیں ۔مجھے پورا یقین ہے ہم سمجھائیں گے تو آئندہ وہ کسی نشہ آور چیز کا استعمال نہیں کرے گا اور نہ ہی وہ کوئی عادی نشئی ہے ۔ہمارے سامنے ہی تو ہوتا ہے ۔بس یار دوستوں میں بری سنگت میں بھی ہو جاتا کبھی اس طرح ۔مگر مسئله یہ ہے کہ ساتھ ہانی بھی جڑ گئی ہے ۔میں جانتا ہوں طهٰ خائن نہیں ہے نہ ہی اسکی نیت میں کوئی فتور ہے ۔ہمارے سامنے ہی تو پلا بڑا ہے بس ہوش و حواس میں نہیں تھا تو شیطان غالب آ گیا ۔مگر اب اس سب کا کوئی حل بھی تو نکالنا ہو گا ۔”
وہ بہت سنبھاؤ سے الفاظ کا چناؤ کر رہے تھے ۔انکے محتاط انداز پر پہلی بار ابراھیم نے چونک کے انہیں دیکھا تھا ۔
“کیا کہنا چاہتے ہو ندیم کھل کر کہو ۔”اپنا رخ بھائی کی طرف موڑا تھا ۔ندیم ذرا بھر گڑبڑائے پھر سنبھل گئے ۔
“بھائی صاحب میں یہ کہہ رہا تھا کہ طهٰ اور ہانی کا نکاح کر دیتے ہیں ۔” وہ بھائی کے چہرے پر ڈرتے ہوئے نظریں جمائے ٹھہر ٹھہر کر بولے تھے اور توقع کے عین مطابق ابراھیم کے چہرے پر نا گواری و غضب کے رنگ نماياں ہوتے گئے تھے ۔
“تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے ندیم ۔میں یہاں ماہی کی بھی اس سے بات ختم کرنے کا کہہ رہا ہوں اور تم چاہتے ہو کہ میں ہانی کے سر پر اسے مسلط کر دوں ۔”
انکی آواز ذرا سخت اور تیز ہوتی گئی تھی ۔ندیم نے بہت تحمل سے انکو سنا تھا ۔
“بات سمجھنے کی کوشش کیجئے ۔ایسی باتیں ڈھکی چھپی نہیں رہتی ۔کبھی نہ کبھی باہر نکل ہی آتی ہیں ۔اتنا سب ہونے کے بعد اگر ماہی کی شادی طهٰ سے ہوئی تو وہ دونوں بھی کبھی خوش نہیں ره پائیں گے ۔اور اگر طهٰ کی شادی کہیں اور کی بھی تو اسکی بیوی کو اگر کبھی بھنک پڑی تو کیا ہوگا ؟۔اور مسئله طهٰ کا اتنا بڑا نہیں ہے جتنا ہانی کا ہے ۔اسکی بھی تو کہیں نہ کہیں شادی کرنی ہی ہے ۔اگر یہ بات کبھی بھی کھلی تو اس کی زندگی پر اس کے کتنے سنگین اثرات مرتب ہوں گے کیا مجھے بتانے کی ضرورت ہے ؟۔پھر وہ دونوں کوئی غیر نہیں ہیں جو کبھی سامنا نہیں ہو گا ۔ایک ہی گھر میں رہتے ہیں ۔ہانی کی شادی ہو بھی جائے کہیں تو بھی رشتہ ایسا ہے کہ آمنا سامنا ہوتا رہے گا اس طرح تو وہ ساری عمر ایک دوسرے سے نظریں چراتے رہیں گے۔اس لئے کہہ رہا ہوں بھائی صاحب کسی مضبوط تعلق میں بندھ جائیں گے تو کم از کم یہ بات یہی دفن ہو جائے گی اور وقت سب سے بڑا مرہم ہے ایک وقت آئے گا جب وہ دونوں بھی اور ہم سب بھی اس بات کو بھول نہ بھی سکے تو کم از کم ہمارے ذہنوں میں اس کے نقش ضرور مدھم پڑ جائیں گے ۔”
بڑی تفصیل سے انھوں نے اپنا مطمع نظر انکے سامنے واضح کیا تھا ۔ابراھیم کے چہرے پر اب کی بار غصے کے بجائے سوچ کی لكیریں دیکھ کر انکو بھی ذرا تقویت ملی تھی ۔
“آپ سکون سے سوچیں اس بارے میں ۔ہمارے ہی بچے ہیں ۔انکی بہتری کے لئے یہ اقدام بہت ضروری ہو گیا ہے ۔”
کہہ کر بھائی کا شانہ ہولے سے دباتے وہ باہر نکل گئے تھے ۔اور ابراھیم سوچوں کی یلغار میں کہیں الجھ کر ره گئے ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
وہ صبح سے اپنے کمرے میں بند تھا کسی نے ایک بار بھی اس کے پاس آنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔دوپہر کو کھانا بھی فہد کے ہاتھ بھیجوا دیا گیا تھا ۔جسے اس نے دیکھا تک نہیں تھا ۔سہ پہر کے ساڑھے تین بج رہے تھے ۔وہ بستر سے اٹھا تھا ۔موبائل پر میسج ٹائپ کیا ۔سینڈ کرتے سلیپرز پہن کر خود کمرے سے باہر نکل گیا تھا ۔اوپری پورشن میں اس وقت کوئی بھی نہیں تھا ۔سب نیچے تھے ۔خود وہ چھت پر آ گیا تھا ۔گھر کے پچھلی جانب والی دیوار کے ساتھ وہ کھڑا تھا ۔ریلنگ پر ہاتھ رکھے وہ گھر کے پیچھے کی طرف نظر آتے میدان کو دیکھ رہا تھا ۔
کچھ دیر گزری تھی جب کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی تھی ۔اور ابھی دلوں میں اتنے فاصلے بھی نہیں آئے تھے کہ وہ اسکی آہٹ پہچان نہ پاتا ۔وہ مڑا تھا ۔سامنے مرجھائے ہوئے چہرے اور سوجی ہوئی آنکھوں والی ماہی کھڑی تھی ۔اسکے مڑنے پر وہ تیزی سے نظریں جھکا گئی تھی ۔مگر پھر بھی اسکا پھٹا ہونٹ سوجن زدہ ناک اور نیل و نیل ہوا چہرہ اسکی آنکھوں سے مخفی نہیں ره پایا تھا ۔وہ قدم قدم چلتا اس کے قریب آیا تھا ۔مناسب فاصلے پر کھڑے ہوتے اسکی نظریں اب بھی ماہی کے چہرے پر گڑھی ہوئی تھیں ۔سرد برف سی آنکھیں مگر ان میں سے پھوٹتی تپش سے اسے اپنا آپ جهلستا محسوس ہو رہا تھا ۔بے ساختہ اپنے دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی ۔
طهٰ نے چہرہ آسمان کی طرف کرتے ایک گہرا سانس تنگ سا سانس لیا تھا ۔جیسے آکسیجن گھٹ گھٹ کر سینے سے گزر رہی ہو ۔
“اتنی محنت کرنے کی کیا ضرورت تھی ۔ایک بار کہہ کر تو دیکھتی میں تمہارے راستے کا پتھر تو کبھی نہیں بنتا ۔” چہرہ موڑ کر اپنی آنکھوں کی نمی کو پیچھے دھکیلتے ہوئے وہ ہموار آواز میں کہہ رہا تھا مگر ماہی کی سانسیں بے ترتیب ہونے لگی تھیں ۔کیا اب بھی کوئی شبہ باقی تھا ۔وہ سب جانتا تھا اسکا احساس جرم کچھ اور بھی بڑھا تھا ۔
“مجھے لگا تم مجھے کبھی نہیں چھوڑو گے ۔”زكام زدہ سی آواز میں وہ بیٹھے گلے کے ساتھ کہہ رہی تھی ۔طهٰ نے خود ترسی کے تحت سر کو نفی میں ہلایا تھا ۔
“میں تمہیں خود سے باندھ ہی کب سکا جو چھوڑنے کی نوبت آتی ۔” اسکے الفاظ نے ماہی کی روح جیسے جسم سے کھینچی تھی ۔بعض نعمتیں ہوتی ہیں جو پاس ہوں تو قدر نہیں ہوتی پر جب چھین لی جائیں تو انکے انمول ہونے کا احساس دل کو کسی آکٹوپس کی طرح جکڑ لیتا ہے ۔
“مجھے معاف کر دو طهٰ ۔بہت بڑی غلطی ہو گئی ۔میں نے ایسا نہیں چاہا تھا قسم سے اتنا برا نہیں سوچا تھا ۔مگر یہ ہو گیا پلیز تم معاف کر دو ۔تم سب کو بتا دو سب سچ سچ ۔چپ کیوں ہو ؟۔بلکہ نہیں ۔۔۔میں خود گھر والوں کو سب سچ سچ بتا دوں گی ۔ میں بری ہوں تو سزا بھی مجھے ملنی چاہیے ۔” آنسوؤں سے تر گال صاف کرتے وہ اپنے حواس سے بے بہره ہوئی جا رہی تھی ۔کل رات سے ضمیر اس قدر ملامت کر چکا تھا کہ آنکھوں میں بسے سبھی خواب جیسے کہیں کھو گئے تھے ۔وہ بس روئے جا رہی تھی ۔ہانی کا سامنا کرنے کی ہمت وہ ابھی تک نہیں کر پا رہی تھی ۔
اپنی بات مکمل کر کے وہ تیزی سے مڑی تھی مگر طهٰ نے اسکی کلائی پکڑ کر اسے روک لیا تھا ۔وہ بے یقینی سے مڑ کر اسے دیکھنے لگی ۔اور طهٰ اس نے جس برق رفتاری سے اسکی کلائی پکڑی تھی اتنی ہی تیزی سے اسکے رکنے پر چھوڑ بھی دی تھی ۔خود وہ برہم نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔
“مذاق لگ رہا ہے تمہیں یہ سب ۔یا کوئی کھیل تماشہ ہے جو تم پہلے بنا سوچے سمجھے اتنے بڑے بڑے قدم اٹھا لو گی اور پھر جب دل ملامت کرے گا تو معافی مانگ لو گی اور بات ختم ۔” بھینچی ہوئی آواز میں وہ دبا دبا سا چینخ رہا تھا ۔ماہی کو اسکے سلگتے لب و لہجے سے پہلی بار خوف آیا تھا ۔وہ سن ہو کر ره گئی تھی ۔آنکھوں کی پتلیاں اسکے چہرے پر جم کر ساکن ہو گئی تھیں ۔
وہ سانس لینے کے لئے رکا تھا ۔گہرے گہرے سانس لیتے اس نے اپنے غصے کو کنٹرول کرنا چاہا تھا ۔پھر اسکی طرف ذرا جھک کر اسکی آنکھوں میں جھانکا تھا ۔اور ماہی کی احساس ہوا تھا اس نے کیا کھویا تھا ۔ان آنکھوں کی نرمی ،محبت کی گرمی اور اعتبار ۔اب وہ خالی تھیں ۔یہاں تک کہ اس کے لئے ان میں کچھ بھی نہیں تھا نفرت بھی نہیں ۔وہ اب اپنے چہرے کی طرف ہاتھ سے اشارہ کر رہا تھا ۔
“یہ دیکھ رہی ہو میرا حال ۔میں مرد ہوں مگر میری غلطی معاف نہیں کی گئی اور تم ۔۔۔۔تم لڑکی ہو کر اپنے جرم کا اعتراف کرنے چلی ہو ۔کیا لگتا ہے تمہیں سب بس ذرا سا ڈانٹیں گے اور بس معافی مل جائے گی ۔” وہ تمسخر آمیز لہجے میں کہتا استہزائیہ اس پر ہلکا سا ہنسا تھا ۔ماہی بت بنی اسے دیکھ رہی تھی ۔سب تھم سا گیا تھا وقت بھی ،احساسات بھی اور یہاں تک کہ اس کی آنکھ سے بہتے آنسو بھی ۔
“ایسا نہیں ہو گا ماہین بی بی ۔یہ داغ ساری عمر کے لئے تمہاری یہ روشن چمکتی پیشانی داغدار کر جائے گا ۔کسی سے نظریں ملانے لائق نہیں رہو گی تم ۔اور چاچو تو تمہارا گلا دبانے سے بھی دریغ نہیں کریں گے ۔”
اسکی آنکھوں میں اپنی سرد و سپاٹ آنکھیں گاڑھے وہ تلخ حقیقت اسکے منہ پر دے مار رہا تھا ۔اس کا خوف کے مارے گلہ خشک ہوا تھا ۔یہ سب تو اس نے سوچا بھی نہیں تھا ۔وہ پہلے بھی بنا سوچے سمجھے ایک قدم اٹھا چکی تھی ۔سنگینی کا اندازہ تو نتیجہ نکلنے پر ہوا تھا ۔اب ایک بار پھر وہی دوہرانے جا رہی تھی ۔
“تو کیا کروں میں ؟” اسکی حسرت بھری پشیمان آواز پر طهٰ کو جیسے ہوش آیا تھا ۔اپنی نظریں اسکے چہرے پر سے ہٹاتے اس نے سر جھٹکا تھا ۔
“کچھ مت کرو اب ۔جتنا کر لیا ہے کافی ہے ۔قوی امکان ہے گھر والے میرے نام کی بیڑی سے تمہارے پاؤں آزاد کر دیں گے ۔میری طرف سے تم آزاد ہو ۔جاؤ اور پورے کرو اپنے سبھی خواب جو میرے ساتھ کبھی نہیں ہو سکتے تھے ۔” یہ کہتے ہوئے اسکی آواز بھی اس کے چہرے کے جیسی ہو گئی تھی ۔ہر تاثر سے پاک ،برف سی ،ٹھنڈی اور ہر احساس کی گرمی سے عاری ۔
“مجھے معاف کر دو ۔” ماہی نے اپنے کپكپاتے ہاتھ اس کے آگے جوڑ دیے تھے ۔وہ بزدل تھی اپنے گناہ کو سب پر آشکار نہیں کر سکتی تھی مگر اس سے معافی تو مانگ سکتی تھی ۔کل رات کو جو سلوک اسکے ساتھ ہوا تھا اسے یاد کر کے ہی اس کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے ۔طهٰ نے صرف ایک نظر اس کو دیکھا تھا ۔بھیگا آنسوؤں سے تر چہرہ جو کبھی کل کائنات لگا کرتا تھا ۔آج بیگانہ سا لگنے لگا تھا ۔وہ نظریں ہٹا گیا تھا ۔
“معاف کیا ۔بس ایک گلہ ہے تم سے ۔تم مجھے سمجھ نہیں سکی ۔کاش تم کہہ دیتی سب تو یہ قیامت نہیں آتی ۔میں خود تمہارے راستے سے ہٹ جاتا ۔میں رشتوں میں زور زبر دستی کا قائل نہیں ہوں جب تمہارا دل نہیں خود سے جوڑ پایا تو خالی وجود پر اجارہ داری حاصل کر کے کیا کرنا تھا میں نے ۔” ماہی کو اسکی آواز میں اتنی دیر میں پہلی بار درد کی کیفیت رچی محسوس ہوئی تھی ۔اپنی بات مکمل کرتے بنا اسے دیکھے وہ تیزی سے اسکے پاس سے گزر گیا تھا ۔
اور وہ وہیں کھڑی ره گئی تھی خالی ہاتھ اور شاید خالی دل کے ساتھ ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
شام میں سب لیونگ ایریا میں بیٹھے ہوئے تھے ۔فہد اسے بلانے گیا تھا ۔وه اسکے پیچھے چلتا ہوا سیڑھیاں اتر کر آیا تھاپہلی نظر ہی سیڑھیوں کے ایک طرف اپنے کمرے کے دروازے کے پاس دیوار سے ٹیک لگائے کھڑی ماہی پر پڑی تھی ۔اسکے چہرے پر گھلی زردی بہت نماياں تھی اور حالت یوں تھی جیسے سانپ سونگھ گیا ہو ۔طهٰ نے نگاہ پھیری چھوٹے چھوٹے قدم چلتا وہ آگے بڑھا تھا ۔بڑے صوفے پر بھینچے ہوئے جبڑے کے ساتھ ابراھیم بیٹھے ہوئے تھے اور انکے ساتھ ندیم ۔دوسرے سنگل صوفے پر فائزہ بیٹھی ہوئی تھیں اور انکے پیچھے آنسہ کھڑی تھیں ۔
“بیٹھو طهٰ ۔” اسے دیکھ کر ندیم نے کہا تھا ۔سر جھکا کر وہ فائزہ کے سامنے والے دوسرے سنگل صوفے پر بیٹھ گیا ۔ابراھیم نے اس کی جانب سے چہرے کا رخ موڑ لیا تھا یہ بات جھکی آنکھوں کے باوجود اس نے محسوس کر لی تھی ۔
“کل جو بھی ہوا اس کے بعد ہم سب نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ۔۔۔۔تمہارا اور ام ہانی کا نکاح کر دیا جائے ” کچھ دیر بعد انکی صور پھونکتی آواز اسکے کانوں میں پڑی تھی اور اسے اپنی سماعت پر شک گزرا تھا ۔تیزی سے سر اٹھا کر بے یقینی بھری نظروں سے ندیم کی جانب دیکھا تھا مگر انکے چہرے پر پھیلے سکون نے اسے بے سکون کر دیا تھا ۔سانس بند ہونے لگی تھی ۔چہرے کا رنگ بری طرح متغیر ہوا تھا ۔سر بے اختیار ہولے سے نفی میں حرکت کرنے لگا تھا ۔یہ نا قابل یقین تھا اور اس سے بڑھ کر نا قابل قبول ۔ام ہانی کا نام ہی اس کے اعصاب پر ہتھوڑا بن کر برسا تھا ۔اسکے الفاظ کھو گئے تھے ۔مگر چہرے کے تاثرات کے بعد الفاظ کی ضرورت باقی بھی نہیں رہی تھی ۔ندیم نرم آواز میں اسکو سمجھانے کے سے انداز میں ایک بار پھر گویا ہوئے تھے ۔
“دیکھو طهٰ ۔جو ہوا برا ہوا مگر اب اسکا کوئی سدباب بھی تو کرنا ہے ۔ہانی معصوم ہے ایسی باتیں چھپی نہیں رہتی کبھی نہ کبھی باہر آ ہی جاتی ہیں ۔پھر اسکے لئے بہت سے مسائل کھڑے ہو جائیں گے ۔اس لئے ہمیں یہی بہتر لگا کہ ۔۔۔”
“میں ایسا کچھ نہیں کروں گا ۔” انکی بات پوری ہونے سے پہلے ہی وہ بول اٹھا تھا ۔بلکہ دبا دبا سا چینخ اٹھا تھا ۔سب نے ایک ساتھ اسکی طرف دیکھا تھا ۔جو گہرے سانس لیتا جیسے اپنے آپ کو کمپوز کر رہا تھا ۔اسے اپنا دماغ شل ہوتا محسوس ہونے لگا تھا ۔
“تم میں اب بھی اتنی اخلاقی جرات ہے کہ یوں بات کر سکوں ؟” ابراھیم ایک دم سے آپے سے باہر ہوتے اٹھ کھڑے ہوئے تھے ۔وہ پہلے ہی دل پر پتھر رکھ کر یہ فیصلہ کر پائے تھے ۔اور اسکی یہ دیدہ دلیری اب انھیں مشتعل کرنے لگی تھی ۔ندیم نے فوری اٹھ کر انکو تھاما تھا ۔فائزہ بھی اپنی جگہ سے پریشان حال سی اٹھ کھڑی ہوئی تھیں ۔طهٰ سرخ چہرے کے ساتھ آنکھیں جھکا کر چہرے موڑ گیا تھا ۔
“بھائی صاحب آرام سے ۔میں سمجھا رہا ہوں اسکو آپ غصہ مت کریں ۔بی پی پہلے ہی ہائی ہو رہا ہے ۔” ہانپتے ہوئے بڑے بھائی کو تھامتے ندیم ملتجی سے کہہ رہے تھے ۔انھوں نے غصے میں انکا ہاتھ بھی جھٹک دیا تھا ۔
“اس جیسی اولاد ہو تو ماں باپ کو قبر تک پہنچا کر ہی آرام کرتی ہے ۔اور تم کیا سمجھاؤ گے اسے ۔کوئی شرم و حیا اسکی آنکھوں میں رہی ہی کب ہے جو یہ کچھ سمجھے گا ۔تم اسے اچھے سے باور کروا دو ندیم ۔آج رات ہی اسکا نکاح ہو گا اور میں دیکھتا ہوں کیسے اب یہ اپنی من مانیاں کرتا ہے ۔” گرج دار آواز میں کہتے وہ وہاں سے نکل گئے تھے ۔اور طهٰ کے پاؤں تلے سے ایک لمحے کے لئے تو زمین سرک ہی گئی تھی ۔اتنی بے بسی ،اتنی ذلت یہ سب وہ کیسے برداشت کر پائے گا ۔اسکی ہمت ابھی سے جواب دینے لگی تھی ۔یہ راہ پر خار ہو گی جانتا تھا مگر اتنی ہو گی یہ علم تو اب ہو رہا تھا ۔
فائزہ چل کر اسکے سامنے آئی تھیں اسکے سامنے زمین پر گھٹنے ٹیک کر بیٹھیں تو وہ چونک کر جیسے ہوش میں آیا تھا ۔بھیگی آنکھوں کے ساتھ انھوں نے منہ سے ایک لفظ نہیں کہا تھا بس اس کے آگے اپنے کانپتے ہاتھ جوڑ دیے تھے ۔اور طهٰ کو لگا تھا ایک اور قیامت اسکی منتظر کھڑی تھی ۔اسکی آنکھوں سے آنسو موتی کی طرح ٹوٹ کر گال پر بہہ نکلا تھا ۔اپنی آنکھوں کو سختی سے میچ کر اس نے اپنا نچلا ہونٹ بے دردی سے کچل ڈالا تھا ۔اس میں اتنی ہمت بھی نہیں تھی کہ ہاتھ بڑھا کر انکے بندھے ہاتھ کھول پاتا ۔
“یہ میرے جڑے ہاتھ دیکھو طهٰ ۔اس گھر کو مزید طوفانوں کی نذر مت کرو ۔پہلے ہی جو نقصان ہوا ہے اسکی بھرپائی میں سالوں لگ جائے گے ۔اپنے ابو کی بات مان لو بیٹا ۔” اپنے ہی جڑے ہاتھوں پر سر رکھ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھیں ۔طهٰ سرعت سے اٹھتا انکے پاس سے احتیاط سے کترا کر گزرتا تیزی سے سیڑھیاں چڑھ گیا تھا ۔ماہی کی خالی خالی نظروں نے آخر تک اسکا پیچھا کیا تھا ۔
اپنے کمرے میں بیڈ پر بیٹھے من وعن باہر ہو رہی ساری گفتگو ہانی نے بھی سنی تھی ۔گھٹنوں کے گرد بازو لپیٹے وہ بہت سارا رونے کے بعد خشک ہوئی آنکھوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی ۔
کچھ دیر پہلے ہی تو ابراھیم بیگ اس کے پاس آ گئے تھے ۔اپنا لرزتا ہاتھ اسکے سر پر رکھے وہ شرمسار سے نظریں چرائے ہوئے کھڑے تھے ۔انکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی ۔اسکی نظریں اٹھ نہیں پا رہی تھیں ۔وہ بے قصور تھی مگر پھر بھی اس کی نگاہیں ندامت کے احساس سے جھکی ہوئی تھیں ۔وہ دونوں ایک دوسرے سے نظریں نہیں ملا پا رہے تھے ۔
“مجھے معاف کر دینا بیٹا ! میں اپنے ہی گھر میں تمہاری حفاظت نہیں کر پایا ۔”
انکی ندامت بھری آواز پر اس نے بے اختیار سر نفی میں ہلایا تھا ۔
وہ خاموش ہو گئے تھے مگر وہ طوفان سے پہلے کی خموشی تھی انکی اگلی بات نے اسکے جسم سے روح کھینچ لی تھی ۔
دماغ سنسنا اٹھا تھا ۔وہ پھٹی آنکھوں سے انکی طرف چہرہ اٹھا کر دیکھنے لگی تھی ۔وہ ایسا کہہ بھی کیسے سکتے تھے ۔طهٰ اور اسکا نام ایک ساتھ لے بھی کیسے سکتے تھے ۔اور اسے خود پر حیرت ہوئی تھی وہ پے در پے خود پر آتی ان ناگہانی آفات کو جھیل کیسے رہی تھی ۔
وہ زور زور سے چینخ چینخ کر رونا چاہتی تھی مگر وہ ایسا بھی نہیں کر سکی تھی ۔فیصلہ ہو چکا تھا ۔دیکھتے ہی دیکھتے کچھ ہی دیر میں اسکے نام کے ساتھ طهٰ کا نام جڑ گیا تھا ۔محلے کے تین چار مرد حضرات کو بلایا گیا تھا ۔سب اس قدر ہڑبڑی پر حیران تھے مگر مرد تھے اس لئے کوئی چہ میگوئیاں نہیں کی گئی تھیں عورتیں ہوتیں تو ہال کمرہ مکھیوں کی طرح بھنبھنا اٹھتا ۔
طهٰ کی ظاہری حالت کو ایکسیڈنٹ کا نام دیا گیا تھا ۔سپاٹ چہرے کے ساتھ بنا کسی بھی جزبے سے مغلوب ہوتے دھڑا دھڑ اس نے سائن کر دیے تھے ۔اور جس لمحے نکاح نامہ کمرے میں آیا تھا تو ام ہانی نے لرزتے ہاتھ اور ڈبڈبائی آنکھوں سے سائن کرتے ہوئے سامنے کھڑی ماہی سے بہت دور بھاگ جانے کی شدت سے خواہش کی تھی ۔وہ بلا ارادہ غاضب بن بیٹھی تھی ۔ماہی نے نم آنکھوں سے اسے سائن کرتے دیکھا تھا ۔دل کو ایک بے نام سی بے چینی نے آن گھیرا تھا جسے وہ کوئی نام نہیں دے پائی تھی ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
طهٰ اپنے کمرے میں قید ہو کر ره گیا تھا ۔وہ گھر سے نکلنا تو دور کمرے سے بھی نہیں نکل رہا تھا ۔اور سب نے بھی جیسے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا تھا ۔ابراھیم نے سب کو اس سے کسی قسم کی بھی بات کرنے سے منع کر دیا تھا ۔وہ چاہتے تھے وہ کچھ وقت اکیلا رہے تاکہ اپنی غلطیوں کا ادراک حاصل کر سکے ۔اس نئے بنے رشتے کو قبول کر سکے ۔نکاح بھی فوری طور کرنے کا یہی مقصد تھا تاکہ وہ دونوں ہی اس کو قبول کر سکیں ۔وقت اور حالات کچھ سنبھلتے تو ہی رخصتی کی جاتی ۔مگر وہ نہیں جانتے تھے یہ صرف انکی خام خیالی ثابت ہونے والی ہے ۔
سب کے رویوں نے طهٰ کو بری طرح سے توڑ پھوڑ کا شکار کیا تھا ۔اسکی ذہنی رو منتشر ہو کر ره گئی تھی ۔اسے تین وقت کا کھانا کمرے میں دیا جاتا تھا ۔کوئی ٹھیک سے اس سے بات نہیں کرتا تھا ۔ہانی سے اسکا ایک بار بھی سامنا نہیں ہوا تھا ۔اور ماہی وہ خود اس سے چھپتی پھر رہی تھی ۔اس گھر میں اس کی سانس لینا جیسے ہر گزرتے پل کے ساتھ مشکل ہوتا جا رہا تھا ۔
وہ جیسے پوری دنیا سے حالت جنگ میں تھا اور سب سے زیادہ شاید خود سے ۔اپنی چپ سے اس نے ماہی کو تو بچا لیا تھا مگر اس کی بڑی بھاری قیمت چکائی تھی ۔اپنا وقار ،اپنا کردار کھو دیا تھا ۔
فائزہ اور ابراھیم کی بے اعتباری نے اسے بہت گہری چوٹ پہنچائی تھی ۔بے شک وہ اپنی صفائی میں کچھ نہیں بولا تھا ۔مگر وہ انکا بیٹا تھا ۔انھیں اپنی تربیت پر ذرا یقین تو ہونا چاہیے تھا ۔اس سے پوچھنا تو چاہیے تھا ۔سب خود سے ہی فرض کر کے اسے گناہ گار جب تسلیم کر ہی لیا گیا تھا تو وہ کیوں وضاحتیں پیش کرتا ۔
اسکی ضد بڑی غلط جگہ آڑے آئی تھی ۔ہونٹوں پر فقل لگا کر اس چپ کو کھولنے والی چابی اس نے کھو دی تھی ۔جتنا برا ہونا تھا ہو چکا تھا ۔اب اس سے بڑھ کر کوئی قیامت آنی بھی نہیں تھی ۔وہ بھی آہستہ آہستہ اپنے ٹوٹے مان کی کرچیاں سمیٹنے لگا تھا ۔کل ہی اسے میل موصول ہوئی تھی ۔لاہور کی ایک نجی فرم میں اپنے دوست کے توسط سے اسے جاب مل گئی تھی۔اس دن کا اسے بے تابی سے انتظار تھا مگر اب جب جاب مل گئی تھی تو خوشی کا کوئی احساس نہیں جاگا تھا ۔نہ ہی اس نے اس بارے میں کسی کو بھی بتایا تھا ۔
تین دن بعد وہ صبح ناشتے کے وقت کمرے سے باہر نکلا تھا ۔ناشتے کی ٹیبل پر سب موجود تھے ۔خاموشی تو پہلے ہی تھی اسے دیکھ کر مزید سب کو سانپ سونگھ گیا تھا ۔اس نے بھی ایک نگاہ کے بعد دوسری نگاہ کسی پر ڈالنے کا تردد نہیں کیا تھا ۔
“کہاں جا رہے ہو ؟” اسکے بڑھتے قدم ابراھیم کی سپاٹ آواز پر رکے تھے ۔مگر وہ سامنے ہی دیکھتا رہاتھا ۔
“باہر ۔” بدلے میں بے تاثر سی آواز میں مختصر جواب دیا گیا تھا ۔
“کوئی ضرورت نہیں ۔پھر جاؤں گے اپنے ان آوارہ دوستوں میں ۔کوئی نیا گل کھلانا باقی ہے کیا ؟” انکی درشت آواز میں ناگواریت تھی ۔طهٰ کو ان کے الفاظ کسی کوڑے کی طرح لگے تھے ۔سب ہاتھ روکے کبھی ابراھیم تو کبھی اسے دیکھ رہے تھے ۔
“تو کیا چاہتے ہیں آپ ۔گھر میں بند ہو کر بیٹھ جاؤں ۔باہر نکلنا چھوڑ دوں ؟” پہلی بار رخ موڑ کر انکی طرف گھومتے وہ تیز تیز بولتا چلا گیا تھا ۔اٹھے سر اور بے خوف آنکھیں ۔ہر احساس ندامت سے صاف و شفاف آنکھیں ۔اسکے اندر کا غبار اب ضبط کی طنابیں توڑنے لگا تھا ۔آواز میں بغاوت در آئی تھی ۔ابراھیم ٹھٹکے تھے ۔
“تم میں اتنی اخلاقی جرات ھے کہ تم یوں سر اٹھا کر اس طرح بات کر سکوں ۔ایک بار بھی ندامت کا احساس جاگا ھے کہ ضمیر ہی مر کھپ گیا ھے ۔اپنے کیے پر کوئی پچھتاوا کوئی معافی مانگنے تک کی تو توفیق نہیں ہوئی تمہیں ۔اور تن کر یوں کھڑے ہو جیسے دنیا فتح کر آئے ہو ۔” اپنی کرسی سے اٹھ کر اسکی طرف آتے وہ سرد لہجے میں اسے سرزنش کر رہے تھے ۔باقی سب بھی انکے پیچھے اٹھتے چلے گئے تھے سوائے ہانی کے ۔وہ چہرہ جھکائے ہنوز بیٹھی تھی ۔ہاتھ میں تھاما نواله وہیں پلیٹ میں دھرا ره گیا تھا ۔طهٰ کے سبھی زخم جیسے پھر سے ہرے ہوئے تھے ۔تکلیف کا احساس پورے وجود میں سرایت کر گیا تھا ۔مگر وہ بے حس بن گیا ۔اسکے اندر دبا اشتعال باہر کا راستہ دیکھ چکا تھا ۔باقی ہر احساس دبتا چلا گیا ۔
“نہ تو مجھے کوئی پچھتاوا ھے اور نہ میں کبھی معافی مانگوں گا ۔” انکی طرف دیکھتے وہ دو بدو بولا تھا ۔ابراھیم کے ساتھ ساتھ فائزہ ،ندیم ،آنسہ اور ماہی سب اسے بے یقین نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔وہ آج تک باپ کے سامنے یوں تن کر کھڑا نہیں ہوا تھا ۔نہ کبھی اسکی نگاہیں اٹھی تھیں جواب دینا تو دور کی بات ہے ۔ابراھیم صاحب کی برداشت جواب دینے لگی تھی ۔
“دفع ہو جاؤ میری نظروں سے ورنہ میں کچھ کر گزروں گا ۔” اپنے غصے پر قابو پاتے وہ دبی ہوئی آواز میں بولے تھے ۔کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی انکے درمیاں آ پاتا ۔سب بت بن کر ره گئے تھے ۔انکے الفاظ پر وہ بلبلا اٹھا تھا ۔چہرہ دھواں دھواں ہوا تھا ۔
“ہو جاؤں گا دفع بلکہ خوش ہو جائیں آپ ۔میں یہ گھر ہی چھوڑ کر چلا جاؤں گا ۔” جو فیصلہ وہ پچھلے کہیں دن سے نہیں کر پا رہا تھا لمحے میں ہو گیا تھا ۔مزید ذلت اب برداشت سے باہر تھی ۔اسکی بات پر سب جہاں کے تہاں کھڑے ره گئے تھے ۔فائزہ نے اپنی سسکی روکنے کو اپنے منہ پر ہاتھ رکھا تھا ۔
“کل کے جاتے آج جاؤ ۔جب در در کی ٹھوکریں کھاؤ گے تب عقل ٹھکانے آئے گی ۔”
رعونت سے کہتے وہ اسے مزید سلگا گئے تھے ۔وہ تیزی سے واپس سیڑھیوں کی جانب بڑھا تھا ۔فائزہ نے اسے روکنے کو قدم آگے بڑھائے تھے مگر ابراھیم کی آواز پر وہ تھم گئیں ۔
“رک جاؤ فائزہ جانے دو اسے ۔میں بھی دیکھتا ہوں کتنے دن ره پائے گا یہ اپنے ۔کوئی بھی اسے نہیں روکے گا سمجھے تم سب ۔” انکو کہتے ہوئے وہ سب کو تادیبی نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔طهٰ کے قدم تھمے تھے انکے الفاظ پر نہیں بلکہ ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھے واحد وجود کو دیکھ کر ۔سبھی خسارے اسکے حصے میں کیوں آئیں ۔ایک ہی پل میں فیصلہ کرتے وہ مڑا تھا ۔
“میں اکیلا نہیں جاؤں گا ۔میری بیوی میرے ساتھ جائے گی ۔” بہت ہی اطمینان سے وہ ہلکا سا مسکرا کر بولا تھا ۔ابراھیم کے چہرے پر پہلی بار غصے کے ساتھ ساتھ بے چینی و فکر مندی کے تاثرات نمودار ہوئے تھے ۔سب اس کی اس نئی پھلجڑی پر ہق دق اسے دیکھنے لگے تھے ۔
اور جس کی بات کی جا رہی تھی وہ کرنٹ کھا کر اٹھی تھی ۔سب کی نظریں اس پر گئی تھیں سوائے طهٰ کے جو اب بھی بظاہر پر سکوں سا باپ کا چہرہ دیکھ رہا تھا ۔تیز تیز قدموں سے چلتی وہ ابراھیم تک آئی تھی پھر انکے کندھے کے پیچھے چھپ سی گئی تھی
“میں کہیں نہیں جاؤں گی مامو ۔” اسکی مدہم کانپتی سی آواز بمشکل سنائی دی تھی ۔ابراھیم استہزائیہ سے مسکرائے تھے ۔
“سن لیا ۔ام ہانی تمہارے ساتھ نہیں جائے گی ۔” اپنے ایک ایک لفظ پر زور دیتے وہ کہہ رہے تھے ۔طهٰ کا اہانت سے چہرہ سرخ ہوا تھا ۔
“میں نے کہا میری بیوی میرے ساتھ جائے گی تو مطلب جائے گی ۔اور اگر نہیں جائے گی تو ۔۔۔۔۔تو پھر بیوی نہیں رہے گی ۔” اسکی ضد ،غصہ اور ذہنی انتشار اس قدر اس پر حاوی تھے کہ وہ کچھ بھی سوچنے سمجھنے کی پوزیشن میں نہیں رہا تھا ۔اسکے الفاظ نے سبھی کو ششدر کر دیا تھا ۔
“کیا بکواس کر رہے ہو ۔” ابراھیم کی آواز لڑکھڑائی تھی ۔
“سچ کہہ رہا ہوں یا تو یہ میرے ساتھ جائے گی یا پھر میں اسے طلاق دے کر جاؤں گا ۔”
وہ اسی اطمینان سے کہہ رہا تھا جیسے یہ کوئی بڑی بات نہ ہو ۔وہاں موجود ہر فرد کے چہرے کا رنگ متغیر ہوا تھا ۔اور ام ہانی . . . . اس کی سانس بند ہونے لگی تھی ۔منظر بدلنے لگا تھا اسکی جگہ اسکی ماں کھڑی تھی ۔محلے کے لوگ سب یوں ہی کھڑے تھے ۔اور اسکا باپ اسکی ماں کو سب کے سامنے طلاق کا طوق پہنا گیا تھا ۔وہ ساری عمر پاکیزہ بننے سے ڈرتی رہی تھی ۔اور آج وہی ڈر خون آشام بلا بنا اس کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا ۔
“تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی یہ بکواس کرنے کی ۔”ابراھیم بپھر کر آگے بڑھے تھے ۔جب ندیم نے انھیں تھام لیا ۔
“کیا کر رہے ہیں بھائی صاحب ۔طهٰ کیا ہو گیا ہے تمہیں ۔بیٹھو ہم آرام سے بات کر لیتے ہیں ۔”
“اب کوئی بات نہیں ہوگی چاچو صرف فیصلہ ہو گا ۔ہاں یا ناں۔آج ہر حساب بے باک ہو ہی جائے تو اچھا ہے ۔۔۔۔۔”
“میں چلوں گی ۔” اسکی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی ہانی کی بھیگی ہوئی آواز گونجی تھی ۔ابراھیم نے بے یقین نظروں سے اسے دیکھا تھا ۔طهٰ فتح یاب سا مسکرا اٹھا ۔
“تم کہیں نہیں جاؤں گی ہانی ۔یہ اپنے ساتھ ساتھ تمہیں بھی ذلیل و خوار کروائے گا ۔” ابراھیم اس سے کہہ رہے تھے ۔
“مجھے جانے دیں مامو پلیز ۔مجھے پاکیزہ نہیں بننا ۔” روتے ہوئے سرنفی میں ہلا کر وہ التجا کر رہی تھی ۔ابراھیم نے بے بسی سے اسے دیکھا تھا ۔طهٰ کے جانے پر انھیں کوئی فکر نہیں ہوئی تھی ۔انھیں لگتا تھا وہ کچھ دن اپنے کسی دوست کے پاس ره کر واپس آجائے گا ۔مگر ہانی ۔۔۔۔۔اسے کیسے اسکے ساتھ جانے دیتے ۔
“ایسا کچھ نہیں ہوگا بیٹا ۔میں یقین دلاتا ہوں تمہیں ۔یہ ایسا کچھ نہیں کرے گا ۔میں جان سے مار دوں گا اسے ایسا کچھ بھی کرنے سے پہلے ۔” اسے نرمی سے سمجھاتے وہ آخر میں تند و تیز نظروں سے طهٰ کو گھور کر ره گئے ۔
“تمہارے پاس پندرہ منٹ ہیں ۔”بنا نام لئے ام ہانی سے کہتا وہ تیزی سے سیڑھیاں چڑھ گیا تھا ۔
بنا کچھ بھی کہے مرے مرے قدموں سے ہانی اپنے کمرے کی طرف بڑھی تھی ۔
“یاد رکھنا ام ہانی ۔اگر آج اس گھر کی دہلیز تم نے پار کی تو میں یہی سمجھوں گا میرے لئے بہن کے ساتھ ساتھ بھانجی بھی مر گئی ۔” انکی ناراضگی بھری آواز نے اسے دوہری اذیت سے ہمکنار کیا تھا ۔وہ پہلے ہی پل صراط پر چل رہی تھی ۔اس بات نے تو اسے اور بھی شکستہ و پسپا کر دیا تھا ۔آنکھیں میچتے اسکے ہونٹوں سے اک ٹوٹی ہوئی سسکی برآمد ہوئی تھی۔ان باپ بیٹے کی انا کی جنگ میں وہ بے گناہ پس کر ره گئی تھی ۔مگر فیصلہ اسے کرنا تھا ایک پل کے لئے اس نے سوچا تھا اور پھر وہ آگے بڑھ گئی تھی ۔
ابراھیم نے اسے جاتے دیکھا تھا ۔دکھ کے ساتھ اور اس سے بڑھ کر بے یقینی کے ساتھ ۔اپنی شکستگی اور آنکھوں کی نمی چھپانے کو وہ خود لمبےلمبے ڈگ بھرتے ہوئے کمرے میں داخل ہوتے دروازہ بند کر گئے تھے ۔
فائزہ کے ساکت وجود میں جنبش ہوئی تھی ۔وہ دوڑ کر جیسے سیڑھیوں کی جانب بڑھی تھیں ۔طهٰ کے کمرے تک جاتے انکی سانسیں اتھل پتھل ہو گئی تھیں ۔کھلے دروازے سے وہ اپنے کپڑے بیگ میں رکھتا نظر آیا تھا ۔وہ تیزی سے اس تک آئی تھیں ۔
“یہ کیا پاگل پن ہے طهٰ ۔مت جاؤ بیٹا ۔یوں ماں کو چھوڑ کر مت جاؤ ۔” اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لے کر وہ زار وقطار روتے ہوئے کہہ رہی تھیں ۔طهٰ نے بڑی دقت سے آنکھوں کی نمی کو پیچھے دهكیلا تھا ۔انکے ہاتھ اپنے چہرے پر سے ہٹاتے اس نے نظریں بھی پھیر لی تھیں ورنہ وہ کمزور پڑ جاتا جو وہ نہیں چاہتا تھا ۔اسکا یہاں سے چلے جانا ہی بہتر تھا اس کے لئے بھی اور اس سے بڑھ کر ماہی کے لئے ۔ورنہ وہ یوں ہی اسے دیکھ دیکھ کر احساس جرم کا شکار رہتی ۔
“مجھے جانے دیں امی یہاں رہا تو سانس رک جائے گی میری ۔دل بند ہو جائے گا اور کسی دن گھٹ گھٹ کر مر جاؤں گا ۔” جس اذیت بھری لا چارگی سے اس نے کہا تھا انکے آنسو بھی تھم کر ره گئے تھے ۔اس کے سینے سے لگیں وہ چپ کر گئیں تھیں ۔
جس وقت وہ ہانی کے کمرے میں آئی تھیں ۔وہ بیڈ پر بیٹھی رو رہی تھی ۔آنسہ اسے چپ کروا رہی تھی مگر آنسو انکے بھی بہہ رہے تھے ۔ماہی ایک طرف کھڑی نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔
“آنسہ اس کے کپڑے وغیرہ پیک کر دو ۔”بھرائی ہوئی آواز میں کہتے وہ انکی سبھی امیدیں توڑ گئی تھیں جو انکو طهٰ کے کمرے میں جاتا دیکھ انھوں نے باندھ لی تھیں ۔
ہانی کو خود سے الگ کرتے وہ دکھی دل کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوئی تھیں ۔ہانی کے سامنے بیٹھ کر فائزہ نے اسکے چہرے پر چپکے بال پیچھے کیے ۔پھر اپنے ہاتھوں سے اسکا گیلا چہرہ صاف کیا ۔وہ انکے گلے لگ کر بلک بلک کر روئی تھی ۔
“اسکا خیال رکھنا ہانی ۔وہ لا پرواہ ہے خود سے ۔مگر تم میری اچھی بیٹی ہو ۔اپنی امی کی یہ بات مان لینا بیٹا ۔”
روتے ہوئے وہ اس سے التجا کر رہی تھیں ۔
کچھ دیر بعد جب وہ دونوں گھر سے نکلے تھے تو ہر آنکھ نم تھی ۔ندیم نے اسے روکنے کی کوشش کی تھی مگر وہ نہیں مانا ۔ماہی اپنے کمرے کی چوکھٹ پر کھڑی روتی آنکھوں سے اسے دور جاتا دیکھتی رہی تھی مگر طهٰ نے اک نگاہ غلط بھی اسکی جانب نہیں کی تھی ۔ہانی نے برستی آنکھوں سے ابراھیم کے کمرے کا بند دروازہ دیکھا تھا ۔اور پھر وہ اسکی سنگت میں وہ دہلیز پار کر گئی تھی ۔
