Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah e Yaar Teri Musaftein (Episode 11)Part 1,2

Raah e Yaar Teri Musaftein by Umme Abbas


سانس روکے پھٹی آنکھوں سے وہ دنگ ہوئی کھڑی کی کھڑی ره گئی تھی ۔ہوش تب آیا تھا جب فائزہ نے خود آگے بڑھ کر اسے گلے لگایا تھا ۔تو یہ سب حقیقت تھی ۔وہ جاگتی آنکھوں سے خواب نہیں دیکھ رہی تھی ۔تیزی سے نم ہوتی آنکھوں کے ساتھ وہ مسکرائی تھی ۔اپنے ہاتھوں کا ان کے گرد مضبوطی سے حصار کرتے منہ انکے شانے میں دھنسائے وہ بیک وقت رو بھی رہی تھی اور مسکرا بھی رہی تھی ۔اور آنسو تو فائزہ کی آنکھوں سے بھی رواں تھے ۔
بہت دیر بعد خود سے الگ کرتے انھوں نے اسکی پیشانی چومی تھی ۔ہانی نے انکے پیچھے کھڑے ابراھیم کو ڈبڈبائی آنکھوں سے دیکھا تھا ۔وہ جو وہیں کھڑے تھے دو قدم آگے بڑھے ،اپنا بھاری ہاتھ اسکے سر پر رکھا تو ام ہانی بے ساختہ ان کے سینے پر سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی ۔کتنی ساعتیں گزری تھیں ۔ابراھیم صاحب خود پر ضبط کیے تمتماتی رنگت کے ساتھ اسکا سر تهپکتے رہے تھے ۔فائزہ اپنی آنکھیں رگڑتیں مسکرا رہی تھیں ۔انکی نظریں وہاں سے نظر آتے اندرونی حصے میں بے قراری سے کسی کو ڈھونڈرہی تھیں ۔
وہاں موجود تین نفوس میں سے کسی ایک کے منہ سے ایک لفظ تک نہ نکلا تھا ۔احساسات کی ترجمانی کے لئے اس وقت لفظوں کی محتاجی رہی بھی نہیں تھی ۔اتنے عرصے بعد وہ سامنے تھے فلحال یہ ہونا ہی سب کچھ تھا ۔ان سے الگ ہوتے اپنی گلابی پڑتی ناک سے گیلا سانس کھینچتے اس نے اپنے گالوں کو رگڑ کر آنسو صاف کیے تھے ۔نم آنکھوں سے مسکراتے ہوئے باری باری دونوں کا چہرہ دیکھتے وہ جیسے اب بھی خود کو یقین دلا رہی تھی ۔
“اندر آئیں مامو ،امی ۔۔۔۔میں بھی کتنی پاگل ہوں ۔۔۔اتنی دیر سے یہی کھڑے کیا ہوا ہے “۔بے قراری سے فائزہ کا ہاتھ پکڑتے وہ اپنی كیفیت کے زیر اثر بے ربط سے انداز میں کہہ رہی تھی ۔ابراھیم بدقت ہلکا سا متبسم ہوتے بھاری دل کے ساتھ اندر کی جانب بڑھے تھے ۔دروازہ بند کرتے وہ فائزہ کا ہاتھ تھامے جب آگے بڑھی تو انکی متلاشی نظروں کو پڑھتے آہستگی سے بول اٹھی ۔
“طهٰ آفس گئے ہیں امی “۔فائزہ چونک کر اسے دیکھنے لگیں پھر ہولے سے مسکرا دیں ۔جہاں اتنا لمبا انتظار کیا تھا وہاں کچھ ساعتیں اور سہی ۔
“بیٹھیں ۔۔۔میں پانی لاتی ہوں ۔تھک گئے ہوں گے آپ دونوں اتنا لمبا سفر کر کے آئے ہیں “۔بھیگی ہوئی خوشی سے چہکتی آواز میں کہتی وہ اس وقت پھولے نہیں سما رہی تھی ۔بھلا دعائیں یوں مستجاب ٹھہریں تو کوئی زمین پر پاؤں ہی کیوں دھرے ۔وہ بھی اس پل آسمانوں میں اڑ رہی تھی ۔اسکی بات پر ابراھیم کے چہرے پر سایہ سا لہرایا تھا ۔کہہ تو ٹھیک رہی تھی ۔یہ طویل سفر اور اس کی مسافت انھیں تھکا تو گئی تھی ۔پتہ نہیں وہ کیسا ہوگا جس کے حصے میں سب سے زیادہ مسافتیں لکھی گئیں تھیں ۔ لاؤنج میں صوفے پر ان دونوں کو بٹھاتے خود وہ جلدی جلدی کچن ایریا میں آئی تھی ۔تیزی سے ہاتھ چلاتے دو گلاس فریج میں سے جوس نکال کر بھرے تھے ۔اور ٹرے میں رکھ کر وہ واپس ان تک آئی تھی ۔
جوس ان دونوں کو دے کر ٹرے ٹیبل پر رکھتے خود وہ سنگل صوفے پر ٹک گئی تھی ۔کچھ دیر کے لئے خموشی سی چھا گئی تھی اور اس خموشی کو کسی کی خوش گوار سی آواز نے توڑا تھا ۔
“ماما “۔جوس کا سپ لیتے فائزہ اور ابراھیم دونوں ہی چونک کر آواز کے تعاقب میں گردن گھما کر دیکھنے لگے تھے ۔دروازے کی دہلیز پر ایک ہاتھ دروازے کے فریم پر جمائے جنت کھڑی تھی ۔وہ ابھی ابھی جاگی تھی ماں کو نہ پا کر اٹھ کر باہر آ گئی تھی ۔
ہانی نے بھی چہرہ گھما کر اسے دیکھا تھا ۔پھر خوش گوار حیرت میں گھرے ان دونوں کے چہرے دیکھ کر مسکراتے ہوئے اٹھی تھی ۔جنت کو اٹھا کر وہ واپس آئی ۔فائزہ گلاس میز پر رکھتیں تب تک اٹھ کر کھڑی ہو چکی تھیں ۔انکی آنکھیں ایک بار پھر سے جهلملائی تھیں ۔ام ہانی کے نقوش والی جنت کے بال اور آنکھیں طهٰ سے مستعار لئے گئے تھے ۔ہاتھ بڑھا کر اسے لیتے بے اختیار اسکے گالوں کو چومتے انکی آنکھیں بہہ نکلی تھیں ۔جنت پوری آنکھیں کھولے انھیں دیکھ رہی تھی ۔حیرت انگیز طور پر وہ ان کے اٹھانے پر اجنبیت کے باعث غیر آرام ده نہیں ہوئی تھی ۔فائزہ نے پلٹ کر بت بنے شوہر کو دیکھا تھا ۔
“ابراھیم ۔۔۔۔”۔خوشی کے مارے آگے کے الفاظ کھو سے گئے تھے ۔مجسمے میں حرکت ہوئی تھی ۔ابراھیم نے اپنے لرزتے ہاتھ آگے کیے تھے ۔جنت کو اٹھا کر اسکی پیشانی چومتے اتنی دیر سے خود پر کیےضبط کی طنابیں چٹخی تھیں ۔آنکھوں میں نمی سی در آئی تھی ۔
“طهٰ نے اسکا نام جنت رکھا ہے “۔ام ہانی کی آواز پر ابراھیم نے آنکھوں کو سختی سے میچا تھا ۔دل میں جیسے کوئی نوکیلی شے چبھی تھی ۔جنت انکی والدہ کا نام تھا۔اس نام سے انھیں بڑا انس تھا ۔والدہ کے وصال کے بعد وہ اکثر کہا کرتے تھے اگر اللّه نے انھیں بیٹی دی ہوتی تو وہ اسکا نام جنت رکھتے ۔طهٰ نے انکی بات کو مان بخشا تھا ۔اور یہ احساس انکا دل پھر سے بھاری کر گیا تھا ۔انکے برابر میں بیٹھتے فائزہ نے انکے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا ۔انھوں نے اپنی آنکھیں کھولی تھیں ۔
اور یہ وہ لمحہ تھا جب ام ہانی انکے قدموں میں بیٹھی اپنا ہاتھ انکے گھٹنے پر ٹکائے پانیوں سے بھری آنکھوں کے ساتھ شرمسار سی نظریں جھکائے ہوئے تھی ۔
“مجھے معاف کر دیں مامو “۔ابراھیم کا دل اسکے لفظوں پر کند چھری سے کٹا تھا ۔وہ بلبلا اٹھے ۔نفی میں سر ہلاتے ہوئے انھوں نے اپنا ہاتھ چادر سے ڈھکے اسکے سر پر رکھا تھا ۔
“تمہاری کوئی غلطی نہیں تھی بیٹا ۔تم کیوں معافی مانگ رہی ہو ؟۔معافی تو ۔۔۔۔”۔
“میں آتے ہوئے آپ کا دل دکھا کر آئی تھی اس سے بڑی اور کیا غلطی ہو گی “۔انکی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ چہرہ اٹھا کر رندھی ہوئی آواز میں بول اٹھی تھی ۔فائزہ جنکا ہاتھ جنت کے بالوں میں شفقت سے چل رہا تھا تھم سا گیا ۔
“اس ایک بات کے لئے میں ہمیشہ تمہارا احسان مند رہوں گا بیٹا ۔تم چلی آئی ورنہ نا قابل تلافی نقصان ہو جاتا “۔اسکا سر تهپتھپاتے ہوئے وہ بوجهل دل سے مسکرائے تو چہرہ صاف کرتے انکے مبہم سے انداز میں نا سمجھ آنے والی بات کے باوجود اسکا دل ہلکا ہوا تھا ۔وہ ناراض نہیں تھے ۔خود چل کر انکے پاس آئے تھے ۔اور کچھ چاہ باقی رہی ھی کب تھی ۔
جنت جو اتنی دیر سے سب کے چہرے دیکھ رہی تھی اب ہاتھ پھیلا کر ماں کے پاس آنے کا اصرار کر رہی تھی ۔ابراھیم نے اسکا سر چومتے اسے ہانی کی طرف بڑھایا جسے پکڑ کر اٹھتی وہ واپس اپنی پہلے والی جگہ بیٹھی ۔
” آپ کو یہاں کا پتہ کیسے چلا ؟”۔
“فہد نے یہی پنجاب یونی ورسٹی میں داخلہ لیا ہے ۔اسی نے کل طهٰ کو کہیں دیکھا تھا پھر اسکا پیچھا کرتے تم لوگوں کا فلیٹ بھی دیکھ گیا تھا ۔اسی نے کال کر کے بتایا تو بس مزید رہا ھی نہیں گیا ۔رات بھی مشکل سے کاٹی ہے ۔تمہارے مامو تو اکیلے آ رہے تھے میں نے کہا میں بھی بس ساتھ ھی جاؤں گی “۔تفصیلی جواب فائزہ کی طرف سے آیا تھا ۔دل کے غبار دھل گئے تو لہجے میں بشاشت سی آنے لگی تھی ۔
“فہد یہاں ہے ؟۔تو ملا کیوں نہیں طهٰ سے ؟۔اور یہاں تک آیا تھا تو اندر بھی آ جاتا “۔حیرت کے ساتھ ساتھ ہانی کو افسوس بھی ہونے لگا تھا ۔فائزہ اور ابراھیم نے ایک دوسرے سے نظریں چرائیں تھیں ۔
“باقی سب کیسے ہیں ؟۔ندیم مامو ،آنسہ مامی اور ۔۔۔۔ماہی ۔۔۔۔ماہی کیسی ہیں ؟”۔بے تابی سے سب کا پوچھتے اسکے چہرے پر بے ریائی تھی ۔فائزہ نے حیرت بھری نظروں سے ابراھیم کی طرف دیکھا تھا جو خود متعجب سے انھیں ھی دیکھ رہے تھے ۔فائزہ نے سنبھلتے ہوئے اسکی طرف دیکھا تھا ۔
“سب ٹھیک ہیں ہانی “۔بمشکل مسکرا کر جواب دیا ۔
“ماما “۔اسکی گود میں بیٹھی جنت کسمسائی تھی ۔اسے بھوک لگ رہی ہوگی ۔ام ہانی کو خیال آیا تھا ۔
“جنت نے دودھ پینا ہے “۔اسکی طرف چہرہ جھکا کر وہ پوچھ رہی تھی پھر کچھ اور بھی یاد آیا تھا ۔
“آپ نے بھی تو کچھ نہیں کھایا ھوگا ؟۔اتنی دور سے آئے ہیں ۔امی اسے پکڑیں میں آتی ہوں ابھی “۔اٹھ کر جنت کو انکی گود میں ڈالتے خود وہ کچن میں گئی تھی ۔جنت کو دودھ دے کر خود وہ روٹی بنانے لگی تھی ۔ہانڈی عموماً وہ دن میں ھی بنایا کرتی تھی اس لئے کوئی خاص دقت نہیں تھی ۔خود اس نے بھی بے دلی کے باعث دن میں کچھ نہیں کھایا تھا ۔کچھ دیر بعد وہ مل کر کھانا کھا رہے تھے ۔جنت بھی اتنی دیر میں ان سے مانوس ہو چکی تھی ۔
ابھی وہ انھیں چائے پلا کر بیٹھی ھی تھی کہ دروازے پر بیل ہوئی تھی ۔
“طهٰ ہوں گے “۔سرعت سے وہ دروازے کی جانب بڑھی تھی اور جنت وہ اس سے بھی پہلے دروازہ پکڑے اب چہرہ موڑ ے گول گول منتظر آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔باپ کے آنے کا وقت وہ اچھے سے جانتی تھی ۔
ام ہانی نے اسکو ذرا سائیڈ پر کرتے دروازہ کھولا تھا ۔سامنے طهٰ ھی کھڑا تھا ۔بے تاثر سے چہرے کے ساتھ ۔مگر وہ سب بھول گئی تھی ۔گزشتہ رات کی آخری لڑائی بھی ۔طهٰ جو مسکرا کر جھکتے ہوئے ٹانگوں سے لپٹی بابا کی گردان کرتی جنت کو اٹھا کر سیدھا ہو رہا تھا اندر داخل ہوتے اسکے چہرے سے پھوٹتی خوشی پر ٹھٹکا تھا ۔یہ غیر متوقع تھا ۔دروازہ بند کرتے وہ مڑی تھی ۔طهٰ ایک بازو پر جنت کو بٹھائے اسکا ماتھا چوم رہا تھا ۔ام ہانی نے غیر ارادی طور پر اسکا دوسرا ہاتھ تھاما تھا اور اسے کھینچنے کے سے انداز میں اندر کی جانب بڑھی تھی ۔
“دیکھیں تو سہی کون آیا ہے “۔وہ جو ابھی اسکے انداز و اطوار سے ھی نہ سنبهلا تھا اسکی بات پر اچنبھے کا شکار ہوتا نا سمجھی سے اسکے ساتھ آگے بڑھا تھا ۔اور پھر لاؤنج کا منظر دیکھ کر وہ سچ میں پتھر ہوا تھا ۔سانس سینے میں کہیں جکڑنے گیا تھا ۔آنکھ کی پتلیاں ایک جگہ ٹھہر سی گئی تھیں اور چہرہ۔۔۔۔۔ اس برف سے سفید پڑتے چہرے پر کہیں سائے سے آ کر ٹھہرے تھے ۔ام ہانی نے اسکا ہاتھ چھوڑتے جنت کو اس سے لے لیا تھا ۔جس پر اس نے احتجاج کیا تھا مگر پہلی بار اسکے باپ نے اس کے اس معصوم سے احتجاج پر کان نہیں دھرے تھے ۔اس نے اسکی ماں کو ایسا کرنے سے منع نہیں کیا تھا ۔بلکہ بے جان مورت کی طرح اسے ماں کے حوالے کر دیا تھا ۔
فائزہ اسے یوں سامنے دیکھ کر بے اختیار اٹھیں ۔آنکھوں پر چھائی دهند کو صاف کیا تھا جو اسکے چہرے کے خدوخال کو گڈمڈ کر رہی تھی ۔کتنی بے رحم تھی ۔ابھی بھی انھیں وہ چہرہ دیکھنے کو ترسا رہی تھی جس کے لئے پچھلے ڈھائی سالوں میں وہ پل پل تڑپی تھیں ۔تیزی سے آنکھوں کو مسلتے انکے ہونٹوں سے دبی دبی سی سسکی برآمد ہوئی تھی ۔آنکھیں کھولی تو اس بار اسکا وجیہہ چہرہ صاف نظر آ رہا تھا اور اس سے بھی صاف اس پر چھائی درد کی تحریر ۔بے بسی کا احساس اور ڈھیر ساری ناراضگی ۔سب نظر آ رہا تھا بس تب دیکھنے میں غلطی ہو گئی تھی ۔کوئی دهند تھی جو آڑے آ گئی تھی ۔ بھاری دل اور زنجیر ہوئے قدموں سے وہ خود ھی چل کر اس تک آئی تھیں کیوں کہ وہ تو برف کے مجسمے میں ڈھل چکا تھا ۔منجمد سی ،سرد ،یخ ٹھنڈی ،نہ پگهلنے والی برف کا مجسمہ ۔اپنی ممتا بھری آنچ تو اب انھیں ہی دینی تھی ۔پہلے بھی دیر ہو گئی تھی ۔اس بار کی دیر وہ کرنا نہیں چاہتی تھیں ۔
اسکے قریب کھڑے ہوتے اسکو شانوں سے تھام کر اسکی موجودگی کا خود کو یقین دلاتے وہ بے بسی سے روتے ہوئے ہنسی تھیں ۔اسکے چوڑے چکلے وجود کے گرد اپنی نخیف بازوؤں کا حصار بناتے وہ اسے خود میں بھینچنے کی چاہ لئے پھوٹ پھوٹ کر روئی تھیں ۔طهٰ نے ان کے گرد حصار نہیں بنایا تھا مگر وہ تھوڑا جھک گیا تھا ۔ایک لاشعوری کوشش ۔اسکا قد لمبا تھا ۔فائزہ کو گلے لگانے میں مشکل آتی تھی ۔آنکھ کی ساکت پتلیوں میں جنبش ہوئی تھی ۔انکے شانے پر دھرے ہونٹوں نے نرمی سے انھیں چھوا بھی تھا ۔سینے میں جمع شدہ سانس رک رک کر ہونٹوں سے خارج ہوا تھا ۔برف پگھلنے کو تھی بس وہ خود کو آزما رہا تھا ۔ضبط کی بڑی کڑی آزمائش تھی جو اسکی اپنی منتخب شدہ تھی ۔
خود سے الگ کرتے اسکا چہرہ ہاتھوں کے پیالوں میں بھرے فائزہ نے اسکی پیشانی چومی تھی ۔ہانی ہونٹ بھینچے اپنی آنکھوں کو بہنے سے روک رہی تھی مگر وہ پھر بھی بہہ رہی تھیں ۔اور جنت منہ بسور کر ناراضگی سے ماں کے کندھے پر سر رکھے باپ کو دیکھ رہی تھی ۔
اس سب میں بس ابراھیم تھے جو چپ چاپ صوفے پر دونوں ہاتھوں کو باہم ملائے مضطرب سے نگاہیں نیچی کیے بیٹھے تھے ۔طهٰ کی نظر ان پر پڑی تھی ۔اور نجانے کیا کچھ یاد آیا تھا ۔بہت سی اذیت ناک وحشت اسکے رگ و پے میں پھیلتی چلی گئی ۔ان سے لاکھ گلے سہی مگر یوں ندامت سے جھکے سر کے ساتھ انھیں دیکھنا کتنا تکلیف ده تھا یہ اس نے آج جانا تھا ۔وہ تو غصہ کرتے ،رعب جماتے اور کھری کھری سناتے اچھے لگتے تھے ۔یہ لمحہ کبھی نہیں آنا چاہیے اور کسی اولاد کے سامنے تو یہ منظر کبھی نہیں آنا چاہیے ۔باپ پشیمان ہوتے ہیں تو دل دکھتا ،روح کرلاتی ہے اور سانس ۔۔۔۔۔سانس لمحہ لمحہ اکھڑتی ہے ۔طهٰ بھی بیک وقت کہیں كیفیات کا شکار تھا ۔اس سے پہلے کہ وہ ضبط کھو دیتا وہ سرعت سے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا ۔ابراھیم نے آنکھیں سختی سے میچی تھیں ۔وہ اتنی ہمت نہیں کر پائے تھے کہ اسکے سامنے کھڑے ہو پاتے اور ایک بار اسے سینے سے لگا پاتے ۔صرف ایک بار ۔۔۔۔مگر وہ لمحہ وہ اپنی ازلی رکھائی اور اپنے اور اسکے بیچ کی خلیج میں کھو چکے تھے ۔فائزہ نے بے چینی سے اسے دیکھا تھا ۔اسکے پیچھے قدم بھی بڑھائے تھے پر دوسرے ہی قدم پر رک گئی تھیں ۔ہانی بھی حیرانگی سے اسی جانب دیکھ رہی تھی جہاں سے ابھی ابھی وہ گزر کر اندر دروازے کے پیچھے گم ہوتا دروازہ بند کر گیا تھا ۔
“ہانی تم دیکھو اسے “۔فائزہ کی التجا بھری آواز پر وہ نگاہیں واپس موڑ کر سر ہلاتی جنت کو انکے حوالے کرتی خود آگے بڑھ گئی تھی ۔

Part 2

کمرے کا دروازہ کھول اس نے قدم اندر رکھا تھا ۔بیڈ کی پائنتی پر ، دونوں گھٹنوں پر کہنیاں ٹکائے جھکے سر کے ساتھ بیٹھے طهٰ نے سیدھا ہوتے ، رخ موڑ کر آنکھوں کو مسلا تھا ۔نظریں اس پر جمائے وہ اپنے پیچھے دروازہ بند کرتی آہستہ قدموں سے چل کر اس تک آئی تھی ۔اس کے برابر بیٹھ کر ایک گہری نگاہ اس کے سرخ پڑتے چہرے پر ڈالی تھی ۔ام ہانی کو اسکی پلکیں بھیگی بھیگی سی معلوم ہوئی تھیں ۔سورج غروب ہونے کو تھا۔کھڑکی کے آگے برابر کیے پردے کے باعث کمرے میں ملگجا سا تھوڑا تھوڑا اندھیرا بھرنے لگا تھا ۔
کچھ دیر خموشی رہی تھی ۔ام ہانی کو لگا تھا شاید وہ انکی آمد کے بابت کوئی سوال کرے گا ۔مگر وہاں صرف خموشی تھی ،ایک عجیب سی بے چین کر دینے والی خموشی ،پر اسرار سی تہہ در تہہ لپٹی ہوئی ۔
“ایسے کیوں چلے آئے ہیں ؟۔مامو سے ملے بھی نہیں “۔اسکا انداز سرزنش کرنے جیسا نہیں تھا ۔نرم دھیما سا، سمجھانے والا ۔
“مجھے کسی سے نہیں ملنا “۔سخت خفگی سے کہتے ہوئے اسکے ماتھے کی نیلی رگیں واضح ہوئی تھیں ۔
ہانی کو دکھ ہوا تھا ۔اتنی سنگ دلی کی شاید اسے طهٰ ابراھیم سے اب تو امید نہیں تھی ۔مگر وہ اس پتھر سے ایک بار سر تو ضرور پھوڑنا چاہتی تھی جو اب رخ پھیرے ہوئے تھا ۔
“کیوں نہیں ملنا ؟۔وہ خود چل کر آئے ہیں ۔اتنے دور سے آپ سے ملنے کے لئے ۔اور آپ اتنی آسانی سے کہہ رہے ہیں نہیں ملنا ۔وہ “کسی “نہیں ہیں طهٰ آپ کے ماں باپ ہیں “۔بڑی مشکل سے اپنے لب و لہجے کو نرم رکھتے وہ ملتجی سی کہہ رہی تھی ۔طهٰ کی گردن کی گلٹی ڈوب کر ابھری ۔”آسانی سے “یہ الفاظ دل میں چبھ سے گئے تھے ۔آنکھوں کی جلن نا قابل برداشت ہونے لگی تھی ۔نمی روکنا اب محال تھا مگر وہ روک گیا تھا ۔وہ یوں ہی بیٹھا رہا تھا ۔بنا جواب دیے ،خلاؤں میں گھورتا ،اسکی طرف سے رخ موڑے ۔ام ہانی کو اسکا چہرہ دیکھنے کے لئے ترچھا ہو کر بیٹھنا پڑا تھا ۔ہاتھ اسکے شانے پر رکھتے اس نے ہلکا سا دباؤ ڈالا تھا ۔
“طهٰ پلیز مت کریں ایسا ۔وہ سب بھلا کر آئے ہیں آپ بھی بھول جائیں ۔وہ بڑے ہیں پھر بھی آپ کے پاس خود چل کر آئے ہیں اور یقیناً وہ آپ کو معاف بھی ۔۔۔۔”۔
“معافی چاہیے بھی کسے ؟۔”ہانی کے اگلے الفاظ اس کے حلق میں ہی دم توڑ گئے تھے ۔طهٰ جو یک دم اسکی طرف چہرہ کیے ہلکی مگر سرد آواز میں غرایا تھا ۔سرخ آنکھوں میں نمکین پانی لئے اسکا چہرہ دهواں دهواں ہو رہا تھا ۔برف کی مورتی میں سے آگ کی تپش پھوٹنے لگی تھی ۔گلئشیر پگھلنے لگا تھا مگر ساتھ ایک طوفان بھی لانے والا تھا ۔ام ہانی ششدر سی اسے دیکھے گئی ۔
“مجھے نہ تب کسی کی معافی درکار تھی نہ آج ہے۔اور وہ بھلے سب بھول گئے ہوں مگر مجھے سب یاد ہے ۔میں کچھ نہیں بھولا “۔خود اذیتی کی انتہا پر کھڑے ہوتے چباچباکر کہتا وہ سر کو نفی میں ہلا رہا تھا ۔ام ہانی کے اعصاب چٹخنے لگے تھے ۔سامنے بیٹھا شخص اسے اب بے طره غصہ دلا رہا تھا ۔مفاہمت کی ڈور اسکے ہاتھ سے چھوٹنے لگی تھی ۔مگر اس نے ہمت نہیں ہاری تھی ۔ایک گہرا سانس خارج کرتے اندر کے غبار کو باہر دهكیلتے وہ ایک بار پھر گویا ہوئی تھی ۔
“وہ ہمیں لینے آئے ہیں طهٰ ۔پچھلی باتوں کو دل سے لگائے رکھنے سے فاصلے مزید بڑھیں گے ۔اللّه ہمیں موقع دے رہے ہیں تو کیوں نا شکری کر رہے ہیں “۔اپنے ماتھے کو چھوتے وہ سخت بے بسی کا شکار دکھائی دیتی تھی جیسے سمجھ نہیں پا رہی ہو ایسا کون سا اسم پھونکے کہ سامنے بیٹھے شخص کا دل بدل جائے ۔اسکے دل میں رحم آ جائے باہر بیٹھے ماں باپ پر ،اس پر اور سب سے بڑھ کر خود اپنے آپ پر ۔
“ہم نہیں جائیں گے “۔قطعیت سے کہتے “ہم “پر زور دیتا وہ فوری بول اٹھا تھا ۔ام ہانی کا ماتھے پر رکا ہاتھ ہوا میں معلق ہو کر ره گیا تھا ۔ٹھٹک کر اسکی طرف بے یقینی بھری نظروں سے دیکھا تھا جو اس کے پاس سے اٹھ کر کھڑا ہوتا ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کر رہا تھا ۔تیز تیز چلتے تنفس کے ساتھ ماتھے پر آئے پسینے سے بال اب پیشانی پر چپکنے لگے تھے ۔نیم واہ ہونٹوں کے ساتھ وہ اسے دیکھتی اٹھ کھڑی ہوئی ۔اور پھر اسکی ہمت جواب دے گئی تھی ۔اپنے اندر پنپتے غم و غصے کو باہر نکلنے کا راستہ دیتے وہ آہستہ آواز میں پھٹ پڑی تھی ۔
“آپ کو پتہ ہے طهٰ آپ کا مسئله کیا ہے ؟۔آپ صرف اپنا سوچتے ہیں ۔۔۔۔۔۔آپ کے لئے صرف اپنی ذات اہم ہے اپنے جذبات کی فکر ہے باقی خود سے جڑے لوگوں کے احساسات سے کوئی سروکار آپ کو نہ کل تھا نہ ہی آج ہے ۔ڈھائی سال تک میں نے آپ کی ہر بات مانی ہے ۔آپ نے کہا میں واپس جانے کا نام نہ لوں ،کسی کا ذکر نہ کروں ،سب بھول کر ایک نئی شروعات کروں ۔۔۔۔۔۔۔میں نے سب کیا ۔مگر اب اور نہیں۔۔۔۔آخر ہر بار میں ہی کیوں مانوں جبکہ ہر بار غلط بات پر آپ کی بے جا ضد اور انا آڑے آ جاتی ہے ۔غلطی آپ کی تھی سزا وار بھی آپ تھے ۔مجھے تو ناحق حصے دار بنایا آپ نے مگر اب میں اور سزا نہیں کاٹ سکتی بس بہت ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔ہم جائیں گے طهٰ ۔میں اور جنت جائیں گے آپ جائیں نہ جائیں آپ کی مرضی “۔اپنی بات پر زور دیتے دو ٹوک لہجے اور گیلی آواز میں کہتے ہوئے وہ بھرائی آنکھوں سے اسکو دیکھ رہی تھی۔مزید بحث و منت سماجت کی کوئی وقعت نہیں تھی ۔وہ بے جا ضد پر اڑا تھا تو وہ بلا وجہ اس کے ساتھ کیوں پسے ۔ٹائی پر رکا ہاتھ ساکت ہوا ،سرخی مائل ہوئی آنکھوں میں تکلیف کی رمق مزید بڑھی ،وہ اسکی بات پر سکتے کی سی كیفیت میں گھرا اسکی طرف پلٹا تھا ۔کچھ تھا جو بے آواز ٹوٹ کر کرچی کر چی ہوا تھا ۔شاید اسکا مان تھا ۔تو وہ اب بھی اس کے لئے “ہم”کی فہرست میں نہیں آ پایا تھا ۔وہ اس دائرے سے باہر کھڑا تھا پچھلے ڈھائی سال کی رفاقت بھی اس کے دل میں اسکے لئے جگہ بنانے میں نا کام ٹھہری ۔وہ جذبات و احساسات کی جس نہج پر کھڑا تھا ۔اسکے اندر ہو رہی توڑ پھوڑ میں ام ہانی کی اس بات نے تابوت میں آخری کیل ٹھوکنے کا سا کام کیا تھا ۔اور ام ہانی کے فرشتوں کو بھی نہیں خبر ہوئی تھی وہ اسکی عام سی بات کو کس خاص تناظر میں دیکھ رہا تھا ۔
“جب فیصلہ کر ہی لیا ہے تو جاؤ پھر ۔روکا کس نے ہے ؟۔مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا اب نہ کسی کے آنے سے اور نہ کسی کے جانے سے ۔سنا تم نے “اب ” کوئی فرق نہیں پڑتا “۔سخت کٹیلے سے انداز میں کہتے پہلی بار اسکی آواز اونچی ہوئی تھی ۔ام ہانی کی آنکھیں اہانت کے احساس سے بھر آئی تھیں ۔ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ان دو نفوس کا المیہ یہ تھا کہ وہ دونوں ہی اس وقت اپنے اپنے احساسات کے زیر اثر اس قدر مرغوب ہو چکے تھے کہ دوسرے کو سمجھنا چاہتے ہی نہیں تھے ۔
“میں جنت کو بھی ساتھ لے کر جاؤں گی “۔مرے سے انداز میں اس نے ایک بار پھر واضح کیا تھا ۔شاید کوئی آس تھی جو اب بھی ٹمٹما رہی تھی ۔وہ اچھے سے جانتی تھی جنت اسکی سب سے بڑی کمزوری ہے ۔طهٰ نے ایک قہر بھری نظر اس پر ڈال کر مٹھی بھینچ کر خود پر قابو پایا تھا ۔اسے لگا تھا جیسے آج ضرور اس کی برداشت کی سبھی حدیں ٹوٹ جانی تھیں ۔زندگی میں پہلی بار اسے ام ہانی پر بے تحاشہ غصہ آیا تھا اس حد تک کہ اسے شبہ ہوا تھا کہیں وہ اس پر ہاتھ نہ اٹھا بیٹھے ۔
ہر لمحے بلند ہوتے فشار خون سے اسے اپنے دماغ کی نسیں پھٹتی محسوس ہو رہی تھیں ۔اس وقت اسکے منظر سے ہٹ جانے میں ہی عافیت تھی ۔ اور اس نے ایسا ہی کیا تھا ۔ام ہانی نے ڈبڈبائی ہوئی آنکھوں سے اسکی پشت کو دیکھا تھا اور پھر منہ پر دونوں ہاتھ رکھتے وہ اپنی چینخوں کا گلا گھونٹتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی ۔
کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز پر جنت کو گود میں لئے بے چینی سے ادھر ادھر چکر کاٹتیں فائزہ اور صوفے پر مضطرب سے بیٹھے ابراھیم دونوں نے ہی گردن گھما کر دیکھا تھا ۔جنت نے اسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے کسمسا کر اپنی ننھی ننھی دونوں بازو پھیلا کر اٹھانے کی فرمائش کی تھی ۔سرخ چہرے اور بھینچے ہوئے جبڑے کے ساتھ وہ بنا انکی طرف دیکھے لمبےلمبے ڈگ بھرتا نکلتا چلا گیا تھا ۔
“طهٰ “۔۔۔۔
“بابا “۔۔۔۔۔
بیک وقت فائزہ اور جنت نے اسے آواز دی تھی مگر اندر کا غبار اس قدر زیادہ تھا کہ کوئی آواز اسکے کانوں تک پہنچ ہی نہیں پا رہی تھی ۔
بیرونی دروازہ کھلا تھا اور پھر بند ہونے کی آواز آئی تھی ۔ابراھیم نے شکست خورده انداز میں چہرہ اٹھا کر آنکھیں میچی تھیں ۔جنت اس کے یوں خود کو نظر انداز کر کے جانے پر اب باقاعدہ رونے لگی تھی ۔فائزہ اپنے آنسو روکتے اسکو بہلانے کی کوشش کر رہی تھیں ۔کچھ دیر بعد کمرے کا دروازہ کھلا تھا ۔متورم آنکھوں اور ستے ہوئے چہرے کے ساتھ وہ باہر آئی تھی ۔
“میں اور جنت ساتھ چلیں گے ۔میں سامان پیک کر لیتی ہوں “۔رندھی ہوئی آواز میں کہتے نظریں چراتے ہوئے وہ واپس مڑ گئی تھی ۔
ان دونوں کے چہروں پر مایوسی کے بادل کچھ اور گہرے ہوئے تھے ۔جنت اب بھی رو رہی تھی ۔آج کا دن اس کے لئے حیران کن تھا پہلی بار تھی جب اسکے رونے کا اسکے ماں باپ پر مطلق اثر نہ ہوا تھا ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .

فائزہ اور ابراھیم ٹیکسی ہائر کر کے آئے تھے ۔جس گھڑی فائزہ کے ساتھ پچھلی سیٹ پر بیٹھی وہ لمحہ لمحہ اس منزل کی طرف بڑھ رہی تھی جسکا اس نے پچھلے ڈھائی سال میں ہر پل انتظار کیا تھا ۔دل کہیں پیچھے رہتا محسوس ہو رہا تھا ۔اسے بہت خوش ہونا چاہیے تھا ۔مگر اپنے عجیب سے محسوسات کو سمجھنے سے وہ قاصر تھی ۔جنت اسکی گود میں سو چکی تھی ۔ابراھیم آگے والی سیٹ پر ڈرائیور کے ساتھ بیٹھے اس کی کسی بات کا جواب دے رہے تھے۔مغرب کا وقت گزر چکا تھا ۔اندھیرے کو چیرنے کی کوشش میں روڈ کے اطراف لگی لائٹس سر گرم عمل تھیں ۔فضا میں ہلکی سی خنکی در آئی تھی ۔باہر دوڑتے ممناظر سے نگاہ ہٹا کر گردن گھماتے اس نے ساتھ بیٹھی فائزہ کو دیکھا تھا ۔مضطر سی وہ کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھیں ۔ہاتھ بڑھا کر ان کے کندھے پر ہلکا سا دباؤڈالا تو وہ چونک کر اسکی طرف خالی خالی نظروں سے دیکھنے لگیں تھیں ۔ہانی غمگیں دل کے ساتھ دهیما سا مسکرا دی پھر تسلی دینے والے انداز میں آنکھوں سے اشارہ کیا ۔
“بہت جلد طهٰ بھی آ جائیں گے امی ۔کسی اور کے لئے نہ سہی اپنی جنت کے لئے ضرور آئیں گے “۔معنی خیز سے انداز میں نرمی سے کہنے پر فائزہ بے دلی سے بمشکل مسکرا دیں ۔
“انشاء اللّه “۔
جس لمحے وہ لاہور کی حدود سے باہر نکل رہے تھے۔وہ سڑکیں ناپ کر نجانے کہاں کہاں کی خاک چھانتے واپس آیا تھا ۔الجھے ہوئے حلیے اور بکھرے بالوں کے ساتھ چہرے پر طویل مسافتوں کی گرد اور جھکے کندھوں پر بہت سا بوجھ لئے فلیٹ کے باہر کھڑا تھا ۔دروازے پر لگے تالے نے اسکا منہ چڑایا تھا ۔تهكن میں یک بار کہیں گنا زیادہ اضافہ ہوتا چلا گیا تھا ۔
اپنی جیب میں موجود چابی سے دروازہ کھول کر وہ اندر آیا تھا ۔پورا فلیٹ روشنی میں پہلے سے ہی نہا رہا تھا ۔مكین جا چکے تھے مگر اپنی موجودگی کے سبھی نقش وہیں چھوڑ گئے تھے ۔دل کی ویرانی میں نا معلوم سی اداسی کا ڈیرہ کچھ اور وسیع ہوتا چلا گیا تھا ۔شاید اسے لا شعوری طور پر توقع تھی وہ اسکے منتظر ہوں گے ۔اس نے ڈھائی سال سہا تھا ۔اتنا ردعمل تو اسکا حق بنتا تھا ۔کچھ وقت تو سنبهلنے کو درکار اسے بھی تھا ۔ایک عرصہ سب کی ناراضگی برداشت کی تھی ۔اسکی خفگی چند پل بھی خاطر میں نہ لائی گئی تھی ۔بہت سی زہریلی سوچیں اسکے ذہن کو پراگندہ کرنے لگی تھیں ۔چہرے پر ایک طنز بھری مسکراہٹ آ کر اپنی چھاپ دکھاتی معدوم ہوئی تھی ۔
نڈھال سے انداز میں صوفے پر بیٹھے اس نے اپنا سر پشت پر ڈال دیا تھا ۔اب اسکا چہرہ اور بھی واضح دکھائی دیتا تھا ۔تهكن زدہ ،درد میں ڈوبا ،مژدگی کی تحریر لئے ہوئے ۔سرخ گوشوں سے مزیں سیاہ آنکھیں چھت پر ٹکی ہوئی تھیں ۔اور یادوں کا دهواں ہر منظر دهندلا کرنے کو تھا ۔

. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .

رات کے سوا بارہ بجے دیوار پھلانک کر ہڈی سے سر کو کوور کیے وہ اس چھوٹے سے لان میں کودا تھا ۔محتاط سے انداز میں آہستہ آہستہ چلتا ہوا وہ آگے بڑھا تھا ۔گھر کے بیرونی حصے میں جلتی لائٹس میں اسکا ہیولا ہر گزرتے لمحے گھر کے اندرونی دروازے کی طرف بڑھتا جاتا تھا ۔وہ دراز قامت لمبی ٹانگوں والا اور مضبوط جسامت کا حامل تھا ۔دروازے پر پہنچ کر سر سے ہڈی ہٹاتے اب اسکا چہرہ واضح تھا ۔سیاہ قدرے تھوڑے لمبے بال جو ماتھے پر بکھرے اسکی بھنوؤں تک آتے تھے ۔سیاہ ہی قدرے بڑی بڑی آنکھیں اور کھڑی ناک کے ساتھ چہرے پر دو تین دن کی ہلکی سی شیو لئے مجموئی طور پر اسکا تاثر صاف رنگت والے ایک خوش شکل و وجیہ مرد کا تھا ۔
ارد گرد دیکھتے ہوئے اس نے اپنی جینز کی جیب سے موبائل نکالا تھا اور پھر چہرے پر ہلکی سی بے چینی لئے اسکا لاک کھولا تھا ۔اسکا مسیج ابھی تک ان سین تھا ۔ایک گہرا سانس بھرتے اس نے کال ملائی تھی ۔کان سے موبائل لگائے ہوئے وہ ادھر ادھر دیکھتا ایک ٹانگ ہلاتا ہوا کال ریسیو کرنے کا منتظر تھا ۔تیسری بیل پر کال پک کر لی گئی تھی ۔
“وعلیکم سلام ۔میں باہر کھڑا ہوں ۔جلدی آؤ “۔دوسری طرف سے حیران سی نسوانی آواز میں دیے سلام پر جلدی سے کہتے وہ کال کاٹ چکا تھا ۔فون واپس جیب میں اڑستے اسے کچھ دیر ہی گزری تھی کہ دروازے کی کنڈی کھلنے کی آواز آئی جس کے ساتھ ہی اسکی سانس میں بھی سانس آئی تھی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *