Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah e Yaar Teri Musaftein (Episode 06)Part 1,2

Raah e Yaar Teri Musaftein by Umme Abbas

اپنے چہرے سے تھوڑے فاصلے پر موجود اسکا چہرہ دیکھتے اسکا گہرا ارتکاز ٹوٹا ،منظر بدلا تھا ۔ابراھیم اس پر چلا رہے تھے ،فائزہ بھیگی پلکوں کے ساتھ ہونٹ بھینچے کھڑی تھیں ۔آنسہ اور فیضان بھی افسرده چہرے لئے وہیں تھے اور ایک کونے میں ماہی تھی ۔جس کے چہرے پر آنسوؤں کی لکیریں سی بنتی جا رہی تھیں ۔ایک ہاتھ ہونٹوں پر رکھے وہ اپنی سسکیاں دبا رہی تھی ۔اور ان سب میں ایک وہ تھا جو زخم زخم ہوئے چہرے کے ساتھ گردن جھکائے بے تاثر چہرہ لئے کھڑا تھا ۔اس کے منہ سے ایک لفظ نہ نکلا تھا ۔اور یہ پر اسرار خموشی اسکے گلٹی ہونے پر یقین کی مہر ثبت کر گئی تھی ۔

ابھی کچھ دیر پہلے کا نرم خو سا طهٰ پھر سے اس منظر کی دھند میں کہیں کھو گیا تھا ۔انسان بڑا بے ظرف ہے وہ سامنے والے کی سو اچھائیوں کو لمحے میں بھول جاتا ہے کیوں کہ وہ انھیں ریت پر لکھتا ہے پانی کی ایک لہر آئی اور سب ساتھ بہا لے گئی ۔مگر اسکی ایک برائی کو تمام عمر پوری جز ئیات کے ساتھ ذہن و دل میں نقش کیے رکھتا ہے جیسے پتھر کی لكیر جو کبھی مٹتی نہیں ۔طهٰ ابراھیم کی سبھی اچھائیوں پر اس رات کی سیاہی پھیل گئی تھی ۔اسکی ذات کے سبھی اجالے اس سیاہ پردے میں کہیں چھپ سے گئے تھے ۔

چہرہ بے دردی سے رگڑتے ، وہ اک تند و تیز نگاہ اس پر ڈال کر تیزی سے اٹھی اور اندر کی طرف بڑھ گئی ۔شدت جذبات میں اس نے کمرے کا دروازہ ٹھاہ کی آواز کے ساتھ بند کیا تھا ۔طهٰ جو حیران ہوتے اچھنبے سے آنکھیں چھوٹی کرتے اسکو جاتے دیکھا تھا ۔دروازے پر ہوئے ستم پر جھرجهری سی لے کر سیدھا ہوا ۔

“فلیٹ میں اکیلے ره ره کر ہانی کی دماغی تاریں شارٹ ہو گئی ہیں تبھی بے چاری کو جھٹکے سے لگنے لگے ہیں “۔ترحم آمیز انداز میں سر ہلاتے وہ بڑبڑاتے ہوئے کچھ دیر پہلے کے سنجیدہ و مدبر سے طهٰ سے بلکل مختلف لگا تھا ۔وہ بھی لیٹنے لگا تھا جب نگاہ موبائل کی جلتی ٹارچ پر پڑی تھی ۔کچھ دیر یونہی اسے دیکھنے کے بعد وہ اٹھ کھڑا ہوا ۔شرٹ کھینچ کر ٹھیک کرتے ننگے پاؤں ہی موبائل اٹھا کر وہ کمرے کی طرف بڑھا تھا ۔دروازہ کھول کر ذرا سی گردن اندر کرتے جھانکا ۔وہ بیڈ پر اسی طرف کروٹ کیے لیٹی ہوئی تھی ۔اسے دیکھ کر خفگی سے نظریں پھیریں ۔اب وہ کمرے میں داخل ہوتے اسکے قریب آ کھڑا ہوا تھا ۔مصروف سے انداز میں موبائل سکرین پر انگلیاں چلاتے ٹارچ بند کی ۔ہانی نے دھڑکتے دل کے ساتھ مزید بے نیازی کو بر طرف کرتے اسکو گھورا تھا ۔جو اب موبائل جھک کر بیڈ سائیڈ ٹیبل پر رکھ رہا تھا ۔

“رات کو بجلی دوبارہ بھی جا سکتی ہے ۔انسان کو ہمیشہ احتیاطی تدابیر کر کے رکھنی چاہیے”۔سیدھے ہوتے اس نے جیسے اپنی وہاں موجودگی کی وضاحت دی تھی ۔پھر بنا اسکی طرف نظر کیے وہ مڑا تھا ۔دروازے پر جا کر اسکے چہرے پر اک شریر سا تبسم بکھرا تھا ۔

“ام ہانی !میں دروازہ بند کر جاؤں ؟”۔بہت معصومیت سے گردن ذرا ترچھی کیے بنا مڑے پوچھ رہا تھا ۔ہانی نے اسے دیکھا تو نہیں تھا مگر اسے اسکی آواز مسکراتی ہوئی محسوس ہوئی تھی ۔اس نے سختی سے آنکھیں میچی تو گویا اسے پتہ تھا وہ اپنے ڈر کے باعث دروازہ کھلا رکھتی ہے ۔

“میری بلا سے ۔آپ تالا لگا جائیں “۔كمبل میں منہ دیے وہ تلملائی تھی ۔

“اوکے ۔شب بخیر “۔ہونٹوں کے کونوں میں ہنسی ضبط کرتے وہ پوری شد و مد سے سر ہلاتا اسے چڑانے کی غرض سے ذرا زور سے دروازہ بند کرتا باہر نکلا تھا ۔صوفے کی طرف بڑھتے اسکے چہرے پر بڑا بھلا سا تبسم بکھرا ہوا تھا ۔وقت کا مرہم اپنا اثر دکھانے لگا تھا ۔طهٰ ابراھیم پھر سے مسکرانے لگا تھا ۔

دروازہ بند ہونے کی آواز کے چند پل بعد ام ہانی نے اپنا سر كمبل سے باہر نکالتے سیدھی ہو کر لیٹی تھی ۔اسکے جانے کی یقین دہانی کے بعد اک نظر کھڑکی کی جانب دیکھا ۔باہر بارش تھم چکی تھی اک سکوت تھا جو کھڑکی کے اس پار تھا اور اک سکوت تھا جو اسکے دل کے اندر آ کر ٹھہرا تھا ۔بڑے دنوں بعد دل میں کوئی سوال مچل نہیں رہا تھا ۔کوئی سوچ ایسی نہیں تھی جو ذہن و دل کو پراگندہ کر رہی ہو ۔اور یہ بھی اللّه کے کرم کی شکل تھی ۔وہ اسے اسی کی منفی سوچوں سے اس وقت اسے پناہ دے رہا تھا ۔

اسکی بچپن سے عادت تھی وہ رات کو سونے سے پہلے اللّه سے اپنے دن بھر کی باتیں شئیر کیا کرتی تھی ۔یہ عادت اسکی ماں نے اسکو ڈالی تھی ۔وہ جب چھوٹی تھی تو حد درجہ حساس تھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر رو دینے والی ۔تب اسکی ماں نے اسے سکھایا تھا ۔
“ام ہانی !کوئی بھی رنج پہنچے یا تکلیف ہو تو اسے اللّه سے بانٹ لینا چاہیے ۔وہ تمہاری پوری بات سنے گا ۔تمہیں بولنے سے کبھی روکے گا نہیں نہ یہ کہے گا ابھی میرے پاس وقت نہیں ہے بعد میں سنوں گا ۔وہ ہمیشہ تمہارے لئے موجود رہے گا ۔وقت کی بندش سے پرے ،زماں و مکاں کی حدود سے باہر ۔صرف ایک وہی ہوگا جو تمہاری ہر بات پر ہمہ تن گوش ہوگا “۔

رات کے پہر ماں کی گود میں سر رکھے لیٹی سات سالہ ام ہانی نے معصومیت سے ماں کا چہرہ دیکھا ۔جو اس وقت کسی احساس کے زیر اثر دمک رہا تھا ۔

“لیکن امی اللّه میری بات سن لینے کے بعد مجھے جواب کیسے دیں گے ؟”۔

اس کی بھوری آنکھوں میں اس سوال کی بے چینی دکھائی دی تو اسکی ماں نے جھک کر انکو چوم لیا ۔

“اللّه کا جواب سب سے خوبصورت ہوتا ہے ام ہانی ۔وہ بدلے میں تم سے لمبی لمبی باتیں نہیں کرے گا جو تمہارے کان سن سکیں ۔لیکن وہ تمہارے دل کو کبھی بیمار نہیں ہونے دے گا ۔کوئی بھی مشکل وقت آنے پر تمہیں اکیلا نہیں چھوڑے گا ۔تم جب بھی اس سے بات کرو گی بدلے میں وہ تمہارا دل سکون سے بھر دے گا ۔انسانوں کی سامنے رو گی تو وہ تمہارے آنسوؤں کو بے مول کر دیں گے اللّه کے سامنے رونے سے وہ تمہیں کبھی بے مول نہیں ہونے دے گا ۔ان آنسوؤں کی بڑی قدر و منزلت ہوتی ہے اللّه کے ہاں ۔اور پھر دیکھنا ہانی وہ تمہیں کیسے دلاسا دے گا تمہارا دل پہلے سے زیادہ مضبوط اور پر سکوں ہوتا چلا جائے گا اور یہی اللّه کا جواب ہوگا “۔

اس چھوٹی عمر میں اسے ماں کی کچھ بات سمجھ لگی تھی کچھ سر کے اوپر سے گزر گئی تھی مگر ماں کے چہرے پر سجی اس خوبصورت سی روشنی نے اسے مزید سوال کرنے سے روک دیا تھا وہ سر ہلا گئی جیسے اسے سب ٹھیک ٹھیک سمجھ آ گئی ہو ۔

اسکا باپ جب کبھی بھی اسکی ماں کو ڈانٹتا تھا ،زور زور سے چلاتے ، گالم گلوچ کرتا اور مارتا پیٹتا تو اس رات اسکی ماں کی نماز طویل ہو جایا کرتی تھی ۔اسکی دعا بھی لمبی ہو جاتی ۔ام ہانی کو لگتا تھا ماں نے اب اللّه کو سب بتا دیا ہے تو اگلی بار ایسا نہیں ہوگا ۔اللّه کی طرف سے جواب آئے گا اور اسکا باپ اگلی بار اسکی ماں سے یہ بد سلوکی نہیں کرے گا ۔اگلی صبح اسکی ماں پھر سے مسکرا رہی ہوتی تھی ،وہ بھاگ بھاگ کر اسکے باپ کے کام کر رہی ہوتی تھی ۔اسکے باپ کا غصہ بھی اتر چکا ہوتا اور وہ خوش ہو جاتی کہ اللّه کا جواب آ گیا ہے ۔مگر کچھ دنوں بعد کہانی پھر سے دوہرائی جاتی ۔

بستر پر لیٹی ام ہانی کی آنکھوں سے گرم آنسو نکل کر اسکی کنپٹی میں جزب ہوتے چلے گئے ۔

“اللّه تعالیٰ امی کی کہی بات تو آج سمجھ آئی ہے مجھے ۔مجھے ہمیشہ یہی لگا کرتا تھا آپ دعائیں قبول کر کے ہی جواب دیتے ہیں ۔مگر میں غلط تھی اللّه آپکا جواب تو اس سے بھی بڑا پیارا ہوتا ہے ۔یقیناً آپ امی کو بھی یہی جواب دیتے ہوں گے ۔مجھے ہی سمجھنے میں دیر لگ گئی ۔ضروری نہیں ہے کہ آپ ہر بار ہماری دعا قبول کر لیں۔ہر دعا قبول ہونے پر سکوں نہیں دیتی اللّه ضروری یہ ہے کہ ہر بار دعا کے بعد آپ ہمیں پر سکون کر دیں ۔دل کا بوجھ ہلکا ہو جائے اور روح کی بے چینی ختم ہو جائے تو سمجھ لینا چاہیے یہ ہے وہ جواب جو آپ اپنے بندے کو دیتے ہیں جب جب وہ آپ سے بات کرتا ہے ۔پھر مشکلیں حل ہوں نہ ہوں اللّه آپ انکو بے معنی کر دیتے ہیں ۔انکا بوجھ کم ہونے لگتا ہے ۔میں نے آپ سے بات کرنا بند کر دی تھی اللّه تو دیکھیں مایوسی اور بے سکونی کیسے میری ساتھی بن گئی ہیں ۔طهٰ نے صحیح کہا آپ سے محبت غیر مشروط ہونی چاہیے ۔امی بھی تو بنا شرط آپ سے محبت کرتی تھیں ۔ آپ امی کے دل کو بھی یوں ہی دلاسا دیتے ھوں گے جیسے اس وقت مجھے دے رہے ہیں ۔میں کوئی شکوہ نہیں کروں گی ۔کوئی سوال بھی نہیں اٹھاؤں گی بس آپ سے اپنے لئے سکوں مانگوں گی ۔طهٰ نے جو کیا اس کے لئے پتہ نہیں میں کبھی انھیں معاف کر بھی سکوں گی یا نہیں مگر میں اس ایک واقعہ کو اپنے اور آپ کے درمیاں حائل نہیں ہونے دوں گی ۔اور مجھے آپ کو شکریہ بھی کہنا ہے اللّه ۔آپ نے مجھے بچا لیا کچھ غلط ہونے نہیں دیا ۔طهٰ بہت اچھے تھے اللّه ۔وہ ایسے نہیں تھے ۔مامو ٹھیک کہتے ہیں بری صحبت ہماری اچھائی کو نگل جاتی ہے ۔اگر اس رات طهٰ حواس میں ہوتے تو وہ سب کبھی نہیں ہوتا ۔نشہ اسی لئے تو حرام ہے اللّه ۔یہ اچھے برے کی تمیز ختم کر دیتا ہے ۔مجھے اس وقت کچھ سمجھ نہیں آ رہی آگے کیا ہوگا ؟۔پتہ نہیں میں کبھی پھر سے اپنے رشتوں سے جڑ بھی پاؤں گی یا نہیں ۔مجھے وہ سب بہت یاد آتے ہیں۔ماموں مجھ سے ناراض ہیں ۔میں آتے ہوئے انکا دل دکھا کر آئی ھوں ۔ماہی نے کہا وہ مجھ سے بات نہیں کرنا چاہتے ۔لیکن آپ تو سن رہے ہیں آپ ان کے دل میں ڈال دیجئے گا وہ مجھے معاف کر دیں ۔اور ماہی ۔۔۔۔۔۔۔۔ماہی کا دل ٹھیک کر دیجئے گا ۔وہ پھر سے آباد ہو جائے ۔طهٰ کی محبت وہاں سے نکال دیجئے گا ۔انکی زندگی میں کوئی ایسا آئے جو اپنی چاہت سے انکے ہر دکھ کا مداوا کر دے “۔
گیلے چہرے پر ہاتھ پھیر کر صاف کرتے یوں لگا تھا جیسے کسی نے دل کے آئینے پر بھی ہاتھ پھیر کر ساری کثافت دور کر دی ہو ۔
بھیگی پلکوں کے پار بھوری آنکھوں میں نیند اترنے لگی تھی ۔پورے دل سے مسکراتے وہ مطمئین نظر آتی تھی ۔سونے کے لئے کروٹ بدلتے آنکھیں موندنے سے پہلے نگاہ دروازے پر گئی تھی ۔تھوڑی دیر یونہی بلا وجہ بند دروازہ دیکھا پھر بے چارگی سے اٹھ کر چھوٹے چھوٹے قدم لیتی وہاں تک گئی تھی ۔نہایت احتیاط سے آہستگی سے دروازہ نیم وا کرتے چور نگاہوں سے صوفے کی طرف دیکھا اسکے گھنے سیاہ بالوں سے ڈھکا سر دکھائی دے رہا تھا ۔اسی آہستگی سے پلٹ کر وہ بیڈ کی جانب بڑھی تھی ۔کچی سی نیند میں دروازے کی چرچراہٹ پر آنکھیں موندے ہی طهٰ ابراھیم کے ہونٹ مسکائے تھے ۔

part 2

اگلی صبح پہلی بار ایسا ہوا تھا وہ اس کے ناشتہ بنا لینے کے بعد بھی سویا ہوا تھا ۔حالانکہ وہ خود وقت پر جاگ جایا کرتا تھا ۔ام ہانی بہت وقت کے بعد پر سکوں دکھائی دیتی تھی ۔اپنا ناشتہ کمرے میں لے جاتے اس نے ایک اچٹنی سی نگاہ اس پر ڈالی تھی جو منہ تکیے میں دیے دنیا جہان سے بے نیاز پڑا سو رہا تھا ۔اسے جگائے یا رہنے دے ۔وہ سوچ میں پڑ گئی ۔گھڑی کی جانب نگاہ کی پونے آٹھ بج رہے تھے ۔اور اگر اس نے آفس جانا تھا تو وہ پہلے ہی کافی لیٹ ہو چکا تھا ۔
کچھ سوچ کر اس نے قدم سنٹرل ٹیبل کی طرف بڑھائے ۔ٹرے رکھ کر ٹی وی آن کی پھر کن اکھیوں سے اسے دیکھتے والیوم بڑھایا ۔وہ رات کو سپورٹس چینل دیکھ رہا تھا اب بھی کار ریسنگ چیمپئن شپ کی ٹیلی کاسٹ ہو رہی تھی ۔آواز بڑھانے پر پڑنے والے شور پر وہ ہڑ بڑا کر سر تکیے سے نکال گردن اٹھائے ادھر ادھر دیکھنے لگا تھا ۔ام ہانی اس کی طرف سے پوری طرح بے نیاز نظر آتی ٹی وی چینل تبدیل کرنے میں مگن تھی ۔سوئے جاگے ذہن کے ساتھ طهٰ نے گھڑی پر نگاہ کی تو اسکے چودہ طبق روشن ہوئے تھے ۔جلدی سے صوفہ چھوڑتے وہ اس پر ایک نگاہ کیے کمرے کی طرف بھاگا تھا ۔
نیوز چینل لگائے ام ہانی بے مقصد ہی صوفے پر بیٹھ گئی ۔مقصد تو پورا ہو چکا تھا مگر اب یوں ہی ٹی وی بند کر کے جانا اسے مشکوک بنا جاتا جو وہ نہیں چاہتی تھی ۔ٹرے کھسکا کر سامنے کرتے وہ ناشتے میں مگن ہو گئی تھی جب دس منٹ میں تیار ہوتے وہ عجلت میں كف لنکس بند کرتا کندھے پر لٹکے آفس بیگ کے ساتھ باہر آیا تھا ۔اسکے پاس تھوڑا سا فاصلہ بر قرار رکھتے بیٹھتا بیگ صوفے پر رکھ کر وہ اسکی ناشتے کی پلیٹ اپنے سامنے کیے نوالہ توڑتا اسے حیران کر گیا تھا ۔چائے کا سپ لیتے ہانی کپ ٹیبل پر رکھتے پھیلی آنکھوں سے اسے دیکھتی اس کی طرف گھومی تھی ۔ہلکی سی بڑھی شیو ،اور تازہ تازہ بیدار ہوئی آنکھوں کے سرخ گوشوں کے ساتھ تیار سے طهٰ کے ملبوس سے پھوٹتی بھینی بھینی سحر طراز خوشبو اسکے نتھنوں سے ٹکرائی تھی ۔
“یہ میرا ناشتہ ہے ۔آپ کا کچن میں رکھا ہے “۔اسکی حیرت پر اب ہلکی سی نا گواری چھانے لگی تھی ۔نوالہ منہ میں رکھتے وہ ہاتھ اسکے چائے کے کپ کی طرف بڑھا رہا تھا ۔
“وہ تم کر لینا میں آل ریڈی لیٹ ہو چکا ھوں “۔ہنوز پر سکوں رہتے رسان سے جواب دیا گیا تھا ساتھ چائے کا بڑا سا سپ لیا۔
“تو ٹائم سے اٹھتے نا آپ “۔
“تمہاری وجہ سے لیٹ ہوا ھوں “۔جلدی جلدی ناشتہ کرتے ساتھ زبان بھی تیز تیز چل رہی تھی ۔
“میری وجہ سے ؟”۔اسکی آواز ہلکی سی چینخ نما ہوئی تو طهٰ نے اسکی طرف خفیف سا دیکھتے گھورا ۔
“رات کو کس نے جگایا تھا مجھے ؟۔پوری رات ٹھیک سے نیند نہیں آئی پھر مجھے ۔تم سے تو اتنا نا ہوا جگا ہی دیتی “۔تاسف سے سر جھٹکتے وہ آخری نوالہ منہ میں ٹھونس رہا تھا ۔ہانی نے بھنویں جوڑتے اسکو گھورا ۔
“میں کیوں جگاتی آپ کو ؟۔نوکر نہیں لگی ہوئی آپ کی “۔آخری گھونٹ حلق سے نیچے اتارتے ہوئے طهٰ نے کپ منہ سے ہٹاتے اسکو سر تا پا غور سے دیکھا تھا ۔ام ہانی اب بھی اسکو خفگی سے دیکھ رہی تھی ۔
“واہ واہ ام ہانی ۔مبارک ہو تمہیں تو بولنا بھی آ گیا ہے “۔ ستائش سے سر دھنتے وہ ارد گرد منہ و ہاتھ صاف کرنے کے لئے کچھ ڈھونڈ رہا تھا ۔”اور جہاں تک نوکر ہونے کی بات ہے زوجہ محترمہ تو یہ تمہارا فرض بنتا ہے ۔ورنہ رات کو میں بھی تمہارا نوکر نہیں لگا تھا لیکن پھر بھی اٹھ گیا تھا ناں ۔ہم فیملی ہیں ام ہانی اور فیملی میں ایسی فیورز دینی چاہیے “۔جا کر کچن کاؤنٹر سے ٹشو پیپر نکالتے ہوئے وہ نرم سی آواز میں بول رہا تھا ۔لفظ زوجہ پر اسکے گال غصے سے دہک اٹھے تھے ۔
“میری فیملی آپ تھے طهٰ اب نہیں ہیں ۔اگر آپ کو لگتا ہے کہ کل رات کے بعد میں سب کچھ بھول گئی ھوں تو آپ غلط ہیں ۔مجھے سب ٹھیک ٹھیک یاد ہے ۔میں آپ کے اگر کام کر دیتی ھوں تو صرف امی کی وجہ سے کیونکہ آنے سے پہلے انھوں نے مجھ سے التجا کی تھی آپ کا خیال رکھنے کی ۔اور اتنی بے مروت نہیں ہو سکتی میں کہ انکی بات رد کر سکوں ۔باقی نہ آپ پہلے والے طهٰ رہے ہیں اور نہ میں پہلے والی ہانی رہی ھوں لہذا اپنی توقعات کو اپنی حد میں رکھئے گا “۔ سرد سی آواز میں کہتی ٹرے میں برتن رکھتے وہ اٹھ گئی تھی ۔ہونٹ تهپتهپاتے ہوئے طهٰ کے ہاتھ تھمے اسکے پاس سے گزر کر وہ کچن ایریا کی طرف بڑھ گئی تھی ۔
“آہاں . . . . ام ہانی ۔اب تو مجھے پورا پورا یقین ہو گیا ہے تمہیں تو سچ مچ بولنا آ گیا ہے “۔ وہ محظوظ ہوا تھا ۔
“آپ ہی تو کہا کرتے تھے مجھے بولنا نہیں آتا تو دیکھ لیں سیکھ لیا بولنا میں نے “۔وہ برتن سنک میں رکھتے تلخ سے انداز میں مسکراتے دھیمی آواز میں کہہ رہی تھی ۔بیگ اٹھاتا وہ کچن کاؤنٹر کے قریب رکا تھا ۔

” مجھے اندازہ نہیں تھا تم جب بولنا سیکھوں گی تو اتنا کڑوا بولو گی ام ہانی ۔لیکن ایک بات کہوں تم پر اتنی کڑواہٹ سوٹ نہیں کرتی ۔تم پر دهیما پن ججتا ہے ۔تم خود بھی تو ٹھہری ندی کے پانی جیسی ہو ، پر سکوں اور شانت ۔یہ تلخیوں کی ارتعاش تم پر بے گانی سی لگتی ہے “۔مسکراتی نرم تاثر سے مزین وہ سیاہ آنکھیں اس وقت کچھ اور بھی چمکدار سی لگ رہی تھیں ۔کہہ کر اک بھرپور نگاہ اس پر ڈال وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا بیرونی دروازہ عبور کر گیا تھا تو کتنی دیر وہ کھوئی کھوئی سی كیفیت میں بند دروازے کو دیکھتی رہی تھی ۔

. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .

وقت کے تھال میں چند دنوں کے اور سکے گرے تھے ۔اس فلیٹ میں پہلے سی خاموشياں نہیں رہی تھیں ۔کچھ ہلکے پھلکے جملوں کی آواز گونجنے لگی تھی ۔
وہ ایک معمول کی شام تھی وہ آفس سے واپس آیا تھا ۔ہانی فضا کے ساتھ گروسری کے لئے گئی ہوئی تھی ۔اسکے موبائل پر مسیج کر دیا گیا تھا وقت کے ساتھ اتنی تبدیلی تو آ گئی تھی۔
وہ کچھ دیر کے لئے سو گیا تھا ۔ڈور بیل پر اسکی آنکھ کھلی تھی جا کر دروازہ کھولا سامنے وہ ہاتھوں میں شاپرز پکڑے کھڑی تھی ۔ایک سائیڈ پر ہوتے اسے اندر آنے کا راستہ دیتا وہ دروازہ بند کر رہا تھا ۔ہانی کچن کی طرف بڑھ گئی ۔عصر کی نماز قضا ہونے میں کچھ وقت باقی تھا ۔وہ جلدی سے کمرے کی طرف بڑھی تھی ۔
سر کے بالوں میں ہاتھ پھیرتا وہ واپس صوفے پر بیٹھا ، اب دوبارہ سونے کا جی نہیں چاہا تو یوں ہی لیٹتے ہوئے موبائل ہاتھ میں پکڑا تھا ۔ بڑے دنوں بعد طهٰ نے موبائل پر فیس بک کھولی تھی ۔یہاں آنے کے بعد اس نے اپنے نمبر سے لے کر سوشل میڈیا کے اکاؤنٹس تک تبدیل کر دیے تھے ۔
اسکرول کرتے کرتے اسکے ذہن میں اک خیال آیا تھا ۔پہلے تو کافی دیر وہ اس سوچ کو جھٹکتا رہا پھر ویسے ہی دل کے ہاتھوں مجبور ہوتے اس کی آئی ڈی کھولی تھی ۔لوڈنگ کے بعد جو پروفائل پکچر سامنے آئی تھی اسے دیکھ کر اسکی آنکھوں کی پتلیوں میں جنبش ہوئی تھی ۔لیٹے سے اٹھ کر بیٹھتے وہ آنکھیں چھوٹی کیے سکرین کو گھور رہا تھا ۔عروسی لباس میں چہرے پر دنیا جہان کی خوشی لئے وہ اس شاندار سے مرد کے پہلو میں کھڑی تھی ۔
اسکے ماتھے پر پسینے کے ننھے ننھے سے قطرے چمک رہے تھے ۔چہرے کے خدوخال میں آئے تناؤ کے باعث اسکی رگیں تن سی گئیں تھیں ۔سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ آنکھوں میں ابھرتی جلن کے باعث اس نے سرعت سے فیس بک ایپ بند کی تھی ۔جلن اب نمی میں تبدیل ہونے لگی تھی وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کر ڈرائنگ روم کی جانب گیا تھا ۔اندر داخل ہوتے دروازہ لاک کرنا وہ ہرگز نہیں بھولا تھا ۔
وہ گھر میں سموكنگ نہیں کیا کرتا تھا مگر یہاں آنے کے بعد وہ کبھی كبهار اسی ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر ایک آدھ سگریٹ پی لیا کرتا تھا ۔یہ وہ واحد بری لت تھی جو اسے یونیورسٹی کے دوران لگی تھی ۔ اس وقت بھی اپنے اندر کے غبار اور گھٹن کو کم کرنے کے لئے اس نے دراز میں سے سگریٹ کا پیکٹ نکالا ۔صوفے پر دھنسنے کے سے انداز میں بیٹھتے ہونٹوں میں دبے سگریٹ کو لائٹر کا شعله دکھاتے سلگاتے وہ خود بھی بری طرح سلگ رہا تھا ۔
اسے لگا تھا وہ سب پیچھے چھوڑ آیا ہے تو اب کچھ بھی ہو جائے وہ پیچھے مڑ کر دیکھے گا بھی نہیں ۔مگر اسکے گزرے کل کی بجهی راگ میں کوئی چنگاری اب بھی تھی جو ذرا سی ہوا پڑی تو پھر سے سلگ اٹھی تھی ۔گلابی ہوتے آنکھوں کے کناروں میں نمی بہتی چلی گئی ۔روٹھی محبت کی یاد میں بہتے وہ چند آخری نمکین پانی کے قطرے ۔

تیری یاد میں بھیگا وہ آخری آنسو ۔
جو میری پلکوں پہ تھا آن رکا ۔
کبھی جو ملے فرصت تجھے ،
کچھ پل کو تو آ دیکھ ذرا ۔
چشم نم سے میں نے وہ بہا دیا ۔
وہ سبھی دریچے جو کھلتے تھے ۔
تیری خواہشوں کے حسین باغ میں ۔
انھیں بند کر تے بیگانگی کے ۔
فقل ہمیشہ کے لئے میں لگا گیا ۔
تیری راہوں کا اک عمر تک ۔
میں بھٹکتا اک مسافر رہا ۔
پھر چشم وقت بھی روئی یہ دیکھ کر ۔
وہ راستے میں کچھ یوں کھو گیا ۔
میرے دل کی ویران بستی میں ۔
موسم گل پھر سے نہ آ سکا ۔
وہ گلستاں جو یک بار اجڑ گیا ۔
پھر گلاب کوئی نہ وہاں کھل سکا ۔
سبھی خسارے میری جھولی میں ڈال کر ۔
وہ سرشار ہے ، وہ آباد ہے ۔
محبتوں کا جو سیلاب تھا وہ فقط ۔
میرے اسباب زندگی تھےجو ، وہ بہا گیا ۔

. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .

بستر جھاڑ کر وہ كمبل پھیلا رہی تھی جب قدموں کی آہٹ پر وہ مڑی ۔طهٰ دروازے کی چو کھٹ پر کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔وہ پھر سے رخ پھیر گئی تھی ۔سر ہانہ اپنی جگہ پر رکھتے وہ چونکی تب تھی جب دروازہ بند ہونے کے بعد لاک ہونے پر کلک کی آواز سنائی دی ۔وہ سرعت سے سیدھی ہوئی تھی ۔ایسا کرنے پر اسکے دائیں شانے پر سے دوپٹہ پهسلا تھا جسکو بر وقت وہ پھر سے برابر کر چکی تھی ۔وہ کمرے میں صرف ضرورت کے تحت آتا تھا مگر آج وہ بلا وجہ وہاں کھڑا تھا ساتھ بند دروازہ اسے اور بھی ہراساں کرنے لگا تھا ۔

“کچھ چاہیے آپ کو ؟”خود کو مضبوط ظاہر کرتے وہ اسکو دیکھتے پوچھ رہی تھی حالانکہ دل سوکھے پتے کی مانند کانپ رہا تھا ۔طهٰ نے بدلے میں سر کو نفی میں جنبش دی تھی ۔وہ قدم قدم چلتا اس سے ذرا فاصلے پر رکا تھا پھر بیڈ پر بیٹھ گیا ۔ہانی کا دل پوری رفتار سے دھڑکا تھا ۔گردن کی گلٹی تھوک نگلنے کے باعث نماياں ہوکر پھر سے معدوم ہوئی تھی ۔آنکھوں میں سرخ ڈورے لئے ،کچھ کچھ ستے چہرے کے ساتھ وہ ٹھیک نہیں لگ رہا تھاباوجود اس کے کہ وہ پر سکون سا نظر آ رہا تھا ۔کچھ عجیب تھا ،کچھ تھا جو غلط تھا مگر کیا وہ اندازہ نہیں لگا سکی ۔

“مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے۔بیٹھو “۔شانت سی آواز میں کہتے ، بغور اسکی گھبراہٹ کا اندازہ کرتے وہ نرمی سے اسے ساتھ بیٹھنے کا اشارہ کر رہا تھا ۔ہانی بے ساختہ ایک قدم اور پیچھے ہوئی تھی ۔

“میں سن رہی ہوں آپ کہیں “۔اسکے سراسیمگی بھرے جواب پر طهٰ نے سرد نظروں سے اسکو گھورا تھا۔ اسکی اس قدر بے اعتباری و بے اعتنائی اسے غصہ دلاتی تھی ۔

“بیٹھ جاؤ ہانی کھا نہیں جاؤں گا “۔اسکی سپاٹ تحکم آمیز آواز میں اتنا رعب تو تھا کہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اسکے تھوڑے فاصلے پر ٹک گئی تھی ۔کچھ پل یوں ہی خاموشی کی نذر ہوئے تھے ۔وہ زمین پر نظریں رکھے ہوئے تھی ۔طهٰ نے گردن ترچھی کرتے اسکو دیکھا ۔

“ہمیں یہاں آئے تین ماہ ہو گے ہیں ۔تم جن حالات میں میری زندگی کا حصہ بنی ہو ،ایسے میں ہم دونوں کو ہی کچھ وقت درکار تھا اس نئے رشتے کو ذہنی طور پر قبول کرنے میں ۔مگر اب ۔۔۔۔۔”وہ لحظہ بھر کو رکا ۔ہانی سانس ساکت کیے اسکے لفظوں میں موجود گہرائی کو ماپ رہی تھی ۔یقیناً یہ تمہید بلا وجہ تو نہیں تھی ۔
“میں تمہارے ساتھ ایک نئی زندگی کا آغاز کرنا چاہتا ہوں ۔سب پرانی باتیں بھلا کر ایک نئی شروعات ۔جب ساتھ ہی رہنا ہے تو اچھے سے رہتے ہیں ۔اس طرح کب تک چلے گا ۔تم سمجھ رہی ہو نا میری بات ؟”۔ہانی نے تڑپ کر چہرہ اٹھائے اسکی طرف دیکھا تھا ۔وہ جو سمجھا رہا تھا وہ سمجھ تو چکی تھی ۔تو گویا وہ اب اس تعلق سے جڑے تقاضوں تک آ گیا تھا ۔ہانی شاکی نظروں سے اسے دیکھتی کرنٹ کھا کر بیٹھے سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی ۔وہ اب بھی پر سکون سا اسے دیکھ رہا تھا ۔

اسکے چہرے پر ڈھونڈنے سے بھی کوئی ملال ،کوئی افسوس یا پچھتاوا دکھائی نہیں دیتا تھا ۔وہاں سکون تھا ،ٹھہراؤ تھا ،اور سب سے بڑھ کر اطمینان قلب کی تحریر رقم تھی ۔جو اسے اس سے اور بھی بدظن کرنے کو کافی تھی ۔تو کیا وہ اپنے کیے پر رتی برابر بھی شرمندہ نہیں تھا ۔وہ کس طرح یوں سر اٹھا کر اس سے آگے بڑھنے کی استدعا کر سکتا تھا ؟۔پر نہیں ۔۔۔۔۔وہ گزارش کر بھی کہاں رہا تھا وہ تو اسے اپنی چاہت سے آگاہ کر رہا تھا ۔اسکا لب و لہجہ ملتجی تو ہرگز نہیں تھا اس میں تو تحکم کے رنگ نماياں تھے ۔

اسکی خواہش پوچھی نہیں جا رہی تھی اپنی من مرضی بتائی جا رہی تھی ۔ہانی کی آنکھوں کے کنارے نمی سے تر ہونے لگے تھے ۔وہ اسے ڈبڈبائی آنکھوں سے دیکھتی ره گئی ۔

کاش وہ ایک بار اپنی غلطی تسلیم کر لیتا ۔جھوٹا ہی سہی ندامت کا اظہار کر دیتا ۔بھلے معافی نہ مانگتا پر شرمندگی ہی جتا دیتا تو وہ اپنی عزت نفس ،اپنی انا ،اپنی نسوانیت سب تیاگ کر اسکی ہر بات مان لیتی ۔پھر دل چاہے گریہ و زاری کرتا وہ کان لپیٹ لیتی ۔وہ اسے نصیب کا لکھا سمجھ قبول کر تو چکی تھی تو پھر حقیقت سے نگاہیں چرانے کے بجائے اسکی سنگت میں آگے بھی بڑھ جاتی ۔مگر اس نے ایسا کچھ کہا ہی کب تھا ؟۔تو پھر وہ کیوں جهكتی ۔اتنی گری پڑی تو وہ بھی نہیں تھی ۔

“کتنی آسانی سے کہہ دیا آپ نے آگے بڑھتے ہیں ؟۔کیا آگے بڑھنا اتنا ہی آسان ہے طهٰ ؟۔آپ کو ذرا سا بھی اندازہ ہے آپ کی ایک ذرا سی لعرزش کتنی زندگیاں داؤ پر لگا گئی ہے ؟۔اور آپ ہیں کہ اب بھی اپنی غلطی ماننے کو تیار نہیں ، ذرا برابر شرمندگی و ملال آپ کو چھو کر نہیں گزرا ۔ایسے میں آپ مجھ سے توقع کر رہے ہیں میں آپ کے ساتھ ایک خوش گوار زندگی کی طرف قدم بڑھاؤں گی تو یہ آپ کو خام خیالی ہے “۔اپنے ہاتھ کی پشت سے آنکھیں رگڑتی وہ بھی خودسری سے کہتی ٹھن گئی تھی ۔اسکے لہجے میں بولتی ناگواریت نے طهٰ کو اسے بغور دیکھنے پر مجبور کر دیا تھا ۔ماتھے پر بل سے آ گئے تھے ۔ان سیاہ مقناطیسی آنکھوں میں سرد سا تاثر ابھرتا چلا گیا جس سے ہانی بھی خائف ہوتی نظریں چرا گئی تھی ۔

وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر اسکے سامنے آ کھڑا ہوا تھا جو بازو سینے پر باندھے اس سے نیم رخ موڑے کھڑی پلکیں جهپکا کر آنسوؤں کو اندر ہی اندر پی رہی تھی ۔
ایک ہاتھ بڑھا کر کہنی سے اسکا بازو تھام اسکا رخ اپنی جانب موڑا تھا پھر اسکی خوف سے پھیلی حیرت زدہ آنکھوں میں اپنی آنکھیں گاڑھ وہ آہستہ مگر مضبوط و متوازن آواز میں بولا تھا ۔

“اس رات جو سب نے دیکھا ،جو سمجھا ویسا کچھ نہیں تھا ۔ میں اس نیت سے تمہارے کمرے میں نہیں آیا تھا ۔ میں پہلی اور آخری بار تمہیں صفائی پیش کر رہا ہوں ہانی ۔حالانکہ میرا ماننا ہے اگر کسی کو آپ پر بھروسہ ہو تو اسے وضاحتوں کی ڈور پکڑنے کی ضرورت کبھی پیش نہیں آتی آپکا کردار اسکی نظروں میں ہمیشہ آسماں کی وسعتوں میں کسی پتنگ کی طرح رہتا ہے اسکے خود کے یقین کی ڈور مضبوط ہونی چاہیے ۔مگر میرا خساره یہ رہا کہ مجھ سے منسلک رشتوں کی مجھ پر یقین کی ڈور بہت کمزور نکلی ۔ایک ذرا سا جھٹکا کیا کھایا سب نے ہاتھ نیچے گرا لئے ۔”ہانی نے ان آنکھوں میں تیرتے شکوے کو بہت شدت سے محسوس کیا تھا ۔اسکے لہجے میں کچھ تو ایسا تھا جو اسکا دل پگھلا گیا تھا ۔

“تو پھر سچ کیا ہے آپ بتا کیوں نہیں دیتے ؟۔آپ کچھ تو کہیں طهٰ میں سنوں گی آپ کی ہر بات۔۔۔۔۔۔ پر کچھ بولیں تو سہی “۔غیر ارادی طور پر وہ اسکے پہلو میں گرے ہاتھ کو اپنے سرد پڑتے ہاتھ میں تھامتی ملتجی انداز میں بہتی آنکھوں سے کہہ رہی تھی ۔وہ آج اس کی طرف کی کہانی سننا چاہتی تھی ۔اس وقت اسے اس میں وہی پہلے والے طهٰ کی جهلک دکھائی دی تھی ۔وہ اپنی صفائی میں جو سچی جھوٹی کہانی سناتا وہ ماننے کو تیار تھی بس وہ اپنے ہونٹوں کا فقل توڑ دے ۔ اس پل اسے دیکھتے طهٰ کا جی چاہا وہ سبھی مصلحتیں ،سبھی خود سے باندھے پیماں توڑ کر اسے سب بتا دے ۔مگر یہ صرف چند لمحوں پر محیط سوچ تھی اگلے ہی پل وہ پھر سے پتھر بن بیٹھا تھا ۔

“مجھے جتنا کہنا تھا میں کہہ چکا ۔اب یقین کرنا نہ کرنا تمہاری مرضی ہے “۔اسکے چہرے پر سے نظریں ہٹاتا وہ پیچھے دیوار کو دیکھ رہا تھا ۔ہانی کے ہاتھ کی گرفت اسکے ہاتھ پر سے چھوٹی تھی ۔ہونٹ بھینچ کر اسکا ہاتھ اپنی کہنی سے جھٹک کر اس نے اپنا آنسوؤں سے تر چہرہ صاف کیا تھا ۔اب اسے اپنے دل کے گداز ہونے پر تاؤ آرہا تھا۔

سامنے کھڑا شخص اس قابل ہی نہیں تھا کہ اسکی نرمی و رحم دلی کا حقدار ٹھہرتا ۔وہ بھی اپنے نفرت و عداوت کے خول میں پھر سے سمٹ آئی تھی ۔

“تو پھر مجھ سے بھی کوئی توقع مت رکھیے گا طهٰ ابراھیم ۔آپ سب بھول سکتے ہیں مگر میں نہیں ۔اور آپ تو واقع ہی سب بھول سکتے ہیں ۔میرے ساتھ تو جو کیا وہ تو ایک طرف ، ماہی تک کو تو بھول گئے ہیں آپ ۔اتنی بودی ثابت ہوئی آپ کی محبت ۔لیکن میں نہیں بھولی کچھ بھی ۔اور نہ ہی میں آپ کو بھولنے دوں گی ۔آپ کیسے اتنی آسانی سے آگے بڑھنے کی بات کر سکتے ہیں ۔میں نے تو آپ کو ہمیشہ ماہی کے ساتھ دیکھا تھا ۔بچپن سے ہی ماہی کے ساتھ سوچا تھا ۔میرے لئے تو شروع سے آپ ماہی کے طهٰ تھے ۔ آپ بس میرے دوست تھے ، میرے بھائیوں کے جیسے میں کیسے بھول جاؤں سب “۔روتی آنکھوں ،گلو گیر لہجے کے ساتھ آخر میں وہ چینخ اٹھی تھی ۔طهٰ نے جبڑے زور سے باہم پیوست کیے خود کے اندر کھولتے اشتعال پر قابو پایا تھا ۔

“اپنی ذات کے لئے تم مجھ سے لڑو ،جھگڑو ،جو مرضی ہے کرو میں سب سن لوں گا مگر “اس ” کا نام مت لو ۔تمہیں کوئی حق نہیں ہے بار بار اسکا یوں میرے سامنے نام لینے کا “۔آہستہ آواز میں وہ بولا نہیں دهاڑا تھا ۔مگر وہ خود اس وقت جس ذہنی اذیت کی نہج پر کھڑی تھی ذرا بھی مغلوب نہ ہو پائی تھی ۔

“کیوں نہ لوں میں لوں گی اور بار بار لوں گی ۔آپ میرے ہی نہیں ماہی کے بھی گناہ گار ہیں “۔دو بدو اسی کے انداز میں اسکی آنکھوں میں بے خوفی سے دیکھتے وہ بولی تھی ۔

“تم خدا مت بنو ۔کون پاكباز ہے کون گناہ گار یہ اللّه بہتر جانتا ہے ۔تم کیوں منصف بن رہی ہو ؟۔میں نہ تمہارا گناہ گار ہوں نہ اسکا ۔میں نے تم دونوں میں سے کسی کو نقصان نہیں پہنچایا ۔ٹھیک ہے میں مان لیتا ہوں اس رات میں تمہارے کمرے میں آیا تھا ۔مگر تمہاری عزت پر کوئی آنچ نہیں آئی تم محفوظ رہی اس لئے میں تمہارا مجرم نہیں ہوں ۔میں نشے میں تھا یا میری جو بھی نیت تھی وہ اب میرا اور میرے اللّه کا معاملہ ہے ۔تمہارا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے “۔لہو رنگ آنکھوں سے برستی آگ اسے جهلسانے لگی تھی تو درشت آواز میں پھیلا سرد پن پہلی بار ہانی کو محسوس ہوا تھا وہ اسکے اس قدر غضب ناک ہونے پر جھرجهری سی لے کر ره گئی ۔اسکے الفاظ نے اسے سناٹوں کی زد میں لا کھڑا کیا تھا ۔وہ کتنی آسانی سے اللّه کے انصاف کو آواز لگا رہا تھا ۔کیا وہ نہیں جانتا تھا اسکی پکڑ کتنی سخت ہے ۔اسکی ہمت جواب دے گئی تھی ۔

“آپ چلے جائیں یہاں سے طهٰ پلیز چلے جائیں “۔دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپائے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی ۔

طهٰ کچھ پل اسے یوں ہی روتے دیکھتا رہا تھا پھر اس نے بے بسی سے لب کچلتے آنکھوں کو موندا تھا ۔وہ ایسا تو نہیں چاہتا تھا ۔وہ تو اسکے ساتھ ایک نارمل زندگی کا خواہشمند تھا ۔اس نے سوچا تھا وہ نرمی سے ،محبت سے اسے سمجھائے گا۔وہ صحیح معنوں میں اس کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتا تھا ۔پچھلی تلخیوں کو بھلانا تھا تو نئے تعلق کو استوار کرنا اسکے لئے نا گزیر تھا ۔جو گزر چکا اسکا ماتم اسے اب مزید منانا بھی نہیں تھا ۔ مگر سب الٹا ہو گیا تھا ۔وہ ایک بار پھر اسکو رلانے کی وجہ بن گیا تھا ۔وہ جب سے اس سے جڑی تھی بس رو ہی تو رہی تھی ۔ وہ اسے خود سے جڑنے سے پہلے ہی آنسوؤں کا تحفہ دے چکا تھا ۔

آنکھیں کھول کر اسکے سسکیوں سے لرزتے وجود کو نرمی سے اپنے حصار میں لیتے وہ کچھ اور اسکے قریب ہوا تھا ۔ہانی نے تڑپ کر پیچھے ہونا چاہا تھا مگر ناکام رہی ،اسکی ہر مزاحمت کو وہ اپنا حصار اور بھی مضبوط کرتے ریت کی بھربھری دیوار بنا گیا تھا ۔اپنی پوری طاقت صرف کر کے بھی نہ تو وہ اسے اپنی جگہ سے ہلا پائی تھی نہ خود کو اسکی قید سے چھڑا پائی تھی ۔بے بسی کا یہ احساس اسکے آنسوؤں کو مزید تقویت پہنچا گیا تھا ۔

“مت کرو ایسا ۔تکلیف دینی ہے تو صرف مجھے دو خود کو کیوں اذیت کی بھٹی میں جھونک رہی ہو ۔مجھے بار بار خود سے سختی پر مجبور مت کرو ۔مجھے بھی اچھا نہیں لگتا جب جب تم میری وجہ سے روتی ہو ۔ام ہانی میں پیچھے کی سبھی کشتیاں جلا آیا ہوں اور تمہاری بد قسمتی یہ ہےکہ اس سفر میں تم میری ہمسفر ہو ۔اس لئے واپسی کی کوئی راہ تمہارے لئے بھی نہیں کھلی ۔تو کیوں بار بار ماضی کو دوہرا کر حال و مستقبل کو داؤ پر لگا رہی ہو ۔ہم چاہیں یا نہ چاہیں مگر یہ ساتھ قسمت میں لکھا تھا ۔جسے نہ تم بدل سکتی ہو اور نہ میں نظریں چرا سکتا ہوں ۔اس لئے بہتر یہی ہے کہ ہم اس حقیقت کو جلد از جلد قبول کر لیں “۔
نرمی بھرے متانتی انداز میں کہہ کر اسے خود سے الگ کرتے وہ اسکا چہرہ اپنی انگلیوں کے پوروں سے صاف کر رہا تھا ۔مسلسل رونے سے گلابی پن لئے وہ چہرہ اور آنکھیں اس وقت اور بھی دلکشی اپنے اندر سموئے ہوئے تھے ۔طهٰ نے پہلی بار پورے استحقاق سے اس چہرے کو اپنی آنکھوں میں بسائے ہوئے ہاتھوں کے پیالوں میں بھر کر اس صبیح پیشانی پر اپنا لمس چھوڑا تھا ۔اس کے پر حدت ہونٹوں کی تپش نے اسکی پیشانی سلگا دی تھی ۔آنکھیں میچ کر اس نے اسکے لمس کی نرمی بھری شدت کو سہا تھا ۔اسکی بڑھتی جسارتوں نے اسکی آتی جاتی سانسوں کو بوجھل کیا تو وہ سر کو نفی میں جنبش دیتے گڑگڑ ا اٹھی تھی ۔

“طهٰ پلیز ۔۔۔۔آپ میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے “۔اسکی مدهم سی آواز میں کوئی مان تھا جو نا چاہتے ہوئے بھی طهٰ کو جلتے انگاروں پر لٹا گیا تھا ۔چہرہ اٹھا کر اسکی آنکھوں میں دیکھتے وہ زخمی سے انداز میں مسکرا دیا ۔

“کیوں نہیں کر سکتا؟۔۔۔۔ ۔جب میں نا محرم ہو کر رات کی تاریکی میں ، نشے کی حالت میں تمہارے کمرے تک آ سکتا ہوں تو اب تو شوہر ہوں تمہارا ۔قانونی و شرعی حق رکھتا ہوں ۔تم چاہو تو بھی نہیں جھٹلا سکتی ام ہانی طهٰ ابراھیم “۔

سپاٹ آواز میں قطعی پن لئے کہتے وہ اسکے مان کو ریزہ ریزہ کر گیا تھا ۔اپنے اور اسکے درمیان حائل ہر دیوار وہ مسمار کرتا چلا گیا تھا ۔تین ماہ پہلے کسی نے اسکی نہیں سنی تھی اور آج وہ اسکی سسکیوں پر کان لپیٹ گیا تھا ۔

. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .

وہ آٹھ سال کی تھی جب پہلی بار اپنے ننھیال آئی تھی ۔اور اسکا سامنا طهٰ ابراھیم سے ہوا تھا ۔تب وہ تیرہ سال کا تھا ۔وہ پہلے اسکے کزن کی حیثیت سے اس سے متعارف ہوا تھا ،کچھ وقت گزرا وہ اسکا غمگسار اور دوست بنا ،پھر وہ اسکے ٹیوٹر کے عہدے پر فائز ہوا ۔کوئی بھی پریشانی کی صورت میں وہ ایک بہترین ناصح و مددگار بن جاتا ۔وہ ہمیشہ سے محافظ رہا تھا اور پھر تین ماہ پہلے وہ اچانک سے عفت کے پاسبان سے لٹیرا بن بیٹھا ۔وہ ایک دھچکا تھا اور اس سے بڑا ستم یہ تھا وہ اگلے دن اسکا زبر دستی کا شوہر بھی بنا دیا گیا تھا ۔پھر وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر لاہور آ گئے تھے ۔اور یہاں کا طهٰ بالکل الگ تھا ۔غصیل ، سردمہر اور سخت گیر ۔وہ ایک شخص تھا جس کے ان گنت روپ تھے ۔اور تین ماہ بعد اب وہ حقیقی معنوں میں اسکا شوہر بن بیٹھا تھا ۔بارہ سالوں میں اسکے جتنے روپ دیکھے تھے یہ سب سے زیادہ نا قابل قبول ثابت ہوا تھا ۔اسکا رونا بلکنا طهٰ پر مطلق اثر انداز نہیں ہوا تھا ۔
پچھلے چار دن سے وہ مکمل طور پر اسکا بائیکاٹ کیے ہوئے تھی ۔بات چیت نہ ہونے کے برابر تھی وہ خود سے بات کرنے کی کوششش کرتا بھی تو اسکی چپ کا روزہ اپنی جگہ قائم رہتا ۔ایسے میں وہ بھی خاموش ہو گیا تھا ۔رات وہ اسکے کمرے میں آنے پر خود باہر صوفے پر چلی گئی تھی جس پر اسکے رد عمل نے اسکے چودہ طبق روشن کر دیے تھے ۔
“یہ کیا حرکت ہے ؟”اسکے سر تک تانی چادر کو کھینچ کر خشمگیں نظروں سے دیکھا ۔بدلے میں اس نے جواب دینا ضروری نہیں سمجھا تھا ایک اچنبھے سے بھرپور حیرت بھری سخت نگاہ اس پر ڈال کر بازو آنکھوں پر رکھ لیا تھا ۔طهٰ کچھ دیر اسے سوچتی نظروں سے دیکھتا رہا تھا ۔
“ام ہانی !ہم چھوٹے بچے ہیں کیا جو اب یوں ناراضگی ناراضگی کھیلیں گے ؟”۔دوسری طرف کوئی بھی اثر نہیں لیا گیا ۔اسکے بازو پر انگلی کی پشت کو دستک دینے والے انداز میں کھٹکھٹایا تو ہانی نے بازو پیچھے کر کے اسکو خفگی سے دیکھا ۔طهٰ کی آنکھوں کی چمک میں اضافہ ہوا تھا ۔
“اوکے نوپرابلم ۔مجھے تو ویسے بھی عادت سی ہو گئی ہے صوفے پر سونے کی ۔تم بھی یہی شفٹ ہونا چاہ رہی ہو تو کوئی بات نہیں تھوڑا مشکل ہوگا مگر میں ایڈجسٹ کر لوں گا “۔چہرے پر گھمبیر سنجیدگی کی تہہ میں شرارت چھپائے وہ اسکے پاس صوفے پر ٹک گیا تھا ہانی ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھی تھی ۔ایک شاکی نظر اسکے چہرے پر ڈال کر وہ شرم و غصے سے دمكتی سنہری رنگت لئے ،سختی سے باهم لبوں کو پیوست کیے اسکے پاس سے اٹھتی چلی گئی تھی ۔کمرے میں داخل ہو کر دروازہ پوری شدت سے بند کیا گیا تھا جس کی گونج طهٰ کے کانوں میں کتنی دیر تک سنائی دیتی رہی ۔ساتھ ہی دروازہ لاک ہونے کی آواز بھی آئی تھی ۔اس نے تاسف سے بند دروازے کو دیکھا تھا ۔
“بھلائی کا تو زمانہ ہی نہیں ہے ۔ میں ان محترمہ کی بے آرامی کی خیال سے آیا تھا اور یہاں مجھے ہی کمرہ بدر کر دیا گیا ہے ۔شوہر کا کوئی خیال ہی نہیں ہے “۔سر جھٹکتے ہوئے چادر ٹھیک کرتا وہ ساتھ ساتھ بڑبڑا بھی رہا تھا ۔پھر اسکی چھوڑی جگہ پر دراز ہوتے چادر اوڑھ لی ۔وہ چاہتا تو خود کے پاس موجود چابیوں سے دروازہ کھول بھی سکتا تھا مگر اس وقت اسے مزید چھیڑنا ان دونوں کے حق میں اچھا نہیں تھا ۔وہ مصلحت سے کام لے رہا تھا ۔سکون سے آنکھیں بند کرتے وہ اتنے ماہ بعد آسودہ نظر آتا تھا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *