Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah e Yaar Teri Musaftein (Episode 07)Part 1,2

Raah e Yaar Teri Musaftein by Umme Abbas

“ہانی میرا ناشتہ ؟”۔آفس کے لئے تیار وہ کمرے سے نکل کر صوفے پر بیٹھا تھا ۔کچن کاؤنٹر کے پاس رکھے میز پر ناشتے کی ٹرے وہ دانستہ نظر انداز کیے وہاں بیٹھا تھا ۔وہ صرف اس سے بات کرنے کا بہانہ چاہ رہا تھا ۔ام ہانی نے اک سخت نگاہ اسکی پشت پر ڈال کر صبر کا گھونٹ بھرتے ٹرے اٹھا کر اس کے سامنے رکھی تھی ۔
سیدھی ہوتی وہ جانے لگی جب اسکے ہاتھ کو اپنی گرفت میں لیتے ہوئے وہ اسے روک گیا ۔
“تم نے ناشتہ کر لیا ؟”۔نرم سے انداز میں ہلکی سی مسکراہٹ لئے وہ مفاہمت کی کوشش میں تھا ۔
“میں کمرے میں کروں گی “۔ٹھس سا انداز جیسے جان چھڑانی چاہی ہو ۔
“بیٹھ جاؤ اکٹھے کرتے ہیں ۔بلکہ اب سے کھانا بھی ساتھ کھایا کریں گے “۔اسکے ہاتھ پر گرفت مضبوط کرتے تھوڑا زور دے کر اپنے پہلو میں بٹھایا ۔بادل نخواستہ وہ بیٹھ تو گئی تھی مگر چہرے پر منڈلاتے ناگواری کے بادل کچھ اور گہرے ہوتے چلے گئے ۔اسکا مطمئیں چہرہ دیکھتے اس کے اندر ابال سا اٹھا ۔
“شروع کرو “۔آنکھ کے اشارے سے ناشتے کی جانب متوجہ کیا ۔
“اب یہ سب چونچلے کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟”۔بھینچی ہوئی آواز میں کہتے ، وہ آنکھوں میں سرد پن لئے اسے دیکھ رہی تھی ۔ہونٹ بھینچتے ہوئےطهٰ کا چائے کے کپ کی طرف جاتا ہاتھ رکاتھا ۔ایک گہرا سانس بھرتے وہ ہاتھ واپس کھینچتا اسکی طرف پوری طرح رخ پھیر کر بیٹھا ۔
“تم کیا چاہتی ہو ۔صرف اتنا بتا دو “۔ٹھنڈے ٹھار سے لہجے میں کہتا اب وہ پوری طرح سے اسکے چہرے پر سجے تاثرات کا جائزہ لے رہا تھا ۔اسکی بات پر وہ طنزیہ انداز میں مسکرائی ۔

“میری چاہت کو تو رہنے ہی دیں آپ ۔سن نہیں پائیں گے “۔زہر خند لب و لہجے میں کہتی وہ اسے چیلنج کر رہی تھی ۔
“تم کہو ام ہانی !میں سن لوں گا “۔اپنے ایک ایک لفظ پر زور دیتے وہ آنکھیں اسکی بھوری آنکھوں میں گاڑھے ہوئے تھا ۔کبھی یہ آنکھیں اسکی طرف اٹھنے سے انکاری ہوا کرتی تھیں ۔اب بے خوف و خطر بنا کسی لحاظ کے اسے دیکھا کرتی تھیں ۔ام ہانی کے اندر اٹھتے ابال کو باہر نکلنے کا گویا موقع مل گیا ۔دھیمی آواز میں وہ پھٹ پڑی ۔
“میں آپ کی شکل تک دیکھنے کی راوادار نہیں ھوں ۔میں آپ کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی ۔آپ سے کوئی تعلق واسطہ نہیں رکھنا چاہتی ۔میرے بس میں ہو تو ایک منٹ کی دیری کیے بنا سب چھوڑ چھاڑ کر واپس چلی جاؤں ۔آپکا ساتھ اتنا ہی نا قابل برداشت ہے میرے لئے طهٰ ۔۔لیکن پتہ ہے کیا آپ کو اس سب سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔کوئی آپ کے ساتھ رہتے ہوئے جیے یا جیتے جی پل پل مرے یہ سب بے معنی ہے آپ کے لئے ۔دوسرے کے احساسات ،جذبات جائیں بھاڑ میں ۔آپ کو بس خود کی ذات سے سروکار ہے ۔آپ کیا سوچتے ہیں آپ کیا چاہتے ہیں بس یہی اہم ہے ۔مگر میرا کیا طهٰ؟۔میں یہ دوہری زندگی نہیں جی سکتی ، دل میں نفرت کا جہاں آباد کیے میں صرف آپ کے نفس کی تسکین کا باعث نہیں بن سکتی “۔
نم ہوئی آنکھوں میں بے بسی کی انتہا تھی ۔یہ وہ احساسات تھے جن کا ام ہانی آج کل ہر پل شکار بنی ہوئی تھی ۔اپنی جگہ وہ بھی تو غلط نہیں تھی ۔طهٰ جو بہت تحمل سے اسکی ساری بات سن رہا تھا اسکی آخری بات پر اسکا دماغ بھک سے اڑا تھا ۔تین ماہ بعد ایسے لگا تھا جیسے ایک بار پھر سے اسکی ذات کے پخیے اڑا دیے گئے ھوں ۔اسکے کردار کو ایک دفعہ پھر سے جج کیا جا رہا تھا اور اس بار ہونے والے درد کی شدت پچھلی بار سے سے بھی بڑھ کر تھی ۔جبڑے سختی سے بھینج کر اسنے اپنے اندر کے انتشار کو قابو میں کیا تھا ۔ماتھے کی پھولتی رگیں اسکے ضبط کی گواہ تھیں ۔ہاتھ بڑھا کر اسکی کہنی سے ذرا اوپر سے بازو پکڑے اس نے اسکو پوری طرح سے جهنجھوڑ ڈالا تھا ۔خود کو لگنے والے جھٹکے پر ام ہانی نے اسکی سختی پر اٹھنے والی بازو میں درد کی لہر کو برداشت کرتے بے یقینی بھرے تعجب سے اسکو دیکھا جسکا سرخ پڑتا سرد و سپاٹ چہرہ اسے دنگ کرنے کو کافی تھا ۔لمحے کے ہزارویں حصے میں اسے اپنے الفاظ کی سنگینی کا اندازہ ہوا تھا ۔مگر تیر تو کمان سے اب نکل چکا تھا اور جو گھاؤ لگا تھا اسکی گہرائی کا اندازہ طهٰ کی دهواں دهواں ہوتی آنکھوں سے خوب ہو رہا تھا ۔
“نفس کی تسکین ؟۔یہی کہا نا تم نے ابھی ؟۔اسکی یخ ٹھنڈی آواز نے ام ہانی کی سانسیں تک روک ڈالی تھیں ۔خوف سے پھیلی آنکھیں خود ہی جھک گئی تھیں ۔کچھ دیر پہلے کی ساری بہادری اڑنچهو ہوئی تھی ۔چہرے کی رنگت میں گھلتی ہلدی اسکا رنگ خطرناک حد تک زرد کر تی چلی گئی ۔
“جس بات کا پتہ نہ هو وہ منہ سے نکالنی نہیں چاہیے ۔جانتی بھی ہو اس کا مطلب کیا ہوتا ہے ؟۔مرد جب صرف اپنے نفس کی تسکین پر اترتا ہے تو انسان سے بھیڑیا بن جاتا ہے پھر عورت کسی اور سے تو کیا خود سے نظریں ملانے کے لائق نہیں رہتی ۔میں اتنا ہی نفس کا غلام ہوتا تو پہلے دن ہی اپنا حق جتا چکا ہوتا ۔تم تین ماہ سے میرے ساتھ ہو تم بتاؤ کتنی بار اپنے منہ زور جذبوں سے مغلوب ہو کر تمہاری جانب بڑھا ھوں میں ؟۔بولو ۔۔۔بولو نا اب “۔آنکھوں میں ابھرے گلابی ڈوروں کے ساتھ وہ اسے جهنجھوڑتا درشت آواز میں چنگھاڑ رہا تھا ۔گال پر بہنے والے قطرے کے ساتھ ہانی نے بری طرح ہراساں ہوتے سختی سے اپنی آنکھیں بند کیں تھیں ۔کبوتر کی طرح بچاؤ کی ایک ناکام سی کوشش ۔میز پر رکھا ناشتہ ٹھنڈا ہو چکا تھا ۔فضا میں گھٹن کا احساس بڑھ گیا تھا ۔صبح کی تازگی مژدگی میں بدل گئی ۔
“میں پوری ایمانداری سے تمہاری طرف بڑھا تھا ۔اس رشتے کو سچے دل سے قبول کیا تھا مگر میں بھول گیا تھا غلطیاں اللّه معاف کرتا ہے ۔انسان معاف نہیں کرتے وہ خود بھی یاد رکھتے ہیں اور ہمیں بھی بار بار یاد کرواتے رہتے ہیں ۔کبھی آگے نہیں بڑھنے دیتے “۔
شکست خورده سا کہتے ، گہرا سانس لیتے طهٰ نے ایک قہر آلود نگاہ اس پر ڈالی تھی پھر ایک جھٹکے سے اٹھ کر اپنا بیگ لئے باہر نکل گیا ۔
دھڑام کی آواز کے ساتھ بند ہوتے دروازے کی آواز پر وہ بری طرح بدکتی آنکھیں کھول چکی تھی ۔وہ جا چکا تھا مگر اسکے لفظوں کی بازگشت ابھی بھی یہی کہیں تھی ۔اپنے جذبات کے ریلے میں بہہ کر وہ غلط بول گئی تھی جسکا احساس بھی اسے جلد ہی ہو گیا تھا ۔وه اس سے معافی بھی مانگنا چاہتی تھی ۔ہاں وہ ایسی ہی تو تھی ۔نرم دل ،حلاوتوں کی بولی بولنے والی ۔انجانے میں کسی کا دل دکھا کر بے چین ہونے والی ، غلطی کا احساس ہونے پر فوری پشیماں ہونے والی ۔مگر پھر اس نے خود پر بے حسی کی تہہ چڑھا لی ۔وہ دل میں اسکے لئے کینہ لئے زبان پر تلخیوں کے تیر لئے اسے بھی اتنا ہی گھائل کر دینا چاہتی تھی جتنی وہ خود ہوئی تھی ۔مگر اسکا اللّه گواہ تھا یہ سب کر کے وہ کبھی خوش نہیں ہوئی تھی ۔ہر بار اس سے بد تمیزی کرنے پر وہ خود بھی بے چین ہوئی تھی ۔یہ اسکی فطرت کے منافی تھا ،اسکے مزاج کے رنگوں کے بر عکس ۔اب بھی اپنی کو تاہی کا احساس ہونے پر وہ معافی مانگنا چاہتی تھی مگر اسکا غیض و غضب دیکھ کر گلا خشک ہو گیا تھا زبان تالو سے چپک گئی تھی ۔
“اللّه میں ایسا نہیں چاہتی تھی ۔بس منہ سے نکل گیا غصے میں ۔نہیں کہنا چاہیے تھا ۔میں معافی مانگ لوں گی شام کو جب وہ واپس آئیں گے “۔آنسو صاف کرتے اس نے پشیماں ہوتے ساتھ ہی خود کو تسلی بھی دی تھی ۔پاؤں سمیٹ کر صوفے پر رکھتے وہ گھٹنوں کے گرد بازو باندھ کر صوفے کی پشت سے ٹیک لگا گئی تھی ۔سر پیچھے کی جانب ٹیکتی آنکھیں موند کر وہ افسردگی سے یوں ہی بیٹھی رہی ۔پہلی بار وہ ناشتہ کیے بنا گھر سے نکلا تھا اور اب نواله حلق سے اتارنا اسکے لئے بھی نا ممکن تھا ۔

. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .

پورا دن اسکی دلی کلفت اپنے عروج پر رہی تھی ۔اسکی واپسی کے وقت پر وہ باہر صوفے پر بیٹھ گئی تھی ۔کوئی بوجھ سا تھا جو دل پر پڑا تھا بس وہ آ جاتا وہ معافی مانگ لیتی تو وہ اتر جاتا ۔
وہاں بیٹھے بیٹھے وہ تیرہ سال پیچھے چلی گئی تھی ۔
گھر کے صحن میں رکھی چارپائی پر وہ بیٹھی سامنے اسکول بیگ کھولے بیٹھی تھی ۔اسکی ماں پاس ہی بیٹھی مصروف سی پیاز پر سے پرتیں ہٹا رہی تھی ۔جب کاپی بند کرتے اس نے ماں کو دیکھا تھا ۔
“امی آج اسکول میں مجھ سے ہادیہ کو دھکا لگ گیا اسے بہت زور سے لگی تھی اور وہ روئی بھی بہت تھی “۔اترے چہرے سے کہنے پر اسکی ماں نے ہاتھ روک کر اسے دیکھا ۔
“کیا تم نے جان بوجھ کر ایسا کیا ؟”۔انکے پوچھنے پر اس نے سر کو زور زور سے نفی میں جنبش دی ۔ماں کا ہاتھ محبت سے اسکے سر کے بالوں پر آن ٹھہرا ۔

“کیا تم نے ہادیہ سے معافی مانگی ؟”۔
“نہیں ۔میں ڈر گئی تھی ۔مجھے لگا ٹیچر مجھے ماریں گی ۔اس لئے میں وہاں سے بھاگ گئی تھی “۔نظریں چرا کر کمزور سی آواز میں گویا اس نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا ۔
“ام ہانی ۔ہم انسان ہیں اور انسان غلطی کرتے ہیں بیٹا ۔اس لئے غلطی چاہے جان کر سرزد ہو یا انجانے میں اس سے بھاگنا نہیں چاہیے ۔خود کو اتنا مضبوط کر لو کہ اس کے سامنے کھڑے ہو سکو معافی مانگ لو ۔پھر غلطیاں سدھر جاتی ہیں ۔ڈر کر بھاگو تو وہ اور بھی بڑی ہوتی ہمیں اور بھی ڈراتی ہیں “۔اسکی تھوڑی کے نیچے ہتھلی رکھے ماں مسکرا ئی تھیں ۔شفاف آنکھوں والی چڑیا جتنا دل رکھنے والی وہ چھوٹی سی لڑکی بھی زبر دستی مسکرائی ۔
“میں کل ہادیہ کو سوری بول دوں گی امی “۔
وہ پتہ نہیں ماں کو بتا رہی تھی یا خود کو سمجھا رہی تھی مگر وہ ارادہ باندھ رہی تھی ۔

“اللّه هو اکبر ،اللّه هو اکبر “۔اذان کی صدا بلند ہونے پر اس نے سر اٹھا کر آگے پیچھے دیکھا تھا ۔پورے فلیٹ میں نیم اندھیرا سا پھیلنے لگا تھا ۔مغرب کی اذان فضا میں بلند ہوتی اسے وقت کا پتہ دے رہی تھی ۔اتنی دیر ہو گئی تھی مگر وہ نہیں آیا تھا ۔پریشانی کی لکیریں چہرے پر لئے وہ اٹھ کر لائٹس آن کرنے لگی ۔وہ تو آفس کے بعد فوری طور گھر واپس آ جایا کرتا تھا ۔کبھی تھوڑی بھی دیر ہو جاتی تو کال کر کے اطلاع کر دیا کرتا تھا ۔مگر اتنی تاخیر تو کبھی نہیں ہوئی تھی ۔دل کے بوجهل پنے میں یک بار اضافہ ہوتا چلا گیا ۔ابھی وہ کمرے میں جا کر اسے کال کرنے کا ارادہ کر ہی رہی تھی جب ڈور بیل پر لپک کر دروازے کی جانب بڑھی ۔
دروازہ کھول کر سامنے دیکھنے پر جو منظر دیکھنے کو ملا تھا وہ اسکے وہم و گماں میں بھی نہیں تھا ۔بے اختیار اس کے ہاتھ دروازے کے پٹ پر سے ہٹے تھے ،دو قدم پیچھے لیتے وہ خوف سے پھیلی آنکھوں کے ساتھ ہاتھ ہونٹوں پر رکھتی بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی ۔
ماتھے پر بندهی پٹی پر خون اور دوا کا نشان تازہ لگ رہا تھا ۔چہرے پر ہلکی ہلکی خراشوں کے ساتھ اسکا بائیں ہاتھ بھی پٹی میں جکڑا ہوا تھا ۔اسکا ٹراؤزر گھٹنے پر سے پھٹا ہوا تھا تو شرٹ بھی خستہ حالی کا شکار تھی ۔چہرے پر بے نیازی کا تاثر قائم تھا اور اسے سامنے دیکھ کر اس بے نیازی میں کہیں کہیں ناراضگی کی رمق بھی شامل ہوئی تھی ۔صارم اسکے ساتھ کھڑا تھا پوری طرح سے اسکو سہارا دیتے ہوئے ۔جسکے کندھے پر بازو دراز کیے وہ اس کے سہارے لڑکھڑاتا ہوا اندر کی جانب بڑھا تھا ۔
“بھابھی پریشان مت ہوں ٹھیک ہے یہ “۔اسکی حد سے سوا ہوتی زرد رنگت پر نگاہ پڑتے صارم نے اندر آتے اسکو ڈھارس دی تھی ۔
وہ سرعت سے ہوش میں جیسے آئی تھی ۔جلدی سے دروازہ بند کرتے وہ انکے پیچھے لپکی ۔
“یہ کیا ہوا ؟”۔نا چاہتے ہوئے بھی آواز بھرا گئی تھی ۔طهٰ کے دوسری جانب تھوڑے فاصلے پر چلتے وہ چاہ کر بھی خود میں اتنی ہمت پیدا نہیں کر سکی کہ اسے سہارا دے سکے ۔ایک تو اسے اس طرح دیکھنا اسکے اوسان خطا کر گیا تھا ۔رہی کسر اسکے چہرے پر سجے پتھریلے تاثر نے نکال دی تھی ۔
“کچھ نہیں ہوا ۔بس واپس آتے ہوئے محترم پتہ نہیں کن خیالوں میں کھوئے ہوئے تھے کہ سپیڈ بریکر بھی دکھائی نہیں دیا ۔بچت ہو گئی ہے اللّه کا شکر ہے ۔باقی یہ ہلکی پهلكی چوٹیں ہیں ۔ہاں سر کی چوٹ ذرا گہری ہے تین ٹانکے آئیں ہیں “۔کمرے کے دروازے پر وہ رک گئی تھی ۔صارم اسے بستر پر لٹاتا ساتھ ساتھ تفصیل بھی بتا رہا تھا ۔ہانی کی ڈبڈبائی آنکھوں میں اسکا عکس گڈمڈ سا ہونے لگا تھا ۔صارم کے سامنے اس نے اپنے آپ پر بہت حد تک بندھ باندھ رکھا تھا ۔
“یہ اس کی میڈیسن ہیں “۔اب وہ بیڈ سائیڈ ٹیبل پر شاپر رکھ رہا تھا ۔مگر ہانی اسے دیکھ یا سن ہی کب رہی تھی ۔اسکی نظریں تو اس کے سراپے میں الجھی ہوئی تھیں جو اب بیڈ پر نیم دراز سا آنکھیں بند کیے پڑا تھا ۔خفا خفا سا ،بے زار صورت لئے ۔

Part 2

صارم اس سے کچھ کہہ رہا تھا اور وہ آنکھوں پر سے بازو ہٹائے اسے دیکھتا جواب میں کچھ بولا تھا،باوجود ضبط کے بھی اسکے چہرے پر گھلی زردی اسکے درد کا پتہ دے رہی تھی ۔ہانی کو صرف اسکے ہلتے ہونٹ دکھائی دے رہے تھے ۔غائب دماغی سے اسے دیکھتی وہ واپس مڑ آئی تھی ۔باہر صوفے پر بیٹھتے وہ دونوں ہاتھوں سے آنکھیں مسلتے بہت سی نمی کو اندر اتار چکی تھی ۔اسکے ہاتھوں کی لرزش بہت واضح تھی ۔ذہن میں جو خیال آ رہا تھا اگر وہ سچ تھا تو بہت بھیانک تھا ۔وہ کالج کے وقت سے ہی بائیک چلا رہا تھا ۔کبھی كبهار وین مس ہونے پر یا پیپرز کے دوران وہ بھی اسکے ساتھ جاتی رہی تھی ۔وہ بہت محتاط ہو کر بائیک چلایا کرتا تھا ۔اتنے عرصے میں کبھی کوئی حادثہ پیش نہیں آیا تھا ۔
تو کیا یہ ایکسیڈنٹ صبح اس سے ہونے والی مد بھیڑ کا شاخسانہ تھا ۔یہ سوچ اسے احساس جرم کا شکار کرنے لگی تھی ۔وہ کافی مضبوط اعصاب کا حامل تھا اگر مینٹل ڈسٹربنس کے باعث ایسا ہوا تھا تو بھی یہ ام ہانی کے لئے تکلیف ده تھا اور اگر اس نے ایسا جان بوجھ کر کیا ہے تو ؟۔۔۔۔اس سے آگے وہ کچھ سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی ۔
آہٹ کی آواز پر وہ سیدھی ہوئی چہرہ اٹھا کر دیکھنے لگی ۔صارم کمرے سے باہر نکل رہا تھا ۔وہ جلدی سے اٹھی ۔
“صارم بھائی بیٹھیں ۔میں چائے بناتی ھوں “۔وہ شرمندہ ہوئی تھی ۔اپنی پریشانی میں اسکا دھیان ھی نہیں گیا تھا ۔
“نہیں بھابھی اسکی ضرورت نہیں ہے ۔فضا دو بار کال کر چکی ہے “۔شائستگی سے ٹالتے وہ بیرونی دروازے کی جانب بڑھنے لگا ۔
“بہت شکریہ “۔اسکے پیچھے آتی وہ مشکور نظر آتی تھی ۔پرائی جگہ اسکا سہارا بہت معنی رکھتا تھا بے ۔
“اب آپ شرمندہ کر رہی ہیں بھابھی ۔وہ کوئی غیر تو نہیں ہے ۔کوئی بھی ضرورت پڑے تو بلا جھجک کال کر دیجئے گا۔اور ہاں اس بد تمیز انسان کی اچھے سے کلاس لیجئے گا کہ اتنی لا پرواہی کا آئندہ یہ سوچ بھی نہ سکے “۔ہانی نے بمشکل ہلکا سا مسکرا کر سر ہلا دیا ۔
اسکے جانے کے بعد وہ کمرے کی دہلیز تک گئی تھی ۔طهٰ آنکھوں پر بازو رکھے لیٹا ہوا تھا ۔بے دلی سے وہ واپس مڑ آئی مغرب کی نماز وہیں باہر ادا کرتے وہ واپس کمرے میں آئی تھی ۔وہ ہنوز لیٹا ہوا تھا ۔خون آلود شرٹ دیکھ کر وہ وارڈ روب کی جانب بڑھی ۔ٹی شرٹ اور ٹراؤزر نکال کر اسکے پاس آتے رکی ۔متذبذب سے انداز میں اسکو دیکھتے بلا آخر اس نے ہمت کر ہی ڈالی تھی ۔
“طهٰ “۔وہ شاید جاگ رہا تھا اسکی ہلکی سی پکار پر بازو ہٹا کر سرخ ہوتی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگا تھا ۔
“کپڑے چینج کر لیں “۔بہت حد تک آواز کو نمی کی نذر ہونے سے بچاتے وہ دانستہ اسکا چہرہ نہیں دیکھ رہی تھی ۔وہ خود بھی ان کپڑوں میں الجھن کا شکار تھا بنا کسی تردد کے کہنی کے بل اٹھ بیٹھا تھا ٹانگیں نیچے کرتے ہوئے اسکے چہرے پر تکلیف کے آثار نمو دار ہوئے تھے ۔ہاتھ بڑھا کر اسکے ہاتھوں سے کپڑے لیتے وہ بیڈ کراؤن کا سہارا لے کر کھڑا ہونا چاہ رہا تھا جب ام ہانی نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تھا ۔سپاٹ نظروں سے اسکے ہاتھ سے چہرے پر نگاہ ڈالتے طهٰ کی نظروں کا تاثر بہت ٹھنڈا سا تھا ۔وہ منہ سے بھلے کچھ نہیں کہہ رہا تھا مگر اسکی بولتی آنکھیں اسکی خفگی کا علی الاعلان کر رہی تھیں ۔
“پلیز “۔ہانی نے ملتجی سے لہجے میں اسے دیکھتے کہا تھا جو اب بھی بنا کسی جنبش کے اسے دیکھ رہا تھا ۔
لب بھینج کر اسکا ہاتھ تھامتے وہ اٹھا تھا جب ام ہانی نے اسکا وہی بازو تھام کر اپنے کندھے پر رکھتے اپنا ایک بازو اسکی کمر کے گرد حائل کرتے اس کے لمبے تڑنگے وجود کو سہارا دینے کی کمزور سی کوشش کی تھی ۔طهٰ نے بہت حد تک اپنا وزن خود اٹھا رکھا تھا ۔
چھوٹے چھوٹے قدم لیتے وہ اسے باتھ روم تک چھوڑ کر آئی تھی ۔اس کے لباس بدلنے تک وہ باہر کھڑی رہی تھی۔جب وہ گیلے چہرے کے ساتھ دیوار کے سہارے باہر تک آیا تو ہانی نے اسے پہلے کی طرح تھاما تھا ۔طهٰ نے جان بوجھ کر اس بار اپنا زیادہ وزن اس کے سہارے پهینکا تھا اسے واپس لا کر بستر پر بٹھانے تک ام ہانی کی اپنی سانس پھول چکی تھی ۔طهٰ اسے دیکھ نہیں رہا تھا یہ بھی ناراضگی کے اظہار کا ایک بڑا مؤثر انداز تھا ۔اسکے اوپر كمبل برابر کرتے وہ سانسوں کو ہموار کرتی خود باہر نکل گئی تھی ۔
تھوڑی دیر بعد وہ کھانے کے ساتھ دوبارہ آئی تھی ۔آنکھیں موند کر پڑے طهٰ کو دیکھا مگر اس بار اسکے جاگنے کا یقین تھا ۔
“کھانا کھا لیں “۔
“مجھے نہیں کھانا “۔اسکی طرف لحظہ بھر دیکھ کر کہتے وہ پھر سے آنکھیں بند کر گیا تھا ۔آواز کا قطعی پن اس قدر زیادہ تھا کہ وہ چاہ کر بھی اصرار نہیں کر پا رہی تھی ۔بے بسی سے ہونٹ کاٹتے وہ وہیں کھڑی رہی تھی ۔کچھ لمحے اور سرکے ۔
“طهٰ آپ نے میڈیسن لینی ہیں “۔کمزور سی آواز میں مدعا اٹھایا گیا ۔جب تعلق مضبوط نہ ھو تو رشتہ بھلے جتنا قریبی ھو، حق جتانا مشکل لگتا ہے ۔ام ہانی بھی اسی مشکل کا شکار تھی ۔
“وہ میرا مسئله ہے ہانی ۔تمہیں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے “۔طهٰ کا انداز تلخی لئے ہوئے تھا ۔ایک بار پھر سے اسکی صبح والی باتیں یاد آنے لگی تھیں ۔آج پورا دن وہ شدید ذہنی اذیت کا شکار رہا تھا ۔پورا دن اس نے سوائے پانی کے کچھ حلق نے نیچے نہیں اتارا تھا ۔بائیک پر واپس آتے ہوئے سپیڈ بریکر کو دیکھ کر بھی وہ دانستہ نظریں چرا گیا تھا ۔پوری رفتار سے آتے وہ وہاں سے گزرا تھا جب بائیک الٹ گئی تھی ۔سڑک پر گرتے ایک شدید درد کی لہر اسکے وجود میں پھیلی تھی ۔سر سے گرم سیال مادہ بہتا اسکے چہرے کو گیلا کرنے لگا تھا ۔ہاتھ کی کلائی اور ایک ٹانگ جو بائیک کے نیچے آئی تھی ،اسکا درد بہت شدت لئے ہوئے تھا مگر وہ اسے نا گوار نہیں لگا تھا .کچھ وقت کے لئے ہی سہی یہ جسمانی درد اسے ذہنی و جذباتی تکلیف بھلا دینے میں کامیاب رہا تھا ۔صارم جو خود اس سے ذرا فاصلے پر اپنی بائیک پر آ رہا تھا اسے دیکھ کر دنگ ره گیا تھا ۔اسے ہوسپٹل لے جایا گیا تھا ۔ٹریٹمنٹ کے بعد صارم نے اسے اچھی خاصی سنائی بھی تھی ۔مگر وہ ڈھیٹ بنا مسکرا کر سنتا رہا ۔
کچھ دیر بعد کمرے میں سوں سوں کی آواز پر نا سمجھی سے طهٰ نے آنکھیں کھول کر دیکھا پھر بے چارگی سے بے زار چہرہ لئے تاسف بھرے انداز میں سر کو دائیں بائیں پٹخا تھا ۔اسے لگا تھا وہ واپس چلی گئی ہو گی مگر ہانی صاحبہ ابھی بھی ٹرے ہاتھ میں پکڑے سر جھکا کر کھڑی زور و شور سے رونے میں مشغول تھیں ۔
“رونا ہر مسئلے کا حل نہیں ہوتا ہانی ۔دنیا میں اور بھی بہت سے کام ہیں کرنے کو مگر تمہیں بس اسی سے فرصت نہیں ملتی “۔وہ چڑ کر بولا تو ہانی نے پر نم چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا تھا جو بے زاری سے اسے دیکھ رہا تھا ۔وہ ہمیشہ اس کے رونے پر بڑی نرمی سے اسکو سمجھایا کرتا تھا ،دل جوئی کیا کرتا تھا ۔پہلی بار یوں اکتاہٹ کا اظہار کر رہا تھا مگر ہانی کو برا نہیں لگا ۔
“آپ کھانا کھا لیں پھر میں نہیں روؤں گی “۔ایک ہاتھ کی پشت سے چہرہ صاف کرتے وہ نخیف سی بھرائی آواز میں جلدی جلدی بولی تھی ۔جیسے یہ آفر محدود مدت کے لئے ہو اور اسے ہر صورت اس سے فائدہ اٹھانا ہی ہو ۔ طهٰ نے اسکو گھورا تھا ۔اس معصومیت پر کون صدقے نہ جائے وہ ناراض تھا مگر وہ یوں کہہ رہی تھی جیسے وہ اسکی پرواہ میں گھلا جا رہا ہو ۔مگر یہ تو وہ دونوں ہی جانتے تھے ام ہانی کے آنسو اسے غیر آرام ده کرتے تھے ۔بے بس ہوتے وہ اٹھ کر بیٹھا تھا ۔
“لاؤ دو ۔کہیں یہ من و سلوی کھائے بغیر میں مر ہی نہ جاؤں “۔سخت لہجے میں کہتے وہ اٹھ کر بیٹھ رہا تھا ۔اسکی بات پر ام ہانی کا دل دھڑکنا بھولا تھا ۔سخت نظروں سے اسے دیکھتے وہ اسے کچھ کہنا چاہتی تھی پھر چپ رہی ۔اب پھر کچھ بول کر وہ اسے اور خفا نہیں کرنا چاہ رہی تھی ۔
اسکی ناراضگی کے خیال سے ہانی نے آج پالک گوشت بنایا تھا اسے پسند تھا ۔وہ بھی صبح سے بھوکا تھا ،بظا ہر بے دلی سے مگر کھایا اس نے پوری رغبت سے تھا ۔اسکے کھانا کھانے تک وہ وہیں کھڑی رہی تھی ۔اسے دوا دے کر وہ باہر چلی گئی تھی ۔
رات کو جس وقت وہ اس سے ذرا فاصلے پر اسکے پہلو میں لیٹی تھی تب بھی وہ جاگ رہا تھا ۔كمبل اوڑھ کر اسکی طرف کروٹ لیتے وہ نیم اندھیرے میں اسکا چہرہ دیکھ رہی تھی ۔اسکے آرام کی غرض سے اس نے کمرے کی لائٹس بجھا دی تھیں ۔بیڈ سائیڈ ٹیبل پر دھرے لیمپ کی پیلی سی روشنی میں اسکا چہرہ بھی زرد زرد سا معلوم ہوتا تھا ۔
“آپ نے ایسا کیوں کیا طهٰ اگر کچھ ہو جاتا تو ؟”۔اس کی مدھم سی اپنے پہلو سے آتی محسوس کر اسنے آنکھیں کھول کر اسکی طرف گردن موڑ کر دیکھا تھاوہ آنکھیں اسی کے چہرے پر ٹکائے بہت غور سے اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔نظروں کا زاویہ موڑ کر وہ اوپر چھت پر چلتے سست رفتاری سے پنکھے کو دیکھنے لگا ۔
“میں نے کیا کیا ؟۔بس ایکسیڈنٹ ہونا لکھا تھا تو ہو گیا “۔اکھڑی سی آواز میں کندھے اچکا کر وہ بہت آرام سے کہہ رہا تھا ۔
” ایکسیڈنٹ ہونے اور جان بوجھ کر کرنے میں فرق ہوتا ہے ۔آپ کو ذرا خیال نہیں آیا خدا نخواستہ کوئی بڑا حادثہ ہو جاتا تو کیا ہوتا ؟”۔ اس کے اس قدر وثوق سے کہنے پر وہ ایک پل کے لئے ٹھٹکا تھا ۔چہرے کا رنگ بدلا ۔اگلے ہی پل وہ پھر سے نارمل تھا ۔
“تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے میں ایسا جان بوجھ کر کیوں کروں گا “۔اپنے الفاظ پر زور دیتے اس نے اپنی بات میں وزن پیدا کرنا چاہا تھا ۔دوسری طرف ہانی اسکی تردید پر خاموش ہو گئی تھی ۔کچھ دیر بعد طهٰ نے اسکی طرف دیکھا تھاچہرے پر پڑتی مدھم سی روشنی میں وہ اب بھی اسے ویسے ہی ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھی بے یقین نظروں سے ۔
“میں آپ کو جانتی ھوں طهٰ “۔ان آنکھوں میں اس کے کیے پر گہرا دکھ اور تاسف تیر رہا تھا ۔طهٰ کے دل پر وہ الفاظ کسی تیر کی مانند پیوست ہوئے تھے ۔وہ زخمی سے انداز میں مسکرایا ۔
“مجھے بھی یہی بھرم تھا کہ مجھ سے وابستہ لوگ مجھے جانتے ہیں پہچانتے ہیں ،مگر ایسا نہیں ہے ام ہانی ۔مجھے نہ تو تم جانتی ہو ، نہ امی ابو اور نہ ہی ماہی “۔اسکی آہستہ بھاری ہوتی آواز میں چینخ و پکار کرتے شکوے بول رہے تھے ۔صبح سے وہ جس ذہنی توڑ پھوڑ کا شکار تھا اس کے نتیجے میں وہ نا چاہتے ہوئے بھی اپنے اندر کا دکھ اس پر عیاں کر بیٹھا تھا ۔
“میرا وہ مطلب نہیں تھا طهٰ ۔میں وہ سب کہنا بھی نہیں چاہتی تھی بس غصے میں منہ سے نکل گیا آئی ایم سوری ۔آئندہ کبھی نہیں کہوں گی “۔شرمساری سے کہتے، اسکی آنکھوں سے نکلتی نمی سرہانے میں جزب ہونے لگی تھی ۔اسکی بات پر طهٰ نے سر کو نفی میں جنبش دی ۔
“تم نے ٹھیک کیا ہانی ۔کم از کم مجھے پتہ تو چلا تم مجھ سے کتنی نفرت کرنے لگی ہو “۔وہ شکستہ انداز میں کہہ رہا تھا آنکھیں دواؤں کے زیر اثر بوجهل سی ہو رہی تھیں ۔ام ہانی نے تڑپ کر اسکی جانب دیکھتے سر کو نفی میں ہلایا ۔
“میں نفرت نہیں کرتی آپ سے طهٰ ۔بس غصہ ھوں ،آپ سے ناراض بھی ھوں اور بہت سخت والی ناراض ھوں ۔مگر نفرت نہیں کرتی ۔۔۔کر ہی نہیں سکتی بہت کوشش کروں تو بھی نہیں۔اور آپ یہ مت سمجھیے گا کہ میں یہ سب آپ کو یوں دیکھ کر کہہ رہی ھوں ۔مجھے اپنی غلطی کا احساس اسی وقت ہو گیا تھا طهٰ ۔میں صبح سے آپ کی واپسی کا انتظار کر رہی تھی ۔بس آپ وعدہ کریں آپ آئندہ ایسا کچھ بھی نہیں کریں گے ۔اگر آج آپ کو کچھ ہو جاتا تو میں خود کو کبھی معاف نہیں کر پاتی “۔آنسوؤں کی آمیزش اب کے اسکی آواز میں بھی گھلنے لگی تھی ۔طهٰ نے اسکا بھیگا چہرہ بغور دیکھا تھا ۔یہ رو کر وضاحتیں کرتی ام ہانی اس ام ہانی سے بالکل مختلف تھی جو بارہا اس سے نفرت کا اظہار کیا کرتی تھی ۔مگر وہ جانتا تھا وہ اس سے نفرت نہیں کرتی ۔ناراضگی اور نفرت کے بیچ کی خلیج ام ہانی کبھی پار نہیں کر سکتی تھی ۔اگر وہ اتنا ہی اس کے لئے نا قابل قبول ہوتا تو وہ اسے اس رشتے میں خود سے باندھ کر کبھی نہیں رکھتا ۔دل یک دم ہلکا ہوا تھا ۔درد کی شدت کم ہوتی گئی تھی ۔دل شرارت پر مائل ہوا تھا ۔
“لیکن تم نے ایسا ہی کہا تھا ام ہانی “۔آواز کی نرمی واپس لوٹ آئی تھی ۔چہرے پر معصومیت لئے وہ اب بھی وہیں اٹکا ہوا تھا ۔

“جھوٹ کہا تھا ۔اب بھی تو میں ہی کہہ رہی ھوں نہیں کرتی آپ سے نفرت ۔کیا آپ وہ بات بھول نہیں سکتے “۔اس کے ملتجی انداز میں کہنے پر اسکو اپنے اندر سکون پھیلتا محسوس ہوا تھا ۔اور اس بات کا ادرک تو ام ہانی کو خود کچھ دیر پہلے ہوا تھا ۔اسے بھی لگتا تھا وہ اس سے نفرت کرتی ہے ۔اسکے دل میں اسکے لئے کوئی گنجائش باقی نہیں رہی ۔مگر اسے تکلیف میں دیکھ کر وہ سب بھول گئی تھی ۔کون سی نفرت اور کہاں کی نفرت ۔یاد رہا تو صرف اسکا درد اسکی تکلیف جس کی وجہ اسکی ذات بنی تھی ۔آتے ہوئے امی نے روتے ہوئے اسکا خیال رکھنے کو کہا تھا اور وہ اتنا بھی نہیں کر سکی تھی ۔
طهٰ نے ہونٹ باہم بھینج کر اپنی ہنسی روکی تھی جو اتنی گھمبیر صورت حال میں بھی اسکے لبوں پر آنے کو مچل رہی تھی (ام ہانی تم اب بھی بے وقوفی کی حد تک معصوم ہو )۔ بہت سا سکون اپنے اندر اتارتے اسکو نرم نظروں سے دیکھا تھا ۔تھی تو یہ ایک کمینی حرکت کہ وہ اسے یوں رلا کر پریشان کرتے خود سکون کے مزے لوٹ رہا تھا مگر اس وقت اس کے الفاظ کی مٹھاس صبح کے لفظوں میں چھپے زہر کا تریاق ثابت ہو رہی تھی ۔
“اچھا اب رو تو مت ۔آنسو صاف کرو مجھے نیند آ رہی ہے اور ایسے میں ڈسٹرب ہو رہا ھوں “۔چہرہ موڑ کر پلكیں موندتے وہ سیدھا لیٹا تھا ۔ام ہانی نے سرعت سے آنسو صاف کئے تھے ۔
“سوری۔آپ نے میڈیسن لی ہیں نیند آ رہی ہو گی “۔اپنی پریشانی میں اسے واقعہ ہی خیال نہیں رہا تھا اسے آرام کی ضرورت ہے ۔کچھ ہی دیر میں وہ سو چکا تھا ۔وہ کافی دیر تک جاگتی اسے دیکھتی رہی تھی ۔کہیں اسے کسی چیز کی ضرورت نہ پڑ جائے ۔پھر نیند کا غلبہ طاری ہونے پر احتیاطی تدبیر کے طور پر اپنا ہاتھ اسکے بازو پر رکھا تھا ۔تاکہ اسکے جنبش کرنے پر اسے معلوم ہو جائے ۔
رات کے کسی پہر طهٰ نے کروٹ بدلنی چاہی تو دائیں شانے پر بھاری پن کا احساس کرتے آنکھیں کھولی تھیں ۔ام ہانی کا سر اس کے شانے پر رکھا تھا ایک ہاتھ بھی اسکے بازو کے گرد لپٹا ہوا تھا اور خود وہ بے نیاز سی پر سکون سو رہی تھی ۔
کافی دیر سے سیدھا لیٹتے اب جسم میں اکڑن ہونے لگی تھی پر حرکت کرنے پر اسکا جاگنا لازمی تھا ۔اسکے آرام کی غرض سے وہ یوں ہی لیٹا رہا تھا ۔کھڑکی سے پار بدلیوں سے جھانکتے چاند نے مسکرا کر وہ منظر دیکھا تھا جہاں بیمار ،تیمار دار کے آرام کے لئے خود بے آرام ہو رہا تھا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *