Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah e Yaar Teri Musaftein (Episode 04)

Raah e Yaar Teri Musaftein by Umme Abbas

فارمیسی سے میڈیسن لے کر وہ دونوں باہر نکلی تھیں ۔ننها عارض بھی فضا نے اٹھا رکھا تھا ۔اسکا بخار تو اس وقت تک اتر چکا تھا مگر بی پی اب بھی لو تھا ۔فضا نے ہاتھ دے کر ٹیکسی روکی تھی ۔سارا راستہ خموشی سے کٹا تھا ۔کچھ کچھ دیر بعد عارض کوئی آواز منہ سے نکالتا تو ہانی بھی اپنی لا محدود سوچوں کے بھنور سے چونک کر باہر نکلتی پھر اسکی طرف دیکھتے مسکرا دیتی ۔

فضا اس کے ساتھ ہی فلیٹ میں آئی تھی ۔چادر اتار کر دوپٹہ لیتے وہ کمرے سے باہر آئی تھی ۔عارض کو صوفے پر کشنز کے سہارے بٹھا کر فضا خود کچن میں کھڑی چائے کے لئے پانی چڑھا رہی تھی ۔

“ارے آپی کیا کر رہی ہیں آپ ؟۔میں بس آ ہی رہی تھی آپ بیٹھیں میں چائے بناتی ہوں “۔شرمندہ سی وہ اسکے پاس آئی تھی ۔

“رہنے دو تم ۔ڈاکٹر نے کیا کہا ہے کمزوری ہے ،بی پی کتنا لو ہو رہا تھا ۔کیا کھاتی پیتی نہیں ہو؟ “۔اس نے کھولتے پانی میں چائے کی پتی ڈالتے اس کو ڈانٹا تھا ۔

“کھاتی تو ہوں “۔وہ منمنائی ۔

“ہاں جی تمہاری حالت دیکھ کر اندازہ ہو رہا ہے ۔میں تو آج خود طهٰ بھائی سے بات کر کے جاؤں گی ۔انھیں بھی کوئی خیال نہیں ۔کیسے زرد پڑ گئی ہو ،آنکھوں کے نیچے حلقے دیکھے ہیں ؟”۔اسے بغور دیکھتے وہ فکر مندی سے کہتے اسے تو لتاڑ ہی رہی تھی ساتھ ہی طهٰ کو بھی رگید ڈالا تھا ۔ہانی نے بے اختیار آنکھیں چرائی ۔وہ کچھ ہی دنوں میں مرجھا کر ره گئی تھی ۔صاف چمکدار رنگت میں زردياں سی گھل گئی تھیں ۔ویران ہوئی آنکھوں کے نیچے حلقے نماياں ہوتے جا رہے تھے ۔فضا کو تشویش ہونا یقینی بات تھی ۔

“ہانی کوئی مسئله ہے ؟۔تم مجھے اپنی بڑی بہن ہی سمجھو ۔مجھے بتا سکتی ہو ۔ڈاکٹر نے کہا تم سٹریس کا شکار ہو ۔طهٰ بھائی سے کوئی بات ہوئی ہے کیا ؟”۔اسکے شانے پر ہاتھ رکھ کر اس بار اس نے نرمی بھرے لہجے میں پوچھا تھا ۔ہانی اتنی سی ہمدردی پر ہی پسیج کر ره گئی تھی ۔آنکھیں بھر آئی تھیں ۔گلے میں آنسوؤں کا گولا سا اٹک گیا تھا ۔بمشکل سر کو نفی میں ہلایا ۔

“ایسی تو کوئی بات نہیں ہے آپی ۔بس گھر والوں کی بہت یاد آتی ہے اور تو کوئی بات نہیں “۔بڑی دقت سے آنسوؤں کو بہنے سے روکتے وہ مسکرا پائی تھی ۔

“توگھر سے کسی کو بلوا لو کچھ دن کے لئے ۔یا پھر تم کچھ دن ره آؤ وہاں جا کر۔دل بہل جائے گا “۔مسکرا کر ہلکے پهلکے انداز میں بڑی آسانی سے فضا نے فوری حل پیش کر دیا تھا ۔ہانی نے دکھے دل کے ساتھ بات سمیٹنے کیلئے سر کو ہاں میں جنبش دی تھی ۔

“اب تم جاؤ اور عارض پاس بیٹھو ۔میں چائے کے ساتھ کچھ کھانے کو لاتی ہوں ۔پھر دوا لے کر آرام کرو ۔اور ہاں رات کا کھانا میں بنا کر بھیج دوں گی “۔چائے میں دودھ انڈیلتے وہ خلوص دل سے کہتی اسے اپنا مشکور کر گئی تھی ۔

“شکریہ آپی “۔اس وقت کچھ کرنے کا جی تو ویسے بھی نہیں کر رہا تھا ۔بے دلی اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے تھی ۔وہ آ کر صوفے پر بیٹھ گئی تھی ۔عارض کو اٹھا کر مسکراتے ہوئے کچھ دیر کے لئے اسکے ننھے وجود میں پناہ لے ڈالی ۔

. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .

آج اتنے دنوں بعد گھر میں گوبھی گوشت بن رہا تھا ۔جسے بناتے ہوئے انکے دل کا بوجھ کچھ اور بھی سوا ہوا تھا ۔وہ ہوتا تھا تو کتنا شور مچایا کرتا تھا ۔گوبھی وہ واحد سبزی تھی جو اسے قطعی پسند نہیں تھی ۔

جس لمحے آنسہ نے کچن میں قدم رکھے تھے انھوں نے جھٹ سے اپنے دوپٹے کے پلو سے اپنی آنکھیں رگڑی تھیں ۔آنسہ نے جان بوجھ کر نظر انداز کیا تھا ۔آج کل اس گھر کے سبھی افراد ایسے ہی تو ایک دوسرے کے احساسات سے لکا چھپی کھیل رہے تھے ۔

“آپ رہنے دیں بھابھی میں بناتی ہوں ہانڈی ۔آپ کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی آرام کر لیں تھوڑی دیر جا کر “۔نرمی سے پاس جا کر انکے ہاتھ سے كفگیر لیتے وہ خود پتیلے میں چلانے لگی تھیں ۔انداز میں فکر مندی تھی ۔فائزہ نے ناک سکیڑ ، آنکھوں کو جهپک کر بہت سی نمی اندر اتار دینا چاہی تھی ۔

“میں ساتھ کچھ اور بنا لیتی ہوں ۔میرا آج یہ کھانے کو جی نہیں چاہ رہا “۔مدهم آواز میں کہتیں وہ ساتھ ہی نگاہیں چرا کر وضاحت کرتے پیچھے ہٹ گئیں تو آنسہ نے ترحم بھری نظروں سے انکو دیکھا تھا ۔وہ ماں تھیں انکی تکلیف کا اندازہ کر پانا مشکل تھا ۔
انکی بات پر کچن کی دہلیز پر رکی ماہی نے آنکھوں میں تکلیف کے آثار لیے ان کو دیکھا تھا ۔اسکے قدم جم سے گئے تھے جیسے وہ کبھی وہاں سے ہل سکنے کی سکت کھو بیٹھی ہو.کچھ لمحے وہ یوں ہی کھڑی رہی ۔آنسہ نے اسے بت بنا دیکھ کر پکارا تھا ۔
“ماہی “۔وہ چونک کر انکی طرف متوجہ ہوئی تھی اور متوجہ تو کیبنٹ کھولتی فائزہ بھی اسکی طرف ہوئی تھیں ۔
وہ چھوٹے چھوٹے قدم لیتی ان تک آئی تھی ۔انکے بالکل قریب کھڑے ہوتے ہولے سے مسکرائی ۔بے معنی سی مسکراہٹ ،مصنوئی پن میں لپٹی ہوئی ۔

“تائی امی !آپ نے جو بھی کھانا ہے مجھے بتا دیں میں بنا دیتی ہوں “۔آنسہ نے تحیر سے بیٹی کو دیکھا تھا ۔وہ ماہی جسکی کچن میں آتے جان جاتی تھی ۔آج خود وہاں کھڑی یہ سب کہہ رہی تھی ۔
فائزہ نے بغور اسکو دیکھا تھا ۔دن میں دو ، دو بار کپڑے بدلنے والی ماہی پچھلے تین دنوں سے اسی جوڑے میں گھوم رہی تھی ۔چہرے کی شادابی کہیں کھو سی گئی تھی ۔بجهی بجهی آنکھیں انھیں خوفزدہ کرنے لگی تھیں ۔انھوں نے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا تھا ۔

“میری ایک بات مانوں گی ماہی ؟”۔ انکے التجائیہ لہجے پر ماہی نے سرعت سے سر کو اثبات میں ہلایا تھا ۔

“تم ایسے گم صم مت رہا کرو ۔پہلے کی طرح ہنسا کرو ،بولا کرو ،خوش رہا کرو ۔تمہاری یہ چپ میرا دل ہولا کر رکھ دیتی ہے ۔دکھی دل کی خاموش آہ آسمان کے در وا کر دیتی ہے ۔میرا بچہ پہلے ہی طوفانوں کی زد میں آیا ہوا ہے ۔اور کوئی تکلیف اس کی راہ میں حائل نہ ہو اس لئے کبھی اس کو کوئی بد دعا مت دینا بیٹا ۔اسکی خطا کو پہلی اور آخری خطا سمجھ کر معاف کر دینا۔میں اسکی ماں ہوں اسکی طرف سے میں معافی مانگتی ہوں “۔ ڈبڈبائی آنکھیں لئے ،بھرائی ہوئی آواز میں وہ منت کر رہی تھیں ۔ماہی کی آنکھیں چھلکی تھیں ۔سر کو نفی میں ہلاتے ہوئے اس نے ہونٹوں کو بھینچ کر انکے گلے میں اپنی باہیں ڈال دیں ۔
آنسہ نے اپنی آنکھوں میں آئی نمی کو انگلی کے پوروں پر چن کر ہانڈی کی طرف رخ پھیر لیا تھا ۔

“آپ ایسے کیوں کہہ رہی ہیں تائی امی ؟۔آپ پلیز ایسے مت کہیں ۔آپ کی غلطی نہیں ہے ۔میرے دل سے طهٰ کے لئے کوئی بد دعا نہیں نکل سکتی ۔ وہ جہاں رہے خوش رہے ۔ یہ سب نہیں ہونا چاہیے تھا ۔ہم میں سے کسی نے نہیں ایسا چاہا تھا ۔یہ سب کیا ہو گیا تائی امی ؟”۔بھیگی ہوئی آواز میں وہ گھٹی ہوئی آواز میں انکے کندھے پر سر رکھے کہے جا رہی تھی ۔فائزہ نے اسکی پشت سہلاتے ہوئے نرمی سے خود سے الگ کیا تھا ۔پھر روتی آنکھوں سے مسکرا کر اسکی پیشانی چومی تھی ۔

“جیتی رہو بیٹا ۔خوش رہو “۔ماہی نے انکا ہاتھ اپنے لبوں سے لگا کر اپنی آنکھیں صاف کی تھیں ۔آنسہ نے برنر بند کرتے ان دونوں کو دیکھا تھا ۔جو اب ایک دوسرے کا دل رکھنے کو مسکرا رہی تھیں ۔

پتہ نہیں انکے ہنستے بستے گھر کو کس کی نظر لگ گئی تھی ۔اس گھر کے مكین اب بھی بے یقینی کی کیفیت میں گھرے تھے ۔جو ہوا تھا برا ہوا تھا ۔دل افسرده تھے مگر اس سے زیادہ ششدر و بے یقین تھے ۔وہ گھر بھر کا لاڈلا ضرور تھا مگر کسی بری خصلت کا شکار نہیں تھا ۔ہاں وہ ایسا تو ہرگز نہیں تھا ۔دل اب بھی ماننے سے انکاری تھا جو وہ کر گزرا تھا ۔مگر آنکھوں دیکھا جھٹلایا جا بھی تو نہیں سکتا تھا ۔وہ بھی جھٹلا نہیں پائے تھے ۔

. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .

شام کو آفس سے واپسی پر جب وہ اپنے پاس موجود چابیوں سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تو وہ اسے سوئی ہوئی ملی تھی۔اپنا لیپ ٹاپ بیگ بنا کسی آواز کے پیدا کیے کمرے میں موجود چھوٹے سے میز پر رکھتے وہ آہستگی سے بستر کے قریب آیا تھا ۔کچھ دیر اسکے بے خبر پڑے وجود کے پاس رک کر اس نے كمبل کے نیچے سے نظر آتے اسکے نیم رخ آدھے چہرے اور بند آنکھوں کو دیکھا تھا ۔پھر ذرا سا جھک کر اسکی پیشانی چھوئی تھی ۔اس کے ہاتھ کا لمس پانے کی دیر تھی ، ہانی بدک کر اٹھ بیٹھی تھی ۔

سوئی جاگی سی کیفیت میں گھری وہ بے یقین نظروں اور خوفزدہ چہرے پر جن تاثرات کے ساتھ اسکو دیکھ رہی تھی ۔طهٰ ابراھیم کا جی چاہا تھا وہ ڈوب مرے ۔اسکے چہرے کی رنگت متغیر ہوتی چلی گئی تھی ۔آنکھوں میں تکلیف کے آثار نمودار ہوئے تھے ۔ان آنکھوں میں اپنے لئے بے اعتباری دیکھنا اسے کس اذیت سے روشناس کرواتا تھا کاش وہ اسے بتا سکتا ۔

“میں بخار چیک کر رہا تھا “۔جھکے سے سیدھے ہوتے وہ نظروں کا زاویہ بدلتا ہوا لاشعوری طور پر وضاحت پیش کر گیا تھا ۔ہانی نے بے بسی بھرے انداز میں نگاہیں اس پر سے پھیری تھیں ۔یہ چہرہ دیکھ کر اب اسے سوائے اپنی کم بختی کے اور کچھ یاد نہیں آتا تھا ۔وہ سورج کی کرنوں سا روشن چہرہ نجانے اسکی زندگی میں سیاہی کیسے گھول گیا تھا وہ جب جب اسے دیکھتی تھی یہ سوال سوچ کا لباده اوڑھے پوری طاقت سے اسکے ذہن کو جکڑنے لگتا تھا ۔

گھٹنوں کے گرد بازو لپیٹتے ہوئے وہ چہرے کا رخ موڑ کر بیٹھی رہی تھی ۔ڈھیلی ہوئی بالوں کی چوٹی سے اسکے لائٹ براؤن بالوں کی کچھ لٹیں چہرے کے گرد ہالہ بنائے ہوئے تھیں ۔اسکا دوپٹہ ندارد تھا مگر اسکا احساس اسے اس وقت اپنی احساساتی کیفیت کے زیر اثر ہو نہیں پایا تھا ۔

ایک نظر اسکے بے نیازی برتتے وجود پر ڈال کر وہ وہاں سے ہٹنے کو تھا جب سائیڈ ٹیبل پر رکھے موبائل کو دیکھ وہ ضبط کا گھونٹ پی کر ره گیا ۔ وہ اسے دن بھر کتنی بار کال کر چکا تھا مگر اس نے اٹھانے کی زحمت گوارا نہیں کی تھی ۔سر جھٹک کر وہ الماری کی طرف بڑھ گیا ۔

“ڈاکٹر کے ہاں گئی تھی ؟”۔الماری کا پٹ کھولے وہ اپنے ہینگ کیے کپڑے آگے پیچھے کر رہا تھا ۔ہانی پر مطلق اثر نہ ہوا تھا ۔

“کچھ پوچھ رہا ہوں ؟”۔مڑ کر اسکو دیکھتے اب کی بار آواز میں سخت پن تھا ۔

“گئی تھی “۔سرد سے انداز میں دو لفظی جواب آیا تھا ۔جیسے جان چھڑانا چاہی ہو ۔

“کیا کہا ڈاکٹر نے ؟”۔کپڑے نکال کر بازو پر ڈالے وہ پٹ بند کرتے پلٹ کر اسے دیکھنے لگا تھا ۔اسکے سوال پر اس بار اس نے تپش بھری نظروں سے اسے دیکھا تھا ۔

“ڈاکٹر نے کہا میں شدید مینٹل سٹریس کا شکار ہوں ۔مجھے ذہنی سکون کی اشد ضرورت ہے جو کہ آپ کی موجودگی میں نا ممکن ہے ۔سن لیا آپ نے ۔مل گیا سکون یا کوئی اور سوال جواب کرنا باقی ہے ؟”۔

اسکے لب و لہجے میں نا گواری کے ساتھ ساتھ بد تمیزی بھی تھی ۔طهٰ نے چھبتی نظروں سے اسے دیکھا تھا ۔وہ اسکے صبر کو بری طرح آزما رہی تھی ۔سرخ ہوئے چہرے کے ساتھ خود کو کچھ بھی کہنے سے باز رکھتے وہ اس پر سے نظریں ہٹا کر واش روم میں بند ہو گیا تھا ۔دروازہ پوری شدد سے بند کیا گیا تھا کہ ایک بار ہانی بھی اپنی جگہ دہل سی گئی تھی ۔

کچھ دیر خالی نظروں سے بند دروازے کو گھورتے وہ دوبارہ لیٹ گئی تھی ۔كمبل سر تک تان کر آنکھیں بند کرتے وہ پر سکون پھر بھی نہیں ہو پائی تھی ۔وہ جب جب اس سے بد لحاظی سے پیش آتی تھی اسکے خود کے وجود میں بے کلی ہر طرف ہلکورے کھانے لگتی تھی ۔اب بھی دل کی مژدگی حد سے سوا تھی ۔

. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .

فضا نے رات کا نہ صرف کھانا بھیجا تھا بلکہ اسکے لئے اسپیشلی ساتھ میں چکن کارن سوپ بھی بنایا تھا ۔صارم خود آ کر دے گیا تھا جسے طهٰ نے خود ہی لیا تھا ۔وہ تو اب بھی ارد گرد سے بے گانہ ہوئی پڑی تھی ۔اب جاگ رہی تھی کہ سو رہی تھی یہ وہ جان نہیں پایا تھا مگر کچھ دیر پہلے ہونے والی منہ ماری کے بعد طهٰ کا بالکل کوئی ارادہ نہیں تھا اسکی مزید کوئی بھی خدمت گزاری کرنے کا ۔

میز کے گرد رکھی کرسی پر بیٹھتے وہ ٹرے میں رکھے ڈونگے کا ڈھکن اٹھا کر دیکھ رہا تھا ۔وہ چکن کارن سوپ تھا ۔طهٰ نے اسکو ایک سائیڈ پر کیا تھا پھر دوسرا ڈونگا چیک کیا ۔ڈھکن ہاتھ میں لئے وہ کتنی دیر سالن کو گھورتا رہا تھا ۔گھوبھی گوشت دیکھ کر کیا کچھ یاد نہیں آیا تھا ۔ذہن کہیں پیچھے کی جانب محو سفر ہوا تھا ۔

“امی مجھے نہیں کھانا گوبھی گوشت “۔وہ بھوک کے باعث کچن میں آیا تھا ۔فائزہ روٹیاں بنا رہی تھیں جب پتیلے کا ڈھکن اٹھا کر دیکھتے وہ بدمزہ ہوتے کہہ اٹھا تھا ۔

“میں کچھ اور بنا دوں گی طهٰ ۔صبر کرو “۔مصروف سے انداز میں روٹی بیلتے ہوئے انھوں نے مسکرا کر جواب دیا تھا ۔

“ہاں جی اب آپ نے اس وقت میرے لئے شاہی چپس ہی بنانے ہیں ۔ایک تو پتہ نہیں جب بھی مجھے شدید بھوک لگی ہوتی ہیں کھانا میری پسند کے عین الٹ کیوں بنا ہوتا ہے “۔ٹھنڈی آہ بھرتا وہ فریج تک گیا تھا ۔سلاد کی پلیٹ میں سے کھیرا نکال کر منہ میں رکھا ۔

“نہیں بناتی چپس ۔مچھلی تلی رکھی ہوئی ہے تمہیں اسی کا سالن بنا دوں گی بس دس منٹ انتظار کر لو ۔یہ آخری روٹی ہے میری “۔خفیف سا ہنس کر انکے کہنے پر اس نے پیچھے سے ہی انکو اپنی باہوں کے حصار میں لیتے ہوئے سر چوما تھا ۔

حال تک کا سفر واپس طے کرتے ہوئے اس نے لب بھینچ کر سالن پلیٹ میں نکالا تھا ۔نواله بنا کر منہ میں رکھتے وہ سپاٹ چہرے کے ساتھ اس قدر بے حس بن بیٹھا تھا کہ اس وقت اس کے ذائقے کے خوش کن یا بد مزہ ہونے تک کا احساس کھو بیٹھا تھا ۔

“امی !آج اگر آپ یوں مجھے یہ کھاتے دیکھ لیتیں تو کبھی یقین نہیں کرتیں آپکا طهٰ یہ کھا رہا ہے ۔۔۔۔مگر نہیں کر لیتی آپ کیوں کہ اب تو میں ایسا بہت کچھ کر گزرا ہوں جس کی توقع آپ کو مجھ سے ہر گز نہیں تھی “۔
اس سوچ کے آتے ہی اسکی آنکھوں میں نمی سی کوندی تھی جس سے وہ خود بھی نظریں چراتا سر جھکائے کھانا کھانے میں خود کو مصروف کر گیا تھا ۔

. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .

رات کے ساڑھے دس بجنے کو تھے ۔وہ اپنا کام ختم کرتے لیپ ٹاپ بند کرتا اٹھا تھا ۔کمرے میں داخل ہوا تو وہ جائے نماز سمیٹتی دکھائی دی تھی ۔ایک اچٹنی سی نگاہ اس پر ڈال کر وہ واش روم میں گھس گیا تھا ۔ہانی نے اس کو آتے دیکھ لیا تھا ۔بیڈ کے کنارے بیٹھتے وہ بے مقصد بیڈ شیٹ کے ڈیزائن پر انگلی پھیر رہی تھی جب وہ باہر نکلا تھا ۔

بنا اسکی طرف دیکھے وہ سرہانا اٹھا کر باہر نکل گیا تھا ۔صوفے پر لیٹتے وہ کسی گہری سوچ میں گم سا تھا ۔کچھ دیر گزری تھی سر اٹھا کر اسکو دیکھا تھا وہ اب بھی سر جھکائے ٹانگیں نیچے لٹکائے ہوئے بیٹھی تھی ۔طهٰ کی نظریں واپس لوٹ آئی تھیں ۔کچھ دیر اور گزری تھی پھر نا چار وہ خود ہی اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔

آہٹ پر ہانی نے چہرہ اٹھا کر دیکھا تھا ۔وہ ہاتھ میں چھوٹی ٹرے میں ایک باؤل لئے ہوئے اندر آ رہا تھا ۔اس سے دو قدم کے فاصلے پر رکتے اس نے جھک کر ٹرے اسکے پاس بیڈ پر رکھی تھی ۔خود سیدھا ہو کر کھڑا ہوتا وہ ہاتھ ٹراؤزر کی جیب میں ڈالے اس کے جھکے سر کو دیکھ رہا تھا ۔

“سوپ پی لو “۔کچھ دیر اسے یوں ہی بیٹھا دیکھ کر گہری سانس بھرتے نارمل سے لب و لہجے میں وہ اس سے کہہ رہا تھا ۔کچھ دیر پہلے کی تلخی کا اسکے انداز میں شائبہ تک نہیں تھا ۔نا چاہتے ہوئے بھی ہانی کا دل شرمسار ہوا تھا ۔

“تم خود پیو گی یا میں ہی یہ نیک فریضہ سر انجام دوں ؟ “۔ اسے ٹس سے مس نہ ہوتے دیکھ کر وه آواز میں ذرا سختی پیدا کرتے طنزیہ ہوا ۔ہانی نے آنکھیں اٹھا کر اسے ملامتی انداز سے دیکھا تھا ۔دل کی ساری شرمساری لمحے میں اڑنچھو ہوئی تھی ۔وہ اسے کچھ تلخ کہنے ہی والی تھی ۔مگر اسکے چہرے پر موجود دبے دبے غصے سے مغلوب ہوتے ہونٹ سختی سے باہم پیوست کیے نظریں جھکا گئی ۔

“پی لوں گی “۔انداز جان چھڑانے جیسا تھا ۔اسے لگا تھا اتنا کہہ دینا کافی ہوگا ۔کچھ دیر وہ اسکے جانے کا انتظار کرتی رہی تھی ۔نظریں اسکے سلیپرز میں مقید پاؤں پر جمی ہوئی تھیں ۔مگر وہ بھی ڈھیٹ بنا کھڑا رہا ۔زچ ہو کر ہانی نے چہرہ اٹھا ئے اسے بے بسی سے دیکھا تھا ۔

“پیو شاباش جلدی سے ۔میں پانچ منٹ تک دیکھوں گا ۔یہ باؤل مجھے خالی چاہیے ورنہ مجبوراً مجھے اپنے ہاتھوں سے تمہیں پلانا پڑے گا اور یقینا ً تمہارے لئے وہ زہر پینے کے مترادف ہوگا “۔پچکارتے ہوئے کہتے آخر تک اسکا انداز دھمکی آمیز رنگ لے چکا تھا ۔ اس بار کا حربہ کار آمد ثابت ہوا تھا ۔بے دلی سے ہی سہی اسنے ضبط کے گھونٹ بھرتے اگلے پانچ منٹ میں وہ باؤل سچ مچ میں خالی کر دیا تھا ۔

طهٰ کے ہونٹوں پر اتنے دنوں بعد دبی دبی سی مسکراہٹ رینگی تھی ۔اس تمام وقت میں وہ کسی سخت گیر انسٹکٹر کی مانند اسکے سر پر کھڑا رہا تھا ۔جب آخری چمچ لیتے اس نے چمچ واپس رکھا تو وہ ستائشی انداز میں اسے دیکھ رہا تھا ۔

“گڈ گرل ۔تھوڑی دیر تک میڈیسن لے کر پھر سو جانا یا وہ بھی مجھے ہی کھلانی پڑیں گی ؟”۔ ٹرے اٹھاتے ہوئے وہ پوچھ کم اور اسے چھیڑ زیادہ رہا تھا ۔کم از کم ہانی کو تو ایسا ہی محسوس ہوا تھا جیسے وہ اسکی بے بسی پر محظوظ ہو رہا ہو ۔

“میں خود لے لوں گی “۔دانت پیس کر کہتے وہ اٹھ کر اسکے پاس سے گزرتی ہوئی واش روم میں گھس گئی تھی ۔واش روم کا دروازہ پوری قوت سے بند کیا گیا تھا ۔اس فلیٹ کے دروازے ان دونوں میں سے کسی نہ کسی ایک کے زیر عتاب عموماً آئے ہی رہتے تھے ۔

۔طهٰ نے ملامتی انداز میں سر ہلاتے ہوئے کندھے اچکا کر باہر کی راہ لی تھی۔
کچھ دیر بعد جب وہ اپنے شاہی بستر پر محو آرام تھا ۔سر اٹھا کر ادھ کھلے دروازے کے پار جھانکا تو وہ اسے دوائی لیتی نظر آئی تھی ۔پھر كمبل تان کر لیٹ گئی تھی ۔واپس آرام ده حالت میں لیٹتے پر سکون سا وہ بھی پلكیں موند گیا تھا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *