Raah e Yaar Teri Musaftein by Umme Abbas NovelR50606 Raah e Yaar Teri Musaftein (Episode 10)Part 1,2
No Download Link
Rate this Novel
Raah e Yaar Teri Musaftein (Episode 10)Part 1,2
Raah e Yaar Teri Musaftein by Umme Abbas
ایک ذرا سی کوشش سے زندگی واقع ہی سہل ہو گئی تھی ۔بیتی تلخیوں کو نہ دهرانے سے حال رنجشوں کی نذر ہونے سے بچ گیا تھا ۔آنے والے وقت میں طهٰ ابراھیم نے خود کو ایک بہت اچھا، خیال کرنے والا ، ذمہ دار شوہر ثابت کیا تھا ۔ام ہانی کی ڈائیٹ سے لے کر ریگولر چیک اپ تک وہ ہر بات کا خیال رکھتا تھا ۔اور ام ہانی ۔۔۔۔وہ اب بیتی باتوں کا ذکر نہیں کرتی تھی ۔اسکا خیال رکھتی تھی ۔اور سب سے بڑھ کر اسے دیکھ کر حیران ہوتی تھی ۔یہ وہی طهٰ تھا جسے مامو انتہا کا لا پرواہ اور غیر ذمہ دار کہا کرتے تھے ۔کاش اسے دیکھ لیتے تو ورطہ حیرت میں غوطہ زن ضرور ہو جاتے ۔
اسکی ڈیلیوری سے پہلے طهٰ نے سیکنڈ ہینڈ مہران خریدی تھی تاکہ اسکی فیملی کو کوئی دقت نہ ہو ۔ڈاکٹر کی دی ہوئی ڈیٹ کے مطابق آفس سے ایک ماہ کی لیو بھی لی تھی ۔اور ہانی اس بات کی معترف تھی ۔اس نے واقع ہی میں اسے کسی کی کمی محسوس نہیں ہونے دی تھی ۔بچے کی شاپنگ سے لے کر ہوسپٹل لے کر جانے والے بیگ تک وہ ہر کام بہت احسن طریقے سے انجام دے رہا تھا ۔وہ تو بس اسکی سمجھ بوجھ اور پھرتياں دیکھتی رہتی ۔جو یو ٹیوب سے اور پتہ نہیں کہاں سے کیا کچھ دیکھ اور پڑھ کر سب کچھ مینج کرتا جاتا تھا ۔
جس رات وہ اسے ہوسپٹل لے کر گیا تھا پہلی بار اسے تکلیف میں زرد رنگت کے ساتھ پسینہ پسینہ ہوتے دیکھ طهٰ کے ہاتھ پاؤں پھولے تھے ۔ہوسپٹل کی مخصوص دواؤں کی خوشبو لئے فضا میں ،اس سرد رات لیبر روم کے باہر بے چینی سے چکر کاٹتے اسے خوف آیا تھا ۔ام ہانی کو کھو دینے کا خوف ۔۔۔۔اور یہ بہت جان لیوا احساس تھا ۔وہ اس سے محبت نہیں کرتا تھا ۔محبت کا کوئی قصہ کبھی ان کے درمیاں چھڑا ہی نہیں تھا ۔اسکا تو ذکر بھی ممنوع سا تھا ان دونوں کے بیچ ۔اس نام کے ساتھ تو ذہن کے پردے پر بس ایک ہی چہرہ جھلملاتا تھا اور وہ چہرہ ام ہانی کا تو بلکل نہیں تھا ۔مگر پھر بھی وہ اسے کھونے سے ڈر رہا تھا۔ان دونوں کے مابین جو تھا وہ محبت سے بڑھ کر تھا ۔وہ اس کے مشکل ترین وقت کی ساتھی تھی ۔خفا سہی مگر ساتھ تھی ۔اور یہ ہمسفری طهٰ کے لئے کیا معنی رکھتی تھی یہ آگہی اسے رات کے پچھلے پہر ہوسپٹل کے اس سرد و ہئیت ناک کوریڈور میں ہو رہی تھی ۔
پہلی بار اسے اکیلا پن محسوس ہوا تھا ۔دل نے خواہش کی تھی کاش اسکے اپنے اس وقت اسکے ساتھ ہوتے ۔ماتھے پر پھوٹتی پسینے کی ننھی بوندوں کے ساتھ وہ پریشان حال چہرہ لئے، ٹراؤزر ٹی شرٹ پر لیدر کی جیکٹ پہنے مضطرب سا کھڑا تھا ۔جب اسکی پشت پر دروازہ کھلنے کی مخصوص چرچراہٹ سنائی دی تھی ۔لمحے کے ہزارویں حصے میں وہ پلٹا تھا ۔اور دنیا رک سی گئی تھی ۔ساعتیں تھم سی گئیں تھیں ۔نرس کے ہاتھوں میں موجود وہ ننها سا پيازی رنگ کے كمبل میں لپٹا وجود اسکی آنکھوں کی پتلیاں تک ساکن کر گیا تھا ۔
“مبارک ہو ۔بیٹی ہوئی ہے “۔اس ننھے سے وجود کو اسکی طرف بڑھاتے نرس کہہ رہی تھی اور طهٰ کسی خواب کی سی کیفیت سے بیدار ہوا تھا ۔آنکھوں میں بے اختیار نمی سی امڈ آئی تھی ۔ہاتھوں میں ہلکی سی لرزش لئے مگر مضبوطی سے اس متاع حیات کو تھامتے اسکے احساسات عجیب سے ہو رہے تھے جنہیں وہ خود کوئی نام نہیں دے پا رہا تھا ۔چہرہ نیچے کرتے دونوں ہاتھوں میں پکڑے اس ننھی پری کو دیکھنے کیلیے آنکھوں کے سامنے آئی دهند کو بازو سے رگڑ کر صاف کرتے وہ سیدھا ہوا تھا ۔
“میری وائف ؟”۔آگے کچھ بولا نہیں گیا تھا ۔
“وہ بھی ٹھیک ہیں کچھ دیر تک روم میں شفٹ کر دیں گے تو مل سکیں گے آپ “۔پیشہ ورانہ مسکراہٹ کے ساتھ بتاتی وہ پلٹ گئی تھی ۔طهٰ نے تشکر آمیز سانس خارج کرتے اپنے تنے ہوئے اعصاب کو ڈھیلا چھوڑتے چہرہ نیچے کر کے اب اسکو دیکھا تھا ۔كمبل چہرے پر سے ذرا ترچھا کیے احتیاط کے ساتھ ۔اور وہ پلکیں جهپکنا بھول گیا تھا ۔دنیا کا سب سے خوب صورت احساس تھا وہ ۔جو اس وقت اس کے رگ و پے میں سرشاری و آسودگی کی مانند سرایت کر گیا تھا ۔سرخ و سپید رنگت میں چینی نقوش کی حامل وہ گڑیا سوئی ہوئی تھی ۔وہ بے آواز ہنسا تھا ۔پھر چہرہ ذرااور نیچے کرتے اسکے سیاہ بالوں سے بھرا سر نرمی سے چوم ڈالا ۔اسکی آنکھیں اب بھی نم ہو رہی تھیں ۔اور چہرہ وہ اس سیاہ رات میں پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا ۔اسکے روئی جیسے گال کو احتیاط بھری نرمی سے اپنی انگلی کی پور سے چھو کر وہ اسے محسوس کر رہا تھا جب وہ چہرے پر تناؤ لئے ذرا سا کسمسائی تھی ۔شاید اپنے آرام میں یہ دخل اندازی اس ننھے وجود کو پسند نہیں آئی تھی ۔طهٰ نے مسکرا کر فوری طور پر ہاتھ پیچھے کیا تھا ۔
کچھ دیر بعد جب نرس کی معیت میں وہ اسے بازؤں میں لئے کمرے میں داخل ہوا تھا تو ام ہانی نقاہت زدہ سی زردنما چہرہ لئے آنکھیں موندے بسترپر لیٹی ہوئی تھی ۔قدموں کی آہٹ پر اس نے آنکھیں کھولی تھیں ۔مسکراتی آنکھوں اور سرشار چہرے والا طهٰ اور اسکے بازؤں میں دبكا ننها سا وجود ۔ام ہانی نے بے اختیار ہاتھ آگے بڑھائے تھے ۔نرس نے مسکراتی نظروں سے انھیں دیکھا تھا ۔ایک خوبصورت فیملی کا دل پزیر منظر ۔جہاں سامنے کھڑا وہ خوبرو سا مرد مسکراتے ہوئے اپنی باہوں سے وہ پیارا سا وجود اپنی من موہنی سی بیوی کی باہوں میں منتقل کر رہا تھا جس کے چہرے پر پھیلا ممتا بھرا نور اسے اور بھی دلکش بنا رہا تھا ۔ایک آخری ستائشی نگاہ اس خوش حال سے خاندان پر ڈال ، دروازہ کھول کر وہ خود باہر نکل گئی تھی ۔
نیم دراز حالت میں لیٹی وہ ہوسپٹل کے مخصوص گاؤن نما لباس میں بھی چادر لپیٹنا نہیں بھولی تھی ۔ہاں البتہ وہ آدھے سر کو ڈھکے ہوئے تھی ۔بالوں کی چند لٹیں چہرے کو چھو رہی تھیں ۔اور وہ سوکھے ہوئے خشک ہونٹوں کے ساتھ پرنم آنکھوں اور چہرے پر درد کے آثار کے باوجود مسکرا رہی تھی ۔جنت یوں ھی تو ماؤں کے پیروں تلے نہیں آ جاتی ۔ایک وجود کو اپنے اندر سینت سینت کر پروان چڑھانا اور پھر موت کی سرحد کو چھو کر اس کو دنیا میں لانا پڑتا ہے ۔یہ ہے وہ قیمت جو ماں اپنے پاؤں تلے جنت لئے ہونے کی پہلی قسط کے طور پر ادا کرتی ہے اور پھر آخری سانس تک یہ انسٹالمنٹ جاری رہتی ہے ۔
کانپتے ہونٹوں کا جان فزا لمس اسکی پیشانی پر چھوڑتے ایک آنسو اس کے گال سے بہتا اسکی بیٹی کے ماتھے پر آن ٹھہرا تھا جسے بڑی نرمی سے ام ہانی نے اپنے ہاتھ سے صاف کیا تھا ۔طهٰ ہاتھ کی مٹھی بنائے ہونٹوں پر رکھ دوسرا بازو سینے پر لپیٹے نرم سی نظروں سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا ۔وہ ایک بھرپور منظر تھا جسے وہ تمام عمر بھی یوں ھی کھڑا بنا تھکے ،بنا اکتائے دیکھ سکتا تھا ۔ہانی نے چہرہ اٹھا کر اسکی طرف دیکھا تھا اور وہ تو جیسے اسی ایک نظر کا منتظر تھا ۔
“تم ٹھیک ہو ؟”۔طهٰ کا ہاتھ اسکے بالوں پر آ کر ٹھہرا تھا۔اس لمس میں مسیحائی کا سا احساس تھا ۔تشکر کا انوکھا سا انداز تھا ۔اور وہ الفاظ۔۔۔۔وہ الفاظ تو بڑے عام سے تھے مگر وہ انداز بڑا خاص تھا ۔الفاظ معنی نہیں رکھتے ان سے جڑے احساسات اور لہجے اہم ہوتے ہیں ۔ام ہانی نے اسکے لہجے میں چھپی بے قراری و فکر مندی کو پورے دل سے محسوس کیا تھا ۔مسکرا کر سرہلاتے وہ پھر سے اپنی گود میں موجود زندگی کو دیکھنے لگی تھی ۔
“یہ آنکھیں کیوں نہیں کھول رہی ؟”۔اشتیاق سے اسے دیکھتے ام ہانی نے چہرہ اٹھا کر لمحہ بھر کے لئے طهٰ کو دیکھا تھا جو اب اسکے سامنے بستر پر جگہ بناتے ٹک گیا تھا ۔
“کیوں کہ یہ ابھی سو رہی ہے “۔ایک گھٹنہ موڑ کر آرام ده حالت میں بیٹھتے وہ اب اسکی گود سے اسے لے رہا تھا ۔اپنے گھٹنے پر اسے رکھ کر وہ اب بغور اسکا چہرہ دیکھ رہا تھا ۔ام ہانی نے سرہانے پر اپنا سر ڈالتے نظریں ان دونوں پر جماتے ہوئے دونوں ہاتھ اپنے ناف کر رکھے تھے ۔
“اس کے بال میرے جیسے ہیں “۔اسکے سیاہ نرم و ملائم بالوں پر باتھ پھیرتا وہ مسکرا رہا تھا ۔ام ہانی کے چہرے پر بھی ایک الوہی سی چمک لئے مسکراہٹ تھی ۔گردن ذرا اونچی کیے اس نے دیکھا تھا اور پھر ہاں میں گردن ہلا ئی ۔اس کے سیاہ بال تھے ۔اور سیاہ بال طهٰ کے تھے ام ہانی کے لائٹ براؤن بال تھے ۔تبھی بچی نے آنکھیں کھولی تھیں ۔
“اور اسکی آنکھیں بھی میرے جیسی ہیں “۔خوشی سے ہلکی مگر ذرا اونچی آواز میں وہ بول رہا تھا اور اسکی گود میں كمبل میں لپٹی وہ نو مولود اپنی گھور سیاہ آنکھیں پوری طرح کھولے باپ کا چہرہ ٹکرٹکر دیکھ رہی تھی ۔طهٰ نے بے اختیار اسکی آنکھوں کو چوما تھا ۔
“میری جنت نے سب سے پہلے بابا کا چہرہ دیکھا ہے ۔تم دیکھنا یہ سب سے زیادہ پیار بھی مجھ سے کرے گی “۔پر یقین سے لہجے میں کہتا وہ آنے والے کل کے کہیں خوبصورت خواب اپنی جگر جگر کرتی آنکھوں میں لئے ہوئے تھا ۔ام ہانی اس کے بچوں سے انداز پر خفیف سا ہنس دی ۔تو گویا نام بھی منتخب کر لیا گیا تھا ۔
“اچھا اب مجھے بھی دکھا دیں تاکہ تھوڑا سا پیار مجھ سے بھی کر لے آپ کی جنت “۔مسکراتے ہوئے اسے چھیڑ نے کو کہتے وہ ہاتھ بڑھائے ہوئے تھی ۔طهٰ نے اسے اس کے پہلو میں اسکے بازو پر لٹایا تھا ۔
“میں ڈاکٹر سے مل کر آتا ہوں “۔خود وہ اٹھ کر باہر نکل گیا تھا ۔ام ہانی اب بغور اس ننھے سے کھلونے کا محبت بھری نظروں سے جائزہ لے رہی تھی ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
“تم سنبھال لو گی نا ؟”۔ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ہوتے ٹائی کی ناٹ ٹھیک کرتا وہ آئینے میں دکھائی دیتے ام ہانی کے عکس کو دیکھ رہا تھا ۔جو جنت کو فیڈ کروانے کے بعد منہ صاف کرتی بستر کے بیچ و بیچ لیٹا رہی تھی ۔خفگی سے اسے دیکھا جو آئینے میں اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔
“طهٰ آپ ایک کام کریں جنت کو بیگ میں ڈال کر ساتھ آفس لے جائیں “۔وہ بری طرح چڑی تھی ۔ایک ماہ کی چھٹیوں کے بعد وہ آج پہلی بار آفس جا رہا تھا اور صبح سے کوئی دس بار یہ سوال دوہرا چکا تھا ۔پہلے پہل تو وہ بہت سنبھاؤ سے اسکی فکر مندی محسوس کرتے اسے تسلی دیتی رہی تھی ۔مگر اب یہ کچھ زیادہ ہو رہا تھا ۔اس کے تپ کر کہنے پر وہ ذرا گڑبڑایا ۔
“نہیں مطلب مجھے پتہ ہے تم سب سنبهال لوگی ۔میں بس یہ کہہ رہا ہوں خدا نخواستہ کوئی مسئله ہوا تو مجھے کال کر لینا ۔یا پھر فضا بھابھی کو بلا لینا “۔اپنی تیاری مطمئین وہ بالوں میں برش کرتے بیڈ تک آیا تھا ۔ام ہانی اب بستر پر آلتی پالتی مارے بیٹھی جنت کا پھیلاوا سمیٹ رہی تھی ۔
“جنت بابا آفس جا رہے ہیں بچہ۔شام کو واپس آئیں گے ۔ماما کو تنگ مت کرنا” ۔بستر پر بیٹھ کر اسے پیار کرتے اب وہ اسے بازؤں میں اٹھا چکا تھا ۔اس سے باتیں کرتے وہ اسے یوں سمجھا رہا تھا جیسے وہ سب سمجھ رہی ہو ۔گول مٹول سی گلابی رنگت والی جنت مسکرائی تھی ۔طهٰ نے جھٹ پٹ اسکا چہرہ چوما تھا ۔
“اگر ہم اپنے گھر ہوتے تو آپ کو اتنی پریشانی نا اٹھانی پڑتی آفس جاتے ہوئے “۔مصروف سے انداز اور سرسری سے لہجے میں وہ جنت کے کپڑے باسکٹ میں ڈالتے ہوئے کہہ رہی تھی ۔طهٰ کے کان کھڑے ہوئے تھے ۔ایک عرصے بعد وہ پھر سے یہ موضوع چھیڑ رہی تھی ۔مگر اس نے یوں ظاہر کیا جیسے کچھ سنا ہی نہ ہو ۔
“طهٰ ۔۔۔۔کیا ہم اب بھی واپس نہیں جا سکتے ؟”۔ہاتھ روک کر اسکی طرف دیکھتے وہ ملتجی ہوتی کہہ رہی تھی ۔طهٰ نے اب بھی اسکی طرف دیکھنے کی زحمت گوارہ نہیں کی تھی ۔
“اپنا اور جنت کا بہت سارا خیال رکھنا ۔کام والی آنٹی آئیں گی بس نگرانی کر لینا زیادہ پھرتیاں دکھانے کی ضرورت نہیں ہے ۔میں کال کرتا رہوں گا “۔اسکی بات کو سرے سے نظر انداز کرتے وہ اپنے احکامات سناتے اسے دل مسوس کر ره جانے پر مجبور کر گیا تھا ۔ام ہانی کو شدت سے احساس ہوا تھا اسے آج تک وہ حکم کا اکا میسر نہیں آیا تھا جس سے وہ طهٰ ابراھیم سے کچھ منوا سکے ۔جنت کو آخری بار چومتا وہ شانے سے لگائے نرمی سے خود میں بھینچ لینے کی کوشش میں تھا جب اس نے دودھ الٹا تھا اور طهٰ کی شرٹ پر مختلف نقش و نگار بنتے چلے گئے ۔اسکو سیدھا کرتے اس نے اپنی شرٹ کو دیکھا تھا کندھے سے سینے تک جما ہوا دودھ گرا ہوا تھا ۔ام ہانی کا دل سکون سے بھرتا چلا گیا ۔ایک کمینی سی خوشی تھی جو اس لمحے اسے محسوس ہوئی تھی ۔بے اختیار دل ہی دل بیٹی کی بلائیں لی تھیں ۔بنا چہرے پر ناگواری کی ایک بھی لكیر لئے مسکرا کر بیٹی کو دیکھتے سائیڈ ٹیبل سے ٹشو باکس میں سے ٹشو بر آمد کیے وہ جنت کا منہ صاف کر رہا تھا ۔
“اوہو ۔۔۔۔آپ کی تو ساری شرٹ خراب ہو گئی “۔مصنو ئی تاسف سے کہتے ہوئے وہ بلیوں اچھلتے دل کے تاثرات بڑی مشکل سے چہرے پر آنے سے روک رہی تھی ۔(بہت اچھا ہوا ۔۔۔۔اور نظر انداز کریں میری باتوں کو ۔یہ اللّه تعالیٰ نے سزا دی ہے آپ کو چھوٹی سی )۔
“کوئی بات نہیں میں چینج کر لیتا ہوں “۔جنت کو احتیاط سے بیڈ پر منتقل کرتے وہ تیزی سے اٹھ کر وارڈروب کی جانب بڑھا تھا ۔سامنے ٹنگی پہلی جو شرٹ میسر آئی وہ کھینچ کر وہ واش روم کی جانب بڑھ گیا تھا ۔
“او جنت ۔ماما کی پیاری بیٹی ۔۔۔۔ماما کے سارے بدلے لے گی بابا سے ہیں ناں “۔جھک کر پچھکارتے ہوئے وہ کھلکھلاتے اسکا چہرہ چوم رہی تھی ۔
Part 2
وقت کبھی ركتا نہیں ہے ۔بہتی ندی کے جیسے چلتا ہی جاتا ہے اور خاص کر تب جب آسودگی کا موسم آن ٹھہرا ہو تو لمحے کچھ اور بھی بھاگم بھاگ سے گزرتے محسوس ہوتے ہیں ۔جنت کے آنے سے زندگی میں اک نئی روح رواں ہو گئی تھی ۔طهٰ نے کہا تھا جنت سب سے زیادہ پیار اس سے کرے گی اور اسے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا تھا ، آگے آنے والے وقت نے یہ ثابت کیا تھا وہ باپ کی دیوانی تھی ۔روتے ہوئے ام ہانی سے زیادہ وہ اسکی گود میں جا کر بہل جایا کرتی تھی ۔رات کو جب تک وہ اسے اپنے سینے پر لٹا نہ لیتا وہ سوتی نہیں تھی ۔وہ ایک بہترین باپ ثابت ہوا تھا ۔جنت کے بیمار ہونے پر ام ہانی کے ساتھ ساتھ وہ بھی راتیں جاگ کر گزار دیا کرتا تھا ۔اور تب ام ہانی کو اپنی بیٹی پر رشک آتا تھا ۔باپ کا پر شفیق سایہ اولاد کے لئے کسی سایہ دار گھنے درخت جیسا ہی تو ہے جو ہر سرد و گرم سے بچا کر رکھتا ہے ۔ام ہانی نے اس سائے کے ہوتے ہوئے بھی اس کی چھاؤں نہیں دیکھی تھی ۔جنت کودنیا میں ہی جنت میسر تھی کیوں کہ بیٹیوں کی دنیا باپ کے پیار بھرے محفوظ سائبان میں جنت ہی تو ہوتی ہے ۔اور ام ہانی دعا کیا کرتی تھی یہ جنت ہمیشہ قائم و دائم رہے ۔
زندگی کے معنی بدل گئے تھے ۔ایک چھوٹی سی جان اب محور زندگی بن گئی تھی ۔اسے ہر دن بڑا ہوتے دیکھنا ایک روح تک کو سیراب کرنے جیسا احساس تھا ۔طهٰ کو تو ویسے بھی خبط تھا اسکی ہر چھوٹی بڑی سرگرمی کوکیمرے کی آنکھ میں قید کرنے کا ۔اس کے پہلی بار بیٹھنے ،رینگنے چلنے اور پہلا لفظ بولنے تک کی ویڈیوز اس نے بنائی تھیں ۔
جنت نے جب بولنا سیکھا تھا تو پہلے ” ببا ” لفظ بولا تھا ۔طهٰ کی خوشی دیدنی تھی ۔کتنے دن تو وہ ہانی کو جتاتا اور چڑاتا رہا تھا ۔اور وہ کبھی تو چڑتی تھی اور کبھی اسکی اس قدر اپنی بیٹی سے اٹیچمنت پر دل ہی دل اللّه کا شکر ادا کیا کرتی تھی ۔اسکی بیٹی باپ کی محبت میں اسکی طرح حرماں نصیب نہیں تھی ۔
زندگی خوب صورت تھی ۔بس اک کمی سی تھی اپنوں کے ساتھ نہ ہونے کی کمی ۔اسے لگتا تھا وہ کبھی نہ کبھی طهٰ کومنا ہی لے گی ۔مگر اب اس آس کا دیا بھی سوکھ کر بجھنے لگا تھا ۔جب کبھی بھی وہ کوئی ذکر چھیڑتی وہ یا تو بلکل نظر انداز کر جاتا یا نہایت خوش اسلوبی سے موضوع ہی بدل دیتا۔وہ غصہ نہیں ہوتا تھا ۔سرد مہری کی چادر بھی اسکے انداز کو ڈھانپے نہیں ہوتی تھی ۔بس چہرے پر ایک قطعی پن نمودار ہو جایا کرتا تھا ۔ایسے میں وہ بس تاسف و افسردگی سے اسکا چہرہ دیکھتی رہ جاتی ۔ایک خلا ضرور تھی مگر زندگی یوں بھی بری نہیں تھی ۔وہ خوش تھی اسے لگنے لگا تھا کچھ آزمائشوں کے بعد ہی سہی اسکی ماں کی اسکے حق میں کی جانے والی ساری دعائیں قبول ہو چکی تھیں ۔
وہ ایک خوبصورت شام تھی ۔طهٰ کچھ دیر پہلے ہی آفس سے واپس آیا تھا ۔پچھلے ڈھائی سال میں وہ بہت بدل گیا تھا ۔پہلے سے زیادہ ذمہ دار ،خیال رکھنے والا اور زندگی کو لے کر زیادہ سنجیده ۔مگر کچھ عادتیں کبھی نہیں بدلتیں ۔جیسے کرکٹ سے اسکا پیار ۔ہانی کوذچ کرنا اور پھر حظ اٹھانا۔اور لاپرواہی کے ریپر میں لپٹی پرواہ جو ام ہانی کے لئے مخصوص تھی ۔ورنہ اپنی بیٹی کے لئے تو اسکی محبتوں کے دریا کوزے میں سمٹ آئے تھے ۔ایک ایسا کوزہ جسکا منہ ہمیشہ کھلا رہتا ۔اسے چائے دے کر وہ خود بھی وہیں پاس ہی صوفے پر بیٹھ گئی تھی ۔سامنے ٹی وی پر کرکٹ میچ چل رہا تھا جس کی الف ب سے اب بھی وہ نا واقف تھی ۔طهٰ کی پوری توجہ ٹی وی سکرین پر تھی .جس کے ساتھ وہ چائے بھی بے دھیانی سے پی رہا تھا ۔ہانی نے ایک نظر ذرا فاصلے پر کھلتی جنت کو دیکھا تھا ۔جو اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے اپنے کھلونے کبھی باسکٹ میں ڈال تو کبھی نکال رہی تھی ۔ایک کھلونہ ہاتھ میں لئے وہ اٹھی تھی جب نظر اس پر پڑی تھی ۔
ہانی نے مسکرا کر اسے دیکھا تھا ۔مگر بدلے میں اسکی ڈیڑھ سالہ بیٹی کے تیور بگڑے تھے ۔وہ حد سے زیادہ ایکسپریسیو بچی تھی ۔ہانی نے اچنبھے سے اسے دیکھا ۔اسکے چہرے پر ناپسندیدگی کا تاثر تھا ۔اپنا کھلونا رکھ کر وہ اس تک آئی تھی ۔ہانی نے بڑی چاہ سے اپنے ہاتھ پھیلائے تھے ۔مگر وہ اسکی باہوں میں سمانے کے بجائے اسکا ایک بازو پکڑ چکی تھی پھر اسے کھینچا تھا۔وہ ذرا سی کھسک کرطهٰ سے اور تھوڑا دور ہوئی تھی ۔جنت جھٹ سے اسکے اور طهٰ کے درمیان بیٹھ کر باپ کی گود میں سر رکھتے اب اسے دیکھ کر مسکرائی تھی ۔ٹی وی سے نظریں ہٹاتے طهٰ نے ہاتھ میں پکڑا کپ تیزی سے سائیڈ پر کیا تھا ۔حالانکہ جنت کے رینگنے کے بعد سے اسکی ہدایات کے مطابق ہانی چائے بھی ذرا ٹھنڈی ہونے کے بعد اس کے لئے لے کر آتی تھی ۔ اب بھی وہ جھک کر مسکراتے ہوئے اسکا ماتھا چوم رہا تھا جس پر وہ کھلکھلائی تھی ۔اور وہ اپنی بیٹی کی کچھ دیر پہلے کی حرکت پر آنکھیں پھاڑے نیم واہ ہونٹوں کے ساتھ اسے دیکھ رہی تھی ۔جس کے چہرے پر اب کچھ دیر پہلے کی نا گواری کا ذرا برابر بھی تاثر نہیں تھا ۔
پورا دن وہ اسکے آگے پیچھے گھومتی تھی ۔جیسے پوری دنیا میں اس سے بڑھ کر جنت کے لئے کوئی نہ ہو ۔مگر باپ کے آتے ہی وہ یوں آنکھیں پھیر لیتی تھی جیسے اس سے کوئی شناسائی ہی نہ ہو ۔اور اس دوہری پالیسی پر وہ اس چھوٹی سی چالاک بلی کو دیکھتی ره جاتی ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
“دادا “۔
رات کا وقت تھا ۔ہانی کام نپٹا کرنیم وادروازے سے کمرے میں داخل ہوئی تھی جب جنت کی باریک سی آواز اسکے کان میں پڑی تھی اور چادر سے خشک کرتے ہاتھ تھم سے گئے تھے ۔بے یقینی سے اس نے بیڈ کی جانب نگاہ دوڑائی تھی جہاں طهٰ بستر میں نیم دراز جنت کو اپنے بازو کے حصار میں لٹائے موبائل پر کچھ دکھا رہا تھا ۔اس کے چہرے پر دهیمی سی مسکراہٹ تھی ۔جیسے جنت کی یک لفظی بات کو اس نے بہت انجوائے کیا ہو ۔ان دونوں میں سے کوئی بھی اسکی طرف متوجہ نہیں تھا ۔دبے پاؤں وہ اندر آئی تھی مگر تب تک طهٰ اسے دیکھ چکا تھا ۔سرعت سے موبائل بند کرتے سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر اب وہ جنت کو گدگدا رہا تھا ۔جس پر کمرے میں اسکی قلقاریاں گونج اٹھی تھیں ۔
“کیا ہوا ؟مجھے دیکھ کر موبائل رکھ کیوں دیا طهٰ ؟۔دکھائیں ناں اب بھی جنت کو فوٹوز یا صرف مجھ سے ہی پردہ داری ہے “۔اسکی مسکراتی آواز میں گھلے طنز پر طهٰ ٹھٹکا تھا ۔ہاتھوں کی حرکت ساکت ہوئی تھی جنت اب بھی کھلکھلا رہی تھی مگر اسکے ہونٹوں کا تبسم ہانی کی بات نے نوچ ڈالا تھا ۔وہ جان چکی تھی تردید کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا ۔
البتہ اسکے انداز پر ضرور اس نے ایک نا گوار نظر ام ہانی پر ڈالی تھی ۔اور اس ایک نظر پر وہ اور بھی تلملا اٹھی ۔یعنی کہ سب پابندياں صرف اسکی ذات کے لئے تھیں۔
“ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں ؟۔آپ کو کیا لگتا ہے مجھے پتہ نہیں ہے ؟۔یہ جو آپ سب گھر والوں کی تصویریں اسے دکھاتے ہیں تو پورا دن یہ ان ناموں کا ورد کرتی میرے ارد گرد گھومتی رہتی ہے “۔
اسکا انداز جتانے والا تھا ۔گویا وہ سب جانتی تھی فرق بس اتنا تھا وہ چپ تھی مگر آج یہ چپ بھی ٹوٹ گئی تھی ۔اس دوران جنت اب باپ کی شرٹ کے بٹن سے کھیلتے گاہے بگاہے باری باری ان دونوں کا چہرہ دیکھ لیتی تھی
“تو اس میں غلط کیا ہے “۔اسکی ڈھٹائی قابل دید تھی ۔کچھ دیر کے لئے تو وہ بول تک نہ سکی ۔
“غلط یہ ہے کہ جنت صرف موبائل پر کیوں دیکھے ؟۔وہ ان کے ساتھ کیوں نہ رہے ؟۔وہ اس کے اپنے خاص رشتے ہیں ۔وہ بڑی ہو رہی ہے اسے پتہ ہونا چاہیے “۔وہ جنت کی وجہ سے بات آہستہ آواز میں ہی کر رہی تھی مگر انداز چٹخنے لگا تھا ۔
“بچے اپنے ماں باپ کے ساتھ رہتے ہیں اور جنت بھی اپنے ماں بات کے ساتھ ره رہی ہے “۔ماں باپ پر زور دیتے وہ دانت پیس کر ره گیا ۔اس وقت کی یہ جرح اسے ایک آنکھ نہیں بھائی تھی ۔
“تو پھر اسکا باپ کیوں اپنے ماں باپ کے ساتھ نہیں ره رہا ؟”۔وہ دوبدو بولی تھی ۔طهٰ کا رنگ سرخ پڑا تھا ۔ہونٹ بھینچ کر کاٹ دار نظروں سے اسے دیکھا ۔کہیں نہ کہیں اسکی بات پر دور کہیں اندر کچھ چھناکے سے ٹوٹا تھا ۔اسکی بات پر وہ لا جواب ہوا تھا ۔
“ہانی میرا دماغ خراب مت کرو ۔میں کم از کم اپنی بیٹی کے سامنے تم سے تلخ نہیں ہونا چاہتا ۔اس لئے میری نرمی کا ناجائز فائدہ مت اٹھاؤ تم “۔جنت کے بالوں کو سہلاتے وہ تند و تیز نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔آواز دھیمی تھی مگر بری طرح سلگ رہی تھی ۔ام ہانی نے تاسف سے دونوں ہاتھ اٹھائے تھے اور پھر ہونٹوں پر زبان پھیرتے سر کو نفی میں جنبش دی ۔اس کے سخت انداز پر دل بری طرح ٹوٹا تھا ۔گلے میں کچھ اٹکا بھی تھا ۔آنکھوں میں جلن کا احساس بھی جاگا تھا مگر وہ سب سے بے نیاز ہوتی بولی تھی ۔
“بس یہی تو آپ کی بات ہے طهٰ ۔آپ ہمیشہ مجھے دلیل سے جب چپ نہیں کروا پاتے تو دھونس جما کر خاموش کروا دیتے ہیں ۔کیوں کہ میں ام ہانی ہوں ناں ۔جو آپ کے لئے اتنی خاص تو کبھی نہیں بن پائے گی کہ آپ سے اپنی منوا سکے ۔بن مانگے بن چاہے جو ملی ہوں ۔مگر یہ جو آپ کے پہلو میں لیٹی ہوئی ہے ناں یہ ام ہانی نہیں ہے یہ جنت ہے ۔اور کچھ عرصے بعد جب یہ آپ سے سوال کرے گی تب میں دیکھوں گی آپ کیسے اسے چپ کرواتے ہیں “۔اہانت و بے قدری کا اس قدر احساس آج سے پہلے اسے کبھی نہیں ہوا تھا ۔جنت اسکی رندھی ہوئی آواز پر چہرہ اٹھا کر اسے دیکھنے لگی تھی ۔طهٰ نے جبڑے بھینچ کر خود پر ضبط کرتے نگاہیں پھیری تھیں ۔ام ہانی کا دل بری طرح ٹوٹا تھا ۔ آنکھوں سے نا چاہتے ہوئے بھی آنسو موتیوں کی صورت ٹوٹ پڑے تھے ۔جنہیں ہاتھ سے رگڑتی وہ تیز قدموں سے واش روم میں گھس گئی تھی پیچھے دروازہ پوری شدت سے بند کیا تھا جس کی بازگشت پر جنت نے بھی چونک کر سہمی نظروں سے دروازے کو دیکھا تھا ۔عام حالات میں وہ دروازے کی تیز آواز پر عام بچوں کی طرح بدکتی نہیں تھی ۔اس کے ماں باپ کی دروازوں سے پرانی دشمنی تھی جو اب تک قائم تھی اس لئے وہ نارمل سی بات تھی ۔مگر اس وقت اسکی ماں روتے ہوئے اندر گم ہو گئی تھی ۔اس بات کا احساس اس ڈیڑھ سالہ بچی کو بھی ہو گیا تھا ۔
“بے وقوف عورت “۔غصے بھری نظروں سے واش روم کا بند دروازہ دیکھتے وہ زیر لب بڑبڑایا تھا ۔پھر چہرے کے تاثرات نارمل کرتے ہوئے وہ ایک مسکراہٹ ہونٹوں پر سجا کر جنت کی طرف متوجہ ہوا تھا جو اب روہانسی ہو رہی تھی ۔
“جنت ۔۔۔۔بابا کی گڑیا ۔۔۔۔کیا ہوا بچے کو ؟”۔پیار سے پچکارتے ہوئے اسے اٹھا کر سینے پر لٹاتے وہ چہرے پر سوچوں کا جال لیے اب دھیرے دھیرے اسکی پشت کو سہلا رہا تھا ۔کچھ ہی دیر میں وہ سو چکی تھی ۔احتیاط سے اسے بیڈ پر منتقل کرتے وہ خود بھی لیٹ گیا تھا ۔ایک نظر بند دروازے کو دیکھا تھا ۔اسے پورا یقین تھا اندر وہ اپنے رونے کا شغل فرما رہی ہو گی ۔دل بے کل ہوا تھا ۔بے چینی سے پہلو بدلتے وہ سخت بے آرام دکھائی دیتا تھا ۔ابھی وہ اٹھ کر واش روم کا ڈور ناک کرنے کی بابت سوچ ہی رہا تھا کہ دروازہ کھلا تھا ، سرخ متورم چہرے اور بھیگی بھیگی پلکوں کے پار گلابی ڈوروں والی آنکھیں لئے وہ باہر آئی تھی ۔دروازہ بند کرکے مڑتے ہوئے اسکی طهٰ پر نگاہ پڑی تھی جو گہری نظروں اور سپاٹ چہرے کے ساتھ اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔اتنا رو لینے کے باوجود اسے ایک بار پھر سے رونا آنے لگا تھا ۔سرعت سے نظریں پھیرتے ہوئے وہ آگے بڑھی تھی ۔کمرے کی لائٹس مدهم کرتے وہ آ کر اپنی جگہ لیٹی تھی اس تمام عرصے میں طهٰ کی نگاہوں کی تپش اسے جهلساتی رہی تھی ۔اسکی طرف پشت کیے لیٹتے آنکھیں ایک بار پھر سے بھیگنے لگی تھیں ۔دل میں اک موہوم سی امید تھی شاید وہ بات کرنے کی کوشش کرے گا ۔جیسے ہمیشہ ہوتا تھا ہر تلخ کلامی کے بعد بنا معافی تلافی ہی وہ پہلے سے نارمل ہو جایا کرتے تھے ۔مگر اس بار ایسا نہیں ہوا تھا ۔اور یہ بات ہانی کے دل میں کسی تیر کی طرح پیوست ہوتی اسے اندر کہیں زخم زخم کر گئی تھی ۔اس نے پہلی بار اسکی نظروں میں اپنی بے وقعتی کا غیر دانستہ اسکے لہجے سے گھائل ہو کر اظہار کیا تھا ۔دل نے چپکے سے چاہت کی تھی کہ وہ اس کے کہے کی تردید کر دیتا ۔ایک بار کہہ دیتا ام ہانی ایسا نہیں ہے ۔تم میرے لئے خاص ہو ۔تمہاری اپنی جگہ ہے اور وہ کوئی نہیں لے سکتا ۔مگر ایسا کچھ نہیں ہوا تھا ۔اور یہ بات اسے اور بری طرح رلانے کا باعث بنی تھی ۔
اس سے کچھ فاصلے پر چت لیٹے طهٰ ابراھیم نے گردن گھما کر اس کی ہولے ہولے لرزتی پشت کو دیکھا تھا ۔وہ جانتا تھا وہ اب بھی بے آواز رو رہی ہے ۔بیک وقت اسے غصہ بھی آیا تھا اور اس پر ترحم بھی ۔درمیان میں جنت ہاتھ پاؤں پھیلائے پر سکوں سو رہی تھی جسکی ایک ٹانگ طهٰ کے پیٹ پر دهری تھی ۔پہلے تو جی چاہا ہاتھ بڑھا کر اسے سمیٹ لے ۔مگر پھر دل کو مار دیا ۔مصلحت آڑے آ گئی تھی ۔اگر آج وہ نرم پڑ جاتا تو اسے اور شہ مل جاتی ۔اس لئے آگے چل کر سر پکڑنے سے بہتر تھا وہ ابھی کچھ دیر اسکا رونا برداشت کر لیتا ۔یہ مشکل تھا مگر آئندہ کے امن و امان کے لئے ضروری تھا ۔
کافی دیر گزر گئی تھی ۔ہر امید جب دم توڑ گئی تو جنت کے کسمسانے پر ام ہانی نے ایک گہرا سرد سانس خارج کرتے کروٹ بدلی تھی ۔سوئی ہوئی جنت کی پیشانی چومتے ایک بازو کا اسکے گرد حصار بنائے نا چاہتے ہوئے بھی نگاہ اس پر پڑی تھی ۔سیدھا لیٹا وہ پر سکون سا سو رہا تھا ۔سانسوں کی مدھم رفتار اسکی گہری نیند کی غماز تھی ۔سیدھی کھڑی مغرور ناک اسکی حاکمیت بھری طبیعت کا خوب پتہ دیتی تھی ۔باہم بھینچے ہوئے لبوں سے وہ سوتے ہوئے بھی ناراض لگتا تھا ۔دل پر پڑی گرہ کچھ اور بھی پکی ہوتی گئی تھی ۔دل اس وقت اسے دیکھنے کو بلکل نہیں چاہ رہا تھا ۔آنکھوں کو سختی سے بند کرتے اسکا چہرہ اس نے تصور سے بھی جھٹک دینا چاہا تھا ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
اور اگلی صبح پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ طهٰ نے مفاہمت کی کوشش نہیں کی تھی ۔چپ چاپ ناشتہ کرتے وہ معمول کے انداز میں جنت کو والہانہ پیار کرتے رخصت ہوا تھا ۔ام ہانی نے بھی کوئی خاص نوٹس نہیں لیا تھا ۔دل اپنا اس قدر رنجیده ہوا جا رہا تھا کہ اسکی خفگی کی پرواہ وہ دل کی دہائی کے باوجود کرنے کو تیار نہیں تھی ۔
روز مره کاموں سے فراغت کے بعد وہ جنت کے ساتھ دوپہر کے وقت تھوڑی دیر کے لئے سو گئی تھی اور پھر اسکی آنکھ دروازے پر ہونے والی بیل پر کھلی تھی ۔احتیاط سے اٹھ کر ایک نظر سوئی ہوئی جنت کو دیکھ خود وہ چادر اچھے سے سر پر لیتے باہر آئی تھی ۔ لاؤنج کی دیوار پر لگی گھڑی تین بجا رہی تھی ۔ڈور کا بالٹ گرانے سے پہلے اس نے احتیاطً پوچھا تھا اور پھر دروازہ کھولنے پر وہ ششدر ره گئی تھی ۔
