Raah e Yaar Teri Musaftein by Umme Abbas NovelR50606 Raah e Yaar Teri Musaftein (Episode 03)
No Download Link
Rate this Novel
Raah e Yaar Teri Musaftein (Episode 03)
Raah e Yaar Teri Musaftein by Umme Abbas
شام کو وہ اسے واپسی پر تیار ملی تھی ۔حالانکہ اسے تیاری کہنا سراسر غلط بیانی تھی مگر پھر بھی صاف ستھرے استری شدہ شلوار قمیض میں کسی بھی آرائش و زیبائش سے مبرا چہرہ لئے وہ باہر صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی ۔فریش ہو کر کپڑے چینج کرتے جب وہ خوشبوؤں میں بسا باہر نکلا تو نگاہ اسکے چہرے پر گئی تھی ۔جو اسے کچھ متورم سا لگا تھا ۔اور پھر اسکے آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھنے پر اسکے شک پر یقین کی مہر ثبت ہو گئی تھی ۔گلابی پن لئے وہ بلوری آنکھیں اسکے دن بھر کے شغل کا پتہ دے رہی تھیں ۔اسے دیکھ کر سرعت سے نظروں کا زاویہ بدلا گیا تھا ۔لب باہم پیوست کیے اس نے خود کو کچھ بھی سخت کہنے سے باز رکھا تھا ۔
آتے ہوئے راستے میں سے پیک کروائے کیک کو اٹھا کر جب وہ نکلنے لگا تو ایک بار اسے باور کروانا ہرگز نہیں بھولا تھا ۔
“وہاں برائے مہربانی جھوٹی ہی سہی مسکراہٹ چہرے پر سجا لینا ۔غموں کا چلتا پھرتا اشتہار بننے کی ضرورت نہیں ہے “۔بنا براہ راست مخاطب کیےطنز آمیز لہجے میں کہے جانے پر ہانی نے سلگ کر اپنے آگے چلتے شخص کی پشت کو گھورا تھا ۔فلیٹ لاک کرتے وہ آگے پیچھے وہاں سے نکلے تھے ۔صارم کا فلیٹ دوسری بیلڈنگ میں تھا ۔ہانی نو دن بعد اس فلیٹ سے باہر نکلی تھی ۔کمپاؤنڈ کے آگے بنے گراؤنڈ میں کھیلتے بچوں کو دیکھتے وہ سست روی سے چل رہی تھی ۔اتنے دنوں بعد کھلے آسمان کو دیکھنا اور کھلی فضا میں سانس لینا تنے ہوئے اعصاب پر اچھا تاثر چھوڑ رہے تھے ۔
انکا پر تپاک استقبال کیا گیا تھا ۔طهٰ صارم کے ساتھ ڈرائنگ روم میں بیٹھا تھا جبکہ ہانی ،فضا کے ساتھ ٹی وی لاؤنج میں آ گئی تھی۔انھیں کولڈ ڈرنک سرو کرتے وہ خود بھی ہانی کے ساتھ آ بیٹھی تھی ۔انکا آٹھ نو ماہ کا ایک بیٹا تھا جسے اس وقت فضا نے گود میں اٹھا رکھا تھا ۔ اپنے منہ میں ہاتھ ڈالے بہت غور سے اسکا جائزہ لے رہا تھا ۔
“مجھے تو جیسے ہی صارم نے بتایا کہ انکے دوست بمع بیوی کے آئیں ہیں تو بہت خوشی ہوئی کہ اچھا ہے تھوڑی کمپنی مجھے بھی مل جائے گی “۔فضا تئیس چوبیس سالہ خوش شکل و مزاج لڑکی تھی ۔
ہانی نے فقط مسکرانے پر اکتفا کیا تھا ۔
“تمہاری آنکھیں اتنی سرخ کیوں ہو رہی ہیں ۔طبیعت ٹھیک ہے ؟”۔
“جی ۔نئی جگہ ہے تو ابھی ٹھیک سے ایڈجسٹ نہیں کر پائی ۔پھر گھر والوں سے پہلی بار اتنی دور آئی ہوں تو ہوم سکنیس کا بھی شکار ہوں اسی لئے شاید طبیعت کچھ بوجهل سی ہے “۔کافی تفصیل سے جواب دیتے اس نے مسکراتے ہوئے اسے مطمئین کرنا چاہا تھا فضا سر ہلا گئی ۔
“ایسا ہی ہوتا ہے ۔میں بھی جب پہلی بار آئی تھی تو لگتا تھا پاگل ہو جاؤں گی ۔بھرے پرے گھر سے آؤ تو اکیلے رہنا اور بھی مشکل لگتا ہے ۔پھر عارض صاحب آ گئے تو اب انہی سے ہی فرصت نہیں ملتی “۔فضا نے کہتے ساتھ جھک کر بیٹے کا گال چوما تھا ۔چھوٹا عارض ہانی کی توجہ کھینچ چکا تھا ۔یہاں آنے سے پہلے اسے تلقین کی گئی تھی جھوٹ موٹ ہی سہی مسکرانے کی ۔مگر اس ننھے فرشتے نے اسکی دقت آسان کر دی تھی ۔اسکے چہرے پر اتنے دنوں بعد مسکراہٹ نے اپنی چھپ دکھائی تھی ۔
“آپ کا بیٹا بہت پیارا ہے ماشاءالله “۔
“اپنی ماما پر گیا ہے اس لئے “۔فضا کے شرارت بھرے انداز پر وہ دھیمے سروں میں ہنس دی ۔
“اس میں تو کوئی شک نہیں آپ خود بھی بہت پیاری ہیں “۔اس نے کھلے دل سے تعریف کی تھی ۔اتنے دنوں بعد کسی کا ساتھ نصیب ہوا تھا ۔فلیٹ میں اکیلے ره ره کر دل ہولنے لگا تھا ۔
“شکریہ ہانی تم خود بہت پیاری ہو ماشاءالله “۔
فضا کی ملنسار اور قدرے باتونی طبیعت کے باعث ان دونوں میں اجنبیت کی دیوار بہت جلدی مسمار ہوئی تھی ۔کچھ دیر بعد وہ عارض کو اٹھائے کچن میں کھڑی تھی ۔فضا کباب فرائی کرتے ہوئے ساتھ ساتھ اس سے باتیں بھی کر رہی تھی ۔
“شادی کو کتنا عرصہ ہوا ہے ؟”اس غیر متوقع سوال پر عارض کو دیکھ کر مسکراتے اسکے لب سمٹ سے گے تھے ۔
“کچھ ہی وقت ہوا ہے “۔لہجے میں بمشکل بشاشت پیدا کی گئی تھی ۔
“ماشاءالله بہت پیارا كپل ہے تم لوگوں کا ۔made for each other “۔پین میں کباب ڈالتے وہ اپنے ہی میں مگن کہہ رہی تھی ۔اس بات پر ہانی کے دل پر جو بیتی سو بیتی ۔چہرے پر کوئی سایہ سا لہرایا تھا ۔
“لومیرج ہے یا ارینج ؟”۔اس بار پہلے سے بھی مشکل سوال پر اسکا سانس تھم سا گیا تھا ۔یہ سب اسکے لئے مشکل تھا ۔لمحے کے ہزارویں حصے میں اسے احساس ہوا تھا اس نے یہاں آ کر غلطی کر دی تھی ۔کچھ پل پہلے کی خوشی کہیں کھو سی گئی تھی ۔اس سوال کا جواب ” لو ” تو ہرگز نہیں تھا اور ” ارینج” بھی نہیں ہو سکتا تھا ۔ ہاں “حادثاتی میرج ” ضرور تھا مگر افسوس ایسا وہ کہہ نہیں سکتی تھی ۔
اسکی اس قدر گھمبیر خموشی پر فضا نے سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا جس پر وہ سرعت سے ہونٹوں کو مسکراہٹ کے انداز میں پھیلا گئی تھی ۔
“ارینج “۔
“تمہاری سوچ و بچار سے مجھے لگا دونوں کا مکسچر ہی نہ ہو “۔اپنی بات کے اختتام پر وہ ہولے سے ہنسی تھی ۔اسکی باہوں میں تب سے پر سکون عارض نے اب ذرا ہلچل مچائی تھی جس کے ساتھ ہی وہ رونے لگا تھا ۔اور اسکے رونے پر ہانی نے سکھ کا سانس لیا تھا ۔
“کیا ہوا میرے بےبی کو بھوکی لگی ہے “۔فضا نے اسے پچکارا تھا ۔
“میں اسے فیڈر دیتی ہوں “۔کچھ دیر پہلے ہی لاؤنج میں فضا اسے دودھ پلانے کی کوشش میں تھی تب وہ کھیلنے میں مگن تھا اب شاید بھوک نے ہی ستایا تھا ۔
“ہاں باہر ٹیبل پر اسکا فیڈر رکھا ہے ۔تم اسکو لے کر چلو میں بھی بس کھانا لگاتی ہوں “۔کباب ڈش آؤٹ کرتے اسکے کہنے پر وہ سر ہلاتی باہر نکل گئی تھی ۔
کھانا خوش گوار ماحول میں کھایا گیا تھا طهٰ اور صارم زیادہ تر اپنی ہی باتوں میں مگن رہے تھے ۔فضا نے اچھا خاصا اہتمام کر ڈالا تھا ۔جاتے ہوئے وہ اسے اپنی طرف چکر لگانے کا کہنا نہیں بھولی تھی ۔جس پر فضا نے بھی ہامی بھری تھی ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
ماہی سے ہونے والی بات کے بعد اسے ایک بات کا تو اچھے سے اندازہ ہو گیا تھا ۔اس کے لئے واپسی کی راہیں بند ہو چکی تھیں ۔اب جو بھی تھا یہی سچ تھا اور اسے اس سے ہی ہم آهنگ ہونا تھا ۔مگر ایسا ہو نہیں پا رہا تھا ۔وہ نئی صورت حال سے مطابقت قائم کرنے میں بری طرح سے ناکام رہی تھی ۔پورا پورا دن گھر میں بولائی بولائی پھرتی تھی ۔اور شام کو جب وہ گھر آتا تھا تو اسکی موجودگی اسے اور بھی وحشت زدہ کرنے لگتی تھی ۔
وہ اگر اس کو اپنی نفرت سے بھرپور بیگانگی کی مار مار رہی تھی ۔تو بے نیازی طهٰ ابراھیم کی بھی اپنے عروج پر تھی ۔وہ دونوں ہی ایک دوسرے کو اپنے حال پر چھوڑے ہوئے اپنے اپنے سود و زيان کے ماپ تول میں غرق تھے ۔
اک خاموش معاہدہ تھا جس پر دونوں کار عمل تھے ۔مگر یہ خموشی زیادہ دیر تک موثر ثابت نہیں ہوئی تھی ۔ام ہانی کی ہمت چٹخنے لگی تھی ۔طهٰ کے اس قدر مطمئین انداز اسے سلگانے لگے تھے ۔
کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا ۔انھیں وہاں آئے دو ہفتے ہونے کو آئے تھے ۔اس چھوٹے سے فلیٹ میں ہمہ وقت اداسياں رقص کرتی تھیں ۔۔۔خاموشياں گونجا کرتی تھیں مگر وہ دو نفوس وہاں ہو کر بھی ایک دوسرے کے لئے وہاں نہیں تھے ۔
ٹانگیں نیچے کی جانب لٹکائے ، دونوں ہتھیلیوں کو بیڈ پر سیدھا ٹکائے وہ ساکت و جامد نظروں سے باہر صوفے پر بیٹھے طهٰ ابراھیم کو دیکھ رہی تھی جو اپنے زانوں پر رکھے لیپ ٹاپ کی جلتی سكرین پر نظریں گاڑھے ہوئے تھا ۔
اسکی آنکھوں میں ناچتی وحشت اسکے اندرونی انتشار و خلشار کی غماز تھی ۔
خود پر مرکوز اسکی نگاہوں سے بے خبر طهٰ ابراھیم نے لیپ ٹاپ بند کرتے سامنے ٹیبل پر رکھا اور اٹھ کر کمرے کی جانب رخ کیا تھا ۔دروازے سے داخل ہوتے اسکی نگاہ اس پر پڑی تھی ۔اسے اپنی طرف عجیب نظروں سے دیکھتے وہ لحظہ بھر کو ٹھٹکا تھا ۔خلاف معمول آج اسے دیکھ کر اس نے نا گواریت سے نظروں کو پھیرا نہیں تھا ۔اسکے دیکھنے پر بھی وہ ہنوز اس کو دیکھتی رہی تو چند لمحوں کے توقف سے سر کو خفیف سا جھٹک کر وہ الماری سے اپنے کپڑے نکال واشروم کی جانب بڑھ گیا تھا ۔تھوڑی دیر بعد وہ واپس آیا تو وہ اب بھی یوں ہی بیٹھی دروازے میں اسکی چھوڑی جگہ کو گھور رہی تھی ۔قدم قدم چل کر اسکی پشت پر نا سمجھی سے نظریں ٹکائے وہ دوسری جانب سے سرہانہ اٹھا کر باہر نکل گیا تھا ۔
اور بس یہی اسکے ضبط کی آخری حد ٹھہری تھی ۔
بستر کی چادر کو دونوں ہاتھوں کی مٹھیوں میں بھینچ کر آزاد چھوڑتے وہ بجلی کی سی تیزی سے اٹھی اور باہر صوفے پر سرہانہ درست کر کے لیٹتے طهٰ کے سر پر جا پہنچی تھی ۔اسے اس طرح دیکھ مبہم سے انداز میں ہاتھ روک وہ بھی اٹھ کر ٹانگیں نیچے کرتے بیٹھ سوالیہ نظروں سے اسکی جانب دیکھنے لگا تھا ۔
معمول سے ہٹ کر سرخ ہوئی رنگت لئے وہ جبڑے بھینچے ہوئے تھی ۔اور پھر وہ پھٹ پڑی تھی ۔آتش فشاں باہر کا راستہ دیکھ چکا تھا ۔
“کیوں ؟۔۔۔۔کیوں کر رہے ہیں ایسا اب ؟۔یہ ۔۔۔۔یہ سب ڈھونگ رچانے کی کیا ضرورت ہے اب آپ کو ؟”۔اپنی سرد مہر سرخی مائل نم آنکھیں اسکے چہرے کے خدو خال میں گاڑھے وہ آہستہ آواز میں غرائی تھی ۔ہاتھ کا اشارہ صوفے کی جانب تھا ۔جس کے ساتھ ہی وہ ذرا بھر جھک کر سر ہانہ اچکتے نیچے فرش پر پٹخ چکی تھی ۔طهٰ پوری آنکھیں کھولے حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا ۔
“اب تو اس ڈرامے کی ضرورت نہیں ہے آپ کو ۔جو چاہے کریں کوئی پوچھنے والا نہیں ۔۔۔کوئی روکنے والا نہیں ۔کوئی روک بھی کیسے سکتا ہے شوہر ہونے کا سرٹیفیکیٹ جو مل گیا ہے ۔کل مختار ہیں تو کریں اپنی حسرتیں پوری “۔استہزائیہ انداز میں کھوکھلی سی ہنسی ہنستے اذیت کی انتہا کو چھو تے وہ اپنی چادر نوچنے کے انداز میں اتار زمین پر پھینک چکی تھی ۔آنکھوں سے متواتر نمکین پانی جاری تھا ۔ملگجے سے تین دن سے پہن رکھے کپڑوں اور الجھے بکھرے چوٹی سے نکلے بالوں کے ساتھ وہ کسی نوحے کا سا منظر پیش کرتی تھی ۔اسکے الفاظ سے زیادہ اسکی حرکت نے اسکو دنگ کیا تھا ۔وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔جسکے ہوش سنبھالنے کے بعد اسکے سر کا ایک بال تک نہ دیکھا تھا ۔آج اسے یوں خود کو پیش کرتے دیکھ وہ ششدر ہی تو رہ گیا تھا ۔اور اسکا یہی رد عمل ہانی کو اور بھی انگاروں پر لٹا گیا تھا ۔ہونٹوں پر تمسخر اڑاتی اک زخمی سی مسکان لئے اس نے بے دردی سے اپنے آنسوؤں سے تر ہوئے گال رگڑ ڈالے ۔
“ایسے کیا دیکھ رہے ہیں ؟۔یہی تو چاہتے تھے آپ ۔اس رات یہی سب تو کرنے آئے تھے ۔پھر اب کیوں فرشتہ بن رہے ہیں ۔کیا ثابت کرنا چاہ رہے ہیں بہت معصوم ہیں آپ ؟۔بہت پاکباز ۔۔۔۔۔نکاح میں ہوتے ہوئے بھی مجھے ہاتھ تک نہیں لگایا ۔۔۔۔یا پھر اپنے کیے کا کفاره ادا کر رہے ہیں ۔بولئیے ۔بتائیے نا چپ کیوں ہیں ۔آپ کے پاس تو ہمیشہ سے میرے ہر سوال کا جواب موجود رہتا تھا اب کیوں خاموش ہیں ؟”۔سفاک بنی وہ نجانے اسکو اذیت سے دوچار کرنا چاہ رہی تھی یا خود اذیتی کی انتہا پر تھی اسے دیکھ کر اندازہ لگانا مشکل تھا ۔ہر طرح کی لرزش،آنسوؤں کی نمی سے پاک آواز میں کٹھور پن لئے بولتے بولتے آخر میں وہ چینخی تھی ۔پچھلے اٹھارہ دنوں میں وہ اتنا رو چکی تھی کہ گلا بیٹھ گیا تھا ۔اب بھی اونچا بولنے پر گلے میں خراش پڑتی محسوس ہوئی تھی ۔مگر پرواہ کسے تھی ۔
طهٰ کی نظریں اسکے سراپے کو یوں بے پردہ دیکھ آپ ہی آپ جھک سی گئی تھیں ۔اس کا درد اسکی کسک تو آج صحیح معنوں میں محسوس ہوئی تھی ۔وہ تو اپنے زخموں کو رو رہا تھا ۔اسکے رستے گھاؤ تو آج دکھائی دیے تھے ۔
“کچھ تو کہیں ۔کیوں کیا میرے ساتھ ایسا ۔میں تو آپ کی گڑیا تھی نا ۔یہی کہا کرتے تھے نا آپ ۔تو کیا سچ میں کانچ کی گڑیا سمجھ بیٹھے تھے جسے توڑنے چلے تھے “۔ہانپتے وجود کے ساتھ اس نے لرزتے ہاتھ سے اپنی پیشانی کو چھوا تھا ۔ملتجی لہجے میں کوئی مان تھا جو ٹوٹ کر بکھرا اسکی آواز کو آخر میں گلوگیر کر گیا تھا ۔سبھی الفاظ ختم ہو گئے تھے ۔سارا غبار باہر نکل چکا تھا ۔اب خالی پن تھا جو اسے اور بھی پھوٹ پھوٹ کر رونے پر مجبور کر رہا تھا ۔طهٰ ابراھیم بت بن گیا تھا ۔فرش پر جھکی نظریں پتھرائی ہوئی سی تھیں ۔وہ خالی ہاتھ بیٹھا تھا ۔ان سوالوں کا کوئی جواب اس کے پاس نہیں تھا ۔کوئی تسلی نہیں تھی کوئی دلاسا نہیں تھا ۔اپنے کردار کی کوئی ایک گواہی بھی اسکے پاس نہیں تھی ۔اور گواہی دینی بھی کسے تھی ؟۔جو باب بند ہو چکا وہ اب کبھی نہیں کھلنے والا تھا ۔وہ کھولنا چاہتا بھی نہیں تھا ۔
نظر اٹھا کر اسکو دیکھا تھا جو اب دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپائے روئے جا رہی تھی ۔وہ اپنی جگہ سے اٹھا تھا ۔فقط دو قدم کا فاصلہ تھا جسے پاٹتے ہوئے اسکے وجود میں طویل مسافتوں کی سی تهكن در آئی تھی ۔سر جھکا کر اس نے اسے دیکھا تھا جو بمشکل اسکے سینے تک آتی تھی وہ سچ میں کانچ کی گڑیا تھی اور صد افسوس وہ ٹوٹ کر کرچی کرچی ہو گئی تھی جسکا کرب اس وقت طهٰ کے چہرے پر رقم تھا ۔اسکے لرزتے پر حدت وجود کے گرد اپنی بازوؤں کا حصار باندھا تو یوں لگا جیسے جلتے انگاروں کو چھو لیا ہو ۔وہ بخار میں تپ رہی تھی ۔طهٰ کے دل میں اس کے لئے ہمدردی کے ساتھ ساتھ ترحم بھی در آیا تھا ۔اور ہانی ۔۔۔۔اسکے اندر اتنی سکت بھی باقی نہیں تھی کہ اسکے ہاتھ جھٹک سکتی ۔وہ تو ہمیشہ سے سہاروں کی محتاج رہی تھی ۔اب بھی ایک سہارے کی ہی متلاشی تھی پھر چاہے وہ سہارا طهٰ ابراھیم کا ہی کیوں نہ ہوتا جو اسے اس حال تک لانے کا ذمہ دار تھا ۔اسکے سر پر ٹھوڑی ٹکائے وہ نیم سرگو شی نما آواز میں کہہ رہا تھا ۔
“میں نے کبھی نہیں سوچا تھا ہانی میں تمہارے لئے اس درجے اذیت کا باعث بن جاؤں گا ۔یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے ۔تم بے قصور تھی ۔تمہارے ساتھ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا ۔تم تو معصوم تھی یہ سب میرے حصے کی تکلیفیں تھیں تم بے وجہ حصے دار بنا دی گئی ہانی “۔
اسکی آنکھوں کے گوشوں پر سرخ گلال سا اترتا چلا گیا تھا ۔ضبط کی حدیں بھی بڑی دشوار ہوتی ہیں ۔آنسو پینا بھی ایک دردناک تجربے جیسا تھا وہ آنسو جو آنکھ کی پتلی میں برف سے منجمد ہو جاتے ہیں وہ دل کی بستی میں قہر بن کر ٹوٹتے ہیں اور کسی کو خبر بھی نہیں ہو پاتی ۔
ہانی اس کے شانے پر رکھے سر کو نفی میں ہلا رہی تھی ۔
“میں آپ کا یہ ظلم کبھی نہیں بھولوں گی طهٰ ۔آپ نے مجھ سے میرے چند گنے چنے رشتے چھین لئے ۔میں تو پہلے ہی خرماں نصیب تھی ایک عزت ہی تو تھی پاس ۔بے آبرو کر کے رکھ دیا آپ نے مجھے ۔مجھ سے میرا سب سے اچھا دوست چھین لیا آپ نے ۔آپ میرے آئیڈیل تھے مجھے آپ جیسا بننا تھا ۔مگر اب مجھے آپ سمیت اس لفظ سے نفرت سی ہو گئی ہے “۔وہ سسک رہی تھی ،بیٹھی ہوئی گیلی آواز میں اس کے قصور گنوا رہی تھی ،اسکی خطاؤں کو اسکے روبرو لا کھڑا کر رہی تھی ۔اس سے کھلے عام نفرت کا اظہار کر رہی تھی ۔
مگر اس سب کے باوجود نہ تو اس نے اسکا ہاتھ جھٹکا تھا ،نہ اس سے دوری اختیار کرنے کی سعی کی تھی ،اسکی آنکھوں سے جاری گرم سیال مادہ اب بھی اسکی شرٹ کو تر کر رہا تھا ۔
کچھ پل گزرے تھے ،کچھ ساعتیں خاموشی کی نذر ہوئی تھیں ۔الفاظ کا بہاؤ رک سا گیا تھا ۔فضا میں گھمبیر خاموشیوں کی آہٹیں سرسراتی تھیں ۔
وہ بہت سا رو چکی تھی ۔آنکھوں کی کالی گہری جھیلیں خشک ہونے لگی تھیں ۔گلے میں درد سا محسوس ہوا تو رفتہ رفتہ پورے وجود میں اترتی درد کی ٹھیسیں بھی اپنا احساس دلانے لگی تھیں ۔سانسوں کی الجھی ڈور کے بیچ اسکی ٹانگیں بے جان ہوتی چلی گئیں تو وہ پورے وزن سے اسکی طرف لڑھک سی آتی درمیانی فاصلہ پاٹ گئی تھی ۔
طهٰ نے اس کے گرد باندھے حصار کو مضبوط کرتے اسکو گرنے سے بچایا تھا ۔کچھ دیر بعد وہ بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی ۔بخار اور نقاہت کے باعث حسیات پوری طرح بیدار نہیں تھیں مگر اس کی موجودگی سے وہ با خبر تھی جو اب اسکے ماتھے پر ٹھنڈی پٹياں رکھ رہا تھا ۔اسکے ٹھنڈے ہاتھ کا لمس ہانی نے اپنی گردن پر بھی محسوس کیا تھا وہ شاید بخار کی شدت جانچ رہا تھا ۔
اب وہ اسکے سامنے بیٹھا اسکی کمر کے پیچھے تکیہ ٹھیک کرتے اسکو بٹھا رہا تھا ۔نیم گرم دودھ کے ساتھ بمشکل اسکو ایک سلائس کھلاتے اسکو بخار کی دو ٹیبلٹس کھلائی تھیں ۔واپس لٹا کر لحاف درست کرتے وہ سیدھا ہوا تھا ۔متورم آنکھیں اور ستے ہوئے چہرے کے ساتھ الجھے بال لئے وہ ہوش و حواس سے بیگانگی لئے ہوئے تھی ۔نیم بے ہوشی میں وہ اب بھی کچھ بڑ بڑا رہی تھی مگر وہ سمجھنے سے قاصر رہا ۔
وہ ایک قدرے چھوٹے سائز کا کمرہ تھا جس کے وسط میں ایک ڈبل بیڈ رکھا ہوا تھاجو کہ خود بھی چوڑائی میں کم ہی تھا ۔ دائیں جانب چھوٹی سی گلاس ونڈو تھی ۔بائیں جانب دو کرسیاں رکھی گئی تھیں اور سامنے والی دیوار میں ایک درمیانے درجے کی الماری نصب تھی ۔جس کے ساتھ ہی باتھ روم کا دروازہ تھا ۔
اس نے آگے بڑھ کر کرسی اٹھائی تھی پھر بیڈ کے پاس رکھتے بیٹھ گیا ۔
وہ غائب دماغی سے اسکا مرجهايا ہوا چہرہ دیکھ رہا تھا ۔آنکھیں نیند سے بوجهل ہو رہی تھیں مگر دماغ سونے سے انکاری تھا ۔گھڑی کی سوئیاں متواتر آگے بڑھتی جاتی تھیں ۔ہانی نے اپنے خشک ہوئے ہونٹوں پر زبان پھیری تھی ساتھ ہی بے چینی سے سر کو دائیں بائیں جنبش دی تو وہ سیدھا ہوتا اٹھ کھڑا ہوا ،اسکی طرف جھک کر اسکے ماتھے پر ہاتھ رکھتے بخار چیک کیا جو اب پہلے سے کم تھا ۔
“ہانی پانی پینا ہے ؟”جھک کر آہستہ سی آواز میں پوچھنے پر اس نے بنا آنکھیں کھولے ہی سر کو اثبات میں ہلایا تھا ۔
“اٹھو یہ پانی پیو “۔سائیڈ ٹیبل سے پانی کا گلاس اٹھائے وہ اب اسکی گردن کے نیچے ہاتھ رکھ اسے اٹھنے میں مدد دے رہا تھا ۔بمشکل بند ہوتی آنکھیں کھول کر اس نے دو گھونٹ پانی حلق سے نیچے انڈیلا تھا ۔
اسکو واپس آرام ده حالت میں لٹاتے اس نے واپس کرسی پر نشت سنبهالتے ہوئے کلائی پر بندھی گھڑی پر نگاہ کی تھی رات کے پونے دو بج رہے تھے ۔کچھ دیر اور وہیں بیٹھ کر وہ اٹھا تھا ۔اسکا ماتھا چھوا جو اب ٹھنڈا پڑا تھا ۔اسکے چہرے پر بھی سکون کی كیفیت آ گئی تھی ۔گہری نیند سوئے وجود کو دیکھ کر وہ خود باہر کی جانب بڑھا ۔کمرے کا دروازہ کھلا تھا ۔صوفے کے پاس نیچے زمین پر دھرے سرہانے کو اٹھا کر جھاڑا، پھر صحیح کر کے رکھتے وہ خود صوفے پر چت لیٹتا دونوں بازو سینے پر رکھے آنکھیں موند گیا تھا ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
اگلی صبح وہ کچن میں سے آتی کسی برتن کی آواز پر گہری نیند سے ہڑبڑا کر اٹھا تھا شاید لاشعوری طور پر وہ اسکی بیماری کو لے کرسوتے ہوئے بھی الرٹ سا تھا ۔ ذرا برابر سر اٹھا کر دیکھا تھا ۔وہ مخصوص انداز میں چادر لپیٹے کچن میں اسکی طرف پیٹھ کیے کھڑی کچھ کر رہی تھی ۔
واپس سے سر تکیے پر ڈال کر وہ کچھ دیر یوں ہی لیٹا رہا ۔دونوں ہاتھوں کو انگلیوں سے آنکھوں پر زور ڈالتے وہ آنکھیں پوری طرح واہ کیے اٹھ کھڑا ہوا ۔اسکا رخ اب کچن کی طرف تھا ۔
“طبیعت ٹھیک نہیں ہے تمہاری تو اٹھ کیوں گئی ؟۔میں ناشتہ بنا لیتا “۔کاؤنٹر سے ٹیک لگائے وہ کھڑا تھا ۔ہانی نے مڑ کر دیکھا تھا ۔بکھرے بالوں اور متفکر چہرے پر رت جگے کی غماز آنکھیں لئے وہ اسے ہی تک رہا تھا ۔یہ وہ شخص تھا جو خود سے کچن میں رکھا کھانا تک لے کر نہیں کھاتا تھا ۔اسے یاد تھا ایک بار وہ کسی کرکٹ ٹورنامنٹ میں گیا تھا رات دیر سے واپسی پر ماموں نے اسے خوب کھری کھری سناتے سختی سے کہا تھا کوئی بھی اسے کھانا تک گرم کر کے نہیں دے گا ۔ممانی دل مسوس کر ره گئیں تھیں ۔انکی حکم عدولی کی جرات تو کسی میں نہیں تھی ۔سب اپنے اپنے کمروں میں دبک گئے تو وہ بھی بنا کھانا کھائے ہی اپنے کمرے میں بند ہو گیا تھا ۔صبح ممانی کے ڈانٹنے پر اس نے ہنس کر کہا تھا اب اتنی محنت کون کرتا کھانا کھانے کے لئے ۔اور آج وہ انسان خود ناشتہ بنانے کا کہہ رہا تھا ۔ آہ یہ یادیں کاش وہ انہیں کہیں دفن کر کے ان پر فاتحہ پڑھ پاتی اور پھر وہ اسکا پیچھا چھوڑ دیتیں ۔۔۔۔
طهٰ اب بھی اسی کو دیکھ رہا تھا ۔وہ رات کی نسبت اب بہتر لگ رہی تھی ۔آٹا فریج سے نکال کر وہ چولہے کے آگے آکر کھڑی ہوئی تھی ۔
“ٹھیک ہوں “۔آرام سے کہتے وہ اسکی طرف دیکھنے سے گریزاں تھی ۔وہ سر ہلا کر واپس مڑ گیا ۔ہانی نے دور جاتے طهٰ کی پشت کو دیکھا تھا ۔رات اسکے اتنا سب کہہ دینے کے بعد بھی وہ چپ رہا تھا ۔اسکی کڑوی کسیلی باتیں بڑے ضبط سے پی بھی گیا تھا۔اس میں اسکا کوئی کمال نہیں تھا یقیناً اسے ایسا ہی کرنا چاہیے تھا ۔وہ قصور وار تھا اس لئے صفائی میں کچھ کہنے کا جواز کھو بیٹھا تھا ۔وہ رو چکی تھی ،چینخ و پکار بھی کر بیٹھی تھی ۔اب اور کچھ باقی نہیں رہا تھا ۔اس لئے خاموش ہو گئی تھی ۔
جب تک اس نے ناشتہ بنایا تھا وہ تیار ہو کر باہر آ چکا تھا ۔ٹیبل پر اسکا ناشتہ ہمیشہ کی طرح رکھا ہوا تھا اور خود وہ معمول کے مطابق اسکے کمرے سے نکلنے کے انتظار میں تھی ۔ادھر اس نے آ کر کرسی سنبھالی ادھر وہ اپنی ناشتے کی ٹرے سمیت کمرے میں گم ہو گئی تھی ۔یہ ایک خاموش معاہدہ کے جیسا تھا ۔جس پر اپنی اپنی جگہ دونوں ہی کاربند تھے ۔
ناشتے سے فراغت کے بعد وہ کمرے کی جانب بڑھا تھا دہلیز پر کھڑے ہوتے اندر جھانکا ،وہ سامنے بیڈ پر آلتی پالتی مارے بیٹھی ناشتہ کر رہی تھی ۔اسکی موجودگی پا کر بھی اسکی طرف متوجہ نہیں ہوئی تھی ۔بے گانگی تھی تو انتہا کی ،کم مائیگی تھی تو اپنے عروج پر ۔طهٰ کے ماتھے پر سلوٹیں سی نمودار ہوئی تھیں بھلا ایسی بے رخی دیکھی ہی کب تھی ۔خود کو یوں نظر انداز کیا جانا اسکو چھبتا تھا ۔مگر وہ برداشت کر رہا تھا ۔اب بھی ضبط کر گیا ۔یہ راہیں خود اسی کی منتخب کردہ تھیں اب پر خار ہوں یا تپتے صحراؤں سی جهلساتی ہوئیں وہ واویلا نہیں کر سکتا تھا ۔
“آفس جانا لازمی ہے ورنہ آف کر لیتا ۔میں نے فضا بھابھی سے کہہ دیا ہے ۔تھوڑی دیر تک وہ آئیں گی تو انکے ساتھ ہوسپٹل چلی جانا “۔آواز کو حتی الامکان نرم رکھتے وہ وضاحت دے رہا تھا حالاںکہ سامنے بیٹھے وجود کو اسکی رتی برابر بھی ضرورت نہیں تھی ۔کہہ کر وہ مڑا ہی تھا جب اسکی آواز اسکے کانوں میں پڑی تھی ۔
“مجھے کہیں نہیں جانا “۔ہاتھ میں تھاما چائے کا کپ وہ ٹرے میں پٹخنے کے سے انداز میں رکھ چکی تھی ۔وہ جب جب اس سے مخاطب ہوتا تھا وہ نئے سرے سے زخم زخم ہونے لگتی تھی ۔دل کے پھپھولے پھر سے رسنے لگتے تھے ۔اور اسکی یہ فکرمندی اسے اب ایک ہی احساس سے ہم آہنگ کرواتی تھی ۔شدید نفرت اور غصہ ۔طهٰ نے پلٹ کر اسے دیکھا تھا جو اب بھی نظریں پھیرے ہوئے تھی ۔قدم قدم چلتا ہوا وہ بیڈ کے قریب آن کھڑا ہوا تھا ۔دونوں ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں ڈالے وہ بغور اسکے تنے چہرے پر پھیلی ناگواری کو دیکھ رہا تھا ۔
“ہانی مجھے سختی پر مجبور مت کرو ۔میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں آخری بار دوہرا رہا ہوں ۔میں نے تمہیں مجبور نہیں کیا تھا میرے ساتھ آنے کے لئے یہ تمہارا اپنا فیصلہ تھا ۔اس لئے اس چار دیواری کے اندر جو مرضی کرو مگر باہر کسی کے بھی سامنے اگر تم نے کوئی تماشہ لگایا تو بہت برا ہوگا “۔ سرد سے انداز میں وہ بے تاثر چہرہ لئے اسکو سمجھا رہا تھا یا دھمکا رہا تھا وہ اندازہ نہیں کر پائی تھی ۔شاکی اور بے یقین نظروں سے اس نے چہرہ اٹھا کر اس بار اسکو دیکھا تھا ۔جس کی آنکھوں میں دبے دبے سے اشتعال کے شعلے لپک رہے تھے ۔پھر اسکے ہونٹوں پر تمسخر زدہ تبسم امڈ آیا ۔
“جو ہو چکا اس سے برا اور کیا ہو گا ؟۔کوئی کسر ره گئی ہے جو پوری کرنی باقی ہے ؟۔یاد کریں طهٰ آپ نے کس طرح میرا تماشا بنا کر رکھ دیا تھا ۔۔۔۔۔۔مگر نہیں آپ کو کیسے یاد آئے گا آپ کے حواس ہی کہاں سلامت تھے اس وقت ۔مگر اب ۔۔۔۔خود کا تماشا بننے کا کس قدر خوف طاری ہے آپ پر “۔زہر خند انداز میں وہ بولی نہیں پھنکاری تھی ۔آواز بھلے نیچی تھی ۔مگر لہجے کی سختی چٹانوں کو مات دے رہی تھی ۔طهٰ بت بنا اسکے بدلے انداز ملاخطہ کر رہا تھا ،اس کی حیرت بجا تھی ۔جس ہانی کو وہ جانتا تھا اسے بولنا آتا ہی کہاں تھا ۔اسکی نرم گوئی اور دھیمے پن کی مثالیں دی جاتی تھیں ۔یہ کڑوے کسیلے انداز تو نئے نئے تھے ۔
“تمہیں جو سمجھنا ہے تم سمجھو ۔مگر اپنی عزت و وقار پر اب میں کوئی سمجھوتہ نہیں کروں گا ۔جتنی ذلت میرے حصے میں نصیب نے لکھی تھی وہ میں جھیل چکا مزید کوئی جگ ہنسائی اپنے تعاقب میں آنے نہیں دوں گا ۔اس لئے انسانوں کی طرح رہو ۔ہمارے آپسی معاملات کسی تیسرے کی نظر میں نہیں آنے چاہیے “۔بدلے میں اس بار وہ بھی تندی پر اتر آیا تھا ۔درشتگی سے کہتا بنا اسکو بولنے کا موقع دیے وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر نکل گیا تھا ۔صبح صبح ہی موڈ کا بیڑا غارت ہو چکا تھا ۔
ہانی نے اس کے جاتے ہی وہ کام کیا تھا جو اسے سب سے اچھا کرنا آتا تھا ۔اور وہ تھا رونا ۔حالانکہ اس نے سوچ لیا تھا وہ اب مزید آنسو نہیں بہائے گی مگر آنسوؤں پر اسکا بس نہ پہلے کبھی چلا تھا نہ اب چل پایا تھا ۔کبھی اسکے رونے پر وہ اسے کتنی دیر نرم لہجے میں سمجھایا کرتا تھا ۔ڈھارس بڑھایا کرتا تھا ۔اسے حالات سے لڑنے ،اور مضبوط بننے کی گھنٹوں نصیحتیں کیا کرتا تھا ۔اور ایسا کرتے وہ کتنا اپنا اپنا لگا کرتا تھا ۔مضبوط سائباں سا ،ہمدرد و مہربان سا ،محفوظ پناہ گاہ سا ۔جیسے وہ ہمیشہ اسکے ساتھ رہنے والا ہو ،اور اب وہ ہمیشہ ساتھ رہنے والا تھا مگر وہ ،وه نہیں رہا تھا ۔طهٰ ابراھیم اب پہلے والا طهٰ ابراھیم نہیں رہا تھا ۔
