Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah e Yaar Teri Musaftein (Episode 05)Part 1,2

Raah e Yaar Teri Musaftein by Umme Abbas

اگلے کچھ دنوں میں نہ صرف اسکی طبیعت سنبھلی تھی بلکہ اس کی صحت پر بھی اچھا اثر پڑا تھا ۔کبھی فضا اسکی طرف آ جاتی تھی تو کبھی وہ اسکی طرف چلی جایا کرتی تھی ۔بعض اوقات تو وہ عارض کو ساتھ لے آیا کرتی تھی جس سے اسکا جی بھی بہل جایا کرتا تھا ۔وقت سست روی سے چلتا جا رہا تھا کم از کم اسے تو ایسا ہی معلوم ہوتا تھا ۔

غیر محسوس انداز میں طهٰ کے سارے کام بھی اسکے ذمہ آ گئے تھے ۔اس دن معمول کے کام نپٹا کر اسکی نگاہ طهٰ کے بیگ پر پڑی تھی جو ابھی تک بیڈ کے نیچے ہی رکھا تھا ۔ہانی نے اسے کھینچ کر باہر نکالا تھا ۔کھول کر دیکھا تو اس میں اسکی کچھ چیزیں اور کپڑے ابھی بھی رکھے تھے ۔وہ یوں ہی انھیں الماری میں سیٹ کرنے لگی تھی جب اسکی نگاہ ایک میرون رنگ کے مخملی لمبے سے کیس پر پڑی تھی ۔وہ اسے بھی اٹھا کر رکھنے ہی والی تھی جب ہاتھ میں اٹھائی اسکی شرٹس کی وجہ سے وہ کیس اسکے ہاتھ سے چھوٹ کر زمین بوس ہوا تھا ۔اس نے جھک کر دیکھا تھا کیس کھلا پڑا تھا اور اس میں سے کوئی چمکدار چیز گر کر بیڈ کے نیچے چلی گئی تھی ۔اسکی شرٹس واپس بیڈ پر رکھتے وہ فرش پر دو زانو بیٹھی تھی پھر دونوں ہاتھ فرش پر ٹیک کر بیڈ کے نیچے جھک کر جھانکا تھا ۔تھوڑے ہی فاصلے پر اسے ایک چین نظر آئی تھی ۔ہاتھ بڑھا کر اسے اٹھاتے وہ سیدھی ہوتی اٹھ کھڑی ہوئی ۔

اسکی ہتھیلی پر وہ نفیس سی سونے کی چین دهری تھی ۔ہانی کی بھولی بھٹکی کوئی یاد جیسے تازہ ہوئی تھی ۔

شام کا وقت تھا وہ گھر واپس آیا تھا جب وہ چائے لے کر اسے دینے آئی تھی ۔کمرے کے کھلے دروازے پر دستک دے کر اسے متوجہ کیا تھا جو رخ دوسری طرف کیے کھڑا تھا ۔گردن موڑ کر اسے دیکھا تھا ۔ ساتھ ہی اسکی طرف مڑتے اپنی مخصوص نرم سی مسکراہٹ لئے اسے دیکھا تھا ۔اسکے دائیں ہاتھ میں کچھ تھا جسے اس نے اپنی مٹھی میں قید کر رکھا تھا ۔

“میں اندر آ جاؤں ؟”۔اسکے پوچھنے پر طهٰ نے اثبات میں سر کو ہلایا تھا ۔

“طهٰ بھائی !آپ کی چائے “۔کمرے میں داخل ہوتے اس سے تھوڑے فاصلے پر کھڑی وہ چائے کا کپ اسکی طرف بڑھاتے بولی تھی ۔

“شکریہ ام ہانی “۔کپ لے کر وہ بیڈ سائیڈ ٹیبل پر رکھتا سیدھا ہوا ۔

“تمہارے پیپرز کیسے ہوئے ؟”۔

“ماشاءالله اچھے ہو گئے ہیں ۔آپ نے اتنی زبردست تیاری جو کروائی تھی “۔چہرے پر بے ریا سی تشکر آمیز مسکان لئے وہ اسے لمحہ بھر کو دیکھتے آنکھیں چراتے بولی تھی ۔اسکی خاصیت تھی وہ کبھی بھی اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بات نہیں کیا کرتی تھی ۔نہ زیادہ دیر نظریں اسکے چہرے پر ٹھہرایا کرتی تھی ۔
“اچھی بات ہے “۔ اس نے سر ہلایا تھا ۔

“میں جاؤں طهٰ بھائی ؟”۔وہ ہمیشہ آنے اور جانے سے پہلے اجازت لیا کرتی تھی ۔اب بھی اسکے پوچھنے پر طهٰ نے اپنی مسکراہٹ روکی ۔

“نہیں “۔اسکے کہنے پر وہ سوالیہ انداز میں اسے دیکھنے لگی تھی ۔

“کوئی کام ہے آپ کو؟ “۔نا سمجھی بھرے بھولپن سے استفار کیا گیا تو طهٰ خفیف سا ہنس دیا تھا ۔جس پر ہانی نے تحیر آمیز انداز میں اسے دیکھا تھا ۔

“کوئی کام نہیں ہے جاؤ ۔اور یہ کیا تم ہر وقت اجازتیں ہی درکار کرتی رہتی ہو ۔تمہاری اپنی مرضی ہے ہانی پوچھا مت کرو کہ اب میں آؤں یا جاؤں ؟”۔ سنجیده ہوتے ہوئے طهٰ نے نرمی سے کہا تو وہ چھینپ سی گئی ۔
ہلکی سی مسکان چہرے پر لئے وہ پلٹی تھی جب طهٰ کی آواز پر ركتی واپس پلٹی ۔

“ہانی !رکو تمہیں کچھ دکھانا ہے “۔وہ خود دو قدم چل کر اسکے قریب آیا تھا ۔پھر ہاتھ سامنے کرتے ہتھیلی پر چمکتی چین سامنے کی تھی ۔ہانی کی نظریں اسکے ہاتھ پر تھیں ۔

“یہ ماہی کا برتھ ڈے گفٹ ۔کیسی ہے ؟”۔اپنے دوسرے ہاتھ کی انگلی اور انگوٹھے کی مدد سے پکڑے اب وہ چین ہوا میں جھولتے اسے دیکھا رہا تھا ۔

“ماشاءالله بہت خوبصورت ہے ۔لیکن ماہی کی برتھ ڈے میں تو ابھی تین ماہ رہتے ہیں “۔ستائش سے چین دیکھتے وہ حیرانگی سے اسکی طرف دیکھ کر بولی ۔
“مجھے اچھی لگی تو لے لی ۔دوں گا تو برتھ ڈے پر ہی ۔اب تم اسے بتانا مت ۔سیکرٹ ہے یہ ہم دونوں کا “۔کہتے ہوئے اب وہ اسے ہدایت دے رہا تھا ۔ہانی نے بھی فوری طور پر سر کو ہاں میں ہلاتے اسکو تسلی کرائی تھی ۔

دروازے پر کھٹکے کی آواز پر وہ چونک کر چین پر سے نظریں ہٹا کر اسکی طرف دیکھنے لگی تھی ۔سامنے بیڈ روم کے دروازے پر ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کیے ،دونوں بازو کہنی تک فولڈ کر رکھے ،ماتھے پر بکھرے بالوں کے ساتھ طهٰ کھڑا تھا۔اسکے پاس ڈبلیکیٹ كیز ہونے کی وجہ اس کے آنے کی خبر ہو بھی نہیں پاتی تھی ۔وہ بھی اسکے ہاتھ میں موجود چین کو دیکھ کر ٹھٹھکا تھا ۔اس سے جڑی یاد کبھی اسکے لئے متاع حیات ہوا کرتی تھی ۔مگر اب ۔۔۔۔۔۔ماضی کی اک تلخ روداد بن کر ره گئی تھی۔محبت کا ایک ایسا پھول جو اسکے گلستاں دل میں کھلا ضرور تھا مگر آہ افسوس وہ اسے اپنی خوشبو سے معطر کرنے کے بجائے کانٹوں سے اسکے جذبات کو لہولہان کر گیا تھا ۔اپنے چہرے کو بے تاثر رکھتے وہ نظریں پھیر گیا تھا ۔ہانی اسے دیکھ کر اپنی جگہ چور سی بن گئی تھی ۔

“اسلام علیکم “۔آہستہ سے سلامتی بھیجتے وہ اندر داخل ہوتے اپنا بیگ میز پر رکھ رہا تھا ۔
“وعلیکم سلام ۔یہ میں آپ کی چیزیں الماری میں سیٹ کر رہی تھی “۔خفت زدہ سی وہ نظریں چراتی صفائی پیش کر گئی تھی ۔چین کو مٹھی میں سمیٹتے ہاتھ پہلو میں گرايا تھا ۔وہ کیا سوچتا ہوگا میں اسکے جانے کے بعد اسکی چیزوں کی تلاشی لیتی پھرتی ھوں ۔اس سوچ کے تحت وہ شرمندہ ہوئی تھی ۔طهٰ مڑ کر اسے دیکھتے اس تک آیا تھا ۔اس سے ذرا فاصلے پر رکتے نظریں اسکے ہاتھ پر تھیں ۔ہانی نے اسے دیکھ کر اپنا ہاتھ سامنے کرتے بند مٹھی کھول دی تھی ۔اسکی شفاف چھوٹی سی ہتھیلی پر وہ چین کچھ اور بھی خوبصورت دکھائی دیتی تھی ۔ہاتھ بڑھا کر انگلیوں کے پوروں سے وہ چین اٹھائی تھی ۔اسکے پوروں کا ہلکا سالمس پا کر ہی وہ سرعت سے ہاتھ پیچھے کھینچ گئی تھی ۔اپنی ہی كیفیات کے زیر اثر طهٰ اسکی طرف متوجہ نہیں تھا ۔

ہانی اسکے سامنے سے ہٹ جانا چاہتی تھی مگر وہ ایسا کر نہیں پائی تھی ۔طهٰ ابراھیم نے اپنے مضبوط ہاتھ اسکے شانوں پر جما کر اسکے آگے بڑھنے کی راہیں مسدود کر دی تھیں ۔وہ یوں سامنے جم کر کھڑا تھاجس کے بعد اسکی سبھی راہوں کا انت اس پر ہوتا تھا ۔ہر سفر کا اک حاصل ہے ،ہر راستے کی اک منزل ہے ۔اور ام ہانی کی منزل طهٰ ابراھیم تھا ۔یہ ازل سے طے شدہ تھا ۔دور کہیں آسمانوں میں ،لوح قلم کی کتابوں میں ۔اسکی صبیح پیشانی کی روشن لکیروں میں ۔بس وہ ھی انجان تھی ،وہی راستے میں الجھی ہوئی تھی ،ام ہانی ابھی بھی محو سفر تھی ۔

حیرت زدہ آنکھوں سے چہرہ اٹھا کر سامنے کھڑے شخص کو دیکھا تھا ۔وہ سپاٹ چہرہ لئے کھڑا تھا مگر ان آنکھوں کا تاثر نرم پڑ گیا تھا ،مدھم سی روشنی لئے ،اندھیروں کو مات دیتی ہوئیں ۔

اور اسکے اگلے اقدام نے اسے اور بھی حیران کیا تھا ۔
اسکے شا نوں سے ہاتھ ہٹا کر اب وہ چین اسکے سامنے کیے اسکا لاک کھول رہا تھا ۔ہانی کی سانسوں کی رفتار دھیمی پڑتی گئی ۔جس گھڑی ذرا سا جھک کر طهٰ ابراھیم نے اس چین کو اسکے گلے کی زینت بنایا تھا ہانی کو اپنی سانس ساکن ہوتی محسوس ہوئی تھی ۔بے یقین نظروں سے سامنے کھڑے شخص کا چہرہ دیکھا تھا جہان کی تھکن ان چند لمحوں میں دو چند ہوئی تھی ۔ابھی دروازے میں ایستاده وہ اس قدر تھکا ہارا تو ہرگز نہیں تھا ۔چند پلوں کی مسافتیں اسکے چہرے کو دھواں دھواں کرنے لگی تھیں ۔اسکے وجیہہ نقوش میں مژدگی رچنے بسنے لگی تھی ۔

“یہ تو ماہی کی تھی “۔اس کے ہونٹوں نے ہلکے سروں میں جنبش کی تھی ۔لاک لگا کر ہاتھ پیچھے کرتے وہ اب بھی اسکی گردن کو دیکھ رہا تھا ،یا پھر اسکے گرد لپٹی چین کو وہ اندازہ نہیں کر پائی ۔

“یہ میری ہونے والی” بیوی “کی تھی “۔

“لیکن وہ میں نہیں تھی “۔دانتوں کو پیس کر دبا دبا سا احتجاج کیا گیا ۔

“تم میری بیوی ہو ام ہانی ۔تھی اور ہے میں ایک بڑی واضح لكیر ہوتی ہے جو ماضی کو حال اور مستقبل سے الگ کرتی ہے ۔میں اس حد بندی کے اس پار کھڑا ھوں ۔میرا حال تم ہو اور مستقبل تم سے جڑا ہے ۔ماضی میں جینے والے اپنے حال کو بے حال کرتے مستقبل کو روند دیتے ہیں ۔میں ایسا کچھ نہیں کروں گا ۔اس لئے جب میری بیوی تم ہو تو مجھ سمیت مجھ سے وابستہ ہر چیز بھی تمہاری ہوئی “۔

اسکے مضبوط ٹھہرے ہوئے لب و لہجے میں کہے الفاظ پر ہانی ششدر سی اسے تکے جا رہی تھی ۔اسکی نگاہیں اب بھی اسکے چہرے تک کا سفر طے نہیں کر پائی تھیں ۔شاید وہ ابھی ایسا چاہتا بھی نہیں تھا ۔نصیب کا لکھا تبدیل ہوا تھا چہرے بدلے تھے ،گمان کی حدوں سے بہت دور جو ہو چکا اسکا یقین وہ اسکے ساتھ ساتھ خود کو بھی دلا رہا تھا ۔

ہانی پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے تھے ۔اتنی جلدی کوئی اس حد تک کیسے بدل سکتا ہے ۔اسکی ماہی کے لئے دیوانگی کی وہ خود بھی تو گواہ تھی ۔وہ خوشی جو اسے دیکھ کر اسکی آنکھوں سے پھوٹتی تھی وہ اس لمحے تو کہیں نہیں تھی ۔وہ شخص جو اسکے سامنے کھڑا اس کو اپنے سمیت خود سے منسلک ہر چیز اسے سونپنے کا دعویدار بنا کھڑا تھا ،اسکے دل کے تہہ خانوں میں کوئی اور بستا تھا ،اسکے جذبات و احساسات کی ڈوری کسی اور سے بندهی ہوئی تھی ۔

“وہ ماہی تھیں طهٰ ۔آپ اتنی جلدی انھیں بھول بھی کیسے سکتے ہیں ؟”۔اسکی بھیگی آنکھوں میں شکوے سے تیر رہے تھے ۔آواز کمزور تھی مگر شاکی انداز میں بڑا واضح احتجاج کیا گیا ۔طهٰ کی نظریں اسکے چہرے تک گئیں تھیں ۔ان آنکھوں کی نرمياں مقفود ہوتی چلی گئیں ۔

“میں پیچھے ره جانے والا ہر رشتہ ،اس سے جڑی ہر بات ہر احساس بھول گیا ھوں ہانی ۔تم بار بار مجھے یاد دلا نے کی کوشش میں اپنی توانائیاں صرف مت کرو “۔اسکا گال ہولے سے تهپتهپائے ،چہرے پر اک جتاتی ہوئی مسکراہٹ سجا کر وہ تنبیہی نظروں سے اسے دیکھتا دو ٹوک انداز میں کہہ گیا تھا ۔
اسکے پاس سے ہٹتے وہ کمرے سے باہر نکل گیا تھا ۔ہانی ڈبڈبائی آنکھوں سے دور ہوتی اسکی چوڑی پشت کو دیکھتی ره گئی ۔

. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .

وقت کی خاصیت ہے وہ کبھی ركتا نہیں ہے ۔لمحوں کا کام ہے گزر جانا ۔دنوں کی قسمت میں لکھا ہے پلٹ پلٹ کر آنا ۔صرف وہی واپس نہیں آتے جو چھوڑ جاتے ہیں ۔مگر اک موہوم سی امید باقی رہتی ہے ۔ شاید وہ بھی لوٹ آئیں گے ۔وہ اپنے جو کہیں کھو گئے ہیں ۔جو موسم کی سختی پر آشیانے کی راہ بھول گئے ہیں ۔

موسم گل کی آمد ہے ،امید کی شاخیں ہری ہیں ۔
وہ پنچھی لوٹ آئے کہیں سے ،بہار یں راہ تکتی ہیں ۔

“بھابھی آپ سے بات کرنی تھی “۔فائزہ کمرے میں بستر کی چادر تبدیل کر رہی تھیں جب آنسہ نے قدم چوکھٹ پر روک کر انکو مخاطب کیا تھا ۔فائزہ نے ہاتھ روک کر گردن موڑتے انکو دیکھا ۔

“آ جاؤ اندر وہاں کیوں رک گئی ہو “۔سرہانہ ٹھیک کر کے رکھتے وہ سیدھی ہوئی تھیں ۔

“بیٹھ جاؤ “۔

بستر پر بیٹھتے فائزہ نے نگاہ آنسہ کے چہرے پر کی تھی ۔جو پریشان سی نظر آتی تھیں ۔کچھ دیر انکے بولنے کا انتظار کیا مگر پھر خموشی پا کر خود ہی بول اٹھیں ۔

“کیا بات ہے آنسہ کوئی پریشانی ہے ؟”۔انکے کندھے پر ہاتھ رکھتے متانت سے پوچھا تو آنسہ نے سر کو نفی میں ہلایا ۔

“ایسی تو کوئی بات نہیں ہے بھابھی ۔بس جو بات کہنے جا رہی ہوں سمجھ نہیں آ رہا کیسے کہوں؟۔انسان بھی کیا کیا سوچیں پالے بیٹھا ہوتا ہے اور نصیب کیسے کیسے کھیل کھیل جاتا ہے “۔ افسردگی سے انکی جانب دیکھتے وہ کہہ رہی تھیں ۔فائزہ نے اک مجروح سا تبسم ہونٹوں پر لئے گردن کو جنبش دی ۔

“اسی کا نام زندگی ہے ۔یہاں سب انسان کے حسب منشاء ہونے لگے تو جنت کی طلب کس کو رہے ۔خیر تم بے فکر ہو کر کہو جو بات کہنے آئی ہو “۔انھوں نے ایک گہرا تهكن زدہ سانس خارج کیا تھا ۔آنسہ تذبذب کا شکار نظر آتی تھیں ۔

“بھابھی وہ ماہی کی دوست ہے نشاء اسکی کال آئی تھی ۔وہ اپنے كسی کزن کے رشتے کے لئے آنا چاہ رہے ہیں “۔دهیمی آواز میں کہتے وہ نظریں جھکا گئیں تھیں ۔انکے شانے پر رکھا فائزہ کا ہاتھ بے جان سا ہوتا آہستگی سے پہلو میں گرا تھا ۔دل سے اک ٹھیس سی اٹھی تھی ۔

“میں جانتی ھوں آپ کو تکلیف ہوئی ہوگی ۔مجھے بھی بہت دکھ ہے بھابھی ۔مگر کیا کریں زندگی رکنے کا نام نہیں ہے ۔آج نہیں تو کل سب کو آگے بڑھنا ہی ہے ۔فیضان کہہ رہے تھے بھائی صاحب جلد از جلد ماہی کے فرض سے سبکدوش ہونا چاہتے ہیں ۔اور اب میں بھی یہی چاہتی ھوں ۔دن بدن گھلتی جا رہی ہے میری بچی “۔انکی آواز بھیگی ہوئی سی معلوم ہوتی تھی ۔فائزہ نے انکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے تهپتهپایا تھا ۔

“صحیح کہہ رہی ہو ۔پتہ ہے کیا ہم ماں باپ ایک غلطی کر دیتے ہیں ۔بچپن میں ہی اپنی خواہشوں کو بچوں کے ذہنوں میں انڈیل دیتے ہیں ۔بچپن میں رشتے طے نہیں کرنے چاہیے اور اگر کر بھی دیں تو بچوں کو نہیں بتانا چاہیے ۔ہم انھیں باندھ دیتے ہیں مگر نصیب کی ڈور انھیں کہاں لے کر چلی جائے یہ تو صرف اللّه ہی جانتا ہے۔پھر وہ نہ ادھر کے رہتے ہیں نہ ادھر کے “۔بھاری ہوتے دل کے ساتھ وہ بڑی مشکل سے آنسو روکے کہہ رہی تھیں ۔طهٰ کی ماہی کے لئے محبت انکی نظروں سے ڈھکی چھپی تو نہیں تھی ۔کب سوچا تھا جسے ہمیشہ اس کے ساتھ دیکھنے کی چاہ کی تھی کبھی یوں اسکو کسی اور کے ساتھ بھی دیکھنا پڑے گا ۔

“ابراھیم صاحب اور فیضان آتے ہیں تو صلح مشورہ کر لیتے ہیں پھر انکو بلا لیں گے دیکھنے میں کیا حرج ہے ۔انشاء اللّه سب بہتر ہوگا “۔بدقت مسکرا کر کہا تو آنسہ بھی نم آنکھوں سے مسکرا دیں ۔

Part 2

رات کا نجانے کون سا پہر تھا جب کسی غیر مانوس سی آواز پر اسکی نیند کھلی تھی ۔کمرے میں پھیلی روشنی میں اس نے مندی مندی آنکھیں کھول کر دیکھا تھا ۔کھڑکی سے چھم چھم کی آواز آ رہی تھی ۔باہر تیز بارش برس رہی تھی جس کے ساتھ وقفے وقفے سے بادلوں کے دهاڑنے کی گونج بھی سنائی دیتی تھی ۔
ہانی نے خشک پڑے ہونٹوں پر زبان پھیرتے انھیں تر کرنے کی کوشش کی تھی ۔تیز ہواؤں کی زد میں آئے بارش کے قطرے کھڑکی کے گلاس سے سر پٹختے اس رات کی سیاہی بھری ہولناکی میں اضافہ کر رہے تھے ۔كمبل میں دبک کر اس نے آنکھوں کو سختی سے بند کیا تھا جبھی بادل یک بار زور سے گرجے تھے اور اس کے ساتھ ہی پورے کمرے میں اندھیرا پھیل گیا تھا۔گهپ اندھیرا چھا جانے کے باعث کھڑکی کے پردے کو چیرتی کوند کر آتی بجلی کی شعاعیں اسکی سراسیمگی میں اضافہ کر گئیں ۔غیر ارادی طور پر اک دبی سی چینخ اسکے لبوں پر آ کر ٹھہری تھی ۔

سرعت سے بیڈ سائیڈ ٹیبل پر ہاتھ مارتے ہوئے اس نے موبائل تلاشا تھا اور اسکی سکرین روشن کی ۔بے جان ہوتی انگلیوں کے ساتھ موبائل ٹارچ جلاتے وہ اٹھ کر باہر کی جانب لپکی تھی ۔بنا دوپٹے کے بھاگنے کے انداز میں وہ سوئے ہوئے طهٰ کے بالکل قریب جا کھڑی ہوئی تھی۔ٹارچ کی روشنی اسکے وجود کو واضح کر رہی تھی ۔چادر اوڑھ کر چت لیٹے اس نے ایک بازو آنکھوں پر جبکہ دوسرا ہاتھ سینے پر رکھے ہونٹوں کو باہم پیوست کیے ہوئے تھا ۔اسے دیکھ کر دل کی بدکتی ہوئی دھڑکنوں کو ذرا بھر قرار آیا تھا ۔

“طهٰ ۔۔۔”۔آگے پیچھے دیکھتے اسے خوف کے سائے میں جھولتی آواز سے پکارا تھا ۔تاریکی میں ڈوبا پورا فلیٹ اسے رلانے کو کافی تھا ۔وہ شاید تھکا ہوا زیادہ تھا ۔اسکی پکار کا مطلق اثر نہ ہوا ۔

“طهٰ ۔”اس بار پکار کے ساتھ تھوڑا سا جھکتے اسکے بازو کو ہلایا تھا ۔بازو آنکھوں سے ہٹائے گہری نیند سے جاگنے کے باعث ہربڑا کر وہ اٹھا تھا ۔ٹارچ کی روشنی سیدھا اسکے چہرے پر عکس بنا رہی تھی نیند کے باعث آنکھیں پہلے ہی نہیں کھل رہی تھیں رہی کسر ہانی نے نکال دی تھی جو ابھی بھی اسکے چہرے پر ہی نشانہ تاکے ہوئے تھی ۔بڑی مشکل سے آنکھیں کھولتا اسے دیکھ کر وہ اٹھ بیٹھا تھا ۔گردن موڑ کر دیکھا تھا سامنے وہ نیم تاریکی میں کھڑی تھی ۔وہ اندھیرے میں خوفزدہ ہو جایا کرتی تھی وہ جانتا تھا ۔تبھی وہ لیونگ ایریا کی لائٹ بھی رات کو جلتی رہنے دیا کرتا تھا حالانکہ یوں روشنی میں سونا اسکے لئے دشوار تھا مگر اسکے خوف کے خیال سے وہ اپنی بے آرامی کو پس پشت ڈال دیا کرتا تھا ۔اور اب تو اسے بھی عادت سی ہوگئی تھی روشنی میں سونے کی ۔

“کیا ہوا ؟”۔ذرا توقف کے بعد چہرے پر ہاتھ پهیرتے وہ نیند کے باعث معمول سے تھوڑی اور بھی بھاری ہوئی آواز میں بولا تھا ۔ہانی کو اپنے ارد گرد حصار بنائے خوف کے بڑے بڑے مینار مسمار ہوتے محسوس ہوئے تھے ۔

“لائٹ چلی گئی ہے “۔مجرمانہ سے انداز میں چہرہ جھکا کر کہا گیا تھا جیسے یہ اسکی غلطی ہو ۔وہاں بارش برسنے کی آواز نہیں آ رہی تھی مگر بجلی کی لپک کمرے سے وہاں تک کا بھی سفر طے کر رہی تھی ۔
کچھ دیر وہ یوں ہی بیٹھا سر کے بالوں میں ہاتھ پھیرتا رہا تھا ۔آنکھیں جهپک کر نیند کو بهگاتے اسکو دیکھا تھا جو اب بھی اسی انداز میں اسکے سر پر کھڑی اسے دیکھ رہی تھی ۔

“یہ لائٹ تو پیچھے کرو ۔سیدھی میری آنکھوں میں لگ رہی ہے “۔بے زار سی شکل بناتا اپنا ہاتھ تیز روشنی اور آنکھوں کے درمیاں حائل کیے وہ بولا تو ہانی نے خجل ہوتے فوری طور پر ٹارچ کا زاویہ بدلا تھا ۔وہ تو روشنی پوری طرح اس پر فوکس کیے خود کو اس کے ہونے کی تسلی دے رہی تھی ۔

پھر خود ہی موبائل کو الٹ کر پیچھے میز پر رکھا تھا جس کے ساتھ ہی اوپر چھت سے ٹکراتی روشنی پورے لیونگ ایریا میں ملگجا سا اجالا بکھیرتی چلی تھی ۔سیدھا ہوتے اسے پہلی بار اپنے دوپٹے کے نہ ہونے کا احساس ہوا تھا ۔

شرم سے دہکتے رخسار لئے وہ سرعت سے وہیں نیچے بچھی قالین پر بیٹھ گئی تھی ۔دونوں گھٹنے جوڑ کر سینے سے لگائے وہ انکے گرد اپنے دونوں بازو باندھتی پیچھے میز سے ٹیک لگا چکی تھی ۔ہاتھ منہ کے آگے رکھتے جمائی روک کر ذرا سا پہلو بدلتے وہ اسکی طرف مڑا تو چونک کر سیدھا ہوا ۔

“اس طرح کیوں بیٹھی ہو ؟۔کمرے میں جا کر سو جاؤ میں جاگ رہا ھوں “۔اچنبھے سے اسے دیکھتا وہ ایک بازو صوفے کی پشت پر دراز کیے ہوئے تھا ۔دونوں ٹانگیں اب بھی چادر میں گم صوفے کے اوپر ھی تھیں ۔

“نہیں میں یہیں ٹھیک ھوں ۔لائٹ آئے گی تو چلی جاؤں گی “۔اسکی طرف دیکھتے سرعت سے کہتے آخر میں ملتجی انداز میں وہ منمنائی تھی ۔طهٰ کے چہرے پر چھائی نیند خراب ہونے کی ساری بے زاری اڑنچھو ہوئی تھی ۔بہت وقت کے بعد پرانی ہانی کی ایک جهلک دیکھنے کو ملی تھی ۔نرم خو ،موم کی بنی ہوئی ،جلدی سہم جانے والی ۔ورنہ تو اب وہ زیادہ تر شعله جواله ہی بنی رہتی تھی ۔

“تم اب بھی اندھیرے سے ڈرتی ہو ؟”۔دوبارہ سے صوفے پر دراز ہوتے وہ اوپر چھت کو دیکھتے نیند بهگانے کی غرض سے بولا تھا ۔بات برائے بات ۔اب وہ پہلے سے نہیں رہے تھے جو وہ اسے بنا سوچے سمجھے کوئی بھی بات کہہ دیتا ۔اب بات کرنے کے لئے جوازوں کی ضرورت پیش آتی تھی ۔

“پہلے اتنا نہیں لگتا تھا ماہی ساتھ ہوتی تھیں ۔یہاں آ کر زیادہ لگنے لگا ہے “۔دائیں طرف پیچھے میز پر رکھے موبائل کی ٹارچ سے پھوٹتی روشنی میں اسکا نیم رخ روشن تھا آدھا چہرہ روشن اور آدھا نیم تاریکی میں ڈوبا ہوا ۔نظریں نیچے زمین پر بچھی ہوئی تھیں ۔
طهٰ نے غیر آرام ده ہوتے ہلکا سا پہلو بدلا ۔یہ حوالہ شاید زندگی بھر اسکا پیچھا نہیں چھوڑنے والا تھا ۔اور ہانی کے ہوتے ہوئے ایسا ممکن بھی نہیں تھا ۔طهٰ کے چہرے کے زاویے بگڑے تھے ۔(یہ لڑکی نہ خود سکوں سے رہے گی نہ مجھے رہنے دے گی )۔

کچھ دیر تک خموشی رہی تو ہانی کو گمان گزرا کہیں وہ پھر سے سو نہ گیا ہو ۔سرعت سے چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا تھا جس کے چہرے کے ایک طرف ھی روشنی پڑ رہی تھی ۔اسکا نیم رخ بڑا واضح تھا صوفے کی بیک پر بھی اسکا ہیولا سا بن رہا تھا ۔وہ آنکھیں پوری طرح سے کھولے اوپر چھت کو گھور رہا تھا ۔وہ کتنی دیر اسے بے خیالی میں دیکھتی رہی تھی ۔اور پھر وہ بے ساختہ اسے پکار اٹھی ۔

“طهٰ “۔اسکی آواز پر وہ گردن موڑ کر اسے دیکھنے لگا تھا ۔اتنی دیر میں پہلی بار اسے بغور دیکھا تھا تو معلوم ہوا تھا وہ بنا دوپٹے کے بیٹھی ہے ۔ہلکے بھورے بالوں کی چند لٹیں کان کے پیچھے سے نکل کر چہرے کے گرد ہاله بنائے ہوئے تھیں ۔رشتہ بدلا تھا تو دیکھنے کا زاویہ بھی بدلنے لگا تھا ۔

“کیا وہ سب سچ تھا ؟”۔اسکی طرف دیکھتے ہوئے وہ نحیف سی آواز میں بولی تھی ۔طهٰ نے ایک ابرو اچکا کر اسے دیکھا ۔کیا اسے ضرورت تھی یہ پوچھنے کی کہ وہ کس بابت سوال کر رہی ہے ۔بلکل نہیں ۔اسکے چہرے پر پھیلتی سیاہی اسے اس سوال کا پس منظر بخوبی بیان کر رہی تھی ۔

“ڈھائی ماہ بعد تمہیں یہ پوچھنے کا خیال آیا ہے ام ہانی ؟”۔واپس نظریں چھت پر گاڑھتے وہ بے تاثر آواز میں دهیما پن لئے بولا ۔

“پہلے پوچھنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی “۔
کروٹ بدل کر طهٰ نے رخ اسکی جانب کیا تھا ۔وہ اس سے فقط دو فٹ کے فاصلے پر بیٹھی اسے ہی تو دیکھ رہی تھی ۔وہ تمسخر آمیز انداز میں ہلکا سا مسکرایا ،ایک عجیب سی زہر زہر ہوئی مسکراہٹ ۔

“اچھا ۔۔۔۔۔۔۔اور اب یہ ضرورت کیوں کر محسوس ہوئی ؟”۔

“طهٰ جانتے ہیں ۔۔۔۔میرے دل کا کوئی ایک گوشہ اب بھی چاہتا ہے یہ سب سچ نہ ہو ۔آپ ایسے نہیں ہیں ۔آپ ایسا کر ہی نہیں سکتے باوجود اس کے کہ سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ۔میں اب اللّه سے دعا نہیں کر پاتی ورنہ میں مانگتی اس سے کہ کاش میں کسی خواب کی سی کیفیت کے زیر اثر ھوں اور ۔۔۔۔۔آنکھیں کھولوں تو یہ خواب اپنی بھیانک صورت کے ساتھ پاش پاش ہو جائے ۔سب پہلے جیسا ہو جائے ۔ہم اپنے گھر پر ھوں ۔جہان آپ کی اور ماہی کی شادی کی تیارياں چل رہی ہیں ۔اور میرا وہ سوٹ بھی سل کر آ گیا ہو جو امی نے کتنے ارمانوں سے میرے لئے بنوایا تھا “۔

چہرے پر بھولی بھٹکی اپنی پہلے سی بے ریا مسکراہٹ لئے ،ٹھوڑی گھٹنے پر رکھے وہ جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھتی اک ٹرانس کی سی كیفیت میں بول رہی تھی ۔طهٰ نے زخم زخم آنکھوں سے اسکے تکلیف میں ڈوبے چہرے کو دیکھا تھا ۔

“تم نے دعا مانگنا چھوڑ دی ہانی ؟”۔اسکی پوری بات پر طهٰ کا ذہن بس اس ایک نقطے پر اٹکا تھا ۔ہانی نے چہرہ اٹھا کر اسے عجیب ترسی ہوئی نگاہوں سے دیکھا تھا ۔پھر کچھ دیر کے وقفے سے اسکے لب ہلے ۔

“مانگی ہی نہیں جاتی ۔میری نمازیں بے روح ہو گئی ہیں طهٰ ۔دل نہیں لگتا اب ہاتھ تو باندھ کر کھڑی ہو جاتی ھوں مگر دل نہیں باندھ پاتی ۔وہ خیالوں کی وادی میں کہیں کا کہیں بھٹکتا رہتا ہے ۔جب دعا مانگنے لگتی ھوں تو بہت سے شکوے دل میں ابھرنے لگتے ہیں ۔میں نے کبھی اللّه کی قائم کی ہوئی حدود سے تجاوز نہیں کیا تھا پھر میرے ساتھ ایسا کیوں ہونے دیا اللّه نے ؟۔ایسے بہت سے سوال مجھے تنگ کرتے ہیں ۔اس لئے میں نے دعا مانگنا ترک کر دی ۔امی کہا کرتی تھیں ۔ام ہانی اللّه سے کب ،کیوں ،کیسے جیسے سوال نہیں کرنے چاہیے ۔نہ ہی اسکے سامنے شکوؤں کا ڈھیر لے کر جانا چاہیے ۔اللّه کے پاس ہمیشہ محبت بھرا صاف شفاف دل لے کر جایا جاتا ہے ۔جو اب میرے پاس نہیں رہا ۔اس میں تو شکایتوں کی میل آ گئی ہے ۔پھر کیسے مانگوں کچھ ۔میری ماں نے اتنی تکلیفوں میں بھی کبھی اللّه سے کوئی شکایت نہیں کی ۔میں کروں گی تو انھیں اللّه کے سامنے شرمسار ہونا پڑے گا نا “۔

پانیوں سے بھری بھوری آنکھوں میں ان دیکھا سا درد تیر رہا تھا ۔اسکی بھیگی سی آواز میں کچھ کھو دینے کا ماتم پنہاں تھا ۔

طهٰ لیٹے سے اٹھ بیٹھا ۔چادر پیچھے کرتے دونوں پیر زمین پر رکھے وہ سرک کر تھوڑا آگے ہوتا بیٹھا تھا یوں کہ اسکی دونوں کہنیاں اسکے رانوں پر جمی ہوئی تھیں اور خود وہ آگے کی طرف تھوڑا جھکا ہوا تھا ۔اسکا پورا چہرہ روشنی کی زد میں آیا روشن ہوتا چلا گیا ۔ماتھے پر الجھے بکھرے بال ہنوز پڑے ہوئے تھے مگر وہاں کوئی شکن نہیں تھی ۔اک متانت تھی ،شفقت تھی ۔

“میری بات سنو ام ہانی !۔زندگی میں کبھی بھی کوئی واقعہ یا انسان اتنا اثر پزیر نہیں ہونا چاہیے کہ وہ تمہارے اور اللّه کے درمیاں حائل ہو کر کھڑا ہو جائے ۔یہ تعلق سب سے مضبوط ہونا چاہیے ۔کسی کے کچھ کہنے یا کرنے سے،کسی کے زندگی میں آنے یا جانے سے اس تعلق پر کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے ۔ تمہاری اللّه سے محبت غیر مشروط ہونی چاہیے ۔یہ نہیں کہ ایسا ہو گا اللّه تو ہی محبت کروں گی آپ سے ۔میری چاہت کے الٹ کچھ ہوا تو آپ سے بات کرنا ترک کر دوں گی آپ کی محبت میرے دل میں کم ہو جائے گی ۔یہ محبت نہ ہوئی پھر تو یہ سودے بازی ہوئی ۔یہ رویے مخلوق سے تو اپنائے جا سکتے ہیں خالق سے نہیں ۔تم جو بھی سمجھو ،گھر والے جو بھی مانیں ۔میں جو ہو چکا اس پر کبھی نہ تو کوئی وضاحت دوں گا ،نہ معافی مانگوں گا نہ ہی کبھی شرمسار ہوں گا ۔۔۔۔۔لیکن اگر میری وجہ سے تم اللّه سے دور ہوئی ہو ہانی ۔۔۔۔تم نے اس سے بات کرنا چھوڑ دی ہے تو یہ وہ واحد چیز ہے جس کے لئے میں تم سے معافی مانگتا ھوں ۔ایسے مت کرو ام ہانی ۔وہ تم سے بہت پیار کرتا ہے ۔اس نے تمہارے ساتھ کچھ غلط نہیں ہونے دیا ۔اس نے تمہارا برابر خیال رکھا ۔تم اس سے بد گمان مت ہو ۔بد گمانیاں اچھے سے اچھے پائیدار تعلق کو بھی کھوکھلا کر دیتی ہیں ۔انسان کے پاس زندگی میں کچھ اور ہو نہ ہو اللّه سے اک مضبوط تعلق ضرور ہونا چاہیے “۔

وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتے لفظ لفظ کہہ رہا تھا اور یہ الفاظ اسکے دل تک کا سفر طے کرتے چلے گئے تھے ۔پورا منظر یک دم روشنی میں نہا گیا تھا لائٹ آ گئی تھی ۔جس کے ساتھ ہی اس کے دل میں بھی روشنی سی بھر گئی تھی ۔رات ہمیشہ سیاہ کار نہیں ہوتی ۔کچھ راتیں ہوتی ہیں جن میں خیر ہوتی ہے ،جنکے سیاہ بطن سے روشنی پھوٹتی ہے ۔جو ہمارے دلوں کو منور کر جاتی ہیں ۔اور کچھ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی شفافیت کے باعث اللّه کو اتنے پیارے ہوتے ہیں کہ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے انکے دل کی بڑی بڑی گرہیں کھولتا جاتا ہے ۔وہ انھیں اس سے نوازتا ہے جو انھیں وقتی طور تو ناگوار گزرتا ہے مگر وہ انکے لئے بہترین ہوتا ہے ۔ام ہانی کا شمار بھی انہی لوگوں میں ہوتا تھا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *