Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah e Yaar Teri Musaftein (Episode 08)Part 1,2

Raah e Yaar Teri Musaftein by Umme Abbas

دو دن ہی بستر پر پڑے رہنے سے وہ بری طرح اکتا گیا تھا ۔اوپر سے بیماری کی حالت میں اسکی چڑچڑاہٹ ویسے بھی اپنے عروج پر ہوتی تھی ۔فائزہ اسکی خوب آؤ بھگت کیا کرتی تھیں ۔اسکے منہ سے نکلی ہر بات پوری کرنا جیسے ان پر فرض ہو جایا کرتا تھا ۔عام دنوں کی نسبت ابراھیم بھی اس سے نرمی سے بات کیا کرتے تھے ۔اسے مچھلی پسند تھی تو اس کے بیمار ہونے پر وہ خود خرید کر لاتے ۔ان دنوں وہ ایک پر شفیق باپ کا کردار بخوبی نبھایا کرتے تھے ۔اکثر تو رات کو بھی اٹھ کر اسے ایک نظر دیکھنے آیا کرتے تھے ۔وہ پہلی بار گھر سے دور اس طرح بستر پر پڑا تھا تو بہت کچھ ره ره کر یاد آنے لگتا تھا ۔ایسے میں اسکی بے زاری اور بد مزاجی اور بھی بڑھنے لگتی تھی ۔ام ہانی کی صحیح معنوں میں دو دنوں میں ہی بس ہو گئی تھی ۔کھانا کھانے سے دوائی لینے تک وہ اسے اچھا خاصا ٹف ٹائم دے رہا تھا ۔ٹی وی دیکھ دیکھ کر بھی اب وہ بور ہونے لگا تھا ۔اور اس سب میں ہانی بیچاری کی درگت بنی ہوئی تھی ۔
اب بھی وہ باہر جانے کے لئے کسی ناراض بچے کی طرح بضد تھا اور وہ بے چارگی سے اسے دیکھ رہی تھی ۔بچوں کو سمجھانا آسان تھا مگر اتنے بڑے بچے کو سمجھانا اس کے لئے جان جوکهوں کا کام ثابت ہو رہا تھا ۔
“طهٰ ڈاکٹر نے منع کیا ہے ۔گھٹنے کی سوجن بھی ابھی پوری طرح سے گئی نہیں ہے ۔ایسے میں زیادہ چلنا پھرنا خطرناک بھی ہو سکتا ہے “۔ہانی کی بے بسی اسکے انداز سے چھلک رہی تھی مگر دوسری طرف پرواہ کسے تھی ۔
“کچھ نہیں ہوتا ۔ڈاکٹرز تو بس بات کا پتنگڑ بنانے میں ماہر ہوتے ہیں ۔لیکن میں تمہیں بتا رہا ھوں ہانی کچھ دیر اور اگر یوں ہی گھر میں بند رہا تو جسمانی طور پر نہ سہی ذہنی طور پر ضرور مفلوج ہو کر ره جاؤں گا “۔چہرے پر بے زاری سجائے وہ جوتے پہن رہا تھا ۔اسے تو ہانی پر رشک آ رہا تھا وہ کیسے پورا دن اکیلی یوں ره لیا کرتی تھی ۔
“اللّه نہ کرے ۔کیا جو بھی منہ میں آتا ہے بول دیتے ہیں “۔ام ہانی نے دھک دھک کرتے دل کے ساتھ نا گواری سے اسے ٹوکا تھا ۔طهٰ نے آنکھیں سختی سے میچی ۔امی بھی تو بالکل ایسے ہی کہا کرتی تھیں ۔
“میں جا رہا ھوں تھوڑی دیر تک واپس آ جاؤں گا “۔کھڑے ہوتے شرٹ ٹھیک کرتے اطلاع دی گئی تھی ۔راؤنڈ نیک ریڈ فل سلیو ٹی شرٹ کے نیچے بلیک جینز پہنے وہ جانے کو تیار کھڑا تھا ۔صبح ہی صارم ڈاکٹر کو فلیٹ پر لے آیا تھا ہاتھ کو پٹی بدلی گئی تھی جبکہ ماتھے کی پٹی اتار دی گئی تھی اب صرف بائیں آنکھ سے ذرا اوپر ماتھے پر بینڈیج لگی ہوئی تھی ۔
“ٹھیک ہے پھر میں بھی ساتھ جاؤں گی “۔لمحے میں فیصلہ کرتے وہ الماری کی جانب اپنی چادر لینے بڑھی تھی ۔باہر کی طرف ہلکی سی لڑکھڑاہٹ سے قدم بڑھاتے طهٰ نے تھم کر اسکے گھورا تھا ۔
“تم کدھر ؟”۔ایک ابرو اچکا کر اسے دیکھا جو اب دو پٹہ اتار کر چادر کھولتی اوڑھ رہی تھی ۔
“آپ کے ساتھ ۔لیکن ہم صرف نیچے گراؤنڈ تک جائیں گے اورجلد ہی واپس آ جائیں گے ۔اور ہاں ایک اور بات جانے کے لئے لفٹ کا استعمال کریں گے “۔بہت سکون سے جواب دیا گیا تھا وہ آگے کا پورا پروگرام مرتب کر چکی تھی ۔انکا فلیٹ تیسری منزل پر تھا ۔
طهٰ نے حیرت سے اسکو دیکھاوہ اچھے سے جانتا تھا وہ اسکے ساتھ جانے کے لئے اتنی اتاؤلی کیوں هو رہی ہے ۔
“تمہیں زیادہ میرا پہرے دار بننے کی ضرورت نہیں ہے ۔جب کہہ رہا ھوں یہی پاس ہی جاؤں گا تو یقین نہیں ہے تمہیں میرا ؟”۔اکتائی ہوئی آواز میں کہتے آخر میں سوال کیا گیا تھا جس کا ام ہانی نے پوری شد و مد سے مسکرا کر نہ میں سر ہلا کر جواب دیا تھا ۔طهٰ کو تیوری چڑھی ۔
“باہر جانا ہے تو مجھے ساتھ لے کر جانا پڑے گا ورنہ آرام سے بیٹھ جائیں ۔سو جائیں یا پھر ٹی وی دیکھ لیں “۔کندھے اچکا کر مسکراتی وہ اسے اس وقت زچ کر رہی تھی ۔دو دن پہلے تک وہ اسے بیوقوفی کی حد تک معصوم لگ رہی تھی اور اس وقت اپنی بھوری آنکھوں کے ساتھ وہ کوئی چالاک بلی لگتی تھی جو اپنا شکار ڈھیلا چھوڑنے پر قطعی آمادہ نہ هو ۔
چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا وہ ہلکی سی لڑکھڑاہٹ کے ساتھ اس کے سامنے کھڑا ہوتے دونوں بازو سینے پر باندھ چکا تھا ۔اب پوری توجہ سے ماتھے پر بل لئے اسے دیکھ رہا تھا جو سفید رنگ کی پلین شلوار قمیض پر پرنٹڈ ملٹی کلر بڑی سی شال لئے پر اعتماد سی کھڑی تھی ۔
“تمہیں کچھ زیادہ ہی بولنا نہیں آ گیا ؟۔اور یہ بلیک میل کسے کر رہی هو تم ؟”۔
“آپ ہی سے سیکھا ہے اور آپ ہی کو کر رہی ھوں ۔اب چلنا ہے یا میں صارم بھائی کو کال کروں وہ آپ کو اچھے سے گھما لائیں گے “۔مسکرا کر بے نیازی سے اس کے سوالوں کا با ترتیب جواب دیتے اس نے جان بوجھ کر اسکو آخر میں چڑایا تھا ۔پچھلے دو دن سے جتنا وہ اسے خوار کروا رہا تھا بدلا لینے کا اچھا موقع تھا ۔طهٰ کے منہ کے زاویے بگڑے تھے ۔
“ہاں بلکل میں تو چھوٹا بچہ ھوں ۔اکیلے باہر نکلا تو گم ہونے کا خدشہ ہے “۔سر جھٹک کر کہتے وہ آگے بڑھ گیا تھا ۔جب کسی ایک کو ساتھ لے کر جانا ہی شرط ٹھہری تھی تو ہانی کو بھی لے جایا جا سکتا تھا ۔
“بچوں سے بھی دو ہاتھ آگے ہیں جناب “۔منہ ہی منہ میں بڑبڑاتے وہ اس کے پیچھے باہر کی طرف بڑھی تھی ۔

عصر کے بعد کا وقت تھا کمپاؤنڈ کے بچے گراؤنڈ میں کھیل رہے تھے ۔سورج کا آتشی رنگ اپنی تپش کھو چکا تھا ۔ویسے بھی اکتوبر کا مہینہ چل رہا تھا تو شامیں اب ٹھنڈی معلوم ہوتی تھیں ۔
تھوڑی واک کے بعد وہ خود ہی ایک بینچ پر بیٹھ گیا تھا ۔سامنے کھیلتے بچوں کو دیکھتے اب وہ کچھ دیر پہلے جیسا بے آرام نہیں لگتا تھا ۔اس سے ذرا فاصلے پر بیٹھتی ام ہانی نے اسکا چہرہ دیکھا تھا جو درد کے باعث دو تین دن میں ہی زردی مائل لگنے لگا تھا ۔
“درد تو نہیں هو رہا ؟”اسکے گھٹنے کو دیکھتے وہ متفکر سی پوچھ رہی تھی طهٰ نے گردن موڑ کر اسے دیکھا ۔شام کی میٹھی سی دھوپ میں چادر میں لپٹی وہ خود بھی ماورائی کہانی کا کوئی حسین کردار لگتی تھی ۔بے ضرر اور صاف و شفاف ۔اندر باہر سے ایک ہی رنگ لئے ہوئے ۔
“اب نہیں ہو رہا ۔مجھے لگتا ہے اب زخم جلدی بھر جائیں گے طبیب اچھا میسر آ گیا ہے “۔چہرے پر نرم سے تاثر کے ساتھ وہ زو معنی سے انداز میں کہہ رہا تھا ۔اسکی بات پر ہانی نے بنا سر اٹھائے ہی سر کو اثبات میں ہلایا تھا ۔
“دوا سے کافی فرق پڑا ہے ۔ڈاکٹر بھی کہہ رہے تھے زخم جلد تیار ہو جائیں گے ۔دو تین دن تک ماتھے کا بینڈیچ بھی ہٹا دیں گے “۔پوری سنجیدگی سے اس کی بات کا اپنی سمجھ کے مطابق مطلب اخذ کرتی وہ اسے ہلکا سا قہقہہ لگانے پر مجبور کر گئی تھی ۔ہانی نے تحیر سے سر اٹھا کر اسے دیکھا ۔اتنے وقت بعد اسے یوں بے فکری سے ہنستے دیکھ اچھا لگا تھا مگر اسے بتانا ضروری تو ہرگز نہیں تھا ۔
“ہنس کیوں رہے ہیں ؟”۔وہ نا سمجھی سے پوچھ رہی تھی طهٰ نے نفی میں سر ہلایا تھا ۔
“ویسے ہی “۔سامنے دیکھتے اس کے چہرے پر دبا دبا سا تبسم اب بھی بکھرا ہوا تھا ۔ہانی نے مشکوک انداز میں اسے دیکھا ۔
“مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے جیسے آپ ہنس نہیں رہے بلکہ مجھ پر ہنس رہے ہیں “۔بھوری آنکھیں چھوٹی کرتے وہ خفگی سے کہہ رہی تھی ۔طهٰ کا تبسم گہرا ہوا ۔
“تم بہت بے وقوف ہو ام ہانی “۔بڑے آرام سے کہتے اب وہ اسکا حیرت کے مارے نیم وا کھلا منہ دیکھ رہا تھا ۔کچھ ہی دیر میں طهٰ کی رائے اسکے بارے میں ایک بار پھر سے بدل چکی تھی ۔
“میں بے وقوف ھوں ؟”۔شہادت کی انگلی اپنی طرف کرتے وہ صدمے کی زيادتی سے بھینچی مگر ذرا اونچی آواز میں کہہ رہی تھی ۔طهٰ نے اسکی طرف دیکھ کر سر کو زور و شور سے ہاں میں ہلایا تھا ۔
“لیکن آپ تو کہا کرتے تھے ام ہانی تم بہت ذہین ہو کوئی بھی نیا کانسیپٹ جلدی سے پک کر لیتی ہو “۔منہ بسور کر وہ اسے ماضی کا حواله دینا ہرگز نہیں بھولی تھی ۔جو بھی تھا اسکا یوں منہ بھر کر بے وقوف کہنا اچھا نہیں لگا تھا ۔اچھےشوہر بیویوں کے سامنے ایسی سنگین غلطیاں تو نہیں کرتے ۔اور بیوی بھی وہ جس سے نئے نئے اچھے تعلقات استوار ہوئے ہوں ۔مگر طهٰ ابراھیم ایسی سنگین غلطی بہت چاہ سے کر رہا تھا ۔اسکا یوں تپا تپا ، خفا سا چہرہ دیکھنا آنکھوں کو بھلا لگ رہا تھا جیسے زندگی کی خوشیوں کے در ابھی بھی اس کے لئے کھلے ہوں ۔اور منہ موڑنے کی بیوقوفی وہ ہرگز نہیں کرنے والا تھا ۔
“وہ تو میں پڑھائی کے لئے کہا کرتا تھا ویسے تو تم بالکل کوری ہو اس کا اندازہ تو مجھے اب ہو رہا ہے “۔کسی کھڑوس ٹیچر کی طرح وہ اسے دیکھ کر یوں تاسف سے گہرا سانس بھرتے کہہ رہا تھا جیسے سامنے کوئی انتہائی نا اہل قسم کا سٹوڈنٹ کھڑا ہو ۔ام ہانی نے سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ تند و تیز نظروں سے اسے دیکھا تھا پھر ناراضگی کے اظہار کے طور پر منہ دوسری طرف موڑتے اپنے اور اس کے درمیاں کا فاصلہ بھی بڑھایا تھا ۔اسکی اس حرکت پر پڑنے والا طهٰ کا قہقہہ جلتی پر تیل چھڑکنے جیسا تھا ۔مگر چونکہ وہ بیمار تھا اس لیے وہ کچھ سخت کہہ نہیں رہی تھی ۔دل کے بہلانے کو یہ گمان اچھا تھا مگر پس پردہ وہ یوں پہلے کی طرح ہنستا مسکراتا اسے اچھا لگ رہا تھا ۔دل کو جیسے اطمینان سا ہونے لگا تھا ۔
تھوڑی دیر بعد اپنے کندھے پر اسکی انگلی کی دستک پڑنے پر چہرہ اسکی سمت کرتے اسے ٹھس سے انداز میں دیکھا تھا ۔
“ویسے مجھے ایک بات کی بہت خوشی ہے “۔بڑی سنجیدگی سے اسے دیکھتے وہ بولا تو ہانی کے چہرے کے تاثرات میں بڑا سا سوالیہ نشان دکھائی دیا تھا ۔نچلا لب دانت میں دبا کر اسے دیکھتے طهٰ کچھ پل کے لئے رکا تھا ۔
“بیوقوف بیوی بھی مرد کے لئے اللّه کی ایک بڑی نعمت ہوتی ہے اور میں خوش قسمت ہوں کہ میرے پاس تم ہو ام ہانی “۔بات کے شروع میں اسکا لہجہ جس قدر شرارتی تھا آخر تک آتے اتنا ہی جذبات سے بوجهل ہوتا گیا تھا ۔ہانی کا دماغ بھگ سے اڑا تھا ۔اسکی سوئی تو بیوقوف بیوی پر ہی اٹک گئی تھی ۔آگے کے الفاظ اور لب و لہجے پر کیا خاک اس نے غور و فکر کرنا تھا ۔وہ ایک بار پھر ہنس رہا تھا مگر اس وقت ہنستا ہوا تو بالکل بھی اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا ۔
ہونٹ نیم وا کیے اس نے شعلہ بار نگاہوں سے اسے دیکھا تھا ۔
پھر سرعت سے اٹھ کر آگے بڑھ گئی تھی ۔
“کہاں جا رہی ہو ۔مجھے تو ساتھ لیتی جاؤ ؟”۔اسکی مسکراتی آواز پر رکتے وہ بنا مڑے سخت خفگی بھری آواز میں بولی تھی ۔
“خود آ جائیے گا بچے نہیں ہیں آپ ۔میری ہی غلطی ہے مجھے آپ کے ساتھ آنا ہی نہیں چاہیے تھا “۔خود کو ملامت کرتی وہ آگے بڑھ گئی تھی ۔
“آہ “۔اٹھتے ہوئے جان بوجھ کر وہ اونچی آواز میں کراہا تھا ۔ہانی جھٹ سے پلٹی تھی ۔وہ ہلکا سا جھک کر کھڑا چہرے پر تکلیف کے آثار لئے اپنی زخمی ٹانگ پر ہاتھ رکھے ہوئے تھا ۔وہ تیز رفتاری سے اس تک آئی تھی ۔
“کیا ہوا ۔ٹانگ پر زیادہ وزن ڈال دیا ہوگا “۔فکر مند سی تھوڑا سا جھکتے وہ پوچھ رہی تھی ۔طهٰ نے آنکھیں میچ کر ہاں میں سر ہلاتے اپنی ہنسی کا جبڑے بھینچ کر حلق میں ہی گلا گھونٹتے خود کو داد دی تھی ۔وہ ایک اچھا اداکار تھا ۔ہنسی ضبط کرنے کے باعث سرخ ہوتی سنهری رنگت سے ہانی نے اسکی تکلیف ضبط کرنے کا مطلب اخذ کیا تھا ۔اسے اس سے بے پناہ ہمدردی محسوس ہوئی تھی ۔ساتھ ہی خود کو کوسا بھی تھا کیا ضرورت تھی یوں چھوڑنے کی ۔
“تم جو چھوڑ کر بھاگ رہی تھی ۔ذرا خیال نہیں زخمی شوہر کا تمہیں “۔شکایتی نظروں سے اسے دیکھتے کہتا وہ اسے حیرت زدہ کر رہا تھا ۔یہ وہی زخمی شوہر تھا جو اسے ساتھ لانے پر ہی آمادہ نہیں تھا اور سارا وقت خود آرام سے چلتا رہا تھا بنا کسی سہارے کے ۔
“لیکن ابھی تھوڑی دیر پہلے تو آپ کہہ رہے تھے درد نہیں ہے “۔وہ الجھن بھری نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی جو اب بازو اس کے کندھے پر دراز کیے آہستہ آہستہ چل رہا تھا ۔ام ہانی نے اسے سنبھالا دینے کو ایک ہاتھ اسکی کمر کے گرد لپیٹا تھا
“تب نہیں تھا تو کہا تھا ۔اب ہے اس لئے کہہ رہا ہوں ۔تم بس میری باتوں کو پکڑا کرو میرا خیال نہ کرنا “۔خواہ مخواہ کا رعب جھاڑتے وہ اسے اپنی ناراضگی تو یکسر بھلا چکا تھا ۔کن اکھیوں سے اسکا متفکر چہرہ دیکھ اس کے لبوں پر ہلکی سی مسکان نے اپنی چھاپ دکھائی تھی ۔وہ اپنی بے وقوفی کی حد تک معصومیت کا ایک دفع پھر ثبوت دے چکی تھی ۔مگر طهٰ اس بار منہ پر کہنے کے جرم کا مرتکب نہیں ہونا چاہتا تھا اس لئے چپ چاپ اسکے ساتھ چلتا رہا تھا ۔ڈوبتے سورج نے انھیں دور جاتے آسودگی سے دیکھا تھا ۔پنچھی اپنے جهنڈوں کی صورت آشیانوں کو لوٹ رہے تھے

Part 2


اگلے چند دنوں میں وہ پھر سے آفس جانے لگا تھا ۔ان دونوں میں سب کچھ نارمل نہ سہی پہلے سی منجمد کر دینے والی سرد مہری بھی نہیں رہی تھی ۔ام ہانی اب اسے کی طرح بار بار گزرے کل پہلےکا حوالہ نہیں دیتی تھی ۔وہ خود بھلے اس سے زیادہ بات نہیں کرتی تھی مگر اس کی ہر بات کا آرام سے جواب دے دیا کرتی تھی ۔اور طهٰ کے لئے فلحال اتنی پیش رفت بھی کافی تھی ۔وہ اپنی زندگی کے اس نئے سفر سے کافی حد تک آسودہ دکھائی دیتا تھا ۔شاید ماضی کے سبھی کواڑ بند کر دینے سے حال کی تشنگياں یوں ہی کم معلوم ہونے لگتی ہیں ۔
موسم نے کافی حد تک سردی کی چادر اوڑھ لی تھی ۔پنکھا بند تھا اس کے باوجود اوائل رات کے اس پہر ہی سردی کا احساس بڑھ گیا تھا ۔طهٰ بستر میں نیم دراز حالت میں اپنی ٹانگوں پر لیپ ٹاپ رکھے کام کر رہا تھا ۔ہانی بیڈ کی پائنتی رکھےکپڑے تہہ کر کے الماری میں رکھ رہی تھی ۔طهٰ کی غیر ارادی نگاہ اٹھی تھی اور پھر ان میں گہری سوچ کا عکس جهلملاتا ام ہانی پر ٹھہر گیا تھا۔وہ عموماً گھر میں کپڑوں کا ہم رنگ دوپٹہ ہی اچھے سے سر پر بھی اوڑھے رکھتی تھی ۔مگر آج اس نے گھر سے نکلتے وقت لی جانے والی چادر اوڑھ رکھی تھی مگر لان کی وہ چادر سردی کی لہر کے سامنے بندھ باندھنے سے قاصر تھی ۔طهٰ کو خود پر تاؤ آیا تھا ۔وہ خود کے لئے شاپنگ کر لیا کرتا تھا مگر ہانی کا آج سے پہلے کبھی خیال نہیں آیا تھا اور نہ ہی خود داری کی دیوی نے خود سے کہنا اپنے شايان شان جانا تھا ۔
“ام ہانی ؟”۔کچھ دیر یوں ہی کڑھتے اس نے کہا تو اسکی پکار پر وہ جو کپڑے الماری میں رکھ کر پلٹ رہی تھی رک کر اسے دیکھنے لگی ۔
“یہاں آؤ “۔سرسری سے انداز میں کہتا اب وہ اپنا والٹ جیب سے نکال رہا تھا ۔بنا کچھ کہے وہ چل کر اسکے پاس آ گئی ۔طهٰ نے والٹ سے پیسے نکال کر اسکی طرف بڑھائے تھے جنہیں تھامنے کے بجائے وہ سوالیہ نظروں سے اسکا چہرہ دیکھنے لگی تھی ۔
“یہ رکھ لو اور اپنے لئے کپڑے وغیرہ لے لینا “۔دوستانہ انداز میں کہتے وہ اسے آنکھ کے اشارے سے پیسے پکڑنے کا کہہ رہا تھا ۔
“مجھے نہیں چاہیے “۔اسکے قطعی انداز میں کہنے پر طهٰ کے ماتھے پر بل سے آئے ۔مگر خود کو کچھ بھی سخت کہنے سے باز رکھتے وہ مفاہمتی انداز اپناتے بولا ۔
“بات چاہت کی نہیں ضرورت کی ہے ۔چاہتیں ادھوری رہیں تو بھی زندگی گزر جاتی ہے ضرورتوں کے بغیر نہیں بسر ہو پاتی ۔اس لئے بحث مت کرو اور یہ لے لو ۔کل فضا بھابھی ساتھ چلی جانا “۔مگر وہ ہنوز کھڑی ہا تھوں کی انگلیاں مروڑتی رہی تھی ۔
“ہانی “۔اس بار طهٰ کی پکار میں تنبیہ تھی ساتھ ہی سیدھا ہوتے وہ خود سے اسکی ہتھیلی پر زبر دستی پیسے رکھ چکا تھا ۔ام ہانی نے شکایتی نظروں سے اسے دیکھا تھا ۔
“میرے پاس کپڑے ہیں “۔وہ اب بھی اپنی بات پر قائم تھی ۔
“جی وہ جو پانچ چھ شاہی جوڑے آپ ساتھ لائی تھیں ان کے رنگ اور نقش و نگار تک مجھے حفظ ہو چکے ہیں۔اور مسئلہ کپڑوں کا نہیں موسم کا ہے جو بدل رہا ہے اور اور اس کی مناسبت سے گرم کپڑے نہیں ہیں آپ کے پاس ۔اور مجھے ایک بات تو بتاؤ یہ تم نے خود پر فرض کر لیا ہے میری ہر بات کے خلاف جانے کا ؟”۔طنز سے بھرپور آواز میں کہتے ہوئے آخر میں اسکو خشمگیں نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔
“اب کہاں کچھ کہتی ہوں میں آپ کو ؟۔میں نہیں چاہتی کہ میں پھر سے آپ سے کچھ تلخ کہہ جاؤں اور کل آپ پھر ٹوٹے پھوٹے گھر واپس آئیں ۔اس لئے آرام سے کہہ رہی ہوں ۔مجھے ان پیسوں کی ضرورت نہیں ہے ۔آپ یہ واپس لے لیں “۔
ناراضگی سے کہتے وہ اسے جتا رہی تھی اگر وہ شائستگی سے پیش آ رہی ہے تو صرف حالات سے سمجھوتہ کرتے ہوئے ورنہ اسکی شکایتوں کا انبار اب بھی پہلے جتنا ہی ہے ۔طهٰ نے پلکیں جهپکا کر اسے دیکھا تھا ۔پھر وہ ذچ کر دینے والی ہنسی ہنسا تھا ۔
“بیوی بنتے ہی چیونٹی کے بھی پر نکل آئے ہیں “۔اونچی آواز میں کیے جانے والے تبصرے پر ام ہانی نے سلگ کر اسے دیکھا تھا ۔کچھ کہنے کے لئے لب ہلے تھے پھر وہ الفاظ کو روک گئی ۔اس کے چہرے پر صاف صاف لکھا تھا وہ صرف اسے چڑا رہا تھا ۔مزید چڑ کر وہ اسے خوش نہیں ہونے دینا چاہتی تھی اس لئے پیسے سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر وہ مڑنے ہی لگی تھی جب اسکی اگلی حرکت نے اسے ششدر چھوڑ دیا تھا ۔دنگ سی حالت میں وہ پھٹی آنکھوں اور نیم وا ہونٹوں سے اسے دیکھ رہی تھی جو بنا اسے سوچنے سمجھنے کا موقع دیے اسکی قمیض کا دامن پکڑ کر زور سے کھینچتے چاک کر چکا تھا ۔وہ تھا بھی لان کا جوڑا جو ذرا سی طاقت صرف کرنے پر ہی چرررر کی آواز کے ساتھ پھٹتا چلا گیا تھا اور اب ایک سائیڈ سے تھوڑا سا قمیض سے جڑا باقی کا اسکی ٹانگوں سے لپٹے خود پر ہوئے ستم پر شکوہ کناں تھا ۔اور طهٰ ۔۔۔۔۔۔وہ اب مطمئین سا اپنی سابقہ پوزیشن میں بیٹھ، اسکے چہرے پر سجے تاثرات سے حظ اٹھاتا اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔
“یہ کیا کیا آپ نے ؟ایسے کون کرتا ہے بھلا ؟”۔شاکی نظروں سے کبھی اسے تو کبھی اپنے چاک ہوئے دامن کو دیکھتے وہ چینخ نما آواز میں پوچھ رہی تھی ۔
“ایسے طهٰ ابراھیم کرتا ہے ام ہانی صاحبہ ۔جب بیوی تمہارے جیسا چکنے گھڑے ہو نا تو شوہر کو ایسی غیر اخلاقی حرکت کرنی پڑ جاتی ہے ۔اب بتاؤ ۔ایسے ہی کپڑے لینے چلی جاؤں گی یا پھر میں الماری میں لٹکے تمہارے دیگر شاہی جوڑوں کو بھی اپنے ہاتھ دکھاؤں ؟”۔
پر سکون سا کہتا مسکرا کر وہ اس سے رائے طلب کر رہا تھا ۔ام ہانی نے اسکی بات پر صدمے بھری نظروں سے اسے گھورا تھا ۔اسکے دیکھنے پر سر کو ستائش وصول کرتے انداز میں جنبش دیتے اسکی مسکراہٹ کچھ اور بھی گہری ہوئی تھی ۔ہانی نے جهپٹنے کے سے انداز میں پیسے اٹھا کر دراز میں رکھے تھے ۔
“خبر دار جو میرے کسی بھی اور جوڑے کو ہاتھ لگایا آپ نے ۔وہ سب مجھے امی نے بنوا کے دیے تھے ۔ان سے تو دور کر ہی دیا ہے اب انکی دی چیزیں تو مت چھینیں مجھ سے۔۔۔ “۔چٹخ کر کہتے اسکے چہرے پر پھیلتی حد درجہ سنجیدگی کو دیکھ وہ چپ ہوئی تھی ۔ہونٹ بھینچ کر طهٰ نے نظریں اس کے چہرے پر سے ہٹا کر لیپ ٹاپ پر جمائی تھیں ۔لرزتے ہاتھ سے پیشانی کو چهوتے ام ہانی نے خوف زدہ نظروں سے اسے دیکھا تھا ۔پتہ نہیں وہ اتنی جلدی اپنا آپہ کیوں کھونے لگی تھی ۔حالانکہ وہ بہت ٹھنڈے مزاج کی حامل تھی ۔بڑی سے بڑی بات ہو جانے پر بھی رد عمل نہ دینے والی اب چھوٹی چھوٹی باتوں پر برداشت کھو بیٹھتی تھی ۔اور پھر بعد میں پچھتاتی بھی تھی ۔
اکھڑا سا ایک گہرا سانس خارج کرتے وہ وہیں اس کے پاس ہی بیڈ کے دہانے پر بیٹھی تھی ۔ہاتھوں کو باہم مسلتے جھکی نظریں اٹھا کر ذرا بھر گردن موڑ اسکا سکرین کی روشنی میں نیلا ہوتا چہرہ دیکھا تھا ۔
“میرا وہ مطلب نہیں تھا طهٰ “۔آہستہ آواز میں وہ منمنائی تو طهٰ کی پوزیشن میں رتی بھر بھی فرق نہیں آیا ۔
“بے فکر رہو ۔کل ٹوٹا پھوٹا واپس نہیں آؤں گا “۔بے تاثر سی آواز میں کہتے وہ اسے خجل کر گیا تھا ۔ابھی کچھ دیر پہلے جب اس نے یہ بات کہی تھی تب تو اس نے برا نہیں منایا تھا ۔کیسے شریر سے انداز میں اسے تنگ کر رہا تھا ۔مگر اب وہ خفا لگ رہا تھا ۔کچھ دیر پہلے تک دوبدو جواب دیتے اسے اس سے ذرا ڈر نہیں لگ رہا تھا مگر اب یوں اس قدر سپاٹ چہرے کے ساتھ بیٹھا وہ اسے ڈرا رہا تھا ۔
“آئی ایم سوری ۔بس مجھے غصہ آ گیا تھا ۔امی نے اتنے پیار سے یہ جوڑا میرے لئے بنوایا تھا آپ نے ایک لمحے میں چیر پھاڑ کر رکھ دیا “۔نظریں ایک بار پھر اپنے پھٹے دامن پر مرکوز کیے وہ بولی تو یک دم طهٰ نے سلگ کر لیپ ٹاپ بند کرتے اسکو غصے سے گھورا ۔
“تمہیں کیا لگتا ہے ہانی ۔مجھے امی یاد نہیں آتی ہوں گی ۔وہ میری امی ہیں ۔جب تمہیں اتنی یاد آتی ہیں تو میں انھیں کتنا مس کرتا ہوں گا اس کا تمہیں اندازہ بھی نہیں ہے ۔لیکن پتہ ہے مسئله کیا ہے ؟۔میں تمہاری طرح رو نہیں سکتا ۔چینخ نہیں سکتا ،چلا کر اپنا دکھ بیان بھی نہیں کر سکتا ۔اور تمہیں لگتا ہے کہ میں بے حس ہو گیا ہوں ۔مجھے کسی کی کوئی پرواہ نہیں رہی “۔دهیمی آنچ دیتی آواز میں بولتے وہ اسکی پیشانی عرق آلود کرتا چلا گیا ۔میری امی کے الفاظ اسکے دل کو زخمی کر گئے تھے ۔آج سے پہلے اس نے کبھی یوں جتایا بھی تو نہیں تھا ۔آنکھوں میں نمی سی آنے لگی تھی ۔
“طهٰ کیا ہم اب بھی واپس نہیں جا سکتے ۔اب تو اتنے مہینے ہو گئے ہیں ۔مامو کا غصہ بھی اتر گیا ہوگا ۔ہم واپس چلتے ہیں ایک بار معافی مانگ لیں گے تو سب ٹھیک ہو جائیں گا ۔آپ بھی تو امی کو یاد کرتے ہیں سوچیں وہ کتنا آپ کو یاد کرتی ہوں گی ۔کتنا روتی ہوں گی آپ کے لئے “۔ موہوم سی امید جهلملاتی آنکھوں میں لئے بھرائی آواز میں کہتی وہ اسے دیکھ رہی تھی ۔امی کے ذکر پر دانستہ اس نے صرف اسی کا حواله دیا تھا ۔کچھ دیر پہلے کی کہی اسکی بات پر وہ خود ترسی کا شکار ہونے لگی تھی ۔وہ صحیح ہی تو کہہ رہا تھا اس کے سبھی رشتے اس سے پہلے طهٰ سے وابستہ تھے ۔اسکی بات پر طهٰ کی گردن کی ہڈی ڈوب کر ابھری تھی ۔آہستگی سے ہاتھ بڑھا کر اسکے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیتے وہ وہ دوسرے ہاتھ کی اوٹ میں چھپا گیا تھا ۔اس کے چہرے پر سے اب سپاٹ پن زائل ہونے لگا تھا ۔اک وہاں اک دهیما پن تھا ،گداز سا تاثر ،نرمی بھری حلاوت ۔ام ہانی مہبوت سی اسے دیکھے گئی ۔وہ شخص پل پل رنگ بدلنے کا سکہ رکھتا تھا ۔
“نہیں جا سکتے ۔نہ اب نہ پھر کبھی ۔اس لئے بار بار یہ ذکر لے کر مت بیٹھا کرو ۔اب کچھ بھی ٹھیک نہیں ہونے والا ۔جو پیچھے ره گیا بس پیچھے ره گیا ۔اب مڑ مڑ کر دیکھنے سے وہ سب مل نہیں جائے گا ۔اسی لئے کہتا ہوں ام ہانی ۔نہ خود کو بیتی باتیں یاد کر تکلیف دیا کرو نہ مجھے یوں ڈسٹرب کیا کرو ۔اور تم اکیلی تو نہیں ہو ۔میں بھی تو ہوں یہاں تمہارے ساتھ ۔اور میں کوشش کر رہا ہوں تمہیں خوش رکھ سکوں ۔کچھ وقت لگے گا مگر پھر سب سیٹ ہو جائے گا ۔ہماری اپنی فیملی ہوگی اور انشاء اللّه ہم مل کر بہت خوش رہیں گے ۔مگر اس کے لئے تمہیں بھی پچھلی باتیں بھلانی ہوں گی ام ہانی “۔بھاری مردانہ آواز میں گھلی نرم سی چاشنی اسے سحر زدہ کر گئی تھی ۔سبھی باتیں پس منظر میں چلی گئیں تھیں ۔آنکھوں میں نرم گرم سی لو دیتی روشنی لئے وہ سامنے بیٹھا اپنے ساتھ ہونے کا یقین دلا رہا تھا ۔ام ہانی کا دل پہلی بار طهٰ ابراھیم کے لئے اس قدر زور سے دھڑکا تھا ۔بے ساختہ سر کو ہاں میں ہلاتے وہ بھاری دل کے ساتھ ہلکا سا مسکرائی تھی ۔وہ جو بھلانے کا کہہ رہا تھا وہ بھول نہیں سکتی تھی بھلا نئے بننے والے رشتے پچھلے تعلقات کا نعم البدل کب ہوتے ہیں ۔ہر ایک کا اپنا خانہ ہوتا ہے کوئی دوسرا چاہ کر بھی اسے پر کبھی نہیں کر سکتا ۔مگر ابھی وہ اسے یہ سب نہیں کہنے والی تھی ۔ اسے یقین تھا ایک نہ ایک دن وہ اسے منا ہی لے گی بس صحیح وقت کی دیر تھی مگر تب تک اسکی ماننا بھی ضروری تھا ۔
اگلی شام جب وہ آفس سے لوٹا تھا تو وہ بستر پر کپڑے گرم شال اور سویٹرز پھیلائے ہوئے تھی ۔طهٰ کو خوش گوار سی حیرت ہوئی تھی ۔اسے شاید توقع نہیں تھی وہ اتنی جلدی اسکی بات مان جائے گی ۔بلیو رنگ کا ایک نفیس سا گرم سوٹ دیکھ کر وہ مسکرایا تھا ۔
“بلیو میرا فیورٹ کلر ہے “۔رسٹ واچ کھولتے اس سے ذرا فاصلے پر کھڑا وہ مسکرایا تھا ۔جواب میں کپڑے سمیٹتی ہانی نے تائیدی انداز میں ہلکی سی مسکان کے ساتھ سر کو ہلایا تھا ۔
“پتہ ہے مجھے ۔آپ اکثر بلیو ڈریس بنوانے کے لئے ضد کیا کرتے تھے ما ۔۔۔۔۔”۔بے دھیانی میں کہتے کہتے وہ سرعت سے رکی تھی سر اٹھا کر اسے دیکھا جو اسکی آدھی ادھوری بات میں چھپا پورا مطلب جان کر بھی انجان بن گیا تھا ۔گلے سے ٹائی نکالتے وہ نارمل تاثرات کے ساتھ کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔ام ہانی نے یہ سوچ کر سکھ کا سانس لیا تھا کہ شاید وہ سمجھ نہیں پایا ۔
“میں آپ کے لئے بھی کچھ لائی ہوں “۔گڑبڑا کر ایک شاپنگ بیگ اسکی طرف بڑھایا ۔خوش گواریت سے آنکھیں ذرا چندھیا کرتے اس نے ہاتھ بڑھا کر وہ بیگ لیا تھا ۔اندر سے بلیو ہی کلر کی شرٹ بر آمد ہوئی تھی ۔
“کیسی ہے ؟”۔وہ اشتیاق سے اسکی طرف دیکھ رہی تھی ۔طهٰ نے خفیف سا مسکرا کر سر کو توصیفی انداز میں جھٹکا تھا ۔
“اچھی ہے ۔ویسے میں جب بھی خود مارکیٹ گیا ہوں تمہارے لئے کچھ لے کر نہیں آیا “۔ڈھیٹ پن سے ہنستے ہوئے وہ اعتراف کر رہا تھا ۔
“میں آپ کے جیسے بے مروت نہیں ہوں ناں “۔ہاتھ روک کر اسکی طرف دیکھتے ،معصومیت سے کہتی وہ پس پردہ اسے طنز کر رہی تھی ۔طهٰ نے ابرو اچکا کر اسے دیکھا تھا ۔اسکے منہ میں حقیتاً زبان آ گئی تھی ۔سر جھٹک کر وہ لباس تبدیل کرنے چل دیا تھا ۔ام ہانی بھی جلدی جلدی سب پھیلاوہ سمیٹنے لگی تھی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *