Raah e Yaar Teri Musaftein by Umme Abbas NovelR50606 Raah e Yaar Teri Musaftein (Episode 01)
No Download Link
Rate this Novel
Raah e Yaar Teri Musaftein (Episode 01)
Raah e Yaar Teri Musaftein by Umme Abbas
ریلوے سٹیشن پر معمول کی نسبت ذرا کم گہما گہمی تھی ۔ہر کوئی اپنے آپ میں مگن اپنی منزل کی طرف رواں دواں ۔شام چار بجے کا وقت تھا ۔ایسے میں جب اس نے لاہور کی سر زمین پر پاؤں رکھا تھا تو شعوری طور پر ہر سوچ کو پس پشت ڈال کر ایک گہرا سانس خارج کرتے اندر کی ساری گھٹن آزاد فضاؤں کے سپرد کرنی چاہی تھی ۔
آگے ایک لمبی مسافت تھی جو باہیں پھیلائے اسکی منتظر تھی ۔ایک طویل جنگ جو تن تنہا لڑنی بھی تھی اور اپنی بقا قائم بھی رکھنی تھی ۔نئی جگہ ،نئے لوگ اور ۔۔۔۔۔سب سے بڑھ کر نیا رشتہ ۔سانسیں پھر سے بوجهل ہونے کو تھیں ۔ابھی تو ذہن کو پرانی بیڑیوں سے آزاد کرنا تھا ۔نئے حالات سے مطابقت اختیار کرنی تھی ۔شل ہوئے اعصاب اور بلکل ماؤف ہوئے ذہن کے ساتھ یہ سب کیسے ہونا تھا وہ قطعی نہیں جانتا تھا ۔مگر ایک بات وہ اچھے سے جانتا تھا ۔وہ اب مڑ کر پیچھے نہیں دیکھے گا ۔اس وقت صرف یہی ایک اٹل حقیقت تھی ۔باقی سب خام خیال تھا ۔
سفری بیگ کندھے پر ڈالتے ایک درد کی لہر اسکے پورے وجود میں کوند کر رہ گئی ۔مگر اب شاید اسے اسکی بھی پرواہ نہیں تھی ۔بے حسی کا خول اسکے جذبات پر ایک دبیز تہہ چڑ ھا گیا تھا ۔ایک ہاتھ میں سوٹ کیس اور دوسرے ہاتھ میں ایک اور چھوٹا بیگ تھا ۔گردن موڑ کر اپنے پیچھے کسی دوسرے وجود کی یقین دہانی چاہی تھی ۔۔۔۔۔اور پھر وہ اسے اترتی دکھائی دی تھی ۔سیاہ لباس میں بڑی سی ہم رنگ چادر میں سر تا پیر لپٹی ہوئی ۔
اسکے اترنے کی تصدیق ہونے کے ساتھ ہی وہ قدم آگے بڑھا گیا تھا ۔قدموں کی رفتار معمول کی نسبت بہت آہستہ تھی جس کی وجہ اسکے پیچھے سست رفتاری سے چلتا وہ وجود تھا ۔سیاہ چادر میں اسکا چہرہ نہ نظر آنے کے برابر دکھائی دیتا تھا جسکا پلو کھینچ کر پیشانی سے کافی نیچے تک لیا گیا تھا ۔وہ سر جھکا کر میکانکی انداز میں اسکے پیچھے چل رہی تھی ۔بہت بار اسکی چادر کا کونہ اسکے پاؤں میں الجھا تھا ۔وہ ذرا برابر ركتی اسے سنبھالتی اور پھر رحت سفر باندھ لیتی ۔چلتے ہوئے کچھ دیر بعد وہ سر اٹھا کر اپنے آگے چل رہے شخص کی موجودگی کی تصدیق کرتی اور پھر سے ٹھوڑی سینے سے لگا لیتی ۔
اسکے آگے چلتے شخص کا پہلا تاثر ایسا تھا کہ جو کوئی بھی ایک بار دیکھتا وہ پلٹ کر نظر ڈالنے پر مجبور ہو جاتا ۔بظاہر وہ ایک وجیہہ مرد تھا ۔مگر اسکا حلیہ کافی ابتر سا تھا ۔جس کے بعد کچھ دیکھنے والوں کی نظروں میں اسکے لئے شک اور کچھ کے ترحم جنم لے رہا تھا ۔
بلیو کلر کی جینز پر گرے بٹن والی شرٹ پہنے اسکی دائیں آنکھ کے نیچے نیل کا نشان تھا جو اب سیاہی مائل سا ہو رہا تھا ۔نچلے ہونٹ کا پھٹا کونہ اب کافی حد تک مندمل ہو چکا تھا وہیں اسکی ناک الگ سوجن کا شکار ہو رہی تھی ۔البتہ اسکا چہرہ ہر قسم کے تاثر سے پاک تھا ۔خوبصورت گھور سیاہ آنکھیں بالکل سپاٹ سی تھیں ۔خالی خالی ۔۔۔۔۔ہر احساس سے عاری ،منجمد برفیلی سرد پن لئے ہوئے ۔چلتے ہوئے ایک دو بار قلی اسکی طرف بڑھے تھے اپنی خدمات پیش کرنی چاہی مگر اسکے پتھریلے تاثرات کے ساتھ سرد مہر سی آواز میں “ضرورت نہیں ہے “کے جواب کے بعد دوبارہ کسی نے اس کی طرف بڑھنے اور پوچھنے کی جسارت نہیں کی ۔
باہر نکل کر ٹیکسی اسٹینڈ تک آتے جو پہلی ٹیکسی میسر آئی اسے ایڈرس سمجھا کر ڈرائیور کے ساتھ سامان ڈگی میں لوڈ کیا تھا ۔واپس مڑ کر گاڑی کا بیک ڈور کھولا ۔وہ چپ چاپ بیٹھ گئی ۔دروازہ بند کرتے خودوہ فرنٹ سیٹ سنبهال چکا تھا ۔گاڑی سٹارٹ ہوتے ہی وہ کسی گہری سوچ میں غرق باہر دوڑتے مناظر کو غائب دماغی سے دیکھ رہا تھا ۔ایک گھنٹے کے اس خاموش سفر کے بعد وہ اس متوسط درجے کی سات منزلہ رہائشی فلیٹس پر مشتمل عمارت کے سامنے کھڑے تھے جو اب انکی منزل تھی ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
وہ ایک چھوٹا سا فلیٹ تھا ۔ایک بیڈ روم ،ڈرائنگ روم کے علاوہ چھوٹا سا لیونگ ایریا اور اس سے ملحق اوپن کچن ۔اس وقت وہ بیڈ پر اکڑوکیفیت میں بیٹھی تھی ۔دروازہ کی ذرا سی کھلی درز میں سے باہر ہو رہی بات چیت اسکے کانوں تک بھی سفر کر رہی تھی ۔
“یہ کیا حالت بنا رکھی ہے تم نے ؟”۔صارم اسے دیکھ کر صحیح معنوں میں پریشان ہوا تھا ۔مگر اسکے ساتھ موجود دوسرے وجود کی وجہ سے استفار نہیں کر پایا تھا ۔اب اس کے ساتھ صوفے پر بیٹھتے موقع میسر آیا تھا ۔
“تین دن پہلے ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا “۔طائرانہ نظروں سے فلیٹ کا جائزہ لیتے جب وہ بولا تو لب و لہجہ بہت بیگانگی لئے ہوئے تھا ۔جیسے اپنی نہیں کسی غیر کی بات کر رہا ہو ۔
“او ہو ۔کافی چوٹیں آئی ہیں ۔کچھ دن آرام کرتے ابھی تو آفس جوائن کرنے میں ایک ہفتہ باقی تھا “۔اسکی حالت دیکھ کر اس نے مخلصانہ مشورہ دیا تھا ۔
“مجھے کسی بھی نئی جگہ ایڈجسٹ ہونے میں تھوڑا وقت لگتا ہے ۔تب تک گھر وغیرہ سیٹ بھی کرنا ہے اور نئے شہر کی آب و ہوا سے بھی دوستی کرنی ہے “۔اس کے سرسری سے انداز میں بتانے پر وہ سر ہلا گیا ۔پھر اچانک کچھ یاد آیا تھا ۔
“اور یہ شادی والا حادثہ کب پیش آیا ؟۔مانا کہ ہم بہت زیادہ کنٹیکٹ میں نہیں رہتے مگر جب تمہیں جاب کے لئے کال کی تھی تب تو بتا ہی سکتے تھے”۔صارم نے اب کی بار گھورتے ہوئے اسکو لتاڑا تھا ۔وہ اسکا یونیورسٹی فیلو تھا ۔دو سال پہلے لاہور کی ایک پرائیویٹ فرم میں جاب پر لگا تھا ۔کچھ ماہ پہلے اچانک انکی ملاقات اسکے پنڈی آنے پر ہوئی تھی ۔تب ہی طهٰ سے بات چیت کے دوران اس نے اسکے ڈاکومنٹس اور کنٹیکٹ نمبر لیا تھا اور اسی کے توسط سے اسے بھی اسی فرم میں اب جاب مل چکی تھی ۔
طهٰ نے ارد گرد سے نظریں ہٹا کر صارم کو عجیب بے تاثر نظروں سے دیکھا تھا ۔دل میں کہیں اسکے مذاق میں کہے “حادثے “کے لفظ نے ایک تیر سا پیوست کیا تھا ۔جس کی تکلیف کے آثار تک کو چہرے کے خدوخال میں گھلنے کی اجازت طهٰ ابراھیم نے خود کو نہیں دی تھی ۔دل کی حالت کے بر عکس وہ ہلکا سا ہنس دیا۔
“کچھ ہی وقت ہوا ہے ۔میرا ارادہ اکیلے آنے کا ہی تھا ۔پہلے خود سیٹل ہوتا پھر بلاتا ۔مگر اس حادثے نے سب پلان پر پانی پھیر دیا ۔گھر والوں نے کہا بیوی بھی ساتھ ہی لے کر جاؤ “۔اپنے حال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وہ بہت محظوظ ہوتے بتا رہا تھا ۔دلوں کی حالتوں کو اللّه اگر صیغہ راز نہ رکھتا ہوتا تو انسان کیسے کیسے اپنا بھرم کھوتا اس احساس کو طهٰ ابراھیم نے ان لمحوں میں بہت قریب سے محسوس کیا تھا ۔
صارم بھی سر ہلاتا مسکرا دیا تھا ۔
“اچھا کیا ہے ۔گھر سے دور کسی اپنے کا ساتھ میسر ہونا بھی بہت ضروری ہے ۔فضا اپنی امی کی طرف گئی ہوئی ہے کچھ دن تک آ جائے گی ۔اگر یہاں ہوتی ابھی تو بھابھی کو بھی ذرا کمپنی مل جاتی “۔وہ اب اپنی بیوی کی بات کر رہا تھا طهٰ نے بے ساختہ دل میں کلمہ شکر پڑھا تھا ۔جس کو کمپنی دینے کی وہ بات کر رہا تھا فلحال بہتر یہی تھا وہ کسی سے بھی نہ ملتی ۔ورنہ وہ اپنا بھرم کھو دیتا ۔
“فلیٹ تو ٹھیک ہے ناں ؟”۔
“ہاں بلکل منا سب ہے ۔شکریہ یار اتنا سب کچھ کرنے کے لئے “۔وہ دل سے اسکا مشکور ہوتا اسکے کندھے پر ہاتھ رکھے ہوئے بولا ۔
“اپنا شکریہ اپنے پاس سنبھال کر رکھو اور ہاں تم لوگ فریش ہو لو میں کچھ کھانے پینے کا بندوبست کرتا ہوں “۔مسکرا کر کہتے وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔پھر باہر نکل گیا ۔اسکے جاتے ہی طهٰ نے چہرے پر ہاتھ پھیر کر اپنے اکڑے ہوئے اعصاب کو ذرا ڈھیلا چھوڑ صوفے کی پشت پر گردن ڈالی تھی ۔نیم دراز سی حالت میں لیٹے وہ آنکھیں موند گیا تھا ۔ابھی تو آغاز سفر تھا اور وہ ابھی سے ہی تھکا تھکا ،نڈھال ہوا جا رہا تھا ۔ہمتیں ابھی سے چٹخنے لگی تھیں ۔یہ وہ وقت تھا جب وہ اس دنیا سے کنارہ کش ہونے کی چاہ رکھتا تھا ۔مگر یہ وہ وقت ثابت ہو رہا تھا جب اسے سب کا سامنا کرنا تھا ۔فرار کی کوئی راہ باقی نہیں رہی تھی ۔وہ اپنی مرضی سے یہاں تھا اور اب اسے خود کو سنبهالنا تھا ۔
کسی احساس کے تحت اسکی آنکھیں کھلی تھیں ۔ان میں یکلخت بے چینی کے ساتھ ساتھ کرب کا دھواں سا بھی نمودار ہوا تھا ۔اسی پوزیشن میں لیٹے لیٹے اس نے نگاہیں دائیں طرف بنے کمرے کے دروازے پر مرکوز کی تھیں ۔جسکے دوسری طرف وہ موجود تھی ۔اسکی موجودگی پر ہونے والی کسک نے اسکو سیدھا ہو کر بیٹھنے پر مجبور کر دیا تھا ۔
اس نے کب اسے یوں اپنے ساتھ تصور کیا تھا ؟۔وہ تو اسکی سوچوں کے محور سے بہت دور تھی۔۔۔۔۔۔اسکے مستقبل کے سہانے خوابوں میں اسکی بھلا کہاں کوئی جگہ تھی ۔۔۔۔۔تا حد نگاہ اسکے دل کے آنگن میں ،اسکے خیالوں کے حسین دریچوں میں کہیں بھی تو نہیں تھی اور قسمت کی ستم ظریفی کا یہ عالَم تھاکہ حقیقت کی وادی میں اب ہر جگہ بس وہی ہی وہی تھی ۔اس جوڑ توڑ میں الجھے اسے کچھ اور بھی یاد آیا تھا جو وہ اب کبھی بھولے سے بھی ذہن و دل کی بستی میں بھٹکنے نہیں دینا چاہتا تھا مگر یہ دل کب اختیار کی حدود میں رہنا پسند کرتا ہے یہ تو باغی ہے ۔سر پھرا سا خود سر ۔صرف خود کی سننے والا ۔اب بھی اس کے لاکھ منع کرنے پر بھی بغاوت پر اتر آیا تھا اور ساتھ ایک تصور بھی لایا تھا ۔۔۔۔۔وہ ایک چہرہ ۔۔۔۔۔۔۔وہ جو دل کے آئینے میں جگمگاتا تھا ۔جس کا اسکی سوچوں پر بسیرا تھا ۔وہ دو شربتی آنکھیں جنکے بہت سارے خواب ان سے چرا کر وہ اپنی آنکھوں میں بسا چکا تھا ۔جنہیں وہ ہر حال میں پورا کرنا چاہتا تھا ۔اب ٹوٹے کانچ کی مانند اسکی آنکھوں میں کھبے انکی بینائی کو تاریکی کا مسافر کر رہے تھے ۔لہو رنگ ہوئی زخمی آنکھوں کے ساتھ وہ بیٹھے سے ایک جھٹکے کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔ماتھے کی ابھرتی رگیں اسکے فشار خون کی غماز تھیں ۔ہاتھوں کی مٹھیوں کو بھینچ کر ،آنکھیں سختی سے موندے اس نے چہرہ اوپر کی جانب کیا تھا ۔۔۔۔کچھ ساعتیں گزری تھیں ۔وہ یوں ہی کھڑا رہا ۔ساکت و جامد ۔۔۔۔۔بنا کسی جنبش کے ۔
لمحوں کا کھیل تھا اور پھر اس نے ہاتھوں کی مٹھیوں کو کھول ،پلکیں اٹھائی تھیں ۔گردن نیچے اپنی پوزیشن پر واپس آئی تھی ۔اور وہ چہرہ اب بلکل سپاٹ تھا ۔سبھی احساسات منجمد ہو چکے تھے ۔سبھی خیال لاشعور کی وادی میں کہیں اتار دیے گئے تھے ۔ہر سوچ دفن کر دی گئی تھی ، ہر یاد ذہن کے منظر نامے پر سے کھرج کھرج کر اتار دی گئی تھی ۔اب آگے کے سفر کی تیاری کرنی تھی پچھلی مسافتوں کے بوجھ ذہن و دل سے اتار پھینک دیے گئے تھے ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
کمرے کا دروازہ پورے کا پورا کھلا تھا جس کے ساتھ ہی لاشعوری طور پر اسکی نگاہیں بھی اٹھی تھیں ۔مگر سامنے نظر آتے چہرے کو دیکھ کر اسکو اپنی نگاہ اٹھنے پر تاسف ہوا تھا ۔سرعت سے آنکھوں میں ناگواری کی اک شدید لہر لئے وہ نظروں کا زاویہ بدل چکی تھی ۔طهٰ ابراھیم کے اپنے دکھ ہی کیا کم تھے جو وہ اسکی نگاہوں میں ڈھلتی نفرتوں کی پیمائش کرتا ۔بس ایک اچٹنی سی نگاہ اس پر پڑی تھی جو سیدھی بیڈ پر ابھی بھی اکڑو حالت میں بیٹھی تھی ۔فرق صرف یہ آیا تھا کہ چادر اب ذرا پیچھے سرک چکی تھی اور چہرہ صاف دکھائی دیتا تھا ۔چار دن بعد وہ اسے دیکھ رہا تھا اور چار دن میں جیسے وہ چار صدیوں کی نا شناسائی و بیگانگی لئے ہوئے تھی ۔یہ وہ ام ہانی نہیں تھی جسے وہ جانتا تھا ۔جس کے کھلے رنگ لئے شاداب سے چہرے پر نرمیوں کا ہمہ وقت ڈیرہ رہتا تھا ۔جسکی جگنو سی چمکتی آنکھیں مسکراہٹیں بکھیرا کرتی تھیں ۔جو اسے دیکھ کر جی اٹھا کرتی تھی ۔مگر وہ خود بھی کب جانتا تھاایک دن وہ اسکے لئے موت کا فرمان بن جائے گا ۔اسکی وجہ سے وہ بہار کی پہلی آمد پر کھلے پھول سے چہرہ پر خزاں کی پت جھڑ کی ذردیاں گھل سی جائیں گی ۔ان آنکھوں کے جلتے دیے اپنی لو کھو دیں گے ۔ ان ہونٹوں کی نرم مسکان زخم زخم ہوتی نوحہ کناں ہونے لگے گی ۔وہ معصوم سی کلی نصیب کی تیز آندھیوں کی زد میں آ کر کھلنے سے پہلے ہی ڈالی سے جدا ہو گئی تھی ۔اور یہ قصور بھی اس کے حصے میں آیا تھا ۔پہلے ہی کیا کم خسارے اسکی تاک میں تھے جو اب یہ آگاہی بھی عذاب کی مانند اس پر مسلط ہو بیٹھی تھی ۔ہاتھ دروازے کی ناپ پر سے ہٹنا بھول گیا تھا ۔سانسوں کی روانی کا راستہ معدوم سا ہو گیا تھا ۔وہ لمحے طهٰ ابراھیم کے اعصاب پر بڑے بھاری ثابت ہوئے تھے ۔
ہانی نے جو نگاہ پھیری تھی تو پھر پتھریلے چہرے کے ساتھ رخ بھی دوسری جانب کر لیا تھا جیسے اسکی نظریں بھی اس کے لئے نا قابل برداشت ہو رہی ہوں ۔
طهٰ نے قدم آگے بڑھائے تھے ۔ایک کونے میں رکھے اپنے سارے سامان میں سے اپنا سفری بیگ اٹھا کر بیڈ کی پائنتی پر رکھا تھا ۔سب سے اوپر رکھے کپڑے اٹھا کر واش روم کی طرف بڑھا ۔دس سے پندرہ منٹ بعد وہ نہا کر گیلے بالوں کے ساتھ بلیک ٹراؤزر کے ساتھ وائٹ وی شیپ کے گلے والی ٹی شرٹ میں برآمد ہوا ۔تب تک ڈور بیل بجی تھی ۔وہ باہر نکل گیا تھا ۔
صارم کھانا لے کر آ چکا تھا ۔طهٰ کے اصرار پر بھی وہ کھانے پر نہیں رکا تھا ۔اسے رخصت کر کے وہ کچن میں آیا تھا ۔مختلف کیبنٹ کھنگال کر پلیٹیں بر آمد کیں ۔یہ وہ کام تھا جو اس نے کبھی نہیں کیا تھا ۔آج سے چار دن پہلے تک تو وہ خود سے ہل کر پانی پینے تک کا روادار نہیں تھا ۔ایسی کبھی نوبت ہی نہیں آئی تھی ۔امی ،چاچی اور ہانی کے ہوتے ہوئے اسکی سبھی ضرورتیں بنا کہے پوری ہو جایا کرتی تھیں ۔
کھانا پلیٹوں میں نکال کر وہ مڑا تھا ۔کمرے کی دہلیز پر رک اندر دیکھا ۔وہ اب بھی ہنوز بیٹھی تھی اسکی آمد پر اس بار سر اٹھانے کی غلطی نہیں کی گئی تھی ۔ایک گہرا سانس خارج کیا ۔
“کھانا کھا لو آ کر “۔اس کے انداز میں کچھ بھی خاص و عام نہیں تھا ۔بس سرسری سا لہجہ تھا ۔بنا مخاطب کیے جیسے فارمیلٹی نبھائی گئی تھی ۔
ام ہانی گود میں دھرے ہاتھ کو دوسرے ہاتھ میں سختی سے دبائے اندر ہی اندر تلملا کر رہ گئی ۔کیا اس شخص میں اتنی اخلاقی جرات باقی تھی کہ وہ اس سے مخاطب بھی ہو پاتا ؟ ۔
کچھ گھنٹے پہلے ہی کی تو بات تھی وہ ببانگ دہل سب کے سامنے اسے “طلاق ” تک دینے کو تیار کھڑا تھا ۔
اور چار دن پہلے جو اس نے اسکے ساتھ کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ سوچ تو ابھی دل و دماغ کے در پر ٹھیک سے دستک بھی نہیں دیتی تھی اسکی نس نس میں اسکے لئے نفرت بھرا زہر پہلے سے ہی گردش کرنے لگتا تھا ۔
اور اب یہاں یوں ہر گناہ ،ہر گلٹ سے پاک وہ کھڑا اسے کھانے کی آفر کر رہا تھا ۔جیسے انکے باہمی تعلقات بڑے خوشگوار و مثالی تھے اور نئی نئی محبت کا شکار ہوئے کوئی نو بياهتا جوڑا ہوں ۔اپنے اندر جلتی بھڑ بھڑ آگ کے فلک رسان شعلوں میں خود ہی جل کر بھسم ہوتی ہونٹوں کو باہم سختی سے پیوست کیے وہ ٹس سے مس نہ ہوئی تھی ۔
طهٰ ابراھیم نے چند پل اسکے جواب کا انتظار کیا تھا ۔پھر اسے یوں ہی خود سے بے نیازی برتنے پر لب بھینچ کر اس پر دو حرف بھیجتا واپس آیا تھا ۔پلاسٹک کی چھوٹی میز کے گرد رکھی چار کرسیوں میں سے ایک کھینچ کر بیٹھتے وہ خود کھانا شروع کر چکا تھا ۔
اس وقت وہ خود تک سے بے زار تھا ۔کسی اور کے نخرے اٹھانا تو برداشت کی حدود سے بہت باہر کی بات تھی ۔
اتنے دنوں کے بعد ڈٹ کر کھانا کھایا تھا ۔چہرے پر ڈھونڈنے سے بھی کسی اضطراب کی کوئی ایک لکیر بھی اس وقت دکھائی تک نہ دیتی تھی ۔آخری نوالا لے کر اس نے اپنی پلیٹ اٹھا کر سنک میں رکھی تھی ۔باقی بچے کھانے پر اک نگاہ کی ۔پھر کچھ سوچ کر اسے ڈھانپتے وہیں میز پر دھرا رہنے دیا ۔
خود آ کر اس چھوٹے سے لیونگ ایریا کے وسط میں کھڑے ہوتے ارد گرد تفصیلی جائزہ لیا ۔صوفے کی جانب قدم بڑھے تھے ۔پھر اس پر دراز ہوتے اس کی لمبائی چوڑائی کی تسلی کی ۔پاؤں نیچے لٹک رہے تھے باقی سب ٹھیک تھا ۔اسی صوفے کو اپنا مسکن خیال کرتے وہ کروٹ کے بل ٹانگیں ذرا سکیڑ کر اپنا ایک بازو سر کے نیچے اور دوسرا چہرے پر رکھے سونے کے لئے لیٹ چکا تھا ۔
اس وقت وہ ہر ایک شے سے بے نیاز ہو چکا تھا ۔حتی کہ خود سے بھی ۔جانتا تھا اگر آگے بڑھنا تھا تو یہی بے گانگی اور بے نیازی اس کا سب سے بڑا ہتھیار ثابت ہونے والی تھی ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
کتنی دیر گزر گئی تھی ۔رات گہری ہوتی جا رہی تھی جسکا اندازہ اسے کمرے کی کھڑکی کے پار تیرتے گهپ اندھیرے سے ہو رہا تھا جس میں جلتی مصنوئی روشنی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی تھی ۔
کمر کی اکڑن سے تھک کر بلا آخر وہ اٹھی تھی ۔جسکے ساتھ ہی پورے وجود میں درد کی ایک سرد سی لہر سرایت کرتی چلی گئی ۔آنکھیں موند کر اسے برداشت کیا تھا ۔چند پل گزرے تھے ۔وہ دو قدم آگے بڑھی ۔باہر موت کا سا سناٹا تھا ۔ادھ کھلے دروازے سے ذرا گردن ترچھی کرتے ایک نگاہ باہر دوڑائی ۔صوفے پر سوئے وجود پر سے ہوتے نگاہیں پلٹ آئی تھیں ۔
قدم موڑ کر اب وہ کھڑکی تک آئی تھی جس کے آگے پردہ برابر کرتے اس نے اپنے اندر موجود اندھیرے کے ڈر پر قابو پانے کی کوشش کی تھی ۔وہ تو کبھی اکیلی نہیں رہی تھی ۔پہلے امی کے ساتھ سویا کرتی تھی ۔انکے جانے کے بعد کتنے دن مامی کے ساتھ سوتی رہی اور پھر اسے ماہین کے ساتھ کمرہ شئیر کرنا پڑا تھا ۔
آج ان میں سے کوئی بھی پاس نہیں تھا تو اک خوف سا اسکے وجود میں پنجے گاڑھنے لگا تھا ۔
وہ بھوک سے نبرد آزما ہو سکتی تھی ۔پیاس سے خشک ہوتے گلے میں چھبتے کانٹوں کو اپنی بے اعتنائی پر رکھ سکتی تھی ۔مگر وہ اپنے ڈر سے لاپرواہی نہیں برت سکتی تھی ۔تھوک نگل کر گلے کو تر کرنے کی کوشش ناکام کرتے وہ واشروم گئی تھی ۔کچھ دیر کے بعد گیلا چہرہ لئے وہ باہر آئی ۔بیڈ روم کے دروازے پر نگاہ گی مگر اسے بند کرنے کی ہمت اس میں ناپید تھی ۔اس وقت اسکی باہر موجودگی کا آسرا بھی ڈوبتے کو تنکے کے سہارے جیسا تھا ۔اسکی نفرت ،غصے اور ناراضی پر اسکا خوف بری طرح حاوی ہوا کھڑا تھا ۔بنا لائٹ بند کیے بستر پر آ کر اس نے اپنی چادر اچھے سے پورے وجود پر پھیلائی تھی اور پھر سر بھی اس میں لپیٹ کر جیسے خود کو ایک مضبوط قلعے میں محصور کرتے آیت الکرسی کا ورد کیا تھا ۔گٹھڑی بنے وجود کے ساتھ سکڑ سمٹ کر لیٹتے وہ رات کو پڑھی جانے والی ساری مسنون دعائیں زیر لب دوہرا رہی تھی ۔کمرے میں صرف پنکھا چلنے کی آواز تھی ۔کسی بھی کھٹکے کی صورت میں وہ بدک کر چادر سر سے ہٹاتی اور گردن اٹھا کر ارد گرد دیکھتی ۔پھر تسلی ہونے پر دوبارہ سر لپیٹ لیتی ۔بہت دیر بعد نجانے کس پہر نیند نے بلا آخر اس پر ترحم کھا کر اسے اپنی آغوش میں پناہ دے ڈالی تھی ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
صبح اسکی آنکھ موبائل کی بیپ پر کھلی تھی ۔ذرا وقت لگا تھا نئی جگہ سے دماغ کو ہم آہنگ ہونے میں ۔پھر بمشکل کھلی آنکھوں کے ساتھ سامنے ٹیبل پر دھرے موبائل کو اٹھایا تھا ۔دوسری طرف صارم تھا جو اس سے ناشتے کی بابت پوچھ رہا تھا ۔
اس سے بات کرنے کے بعد موبائل واپس بازو لمبی کرتے ٹیبل پر رکھا تھا ۔آج جو کام سب سے پہلے کرنا تھا وہ کھانے پینے کا سامان لانے کا ہی تھا ۔ذہن میں پلان مرتب کرتے ہوئے آنکھوں کے پپوٹوں پر انگلیوں کے پوروں سے دباؤ ڈالتے ہوئے وہ اٹھ کر بیٹھا تھا ۔گردن موڑ کر کمرے کی جانب دیکھا تھا جس کا دروازہ نیم وا تھا ۔یہاں سے وہ بیڈ پر لیٹی نظر آ رہی تھی جس کی پشت دروازے کی جانب تھی ۔
اپنی جگہ چھوڑتا وہ اٹھ کر کمرے کی جانب بڑھا تھا ۔واشروم کے دروازے کے بند ہونے کی آواز پر اسکی آنکھ کھلی تھی ۔سرعت سے اٹھ کر بیٹھتے اس نے دائیں جانب کی دیوار پر نسب گھڑی پر نظر کی تھی ۔صبح کے پونے آٹھ بج رہے تھے ۔فجر کی نماز قضا ہو چکی تھی ۔دل کی کلفت میں یک بار اضافہ ہوا ۔واش روم کے بند دروازے کے پار گرتے پانی نے اسکی موجودگی کا پتہ دیا تھا ۔بستر چھوڑتی وہ چادر سر پر اوڑھ اپنے گرد اچھے سے لپیٹ چکی تھی ۔شدید بھوک کے احساس سے آنتیں اب ٹوٹتی محسوس ہونے لگی تھیں ۔اور اس سے بھی شدید پانی کی طلب تھی مگر وہ کان لپیٹے رہی ۔بیڈ سے ذرا فاصلے پر رکھے اپنے سوٹ کیس کو دیکھا تھا اور پھر اسکی طرف بڑھی ۔وہ نیچے بیٹھی سوٹ کیس کھول رہی تھی جب وہ باہر نکلا تھا ۔مگر وہ اسے یوں نظر انداز کر گئی جیسے اسکا ہونا نہ ہونا ایک برابر ہو ۔ایک اچٹنی سی نگاہ اس پر ڈال کر وہ بالوں میں برش کرتا باہر آ گیا تھا ۔
میز پر رکھا کھانا جوں کا توں پڑا اسکا منہ چڑا رہا تھا ۔
کچھ دیر تک صارم ناشتے کے ساتھ ساتھ چائے کے فلاسک لئے آیا تھا ۔طهٰ کو شرمندگی ہوئی تھی ۔وہ نا چاہتے ہوئے بھی اس پر بوجھ بن بیٹھا تھا ۔
“شکریہ یار ۔اور اس تکلیف کے لئے معذرت “۔صارم کچن کاؤنٹر پر ہاتھ میں پکڑے شاپرز اور فلاسک رکھے سیدھا ہوا تھا ۔
“تکلیف کی کیا بات ہے ۔بلکہ مجھے برا لگ رہا ہے میں تم لوگوں کو بازار کے کھانے کھلا رہا ہوں ۔تمہاری بھابھی گھر پر نہیں ہے “۔اسکی طرف دیکھ کر وہ مسکراتا ہوا کہہ رہا تھا جو اب فریش فریش سا رات کی نسبت کافی بہتر لگ رہا تھا ۔ناک کی سوجن بھی بہت حد تک ختم ہو چکی تھی البتہ آنکھ کے نیچے کی سیاہی ابھی بھی باقی تھی ۔
“میں انشااللہ آج بازار کا چکر لگا لوں گا۔چھوٹا موٹا سامان لے آؤں گا باقی تم شام میں آفس سے واپس آتے ہو تو پھر مارکیٹ چلیں گے “۔صارم آفس کے لئے تیار کھڑا تھا ۔اسکی بات پر سر اثبات میں ہلا گیا ۔
“اوکے پھر فلحال تو اجازت دو لیٹ ہو رہا ہے شام میں ملتے ہیں “۔اس سے ہاتھ ملاتے اسکو دروازے تک چھوڑ کر خود وہ پلٹا تھا ۔کچن میں آ کر چائے کپ میں انڈیلی تھی ۔ناشتہ نکالا خستہ پراٹھے اور چنے بھوک کو اور چمکا گئے تھے ۔وہ کھانے پینے کا شروع سے شوقین واقع ہوا تھا ۔اب بھی اطمینان سے ناشتہ کیا تھا ۔
پھر اٹھ کر کمرے میں آیا تھا جہاں وہ الماری میں منہ دیے کھڑی تھی ۔وہ دروازے کی چوکھٹ پر ہی رک گیا ۔
“کچن میں ناشتہ رکھا ہے ۔کر لینا ۔اس بھوک ہڑتال کا کوئی فائدہ نہیں ہے اب ۔اگر خود کشی ہی کرنی تھی تو میرے ساتھ آنے سے پہلے کر لیتی ۔یا پھر اب فاقوں سے مر کر مجھ پر قتل کا الزام عائد کروانا ہے “۔نا چاہتے ہوئے بھی وہ طنز آمیز لہجے میں کہتا تلخی پر اتر آیا تھا ۔ وہ غلط جگہ اپنا غصہ نکال رہا تھا۔مگر کیا کرتا وہ اسے طیش دلا رہی تھی ۔ہانی کے کپڑے الماری میں سیٹ کرتے ہاتھ اسکی آواز پر تھمے تھے ۔اسکی بات اس نے گردن کی پھولتی رگ کے ساتھ بنا پلٹے سنی تھی ۔
“میں باہر جا رہا ہوں دروازہ اندر سے لاک کر لینا “۔اسکے قدموں کی چاپ دور ہوتی چلی گئی تو وہ الماری کا پٹ بند کرتے مڑی تھی ۔گھر میں اکیلے ہونے کے خیال سے تیزی سے باہر کی جانب بڑھی تھی ۔وہ جا چکا تھا ۔ڈور لاک کرتے وہ واپس کمرے کی طرف بڑھنا چاہتی تھی مگر پھر پیٹ کے آگے ہار مانتے کچن میں آ گئی ۔اسکی چھوڑی جگہ پر بیٹھ کر وہ اب خود نم آنکھوں کے ساتھ ناشتہ کر رہی تھی ۔
