Raah e Yaar Teri Musaftein by Umme Abbas NovelR50606 Raah e Yaar Teri Musaftein (Episode 02)
No Download Link
Rate this Novel
Raah e Yaar Teri Musaftein (Episode 02)
Raah e Yaar Teri Musaftein by Umme Abbas
سب سے پہلے وہ بینک آیا تھا ۔اپنا اکاؤنٹ چیک کیا تین لاکھ انیس ہزار کی رقم پر اسکے دل میں اک ہوک سی اٹھی تھی ۔ابھی تو اسے چھ لاکھ جمع کرنے تھے اور پھر وہ گلوبند ہار خریدنا تھا جس کا ڈیزائن اسکے موبائل کی گیلری میں ہمہ وقت موجود رہتا تھا۔جسے پہلی نظر دیکھ کر کسی کے قدم رک سے گئے تھے اور آنکھیں چمک اٹھی تھیں ۔اور طهٰ ابراھیم نے وہ ہار خریدنا جیسےخود پر فرض کر لیا تھا ۔نچلے ہونٹ کو اذیت سے کچلتے وہ مطلوبہ رقم نکال کر وہاں سے باہر نکلا تھا ۔
ایک بڑے سے مارٹ میں کھڑا وہ ذہن پر زور ڈالتے ہوئے کچن میں استعمال ہونے والا سامان خریدنے کی کوشش کر رہا تھا ۔جس میں اسے کافی دشواری آ رہی تھی ۔وجہ تھی اسکا اس کام سے نابلد ہونا ۔اسکی امی جانتی تھیں بیٹے کو اس کام سے کتنی چڑ ہے اس لئے وہ کبھی اسے بازار سودا سلف لینے نہیں بھیجا کرتی تھیں ۔یہ کام وہ اسکے ابو کے لاکھ منع کرنے پر بھی خود کیا کرتی تھیں ۔اور اس وقت اسے انکی شدت سے یاد آئی تھی ۔جو پورے مہینے کے سودے کی ایک لمبی سی لسٹ بنا کر اسکے ہمراہ جایا کرتی تھیں اور اسٹور کے باہر اتر کر اسے وہیں گاڑی میں بیٹھنے کا کہہ دیا کرتی تھیں ۔
“یہ کیا کیا تم نے طهٰ ۔میری تربیت کی ہی کچھ لاج رکھ لی ہوتی ۔میں نے تمہیں کیا بنانا چاہا تھا اور تم کیا بن گئے “۔درشت سی کانپتی بے یقین آواز اسکے کانوں میں پڑی تھی ساتھ ہی بائیں گال پر شدید جلن کا احساس جاگا تھا ۔آنکھوں کو جھپک کر ان میں آئی نمی کو پیچھے دھکیلتے کیچپ کی بوتل ٹرالی میں رکھ اس کے ہینڈل پر گرفت مضبوط کرتے آگے بڑھا تھا ۔
کوکنگ آئل کی رینج کے سامنے وہ تدبذب کا شکار کھڑا تھا ۔جب ساتھ ایک پچاس کے لگ بھگ کی خاتون آ کر کھڑی ہوئی تھیں ۔اسے یوں بت بنا دیکھ کر اسکو عجیب سی نظروں سے دیکھا تو طهٰ خجل ہوتا ہوش میں آیا تھا ۔کوکنگ آئل اپنی ٹرالی میں رکھ کر جوں ہی وہ آگے بڑھیں طهٰ نے بھی اسی کمپنی کا آئل منتخب کر کے انکے پیچھے کی راہ لی تھی ۔اب وہ مصالحہ جات رکھ رہی تھیں کن اکھیوں سے انھیں دیکھتا وہ بھی وہیں سارے مصالحے رکھتا جا رہا تھا ۔بظاہر بے نیازی کا تاثر دیتیں وہ خاتون اسکے اس انداز پر زیر لب مسکرا دیں ۔
جب انکی پیروی کرتے اسکے ہاتھ کیچپ کی طرف بڑھے تو وہ اسے ٹوک گئیں ۔
“تم پہلے ہی کیچپ رکھ چکے ہو “۔انکا انداز جتانے والا تھا ۔طهٰ نے گڑبڑا کر ادھر ادھر دیکھتے بوتل واپس اپنی جگہ رکھی تھی ۔
“پہلے بار گروسری کرنے آئے ہو کیا ؟”۔اب کی بار اسکی طرف دیکھ وہ نرمی سے مسکرا رہی تھیں ۔دیکھنے میں بھلا بچہ لگتا تھا ۔وہ خفیف سا مسکراتا سر ہلا گیا ۔
“مجھے اندازہ ہو گیا تھا تمہیں دیکھ کر یوں لگ رہا ہے ، جیسے کوئی بچہ کسی میلے میں کھو گیا ہو “۔وہ اسے ہنستے ہوئے چھیڑ رہی تھیں ۔طهٰ نے خفت سے سر کے بالوں میں ہاتھ پھیرا ۔
پھر انہوں نے اسکو خریداری میں مدد کی تھی ساتھ ساتھ انکے سوالات بھی جاری و ساری تھے ۔
“شادی شدہ ہو ؟”۔انکے اس غیر متوقع سوال پر وہ ذرا کہ ذرا تهما پھر سر اثبات میں ہلا دیا ۔
“تبھی ۔ورنہ ماؤں کو ایسے کہاں آج کل کے بچے سامان لا کر دیتے ہیں “۔انکے جلے دل کے تبصرے پر وہ خاموش ہی رہا تھا ۔
“بیوی کو بھی ساتھ لے آتے ۔جب گروسری کی الف ب سے بھی نا واقف تھے تو “۔وہ کوئی بہت جلدی شناسا ئی کی حامی خاتون واقع ہوئی تھیں ۔طهٰ نے بے چارگی سے انھیں دیکھا جو اب دالیں رکھ رہی تھیں ۔
“اسکی طبیعت خراب تھی “۔اس نے مدھم سی آواز میں اس بار کہا تو ان خاتون نے ایک گہرا سانس خارج کیا ۔
“شکر ہے تم بول سکتے ہو ۔ورنہ اتنی دیر سے جو تم صرف سر ہلا رہے تھے مجھے خدشہ ہونے لگا تھا کہیں بولنے کی صلاحیت سے محروم ہی نہ ہو “۔بے ساختہ انکے کہنے پر طهٰ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھرتی چلی گئی تھی ۔
پھر مزید دس منٹ اور انکے ساتھ خوار ہو کر اس نے سارا سامان پورا کیا تھا ۔انکو تہہ دل سے شکریہ کرتے کاؤنٹر پر آیا ۔بل پے کر کے وہ مڑا تب تک وہ بھی کاؤنٹر پر آ گئی تھیں ۔
“آنٹی میں کچھ مدد کر دوں ؟”۔انہوں نے اسکی اتنی مدد کی تھی اب یوں ہی نکل جانا اسے معیوب لگا تھا ۔جب کہ وہ اکیلی بھی تھیں ۔
“نہیں بیٹا باہر گاڑی میں میرا بیٹا بیٹھا ہے ابھی کال کروں گی تو آ جائے گا ۔جیتے رہو “۔ہلکا سا ہنس کر کہتے وہ اسکا دل پھر سے بوجهل کر گئیں تھیں ۔پھیکی سی مسکان کے ساتھ انکو اللّه حافظ کہتے وہ خود باہر کی طرف بڑھا تھا ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
پنڈی کے ایک متوسط علاقے کے اس دو منزله گھر میں وہ صبح معمول سے ہٹ کر افسرده سی اتری تھی ۔گھر کے اندر داخل ہونے پر بھی اک ہو کا سا عالَم بر قرار تھا ۔ابراھیم سفید کرتا شلوار پہنے ،سر پر ٹوپی رکھے چہرے پر سجی چھوٹی چھوٹی داڑھی کو ہاتھ سے سنوارتے ہوئے، اپنے کمرے سے نکل کر ڈائینگ ٹیبل تک آئے تھے ۔
“فائزہ چائے دے دو “۔آواز لگاتے وہ کرسی سنبھال چکے تھے ۔تھوڑی ہی دیر تک کچن سے سر پر سلیقے سے رکھے دوپٹے کے ساتھ پینتالیس کے لگ بھگ متناسب سی جسامت کی مالک فائزہ برآمد ہوئی تھیں ۔انکے ہاتھ میں ناشتے سے سجی ٹرے تھی ۔ابراھیم کے سامنے ناشتہ رکھتے وہ مڑنے کو تھیں جب وہ بول اٹھے ۔
“باقی سب کہاں ہیں ۔ناشتہ نہیں کرنا کیا ؟”۔نارمل سے انداز میں پوچھتے ہوئے وہ ناشتے کی طرف متوجہ ہوئے تھے ۔
“آنسہ ندیم کی چائے کمرے میں ہی لے گئی تھی ۔ماہی اور فہد ابھی تک نیچے نہیں آئے “۔مرجھائی سی آواز میں انکو بتاتے وہ جانے لگی تھیں ۔
“رکو فائزہ !بیٹھو “۔ناشتے سے ہاتھ روک کر وہ پوری طرح انکی طرف متوجہ ہوئے ۔وہ ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئیں ۔
“یہ سوگ کب تک مناؤ گی ۔کسی کے جانے سے زندگی رک نہیں جاتی ۔تم بھی بھول جاؤ سب “۔انکی بات پر انکا ہاتھ بے ساختہ دل کے مقام پر گیا تھا ۔
“اللّه نہ کرے ابراھیم کیسی باتیں کر رہے ہیں ۔اللّه پاک سلامت رکھے میرے بچے کو “۔انکی ممتا تڑپ ہی تو اٹھی تھی ۔
“میرے لئے مر گیا ہے وہ “۔درشت آواز میں وہ بولے تو فائزہ کی آنکھیں آنسوؤں سے چمک اٹھی تھیں ۔
“مت کہیں ایسا میرا دل بند ہو جائے گا ۔اتنے ظالم مت بنیں ۔بیٹا ہے آپکا “۔گردن نفی میں ہلاتے التجا کی گئی ۔
“اسی بات کا تو دکھ ہے فائزہ ۔وہ میرا بیٹا تھا مگر پھر بھی میرے سر میں خاک ڈال گیا ۔وہ ایسا کیسے کر گیا؟ اسے ہم پر ذرا رحم نہیں آیا ؟”۔انکی پست ہوتی آواز میں ملال در آیا تھا ۔
“ابراھیم پتہ کریں ہانی کو لے کر کہاں گیا ہے وہ ۔میرا دل بیٹھا جا رہا ہے ۔پتہ نہیں میرے بچے کس حال میں ہوں گے “۔انہیں یوں نرم پڑتے دیکھ کر وہ انکے بازو پر اپنا ہاتھ رکھے رو پڑی تھیں ۔ابراھیم نے چہرہ اٹھا کر انکی طرف دیکھا تھا انکی آنکھوں میں سختی نے اپنی جگہ بنائی ۔
“جہاں بھی ہوں ، جس بھی حال میں ہوں یہ انکا مسئله ہے ہمارا اس سے کوئی سروکار نہیں ۔آج کے بعد اس گھر میں انکا نام نہیں لیا جائے گا “۔دو ٹوک انداز میں کہتے وہ نوالا توڑنے لگے تھے ۔
“طهٰ کے لئے نہ سہی ۔ہانی کے لئے ہی دل کو تھوڑا بڑا کر لیں ابراھیم “۔انہوں نے اب بھی ہمت نہیں ہاری تھی ڈرتے ڈرتے آخری کوشش کی تھی ۔شاید جان عزیز بن ماں کے بھانجی کے نام پر ہی انکا پتھر ہوا دل پگھل جائے ۔منہ کی طرف نوالا لے جاتا ہاتھ رکا تھا پھر واپس پلٹ آیا ۔
“اس دربدری کو اس نے خود چنا ہے ۔اس نے خود اس کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا تھا ۔میری مرضی کے بغیر وہ اسکے ساتھ گئی ہے ۔مجھ پر اس نے اسے ترجیح دی ہے ۔یہ اسکی اپنی غلطی ہے ۔اور انسان کو جلد یا بدیر اپنی غلطیوں کا بھگتان بھگتنا پڑتا ہے ۔یہی قدرت کا قانون ہے ۔ایک غلطی آدم و حوا سے بھی ہوئی تھی جس کی سزا انھیں بھی دی گئی تھی ۔ہم تو پھر عام سے بھی عام تر ہیں “۔اٹل لہجے میں کہتے وہ اٹھ کر وہاں سے چلے گئے تھے ۔ناشتہ جوں کا توں رکھا ٹھنڈا ہو چکا تھا ۔پچھلے کچھ دنوں سے اس گھر کا ہر ناشتہ ہر کھانا یوں ہی ٹھنڈا ہو جایا کرتا تھا ،یا پھر ادھورا ره جایا کرتا تھا ۔
“یہ کیا کر دیا طهٰ ۔میرے بچے میں کیا کروں گی اب تم دونوں کے بغیر ؟”۔دونوں بازوؤں کی کہنياں میز کی سطح پر ٹکائے وہ اپنا سر ہاتھوں میں گرائے پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھیں ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
شام تک وہ بنا کہے خود ہی اپنے حجرے سے باہر نکل آئی تھی ۔کاؤنٹر پر سودا سلف یوں ہی رکھا ہوا تھا ۔صبح وہ خود گیا تھا تب بھی لدا ہوا واپس آیا تھا ۔اب سے کچھ دیر پہلے بھی وہ اور صائم مارکیٹ سے لوٹے تھے اور اس وقت ضرورت کی ہر چیز اسکے سامنے پڑی تھی ۔خود وہ ایک دفعہ پھر سے غائب ہو چکا تھا ۔سب کچھ سمیٹنے میں ہی اسے اچھا خاصا وقت لگ گیا تھا ۔مگر اس سے ایک فائدہ بھی ہوا تھا کچھ دیر کے لئے ہی سہی سبھی پراگندہ سوچوں سے نجات نصیب ہوئی تھی ۔ورنہ تو وہ بار بار ایک ہی طرح کی باتیں سوچ سوچ کر پاگل ہونے کے قریب تھی ۔
اسے اس وقت جس راہ فرار کی چاہ تھی کام کی آڑ میں وہ میسر آ گئی تھی ۔کچھ بھوک کا بھی اثر تھا وہ کھانا بنانے میں جت گئی تھی ۔
جس وقت وہ اپنا کھانا ٹرے میں رکھ رہی تھی بیرونی دروازہ کھلا تھا اور وہ اندر داخل ہوا ۔اسکے پاس اپنی كیز تھیں ۔اسے دیکھ کر بھی ان دیکھا کرتے وہ پلیٹ میں سالن منتقل کر رہی تھی ۔وہ خود ہی چل کر کچن تک آیا تھا ۔فریج میں سے پانی نکال کر پیتے ہوئے وہ بھی اپنے تئیں اسکی موجودگی کو يكسر نظر انداز کر گیا تھا ۔اسے پرواہ نہیں تھی تو فلحال وہ بھی کسی پرواہ کرنے کے موڈ میں ہرگز نہیں تھا ۔اپنی ٹرے لئے وہ وہاں سے نکل کر کمرے میں چلی گئی تھی ۔اسکے جاتے ہی طهٰ نے پتیلے کا ڈھکن اٹھا کر دیکھا تھا ۔پھر ہاٹ پاٹ میں روٹی کی تلاش میں ہاتھوں کو زحمت دی ۔اسکے لئے کھانا بنایا گیا تھا ۔اور فلحال یہ بھی غنیمت تھی ورنہ تو وہ باہر سے کھانا کھانے کی پلاننگ کیے ہوئے تھا ۔اتنا سب ہو جانے کے بعد وہ اسکے لئے کھانے بنائے گی یہ توقع تو اسے ہرگز نہیں تھی ۔
اپنے لئے کھانا نکال کر وہ صوفے پر آ گیا تھا ۔ٹی وی آن کرتے اسپورٹس چینل لگایا تھا ۔اب نظریں ٹی وی کی سکرین پر مركوز تھیں اور خود وہ کھانا کھانے میں مگن تھا ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
اگلے تین چار دنوں میں اس نے فلیٹ کے چھوٹے موٹے سبھی کام نپٹائے تھے ۔اپنے تئیں وہ ضرورت کی ہر چیز اسے مہیا کر چکا تھا ۔اپنے آفس کے کیے بھی وہ ڈریس شرٹ پینٹس اور ٹائیوں سے لے کر جوتوں تک کی شاپنگ کر چکا تھا ۔صوفے پر لگے انبار کو کچن سے کمرے کی طرف جاتی ہانی نے بے یقینی بھری حیرانی سے دیکھا تھا ۔وہ اپنی زندگی میں کس قدر مگن و مطمئیں تھا ۔دوسروں کی زندگیوں میں بھونجال لا کر وہ خود کس قدر آسانی سے آگے بڑھ رہا تھا ۔تبھی کمرے سے نکلتے طهٰ نے اسکو حیرت کا مجسمہ بنے یوں صوفے پر دهرے شاپنگ بیگز اور بکھرے سامان کو گھورتے دیکھا تھا ۔اسکی آمد کے ساتھ ہی وہ اسکے پاس سے کہنی كتراتے کمرے میں چلی گئی تھی ۔
طهٰ نے اپنے تمام کپڑے خود استری کر کے الماری کی ایک طرف ہینگ کیے تھے ۔لیونگ ایریا کے ایک طرف رکھے استری اسٹینڈ پر کھڑا وہ بڑی جانفشانی سے یہ کام سر انجام دے رہا تھا ۔جب کچن میں کھڑی آٹا گوندھتی ہانی کی غیر ارادی نگاہ اٹھی تھی ۔اور پھر وہ خود ماضی کی بھول بھلیوں کی مسافر بن بیٹھی تھی ۔
جاتی گرمیوں کی وہ ایک دوپہر تھی ۔وہ کالج سے واپس آئی تھی ۔چھوٹی مامی اور ماہی دونوں گھر پر نہیں تھیں تو کام کا سارا لوڈ بڑی مامی پر آ گیا تھا ۔وہ جلدی جلدی سالن بنا رہی تھیں ۔وہ بھی بنا یونیفارم چینج کیے کچن میں آ گئی تھی ۔انکے منع کرنے کے باوجود اس نے آٹا گوندھ کر رکھا تھا اور اب بیٹھی سلاد بنا رہی تھی ۔
“امی !امی !۔یہ شرٹ پریس کر دیں مجھے جلدی کہیں جانا ہے “۔ہاتھ میں گولا نما شرٹ لئے وہ پکارتے پکارتے نیچےآیا تھا پھر کچن کی دہلیز پر کھڑے ہوتے جهنجهلاتے ہوئے کہا تھا ۔ہانی کو دیکھ کر ایک مسکراہٹ اچھالی گئی تھی جس کا اس نے بھی مسکراہٹ سے ہی جواب دیا تھا ۔
سالن میں ڈوئی ہلاتے فائزہ نے گردن موڑ کر دیکھا تھا ۔
“تھوڑی دیر رک جاؤ میری جان ۔بس سالن تیار ہونے والا ہے ۔ابھی دکان سے نبیل کھانا لینے آتا ہی ہوگا “۔کٹی ہوئی ہری دھنیا ڈالتے وہ عجلت میں تھیں ۔آج کھانا بننے میں پہلے ہی کچھ تاخیر ہو گئی تھی ۔
“مجھے بھی دیر ہو جائے گی ۔ڈھائی بجے پہنچنا ہے مجھے “۔
“تو خود کر لو ۔کون سا مشکل کام ہے “۔اوپر کیبنٹ کھولتے حل پیش کیا جس پر اسکے منہ کے زاویے بگڑے تھے ۔
“مجھ سے نہیں ہوتے یہ کام ۔ہانی میری پیاری گڑیا ۔تم جلدی سے بھائی کو یہ پریس کر دو گی پلیز “۔بے زاری سے کہتے وہ ہانی کو دیکھ کر خوشامدی انداز میں بولا تھا ۔
“بالکل بھی نہیں ۔معصوم بچی گرمی میں آئی ہے ۔آتے ساتھ ہی میرے ساتھ لگ گئی ہے اب تمہارے کام بھی کرتی پھرے “۔اس کے کوئی جواب دینے سے پہلے ہی فائزہ نے سخت نظروں سے اپنے ہونہار سپوت کو دیکھتے قطعی انداز میں کہا تھا ۔جسکی عادتیں لاڈ لاڈ میں انہوں نے خود بگاڑی تھیں ایسا انکے شوہر کا کہنا تھا ۔وہ اکلوتا ہونے کی وجہ سے کچھ زیادہ ہی انکا لاڈلا واقع ہوا تھا ۔عموماً تو اسکے ایسے چھوٹے موٹے نخرے وہ بہت چاہ سے اٹھایا کرتی تھیں ۔مگر کبھی كبهار اسکی خود سے گھر میں ہل کر پانی بھی نہ پینے کی عادت سے چڑ بھی جایا کرتی تھیں ۔
“میں کچھ اور پہن لوں گا “۔
انکے ہری جھنڈی دکھانے پر وہ منہ بسور تے مڑا ہی تھا جب وہ بول اٹھی ۔
“رکیں طهٰ بھائی !یہ تو ہو گیا ہے بس ۔میں کر دیتی ہوں “۔جلدی سے اٹھ کر ٹیبل صاف کرتی وہ چھلکے وغیرہ بن میں ڈال رہی تھی ۔
“تھینک یو ہانی ۔تم جب تک یہ کرتی ہو میں نہا لیتا ہوں “۔جلدی سے شرٹ کرسی پر رکھتے خود وہ باہر نکلا تھا ۔
“کھانا کھا کر جانا ایسے ہی نہ نکل جانا “۔توے کے نیچے آگ جلاتے فائزہ نے اونچی آواز میں کہا تھا ۔
پریشر ککر کی سیٹی بجی تھی جس کے ساتھ ہی وہ چونک کر حال میں واپس آئی تھی ۔استری کا پلگ نکلا ہوا تھا اور خود وہ کہیں نظر نہیں آ رہا تھا ۔یقیناً کمرے میں کپڑے ہینگ کرنے گیا تھا ۔
آٹا گوندھ کر ایک سائیڈ پر رکھتے خود وہ ہاتھ نل کے نیچے کیے دھو رہی تھی ۔اس وقت آنکھوں میں ہونے والی جلن زیادہ تھی یا دل کی جلن ۔وہ اندازہ نہیں کر پائی تھی ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
“یہ رکھ لو ۔ضرورت پڑ سکتی ہے “۔رات کو وہ کچن سمیٹ کر کمرے کی طرف بڑھنے لگی تھی ۔جب وہ اسکا راستہ روکے کھڑا، ہاتھ میں پکڑا باکس اسکی طرف بڑھا رہا تھا ۔ہانی نے نا سمجھی سے اسے دیکھا پھر اسکے ہاتھ میں موجود ڈبے کو ۔وہ موبائل کا باکس تھا ۔پہلے تو اسکا جی چاہا صاف انکار کر دے ۔اس شخص سے کچھ بھی لینا اب اسے ہرگز گوارا نہیں تھا ۔مگر پھر ذہن میں اک اور خیال کے آتے اس نے بلا چوں چرا اسکے ہاتھ سے وہ باکس لے لیا تھا ۔اسکے پاس سے گزر کر وہ آگے بڑھی تھی جب اسکی آواز نے اسکے قدموں کو زنجیر کیا تھا ۔
“ایک بات یاد رکھنا ہانی ! تم ان لوگوں سے رابطہ بالکل بھی نہیں کرو گی ۔اگر تم نے ایسا کچھ بھی کیا تو نتائج کی ذمہ دار تم خود ہوگی ۔میں ایک منٹ بھی نہیں لوں گا سوچنے کیلئے ۔تم سے ہر تعلق توڑ کر انہی میں واپس چھوڑ آؤں گا ۔اس لئے کوئی بھی رابطہ قائم کرنے سے پہلے سو نہیں ہزار بار سوچنا “۔اسکی سرد و سپاٹ سی آواز میں جو قطعی پن تھا وہ اسے منجمد کر گیا تھا ۔وہ اتنا بے رحم کب سے ہو گیا تھا وہ جان ہی نہیں پائی تھی ۔
غلطی اسکی اپنی تھی اور سزاوار وہ ٹھہرائی گئی تھی ۔اپنی کوتاہیوں سمیت وہ اکڑ کر کھڑا تھا اور جهكنا اسکا مقدر کر دیا گیا تھا ۔تو کیا اس نے پہلی بار جھک کر غلطی کر دی تھی جس کا خميازہ اب ہمیشہ اسے ہی جھک کر بھگتنا تھا ۔
کچھ بھی کہے بنا وہ اندر کمرے میں گم ہو گئی تھی ۔اسکا دل چینخا تھا ،چلایا تھا مگر زبان اب بھی خاموش رہی تھی ۔اور یہ خاموشی نجانے کب تک اسکی ساتھی رہنے والی تھی ۔اسکے اندر پكتا آتش فشاں ابھی اسی کو جهلسا رہا تھا مگر جلد ہی اسکی لپیٹ میں طهٰ ابراهیم نے بھی آنا تھا ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
“شام کو تیار رہنا صارم نے کھانے پر بلایا ہے “۔آج اسکے آفس کا پہلا دن تھا ۔صبح نک سک سا تیار وہ باہر آیا تو حسب معمول وہ اپنا ناشتہ لئے کمرے کی طرف جانے لگی تھی ۔اسکی آواز پر رکی ضرور پر پلٹنا گوارا نہیں کیا گیا تھا ۔
اس کے جانے کے بعد وہ گھر کے چھوٹے موٹے کام کرتی جلد ہی فارغ بھی ہو گئی تھی مگر یہ فراغت اسکے لئے آج کل عذاب بنی ہوئی تھی ۔بیڈ پر بیٹھتے اسکی نظر سائیڈ ٹیبل پر رکھے موبائل پر پڑی تھی ۔ذہن پر زور دیتے اس نے ماہی کا نمبر یاد کرنا چاہا تھا ۔اور پھر وہ اس میں کامیاب بھی رہی ۔
بے چینی سے موبائل کان سے لگائے وہ پلکیں موندے کال اٹھائے جانے کی منتظر تھی جب ایئر پیس سے اسکی آواز سنائی دی ۔
“ہیلو “۔
“ماہی “۔آنکھیں جھٹ سے کھول کر سرسراتی آواز میں بہت آہستگی سے کہا گیا تھا ۔دوسری طرف کچھ دیر کے لئے سناٹا چھا گیا ۔
“ہانی ؟”۔اسکی آواز میں بے یقینی تھی ۔
“ماہی مامو سے کہیں مجھے آ کر لے جائیں ۔مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گئی ہے ۔۔۔۔۔مجھے ۔۔۔۔۔۔مجھے طهٰ کے ساتھ نہیں آنا چاہئے تھا “۔بھرائی آواز میں وہ سرعت سے بولتی چلی گئی تھی جیسے ایک پل کی بھی دیری کی تو اسکے مامو کو آنے میں مزید دیر ہو جائے گی ۔
دوسری طرف بلکل خموشی چھائی ہوئی تھی ۔
“ماہی ؟۔۔۔۔آپ سن رہی ہیں میری بات ؟”۔اسکی بھیگی ہوئی آواز میں بے کلی حد سے سوا تھی ۔
“طهٰ کو پتہ ہے تمہاری اس کال کا ؟”۔اس غیر متوقع سوال پر وہ تھم سی گئی تھی ۔
“نہیں ۔۔۔انہوں نے مجھے منع کیا ہے ۔میں گھر میں کسی سے رابطہ نہیں کر سکتی ورنہ وہ مجھے چھوڑ دیں گے ۔لیکن میں آپ سے کہہ رہی ہوں نا مجھے ۔۔۔۔مجھے خود بھی ان کے ساتھ نہیں رہنا ۔مجھے آپ سب کے پاس واپس آنا ہے ۔آپ ۔۔۔آپ میری مامو سے بات کروا دیں ۔مجھے پتہ ہے وہ ۔۔۔وہ مجھ سے ناراض ہوں گے۔میں نے انکی بات نہیں مانی تھی مگر میں معافی مانگوں گی تو جلدی سے مان جائیں گے ۔پلیز ماہی میری بات کروا دیں “۔مسلسل بہتی آنکھوں سے گال پر لڑھکتے آنسوؤں کو دوسرے ہاتھ سے صاف کرتی جا رہی تھی ۔آواز کی لڑکھڑاہٹ پر چاہ کر بھی وہ قابو پانے میں ناکام ہو رہی تھی ۔بے بسی کی انتہا تھی جو اس کو اپنے شکنجے میں لئے ہوئے تھی ۔اسکے ذہن و دل پر بس ایک ہی دھن سوار تھی اسے بس واپس جانا تھا ۔
“میری بات سنو ہانی “۔اسکی آواز پر وہ سانس تک ساكن کر گئی تھی ۔
“اگر طهٰ نہیں چاہتا تو فلحال کسی سے بھی رابطہ مت کرو ۔جذباتی ہو کر مت سوچو ۔اگر اس نے تمہیں چھوڑ دیا تو کیا کرو گی تم ؟۔بدنامی کا ایک اور ٹیکہ اپنے ماتھے پر سجا لینا گوارہ کر لو گی تم ؟۔ہو سکتا ہے تمہیں ابھی میری بات سمجھ نہ لگے مگر یہی صحیح ہوگا ۔جو پہلے ہی برا ہو چکا اس کا دکھ سب کو ہے مگر مزید کچھ بھی غلط ہوا تو اس بار شاید جو نقصان ہو وہ نا قابل تلافی ہو ۔تایا جان بہت غصے میں ہیں وہ تم سے بات نہیں کریں گے ۔گھر میں کسی کو تم دونوں کا نام تک لینے کی اجازت نہیں ہے ۔مگر تم فکر مت کرو کچھ وقت لگے گا ۔انکا غصہ ٹھنڈا ہو گا تو پھر سب ٹھیک ہو جائے گا ۔لیکن ابھی اگر انھیں تمہاری کال کا معلوم ہوا تو وہ اور بھی زیادہ غصہ ہوں گے ۔تم مجھے آیندہ کال مت کرنا میں تایا جان کو مزید کوئی دکھ نہیں پہنچا سکتی “۔افسردگی سے کہتے دوسری طرف سے لائن ڈس کنیکٹ کر دی گئی تھی ۔
“ہیلو ۔ہیلو ماہی “۔دوسری طرف چھایا گہرا سکوت اسے مایوس لٹا گیا تھا ۔موبائل ہاتھ میں سختی سے پکڑتے اس نے نیچے کیا تھا ۔مژدگی سے سر سرہانے پر ڈالتے وہ روتی چلی گئی تھی ۔اس وقت یہ وہ واحد کام تھا جو وہ کر سکتی تھی ۔زندگی میں یک لخت گھٹن اور اندھیرے کا احساس مزید بڑھ سا گیا تھا ۔
