Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah e Yaar Teri Musaftein (Episode 13)Part 1,2

Raah e Yaar Teri Musaftein by Umme Abbas

لیونگ ایریا میں صوفے پر دونوں پیر سمیٹ کر بیٹھی وہ سر جھکائے سوچوں میں بری طرح غرق تھی ۔سر پر گلابی رنگ کا سکارف لپیٹے پورے وجود کے گرد بڑی سی گرم شال لئے وہ گود میں رکھے رجسٹر پر جھکی ہوئی تھی ۔سردی تھی مگر اسے کچھ زیادہ ہی لگتی تھی ۔وہ بی ایس کی سٹوڈنٹ تھی پیپرز جوں جوں قریب آ رہے تھے اسکی پڑھائیاں بھی عروج کی جانب گامزن تھیں ۔ ہاتھ میں پکڑی پنسل اضطراری انداز میں گھماتے ہوئے اسکی شکل سے لگ رہا تھا وہ کسی بھی وقت رو دینے کو تھی ۔
اکیڈمی سے لوٹے طهٰ نے گھر میں داخل ہوتے ساتھ ہی اسکا روہانسی چہرہ دیکھ کر رکتے ہوئے گہرا سانس بھرا تھا پھر وہ مضبوط چال چلتا اس تک آیا تھا ۔ذرا برابر صوفے سے دور کھڑے ہوتے وہ نظریں اسکےرجسٹر پر جمائے ہوئے تھا ۔سفید صفحے پر میتھس کا ایک سوال درج شدہ تھا جو حل کیا جا رہا تھا مگر شروع کے دو سٹیپس کے بعد وہ پھنس گئی تھی اور آگے بار بار کٹنگ کی جا رہی تھی ۔
اس کے جوتوں پر نگاہ پڑی تو وہ چونک کر اوپر چہرہ اٹھائے اسے دیکھنے لگی تھی ۔اور پھر پانیوں بھری آنکھوں کے ساتھ اس کے چہرے پر ڈھیر سارا سکون اترتا گیا ۔اسکی بھرائی آنکھیں دیکھ کر طهٰ نے تاسف بھری نظروں سے اسے گھورا تھا ۔
“رونا کسی مسئلے کا حل کبھی نہیں ہوتا ام ہانی ۔کتنی بار سمجھاؤں تمہیں یہ ایک بات “۔اسکا انداز ڈپٹنے جیسا تھا البتہ آواز کی نرمی برقرار تھی ۔وہ اس سے سخت لہجہ اختیار کر بھی نہیں سکتا تھا ۔بیگ ہاؤس کا وہ سب سے بزدل اور چھوٹے دل کا بچہ تھا جسے رونے کے لئے بہانہ چاہیے ہوتا تھا ۔کچھ اس کے ساتھ ہوئے حالات و واقعات کے باعث طهٰ کے دل میں اسکے لئے شروع سے ہی سوفٹ کارنر رہا تھا ۔
“رو تو نہیں رہی میں ۔وہ تو ۔۔۔۔وہ تو کتنی دیر سے ایک ہی جگہ نظریں جمائے رکھنے سے آنکھوں میں پانی اکٹھا ہو گیا ہے “۔پنسل رجسٹر پر رکھتے خفت زدہ ہوتی ہونٹوں کو مسکراہٹ کے انداز میں کھینچتے وہ سرعت سے دونوں ہاتھوں سے آنکھوں کو مسلتے ہوئے کمزور سا اپنا دفاع کر رہی تھی ۔مگر بھرائی ہوئی آواز سب راز افشا کرنے کو کافی تھی ۔طهٰ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ در آئی ۔
“انسان کو وہ کام کبھی نہیں کرنا چاہیے جو اسکے بس کا نہ ہو ۔تمہیں جھوٹ بولنا نہیں آتا بچہ ۔لاؤ دکھاؤ کیا سمجھ نہیں آ رہا “۔وہیں کھڑے ہاتھ بڑھا کر وہ رجسٹر کی طرف اشارہ کر رہا تھا ۔خفیف سا مسکراتے ہوئے ام ہانی نے وہ اسکی طرف بڑھایا تھا ۔جسے تھام کر وہ دوسرے صوفے پر بیٹھ چکا تھا ۔چند سیکنڈز سوال پر غور کیا تھا پھر بنا چہرہ اٹھائے ہاتھ اسکی طرف بڑھایا تھا جو اب اطمینان سے بیٹھی تھی ۔جانتی تھی کچھ ہی دیر میں یہ پرابلم حل ہونے والی تھی پھر کبھی نہ الجھنے کے لئے ۔بقول طهٰ ” استاد محترم ” جو آ گئے تھے ۔ہانی نے ہاتھ میں پکڑی پنسل لپکنے کے سے انداز میں آگے ہو کر اسے دی تھی ۔اور خود پاؤں نیچے اتارتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی تھی ۔طهٰ اب تھوڑا آگے کو جھک کر رجسٹر میز کی سطح پر رکھ چکا تھا ۔ام ہانی اس کے پاس آئی تھی پھرہیٹر کے پاس نیچے رکھے کشن پر اس سے مناسب فاصلے پر بیٹھ گئی تھی ۔طهٰ کے ہونٹوں کو دھیمے سے تبسم نے چھوا ۔جب سے اس نے ہوش سنبھالا تھا وہ کبھی اس کے برابر میں ایک ہی صوفے پر نہیں بیٹھی تھی ۔اور اس کے یہ محتاط انداز طهٰ کے دل میں اسکی عزت کہیں گنا بڑھا دیا کرتے تھے ۔
اب وہ جھک کر سوال حل کر رہا تھا اور ہانی پوری توجہ سے چہرہ جھکائے دیکھ رہی تھی ۔اسکی فراٹے بھرتی بنا رکے چلتی زبان اور ہاتھ ایک ساتھ تیزی سے چل رہے تھے ۔اور ٹھیک دو منٹ بعد صحیح جواب جلی حروف میں جگمگا رہا تھا ۔پنسل رکھ کر سیدھا ہوتا وہ اب بھنویں اٹھا کر سوالیہ انداز میں اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔چند پل کے لئے ہانی نے چہرہ اٹھایا تھا اور سب ٹھیک ٹھیک سمجھ آ جانے پر سر کو اثبات میں جنبش دیتے ہوئے نظریں واپس جھکا لی تھیں ۔
“شکریہ طهٰ بھائی ۔۔۔۔میں آدھے گھنٹے سے سر کھپا رہی تھی۔اور آپ نے دو منٹ بھی پورے نہیں لگائے ” ۔دھیمی سی مسکان کے ساتھ رجسٹر کو دیکھتے مشکور نظر آتی وہ توصیفی انداز میں بولی تھی ۔ طهٰ نے سر کو خم دیتے شکریہ موصول کیا تھا ۔میتھس میں وہ بہت اچھا تھا ۔اسے دیکھ کر ہی ہانی نے بھی یہ سبجیکٹ چوز کیا تھا ۔
“ہم استاد محترم ہیں بچہ ۔جب تک ہم ہیں بھلا تمہیں کیا غم ہے “۔گردن تان کر شوخی سے کہتے تھوڑا آگے ہو کر اسکا سر شفقت سے تهپکتا وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔
اس کے جانے کے بعد وہ ہاتھ لمبا کرتے صوفے پر رکھی کتاب اٹھاکر میز پر رکھتے ،رجسٹر اپنے سامنے کیے اب دوسرا سوال حل کرنے کی کوشش کرنے لگی تھی ۔
کچن میں داخل ہوتے اس نے با آواز بلند سلامتی بھیجی تھی ۔پلٹ کر اسے دیکھتے ہوئے فائزہ کی جان میں جان آئی تھی ۔
جس کا فائزہ اور آنسہ نے بیک وقت جواب دیا تھا ۔
“کہاں غائب ہو صبح سے ؟۔تمہارے ابو دو بار گھر فون کر کے پوچھ چکے ہیں تمہارا۔اور تمہارا نمبر کیوں بند ہے ؟ “۔آٹا گوندھتے ساتھ وہ ذرا سخت آواز میں اس سے استفار کر رہی تھیں۔
چچی ایک کپ چائے پلیز ۔کاؤنٹر پر بیٹھتا وہ جو اب آنسہ سے چائے کی فرمائش کر رہا تھا انکی بات پر چونکتے ہوئے موبائل جیب سے نکالا تھا جو کہ پاورڈ آف تھا ۔آنکھیں بند کرتے اسی موبائل سے اپنا ماتھا کھٹکھٹایا تھا ۔
“امی وہ فیصل ہے ناں ۔اسکی آج دبئی کی فلائٹ تھی صبح بس میں اس سے ملنے گیا تھا مگر اس نے زبر دستی کھانے پر روک لیا ۔ابھی ابھی اسے ایئر پورٹ چھوڑ کر آیا ہوں ۔ابو سے کل ذکر کیا تھا میں نے “۔چولہے پر رکھی دیگجی کا ڈھکن اٹھا کر چیک کیا تھا ۔ٹینڈے پکے دیکھ کر منہ کے زاویے بگڑے تھے مگر پارہ پہلے سے ہی بڑھا دیکھ کر وہ چپ ہو گیا تھا ۔آنسہ خموشی سے اس کے لئے چائے کا پانی چڑھا رہی تھیں ۔
“کل کے ذکر کرنے اور آج بتا کر جانے میں زمین آسمان کا فرق ہے طهٰ ۔تم اپنی حرکتوں کی وجہ سے اپنی سختی کو خود آواز دیتے ہو ۔اب مجھ سے کوئی امید مت رکھنا کہ میں تمہاری حمایت میں کچھ بولوں گی ۔خود نمٹ لیں گے ابراھیم صاحب تم سے “۔
آٹا سائیڈ پر کرتے ہوئے وہ اب ہاتھ دھو رہی تھیں ۔طهٰ نے بے چارگی سے آنسہ کی طرف دیکھا تھا جو آنکھیں بند کرتے اسے چپ رہنے کا اشارہ کر رہی تھیں ۔آگے سے وہ ڈھٹائی سے ہنس دیا تھا ۔اور یہی وہ پل تھا جب فائزہ نے اسکی طرف دیکھا تھا ۔اور انکا میٹر اور بری طرح گھوما تھا ۔
“ہنسو ہنسو بیٹا شاباش ہے ۔ماں کا دل جلا کر ہنسو تم ۔پتہ نہیں وہ کون سی مائیں ہیں جن کے بچے بڑے ہوں توانکی سوجھ بوجھ اور سمجھداری دیکھ کر وہ سکھ کا سانس لیتی ہیں یہاں تو لاپرواہیاں ہیں کہ بڑھتے قد کے ساتھ اور بڑھ گئی ہیں “۔
انکے ناراضگی سے کہنے پر وہ ہنستا ہوا اٹھا تھا اور انکے گلے لگا تھا ۔
“اوہ میری پیاری امی “۔
“پیچھے ہٹو ۔سب ڈرامے ہیں تمہارے ۔ماں کا ذرا خیال نہیں کہ ایک فون کر کے بتا ہی دوں “۔اسے پیچھے کرنے کی کوشش میں وہ غصے سے کہہ رہی تھیں اور وہ انھیں مزید خود میں بھینچ رہا تھا ۔
“اچھا معاف کر دیں اس بار ۔آئندہ نہیں کروں گا ایسا ۔سچی میں دھیان نہیں رہا “۔انکا سر چوم کر اب وہ کان پکڑے کھڑا تھا ۔آنسہ نے اپنی امڈ آنے والی ہنسی کو بڑی مشکل سے روکا تھا ۔طهٰ اور اسکی پیاری سی چالاکياں ۔یہ سب انکے لئے کوئی نئی بات نہیں تھی ۔فائزہ نے اسے گھورنا چاہا تھا مگر مسکراتا ہوا منت بھری نظروں سے انھیں دیکھتا وہ انکی ناراضگی کو اڑنچھو کر گیا تھا ۔مگر بنا کوئی تاثر دیے وہ وہاں سے نکل گئیں تھیں ۔پیچھے طهٰ نے انکے باہر نکلنے پر آنسہ کی طرف دیکھا تھا ۔
“زیادہ خفا ہو گئی ہیں “۔بلند آواز میں اپنے خیال کا اظہار کرتا وہ کرسی کھینچ کر بیٹھا تھا ۔
“نہیں ابھی ٹھیک ہو جائیں گی تھوڑی دیر تک ۔تم سے کہاں ناراض ہو سکتی ہیں ۔لیکن تم بھی تھوڑا دھیان رکھا کرو بیٹا ۔ماں کا دل ہے ناں طرح طرح کے وسوسے آنے لگتے ہیں “۔چائے کا کپ اسکے سامنے رکھتے ہوئے وہ متانت سے سمجھاتے اسکا کندها تهپک رہی تھیں ۔سر ہلا کر وہ کپ اٹھا چکا تھا ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .

رات کھانے کے ٹیبل پر سب ایک ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ۔سربراہی کرسی پر ابراھیم بیٹھے خموشی سے کھانا کھا رہے تھے ۔طهٰ کن اکھیوں سے کتنی بار انھیں دیکھ چکا تھا یہ طوفان سے پہلے کی خموشی تھی ۔مدد طلب نظروں سے ماں کی جانب دیکھا جو اب بھی اسکی طرف نہیں دیکھ رہی تھیں ۔اور تو اور آج وہ بے دلی سے ٹینڈے کھانے پر مجبور تھا کیوں کہ ناراضگی کے طور پر انھوں نے اسے کچھ اور نہ تو خود بنا کر دیا تھا بلکہ آنسہ کو بھی سختی سے منع کر دیا تھا ۔
“کہاں تھے صبح سے تم ؟”۔سب سے پہلے وہی کھانا کھا کر اٹھتا کھسکنے کے چکر میں تھا جب ہاتھ صاف کرتے ابراھیم نے بنا اسکی طرف دیکھے کہاں تھا ۔وہاں موجود سبھی افراد جانتے تھے وہ کس ہستی سے مخاطب ہیں ۔
وہ دوبارہ سے کرسی پر ٹک گیا تھا ۔
“ابو وہ فیصل دبئی گیا ہے اسے ایئر پورٹ چھوڑنے گیا تھا “۔نظریں جھکا کر آہستہ آواز میں اس نے کہا تھا ۔ابراھیم نے سر کو ہلایا تھا ۔
“ہوں ۔۔۔۔تو ایئر پورٹ تک چھوڑنے کی کیا ضرورت تھی بیٹا ۔دبئی تک چھوڑ کر آتے “۔سنجیدگی سے کیے طنز پر نا چاہتے ہوئے بھی اسے ہنسی آئی تھی مگر وہ ضبط کر گیا ۔مگر سامنے دوپٹہ سر پر لئے ماہی پر ایسی کوئی پابندی نہیں تھی چہرہ جھکا کر وہ دبے سے انداز میں مسکرائی تھی جسے چھپانے کے لئے اس نے جلدی سے نواله منہ میں رکھا تھا ۔طهٰ کی نظروں سے اسکی مسکراہٹ مخفی نہیں رہ سکی تھی ۔ہانی اور فہد البتہ اسے ہمدردی بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔
“جانے دیں بھائی صاحب بچہ ہے “۔ندیم بیگ فوری طور پر بھتیجے کی مدد کو میدان میں کودے تھے ۔
“بچہ نہیں ہے ندیم ۔پچیس سال کا ہو گیا ہے ۔اس کی عمر کے لڑکے پورا پورا گھر سنبھالے بیوی بچوں والے ہیں اور اسکا بچپنا ہی ختم نہیں ہو رہا ۔یہ سب تم لوگوں کا بے جا لاڈ پیار ہے جو اسے بگاڑ رہا ہے ۔یہی حالات رہے نا تو ایک دن ہاتھ ملو گے تم سب “۔سخت آواز میں غصے سے کہتے وہ اسکے ساتھ ساتھ سب پر اپنی ناراضگی کا اظہار کر رہے تھے ۔
ٹیبل پر ایک دم سے تناؤ بڑھ گیا تھا ۔کھانا تو سبھی کھا ہی چکے تھے اب ہاتھ روکے اور دم سادھے ابراھیم بیگ کی گھن گرج سن رہے تھے ۔انکے غصے سے اس گھر کا ہر فرد پناہ مانگتا تھا ۔سب کے سامنےاور خاص کر خود سے چھوٹوں کے سامنے یوں ڈانٹ پڑنے پر اسکا چہرہ خفت سے سرخ ہوا تھا ۔ماہی ،فہد اور ہانی آگے پیچھے وہاں سے اٹھ کر چلے گئے تھے ۔اب گھر کے چاروں بڑوں کے ساتھ وہ سر جھکائے بیٹھا تھا ۔
“آج سبحان بھی چھٹی پر تھا ۔نیا مال بھی آنا تھا اوپر سے یہ صاحب بھی غائب ہو گئے ۔کتنی مشکل ہوئی ہو گی باپ اور چچا کو انہیں کیا پرواہ ہے ۔بس صبح صبح ٹھاٹ سے تیار ہو کر آوارہ گردی کے لئے نکل پڑتے ہیں صاحب بہادر ۔میری ایک بات کان کھول کر سن لو طهٰ ۔بس ڈھائی ماہ ہیں تمہارے پاس اس میں اگر کوئی نوکری ملی تو جی بسم اللہ ورنہ دوکان پر بیٹھو ۔اپنے پیروں پر کھڑے ہو تا کہ میں بھی ندیم اور آنسہ کے سامنے سر خرو ہو سکوں ۔یہی حالات رہے تو جلد ہی ماہی کا کہیں اچھا رشتہ میں خود دیکھوں گا “۔درشت سے انداز میں اسے باز پرس کرتے آخر میں وہ اسکی دکھتی رگ پر پاؤں رکھ چکے تھے ۔وہ بلبلا اٹھا تھا ۔مگر چہرہ بے تاثر رکھے نظریں ہنوز جھکائے بیٹھا رہا ۔انکی اس بات پر وہاں موجود باقی کے تین نفوس نے بے یقینی سے انھیں دیکھا تھا ۔
ابراھیم غصے سے تن فن کرتے وہاں سے اٹھ گئے تھے ۔پیچھے وہ کچھ دیر سر جھکائے اہانت سے دہکتے گالوں کے ساتھ بیٹھا رہا تھا پھر ایک جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا ۔
“طهٰ “۔فائزہ نے اسے پکارا تھا مگر وہ ان سنی کرتا سیڑھياں چڑھ گیا تھا ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .

اگلی صبح وہ ابراھیم کی ناراضگی ختم کرنے کے لئے شرافت سے خود ہی فجر کے وقت اٹھ گیا تھا ۔گھر سے انکی معیت میں نکلتے ہوئے اس نے براؤن کلر کی شلوار قمیض پر لیدر کی جیکٹ پہن رکھی تھی ۔ندیم کچھ دیر سے جماعت کے وقت آتے تھے جبکہ ابراھیم اذان سے کچھ وقت پہلے ہی نکل جایا کرتے تھے ۔اکثر طهٰ بھی انکے ساتھ ہوتا تو پورا راستہ خموشی سے کٹ جاتا تھا ۔انکے درمیان بات چیت بہت کم ہوتی تھی بوقت ضرورت ۔اور یہی وجہ تھی وہ ایک دوسرے سے اس طرح سے آسانی سے بات نہیں کر پاتے تھے جو اس رشتے میں ہونی چاہیے ۔
ایسا نہیں تھا ابراھیم کو صرف اس سے شکایتیں ہی رہتی تھیں ۔اسکی چند ایک باتوں کے علاوہ وہ ایک اچھا بیٹا تھا ۔اسکا قد ان سے بھی اونچا ہو گیا تھا مگر اسکی آواز انکی آواز سے کبھی اونچی نہیں ہوئی تھی ۔انہیں اس سے محبت بھی بہت تھی بس زیادہ تر مشرقی باپ کی طرح وہ کبھی اسکا اظہار نہیں کرتے تھے ۔کبھی کسی بات کو لے کر وہ اس سے لاکھ ناراض ہوں مگر صبح ساتھ جاتے ہوئے واپسی پر مسجد سے نکلنے پر جب وہ جھک کر انکے جوتے سیدھے کرتا تھا تو انکے دل میں ڈھیروں سکون اتر کر دعا کا روپ دھار لیتا تھا ۔دل اسکے لئے فوری نرم پڑ جاتا تھا ۔مگر یہ بات وہ اسے کبھی بتا نہیں سکے تھے ۔رشتہ کوئی بھی ہو اس میں چھوٹی چھوٹی باتوں سے دوسرے کے لئے اپنے جذبات و احساسات کی ترجمانی کرتے رہنا چاہیے ۔اس سے باہمی تعلقات مضبوط اور پائیدار ہوتے ہیں ۔ابراھیم کی وہ اکلوتی اولاد تھی اس لئے بچپن سے ہی اس کے بگڑ جانے کے خدشے کو لے کر وہ اس کے ساتھ سخت رہے تھے ۔وقت کے ساتھ ساتھ یہ سختی انکی عادت بنتی چلی گئی ۔مگر ایک غلطی ہو گئی تھی وہ کبھی یہ نہیں سمجھ پائے تھے کہ اسکی بہتری کے لئے خود پر طاری کی گئی یہ سختی اعتدال کی حد پھلانگ گئی تھی ۔
اس صبح ناشتے پر فائزہ نے اسکی پسند کا ناشتہ بنایا تھا ۔روایتی ماؤں کی طرح جیسے ڈانٹ ڈپٹ کر پھر انکا دل اولاد کے لئے پسیج جاتا ہے اور پھر انکو خصوصی پروٹوکول دیا جاتا ہے ۔
طهٰ کا موڈ بھی نارمل تھا ۔وہ کسی بھی بات کو زیادہ دیر تک دل سے لگا ئے رکھنے والوں میں سے نہیں تھا ۔اگلے چند دن بہت سکون سے گزرے تھے ۔کیوں کہ وہ روز صبح ابراھیم کے ساتھ جا کر دکان پر بیٹھتا تھا اور شام کو اکیڈمی کی ٹائمنگز پر اٹھ کر آتا تھا ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .

ام ہانی کی کالج وین نہیں آئی تھی ۔صبح اسے طهٰ چھوڑ گیا تھا ۔اب چھٹی ہوئے کافی دیر ہو گئی تھی مگر ابھی تک وہ اسے لینے نہیں آیا تھا ۔گھر زیادہ فاصلے پر نہیں تھا پیدل جانے میں پندرہ منٹ ہی لگتے تھے ۔کچھ سوچ کر وہ پیدل ہی وہاں سے اپنے ساتھ کی دو اور لڑکیوں کے ساتھ نکلی تھی ۔راستے میں وہ دوسری گلی مڑ گئیں تو وہ اپنے گھر کی طرف جاتی گلی کی طرف مڑ گئی تھی ۔سر پر اسکارف اور کندھے پر بیگ لئے وہ کندھوں پر ڈالی چادر سے خود کو اچھے سے کور کیے سر جھکائے ٹھوڑی سینے سے لگائے چلے جا رہی تھی ۔تھوڑا آگے گئی ہی تھی کہ پاس سے گزرتے بائیک پر بیٹھے دو لڑکوں میں سے پچھلے نے اسکی طرف ایک پرچی پهینکی تھی جو اسکے سینے سے لگ کر زمین پر گری تھی ۔جب تک وہ کچھ سمجھ پاتی بائیک زن سے اسکے پاس سے گزر گئی تھی ۔وہ گردن موڑ کر خوفزدہ نظروں سے جاتی بائیک کو دیکھتی جو ہی آگے مڑی سامنے چہرے پر سختی لئے ہونٹ بھینچے کھڑے طهٰ کو دیکھ کر اسکی سانس تک ساکن ہوتی گئی تھی ۔زرد پڑتے چہرے کے ساتھ اس نے خوف سے پھیلی آنکھوں سے اسے جھک کر پرچی اٹھاتے دیکھ رہی تھی ۔

Part 2

سیدھا ہوتے ہوئے چہرے پر غضب ناک سی سرخی لئے اب وہ توڑ مروڑ کر گولے کی شکل بنائے ہوئے کاغذ کو کھول رہا تھا ۔اس پر لکھے نمبر کو دیکھ کر اس نے غائبانہ طور پر زیر لب ان موٹر سائیکل سواروں کو ایک مہذب گالی سے نوازا تھا ۔پھر نظریں اٹھا کر سامنے آنکھوں کی ساکت پتلیوں کے ساتھ بت بنی ام ہانی کو دیکھا تھا جس کا رنگ ہر گزرتے لمحے زرد تر ہوتا جا رہا تھا ۔
وہ کبھی بھی مر کر بھی وہ غلطی نہیں دوہرانا چاہتی تھی جو اسکی ماں نے کی تھی ۔بعض محبتوں کے انجام بڑے بھیانک ہوتے ہیں ،آنکھیں اپنے خواب دیکھنے کا قرض ساری عمر رو کر چکاتی ہیں ۔وہ پاکیزہ بننے سے ڈرتی تھی۔اپنی ماں کو ملنے والی ذلت اس نے چھوٹی سی عمر میں دیکھی تھی اور اس ذلت نے اسکا بچپن اس سے چھین لیا تھا وہ وقت سے پہلے بڑی ہو گئی تھی ۔بہت چھوٹی عمر میں ہی اس نے خود کو سینت سینت کر رکھنا شروع کر دیا تھا ۔اس وقت اسکی غلطی نہیں تھی مگر پھر بھی وہ چور بن گئی تھی ۔شاید یہ خوف تھا کہیں اسکی ماں کی بد نصیبی اس کے تعاقب میں نہ ہو ۔
“میں ۔۔۔میں نے کچھ ۔۔۔۔نہیں کیا طهٰ بھائی ۔میں نہیں جانتی یہ کون تھے “۔لرزتے لبوں سے بدقت وہ بولی تھی جیسے نہ بولی تو کوئی قیامت برپا ہو جائے گی ۔طهٰ نے ٹھٹک کر اسے دیکھا تھا ۔پھر اپنا ہاتھ اسکے سر پر رکھتے تسلی آمیز انداز میں تهپتهپایا تھا ۔وہ اسکے خدشات بھانپ گیا تھا ۔اس کے چہرے پر ان لڑکوں کی حرکت پر چھائی سختی کو وہ کسی اور رنگ میں لے رہی تھی ۔
“وضاحت کیوں دے رہی ہو ؟۔میں تمہیں جانتا ہوں ۔میں ام ہانی کو جانتا ہوں ۔اور وہ ایسی نہیں ہے ۔وہ ایک بہت اچھی لڑکی ہے جو کبھی کچھ غلط نہیں کر سکتی “۔اپنا ہاتھ پیچھے لیتے ہوئے وہ مسکرا کر اپنے الفاظ پر زور دیتے ہوئےکہہ رہا تھا ۔اب اسکے چہرے پر ازلی نرمی بھرا تاثر لوٹ آیا تھا ۔
اسکے لفظوں نے ام ہانی کے ڈوبتے دل کو تنکے کا سہارا دیا تھا ۔اسکی ساکن ہوئی سانسوں میں روانی سی آ گئی تھی ۔آنکھ سے آنسو تو بہہ نکلا تھا مگر وہ ہلکے دل سے مسکرائی تھی ۔
سنسان پڑی گلی کی ایک سائیڈ پر کھڑے ہوئے وہ دونوں ہی کچھ وقت کے لئے ارد گرد سے بے نیاز ہو گئے تھے ۔ایک خوف کے زیر اثر تھا تو دوسرا اس خوف کو زائل کرنے کی کوشش میں سرگرداں ۔
“ایک بات کہوں ام ہانی ۔زندگی میں کبھی کسی کو تمہاری ذات سے یا کہی کسی بھی بات سے بد گمانی یا غلط فہمی پیدا ہو تو فوری وضاحت کرو ۔اسے ایک بار کھل کر بتاؤ کہ جیسا آپ سوچ رہے ہیں ویسا ہرگز نہیں ہے ۔مگر بات اگر تمہارے کردار کی ہو تو کچھ مت کہو ۔کوئی وضاحت مت دو ۔اگر وہ شخص تمہیں جانتا ہے تو تمہارا سابقہ کردار ہی تمہارے حق میں سب سے بڑی دلیل ہو گا ۔اور اگر نہیں جانتا تو وضاحتیں بھی اپنا آپ کھو دیں گی ۔اپنے کردار کو وضاحتوں کے سرٹیفیکیٹ کا محتاج کبھی مت کرنا “۔چہرے پر بلا کی سنجیدگی اور متانت لئے وہ چمکتی آنکھوں والا لمبا لڑکا سامنے کھڑی خود سے نظریں نا ملا سکنے والی اس چھوٹی سی لڑکی کو ایک اور سبق پڑھا رہا تھا ۔
وقت کی ان ساعتوں نے اداسی سے اس لڑکے کے روشن چہرے کو دیکھا تھا ۔برے وقت کی آہٹیں اس کا پیچھا کر رہی تھیں ۔وہ وقت قریب تھا جب اسکے کہے الفاظ اسکے اپنے آگے آ کھڑے ہوں گے ۔
ام ہانی نے چہرہ صاف کرتے ایک پل کے لئے اسکی طرف دیکھا تھا اور سر ہلا دیا ۔سامنے کھڑے شخص کے الفاظ اس پر اسم پھونکنے کی سی تاثیر رکھتے تھے ۔اسکے الفاظ اسے کبھی نہ بھولنے کے لئے یاد رہتے تھے ۔سبھی سبق ازبر ہو جایا کرتے تھے ۔مگر یہ سبق وقت و حالات بہت جلد اسے بھلا دینے کا عزم کیے بیٹھا تھا ۔
طهٰ نے مسکرا کر قدم آگے بڑھائے تھے ۔دونوں ہاتھ جینز کی جیبوں میں اڑسے وہ اس کی وجہ سے مدهم رفتار سے چل رہا تھا ۔ہانی اس سے دو قدم پیچھے چل رہی تھی ۔
“تم آ کیوں گئی اکیلی ۔میں آ تو رہا تھا ۔”
اسکی بات پر سر اٹھا کر ہانی نے اسکی پشت کو دیکھا تھا ۔ایک دم سے اپنا آپ محفوظ ترین لگنے لگا تھا ۔اور شاید مضبوط بھی ۔
“مجھے لگا آپ بھول نہ گئے ہوں کہیں۔ “
“اب اتنا بھی غیر ذمہ دار نہیں ہوں میں ۔”اسکی بات پر وہ بنا رکے خفا سا کہہ رہا تھا ۔ہانی کا دل فوری سکڑا تھا ۔
“نہیں ! میرا یہ مطلب نہیں تھا ۔آپ شاید مصروف ہوں اس لئے کہا ایسے ۔” طهٰ کے لب مسکراہٹ کے انداز میں پھیلے ۔ہانی اور اسکی وضاحتیں ۔چوبیس میں سے اٹھارہ گھنٹے اسے دوسروں کی خفگی کی پرواہ رہتی تھی ۔
“میں جتنا بھی مصروف ہوں اپنی ذمہ داریاں نبهاتا ہوں ۔بس میری بائیک دغا دے گئی آج ۔”
وہ اسے بتا رہا تھا ۔ام ہانی نے مزید کچھ نہیں کہا تھا ۔ضرورت سے زیادہ اور لمبی بات کرنا اسکی طبیعت کا حصّہ نہیں تھا ۔چہرہ جھکا کر وہ اسکے نقش قدم پر چلتی چلی گئی ۔

. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .

رات کا وقت تھا ۔کمرے میں پھیلی سفید روشنی میں اپنے بیڈ پر کتابیں اور نوٹس پھیلائے وہ سر جھکائے زور و شور سے رجسٹر پر پنسل چلائے جا رہی تھی ۔دوسری طرف تھوڑے فاصلے پر اپنے بستر پر بیٹھی ماہی اپنا پرس کھول کر بیٹھی ہوئی تھی ۔بستر پر سامنے سرخ ،ہرے اور سبز نوٹ رکھے ہوئے تھے جنہیں وہ ہاتھ میں ترتیب سے رکھتے بے چینی سے گن رہی تھی ۔آخری نوٹ اٹھاتے ہوئے اسکے چہرے پر مایوسی چھائی ۔چہرہ اوپر کیے اس نے آنکھیں میچی تھیں پھر کچھ خیال آنے پر مسکراتے ہوئے آنکھیں کھول کر دائیں جانب دیکھا تھا ۔
“ہانی !” بستر پر ترچھی ہو کر بیٹھتے ہوئے اس سے پکارا تھا ۔
“جی -” سر اٹھا کر اسکی طرف دیکھتے وہ پوری طرح اسکی جانب متوجہ ہوئی تھی ۔
“تمہارے پاس پیسے ہوں گے ؟”
اسکے منت بھرے انداز پر اس نے نا سمجھی سے اسے دیکھا تھا ۔
“جی۔ “
“کتنے ہیں ؟” ماہی کی آنکھوں کی چمک بڑھی تھی ۔
“پتہ نہیں ۔میں دیکھ کر بتاتی ہوں ۔” کہتے ہوئے گود میں رکھے رجسٹر کو اٹھا کر سائیڈ پر کرتے وہ بستر سے نیچے اتری تھی ۔اپنی الماری کھول کر اندر سے ایک چھوٹا سا صندوقچی نما دهات کا بنا باکس نکالا تھا جس پر خوب صورت نقش و نگار بنے ہوئے تھے ۔اسکی چودهویں سالگرہ پر یہ اسے فائزہ نے تحفے میں دیا تھا ۔جس میں وہ اپنی جمع پونجی رکھا کرتی تھی ۔
اسے ہاتھ میں لئے وہ ماہی کی پاس آئی تھی ۔اسکے سامنے بیٹھ کر اسے کھولا تھا اور پھر اندر موجود رقم نکال کر اسے دی تھی ۔ماہی نے اسکے ہاتھ سے لے کر انھیں گنا تھا ۔وہ چھ ہزار روپے تھے ۔
“ہانی یہ پیسے مجھے ادھار دو گی پلیز ۔اگلے ماہ واپس کر دوں گی “۔چہرے پر دنیا جہاں کی مسكینیت طاری کرتے وہ بولی تو ہانی نے بنا ایک پل کی بھی دیری کیے سر کو ہاں میں ہلا دیا تھا ۔
“تھینک یو ڈئیر ۔” چینخ نما آواز میں خوشی سے کہتی وہ اسے جھٹ پٹ گلے لگا چکی تھی ۔
“کوئی بات نہیں ماہی ۔آپ کے کام آ جائیں گے تو مجھے خوشی ہوگی ۔”
جھنیپ کر کہتے ہوئے وہ مسکرائی تھی ۔ماہی اس سے تین سال بڑی تھی مگر اسکے کہنے پر وہ اسے آپی ،باجی نہیں کہتی تھی بقول ماہی وہ اب کوئی اتنی بھی بڑی نہیں تھی ۔
“لیکن ابھی بھی کم ہیں ۔” سیدھی ہو کر پیسے واپس پرس میں رکھتے وہ منہ بسور کر کہہ رہی تھی ۔لیکن چند ہی پل بعد وہ مسکراتے ہوئے پاس پڑا دوپٹہ لا پرواہی سے شانے پر پھیلاتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی تھی ۔
“میں طهٰ سے کہتی ہوں جا کر ۔” جوتے پاؤں میں اڑستے ہوئے وہ جلدی سے کمرے سے نکلی تھی ۔سیڑ ھیاں چڑھ کر اب وہ اوپر جا رہی تھی ۔اوپر والے پورشن میں تین کمرے تھے جو کہ آنسہ ،ندیم ،فہد اور طهٰ کے زیر استعمال تھے ۔ابراھیم اور ندیم دونوں بھائیوں نے بہت اچھے سے ایک ساتھ گزر بسر کیا تھا ۔مگر اب بچوں کے مستقبل کے مد نظر اسی لائن میں خریدے عرصہ دراز سے پلاٹ پر ندیم کا گھر زیر تعمیر تھا ۔
طهٰ کے کمرے کی دروازے پر پہنچ کر اس نے کھلے دروازے سے گردن اندر کرتے جھانکا تھا ۔وہ رائٹنگ ٹیبل کے آگے جھکا دراز کھولے کچھ تلاش کر رہا تھا ۔
“آہممممم ” گلا کھنگار کر اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہوئے وہ اندر داخل ہوئی تھی ۔طهٰ نے جھکے ہوئے ہی گردن گھما کر دیکھا تھا اور پھر دراز بند کرتا سیدھا ہوتا پلٹا ۔
“وہ آئے ہمارے کمرے میں خدا کی رحمت ہے ۔
کبھی ہم ان کو تو کبھی اپنےکمرے کودیکھتے ہیں ۔”
حسب حال شعر کو توڑ مروڑ کر ٹھہرے ہوئے دلکش لہجے میں پڑھا گیا تھا ۔دونوں ہاتھ پیچھے ٹیبل پر جما کر وہ اسکے کنارے پر ٹک گیا تھا ۔ماہی دھیما سا ہنسی تھی ۔
“تم تو ایسے کہہ رہے ہو جیسے پہلی بار آئی ہوں ۔”
“نہیں ! میں جانتا ہوں کسی ضرورت کے تحت آئی ہو ۔فرمائیے ملکہ عالیہ خادم کیا خدمت کر سکتا ہے ۔”
سینے پردایاں ہاتھ رکھے وہ تھوڑا سا جھکتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔ماہی نے اسکی پہلی والی بات پر خفیف ہو کر اسے گھورا تھا ۔کہہ تو وہ ٹھیک رہا تھا ۔کسی کام یا اپنے مطلب کے بنا وہ کہیں آنے جانے والوں میں سے نہیں تھی ۔اسکی اپنی دنیا تھی جہاں وہ خود ہی میں مگن رہتی تھی ۔
“اچھا مجھے کچھ پیسے چاہیے ۔” بنا کسی تمہید کے وہ بے نیازی سے بولی تھی ۔سیدھا ہوتا طهٰ اسکا چہرہ دیکھ رہا تھا ۔
“کتنے پیسے چاہیے ؟” کیوں ؟ کس لئے ؟ یہ وہ سوال تھے جو وہ اس سے کبھی نہیں کرتا تھا اور ماہی کو اسکی یہی بات سب سے زیادہ اچھی لگتی تھی ۔وہ نا صرف ایک اچھا مدد گار تھا بلکہ اس سے بھی اچھا راز دار تھا ۔
“دس ہزار بھی ہوئے تو کام چل جائے گا ۔” اس نے بنا کسی جھجک کے اپنی ڈیمانڈ بتائی تھی ۔
“ہوں ۔۔۔۔اس وقت تو میرے والٹ میں بمشکل تین ہزار ہی پڑے ہوں گے ۔کل تک انتظار کر لو تو بینک سے نکلوا دوں گا ۔” بنا ایک لمحہ بھی سوچنے کے لئے ضائع کرتے وہ اپنے مخصوص ٹھہرے ہوئے نرم لہجے میں بولا تھا ۔

“تھینک یو ڈئیر کزن ۔میں تمہیں جلد لٹا دوں گی ۔”
اسکے سرشار لہجے میں کہنے پر وہ بڑے دل سے مسکرایا تھا ۔
“میری ہر چیز تمہاری ہی تو ہے ۔پیسے بھی تو تمہارے لئے ہی جمع کر رہا ہوں ۔”
“میرے لئے ؟” وہ متعجب ہوئی تھی ۔خوب صورت بڑی بڑی آنکھیں پھیل کر کچھ اور بھی سحر طراز ہونے لگی تھیں ۔
“وہ نیکلس یاد ہے تمہیں ؟” مسکراتی آنکھوں سے اسکے دلکش چہرے کا طواف کرتے وہ اسے ماضی کی کوئی بھولی بسری بات یاد کروا رہا تھا ۔
آج سے تین سال پہلے بازار میں جاتے ہوئے ایک بہت بڑے جیولر کی شاپ کی سامنے وہ رکی تھی ۔وائٹ گولڈ کا وہ نفیس سا نیکلس جس پر ننھے سے نگوں کی صورت ڈائمنڈز جڑے تھے دیکھ کر اسکی آنکھیں حیره ہوئی تھیں ۔اسکے چہرے پر کھلتے رنگوں کو طهٰ نے فوری بھانپ لیا تھا ۔وہ آگے بڑھی تو پیچھے سے اس نے سرعت سے موبائل میں اسکی پک لی تھی ۔
“وہ نیکلس !تم بھی کمال کرتے ہو طهٰ ۔میں تو وہ کب کا بھول بھی چکی ہوں ۔” اسے جیسے یاد آیا تھا ۔ساتھ ہی اسکی اس عجیب سی بات وہ سر جھٹک کر ہنس دی تھی ۔
“لیکن میں نہیں بھولا ۔انشاء اللّه بہت جلد میں پیسے جمع کر لوں گا ۔پھر وہ تمہیں دلاؤں گا ۔” دونوں بازو سینے پر باندھ کر وہ مستحکم اور پر عزم آواز میں کہہ رہا تھا ۔ماہی بے دلی سے مسکرائی ۔
“مجھے یوں امیدوں کے سبز باغ مت دکھایا کرو طهٰ ۔میں جانتی ہوں تمہیں جاب مل بھی گئی تو زیادہ سے زیادہ پچاس ساٹھ ہزار ہی کما لو گے تم ۔اس میں میری کون کون سی خواہشوں کو پورا کرو گے ۔”
“کوشش تو کی جا سکتی ہے ۔انسان کو کوشش پوری کرنی چاہیے اپنی خواہشوں کو پورا کرنے کی بس ان کے پیچھے یوں بے لگام نہیں ہو جانا چاہیے کہ لا حاصل کی تمنا میں حاصل کی بے قدری ہونے لگے ۔اللّه پاک نے نعمتوں کی تقسیم میں سب کو ایک جیسا نہیں نواز رکھا ۔کچھ کو زیادہ دیا ہے تو کچھ کو کم ۔وہ دونوں صورتوں میں انسان کو آزما ہی رہا ہوتا ہے ۔تا کہ دیکھ سکے کون ہیں جو اسکا شکر ادا کرتے ہیں اور اعتدال کی راہ چنتے ہیں ۔پھر جو اسکے دیے میں شکر گزار ہو جائے اس پر اسکی نوازشوں کی بارش بھی زیادہ ہوتی ہے “۔
طهٰ کو کبھی کبھی اسکی زیادہ کی چاہ سے خوف آتا تھا ۔اپنے قد سے بڑی بے جا خواہشیں انسان کو بھٹکا دیتی ہیں ۔وہ کبھی نہیں چاہتا تھا ماہی کی حصے میں کوئی خسارہ آئے ۔وہ اسے خوش دیکھنا چاہتا تھا مگر وہ خوشی صرف مادی چیزوں سے جڑی نہیں ہونی چاہیے ۔اسکی بات پر وہ جی بھر کر بے زار ہوئی تھی ۔
“افففف ۔اتنی مشکل باتیں مت کیا کرو مجھ سے ۔ کل یاد سے پیسے نکلوا لینا ۔زارا کی انگیجمنٹ میں کچھ ہی دن باقی ہیں مجھے نیا جوڑا لینا ہے اور اس کے لئے کوئی اچھا سا گفٹ بھی ۔” اسکے کہنے پر اس نے مسکراہٹ دبا کر شد و مد سے سر ہلایا تھا ۔وہ ہانی نہیں تھی جو اسکی ہر بات کو اپنے پلو سے باندھ لے گی وہ ماہی تھی جس کی اپنی سوچ تھی اپنے نظریات تھے ۔طهٰ کو اس سے سو اختلاف سہی مگر پھر بھی وہ اسکی زندگی میں سب سے بڑی خوشی کی سی حیثیت رکھتی تھی ۔بچپن سے اپنے ساتھ اسکا نام سنا تھا ۔اسکے علاوہ کبھی کسی کو نہ سوچا تھا نا کوئی خواہش ہوئی تھی ۔اسکے ذہن و دل میں بس اسی کا عکس جگمگا رہا تھا ۔محبت کیا ہوتی ہے وہ نہیں جانتا تھا ۔مگر اتنا ضرور جانتا تھا وہ اگر ہوتی ہے تو طهٰ ابراھیم کے لئے اسکا دوسرا نام ماہین ندیم تھا ۔
“ٹھیک ہے جناب ۔اور کوئی حکم بندہ نا چیز کے لئے؟ “
وہ فوری طور پر بحث کو سمیٹ گیا تھا ۔
“اور بس یہ کہ امی ابو کو نہ پتہ چلے ۔ورنہ ڈانٹ پڑے گی ۔تمہیں پتہ ہے میں نے جو جوڑا پسند کیا ہے اتنا پیارا ہے ۔پورے انیس ہزار کا ہے ۔”
آہستہ سے کہتے ہوئے آخر میں سرگوشی نما آواز میں وہ اسے قیمت بتا رہی تھی جسے سن کر طهٰ خفیف سا کھانسہ تھا ۔
“ایسی کیا خاص بات ہے اس جوڑے میں ؟” سنبھل کر وہ بھنویں اچکا کر کہہ رہا تھا ۔
“برانڈڈ ہے ۔ایک بہت مشہور ڈیزائنر کا ہے ۔یہ تو سیل میں لگا ہے اس لئے پرائز کم ہے ۔” بالوں کو کان کے پیچھے کرتے ہوئے وہ خوش دلی سے اسکی معلومات میں اضافہ کر رہی تھی ۔اور سیل والے انکشاف پر طهٰ کی آنکھیں پھیلی تھیں ۔پھر وہ اپنی ٹھوڑی انگوٹھے سے مسلتے ہوئے ہنسا تھا
“یہ کم پرائز ہے ماہی ۔اتنے میں تو میرے پورے ایک سیزن کی کھلی ڈلی شاپنگ ہو جاتی ہے یار جتنے میں تمہارا سیل کا ایک جوڑا آنے والا ہے ۔”
حیران ہوتے ہوئے کہتا وہ آخر میں اسے چھیڑ رہا تھا ۔
“بندر کیا جانے ادرک کا سواد ۔تم کیا جانو برانڈز کے بارے میں ۔اسلام آباد کے سب سے بڑے ہوٹل میں فنكشن ہو رہا ہے۔ایک سے ایک امیر ترین لوگ ہوں گے وہاں اور میں کوئی لوکل مارکیٹ کا عام سا سوٹ پہن کر اپنا مذاق بنواؤں گی کیا ۔”
اسکے ہنسنے پر اس نے برا منایا تھا ۔خفا ہوتے وہ منہ ناک چڑا کر کہہ رہی تھی ۔طهٰ نے سر کو تاسف سے جھٹکا دیا تھا ۔
“مذاق کیوں بنے گا ماہی ؟۔اللّه کا شکر ہے ہم بہت سوں سے بہتر حالت میں ہیں ۔خود سے اوپر والوں کی حیثیت دیکھتی رہو گی تو زندگی سے شکوؤں کے انبار لگ جائیں گے ۔نعمتوں کی گنتی کرتے وقت نیچے والوں کو دیکھا جاتا ہے تا کہ شکر گزاری کی صفت پیدا ہو ۔”وہ جی بھر کر عاجز ہوا تھا ۔تبھی جب بولا تو آواز میں جهنجهلاہٹ کا سا عنصر تھا ۔اسے کبھی کبھی واقع ہی میں سمجھ نہیں آتا تھا وہ اسے کیسے سمجھائے ۔ماہی نے خفت زدہ ہو کر آنکھیں چرائی تھیں ۔
“اب ایسے تو مت کہو طهٰ ۔میں کوئی نا شکری نہیں کر رہی ۔بس ایک جنرل سی بات کی ہے ۔” کمزور سی آواز میں وہ اپنا دفاع کر رہی تھی ۔شرمسار سی ،نگاہیں چراتی ہوئی ۔طهٰ نے اسکو دیکھا تھا اور اسکا دل فوری موم ہوا تھا ۔وہ یوں شرمندہ ہوتی بھی تو اچھی نہیں لگتی تھی ۔
“اچھا اب تم جاؤ ۔میں نکلوا لوں گا کل انشاء اللّه ۔”
فوری نرم پڑتے ہوئے اسے وقت کا احساس ہوا تھا ۔گھڑی کی سوئیاں رات کے نو بجا رہی تھیں ۔
“اوکے ۔” مسکرا کر کہتے وہ کھلے دروازے سے باہر نکل گئی تھی ۔پیچھے وہ کتنی دیر تک اسکی چھوڑی جگہ دیکھتا رہا تھا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *