Raah e Yaar Teri Musaftein by Umme Abbas


وہ ایک چھوٹا سا فلیٹ تھا ۔ایک بیڈ روم ،ڈرائنگ روم کے علاوہ چھوٹا سا لیونگ ایریا اور اس سے ملحق اوپن کچن ۔اس وقت وہ بیڈ پر اکڑوکیفیت میں بیٹھی تھی ۔دروازہ کی ذرا سی کھلی درز میں سے باہر ہو رہی بات چیت اسکے کانوں تک بھی سفر کر رہی تھی ۔
"یہ کیا حالت بنا رکھی ہے تم نے ؟"۔صارم اسے دیکھ کر صحیح معنوں میں پریشان ہوا تھا ۔مگر اسکے ساتھ موجود دوسرے وجود کی وجہ سے استفار نہیں کر پایا تھا ۔اب اس کے ساتھ صوفے پر بیٹھتے موقع میسر آیا تھا ۔
"تین دن پہلے ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا "۔طائرانہ نظروں سے فلیٹ کا جائزہ لیتے جب وہ بولا تو لب و لہجہ بہت بیگانگی لئے ہوئے تھا ۔جیسے اپنی نہیں کسی غیر کی بات کر رہا ہو ۔
"او ہو ۔کافی چوٹیں آئی ہیں ۔کچھ دن آرام کرتے ابھی تو آفس جوائن کرنے میں ایک ہفتہ باقی تھا "۔اسکی حالت دیکھ کر اس نے مخلصانہ مشورہ دیا تھا ۔
"مجھے کسی بھی نئی جگہ ایڈجسٹ ہونے میں تھوڑا وقت لگتا ہے ۔تب تک گھر وغیرہ سیٹ بھی کرنا ہے اور نئے شہر کی آب و ہوا سے بھی دوستی کرنی ہے "۔اس کے سرسری سے انداز میں بتانے پر وہ سر ہلا گیا ۔پھر اچانک کچھ یاد آیا تھا ۔
"اور یہ شادی والا حادثہ کب پیش آیا ؟۔مانا کہ ہم بہت زیادہ کنٹیکٹ میں نہیں رہتے مگر جب تمہیں جاب کے لئے کال کی تھی تب تو بتا ہی سکتے تھے"۔صارم نے اب کی بار گھورتے ہوئے اسکو لتاڑا تھا ۔وہ اسکا یونیورسٹی فیلو تھا ۔دو سال پہلے لاہور کی ایک پرائیویٹ فرم میں جاب پر لگا تھا ۔کچھ ماہ پہلے اچانک انکی ملاقات اسکے پنڈی آنے پر ہوئی تھی ۔تب ہی طهٰ سے بات چیت کے دوران اس نے اسکے ڈاکومنٹس اور کنٹیکٹ نمبر لیا تھا اور اسی کے توسط سے اسے بھی اسی فرم میں اب جاب مل چکی تھی ۔
طهٰ نے ارد گرد سے نظریں ہٹا کر صارم کو عجیب بے تاثر نظروں سے دیکھا تھا ۔دل میں کہیں اسکے مذاق میں کہے "حادثے "کے لفظ نے ایک تیر سا پیوست کیا تھا ۔جس کی تکلیف کے آثار تک کو چہرے کے خدوخال میں گھلنے کی اجازت طهٰ ابراھیم نے خود کو نہیں دی تھی ۔دل کی حالت کے بر عکس وہ ہلکا سا ہنس دیا۔
"کچھ ہی وقت ہوا ہے ۔میرا ارادہ اکیلے آنے کا ہی تھا ۔پہلے خود سیٹل ہوتا پھر بلاتا ۔مگر اس حادثے نے سب پلان پر پانی پھیر دیا ۔گھر والوں نے کہا بیوی بھی ساتھ ہی لے کر جاؤ "۔اپنے حال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وہ بہت محظوظ ہوتے بتا رہا تھا ۔دلوں کی حالتوں کو اللّه اگر صیغہ راز نہ رکھتا ہوتا تو انسان کیسے کیسے اپنا بھرم کھوتا اس احساس کو طهٰ ابراھیم نے ان لمحوں میں بہت قریب سے محسوس کیا تھا ۔
صارم بھی سر ہلاتا مسکرا دیا تھا ۔
"اچھا کیا ہے ۔گھر سے دور کسی اپنے کا ساتھ میسر ہونا بھی بہت ضروری ہے ۔فضا اپنی امی کی طرف گئی ہوئی ہے کچھ دن تک آ جائے گی ۔اگر یہاں ہوتی ابھی تو بھابھی کو بھی ذرا کمپنی مل جاتی "۔وہ اب اپنی بیوی کی بات کر رہا تھا طهٰ نے بے ساختہ دل میں کلمہ شکر پڑھا تھا ۔جس کو کمپنی دینے کی وہ بات کر رہا تھا فلحال بہتر یہی تھا وہ کسی سے بھی نہ ملتی ۔ورنہ وہ اپنا بھرم کھو دیتا ۔
"فلیٹ تو ٹھیک ہے ناں ؟"۔
"ہاں بلکل منا سب ہے ۔شکریہ یار اتنا سب کچھ کرنے کے لئے "۔وہ دل سے اسکا مشکور ہوتا اسکے کندھے پر ہاتھ رکھے ہوئے بولا ۔
"اپنا شکریہ اپنے پاس سنبھال کر رکھو اور ہاں تم لوگ فریش ہو لو میں کچھ کھانے پینے کا بندوبست کرتا ہوں "۔مسکرا کر کہتے وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔پھر باہر نکل گیا ۔اسکے جاتے ہی طهٰ نے چہرے پر ہاتھ پھیر کر اپنے اکڑے ہوئے اعصاب کو ذرا ڈھیلا چھوڑ صوفے کی پشت پر گردن ڈالی تھی ۔نیم دراز سی حالت میں لیٹے وہ آنکھیں موند گیا تھا ۔ابھی تو آغاز سفر تھا اور وہ ابھی سے ہی تھکا تھکا ،نڈھال ہوا جا رہا تھا ۔ہمتیں ابھی سے چٹخنے لگی تھیں ۔یہ وہ وقت تھا جب وہ اس دنیا سے کنارہ کش ہونے کی چاہ رکھتا تھا ۔مگر یہ وہ وقت ثابت ہو رہا تھا جب اسے سب کا سامنا کرنا تھا ۔فرار کی کوئی راہ باقی نہیں رہی تھی ۔وہ اپنی مرضی سے یہاں تھا اور اب اسے خود کو سنبهالنا تھا ۔
کسی احساس کے تحت اسکی آنکھیں کھلی تھیں ۔ان میں یکلخت بے چینی کے ساتھ ساتھ کرب کا دھواں سا بھی نمودار ہوا تھا ۔اسی پوزیشن میں لیٹے لیٹے اس نے نگاہیں دائیں طرف بنے کمرے کے دروازے پر مرکوز کی تھیں ۔جسکے دوسری طرف وہ موجود تھی ۔اسکی موجودگی پر ہونے والی کسک نے اسکو سیدھا ہو کر بیٹھنے پر مجبور کر دیا تھا ۔
اس نے کب اسے یوں اپنے ساتھ تصور کیا تھا ؟۔وہ تو اسکی سوچوں کے محور سے بہت دور تھی۔۔۔۔۔۔اسکے مستقبل کے سہانے خوابوں میں اسکی بھلا کہاں کوئی جگہ تھی ۔۔۔۔۔تا حد نگاہ اسکے دل کے آنگن میں ،اسکے خیالوں کے حسین دریچوں میں کہیں بھی تو نہیں تھی اور قسمت کی ستم ظریفی کا یہ عالَم تھاکہ حقیقت کی وادی میں اب ہر جگہ بس وہی ہی وہی تھی ۔اس جوڑ توڑ میں الجھے اسے کچھ اور بھی یاد آیا تھا جو وہ اب کبھی بھولے سے بھی ذہن و دل کی بستی میں بھٹکنے نہیں دینا چاہتا تھا مگر یہ دل کب اختیار کی حدود میں رہنا پسند کرتا ہے یہ تو باغی ہے ۔سر پھرا سا خود سر ۔صرف خود کی سننے والا ۔اب بھی اس کے لاکھ منع کرنے پر بھی بغاوت پر اتر آیا تھا اور ساتھ ایک تصور بھی لایا تھا ۔۔۔۔۔وہ ایک چہرہ ۔۔۔۔۔۔۔وہ جو دل کے آئینے میں جگمگاتا تھا ۔جس کا اسکی سوچوں پر بسیرا تھا ۔وہ دو شربتی آنکھیں جنکے بہت سارے خواب ان سے چرا کر وہ اپنی آنکھوں میں بسا چکا تھا ۔جنہیں وہ ہر حال میں پورا کرنا چاہتا تھا ۔اب ٹوٹے کانچ کی مانند اسکی آنکھوں میں کھبے انکی بینائی کو تاریکی کا مسافر کر رہے تھے ۔لہو رنگ ہوئی زخمی آنکھوں کے ساتھ وہ بیٹھے سے ایک جھٹکے کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔ماتھے کی ابھرتی رگیں اسکے فشار خون کی غماز تھیں ۔ہاتھوں کی مٹھیوں کو بھینچ کر ،آنکھیں سختی سے موندے اس نے چہرہ اوپر کی جانب کیا تھا ۔۔۔۔کچھ ساعتیں گزری تھیں ۔وہ یوں ہی کھڑا رہا ۔ساکت و جامد ۔۔۔۔۔بنا کسی جنبش کے ۔

 

COMPLETE PDF LINK AVAILABLE

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *