Raah e Yaar Teri Musaftein by Umme Abbas NovelR50606 Raah e Yaar Teri Musaftein (Episode 09)Part 1,2
No Download Link
Rate this Novel
Raah e Yaar Teri Musaftein (Episode 09)Part 1,2
Raah e Yaar Teri Musaftein by Umme Abbas
رات کے سوا دس بج رہے تھے ۔سردی کے باعث وہ بستر میں دبکی سونے کی کوشش کر رہی تھی ۔کچھ طبیعت ویسے بھی ٹھیک نہیں تھی کچھ باہر سے آتی ٹی وی کی آواز نیند میں خلل کی وجہ بن رہی تھی ۔طهٰ بڑے انہماک سے کرکٹ میچ دیکھ رہا تھا کوئی غیر ملکی پرئیمیر لیگ چل رہی تھی ۔اسٹیڈیم میں لوگوں کی چینخ و پکار کے ساتھ ساتھ کمنٹیٹرز کی چنگھاڑتی آواز اسے بری طرح بے آرام کر رہی تھی ۔بہت دیر تک تو وہ اس شور و غل کو نظر انداز کرنے کی سعی کرتی رہی مگر انسانی فطرت ہے جس چیز کو ذہن سے جھٹکنا چاہتا ہے وہ اتنی ہی بری طرح دماغ پر طاری ہوتی جاتی ہے ۔بلا آخر سر میں ہوتے درد کے باعث روہانسی صورت لئے جهنجهلا کر كمبل منہ پر سے اتارا تھا ۔اٹھ کر بیٹھتے گردن ذرا ترچھی کیے کھلے دروازے سے باہر جھانکا ۔صوفے پر بیٹھے طهٰ کا نیم رخ نظر آ رہا تھا ۔اتنی ٹھنڈ میں خود اٹھ کر باہر جانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ۔اسے تو ویسے بھی سردی زیادہ لگتی تھی ۔رات کو سوتے ہوئے بھی سوئیٹر پہنے رکھتی تو طهٰ اس کا مذاق اڑایا کرتا ۔كمبل کھینچ کر شانوں پر پھیلاتے وہیں بیٹھے بیٹھے اسے قدرے بلند آواز میں پکارا تھا ۔
” طهٰ “۔
“ہوں “۔بنا مڑے ہی اس نے بے دھیانی سے کہا تھا ۔
“آواز تھوڑی کم کر لیں ۔مجھے نیند نہیں آ رہی “۔اس نے بے بسی سے کہا تھا ۔
“تم ابھی تک جاگ رہی ہو ؟”۔وہیں سے مڑ کر بازو صوفے کی پشت پر دراز کرتے وہ تعجب سے اسے دیکھ رہا تھا ۔ٹی وی کی سکرین پر اب اشتہار چل رہے تھے تبھی اسے بھی فرصت ملی تھی ۔
“جی ۔اتنے شور میں بھلا کوئی کیسے سو سکتا ہے “۔وہ چڑی تھی ۔ایک تو ویسے بھی فاصلے کے باعث اونچا بولنا پڑ رہا تھا ۔
“اچھا بس پانچ اوورز رہ گئے ہیں دعا کرو میری ٹیم جیت جائے “۔مفاہمتی سے انداز میں عجلت سے کہتے وہ مڑا تھا ۔کمرشل بریک ختم ہو چکی تھی ۔ہانی کا جی چاہا وہ زور زور سے روئے یا کسی دیوار سے اپنا سر دے مارے ۔
“طهٰ میری طبیعت نہیں ٹھیک اب تو سر بھی درد کرنے لگا ہے “۔رندھی ہوئی آواز میں کہتی وہ اسے چونکا گئی تھی ۔طهٰ کے ذہن میں بھی کلک ہوا تھا وہ ایک دو دن سے مژدہ سی لگ رہی تھی ۔
کچھ توقف سے ٹی وی بند کرتا وہ اٹھ کر اندر آیا تھا ۔ہانی اسی پوزیشن میں بیٹھی ہوئی تھی ٹھوڑی سینے سے لگائے شاید نہیں یقیناً اب وہ رو دینے کی تیاری میں تھی ۔اسکے بالکل قریب جا کر کھڑے ہونے پر چہرہ اٹھا کر دیکھا تھا ۔براؤن لیدر کی جیکٹ جسکی زپ گردن تک بند تھی ،پہنے ہوئے وہ کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔ہاتھ بڑھا کر ماتھا چھوا جو ٹھنڈا یخ ہو رہا تھا ۔
“طبیعت زیادہ خراب ہے تو ڈاکٹر پاس چلیں ؟”۔متفکر سا پوچھتا وہ اسے رلانے کے درپے تھا ۔اسے بلا وجہ رونا آ رہا تھا ۔آنکھوں میں تیرتی نمی کی ہلکی سی تہہ کو پیچھے دهكیلتے اس نے نفی میں سر ہلایا تھا ۔
“میں سوؤں گی تو ٹھیک ہو جاؤں گی “۔اس کے چہرے پر سے نظریں ہٹائی تھیں ۔طهٰ نے ہولے سے اسکے سر کو تهپتهپایا تھا ۔جیسے ہمیشہ کیا کرتا تھا ۔ہانی لیٹ گئی تو وہ بھی پاس سے ہٹا ۔
“ہاں سو جاؤ بہتر فیل کرو گی ۔طبیعت سیٹ نہیں تھی تو پہلے بتا دیتی میں ٹی وی بند کر دیتا ۔خواہ مخواہ اتنی دیر بے آرام ہوئی تم “۔اسے واقع ہی میں افسوس ہوا تھا ۔جیکٹ اتار کر صوفے پر رکھتے وہ گھوم کر اب اپنی سائیڈ پر آ رہا تھا ۔ہانی جو سونے کے لئے آنکھیں موند گئی تھی ، حیرت سے آنکھیں پوری کھول اسے دیکھنے لگی جو اب بستر پر بیٹھا خود پر كمبل پھیلا رہا تھا ۔وہ کرکٹ کا کتنا دیوانہ تھا وہ جانتی تھی ۔ابراھیم کی ڈانٹ ڈپٹ بھی اسے کرکٹ سے دور نہیں رکھ پاتی تھی ۔اور اسکے لئے وہ نہ صرف اپنا میچ آخری اوورز میں چھوڑ کر آیا تھا بلکہ اس قدر تاسف سے اسکی بے آرامی کے بابت بھی کہہ رہا تھا ۔ہانی کا دل موم ہوتا فوراً سے پگھلا تھا ۔وہ کس قدر اسکا خیال کر رہا تھا ۔دل میں اس کے لئے تشکر آمیز جذبات امڈ امڈ آئے تھے ۔بھوری آنکھوں میں نرم سا تاثر لئے وہ اسے دیکھ رہی تھی جوسر ہانہ ٹھیک کرتے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر اب موبائل سامنے کیے تیز تیز انگلیاں چلا رہا تھا ۔پھر ہاتھ روک کر اس نے سائیڈ ٹیبل کی دراز کھولی تھی ۔ذرا سا ترچھا ہوتے ہیڈ فونز برآمد کیے تھے۔وہ اسکا اتنا خیال کر رہا تھا شکریہ کہنا تو بنتا تھا ۔اس کے ہونٹ ابھی ہلے ہی تھےکہ طهٰ جو ہیڈ فونز لگا رہا تھا ۔اس سے پہلے کہ وہ وائر کنیکٹ کرتا موبائل کے سپیکر سے کرکٹ میچ کا شور سنائی دیا تھا ۔ام ہانی نےحیران ہوتے ہوئے سر اٹھا کر دیکھا تھا ۔موبائل پر کرکٹ کی لائیو سٹریمنگ جاری تھی ۔کچھ دیر پہلے کے سارے تشکر بھرے جذبات بھاڑ میں جھونک کر اب وہ اسے خونخوار نظروں سے گھور رہی تھی ۔ہیڈ فونز کانوں میں لگاتے اسکی نگاہ اس پر پڑی تھی جو غصے سے لال پیلی ہو رہی تھی ۔ابرو اچکا کر اسے دیکھتے وہ بولا ۔
“کیا ؟۔اب تو آواز بھی نہیں آ رہی سو جاؤ تم “۔عجب بے نیازی تھی ۔ایک کان میں ہیڈ فون ڈال لیا گیا تھا ۔
“تو آپ پہلے ہی موبائل پر دیکھ لیتے ۔اتنی دیر تک میری بھی نیند خراب کی “۔اسے غصے کے ساتھ ساتھ اب دکھ بھی ہو رہا تھا ۔دوسرا ہیڈ فون کان میں لگاتے ہوئے اسکا ہاتھ رکا تھا ۔
“موبائل پر وہ مزہ نہیں آتا جو ٹی وی سکرین پر آتا ہے “۔مسکرا کر کہتے وہ ہیڈ فون کان میں ٹھونس کر ایک بار پھر سے دنیا جہان سے غافل ہو چکا تھا ۔وہ لا علاج تھا ۔ام ہانی نے تاسف سے اسے دیکھا پھر گہرا سانس بھرتے سر پٹخنے کے سے انداز میں سرہانے پر ڈالا ۔
“میں خواہ مخواہ شکر گزار ہو رہی تھی کوئی پرواہ نہیں ہے میری بس میچ کہیں نا جائے انکا ۔مامو ٹھیک تڑی لگایا کرتے تھے کرکٹ کی وجہ سے آپ کو ۔میں بلا وجہ آپ سے همدردی کیا کرتی تھی “۔بڑبڑاتی ہوئی وہ كمبل سر تک تان چکی تھی ۔صد شکر طهٰ کے کانوں تک اس کے نادر خیالات نہیں پہنچےتھے ۔ورنہ راوی اس وقت چین تو بلکل بھی نہ لکھ رہا ہوتا ۔کچھ دیر بعد كمبل میں اسکا ہاتھ سرسراتا ہوا ہانی کے ماتھے پر آن ٹھہرا تھا ۔پہلے تو اسکا جی چاہا منع کر دے مگر پھر جو سکون کا احساس ہوا تو اپنا ارادہ مفقود کر دیا ۔كمبل ذرا سا ایک آنکھ کے کونے سے ہٹا کر ہانی نے اسے دیکھا تھا جو اب وہ پوری توجہ سے ہاتھ میں پکڑے موبائل پر نظریں جمائے ساتھ ہولے ہولے اسکے ماتھے پر اپنی پر حدت انگلیوں کا دباؤ بھی ڈال رہا تھا ۔بے ساختہ اس کے ہونٹوں کے کناروں پر مسکراہٹ آ کر ٹھہری تھی ۔
“اب اتنے بھی برے نہیں ہیں آپ “۔ایک ہی پل میں اسکے بارے میں اسکی رائے پھر سے بدل چکی تھی ۔آنکھیں بند کیے وہ سونے کی کوشش کرنے لگی ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
وہ فضا کے ساتھ ہسپتال آئی تھی ۔عارض کی ویكسینیشن کروانی تھی ۔انجکشن کی وجہ سے روتے عارض کو بہلاتے فضا کی نظر اس پٹ پڑی تھی جو ہانپتے ہوئے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کرتی کوریڈور میں لگی کرسی پر بیٹھ رہی تھی ۔وہ جلدی سے اس تک آئی ۔
“تمہیں کیا ہوا ہے ؟۔رنگت اتنی زرد کیوں پڑ رہی ہے ؟”۔
تشویش سے اس کے ماتھے کو چھوا تھا جو ٹھنڈا یخ ہو رہا تھا ۔
“شاید بی پی لو ہو رہا ہے “۔نقاہت زدہ سی آواز میں ہانی نے بمشکل کہا تھا ۔
“اچھا ۔۔۔۔ٹھہرو میں ڈاکٹر کا پتہ کرتی ہوں ۔چیک اپ کروا لیتے ہیں “۔وہ ریسپشن کی طرف بڑھ گئی تھی ۔کچھ دیر بعد وہ ڈاکٹر کے سامنے بیٹھی تھی بی پی وغیرہ چیک کر کے ڈاکٹر نے جس ٹیسٹ کے لئے کہا تھا وہ سن ہو کر ره گئی تھی ۔دل کی حالت عجیب سی ہونے لگی تھی ۔البتہ فضا خوب چہک رہی تھی ۔
“انشاءاللّه گڈ نیوز ہی ہوگی ۔حیرت ہے مجھے پہلے خیال کیوں نہیں آیا ۔ورنہ اشارے سبھی تو اسی کی پیش گوئی کر رہے ہیں “۔وہ خوشی خوشی کہہ رہی تھی اور ماؤف ہوتے ذہن کے ساتھ ہانی ٹھیک سے مسکرا تک نہ سکی تھی کچھ کہنا تو دور کی بات تھی ۔
اور پھر ٹیسٹ کے بعد تصدیق کر ہی دی گئی تھی ۔وہ امید سے تھی ۔ام ہانی کے پاؤں تلے سے زمین سرکتی چلی گئی ۔یہ سب غیر متوقع تھا ۔فضا کے سامنے اس نے بڑی مشکل سے اپنے تاثرات پر قابو رکھا تھا ۔پورا راستہ وہ آنکھیں موندے سیٹ کی پشت پر سر رکھے خاموش رہی تھی ۔فضا نے اسے اسکی ناسازی طبیعت کے زمرے میں لیا تھا ۔مگر در حقیقت وہ ایک بار پھر سے کہیں ماہ پہلے والی کیفیت میں چلی گئی تھی ۔اس وقت وہ نہ تو خوشی محسوس کر پا رہی تھی نہ ہی دکھ کی کوئی حس بیدار ہوئی تھی ۔وہ اندیشوں کا شکار تھی ۔بہت سے خوف اس کے گرد جمگهٹا سا بنائے اسکا دل بے چین کر رہے تھے ۔
اولاد آزمائش ہوتی ہے ۔انسان کو بیک وقت مضبوط بھی کرتی ہے تو اسکی سب سے بڑی کمزوری بھی ہوتی ہے ۔اسکی اپنی ماں کے لئے وہ اسکے پاؤں کی بیڑی بن گئی تھی ۔اسکی وجہ سے اسکی ماں اسکے باپ کا ہر طرح کا ناروا سلوک برداشت کر جایا کرتی تھی ۔وہ بچپن میں اکثر سوچا کرتی تھی ماں یہ سب کیوں سہتی ہے ۔وہ اسکے باپ کو چھوڑ کر چلی کیوں نہیں جاتی ۔اب خود ماں بن رہی تھی تو سبھی باریکياں سمجھ آنے لگی تھیں ۔
اسکی ماں اکثر راتوں کو رو رو کر اللّه سے دعا کیا کرتی تھی ۔اسکے باپ کا کیا اس کے آگے نہ آئے ۔مگر وہ دعائیں ام ہانی کو لگتا تھا قبول نہیں ہو سکیں ۔اسکے باپ کا کیا ایک اور طرح سے بھیانک روپ اختیار کر کے اس کے آگے آیا تھا ۔وہ بھی دربدر ہوئی تھی ،رسوا ہوئی تھی ،اسکے حصے میں بھی اسکے عزیز ترین رشتے کی ناراضگی آئی تھی ۔طهٰ بھی تو اسے لے آیا تھا ۔سب کی مرضی کے خلاف اور وہ آ گئی تھی ۔تاریخ نے خود کو کچھ رد بدل کے ساتھ دہرایا تو تھا ۔تو کیا اب سے کچھ سال بعد تاریخ پھر سے خود کو دہرانے کی تیاری میں جت گئی تھی ۔اس سوچ کے ساتھ ہی وہ پوری جان سے لرزی تھی ۔
جس وقت طهٰ واپس آیا تھا وہ باہر صوفے پر دونوں پیر اوپر سمیٹ کر بیٹھی ہوئی تھی۔مگر اسکے چہرے پر کچھ تو ایسا تھا جو وہ چونکا تھا ۔اس کے سلام کا بھی اس نے جواب نہیں دیا تھا ۔اسکے عجیب سے انداز پر وہ نا سمجھی سے اس کے قریب ہی بیٹھ گیا تھا ۔
“کیا ہوا ؟”۔نارمل سے انداز میں استفار کرتے وہ اسکا ستا ہوا زرد پڑتا چہرہ دیکھ رہا تھا ۔ہانی نے بنا اسکی طرف دیکھے ،بنا کچھ کہے پہلو میں رکھا لفافہ اٹھا کر اسکی طرف بڑھایا تھا ۔
اچنبھے سے اسکا چہرہ دیکھ اس نے اسکے ہاتھ سے لفافہ لے کر اسکے اندر سے فولڈ شدہ پیپر نکالا تھا اور پھر اسکو کھولتے اس پر لکھی تحریر پڑھی تھی ۔یک بار ۔۔۔دو بار ۔۔۔سہ بار ۔۔۔۔۔اسے لگا تھا شاید اس نے غلط پڑھا ہو مگر نہیں یہ سچ تھا ۔پہلے حیرت اور پھر شدید خوشی کا شکار ہوتے وہ اسکی طرف دمكتے چہرے اور پر کیف سے ہلکے سے قہقہے کے ساتھ مڑا تھا ۔
“میں بہت خوش ہوں ام ہانی ۔بہت بہت شکریہ “۔ایک بازو اسکے گرد حمائل کرتے خود سے لگاتا وہ پر جوش سا کہہ رہا تھا ۔خوشی کے باعث اسکی آواز میں ہلکی سی لڑکھڑاہٹ تھی ۔کچھ پل گزرے تھے طهٰ کو اسکی غیر معمولی خموشی کا احساس ہوا تھا ۔اسے خود سے الگ کرتے وہ جانجتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔
“تم خوش نہیں ہو ؟”۔یہ پوچھتے ہوئے وہ غیر آرام ده لگ رہا تھا ۔ام ہانی نے آنکھیں اٹھا کر اس کا چہرہ دیکھا تھا ۔وہاں کچھ پا لینے کی چمک تھی ۔خوشی کی تحریر رقم تھی ۔اسے خوف سا محسوس ہوا تھا ۔خشک جھیلیں تیزی سے تر ہونے لگی تھیں ۔اور پھر وہ اپنے خدشات کو زبان دیتے بول اٹھی ۔
“مکافات عمل کا چکر کبھی کبھی اولاد کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے ۔میرے باپ نے میری ماں کو ذلیل و رسوا کیا ۔اسکا بھگتان میں نے بھرا ۔اب مجهے خوف آتا ہے یہ سوچ کر بھی کہ اگر میری بیٹی ہوئی اور اس کے آگے وہ سب آیا جو آپ نے میرے ساتھ کیا تو کیا کروں گی میں ؟”۔
اسکی نم آواز میں کرب کی تحریر رقم تھی ۔وہ ایک بار پھر سے سات ماہ پہلے کے منظر میں چلی گئی تھی ۔ان دونوں کے درمیاں سے پچھلے تین ماہ پھر سے محو ہو گئے تھے ۔طهٰ ابراھیم ایک بار پھر سے کٹہرے میں کھڑا تھا ۔اور ام ہانی کا غم پھر سے تازہ ہوا تھا ۔وہ بھیگی پلکیں آسیب زدہ سی دکھائی دیتی تھیں ۔ان آنکھوں میں مان ٹوٹنے کی کرچیوں کی چھبن آج بھی اسے درد آشنا کر رہیں تھیں ۔
طهٰ ابراہیم کے مسکراتے لب سمٹے تھے ۔چہرے کے خدوخال میں غضب کا عنصر گھلتا وہاں موجود کچھ لمحے پہلے تک کی نرماہٹ کو بے نشان کر گیا تھا ۔ان آنکھوں میں اک ان دیکھی آگ تھی جس کے شعلوں کی لپک نے ہانی کو بھی جهلسا کے رکھ دیا تھا ۔اسکے چہرے کی سرخی پر سجا پتھریلا پن اسے احساس دلا گیا تھا اس نے کتنی بڑی غلطی کر ڈالی ہے ۔
“تو پھر میں دعا کروں گا ۔کہ اللہ پاک مجهے بیٹی سے ہی نوازے اور اسکے آگے میرا کیا آئے ۔اسکے نصیب میں بھی کوئی ویسا ہی شخص آئے جیسا اسکی ماں کی تقدیر میں قدرت نے لکھ چھوڑا ہے “۔
درشتی سے ٹھہر ٹھہر کر کہتا وہ اسے ششدر چھوڑ کر ایک جھٹکے سے اسکے سامنے سے اٹھتا چلا گیا تھا ۔پیچھے وہ پتھرائی آنکھوں اور رنگت میں گھلی زردی کے ساتھ دنگ بیٹھی رہ گئی ۔اسکے الفاظ اسکی روح تک لرزا گئے تھے ۔دل کی دھڑکن کی رفتار کم پڑی تھی ۔
کیا اسے اپنے کیے پر ذرا شرمساری نہیں تھی ؟۔کوئی باپ اپنی ہی بیٹی کو ایسی بد دعا کیسے دے سکتا ہے ؟۔سانس لینے میں دشواری کے باعث اس نے منہ کھول کر ایک گہرا سانس لیا تھا ۔
فضا میں ایک بار پھر سے گھٹن زدہ سی زہریلی ہوائیں سرسرانے لگی تھیں ۔
Part 2
ڈرائنگ روم کے بند دروازے کے اس پار شکستہ حالت میں بیٹھا وہ شخص کسی طور بھی طهٰ ابراھیم تو نہیں لگتا تھا ۔ہاتھ کی انگلیوں میں دبی سگریٹ کی راگ گرتی جاتی تھی ۔اسکی سرخ ڈورے لئے آنکھوں سے اس وقت اندازہ لگانا مشکل تھا ۔وہ زیادہ سلگ رہا ہے یا ہاتھ میں تھاما سگریٹ ۔گلے میں جھولتی ڈھیلی ٹائی اور گریبان کے کھلے بٹن ،اتنی سردی میں بھی اسے شدید خبس کا احساس ہو رہا تھا ۔
سات ماہ پہلے اتنا بڑا قدم اٹھانے سے پہلے اس نے کبھی نہیں سوچا تھا یہ حواله اسکا ہمیشہ کے لئے ساتھی بن جائے گا ۔اپنی ذات تک تو وہ برداشت کر سکتا تھا اور وہ کر بھی گیا تھا مگر اپنی اولاد کے لئے ۔۔۔۔یہ نا قابل قبول تھا ۔جلتی آنکھوں میں ہوتی چھبن اسے آنکھیں مسلنے پر مجبور کر گئی ۔ایک کے بعد دوسری اور پھر تیسری ۔۔۔۔پے در پے کہیں سگریٹ جلاتے وہ خود بھی بری طرح ساتھ جل رہا تھا ۔کمرے میں پھیلے گهپ اندھیرے میں تیرتا دھواں ماحول کو اور بھی قنوطی بنا رہا تھا ۔یہ گھٹن ،خبس زدہ سا ماحول اور اوپر سے سردی کی دبیز تہہ کچھ بھی اس پر اثر انداز نہیں ہو پا رہی تھی ۔اندر لگی آتش اتنی شدید تو تھی کہ باہر کی کوئی شے اس پر اپنا اثر چھوڑ نہیں پا رہی تھی ۔
مغرب کی اذان سنائی دے رہی تھی پر وہ بیٹھا رہا تھا ۔آج نماز پڑھنے کا جی بھی نہیں چاہ رہا تھا ۔ویسے بھی وہ کوئی پکا نمازی نہیں تھا دن میں کبھی دو تو کبھی تین نمازوں کی ادائیگی ہی کر پایا کرتا تھا ۔مؤذن کی فلاح کی طرف دعوت دیتی پکار پر بھی وہ کان لپیٹ کر بیٹھا رہا تھا ۔
کچھ دیر اور گزری تھی پھر دل نے ملامت کی تو آدھ جلی سگریٹ ایش ٹرے میں مسل کر وہ اٹھ کھڑا ہوا ۔تبھی دروازہ بھی کھلا تھا روشنی کی ایک لكیر اندر داخل ہوتی تاریکی کے پردے کو چیرتی اس کا وجود بھی واضح کر گئی۔روشنی کی اس پتلی سی پگڈنڈی پر ایک سایہ نمودار ہوتا طهٰ پر پڑا تھا۔کچھ سائے ہوتے ہیں جو زندگی کے سفر میں زادراہ سے لگتے ہیں ۔دھوپ میں چھاؤں سے ،تنہائی میں ساتھی سے ،خفگی میں بھی اپنائیت کا احساس دلاتے ۔
ہانی جو دروازے کی دہلیز پر کھڑی تھی اندر پھیلے سگریٹ کے دھوئیں اور مخصوص بو سے منہ پر ہاتھ رکھتی بے اختیار کھانسی تھی ۔طهٰ ناراضگی کا بھر پور اظہار کرتے پاس سے گزر جانا چاہتا تھا مگر اس کی زور پکڑتی کھانسی پر دل مسوس کے ره گیا ۔اس کے پاس لمبے لمبے ڈگ بھرتا آیا تھا اور کہنی سے ذرا اوپر سے بازو پکڑ کر اپنے ساتھ گھسیٹنے کے سے انداز میں باہر لایا تھا ۔
اسے صوفے پر بٹھایا تھا اور ایک تیز سرد سی نگاہ اس کے چہرے پر ڈالی تھی ۔گرم شال نماز کے سے انداز میں سر پر پلیٹے کھانسنے کے باعث آنکھوں سے جاری نمکین پانی کے ساتھ وہ کھانسی کے دوران اپنا سانس بحال کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔
ملامتی انداز میں سر جھٹکتے کچن تک جاتے طهٰ نے اس کے لئے پانی کا گلاس لایا تھا ۔بنا مخاطب کیے گلاس اس کے چہرے کے سامنے کیے وہ رخ موڑے کھڑا تھا ۔ام ہانی نے آنکھوں میں تیرتی نمی کے ساتھ گیلا چہرہ اٹھا کر اسکا دھندلا سا عکس دیکھا تھا ۔پھر لرزتے ہوئے دونوں ہاتھوں سے گلاس مضبوطی سے تھامتے ہونٹوں سے لگایا تھا ۔نماز میں وقت کم تھا طهٰ سرعت سے کمرے کی طرف بڑھتا اندر گم ہو گیا تھا ۔ہانی کی نظروں سے آخر تک اسکا تعاقب کیا تھا ۔
پانی پینے سے کچھ دیر بعد اسکی سانس بحال ہوئی تھی ۔ایک تو صبح سے کچھ کھایا بھی نہیں تھا اوپر سے اپنی ہی تھکا دینے والی سوچیں اسے مزید نڈھال کر گئی تھیں ۔رہی کسر طهٰ سے ہوئی مڈبھیڑ اور اب اس کے سرد سرد سے انداز پوری کر رہے تھے ۔
ام ہانی کا دل پوری شدت سے دھڑکا تھا ۔انسان کو بزدل نہیں ہونا چاہیے اور اگر ہو تو پھر کم از کم خطروں سے تو بہت سی دوری رکھنی چاہیے ۔مگر پچھلے کچھ ماہ سے تو وہ صحیح معنوں میں خطروں کی کھلاڑی بنی ہوئی تھی ۔
“مجھے نہیں آنا چاہئے تھا یہاں ۔طهٰ تو جتنا غصہ ہوتے ہیں کسی دن مجھے جان سے ہی مار دیں گے اور کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا “۔سردی سے بچنے کے لئے پاؤں سمیٹ کر اوپر کرتے شال اچھے سے اپنے ارد گرد پھیلائے وہ اپنی ہی سوچوں میں اس قدر محو تھی کہ جان نہ سکی کب ٹراؤزر شرٹ میں ملبوس وہ اس کے ساتھ کچھ فاصلے پر بیٹھا تھا ۔اس کے کھنگارنے پر وہ چونک کر حقیقی دنیا میں آتی اسے دیکھنے لگی تھی ۔جو اب بلکل نارمل لگ رہا تھا ۔چہرے پر کسی سختی یا ناراضگی کا کوئی شائبہ تک نہ تھا ۔ہانی کی حیرانگی بجا تھی ۔
“آپ ناراض نہیں ہیں ؟”۔اسکی آواز میں بھی بے یقینی کی لہر تھی ۔طهٰ نے رخ موڑ کر اسکی طرف دیکھا تھا جو حیرت زدہ آنکھوں سے اسے تک رہی تھی ۔
“اللّه کے سامنے سے اٹھ کر آ رہا ہوں ۔ناراض رہا ہی نہیں گیا”۔وہ لحظہ بھر کو رکا متانت بھری نظروں سے اسکا صبیح چہرہ دیکھا ۔”جب میں خود گناہ کرنے کے باوجود اللّه کے سامنے معافی کی امید لئے کھڑا ہو سکتا ہوں اس چاہت کے ساتھ کہ وہ مجھے معاف کر دے گا تو تمہاری ہر بات پر گرفت کیسے کر سکتا ہوں “۔بڑی سادگی سے کہتا وہ اسے شرمندہ کر گیا تھا ۔وہ بھی تو دن میں پانچ بار اللّه کے سامنے کھڑی ہوتی تھی ۔پھر اسکے دل کا میل کیوں نہیں جا پاتا تھا ۔کوشش کے باوجود بھی تو نہیں جا رہا تھا ۔کدورت تھی کہ خموشی سے پنجے گاڑھے ہی بیٹھی تھی ۔ناراضگی تھی کہ جانے کا نام ہی نہ لیتی تھی ۔
“پھر میری ناراضگی اللّه کیوں ختم نہیں کر دیتے طهٰ “۔سر جھکا کر شرمسار سی وہ بولی تو ایک بے ریا سی مسکراہٹ طهٰ کے ہونٹوں پر آن ٹھہری ۔
“اللّه کر دیتا ہے وہ دلوں کو پھیر بھی دیتا ہے ۔بس ہم انسان نہیں بھولنا چاہتے ۔ہمیں کسی انسان سے محبت ہو نہ ہو اسکی غلطیوں سے بڑی الفت ہوتی ہے ۔ساری عمر اسکی خطاؤں کو دل سے لگائے رکھتے ہیں ۔بس اسے دل کے قریب نہیں ہونے دیتے جس سے خطا ہوئی ہو ۔چاہے وہ شرمسار ہو تب بھی نہیں ،ہمیشہ اسے جج کرتے ہیں ۔اور پھر ایک وقت آتا ہے جب اس جانچ پڑتال میں ہم کسی اپنے کو ہمیشہ کیلئےکھو دیتے ہیں “۔سامنے میز کی سطح پر نظریں جمائے وہ مدهم سی آواز میں بولتا گیا تھا۔بنا پلکوں کو جنبش دیے وہ اسکا روشنی میں دمكتا چہرہ دیکھتی گئی ۔وہ کھونے کی بات کر رہا تھا کیا وہ اسے کھو سکتی تھی ؟۔گلے شکوے اپنی جگہ مگر وہ اسے کھونا کبھی نہیں چاہے گی اس میں کوئی دوراہے نہیں تھا ۔اس کے الفاظ نے دل کو اپنی گرفت میں جکڑا تھا ۔زور سے دھڑکتا دل سہم کر سمٹا تھا۔ اور یہ تو طے تھا ازل سے کہ بات طهٰ ابراھیم کی ہو اور ام ہانی پر اثر نہ چھوڑے ایسا بھلا ممکن تھا کیا ۔
“آئی ایم سوری “۔اسکی طرف دیکھتے وہ جلدی سے بول اٹھی ۔آج کل تو ام ہانی ان تین لفظوں کی جیسے تسبیح کیا کرتی تھی ۔طهٰ نے اسکی طرف نظریں کی تھیں پھر سر کو نفی میں ہلایا ۔
“نہیں ام ہانی ۔آج میں تم سے کہتا ہوں آئی ایم سوری ۔میں نے کہا تھا نا میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا ۔میں اپنی بات سے مکرتا ہوں ۔میں طهٰ ابراھیم تم سے معافی مانگتا ہوں ۔میں شرمسار ہوں اس عمل کے لئے جو انجانے میں مجھ سے سرزد ہوا ۔میری غلطی تھی میں نے ڈرگز کا استعمال کیا ۔نہیں کرنا چاہیے تھا ۔میں تمہارے کمرے میں اس حالت میں آیا یہ بھی میرا قصور ۔نہیں آنا چاہیے تھا ۔میری وجہ سے تمہاری عزت پر حرف آیا یہ بھی میری خطا ۔یہ تو بالکل نہیں ہونا چاہیے تھا ۔لو آج سب قبول کر رہا ہوں معافی بھی مانگ رہا ہوں ۔اب بتاؤ معاف کر دو گی کیا ؟”۔ترچھا ہو کر اسکی طرف رخ موڑے اسکی آنکھوں میں اپنی سیاہ آنکھیں گاڑھے وہ مستحکم اور ٹھہری ہوئی آواز میں بولتا چلا گیا تھا ۔ہانی یک ٹک سانس روکے اسے دیکھے گئی ۔اسے امید نہیں تھی وہ یہ سب کہے گا ۔لیکن وہ کہہ رہا تھا ،شرمساری کا اظہار کر رہا تھا معافی بھی مانگ رہا تھا اب باقی کیا رہا تھا ؟۔دل کی گرہیں کھلتی چلی گئیں ۔دلوں کی حالت بدلنے میں عمریں درکار نہیں ہوتیں بس ایک لمحہ ،ایک ساعت ،ایک پل اور کیفیات بدل جاتی ہیں ،احساس بدل جاتے ہیں ،جذبات بدل جاتے ہیں ۔
کوئی کہیں دل میں آ بستا ہے تو کہیں دل کا مکین بدل جاتا ہے ۔
وہ منتظر نظروں میں امید کے کہیں دیے جلائے اسے دیکھ رہا تھا ۔اسکی ایک ناں انھیں بجھا بھی سکتی تھی اور ایک ہاں انھیں مزید جلا بخش سکتی تھی ۔آگے کا سفر خوش گوار ہو سکتا تھا ،راہیں سہل ہو جاتیں ،مسافتیں سمٹ جاتیں بس ایک دل کے آئینے کی گرد ہی تو صاف کرنی تھی اور اس لمحے میں وہ دلوں کا گدلا پن صاف ہو گیا تھا ۔ام ہانی نے اسے دل سے معاف کر دیا تھا ۔بس ایک آخری سوال پوچھ لینا چاہتی تھی پتہ نہیں وہ کیا سننا چاہتی تھی ۔
“اگر یہ سب کسی نے آپ کے ساتھ کیا ہوتا تو طهٰ ؟۔کیا تب بھی معاف کر دیتے آپ ؟”۔اور طهٰ ابراھیم کی سیاہ آنکھوں میں کچھ آ کر ٹھہرا تھا ۔سرعت سے نظریں چرانے پر ام ہانی ٹھیک سے جان نہیں پائی تھی ۔شاید کوئی ان دیکھا ،ان جانا سا درد ۔سمندر کی گہرائی میں کہیں ارتعاش تو ہوئی تھی۔سیدھا ہو کر تھوڑا آگے کی طرف جھک کر بیٹھتا وہ گردن نیچے کیے اپنی ہتھیلی مسل رہا تھا ۔
“میرا اللّه بہتر جانتا ہے ۔کیا طهٰ ابراھیم نے آج تک ام ہانی کو کوئی ایسا سبق پڑھایا ہے جو اس نے پہلے خود پر نہ آزمایا ہو ؟”۔کتنا مبہم سا جواب تھا ۔الجھا کر رکھ دینے والا ۔ام ہانی نے نا سمجھی بھری نظروں سے اسے دیکھا تھا ۔پتہ نہیں اب وہ اس کے ہر سوال کا آسان جواب کیوں نہیں دیتا تھا جیسے پہلے دے دیا کرتا تھا ۔پر شاید تب زندگی اتنی الجھی ہوئی نہیں تھی ۔ رات کی تاریکی کا پہلا پہر شروع ہونے کو تھا مگر وہاں اب تاریکی نہیں تھی ۔سردی ہنوز بڑھ رہی تھی مگر اب خون کو جما دینے والی نہیں بلکہ خوش گوار لگ رہی تھی ۔گھٹن کا احساس زائل ہوا تو فضاؤں میں تازگی کا گمان ہونے لگا ۔اور اس پہر ایک دوسرے سے کچھ فاصلے پر بیٹھے وہ دو نفوس صاف شفاف ،ہر کدورت سے پاک دل لئے ایک دوسرے سے بنا نظریں چرائے بیٹھے تھے ۔کیوں کہ وہ جان گئے تھے وہ ایک دوسرے کی مجسم حقیقت ہیں ۔اسی پوزیشن میں بیٹھے گردن موڑے اب مسکراتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔گہرے پانیوں سا پر سکون ۔اور ام ہانی ہار مان گئی تھی ۔سبھی سوال کہیں تحلیل سے ہونے لگے تھے ۔
“مجھے لگتا تھا میں کبھی آپ کو معاف نہیں کر پاؤں گی “۔ہنوز اسکی طرف دیکھتے وہ دھیمی شکستہ آواز میں معترف ہوئی تھی ۔
“اور مجھے لگتا تھا میں کبھی تم سے معافی نہیں مانگوں گا “۔اپنی بات پر ہلکا سا وہ خود ہی ہنسا ۔
“اور مجھے یہ بھی لگتا تھا میں کبھی آپ کے لئے دل میں گنجائش پیدا نہیں کر پاؤں گی “۔
“تمہیں غلط لگتا تھا۔ ام ہانی کے دل میں طهٰ ابراھیم کے لئے ہمیشہ سے گنجائش رہی تھی “۔ہلکے سے تبسم کے ساتھ وہ پورے وثوق سے اسکی نفی کر رہا تھا ۔وہ اسے اس سے بہتر جانتا تھا ۔ہانی کو اچنبها نہیں ہوا تھا ۔وہ پورے دل سے مسکرائی تھی ۔
“میں اس طهٰ ابراھیم کی اچھائیوں کے صدقے آپ کی خطا معاف کرتی ہوں جو میرا آئیڈیل تھا ۔میں اپنے بچے کے لئے آپ کو معاف کرتی ہوں جسے میں ایسے ماحول میں پروان نہیں چڑھانا چاہتی جہاں اسکی ماں اسکے باپ کو خطاوار سمجھتی ہو ۔میں ہر شکوہ ہر شکایت دل سے نکالتی ہوں ۔آج کے بعد اس رات کا ذکر ہمارے درمیاں کبھی نہیں آئے گا “۔
بس اتنی سی تو بات تھی ۔ام ہانی کو اپنا آپ کسی پر کی طرح ہلکا محسوس ہوا تھا ۔ہر بوجھ سے آزاد ۔طهٰ نے تشکر آمیز نظروں سے اسے دیکھا تھا ۔
“ام ہانی تم اس دنیا کی سب سے اچھی لڑکی ہو “۔طهٰ کی نرم سی آواز پر نظریں جھکاتےاسکا دل زور سے دھڑکا گئی تھی ۔پہلی بار اسکا چہرہ شرم کی لالی سے سرخی مائل ہوا تھا ۔زرد رنگت میں گھلی سرخی طهٰ کو منجمد کر گئی تھی ۔کچھ پل گزرے تھے ۔جب وہ پھر سے گویا ہوا ۔
“حالانکہ ابھی کچھ دیر پہلے جس طرح تم نے میری خوشی برباد کی تھی ۔میرا جی چاہا تھا کاش اللّه تعالیٰ مجھے کہیں کہ طهٰ تمہیں ایک قتل معاف ہے تو میں بلا تامل تمہارا گلا دبا دیتا “۔مسکرا کر بڑے نارمل سے انداز میں وہ کہہ رہا تھا ۔ام ہانی نے سرعت سے سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا جیسے اس لمحے کم از کم اس بات کی توقع نہ کر رہی ہو ۔طهٰ اپنی آنکھوں میں مخصوص شریر سی چمک لئے اسے مطمئین سا دیکھ رہا تھا ۔وہ اپنی پرانی جوت میں واپس آ چکا تھا ۔ام ہانی کے چہرے پر حیا کے ساتھ اب غصے کی لالی بھی پھیلنے لگی تھی اسکا کچھ دیر پہلے ہی ڈرائی كلین ہوا دل پھر سے خفگی سے میلا ہونے لگا تھا ۔
“مجھے آپ سے یہی امید تھی “۔منہ پھلا کر کہتی وہ اسے کھل کر ہنسنے پر مجبور کر گئی تھی ۔
“کیا بنایا ہے ۔بھوک لگ رہی ہے “۔اس کے پاس سے اٹھ کر وہ کمرے کی جانب بڑھا تھا ۔اور ام ہانی کسی خواب سے جیسے بیدار ہوئی تھی ۔
“آج تو کچھ بنایا ہی نہیں میں نے “۔خفت زدہ سی آواز پر اسکے قدم تھمے ۔ایڑیوں کے بل وہ مڑا تھا ۔
“سیریسلی ؟”۔اسکے چینخ نما انداز پر وہ کچھ اور بھی شرمسار ہوئی تھی ۔
“میں بنا لیتی ہوں بس تھوڑی سی ۔۔۔”۔وہ تیزی سے اٹھی تھی ۔
“نہیں رہنے دو اب ۔ میں باہر سےکچھ لے آتا ہوں “۔اسے ٹوکتا وہ خود اندر گھس گیا تھا کچھ دیر بعد بائیک کی چابی لے کر وہ فلیٹ سے باہر نکلا تو ڈور لاک کرتے ام ہانی جب مڑی تو اسکے چہرے کا سکون دیدنی تھا ۔
