Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah e Yaar Teri Musaftein (Episode 14)Part 1,2

Raah e Yaar Teri Musaftein by Umme Abbas

ابراھیم اسے بلا رہے تھے مگر وہ کہیں دکھائی نہیں دیتا تھا ۔تبھی ام ہانی کو اسے بلانے بھیجا تھا ۔وہ اسے ڈھونڈنے چھت پر آئی تھی۔عصر کے بعد کا وقت تھا دھوپ اب سمٹنے لگی تھی ایسے میں وہ اسے چھت کی پچھلی طرف کھڑا اسکی طرف پشت کیے دکھائی دیا تھا ۔ہانی اسے آواز دینے ہی والی تھی کہ وہ پلٹا تھا ۔اور وہ پتھر بن گئی تھی ۔بے یقینی سے اسکی طرف پھٹی آنکھوں اور نیم واہ ہونٹوں سے دیکھ رہی تھی ۔جیسے سامنے کے منظر پر یقین کرنا مشکل ہو ۔
دوسری طرف اسکی موجودگی سے يكسر بے خبر وہ سگریٹ کا آخری لمبا سا کش لیتےبچے ہوئے ٹکڑے کو نیچے پهینک کر سر جھکائے پاؤں سے مسلتے ہوئے دھواں ہوا میں خارج کرتا سیدھا ہوا تھا ۔اور سامنے اسے یوں کھڑا دیکھ کر اسے کھانسی کا دورہ پڑا تھا ۔آواز آہستہ رکھتے وہ کھانستا ہوا اسے یوں ہونق بنے خود کو دیکھتے نادم ہوا تھا ۔
“طهٰ بھائی ۔۔۔۔آپ سگریٹ پی رہے تھے ؟”
وہ بے یقین سی چینخ نما آواز میں پوچھ یوں رہی تھی جیسے اسے کوئی قتل عام کرتے دیکھ لیا ہو۔اسکی کھانسی یک بار بند ہوئی تھی ۔طهٰ کو اپنی لاپرواہی پر تاؤ آیا ۔کیا ضرورت تھی گھر میں سگریٹ پینے کی ۔
“ششش۔۔۔۔۔” طهٰ سرعت سےاپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے چپ کرواتا ہوا اس تک آیا تھا ۔اب وہ دیوار کی چھاؤں سے نکل کر سنہری دھوپ میں آ کھڑا ہوا تھا ۔
“آہستہ ام ہانی ۔مرواؤ گی کیا ؟” اس سے تھوڑے فاصلے پر کھڑے ہوتے اس نےہانی کے پیچھے دیکھا تھا ۔
“آپ اسموكنگ کرتے ہیں ؟” سوال اب بھی وہی تھا بس انداز سرگوشیانہ ہو گیا تھا ۔اس کا صدمہ دیکھ کر طهٰ کو بے طره خفت نے آن گھیرا تھا ۔ان کے گھر میں کسی کو بھی یہ بری لت نہیں تھی ۔ابراھیم اس معاملے میں بہت سخت تھے ۔اس کے بارے میں کسی کو نہیں پتہ تھا ۔نہ ہی کبھی وہ گھر پر اسموكنگ کیا کرتا تھا ۔بس آج کی یہ شرمساری اسکے نصیب میں لکھی گئی تھی ۔
“بس کبھی كبهار جب سر درد ہو تو ۔۔۔۔زیادہ نہیں کرتا ۔” آواز کو ہموار رکھتے ہوئے وہ ادھر ادھر دیکھتا کہہ رہا تھا ۔خود سے چھوٹوں کو اپنی کسی خامی یا بری عادت پر صفائی پیش کرنا مشکل ہوتا ہے طهٰ کو بھی اس وقت مشکل پیش آئی تھی ۔
بدلے میں وہ کچھ بولی نہیں تھی مگر اس کے چہرے پر جو تاثر تھا وہ صاف صاف بتا رہا تھا اسکی توجیہ اسے کچھ خاص پسند نہیں آئی ۔
“مامو آپ کو بلا رہے ہیں ۔” آرام سے کہہ کر وہ مڑ نے لگی تھی جب طهٰ نے اسے روکا تھا ۔
“ہانی ! کسی کو بتانا مت ۔” سرسری سے انداز میں طهٰ نے کہا تھا ۔ام ہانی نے سر ہلا دیا ۔وہ آگے بڑھی تھی پھر رک گئی اسکی طرف پلٹ کر دیکھا ۔اپنے مخصوص انداز میں اسکے چہرے پر اک نگاہ ڈال کر نظر ہٹا لی ۔
“لیکن یہ غلط ہے ۔” آہستگی مگر ناراضگی سے کہتے ہوئے وہ مڑتی آگے بڑھ گئی تھی ۔طهٰ نے بھنویں حیرت سے اٹھائے اس کو جاتے دیکھا تھا ۔مٹی کا مادھو اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کر کے گیا تھا ۔طهٰ نے بڑی مشکل سے اپنی ہنسی روکی تھی ۔پھر تیزی سے اسکے پیچھے ہو لیا تھا ۔اسے پہلے کمرے میں جانا تھا اور سگریٹ کی سمیل کا کوئی سدباب کرنا تھا ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .

ماہی جب سے زارا کی انگیجمنٹ سے واپس آئی تھی بجهی بجھی سی تھی ۔جاتے ہوئے وہ بہت پر جوش تھی ۔طهٰ اسے چھوڑ کر آیا تھا ۔وہ لگ بھی بہت خوب صورت رہی تھی ۔زارا نے اسے خاص الخاص پروٹوکول سے بھی نوازا تھا ۔اور ماہی اسکی آنکھیں اس چکا چوند کو دیکھ کر چندھیا گئی تھیں ۔ہال کے انتظامات سے لے کر مہمانوں کے ملبوسات تک ہر ہر چیز سے امارت جهلک رہی تھی ۔اسکا کم مائیگی کا احساس بڑھا تھا جسے وہ چہرے پر مسکراہٹ سجا کر چھپا گئی تھی ۔وہ پر اعتماد تو بہت تھی ۔کچھ اپنی خوبصورتی کا احساس بھی تھا جو اسے بے نیاز بناتا تھا ۔وہاں موجود بہت سی خواتین نے اسکو دیکھ کر ستائشی نظروں سے سراہا تھا ۔مکس گیدرنگ میں لڑکے لڑکیاں آزادانہ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے گھوم رہے تھے ۔كپل اینڈ گروپ ڈانس کیے جا رہے تھے اور انکے بڑے خوشی خوشی انھیں داد دے رہے تھے ۔اسکی نگاہوں کے سامنے ابراھیم بیگ کا پر جلال چہرہ آیا تھا ۔پھر اپنی ماں کی خفگی بھری نظریں جو اسے آج اتنا تیار ہونے پر گھور رہی تھیں اسکی ریڈ لپ اسٹک پر اسے غصہ کر رہی تھیں اور پھر آتے ہوئے ایک بڑی سی چادر زبر دستی اسے تهمائی تھی کہ اگر اس نے جانا ہے تو یہ اوڑھ کر جانا ہو گا ۔بادل خواستہ اس نے وہ سر پر احتیاط سے رکھ لی تھی کہ کہیں اس کے کرل کیے بال نہ خراب ہو جائیں ۔اور ہوٹل کے باہر اتار کر اسے طهٰ کے حوالے کر آئی تھی ۔وہ جس ماحول کا حصہ تھی اس کے لئے یہاں کا ماحول اور یہ سب کسی فینٹسی جیسا تھا ۔برائی ہمیشہ انسانی نفس کو ایسے اپنی طرح کھینچتی ہے جیسے مقناطیس لوہے کو ۔شیطان اسے اس قدر خوبصورت بنا کر ہمارے سامنے پیش کرتا ہے کہ ہم اسکی دلکشی میں کہیں کھو سے جاتے ہیں ۔لیکن کچھ غلط ہے اس کا اشارہ ملتا رہتا ہے جب ہمارے اندر کی خیر کا دم گھٹنے لگتا ہے تو ایک بے چینی بھی ہوتی ہے مگر ہم جان بوجھ کر اس پر دھیان نہیں دیتے ۔بار بار اسے ذہن کے پردے سے جھٹکتے ہیں اور پھر ایک وقت آتا ہے جب ہمارے اندر کی خیر آہستہ آہستہ گھٹتے گھٹتے ختم ہو جاتی ہے ۔شر اس قدر غالب آ جاتا ہے کہ پھر برائی برائی نہیں لگتی ۔بلکہ اسے آزاد خیالی اور زمانے سے قدم ملا کر چلنے جیسی توجیہات ڈھانپ لیتی ہیں ۔اور ہم ۔۔۔۔ہم خود کو بہلا لیتے ہیں ۔
انگیجمنٹ پارٹی سے اگلی رات اسے زارا کی کال آئی تھی ۔شروع کی چند کل کی پارٹی کے متعلق باتوں کے بعد اس نے جو کہا تھا ماہی کے قدموں سے ایک پل کے لئے صحیح معنوں میں زمین سرکی تھی ۔
“کین یو بلیو ماہی ! شہیر نے بس ایک بار تمہیں دیکھا اور وہ دیوانہ ہو گیا ۔صبح سے اس نے میرے کان کھائے ہوئے ہیں ۔وہ خود تم سے بات کرنا چاہتا ہےلیکن میں نے سوچا پہلے خود تم سے بات کر لوں ۔”
زلزلوں کی زد میں آئی ماہی کی آنکھوں کے سامنے سوٹڈ بوٹڈ ،وجاہت سے بھر پور،ویل گروم پرسنلٹی والا شہیر آیا تھا جس سے اسٹیج پر زارا کے ہمراہ بیٹھے ،اس کے وہاں آنے پر زارا نے پر جوش انداز میں اسکا تعارف کروایا تھا ۔وہ اسکا ماموں زاد تھا ۔فرانس سے آیا ہوا تھا ۔وہاں ان کا اپنا اسٹیبلش بزنس تھا ۔اور پھر پورا وقت گاہے بگاہے وہ اسکی نظروں کا حصار اپنے گرد محسوس کرتی رہی تھی ۔مگر اس نے کوئی خاص نوٹس نہیں لیا تھا ۔وہ کو ایجوکیشن میں پڑھی تھی ۔صنف مخالف کی ایسی ستائش بھری نظروں کی عادی تھی ۔مگر اسکے لئے دیے والی بے نیازی بھری خود اعتماد طبیعت کے باعث اسکی طرف کسی کو کوئی پیش قدمی کرنے کی ہمت نہیں ہوئی تھی ۔مگر اس بار بات اتنی آگے بڑھ آئے گی اسکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا ۔
“کیا کہہ رہی ہو ؟۔ہوش میں تو تم ۔”
اسکی آواز میں واضح نا گواری تھی ۔جسے محسوس کر کے دوسری طرف زارا ذرا بھر گڑبڑائی تھی ۔
“ایسے کیوں کہہ رہی ہو ماہی ؟۔اس میں اتنے اچنبھے والی کیا بات ہے ۔شہیر نے مجھ سے پوچھا تھا تم کہیں انگیج ہو یا کوئی کمٹمنٹ ۔تو میں نے کہا نہیں ۔ظاہری بات ہے ایسا کچھ ہوتا تو مجھے علم ہوتا ۔”
ماہی کی پیشانی عرق آلود ہوئی تھی ۔اس نے کبھی بھی اپنی طهٰ سے نسبت کی بات اپنی دوستوں کو نہیں بتائی تھی اور یہی بات اب اسکے گلے کی ہڈی بن رہی تھی ۔اس وقت وہ یہ انکشاف بهی نہیں کر سکتی تھی ۔زارا کے تابڑ توڑ سوالوں کا وہ سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی ۔
اسکے بولے بہت سے جھوٹ اسکے سامنے اب کھڑے ناچنے لگے تھے ۔
“نہیں میرا وہ مطلب نہیں تھا ۔تم تو جانتی ہو مجھے زارا میں نے خود کو ان سب چیزوں سے ہمیشہ بچا کر رکھا ہے ۔” جلدی سے اپنی غیر ہوئی حالت پر قابو پاتے اب وہ ذہن تیزی سے چلا رہی تھی کہ کیسے خود کو اب اس سب مشکل سے نکالے ۔
“بالکل جانتی ہوں سویٹ ہارٹ ۔اسی لئے میں نے شہیر کو بھی سب ٹھیک ٹھیک بتا دیا ہے ۔اور وہ خود بھی کوئی تم سے افئیر چلانے کی بات نہیں کر رہا ۔وہ بہت سیریس ہے یار ۔رشتہ بھیجنے کی بات کر رہا ہے ۔اینڈ بلیو می ماہی ۔اگر ایسا ہو گیا تو یہ تمہاری خوش قسمتی ہو گی ۔ہمارے خاندان کا موسٹ ڈیمانڈنگ بیچلر خود تمہاری چاہ کر رہا ہے یار ۔میں تو بہت خوش ہوں ۔تم بھابھی بن جاؤ گی میری ۔”
اسکی پریشانی سے یکسر بے خبر وہ اپنی خوشی کا برملا اظہار کر رہی تھی ۔اور ماہی کے سر پر دھماکے ہو رہے تھے ۔اس کی زبان بالکل گنگ ہو گئی تھی اور ذہن جیسے ماؤف ہوتا جا رہا تھا ۔
“اچھا میری بات سنو شہیر کی کال آ رہی ہے ۔وہ مجھ سے تمہارا کنٹیکٹ نمبر مانگ رہا ہے ۔میں اسکو دیتی ہوں ۔تم خود اس سے بات کر لو ۔اینڈ بیسٹ آف لک فرام می ۔بائے ۔”
جلدی سے کہتے بنا اسکی کوئی بھی بات سنے وہ کال کٹ کر چکی تھی ۔ماہی ہونق بنی موبائل کان سے ھی لگائے بیٹھی رہی تھی ۔ہونٹ بے بسی سے کچلتے ہوئے موبائل کان سے ہٹا کر بستر پر رکھتے اس نے سختی سے آنکھیں میچ کر سر کو نفی میں جنبش دی تھی ۔صد شکر کہ ہانی کمرے میں نہیں تھی ۔ناخن دانتوں میں دبائے ابھی وہ اس نئی افتاد سے نمٹنے کا سوچ ھی رہی تھی کہ اسکا موبائل بلنگ ہوا تھا ۔سكرین پر ان نون نمبر جگمگا رہا تھا ۔اور ماہی کے صحیح معنوں میں ہاتھ پاؤں پھولے تھے ۔وہ خوف زدہ نظروں سے موبائل کو دیکھ رہی تھی ۔جس کی سکرین جلتی آخر تھک کر بجھ گئی تھی ۔جس کے ساتھ ھی اسکی سانس بھی بحال ہوئی تھی ۔
چہرے پر آئے پسینے کو صاف کرتے ہوئے ابھی وہ پوری طرح نارمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ کچھ دیر بعد موبائل کی سكرین پھر سے روشن ہوئی تھی ۔
“کیا ہو گیا ہے ماہی ۔اتنی ڈرپوک کب سے ہو گئی تم ؟۔کون سا وہ باہر نکل آئے گا بس موبائل پر ایک بار بات ھی کرنی ہے اور صاف صاف منع کرنا ہے ۔بس اتنی سی تو بات ہے ۔”
چہرہ تهپتھپا کر ایک گہری سانس خارج کرتے وہ بستر سے اٹھی تھی ۔موبائل کو مضبوطی سے ہاتھ میں پکڑے وہ سرعت سے اٹھ کر ڈور تک گئی تھی ۔پتہ نہیں کس سوچ کے تحت اس نے دروازے کو لاک کیا تھا ۔حالانکہ اس نے سرسری سی بات کر کے دو ٹوک انکار کرنے کی ٹھان رکھی تھی ۔شاید دل میں کوئی چور تھا ۔
واپس مڑتے ہوئے کال ریسیو کرتے جب اس نے موبائل کان سے لگایا تھا اس وقت وہ پہلے سے بہت کمپوز اور قدرے پر اعتماد لگ رہی تھی ۔
“ہیلو ۔” اسکی آواز ہموار تھی ہر طرح کی نروس نیس سے مبرا ۔دل البتہ کسی ڈر سے پوری قوت سے دھڑک رہا تھا ۔
“ہائے ماہی ۔میں شہیر بات کر رہا ہوں ۔زارا نے بتایا ہو گا ۔” دلکش بھاری مردانہ آواز اس کے کانوں میں پڑی تھی ۔
“جی ابھی بات ہوئی میری اس سے ۔دیکھیں شہیر ۔۔۔” اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی دوسری طرف سے کمال بے تابی سے اسکی بات کاٹی گئی تھی ۔
“آپ میری بات سنیں ماہی ! میں آپ سے کوئی فلرٹ نہیں کر رہا ۔بخدا میں بہت سیریس ہوں آپ کو لے کر ۔میری موم پچھلے تین سال سے ایک سے ایک لڑکی مجھے دکھا رہی ہیں مگر مجھے آج تک کسی میں وہ بات دکھائی نہیں دی جو مجھے میرے لائف پارٹنر میں چاہیے ۔لیکن آپ کو صرف ایک بار دیکھنے پر میرے دل نے جیسے گواہی دے دی تھی کہ آپ ھی ہیں وہ جس کی مجھے تلاش ہے ۔ان فیکٹ میں نے موم سے بھی بات کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔بس ایک بار آپ ہاں کریں میں جلد از جلد اپنی فیملی کو لانا چاہتا ہوں ۔”
وہ کوئی ضرورت سے زیادہ سٹریٹ فارورڈ بندہ تھا ۔ایک ہی سانس میں بولتا چلا گیا ۔اور ماہی کے ہاتھوں کے سبھی طوطے تو کیا کبوتر بھی اڑ گئے تھے ۔
“شہیر میری منگنی ہو چکی ہے ۔”
وہ جلدی سے بول گئی تھی ۔اس کے سوا اب کوئی چارہ بھی تو نہیں تھا ۔اسکی بات سن کر دوسری طرف خموشی چھا گئی تھی اور پھر کچھ دیر بعد کال کاٹ دی گئی تھی ۔ماہی کی حالت عجیب سی ہو رہی تھی ۔
اس رات بستر پر لیٹے نیند اسکی آنکھوں سے کوسوں دور تھی ۔بے چینی سےکروٹ بدلتے لیمپ کی زرد سی مدھم لائٹ میں اسکی نظر ساتھ والے دوسرے بیڈ پر پر سکون سوئی ہانی پر پڑی تھی ۔دل ہر شے سے اچاٹ ہونے لگا تھا ۔نگاہیں چھت کے پنکھے پر مرکوز کیے وہ گہری سوچوں کے بھنور میں ڈوبتی چلی گئی ۔بے اختیار وہ بار بار طهٰ اور شہیر کا تقابل کر رہی تھی ۔بے شک طهٰ بہت وجیہہ تھا مگر اس وقت شہیر کی امارت جهلكتی شخصیت کے سامنے اسکا عکس ماندپڑ رہا تھا ۔پھر انکے سٹیٹس میں جو زمین آسمان کا فرق تھا وہ اسے اور بھی کم تر کر رہا تھا ۔اپنی سوچوں پر بے ساختہ اس نے جھرجهری لی تھی ۔یہ وہ کیا سوچے جا رہی تھی ۔خود پر خفا ہوتے ہر سوچ کو زبردستی ذہن سے جھٹک کر آنکھیں موند وہ سونے کی سعی کرنے لگی تھی ۔بند آنکھوں والے اس حسین چہرے پر آج ازلی بے نیازی و بے فکری کے بجائے اضطراب کے سائے پھیلے ہوئے تھے ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .

اگلی صبح جب وہ اٹھی تو کافی حد تک سنبهل چکی تھی ۔اسکا خیال تھا یہ باب اب بند ہو چکا ہے مگر یہ اسکی خام خیالی تھی ۔ناشتہ کرنے کے بعد وہ کمرے میں واپس آئی تھی ۔ہانی کے پیپرز ہو رہے تھے وہ کالج گئی ہوئی تھی ۔وہ بے دلی سے اپنی وارڈ روب ٹھیک کرنے لگی تھی جب صبح دس کے قریب اسے شہیر کا میسج موصول ہوا تھا ۔
“ماہی میں نے بہت سمجھایا خود کو ۔مگر میرا دل اب آپ سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہے ۔آپ پلیز ایک بار میرے بارے میں سوچئے ضرور ۔میں آپ سے ریکوسٹ کرتا ہوں “۔
زیر لب اسکا میسج پڑھ کر اسکا ذہن ایک بار پھر الجھنے لگا تھا ۔مگر پھر اسے ڈیلیٹ کرکے اس نے موبائل سائیڈ پر کرتے دوبارہ کپڑے تہہ کرنے میں جٹ گئی تھی ۔مگر سوچیں تھیں کہ بری طرح منتشر ہو کر ره گئیں تھی ۔کچھ دیر بعد اسکی کال آئی تھی ۔پہلے پہل تو ماہی نے نظر انداز کرنی چاہی ۔موبائل کی جلتی سکرین تاریک ہوئی تھی ۔ہاتھ میں تھاما کرتا رکھ کر وہ بیڈ پر بیٹھتی موبائل اٹھا چکی تھی ۔
“ایسا کرتی ہوں نمبر بلاک لسٹ میں ڈال دیتی ہوں ۔” اس سوچ کے ساتھ ہی اسکی انگلیاں تیزی سے سکرین پر چلی تھیں ۔مگر جب موبائل نے نمبر بلاک کرنے کے لئے یس کا آپشن مانگا تو اسکا ہاتھ رک گیا ۔
“بلاک کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔میں کون سا بات کرنے لگی ہوں ۔کرتا رہے خود تھک ہار کر چپ کر جائے گا ۔”
مسر جھٹک کر کہتے وہ موبائل واپس بستر پر رکھ کر کپڑے تہہ کرنے لگی تھی ۔دل اس دلیل پر کچھ مطمئین ہوا تھا ۔اور شیطانی قوت جی بھر کر مسرور۔ ہر کچھ دیر بعد موبائل بلنگ کرتے دیکھ کر کپڑے تہہ کرتی ماہی کے ہونٹوں پر بڑی دل افروز مسکراہٹ آئی تھی جس کا شاید اسے خود علم نہیں تھا ۔اسکی بے تابی و بے چینی اسے خود پر نازاں کر رہی تھی ۔مگر وہ فلحال اپنی کیفیت سمجھ نہیں پا رہی تھی ۔
انسان کو جس راستے جانا نہ ہو اس طرف کھلنے والا ہر دروازہ ہر روزن بند کر دینا چاہیے ۔ وہاں پر کوئی مضبوط فقل لگا کر اسکی چابی ہمیشہ کے لئے کھو دینی چاہیے ۔لیکن جب انسان بنا کسی مضبوط بندوبست کے اس دروازے کے کواڑ کو یوں ہی بند کئے رکھتا ہے تو ایک دن آتا ہے جب کوئی تیز ہوا یا آندھی وہ در کھول دیتی ہیں جس کے ساتھ بہت سے طوفان بھی بن بلائے چلے آتے ہیں ۔
اور پھر ہوا بھی کچھ یوں تھا کہ اگلے کچھ دنوں تک نہ صرف وہ اس سے بات کرنے لگی تھی ۔بلکہ وہ اسے اچھا بھی لگنے لگا تھا ۔شہیر کے پاس وہ سب کچھ تھا جو اسے زندگی میں چاہیے تھا ۔اگر قسمت اس پر مہربان ہو رہی تھی تو اسے آزمانے کا ایک چانس وہ بھی لینا چاہتی تھی ۔
شہیر نے اسے اپنے بارے میں سب کچھ بتایا تھا ۔اس کا لائف سٹائل ،اسکا سٹیٹس ،اسکی پرسنلٹی اور اسکی والہانہ چاہت سب کچھ بے مثال تھا ۔ایسے میں وہ اپنے رنگین خوابوں میں سب کچھ بھول بھال گئی تھی ۔طهٰ ابراھیم کو بھی اور اسکی خالص محبت کو بھی ۔
ایسے میں وہ آج کل بس ایک ہی بات سوچ رہی تھی کہ کس طرح وہ اس منگنی کے چنگل سے خود کو آزاد کروائے ۔امی ابو سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا وہ کبهی حامی نہیں بھرنے والے تھے اس رشتے کو توڑنے کی ۔رہا طهٰ تو وہ جتنا اسے چاہتا تھا اس سے ایسی کوئی توقع کرنا ہی عبث تھا ۔سوچ سوچ کر وہ پاگل ہونے لگی تھی مگر پھر اسے ایک راستہ مل ہی گیا تھا ۔جو ان سب کی زندگیوں میں ایک بھونچال لے آیا تھا ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .

ابراھیم بیگ بھینچے ہوئے جبڑوں کے ساتھ لیونگ ایریا میں ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہے تھے ۔انکے چہرے کی رنگت سرخ اور آنکھیں غضب ناک لگ رہی تھیں ۔گھر آتے ساتھ ہی انہوں نے طهٰ کو کال کی تھی اور اب وہیں ٹہلتے ہوئے اسکا انتظار کر رہے تھے ۔ان کے اس قدر غصے بھرے موڈ کو دیکھ کر فائزہ میں اتنی ہمت نہیں ہوئی تھی وہ کچھ پوچھ ہی لیتیں انھیں چائے کا پوچھا تھا مگر منع کر دیا تو وہ بھی مضطرب دل کے ساتھ کچن میں گھس گئی تھیں ۔مگر انکا دل گواہی دے رہا تھا ضرور طهٰ نے ہی کچھ کیا ہوگا جس کی وجہ سے اب یہ طوفان سے پہلے کی خموشی ہے ۔اور پھر انھیں زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑا تھا ۔
طهٰ کے گھر میں داخل ہوتے ہی وہ بھی کچن سے نکل آئی تھیں ۔ہانی ڈائینگ ٹیبل پر اپنی بکس لئے بیٹھی ہوئی تھی ۔نظریں سامنے کھلی کتاب پر جمی تھیں مگر وہ کچھ پڑھ نہیں پا رہی تھی ۔مامو کے بگڑے تیور دیکھ کر اسکا دل بھی سوکھے پتے کی مانند لرز رہا تھا ۔اسکو آتا دیکھ کر وہ بھی ان دونوں کو ہی دیکھنے لگی تھی ۔طهٰ اب انکے پاس آ کر کھڑا ہوا تھا ۔ابراھیم بیگ کے قدم اسے دیکھ کر تھمے تھے ۔ہاتھ پشت پر باندھ کر انھوں نے اسے غیض بھری نظروں سے دیکھا تھا جو اب سوالیہ انداز میں کچن کی دہلیز پر کھڑی فائزہ اور تھوڑے فاصلے پر ڈ ائینگ ٹیبل پر بیٹھی ہانی کو دیکھ رہا تھا ۔
“کہاں سے آ رہے ہو ؟” درشت سی سرد آواز میں وہ پوچھ رہے تھے ۔طهٰ فوری طور پر سیدھا ہوتا انکی طرف دیکھنے لگا ۔آج بہت دنوں بعد کچہری لگی تھی ۔مگر اس قدر سنگین ہو گی اس کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں تھی ۔
“چوک تک گیا تھا ابو ۔” سادگی سے سچ بتایا گیا تھا ۔
“امجد کی چائے کی دکان پر بیٹھے کیا کر رہے تھے ؟” دوسرا سوال پوچھا گیا تھا اور اس بار انکی سنجیدگی میں ضبط کی گہری رمق تھی ۔
طهٰ نے گڑبڑا کر نظریں چرائی تھیں ۔چہرے پر ایک رنگ آ کر گزرا تھا ۔ابراھیم بہت گہری نظروں سے اسکا چہرہ پڑھ رہے تھے ۔وہاں موجود شرمندگی کی تحریر پڑھ کر انکا ضبط جواب دے گیا تھا ۔دو قدم اسکی طرف بڑھتے انکا بھاری ہاتھ پوری قوت سے گھوما تھا اور ایک زناٹے دار ٹھپڑ طهٰ کے دائیں گال پر آن پڑا تھا ۔فائزہ نے دہل کر اپنے سینے پر ہاتھ رکھا تھا ۔وہ جلدی سے ان دونوں کی جانب بڑھی تھیں ۔نیم واہ ہونٹوں کے ساتھ بڑی مشکل سے اپنی چینخ پر قابو رکھتے وہ ایک جھٹکے سے کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی ۔اپنے کمرے سے باہر آتی ماہی نے پھٹی آنکھوں سے یہ منظر دیکھا تھا اسکا ایک ہاتھ دروازے کی ناپ پر ہی ساکت ہو گیا تھا جبکہ دوسرا بے اختیار اس نے اپنے ہونٹوں پر رکھا تھا ۔
“کیا ہو گیا ہے ابراھیم صاحب ؟۔اس طرح جوان بیٹے پر ہاتھ کیوں اٹھا رہے ہیں ۔” فائزہ انکے اور طهٰ کے درمیان حائل ہوتے ہوئے ہاتھ سےسرخ پڑے چہرے کے ساتھ سر جھکائے ہونٹوں کو باہم پیوست کیے بت بنے ہوئے طهٰ کا بازو تھامے اسے اپنے پیچھے کر گئی تھیں ۔کچھ دیر پہلے کے منظر نے انھیں ششدر کر کے رکھ دیا تھا ۔ابراھیم بیگ اسے ڈانٹتے تھے ۔خوب جھاڑتے تھے مگر بات کبھی ہاتھ اٹھانے تک نہیں آئی تھی ۔
“مجھ سے کیا پوچھ رہی ہو فائزہ ؟۔اپنے اس بے غیرت بیٹے سے پوچھو جو سر عام سگریٹ کے کش لگاتا پھر رہا ہے ۔ابھی تو صرف سگریٹ پینے کا انکشاف ہوا ہے کل کو پتہ نہیں اور کیا کیا معلوم ہو گا -” وہ تو جیسے بھرے بیٹھے تھے انکے پوچھنے کی دیر تھی اور پھٹ پڑے تھے ۔طهٰ اب بھی سر جھکائے کھڑا تھا ۔فائزہ نے بے یقین نظروں سے پیچھے منہ کر کے اسکو دیکھا تھا مگر اسکی جھکی آنکھیں اور خاموش لب انھیں بہت کچھ باور کروا گئے تھے ۔انکی نظروں میں بیٹے کے لئے ہمدردی کے ساتھ ساتھ اب سختی بھی امڈ آئی تھی ۔
“آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہو گی ۔طهٰ ۔۔۔” واپس انکی طرف دیکھتے انھوں نے بودی سی مزاحمت کرنی چاہی تھی ۔مگر ابراھیم کی گرج دار آواز نے انکی آواز کو دبا دیا تھا ۔
“کیسی غلطی فہمی ؟ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اسے میں نے ۔ذرا جو اس بے ضمیرے کو خیال آیا ہو کہ باپ دادا میں سے کسی نے کبھی کسی نشہ آور شہ کو ہاتھ تک نہیں لگایا میں کیوں انکی عزت کو یوں بیچ بازار و چوراہوں پہ بٹہ لگا رہا ہوں ؟ میں بتائے دیتا ہوں فائزہ آج سگریٹ کا پتہ چلا ہے ،کل پتہ نہیں اور کون کون سے نشے کی لت کا علم ہونا باقی ہے ابھی ۔” وہ ایک بار پھر بپھر کر اسکی طرف بڑھے تھے ۔مگر فائزہ نے بروقت انھیں بازو سے تھام کر پیچھے کیا تھا ۔
“بس کر دیں ابراھیم صاحب ۔اللّه کا واسطہ ہے آپ کو ۔” انکا بازو اپنے کانپتے ہاتھوں سے تھامتے ہوئے وہ رو دی تھیں ۔ہانی اور ماہی دونوں ہی اپنی اپنی جگہ جم کر ره گئی تھیں ۔
“اس سے کہو دفع ہو جائے میری نظروں کے سامنے سے ۔”غصے سے ہانپتے ہوئے وہ بولے نہیں دہاڑے تھے ۔
“طهٰ جاؤ یہاں سے ۔” فائزہ نے منت بھرے انداز میں اسے کہا تھا مگر لہجے میں خفگی کا عنصر نمایاں تھا ۔اتنی دیر سے پتھر ہوئے طهٰ کے وجود میں جنبش ہوئی تھی ۔سرخ تپے ہوئے چہرے کے ساتھ وه بنا کسی پر بھی نگاہ کیے لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا سیڑھیوں کی جانب بڑھا تھا ۔جب اسکی نگاہ سیڑھیوں سے پیچھے دروازے پر کھڑی بے یقینی سے خود کو دیکھتی ماہی پر پڑی تھی ۔اسکےچلتے قدم تھم سے گئے تھے ۔اہانت کا احساس شدید سے شدید تر ہوتا چلا گیا تھا ۔نظریں چراتا وہ تیز تیز سیڑھیاں پھلانکتا ہوا اوپر چلا گیا تھا ۔
“آپ بیٹھ جائیں ابراھیم صاحب ۔بی پی ہائی ہو جائے گا آپکا ۔ہانی بیٹا مامو کے لئے پانی لاؤ ۔” نرمی بھرے انداز میں منت کرتے وہ انھیں بیٹھنے کا کہہ رہی تھیں۔ ہانی کچن کی طرف بڑھی تھی اور ماہی دوبارہ سے کمرے میں بند ہو گئی تھی ۔

Part 2

کمرے کا دروازہ کھلا تھا ۔جس کے ساتھ فائزہ اندر داخل ہوئی تھیں ۔بیڈ پر دونوں ہاتھ اطراف میں رکھے جھکے سر کے ساتھ وہ یوں ہی بیٹھا رہا تھا ۔حتیٰ کہ انکی آمد اور پھر پاس آ کر بیٹھنے پر بھی اس کے ساکت وجود میں کوئی جنبش نہیں ہوئی تھی ۔فائزہ نے تاسف بھری نظروں سے اسکا سرخ ہوتا چہرہ دیکھا تھا ۔پھر اپنا ہاتھ اسکے شانے پر رکھتے آہستہ سے سہلایا تھا ۔
“یہ کیا حرکت تھی طهٰ ؟ ۔بچے کیوں ایسی اوٹ پٹانگ حرکتیں کرتے ہو جبکہ پتہ بھی ہے تمہارے ابو کو اس سب سے کتنی نفرت ہے ۔”
آہستہ سی آواز میں نرمی سے وہ اسکی طرف جھک کر اسے سمجھا رہی تھیں ۔طهٰ کی گردن کی ہڈی ڈوب کر ابھری تھی ۔ماں کے سامنے یوں انکی ہمدردی پانے پر آنکھوں میں جلن سی ہونے لگی تھی ۔نمی بھری جلن ۔مگر وہ چپ رہا تھا ۔بہر حال جو بھی تھا اسے خود بھی اندازہ تھا یہ غلط ہے ۔اور وہ کسی بھی صورت اپنی ماں کے سامنے کم از کم ایک غلط کام کو جسٹیفائی نہیں کر سکتا تھا ۔
“اب یوں بالکل چپ کیوں بیٹھے ہو کچھ بول کیوں نہیں رہے ؟۔اچھا ادھر دیکھو میری طرف ۔”
زبر دستی اسکا چہرہ اپنی طرف موڑا تھا مگر نظریں اب بھی جھکی ہوئی تھیں ۔فائزہ کو ہنسی آئی تھی اس کے اس روٹھے ہوئے انداز پر ۔مگر وہ ضبط کر گئیں تھی وہ پہلے ہی خفا بیٹھا ہوا تھا مزید بگڑ جاتا ۔
“تمہارے ابو تم سے بہت پیار کرتے ہیں اسی لئے نہیں چاہتے کہ تم کسی بھی بری لت میں پڑو بیٹا ۔سگریٹ پینا کوئی اچھی بات تو نہیں ہے ۔اور میرا بیٹا کب سے اتنا بڑا ہو گیا مجھے تو پتہ بھی نہیں چلا ؟”
ان کے سادگی سے کہنے پر وہ جی بھر کر شرمسار ہوا تھا ۔
“سوری امی ۔آئندہ نہیں ہو گا ایسا ۔میں روز روز نہیں پیتا بس کبھی كبهار ۔”
انکی طرف ایک نظر دیکھ کر نگاہ ہٹاتے ہوئے وہ کمزور سی آواز میں کہہ رہا تھا ۔فائزہ نے مسکرا کر اسکا سر اپنے سینے سے لگایا تھا ۔
“زہر زہر ہوتا ہے طهٰ بھلے ایک بار لیا جائے یا بار بار لیا جائے ۔”
انکا انداز سمجھانے جیسا تھا ، شرم سار کرنے والا نہیں تھا مگر وہ پھر بھی ہوا تھا ۔
“ابو سے بھی معذرت کر لینا ۔انکا غصہ ٹھنڈا ہو جائے گا ۔اور آئندہ ایسا کچھ نہیں کرنا ۔مجھے میرا بیٹا ایسا نہیں چاہیے ۔”
“ابو کو مجھے یوں سب کے سامنے نہیں تهپڑ مارنا چاہیے تھا امی ۔کتنا آکورڈ لگے گا اب ماہی اور ہانی کا سامنا کرنا ۔”
اس نے دل میں مچلتے ہوئے شکوے کو آواز دے ہی ڈالی تھی ۔وہ کوئی چھوٹا بچہ نہیں تھا پچیس سالہ مرد تھا ۔انسانی نفسیات کہتی ہے آپ کسی تین سال کے بچے کو بھی سب کے سامنے ڈانٹ ڈپٹ کریں گے تو اسکی عزت نفس مجروح ہوتی ہے ۔وہ تو پھر جوان سال تھا اور اس پر مستزاد مرد ذات تھا ۔ایسی باتیں برداشت کرنا ایسے میں زیادہ مشکل امر بن جاتا ہے ۔فائزہ نے مسکرا کر اسے خود سے الگ کیا تھا یعنی تهپڑ کھانے سے اعتراض نہیں تھا ۔سب کے سامنے پڑا اس پر تحفظات تھے ۔
“جانتی ہوں ۔لیکن تم بھی جانتے ہو طهٰ تمہارے ابو غلط بات برداشت نہیں کرتے ۔”
اسکے ماتھے پر بکھرے بالوں کو محبت سے سنوار کر پیچھے کیا تھا ۔
“اور یہ بال کیوں اتنے بڑے ہو رہے ہیں تمہارے ؟۔چوٹی بنانی ہے کیا ؟۔کل کٹے ہوئے نظر آئیں مجھے یہ ۔غضب خدا کا آنکھوں تک آ رہے ہیں۔”
اسکے بالوں میں ہاتھ چلاتے ہوئے وہ مصنوئی خفگی سے کہتیں اسکا دھیان بٹانے لگی تھیں ۔اسکی لا پرواہیوں اور لا ابالی پن سے لاکھ اختلاف سہی مگر یوں اداس بھی تو اچھا نہیں لگتا تھا ۔وہ تو ہنستا مسکراتا چمکتی شریر آنکھوں کے ساتھ پیارا لگتا تھا ۔
“کٹوا دوں گا ۔” بے دلی سے صرف انکا دل رکھنے کو مسکراتے ہوئے اس نے بڑے آرام سے ہامی بھر لی تھی ۔حالانکہ انکے ہیئر کٹ کا نام لیتے ہی وہ ہتھے سے اکھڑ جاتا تھا ۔
“ماں صدقے میری جان ۔چلو شاباش اب اٹھو منہ ہاتھ دھو کر باہر آؤ ۔میں کھانا لگاتی ہوں ۔”
اسکا ماتھا چوم کر وہ اسکے پاس سے اٹھ کھڑی ہوئیں ۔
“آپ چلیں میں تھوڑی دیر تک آتا ہوں “
فائزہ مسکرا کر اسے دیکھتے سر ہلا کر باہر نکل گئیں تھی ۔اور وہ یوں ہی وہیں کچھ دیر تک بیٹھا رہا ۔پھر ایک گہرا سانس خارج کرتا اٹھ کر واش روم کی جانب بڑھ گیا تھا ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .

“کہاں غائب ہو آج تم ؟”
کال ریسیو کرتے ہی شہیر کی خفا سی آواز سنائی دی تھی ۔آج کل وہ ماہی کو ہر ممکن طرح سے پریشرائز کر رہا تھا کہ کسی طرح وہ گھر والوں کو اپنی منگنی توڑنے کا کہہ دے ۔
“مت پوچھو ۔گھر میں اچھا خاصا ڈرامہ لگ گیا تھا آج ۔” تهكن زدہ سے انداز میں کہتے ہوئے وہ بیڈ پر بیٹھتے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائی تھی ۔
“کیا مطلب ؟”
اور پھر ماہی نے من و عن آج کا سارا واقعہ اسکے گوش گزار کیا تھا ۔جسے سن کر صحیح معنوں میں وہ انگشت بدنداں ہوا تھا ۔
“اور تمہارے کزن نے کچھ نہیں کہا آگے سے ؟”
“نہیں !اس نے کیا کہنا تھا ۔آخر غلطی بھی تو اسکی تھی -” کندھے اچکا کر ماہی نے جواب دیا تھا ۔ساتھ نظریں دروازے پر بھی جمی ہوئی تھیں کہیں کوئی آ نہ جائے ۔
“ویل ! آئی ڈونٹ تھنگ سو ۔سموكنگ کوئی اتنا بڑا ایشو نہیں تھا ۔اور تمہارا کزن کوئی بچہ نہیں ہے ۔باشعور مرد ہے ۔یقین کرو ہاتھ اٹھانا تو دور مجھ سے کوئی زبانی مس بی ہیو بھی کرتا تو میں نے سارے لحاظ بالائے طاق رکھ دینے تھے ۔پاکستان کا بس یہی کلچر مجھے زہر لگتا ہے ماں باپ بچوں کو چوزوں کی طرح پروں تلے چھپائے پھرتے ہیں ۔ساری زندگی بس اپنی مرضی امپوز کرنا چاہتے ہیں “۔
نخوت سے کہتے ہوئے وہ چپ ہوا تو ماہی نے آگے سے کچھ نہیں کہا تھا ۔اب اس پر بھلا وہ کیا تبصرہ کرتی ۔دل میں طهٰ کے لئے ہمدردی بھی پیدا ہوئی تھی ۔
“ایک منٹ ایک منٹ ۔۔۔۔ابھی جو تم نے کہا اگر وہ سچ ہے تو سمجھو ہمارا کام ہو گیا ۔تمہارے سو کالڈ فیانسی سے پیچھا چھڑانے کا ایک زبردست آئیڈیا ہے میرے پاس ۔”وہ بہت ایکسا ئیڈ سا کہہ رہا تھا ۔
“کیا ؟”
اور پھر جیسے جیسے وہ بولتا جا رہا تھا ماہی کا سرخ و سپید رنگ زرد پڑتا جا رہا تھا ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .

وہ چھت پر رکھی کرسی پر ٹانگیں پسارے بیٹھا تھا ۔گھر میں ہوتے ہوئے زیادہ تر شام کے وقت وہ یہی پایا جاتا تھا ۔ہانی کا کل آخری پیپر تھا ۔اور اسے اس سے کچھ ہیلپ چاہیے تھی ۔اپنی کتاب اور رجسٹر لئے وہ وہی آ گئی تھی ۔
“طهٰ بھائی !”
اسکی آواز پر اس نے موبائل پر سے نظریں ہٹا کر چہرہ موڑے اسے دیکھا تھا ۔پھر ہلکا سا مسکرا دیا ۔
“اگر بزی نہیں ہیں تو مجھے کچھ ہیلپ کر دیں ۔” ہاتھ میں پکڑی کتاب کو سینے سے لگائے وہ چھت پر کھلتے دروازے کی دہلیز پر کھڑی تھی ۔
“آ جاؤ ۔” موبائل جیب میں رکھتے ہوئے وہ سیدھا ہو کر بیٹھا تھا ۔
ہانی نے دوسری کرسی کھینچ کر اس سے ذرا فاصلے پر رکھی تھی ۔
رجسٹر اور پنسل اسکے حوالے کیا تھا جسے اپنے زانو پر رکھے وہ ذرا جھک کر دیکھنے لگا تھا ۔اگلے آدھے پونے گھنٹے تک وہ اس کو مختلف سوال سمجھاتا رہا تھا ۔بہت دنوں بعد وہ یوں بیٹھے تھے ۔ورنہ تو جب سے اسے ہانی کے سامنے تهپڑ پڑا تھا ۔وہ دونوں ہی ایک دوسرے سے کترانے لگے تھے ۔ایک کو خفت کا احساس تھا تو دوسرے کو پہلے کی کیفیت کا ۔
لیکن اب جب دونوں بیٹھے تھے تو سب پہلے کی طرح نارمل لگنے لگا تھا ۔آخری سوال حل کرتے اس نے سر اٹھایا تھا ۔ہانی رجسٹر پر نگاہ جمائے ہوئے مسکرائی تھی ۔
“جزاک اللّه ۔” صدق دل سے کہتے وہ اسکے ہاتھ سے اب اپنی چیزیں واپس لے رہی تھی ۔طهٰ مسکرا کر سر کو ذرا خم دیتے ہوئے واپس سے کرسی سے ٹیک لگا چکا تھااب سامنے خلاؤں میں دیکھ رہا تھا ۔گلابی شام کا ڈھلتا سورج اپنی آب و تاب کھونے لگا تھا ۔مگر دیکھنے میں بہت سحر انگیز لگ رہا تھا ۔
“آپ کی جاب کا کیا بنا ؟”
اس دن کے بعد سے وہ خاموش سا رہنے لگا تھا ۔اور اتنی سنجیدگی بھری خموشی اس پر جچتی نہیں تھی ۔اسی لئے اسے بولنے کے لئے مجبور کرتی وہ نیا موضوع نکال چکی تھی ۔
“فلحال تو کچھ نہیں ۔تم دعا کرو انشاء اللّه بہتر ہو گا ۔”
ایک نظر اس کے صاف شفاف بے ریا چہرے پر ڈال کر سرسری سا کہتا وہ جینز کی جیب میں سے موبائل نکال رہا تھا ۔
“انشاء اللّه ۔”
اپنی چیزیں سمیٹ کر وہ اٹھی تھی اندر کی طرف بڑھتے ہوئے کسی سوچ کے تحت اس کے قدم رکے تھے ۔مڑ کر اسکی پشت کو دیکھتے اس نے اسے پکارا تھا ۔
“طهٰ بھائی !”
“ہوں “
بنا مڑے ہی مصروف سے انداز میں موبائل پر انگلیاں چلاتے ہوئے اس نے ہنکارا بھرا ۔
“آپ نے ماہی کو دیکھا ؟” اسکے سادہ سے انداز میں کہنے پر طهٰ چونک کر سیدھا ہوتا مڑ کر اسے دیکھنے لگا تھا ۔
“مطلب ؟”
“مطلب ۔۔۔۔” وہ کچھ کہتے ہوئے رکی تھی جیسے الفاظ ڈھونڈنے چاہ رہی ہو ۔
“مطلب وہ ٹھیک نہیں ہیں ۔انھیں کچھ ہوا ہے ۔مگر وہ بتا نہیں رہیں ۔میں نے ایک دو بار پوچھا بھی مگر وہ ٹال گئیں ۔مجھے لگتا ہے وہ کسی بات کو لے کر اپ سیٹ ہیں ۔آپ پوچھیں ناں ان سے آپ کو بتا دیں گی ۔”
وہ بہت سوچ سمجھ کر بول رہی تھی ۔عموماً وہ اتنی لمبی بات کرنے کی عادی نہیں تھی ۔مگر ماہی کے لئے وہ سچ میں پریشان تھی ۔اور اس کا بر ملا اظہار وہ صرف طهٰ کے سامنے ہی کر سکتی تھی ۔
“ہوں ۔میں دیکھتا ہوں ۔” تسلی آمیز لہجے میں وہ بولا تھا ۔ہانی تو چلی گئی مگر وہ سوچوں کے بھنور میں پھنس کر ره گیا تھا ۔
وہ خود اس کے بدلے ہوئے رویے کو لے کر کچھ الجھا ہوا سا تھا ۔مگر پھر اسے اپنی خام خیالی تصور کرنے لگتا تھا مگر اب ہانی کے یہ سب کہنے سے جیسے اسکی سبھی سوچوں کو تقویت سی مل گئی تھی ۔
پچھلے کچھ وقت سے ماہی اس سے کھچی کھچی رہنے لگی تھی ۔کتنے دن ہوئے تھے ان کے درمیاں ٹھیک سے بات تک نہ ہوئی تھی ۔اس نے ذہن پر زور دیا تھا آخری بار انکے درمیان بات کب ہوئی تھی ؟
اور پھر اسے یاد آیا تھا جب وہ اس کے کمرے میں آئی تھی پیسوں کے لئے ۔اسکے بعد سے تو وہ اس سے کترائی کترائی رہنے لگی تھی ۔اسکی موجودگی پر غائب ہو جاتی ۔وہ کوئی بات کرتا تو سرسری سا جواب دے کر نکل جاتی ۔
مگر یہ سب کوئی اتنی غیر معمولی باتیں نہیں تھی ۔وہ پہلے بھی خود میں ہی مگن رہنے والی تھی ۔اسکی اپنی دنیا تھی جہاں وہ بہت خوش رہتی تھی ۔ہر ایک سے بے نیاز خود میں گم ۔لیکن پھر بھی کچھ تھا جو اسے کھٹک رہا تھا اور اب تو ہانی کی کہی بات نے اسکے شک و شہبات پر یقین کی مہر ثبت کر دی تھی ۔
اسکے ذہن میں کچھ دن پہلے کا واقع فلیش بیک ہوا تھا ۔
باہر بنے چھوٹے سے باغیچے میں وہ رات کی رانی کے نیچے کھڑی فون پر بات کر رہی تھی ۔اسکا رخ دیوار کی جانب تھا اور آواز بھی بہت دھیمی سی تھی ۔وہ دکان سے واپس ہوتے گھر میں داخل ہوا تھا ۔دن کے تین بج رہے تھے ۔تھوڑی دیر تک اسے اکیڈمی پہنچنا تھا ۔مگر اسے دیکھ کر وہ اسی کی طرف چلا آیا ۔ابھی وہ اس سے کچھ فاصلے پر تھا جب کسی کی موجودگی کا احساس پاتے ہوئے وہ مڑی تھی اور اسے دیکھ کر اس کے چہرے کا رنگ متغیر ہوا تھا ۔موبائل کان سے ہٹا کر اس نے سرعت سے کال کاٹ دی تھی ۔
“کیا ہوا ؟۔اتنی گھبرا کیوں رہی ہو ؟”
اسکے ہوائیاں اڑے چہرے کو دیکھ کر حیران ہوتا وہ پوچھے بنا نہ ره سکا تھا ۔
“کچھ نہیں ۔۔۔۔بس ایسے ہی ایک دم تم آ گئے تو ڈر گئی تھی میں ۔”
ماتھے پر آئے پسینے کو صاف کرتے وہ جز بز سی ہوئی کہہ رہی تھی ۔طهٰ ہلکا سا ہنسا ۔
“اچھا ۔۔۔۔تو تم ڈرتی بھی ہو ۔نئی اطلاع ہے ویسے میرے لئے ۔خیر اتنی گرمی میں باہر کیوں کھڑی ہو ؟”
کندھے ذرا سے اچکا کر وہ معمول کے سے انداز میں بات کر رہا تھا ۔ماہی کو تسلی ہوئی تو گویا اس نے کوئی بات سنی نہیں تھی ۔
“ہاں بس ایک دوست کی کال آ گئی تھی تو بات کرتے کرتے باہر نکل آئی ۔”
وه بھی اب کافی حد تک اپنی گھبراہٹ پر قابو پا چکی تھی ۔
“ایسی کون سی دوست ہے بھئی جس سے بات کرتے تم اتنی محو ہو گئی کہ اتنی دھوپ میں باہر آ گئی ۔حالانکہ دھوپ میں باہر نکلتے تو تمہاری جان جاتی ہے ۔”وہ اسے چھیڑ رہا تھا ۔مگر ماہی کے دل کا چور بلبلا اٹھا تھا ۔
“کیا مطلب ہے تمہاری اس بات سے طهٰ ؟۔تم شک کر رہے ہو مجھ پر ۔کیا لگتا ہے تمہیں کس سے بات کر رہی ہوں گی میں یوں سب سے چھپ چھپا کر ؟”
تنے ہوئے نقوش کے ساتھ دانت پیس کر کہتے وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی ۔اس قدر غیر متوقع رد عمل پر طهٰ کے ماتھے پر بل پڑے تھے ۔سر کو خفیف سا نفی میں جھٹک کر وہ مفاہمتی انداز پر اتر آیا تھا ۔
“نہیں یار !کیا ہو گیا ہے ۔میں تو بس ایسے ہی کہہ رہا تھا ۔تم کیوں اس قدر اوور ری ایکٹ کر رہی ہو ؟”
اسکے اچنبھے سے کہنے پر وہ چونکی تھی ۔واقع ہی میں وہ تو ایسے چھیڑنے کا عادی تھا ۔مگر وہ اس طرح کا رد عمل دے کر خود اسے شک میں مبتلا کر رہی تھی ۔
“آئی ایم سوری طهٰ ۔بس میرے سر میں تھوڑا درد تھا اور میری دوست بھی کچھ پریشان تھی ۔وہ اپنا مسئله مجھ سے شئیر کر رہی تھی تو اسی ٹینشن میں میں تم سے اس طرح بات کر گئی ۔” ہاتھ سے ماتھا مسلتے ہوئے وہ فوری طور پر نرم پڑی تھی ۔طهٰ نے بغور اسکا چہرہ دیکھا تھا ۔کچھ تھا جو ٹھیک نہیں تھا مگر کیا ؟وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا ۔اسکی بات پر بس اس نے سر ہلا دیا تھا ۔
“کوئی بات نہیں ۔تم ریسٹ کرو سر درد ٹھیک ہو جائے گا ۔”
اس کے کہتے ہی بمشکل ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ لاتے وہ سبک رفتاری سے کہنی کتراکر اسکے پاس سے گزر گئی تھی ۔اور وہ کتنی دیر اسے خود سے دور ہوتا جاتے دیکھتا رہا تھا یہاں تک کہ وہ نظروں سے اوجهل ہو گئی تھی ۔
ڈھلتی شام میں اب حبس کم ہونے لگی تھی ۔ہلکی سی ہوا کے باعث اس کے تازہ تازہ کٹے بال جو اب چھوٹے ہو گئے تھے ۔بکھر نے لگے تھے ۔چہرے پر سوچوں کی لکیروں کے ساتھ ساتھ اب تفكر کے رنگ بھی نمایاں ہونے لگے تھے ۔یکے بعد دیگرے اسکی آنکھوں کے سامنے کہیں مناظر دوڑے تھے ۔جہاں کہیں وہ موبائل سکرین کو دیکھتی پر اسرار سے انداز میں میٹھی سی مسکان ہونٹوں پر لئے ہوئے تھی ۔تو کبھی سب کے درمیان ہوتے موبائل بلنگ کرنے پر وہ سٹپٹا جایا کرتی اور پھر وہاں سے نکل جاتی ۔اور یہ سب کچھ مہینوں سے ہی ہو رہا تھا ۔
کچھ سوچ کر وہ اٹھا تھا ۔اسکا رخ اب نیچے جاتی سیڑھیوں کی جانب تھا ۔کچن میں سے فائزہ ،آنسہ کے ساتھ ساتھ ہانی کی آواز بھی آ رہی تھی موضوع بحث رات کا کھانا تھا ۔وہ آخری سیڑھی پر کھڑا ماہی اور ہانی کے کمرے کا بند دروازہ دیکھ رہا تھا ۔اس گھر کی کچھ روایات تھیں جو انھیں کبھی بیٹھ کر بتائی نہیں گئیں تھیں مگر پھر بھی ایک حد جو قائم تھی اسکی پاسداری سب پر لازم تھی ۔ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ وہ کبھی ان دونوں کے روم میں نہیں گیا تھا ۔نہ ہی کبھی اسکی ضرورت محسوس ہوئی تھی ۔
کچھ دیر سوچتی نظروں سے وہ بند دروازہ دیکھتا رہا تھا پھر حتمی فیصلہ کرتے وہ دروازے کی جانب بڑھا تھا ۔آہستہ سا نوک کرتے اس نے کچھ دیر جواب کا انتظار کیا پھر ذرا سا دروازہ کھول کر بنا اندر دیکھے وہیں سے پکارا تھا ۔
“ماہی ! میں اندر آ جاؤں ؟”
کچھ دیر تک جب کوئی جواب نا ملا تو اس نے ذرا سا سر اندر کرتے دیکھا تھا ۔کمرہ خالی تھا وہ کہیں نہیں تھی ۔مایوس سا وہ مڑنے لگا تھا جب اسکے بستر پر پڑا موبائل وائبریٹ کیا تھا ۔اصولی طور پر اسے واپس ہو جانا چاہیے تھا مگر دل کے ملامت کرنے کے باوجود وہ اندر آ گیا تھا ۔واشروم کا ڈور بند تھا ۔یقیناً اندر ماہی تھی تبھی اسکا موبائل یہاں پڑا تھا ۔جھک کر موبائل اٹھایا تھا ۔اور اس بار اسکا ماتھا صحیح معنوں میں ٹھٹکا تھا ۔وہ ان نون نمبر تھا یہ اتنی اہم بات نہیں تھی مگر وہ غیر ملكی نمبر تھا یہ عجیب ضرور تھا ۔بنا کچھ مزید سوچے اس نے کال ریسیو کی تھی ۔
“کہاں ہو تم ؟کب سے کال کر رہا ہوں ۔”
دوسری طرف سے جهنجهلائی ہوئی مردانہ آواز اسے ورطہ حیرت میں ڈال گئی تھی ۔ماتھے پر بل پڑے تھے ۔
“کون بات کر رہا ہے ۔” بنا سوچے سمجھے وہ جھٹ سے بولا تھا اور دوسری طرف جیسے سانپ سونگ گیا تھا ۔ایک گہری خموشی اور پھر کال کاٹ دی گئی تھی ۔طهٰ نے آنکھوں میں کہیں خدشات لے کر موبائل کو کان سے اتار کر گھورا تھا ۔تبھی واشروم کا دروازہ کھلا تھا ۔ماہی باہر نکلی تھی اور اسے دیکھ کر اپنی جگہ جم سی گئی تھی ۔اسکے ہاتھ میں اپنا موبائل دیکھ کر دل ڈر کے مارے اچھل کر حلق تک آیا تھا ۔
طهٰ نے بھی اسکی موجودگی کو بھانپ لیا تھا ۔موبائل سے نظریں ہٹا کر اس نے ماہی کو دیکھا تھا۔جو اسے دیکھ کر نظریں چرا گئی تھی ۔
“تم یہاں ؟”
شانے پر پڑا دوپٹہ سنبهالتے مرے ہوئے قدموں سے چلتے ہوئے وہ اسکی طرف بڑھی تھی ۔طهٰ نے گہری نظروں سے اسکے چہرے پر کچھ تلاشنا چاہا تھا ۔
“ہاں کچھ بات کرنی تھی تم سے ۔بائی دا وے تمہاری کال آ رہی تھی ۔کوئی انٹرنیشنل نمبر تھا ۔شاید رونگ نمبر ہوگا ۔” مسکرا کر اسکا موبائل اسکی طرف بڑھاتے ہوئے وہ عام سے لب و لہجے میں کہہ رہا تھا ۔ماہی نے دہلتے دل کے ساتھ اسکا چہرہ دیکھا تھا مگر وہاں بھی بلکل نارمل سا تاثر تھا ۔ماہی کو ذرا تسلی ہوئی تھی ۔وہ دل میں رکھنے والوں میں سے نہیں تھا ۔اگر اسے کوئی شک ہوا ہوتا تو فوری پوچھ لیتا ۔اور اسکے معاملے میں تو وہ اتنے صبر و تحمل کا مظاہرہ کر بھی نہیں سکتا تھا ۔
“ہاں رونگ نمبر ہی ہوگا ۔پتہ نہیں لوگ آنکھیں کھول کر کیوں نمبر ڈائل نہیں کرتے ۔”
ایک پھیکی سی ہنسی کے ساتھ بمشکل ہاتھوں کی کپكپاہٹ پر قابو پاتے ہوئے موبائل اسکے ہاتھ سے لے کر وہ خود کو کمپوز کرتے بولی تھی ۔طهٰ کی گہری نظریں اسکی سبھی حرکات و ساکنات کا بارک بینی سے جائزہ لے رہی تھیں ۔
“صحیح کہا تم نے ۔آنکھیں تو واقع ہی کھلی رکھنی چائیے ۔ورنہ نمبر رونگ بھی لگ سکتا ہے ۔”مبہم سے انداز میں کہتے وہ جانے کے لئے مڑا تھا ۔ماہی نے اسے پیچھے سے پکارا ۔
“تم کوئی بات کرنے آئے تھے ۔”طهٰ کے بڑھتے قدم رکے تھے ۔وہ مڑا تھا ۔اپنی مخصوص دھیمی سی مسکراہٹ کے ساتھ ۔
“نہیں بعد میں کر لوں گا ۔ابھی صحیح وقت نہیں ہے اور مجھے ایک بہت ضروری کام بھی یاد آ گیا ہے ۔”
بہت آرام سے کہتے ہوئے وہ باہر نکل گیا تھا ۔ماہی نے زور زور سے دھڑکتے دل پر ہاتھ رکھا تھا ۔آنکھیں بند کرتے ایک گہری سانس خارج کی تھی ۔وہ بال بال بچی تھی ۔ہاتھ میں سختی سے پکڑے موبائل کو گھورا تھا ۔پھر جلدی سے ڈور لاک کرتے تیزی سے ہاتھ چلاتے ہوئے اسے کال بیک کی تھی ۔
“تمہیں چین نہیں ہے ۔کسی دن مرواؤں گے مجھے ۔جب میں نے کہا ہے کہ میں خود تمہیں جب کہا کروں تب کال کیا کرو تو کیوں میری جان مشکل میں ڈالنے کے درپے ہوتے ہو ؟”
دوسری طرف کال ریسیو ہوتے ہی دهیمی مگر درشت آواز میں تیز تیز کہتی وہ پھٹ پڑی تھی ۔
“اوکے آئی ایم سوری ۔تم صبح سے میرے کسی میسج کا ریپلائی نہیں کر رہی تھی تو سوچا دیکھ لوں سب خیریت ہے ۔”
خفیف سا ہو کر وہ فوری معذرت کر گیا تھا ۔
“بندہ بزی بھی تو ہو سکتا ہے نا ۔امی نے صبح سے اپنے ساتھ کام پر لگایا ہوا تھا ۔بتایا تو تھا ہانی کے پیپرز ہو رہے ہیں تو آج کل امی مجھ سے ہی کام کروا رہی ہیں ۔”
جهنجهلاتے ہوئے کہہ کر اب وہ بستر پر بیٹھ گئی تھی ۔
“کال تمہارے کزن نے ریسیو کی تھی ؟”
“ہاں وہی تھا ۔شکر اسے شک نہیں ہوا ۔”
“ہاں تھینک گاڈ !میں نے تمہارا نام نہیں لیا تھا ۔”
اسکے کہنے پر ماہی نے بھی ایک تشکر آمیز سانس خارج کی تھی ۔
“اچھا اب میری بات سنو ! بہت سوچ لیا تم نے ۔اب مزید وقت نہیں ہے ۔میں اگلے ماہ پاکستان آ رہا ہوں موم ڈیڈ کے ساتھ ۔تب تک تم اپنی جان چھڑواؤ تاکہ ہماری راہیں ایک ہو سکیں ۔ویسے بھی تم کب تک یہ سب چھپاتی رہوگی ۔آج نہیں تو کل تمہارے گھر والوں کو پتہ چل ہی جائے گا ۔اس لئے بہتر یہی ہے میں جو کہہ رہا ہوں وہ کر گزرو ۔۔۔۔۔۔”
وہ بول رہا تھا اور ماہی جو اب تک تذبذب کا شکار تھی آج کے واقعے کے بعد اب سنجیدگی سے اس بابت غور کرنے لگی تھی ۔

. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .

اکثر ہوتا ہے کسی ایک کے اعتدال سے بڑھ جانے کا بھگتان پورا خاندان بھرتا ہے ۔بیگ ہاؤس پر بھی ایک ایسے ہی دن کا سورج طلوع ہوا تھا ۔وہ صبح بھی جیسے اداس اداس سی تھی ۔فائزہ نے تو ناشتہ بناتے ہوئے اپنی بے کلی کا اظہار آنسہ سے بھی کیا تھا ۔مگر انھوں نے سب خیر ہو گی کہہ کر انھیں تسلی دی تھی ۔
ام ہانی کے پیپرز تو ختم ہو چکے تھے مگر کل رات سے اسے بخار نے آن لیا تھا ۔کچھ فائزہ کو اسکی بھی پریشانی تھی ۔ڈاکٹر کو دکھایا بھی تھا دوا بھی دی تھی مگر بخار تھا کہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا ۔
دن پورا عجیب سی بے نام سی بے چینی میں گزرا تھا ۔طهٰ بہت دنوں بعد اکیڈمی سے لوٹ کر گھر آیا تو کچھ دیر تک آتا ہوں کہہ کر باہر نکل گیا تھا ۔مغرب کی نماز پڑھ کر وہ فارغ ہی ہوئی تھیں کہ کال موصول ہوئی تھی آنسہ کے مامو کا انتقال ہو گیا تھا ۔ندیم دکان سے ہی وہاں کے لئے نکل گئے تھے ۔جبکہ ابراھیم کچھ ہی دیر بعد گھر آ جانے والے تھے ۔نماز جنازہ کل تھی تو وہ کل ہی جانے کا ارادہ رکھتے تھے ۔فائزہ اور آنسہ فہد کے ہمراہ نکلی تھیں ۔ماہی کو گھر ہی چھوڑ دیا تھا ہانی کی وجہ سے ۔فائزہ نے جاتے ہوئے طهٰ کو کال کی تھی کہ وہ گھر جلدی آ جاۓ ۔اس نے بھی انھیں یقین دہانی کروا دی تھی ۔اس لئے وہ بے فکر ہو کر گھر سے نکل گئیں تھیں ۔
ماہی جو اتنے دن سے کسی موقعے کی تلاش میں تھی ۔اسے ایک اچھا موقع میسر آ چکا تھا ۔الماری کھول کر اس نے بیگ میں رکھی وہ چھوٹی سی پڑیا باہر نکالی تھی جو کچھ ہی دن پہلے ایک گفٹ باکس میں تحفے کے ہمراہ شہیر نے ہی زارا کے ہاتھ اس کے لئے بھیجی تھی جسکا علم خود بے چاری زارا کو بھی نہیں تھا ۔ایک محتاط سی نگاہ بے سده پڑی ہانی پر ڈالی تھی جو بخار میں تپ رہی تھی ۔
یعنی کہ اسکی طرف سے بھی کوئی مسئله نہیں تھا ۔
کمرے سے نکل کر وہ کچن میں آئی تھی احتیاط سے اس چھوٹی سی پڑیا کو چینی کے جار کے پیچھے رکھ کر وہ بے صبری سے اسکا انتظار کرنے لگی تھی ۔اور طهٰ نے اسے زیادہ انتظار نہیں کروایا تھا ۔
ڈور بیل پر ایک گہرا سانس بھرتے اس نے خود کو پر سکون کیا تھا پھر وہ لپک کر باہر کی جانب بڑھی تھی ۔وہاں طهٰ ہی تھا ۔بہت دنوں بعد اسے دیکھ کر وہ بڑے دل سے مسکرا ئی تھی ۔
وہ دونوں ایک ساتھ اندر آئے تھے ۔لیونگ ایریا میں آ کر وہ رکا تھا ۔
“تم نہیں گئی ساتھ ؟”
“نہیں ۔میں ہانی کے لئے ٹھہر گئی تھی ۔” اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے ہوئے وہ بولی تھی ۔وہ لالچی تھی ۔اسکی خواہشیں لا محدود تھیں جنہیں وہ پورا بھی کرنا چاہتی تھی مگر وہ کوئی پیشہ ورانہ مجرم نہیں تھی ۔دل کی حالت اسکی بھی غیر تھی ۔مگر نفس کا شیطان غالب آ یا ہوا تھا ۔
طهٰ نے انکے کمرے کا بند دروازہ دیکھا تھا ۔
“دوا سے کوئی فرق نہیں پڑا کیا ؟ فکر مند سا وہ پوچھ رہا تھا ۔ماہی نے سر کو نفی میں ہلا دیا ۔
“تائی امی کہہ رہی تھیں واپس آ کر اسے دوبارہ ڈاکٹر پاس لے کر جائیں گی ۔”
ہاتھ کی انگلیاں مروڑتے ہوئے وہ اسے بتا رہی تھی ۔طهٰ نے سن کر سر ہلایا تھا ۔
“تم بیٹھو میں چائے بناتی ہوں تمہارے لئے ۔”
مسکرا کر کہتے وہ آگے بڑھنے لگی تھی جب طهٰ نے اسے روک دیا ۔
“نہیں چائے کا بلکل دل نہیں کر رہا ۔رہنے دو تم ۔بلکہ مجھے تم سے کچھ ضروری بات کرنی تھی ۔تم بیٹھو تو آرام سے وہ کر لیتے ہیں ۔”
یک دم وہ بہت ساری سنجیدگی لئے بولا تو ماہی کا دل پوری قوت سے دھڑک اٹھا ۔
“ہاں ۔۔۔۔ہاں بات بھی کر لیں گے ۔مگر پہلے چائے تو پی لو ۔میں نے پانی رکھا ہوا ہے ۔دراصل میرا دل بھی چاہ رہا ہے پینے کو ۔” اپنے لب و لہجے کو نارمل رکھتے اس نے کہا تو طهٰ نے سر کے اشارے سے اسے جانے کی اجازت دی تھی ۔وہ تیز رفتاری سے کچن میں گم ہو گئی ۔
طهٰ وہیں صوفے پر بیٹھ کر اسکے آنے کا انتظار کرنے لگا تھا ۔کچھ ہی دیر بعد وہ واپس آ گئی تھی ہاتھ میں دو چائے کے مگ تھے ۔ایک اسکی طرف بڑھایا تھا اور دوسرا خود لیتے وہ دوسرے صوفے پر بیٹھ گئی تھی ۔
طهٰ نے چائے کا سپ لیا تھا ۔ماہی نے اپنی منتشر ہوئی سانسوں پر قابو رکھتے اسکی طرف دیکھا تھا ۔اسکا چہرہ نارمل رہا تھا ۔یعنی کہ وہ کچھ بھانپ نہیں پایا تھا ۔
“چینی زیادہ ہے ۔” گلا کھنگار کر بلند آواز میں جیسے اس نے رائے دی تھی ۔
“اچھا ۔۔۔مجھے اندازہ نہیں ہوا ۔” بے خبری کا تاثر دیتے اس نے ایک گھونٹ بھرا تھا پھر کھسيانی ہو کر مسکرا ئی تھی ۔ایک بو جهل دل والی مسکراہٹ ۔
“ہاں تھوڑی زیادہ ہو گئی ہے ۔” اس نے جیسے اعتراف کیا تھا ۔وہ الگ بات کہ چینی اس نے خود زیادہ رکھی تھی تا کہ وہ اس میں ملے پاؤڈر کا ٹیسٹ جان نہ سکے ۔
“ماہی میں جو تم سے پوچھوں گا سچ سچ بتاؤ گی ؟” ایک دم سے اس نے لئے دیے سے انداز میں کہا تھا ۔چائے کا گھونٹ لیتی ماہی کے لئے چائے حلق سے اتارنا دشوار ہوا تھا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *