Raah e Yaar Teri Musaftein by Umme Abbas NovelR50606 Raah e Yaar Teri Musaftein (Episode 12)
No Download Link
Rate this Novel
Raah e Yaar Teri Musaftein (Episode 12)
Raah e Yaar Teri Musaftein by Umme Abbas
دروازے کا بڑا سا پٹ وا ہوا تھا بہت آہستگی کے ساتھ مگر پھر بھی اس سرد رات کی اس بلا کی خموشی میں اسکی ہلکی سی چرچراہٹ بھی بہت دور تک جیسے سنائی دی تھی ۔سامنے درمیانے سے قد کی لڑکی کھڑی تھی ۔جو سے پیچھے کی جانب گردن موڑے دیکھ رہی تھی ۔اور پھر وہ سامنے مڑی ۔بڑی سی گرم شال میں اچھے سے سر کے بال چھپائے ماتھے تک آتے پلو کے ساتھ وہ بھوری قدرے چھوٹی مگر خوبصورت آنکھوں والی پتلے پتلے نین و نقش کی حامل،گندمی ہلکی گلابی مائل رنگت والی ، دبلی پتلی سی لڑکی تھی ۔زیادہ خوبصورت نہیں تھی مگر چہرے پر چھائی معصومیت کے ساتھ پیاری لگتی تھی ۔
پورا گھر تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا بس لیونگ ایریا میں بتياں جل رہی تھیں جس کی روشنی راہداری سے ھو کر دروازے تک بھی آتی تھی ۔
طهٰ اسپورٹس شوز پہنے اندر داخل ہوا ہونٹ دانتوں میں دبا کر آہستگی سے دروازہ بند کیا ۔اب وہ سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھ رہا تھا پھر سر کو ہلکا سا خم دیا ۔
“شکریہ ام ہانی ۔تم نے بچا لیا “۔اپنی مخصوص نرم و بشاشت بھری آواز میں سرگوشی نما کہتے وہ مسکرا رہا تھا ۔
وہ آگے سے کچھ نہیں بولی تھی بس ہوائیاں اڑے چہرے کے ساتھ بدقت مسکرا پائی ۔
“ویسے یہ ماہی صاحبہ کہاں ہیں ؟۔میں اس سے بول کر بھی گیا تھا میں آؤں گا تو دروازہ کھول دینا “۔اب وہ ذرا سی خفگی سے دھیما سا کہہ رہا تھا ۔آہستہ قدموں سے چلتا وہ آگے بڑھا ۔اس سے دو قدم پیچھے وہ بھی آ رہی تھی ۔
“ماہی سو گئی ہیں “۔چادر کا کونہ ہاتھ میں مضبوطی سے پکڑے وہ سانس بھی آہستگی سے لے رہی تھی ۔آواز بڑی مشکل سے حلق سے نکلی تھی ۔طهٰ رکا ،اور بڑے ڈرامائی سے انداز میں گھوم کر اسکی طرف مڑا ۔وہ جو اپنے دھیان میں دائیں طرف والے کمرے کے بند دروازے کو دیکھتے اسکے پیچھے آ رہی تھی اک دم سامنے دیکھنے پر اسے یوں رخ اپنی طرف کیے جما کھڑا دیکھ سرعت سے قدموں کی زنجیر کرتی دو قدم پیچھے ہوئے تھی ۔ورنہ تصادم یقینی تھا ۔
“سو گئی ؟؟؟”وہ حیران ہوا ۔”اتنی جلدی ۔۔۔ویسے تو رات ایک بجے تک اسکو نیند نہیں آتی بس جس دن میں کہوں دروازہ کھول دینا اس دن نیند کی دیوی اس پر مہربان ھو جاتی ہے “۔منہ کے زاویے بگاڑے وہ سرگوشی سے ذرا اونچی آواز میں کہہ رہا تھا ۔ام ہانی نے بے بسی سے ایک پل کے لئے اسے دیکھا تھا ۔شیر کی کچھار کے سامنے وہ یوں اطمینان سے کھڑا تھا کہ اسے دیکھ کر اسکا اپنا دل ہول رہا تھا ۔
“کھانا کھائیں گے ؟”۔بنا اسکا چہرہ دیکھے وہ پوچھ رہی تھی ۔اسے جلد از جلد وہاں سے جانا تھا ۔
اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتا دائیں جانب والے کمرے کا دروازہ کھلا تھا اور ابراھیم سخت تاثرات چہرے پر سجائے باہر نکلے۔آواز پر آنکھیں میچے طهٰ نے گہرا سانس لیا تھا سختی عموماً اسکے تعاقب میں رہتی تھی ۔ اور ہانی ۔۔۔۔اسکا چہرہ سفید لٹھے کی مانند ہوا تھا ۔
چہرہ جھکا کر وہ پلٹا تھا کہ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا فلحال ایسا کوئی منتر نہیں تھا جس سے وہ خود کو غائب کر لیتا ۔اسکے پلٹ کر کھڑا ہونے پر ام ہانی اسکی اوٹ میں کہیں چھپ سی گئی تھی ۔
لیونگ ایریا کے عین وسط میں وہ دونوں کھڑے تھے اور کمرے کے دروازے سے چند قدم آگے ابراھیم سختی سے ہونٹ بھینچے ہوئے ناراضگی بھری نظروں سے اسے سر تا پا دیکھ رہے تھے ۔انکے پیچھے دروازہ ایک بار پھر کھلا تھا چادر سر پر لیتے ہوئے حواس باختہ سی فائزہ کا چہرہ نمودار ہوا تھا ۔
“ام ہانی اپنے کمرے میں جاؤ “۔انکی نرم آواز میں بھی بلا کی ناپسندیدگی تھی ۔گردن کے ساتھ لگی ٹھوڑی کے ساتھ وہ بنا ایک بار بھی ادھر ادھر دیکھے سر پٹ سیڑھیوں سے معلق اپنے کمرے کی طرف بڑھی تھی ۔اب پیچھے وہ اکیلا کھڑا تھا ۔
“کہاں سے آ رہے ہو ؟”۔سرد کٹیلے انداز میں پوچھتے وہ اسے غصیلی نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے ۔جس کا چہرہ اب اوپر اٹھنے سے انکاری تھا ۔
“ساتھ والے پارک میں میچ تھا ابو “۔ہموار آواز میں جواب آیا تھا ۔ذہنی طور پر خود کو وہ متوقع گھن گرج کے لئے تیار کر چکا تھا ۔اور توقع کے عین مطابق اسکے جواب سے انکا غصہ آسمان تک پہنچ چکا تھا ۔
“یہ وقت ہے شریف لوگوں کے گھر آنے کا ۔پتہ نہیں کہاں کہاں آوارہ گردیاں کرتے گھومتے پھرتے ہو،کن لوگوں میں اٹھتے بیٹھتے ہو ؟ ۔میری ایک بات کان کھول کر سن لو طهٰ ۔اس گھر میں رہنا ہے تو انسانوں کی طرح رہو یوں آدھی آدھی رات کو چوروں کی طرح دیواریں پھلانک کر آنے سے بہتر ہے اگلی بار گھر واپس ھی مت آنا “۔فائزہ ان کے پیچھے دم سادھے کھڑی تھیں ۔اس وقت کچھ بولنا انکے غصے کو مزید ہوا دینے کے مترادف تھا ۔طهٰ نے سر جھکا کر ان کڑوی کسیلی باتوں کو امرت کی طرح پیا تھا ۔یہ کوئی نئی بات نہیں تھی ابراھیم صاحب ایک سخت گیر باپ واقع ہوئے تھے ۔اکلوتی اولاد نرینہ ہونے کے باوجود طهٰ پر عقاب کی سی نظر رکھتے تھے ذرا سی غلطی پر بھی خوب کھری کھری سنا دیا کرتے ۔ان دونوں کے درمیان انکی سخت طبیعت کے باعث تعلقات میں تناؤ کی سی كیفیت رہتی تھی ۔
وہ مڑے تو پیچھے کھڑی فائزہ جو ہمدردی بھری نظروں سے طهٰ کو دیکھ رہی تھیں گڑبڑا کر ره گئیں ۔
“تو یہی وجہ تھی جو تمہیں نیند نہیں آ رہی تھی ؟”۔انکی طنز بھری آواز پر وہ کچھ کہنے کے لئے منہ کھولتی پھر چپ ہو گئیں ۔طهٰ انھیں بتا کر گیا تھا ۔انکے منع کرنے پر منت سماجت کرتے انھیں منا کر ہی دم لیا تھا ۔پاس والے پارک کے گراؤنڈ میں کرکٹ میچ تھا ۔وہ كلب کی طرف سے کھیلتا تھا ۔ایک واحد شوق تھا اسکا ۔مگر ابراھیم کو سخت نا پسند تھا ۔اس لئے شہر سے باہر وہ کبھی نہیں جاتا تھا مگر اپنے شہر میں جہاں کہیں میچ ہوتا وہ پہنچ جایا کرتا پھر ابراھیم کی جلی کٹی آرام سے سن لیتا تھا ۔اب بھی اس کے منہ سے اف تک نہیں نکلی تھی نہ ہی ماتھے پر کوئی شکن آئی ۔
زیادہ تر تو وہ بچ جایا کرتا تھا ۔کبھی لیٹ ہو جاتا تو فائزہ اسے ریسکیو کر لیا کرتی تھیں ۔مگر آج ابراھیم صاحب کو شاید پہلے سے بهنک پڑ گئی تھی وہ سونے کے بجائے کتاب بینی میں مصروف ہو گئے تو ہر گزرتے منٹ کے ساتھ فائزہ بے چینی سے کروٹیں بدلتی رہیں ۔پھر پانی پینے کے بہانے اٹھ کر طهٰ کو ایک میسج کیا تھا تبھی دروازہ کھولنے کے لیے اس نے ماہی کو میسج کیا تھا ۔
“اب آ جاؤ خبر دار جو کھانے ٹھنڈے گرم کر کے دیے صاحب بہادر کو ۔تمہارے یہی لاڈ پیار اسے بگاڑ رہے ہیں “کمرے میں داخل ہوتے ہوئے اپنی جگہ جمی فائزہ کو وہ سرزنش کرنا بالکل نہیں بھولے تھے ۔
“جی آ رہی ہوں “۔پیچھے مڑ کر کہتے انھوں نے انکے اندر چلے جانے کی تصدیق کی تھی پھر سرعت سے اس تک آئیں جو اب دونوں ہاتھوں سے بال پیچھے کرتے لا پرواہی سے انھیں دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔
“اتنی دیر کر دی طهٰ تمہارے دس اب بجے ہیں ؟۔کسی دن اپنے ابا سے مجھے بری طرح ڈانٹ پڑواؤ گے تم “۔اسکے پاس آتے ہوئے وہ خفا ہوئی تھیں ۔
“میں ہوں ناں ڈانٹ کھانے کے لئے میری پیاری اماں۔بے فکر رہیں آپ “۔آنکھ کا کونہ شرارت سے میچ کر ڈھیٹ پن سے آہستگی سے ہنستے وہ انکے گرد بازو پھیلاتا انکا سر چوم گیا تھا ۔ساری خفگی لمحے میں زائل ہوئی تھی ۔
“اچھا اب کھانا نکال کر کھا لینا ۔تمہارے ابو پہلے ہی خفا ہیں اور ناراض ہوں گے ۔اور صبح پہلی ہی آواز پر اٹھ جانا نماز کے لئے ۔انکا غصہ ٹھنڈا ہو جائے گا “۔مسکرا کر عجلت سے کہتے اسکے ماتھے پر پھر سے آتے بال پیچھے کرتے وہ مڑی تھیں ۔
“پوچھیں گی نہیں کون جیتا ؟”۔وہ جلدی سے بولا تھا ۔آنکھیں چمک رہی تھیں ۔
“مین آف دا میچ میرا بیٹا ہی ہوا ہو گا ۔چہرے سے پتہ چل رہا ہے ۔باقی قصے صبح ناشتے پر سنوں گی ۔کھانا کھا لینا “۔رک کر مڑتے کہتے ایک بار پھر آخر میں یاد دہانی کرائی تھی ۔تیز قدموں سے چلتے دروازہ کھول وہ اندر گم ہو گئیں تھیں ۔
انکے جانے کے بعد وہ بھی آگے بڑھا تھا ۔پہلے قدموں کا رخ کچن کی طرف ہوا ۔پہلے ہی تهكن سے برا حال تھا اوپر سے کھانا نکالنا گرم کرنا مشقت طلب کام تھا ۔پھر کچھ سوچ کر ارادہ ترک کرتے وہ سیڑھیاں چڑھ گیا تھا ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
صبح ناشتے کی ٹیبل پر وہ مسکراتا ہوا ٹانگیں پھیلا کر ڈھٹائی سے بیٹھا ہوا تھا ۔فائزہ ناشتہ بناتے ہوئے اسے برابر ڈانٹ بھی رہی تھیں اور ام ہانی ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھی یونیفارم میں ملبوس سر پر اسکارف لئے سر جھکائے ناشتہ کر رہی تھی ۔
“اچھا امی !اب بس بھی کر دیں ۔بھوکے پیٹ رات ابو کی جلی کٹی سنی اب آپ غصہ ہوئے جا رہی ہیں ۔ایک بات بتائیں میں آپ کی سگی اولاد ہی ہوں ناں ؟”۔منہ بنا کر کہتا آخر میں رازداری سے پوچھتے وہ انھیں مزید تپا رہا تھا ۔
“میرے ہاتھ میں بیلن ہے طهٰ ۔ڈرامے بازی بند کرو ورنہ ابھی اڑ تا ہوا آئے گا۔بس فضول باتیں کروا لو جتنی مرضی ۔کچن سے خود کھانا نکال کر نہیں کھا سکتے “۔پراٹھا بیلتے انھوں نے بیلن ہاتھ میں لئے ہوا میں لہرا کر اسے ڈپٹا تھا ۔بچاؤ کی تکنیک مفید ثابت نہ ہوتے دیکھ اس نے مایوسی سے سر جھٹکا تھا جب نظر میز کی دوسری طرف سامنے بیٹھی چہرے پر دبی دبی مسکراہٹ لئے ام ہانی پر پڑی تھی ۔
“تمہیں بڑی ہنسی آ رہی ہے ؟۔رات کو کیسے بھاگ نکلی تھی ذرا خیال نہیں آیا استاد محترم اکیلے عزت افزائی کروا رہے ہیں تھوڑی سفارش ہی کر دیتی “۔اسکے اچانک حملہ آور ہونے پر نواله بناتے ہاتھ رکا تھا سٹپٹا کر اسکی طرف لمحہ بھر کے لئے دیکھا تھا جو اب سیدھا ہو کر کرسی کی پشت چھوڑتے دونوں بازو میز کی سطح پر جمائے اسے گھور رہا تھا ۔
“طهٰ بھائی ۔۔۔میں ۔۔۔”۔وہ کچھ بولنے کو سوچ ہی رہی تھی کہ یہ مشکل فائزہ نے حل کر دی ۔
“تو وہ بے چاری کیا کرتی ؟۔استاد محترم کی اپنی حرکتیں ہی ایسی ہیں ۔سفارش کروا کر اس نے اپنی شامت بلوانی تھی “۔ناشتے کی ٹرے اس کے سامنے رکھتے ہوئے وہ اسے ساتھ لتاڑ بھی رہی تھیں ۔ام ہانی نے اپنی جان خلاصی پر سکھ کا سانس لیا تھا ۔
“چھوڑیں امی !شامت تو بس مجھ غریب کی ہی آئی رہتی ہے ۔باقی اس گھر کے سبھی بچے ابو کو جی جان سے پیارے ہیں “۔ٹرے کھسکا کر سامنے کرتے وہ سادہ گوئی سے کہہ رہا تھا ۔
“تمہاری بھلائی کے لئے ہی کہتے ہیں طهٰ ۔حالات کا پتہ تو ہے تمہیں کیسے چل رہے ہیں بس اسی لئے کہتے ہیں اتنی دیر تک گھر سے باہر نہ رہا کرو “۔اسکے برابر بیٹھتے اب وہ معمول کے سے انداز میں بات کر رہی تھیں ۔”ہانی ناشتہ پورا ختم کرنا “۔بات اس سے کرتے نظر ہانی پر بھی تھی جو آدھا ادھورا ناشتہ چھوڑ کر اٹھنے کو پل تول رہی تھی انکی آواز پر دوبارہ بیٹھ پلیٹ پر جھکی تھی ۔طهٰ نے بھی نظر اٹھا کر اسے دیکھا تھا اسکے ہونٹوں پر شریر سی مسکراہٹ دوڑ گئی ۔
“امی آپ کو پتہ ہے ام ہانی کی شادی جس گھر میں بھی ہو گی ناں وہاں راوی چین ہی چین لکھے گا ۔ساس اور شوہر جیسا کہیں گے ہماری روبوٹک ام ہانی ویسا کرتی جائے گی ۔بولتی تو یہ ویسے بھی نہیں ہے تو امن و امان کی صورت حال ہمیشہ قائم رہے گی “۔نواله منہ میں توڑ کر رکھتے وہ بے لاگ تبصره بھی کر رہا تھا ۔اسکی بات پر وہ جھینپ اٹھی تھی ۔سرخ عارضوں کے نیچے مومی شمعیں سی جل اٹھی تھیں ۔
“میری بیٹی بہت پیاری ھے جہاں بھی جائے گی اس گھر کو جنت بنا دے گی انشاء اللّه ۔اللّه پاک نصیب اچھے کرے “۔محبت بھری نظروں سے اسے دیکھتے فائزہ بول رہی تھیں ۔پوری شد و مد سے گردن ہلاتے نظریں ناشتے پر مرکوز کیے ہوئے اس نے با آواز بلند “آمین “کہا تھا ۔مزید بیٹھنا اسکے لئے محال ہوا تھا ۔سرعت سے وہ اٹھ کھڑی ہوئی ۔
“امی میری وین آ گئی ہو گی ۔اللّه حافظ “۔دھیمی آواز میں جھٹ سے کہتے وہ باہر کی جانب بڑھ گئی تھی ۔
“اللّه حافظ “۔ان دونوں نے بیک وقت جواب دیا تھا ۔
اس کے جانے کے بعد فائزہ واپس اسکی طرف مڑی تھیں ۔
“طهٰ ابو کے ساتھ دکان پر چلے جایا کرو بیٹا “۔طهٰ نے ناشتے میں مصروف سر کو زور و شور جنبش دی ۔
“جاتا تو ہوں امی ۔لیکن آپ جانتی ہیں مجھے دکان چلانے میں انٹرسٹ نہیں ہے ۔مجھے بس نائن ٹو فائیو جاب کرنی ہے ۔سٹیٹس میں ڈبل ماسٹرز کرنے کا کیا فائدہ اگر چلانی مجھے دکان ہی تھی ۔ابو ہمیشہ مجھے غلط سمجھتے ہیں ۔انھیں لگتا ہے خدانخواستہ کوئی مجھے انکے پیشے سے شرم محسوس ہوتی ہے ۔لیکن آپ جانتی ہیں بخدا ایسا نہیں ہے ۔بس میرا شوق ہے آفس ورک کرنے کا ۔اور انسان کو کم از کم کام تو ایسا کرنا چاہیے جس میں وہ خوشی اور اطمینان محسوس کرے “۔انکی طرف دیکھتے ہوئے اسکا انداز سمجھانے جیسا تھا ۔
“اچھا ٹھیک ہے نا ۔جب تک جاب نہیں مل جاتی روز چلے جایا کرو ۔ابو خوش ہو جائیں گے “۔
“ابو نے نہیں خوش ہونا کبھی مجھ سے “۔چائے کا کپ ہونٹوں سے الگ کرتے اسکا لہجہ بے چارگی لیے ہوئے تھا ۔”خیر آپ دعا کریں ابو کی ڈیڈ لائن میں صرف تین ماہ ره گئے ہیں تب تک میری جاب کا کچھ ہو جائے ۔ورنہ پھر دوکانداری ہی کرنی پڑے گی “۔ہنستے ہوئے آخر میں وہ شریر ہوا تو فائزہ نے سر جھٹکتے ہوئے مسکرا کر اسکی بازو پر ہلکا سا تهپڑ رسید کیا تھا ۔
“انشاء اللّه سب بہتر ہوگا “۔
ٹرے پیچھے کھسکاتے ہوئے وہ اٹھ کھڑا ہوا ۔
ٹھیک ہے پیاری والدہ ۔میں اب چلتا ہوں ۔آپ کے شوہر نامدار بار بار گھڑی دیکھ کر جاہ و جلال کا شکار ہو رہے ہوں گے ۔ویسے ابو کی بھی عجیب بات ہے پورا بازار بند ہوتا ہے اور وہ صبح سات بجے جا کر دکان کھول لیتے ہیں باقی کا پورا بازار نو دس سے پہلے نہیں کھلتا ۔اور رات گئے تک جب پورا بازار کھلا رہتا ہے تو ابو عشاء کی اذان سے پہلے ہی دکان کو تالا لگا آتے ہیں “۔سنک کے نل کے نیچے ہاتھ دھوتے وہ زور و شور سے اپنے خیالات کا اظہار کر رہا تھا ۔
“انکا ماننا ہے اللّه رزق کے دروازے صبح صبح کھول دیتا ہے ۔ہم کاہل ہوتے جا رہے ہیں اسی لئے پیسہ تو بلا شبہ بڑھتا جا رہا ہے مگر برکتیں ختم ہوتی جا رہی ہیں ” ۔فائزہ نے برتن اٹھا کر سنک کے پاس رکھے ۔ہاتھ دھو کر وہ سیدھا ہوتا انکے سامنے کھڑا ہوا تھا سنجیده سا ۔فائزہ نے اچنبھے سے اسکا چہرہ دیکھا ۔تازہ تازہ ہوئی شیو کی نیلا ہٹوں کے ساتھ اسکا چہرہ سنهری کرنوں کی مانند چمکتا نظر آتا تھا ۔وہ پیارا تھا مگر ماں کو تو کچھ اور بھی پیارا لگتا تھا ۔
اجازت دیجئے والدہِ طهٰ ۔آپ کا بیٹا آج پورا دن والد محترم کی زبانی گولا باری کے سامنے ڈٹ کر جوان مردی سے ذلیل ہونے کا ارادہ رکھتا ہے ۔بس آپ کی دعاؤں کی بطور حفاظتی شیلڈ اشد ضرورت ہے “۔دونوں ہاتھ باندھ کر چہرہ جھکاتے بھاری آواز میں بھرپور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے وہ آخر میں تھوڑا سا جھکا تھا ۔فائزہ جو پوری توجہ سے اسکی بات سن رہی تھی چہرے پر خفگی کے تاثرات لئے انکا ہاتھ اس بار سچ میں بیلن تک گیا تھا ۔مگر اس سے پہلے ہی وہ اپنی لمبی ٹانگوں کا بخوبی استعمال کرتے جھپاک سے انکی پہنچ سے دور ہوا تھا ۔
“تم واپس آؤ ایک بار آج میں نے تمہارے قد کا بھی لحاظ نہیں کرنا ۔ذرافے جتنے ہو گئے ہو مگر مجال ہے جو سنجیدگی چھو کر گزری ہو ۔باپ کے بارے میں ایسے کہتا ہے کوئی “۔دروازہ کے باہر کھڑا وہ فریم پر ہاتھ رکھے ہوئے اب ہنس کر انھیں دیکھ رہا تھا فائزہ نے اسکے پیچھے جانے کی غلطی نہیں کی تھی جانتی تھیں وہاں پہنچنے تک وہ کہیں کا کہیں پہنچ جائے گا ۔
“اب مجھے یقین ہو گیا ہے آپ ابو کی سگی بیوی ہیں اور میری سوتیلی ماں “۔تاسف بھرے انداز میں سر جھٹکتے ہوئے کہتا وہ فوری طور پر وہاں سے غائب ہوا تھا ورنہ اس بار قوی امکان تھا بیلن نہ سہی اماں کا جوتا اڑتا ہوا اس تک پہنچ ہی جاتا ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
کمرے کی طرف جاتے ہوئے سیڑھیوں کے پاس وہ تھم سا گیا تھا وجہ تھی سیڑھیوں کے ساتھ والے کمرے کا دروازہ کھلا تھا اور جو ہستی نمودار ہوئی تھی اسکے لئے تو طهٰ ابراھیم تمام عمر بھی بت بنا کھڑا ہو سکتا تھا ۔
صاف ستھرے استری شدہ جدید طرز کے سٹائلش سے سوٹ میں دوپٹہ گلے میں ڈالے وہ تر و تازہ سی نظر آتی تھی ۔وہ خوبصورت تھی بلا کی خوبصورت ۔خوبصورت تراشیده کہیں کہیں سے ڈل گولڈن ،سیاہ سلكی بال جو کندھے سے ذرا نیچے تک آتے تھے ۔
سفید صاف و شفاف رنگت میں گلی گلابیوں کے ساتھ تیکھے نقوش اور بڑی بڑی سحر طراز آنکھیں ، متناسب جسامت اور لمبی سی ہائیٹ والی وہ ماہین ندیم تھی ۔طهٰ کی ماہی ۔
Part 2
اسے دیکھ کر وہ دنیا بھول جایا کرتا تھا پھر ناراضگی کیا چیز تھی ۔اب بھی کل رات کی بات پر جو خفگی تھی وہ سرے سے اسکی ایک جهلک دیکھ کر ہی غائب ہو چکی تھی ۔مگر باز پرس تو بنتی تھی ۔پہلی سیڑھی پر دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے وہ ہاتھ سینے پر باندھ چکا تھا ۔
“ماشاءالله یہ چاند سا روشن چہرہ صبح کے اجالوں میں کیسے نظر آ رہا ہے آج ۔ورنہ تو یونی آف ہونے پر آپ کی خوبصورت آنکھیں دس سے پہلے کھلنے کا نام نہیں لیتی ۔پر نہیں آج تو آپ کی رات جلدی ہو گئی تھی تو آنکھ کھل گئی ہوگی “۔چہرے پر مصنوئی مسکراہٹ لئے وہ میٹھے میٹھے طنز اسکی طرف اچھال رہا تھا ۔ماہی بڑے دل سے مسکرائی تھی ۔پھر اپنی خوبصورت مخروطی انگلیوں سے بال چہرے پر آتے بال کان کے پیچھے کرتے وہ ایک ہاتھ سیڑھی کی دوسری طرف کی ریلنگ پر رکھ کر اسے دیکھتے ہوئے اک ادائے بے نیازی سے بولی ۔
“تم کچھ بھی کہہ لو ڈئیر کزن ۔مگر مجھے تمہاری طرح خطروں سے بھڑنے کا کوئی شوق نہیں ہے ۔تایا ابو کے جلال کو خواہ مخواہ کیوں آواز دوں میں “۔طهٰ نے تاسف سے اسے دیکھا ۔
“بڑی کوئی احسان فراموش لڑکی ہو تم ۔خود میں نے کتنی دفع تمہاری وجہ سے ڈانٹ کھائی ہے وہ کبھی نظر نہیں آیا تمہیں ۔ابھی پرسوں بھی تمہیں تمہاری دوست کے گھر لے کر گیا تھا وہاں دیر تم نے لگائی مگر الزام میں نے اپنے سر لے لیا کہ میں تمہیں پک کرنے لیٹ پہنچا اس لئے تمہیں دیر ہو گئی۔ حالانکہ میں ایک گھنٹے سے پاس والے ڈھابے پر بیٹھا تمہیں میسجز کر رہا تھا اب آؤں اب آؤں مگر تم ھی وہاں سے ہلنے کا نام نہیں لے رہی تھی “۔اسے گھور کر جتانے والے انداز میں کہتا وہ دیوار چھوڑ کر لڑاکا عورتوں کی طرح دونوں ہاتھ کمر پر ٹکائے ہوئے تھا ۔
“تو کس نے کہا ہے الزام اپنے سر لینے کو ۔بول دیتے میں نے منع تھوڑی کیا ہے “۔گردن اکڑا کر تنفر سے سر اٹھائے وہ چہرہ اوپر کیے اسکو دیکھ کر کہہ رہی تھی ۔جانتی تھی طهٰ ابراھیم اس کا دیوانہ ہے ۔اسکی حفاظتی دیوار بن کر ہمیشہ کھڑا ہو جانے والا۔کچھ لوگ ہوتے ہیں زندگی میں ڈھال بن جانے والے ۔سرد و گرم سے بچا بچا کر رکھنے والے ۔سامنے کھڑا شخص بھی ماہی کے لئے ایسا ہی تھا ۔اب بھی اسکی اٹھی گردن پر وہ ہار مان بیٹھا تھا ۔وہ ماہی تھی اور وہ اسے ہر حال میں جی جان سے پیاری تھی ۔
“تمہارے خلاف بول سکتا ہوں کیا ؟۔تمہیں ڈانٹ پڑوا سکتا ہوں ؟”مسکرا تی آنکھوں میں نرم جوت لئے وہ اسکا کھلا کھلا چہرہ دیکھ رہا تھا جو اسکی بات پر کچھ اور بھی دلکش ہوا تھا ۔ماہین نے بڑے پیارے سے انداز میں مسکراتے ہوئے پوری شد و مد سے سر نفی میں ہلایا تھا ۔
طهٰ نے ہاتھ نیچے گراتے ہوئے اسکو نظر بھر کر دیکھا تھا پھر سر جھٹک کر آگے بڑھ گیا ۔
“ویسے بچت ہو گئی کیا ؟۔زیادہ ڈانٹ تو نہیں پڑی ؟”۔پیچھے سے ہانک لگاتے ہوئے وہ اسے قدم روک کر پیچھے دیکھنے پر مجبور کر گئی تھی ۔سیڑھیوں کے عین وسط میں کھڑے وہ نیچے دیکھ رہا تھا جہاں چہرہ اٹھا کر شرارت سے وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔
“جی بچت ہو گئی ان دعاؤں سے جو آپ نے میرے لئے کبھی نہیں کیں ۔بلکہ مجھے قوی یقین ہے آپ تماش بینوں میں صف اول میں کھڑے ہو کر محظوظ ہونے والوں میں سے ہیں “۔جلے بھنے سے انداز میں کہتا وہ واپس مڑ کر دو دو زینے پھلانکتے اوپر چڑھ گیا تھا ۔ماہی کی جلترنگ سی مدھم ہنسی نے اسکا تعاقب کیا تھا ۔ایک ہلکا سا تبسم طهٰ کے ہونٹوں پر بھی آیا تھا ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
ابراھیم بیگ اور ندیم بیگ دونوں بھائی تھے ۔انکی ایک ہی بہن تھی پاکیزہ بیگ ۔جنھیں دوران تعلیم اپنے کلاس فیلو زبیر سے محبت ہوئی تھی ۔انکے خاندان میں بیٹیوں کی رضا مندی کو اولیت دی جاتی تھی ۔زبیر کا تعلق حیدر آباد سے تھا تعلیم کے لئے پنڈی اپنے رشتے داروں کے ہاں رہائش پزیرتھے۔ جب ان کے بارے میں چھان بین کی گئی تھی بظاہر سب ٹھیک تھا مگر ابراھیم کچھ مطمئین نہیں تھے۔پاکیزہ کو اس وقت کل کائنات ہی زبیر لگ رہے تھے ۔انکے ورغلانے پر انھوں نے بھوک ہڑتال سے لے کر رونے دھونے تک ہر طرح سے بھائیوں کو قائل کرنا چاہا تھا بلا آخربات خود سوزی تک پہنچ گئی انھوں نے نیند آور گولياں کھا لیں بر وقت پتہ چل جانے پر ان کی جان بچ گئی تھی ۔اور ابراھیم نے دل شکستہ ہو کر بہن کی ضد کے آگے گھٹنے ٹیک دیے ۔اس طرح پاکیزہ رخصت ہو کر حیدر آباد چلی گئیں ۔مگر وقت نے ثابت کیا تھا ابراھیم کے خدشات کس قدر صحیح تھے ۔شادی میں محبت کے بغیر گزر ہو سکتا ہے عزت کے بغیر جینا اجیرن ہو جاتا ہے ۔ان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا ۔کہنے کو زبیر کو ان سے بے انتہا محبت تھی ۔مگر چھوٹی چھوٹی باتوں پر وہ انھیں ذلیل کر دیا کرتے تھے۔ بعض دفعہ تو بات ہاتھ اٹھانے تک چلی جاتی تھی ۔پھر کچھ دیر بعد وہ معافی مانگ لیا کرتے مگر پاکیزہ کے دل سے انکا چہرہ اتر گیا تھا ۔
مگر ہانی کی وجہ سے وہ مجبور ہو گئیں تھیں ۔غلطی اپنی تھی وہ واویلا بھی نہ کر سکتی تھیں جیسا کہ عام شادیوں میں ہوتا ہے ماں باپ کی مرضی سے بياه کر جاؤ تو ذرا کوئی اونچ نیچ ہو جائے تو بیٹیاں انھیں مورد الزام ٹھہرا کر دل کا بوجھ ہلکا کر لیتی ہیں مگر یہاں یہ گھاٹے کا سودا انکا اپنا طے کردہ تھا اس لئے اپنی گھریلو نا چاقی کے بارے میں اپنے بھائیوں کو انھوں نے کبھی بهنک تک نہ پڑنے دی تھی ۔پنڈی سے حیدر آباد کبھی کوئی سال میں ایک بار چکر لگاتا تو وہ شوہر کی منتیں کیا کرتی تھیں ۔بھائیوں کے سامنے انکا بھرم قائم رکھنے کے لئے اور ایسا ہی ہوتا تھا ۔وہ ایک ریاکار مرد تھا جو انکے گھر والوں کے سامنے تو خوب اچھے ہونے کی ادا کاری کرتا ۔
ام ہانی کی پیدائش کے بعد انکے ہاں دوبارہ اولاد نہ ہو سکی ۔زبیر جو بھی چھوٹا موٹا کاروبار کرتے نا تجربہ کاری کے باعث جلد ہی ٹھپ ہو جاتا ۔دن بدن انکی فرسٹریشن بڑھتی جاتی اور سارا بد بختی کا الزام پاکیزہ پر آ جاتا ۔اور اس گھٹن بھری ازدواجی زندگی کا اختتام نو سال بعد ہوا تھا ۔پورے محلے کے سامنے انکو ذلیل و رسوا کر کے گالم گلوچ کے ساتھ گھر سے باہر نکال پهینكا گیا ۔لٹی پٹی حالت میں بے یارومددگار جب وہ پنڈی بھائیوں کے گھر پہنچی تو ایسی چپ لگی کہ وہ خموشی انھیں اندر ہی اندر کھاتی گئی ۔ڈری سہمی سی آٹھ سالہ ہانی بھی ان کے ھمراہ تھی ۔
پاکیزہ نو سال کی طویل مسافت کا بار جھکے کندھوں پر لئے وقت سے پہلے بوڑھی ہوتی گئیں ۔
ام ہانی عام بچوں سے ہٹ کر خاموش خاموش سی ہر وقت ماں کا پلو پکڑے پیچھے پیچھے گھومتی رہتی ۔گھر میں تین بچے تھے تیرہ سالہ طهٰ ،دس سالہ ماہی اور چھ سالہ فہد مگر وہ ان سب سے کھچی کھچی رہتی تھی ۔ماہی تو شروع سے تھی ہی اپنی دھن میں رہنے والی ۔ایک دو بار اسے کھیلنے کی پیشکش کی مگر ہر وقت رونے کو تیار رہنے والی ام ہانی سے وہ جلد ہی اکتا گئی تھی ۔فہد تو تھا ہی چھوٹا ۔رہا طهٰ تو اسے اس سے شدید ترین ہمدردی ہوئی تھی ۔پاکیزہ سب کے اصرار پر بھی زیادہ دیر کسی کے ساتھ نہیں بیٹھتی تھیں ۔ایسے میں بچوں میں صرف طهٰ تھا جو کبھی كبهار انکے پاس آ کر بیٹھتا تھا ۔پاکیزہ کو اپنے اس بھتیجے سے خاص انس تھا ۔
ام ہانی کا اسکول میں داخلہ کروایا گیا تھا ۔مگر وہ ماں باپ کی چپقلش میں اس حد تک پسی تھی کہ اسکی ذہنی رو پر بھی اثر پڑا تھا ۔وہ پڑھائی میں بھی بہت پیچھے ره گئی تھی ۔ایسے میں اسکی گھر میں پڑھائی کی ذمہ داری بھی طهٰ پر آ گئی تھی ۔وہ روز شام کو پاکیزہ کے کمرے میں ان کے ہمراہ بیٹھ کر اسے پڑھایا کرتا تھا ۔اور اتنی چھوٹی سی عمر میں اسکے اتنے مدبرو سنجیده انداز پر پاکیزہ کے چہرے پر بھولی بھٹکی سی مسکان آ ٹھہرتی ۔
ابراھیم اور ندیم دونوں ایک ساتھ رہائش پزیر تھے ۔لیڈیز گارمنٹس کی دکان تھی جس سے اچھا گزر بسر ہو رہا تھا ۔انکے بیوی بچوں میں بھی اتفاق خوب تھا ۔ماہی اور طهٰ کی نسبت بچپن سے ہی طے شدہ تھی ۔ابراھیم سب بچوں سے بہت پیار کرتے تھے ۔مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ سخت گیر طبیعت کے حامل بھی تھے جن کے زیر عتاب بڑھتی عمر کے ساتھ ہر وقت طهٰ ہی آیا رہتا تھا ۔جس کے باعث ان دونوں میں ایک ان دیکھی سی خلیج حائل ہو گئی تھی ۔
وقت کے ساتھ ساتھ ام ہانی کی شخصی گرہیں بھی کھلتی جا رہی تھیں ۔پاکیزہ اسکو لے کر بہت محتاط تھیں ۔وہ کسی صورت نہیں چاہتی تھیں جو غلطی انھوں نے کی کل کو انکی بیٹی بھی دوہرائے ۔چھوٹی عمر سے ہی انھوں نے اسے بڑے سبق پڑھا دیے تھے ۔وہ اکثر اسے اپنی آب بیتی سنايا کرتی تھیں تاکہ وہ سبق حاصل کرے ۔اور ان سب باتوں کے اسکے ذہن پر بڑے گہرے اثرات مرتب ہوئے تھے ۔
وہ بارہ سال کی تھی جب پاکیزہ کی اچانک موت ہوئی ۔انکے دل کی شریانیں بند ہو گئی تھیں جب تک پتہ چلا بہت دیر ہو چکی تھی ۔اس وقت فائزہ نے اسکو سنبھالا دیا تھا ۔وہ اسکی سب سے بڑی ڈھارس بنی تھیں ۔کتنے ماہ تک تو وہ اسکے ساتھ رات کو سوتی رہی تھیں ۔کچھ سنبھلنے پر پھر اسے ماہی کے ساتھ اسکے کمرے میں شفٹ کر دیا گیا تھا ۔اور تب اسکی ماہی سے بھی اچھی بننے لگی ۔
وہ دونوں بالکل مختلف طبیعت کی تھیں ۔ایک آگ تو دوسری پانی ۔مگر پھر بھی وہ اچھی ساتھی بن گئیں ۔وجہ تھی ہانی کی خاموش اور صلح جو طبیعت ۔وہ بہت کم کسی بات پر اعتراض اٹھایا کرتی تھی ۔کمرے کی صفائی سے لے کر اسکی ترتیب و تنظیم سب اسکے ذمہ داری تھی ۔اور ماہی کی ہر بات وہ بنا چوں چرا کے سن لیا کرتی تھی ۔وہ ایک اچھی سامع اور بہت بری مقرر تھی اور اسکی یہ دونوں خوبیاں ماہی کو اسکے قریب کر گئی تھیں ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
طهٰ شام کے وقت ایک اکیڈمی میں ٹیوشنز دیا کرتا تھا اس کے علاوہ وہ انٹرنیٹ پر فری لاؤنسر کا کام بھی کرتا تھا ۔پچھلے دو سال سے وہ جاب کے لئے مارا مارا پھر رہا تھا ۔اب تو ابراھیم نے بھی اسے الٹمیٹم دے دیا تھا ۔اسکے پاس دیے گے وقت ایک سال میں سے صرف تین ماہ باقی تھے ۔جوں جوں وقت گزر رہا تھا اسکی فکر بھی بڑھ رہی تھی ۔آج بھی ایک جگہ انٹرویو دیا تھا مگر سلیکشن نہیں ہو پائی تھی ۔
شام کا وقت تھا وہ چھت پر کھڑا دور سرمئی ہوئے آسمان کی وسعتوں میں اڑتے پرندوں کو دیکھ رہا تھا ۔اسکی پشت کے پیچھے سورج غروب ہونے کو تھا ۔اس بجھتی شام کے دیے کے ساتھ ساتھ اسکا چہرہ بھی اترا اترا سا لگتا تھا ۔ٹیرس پر کھلتے دروازے میں سے ماہی آئی تھی ۔ہاتھ میں اسکے لئے چائے کا کپ تھام رکھا تھا ۔اسے دیکھ کر وہ مسکرایا تھا ۔کلفت کا اثر کچھ تو زائل ہوا تھا ۔
“یہ پکڑیں جناب آپ کی چائے “۔وہ خوش دلی سے مسکرائی تھی ۔طهٰ نے سر کو شکریہ کے انداز میں خم دیتے کپ اسکے ہاتھ سے لیا ۔وہ چھت کے گرد بنی سفیل سے ٹیک لگائے کھڑا تھا ۔ماہی بھی اس سے ذرا فاصلے پر اسکے برابر ٹیک لگا کر کھڑی ہوئی پھر اسکا چہرہ دیکھا ۔وہ کچھ تھکا سا پریشان سا لگا تھا ۔
“ٹینس ہو کسی بات کو لے کر ؟”۔وہ ایک ساتھ پلے بڑے تھے ۔ایک دوسرے کا چہرہ دیکھ کر دل کا حال جان جانے والے ۔
“تھوڑا سا “۔نخیف سا مسکراتے ہوئے پلٹ کر رخ ڈوبتے سورج کی طرف موڑتے اب اسکا چہرہ زرد سی روشنی میں دمكتا ہوا دکھائی دیتا تھا ۔
“انٹرویو کا کیا بنا ؟”۔اسی پوزیشن میں کھڑی وہ گردن ترچھی کیے اسے دیکھ رہی تھی ۔سادہ سے سوٹ میں صاف ستھرے چہرے کے ساتھ بھی وہ بلا کی خوبصورت نظر آتی تھی ۔بالوں کو ہیئر بینڈ میں جکڑ رکھا تھا ۔طهٰ نے چائے کا گھونٹ لیتے سر کو نفی میں جنبش دی تھی ۔ماہی گہرا سانس بھر کر ره گئی ۔
“مان لو ڈئیر کزن ۔آخر میں بیٹھنا تم نے دکان پر ھی ہے “۔شرارت سے مسکراتے ہوئے اسکی طرف دیکھتے اسکا موڈ لائٹ کرنے کو وہ اسے چھیڑ رہی تھی ۔طهٰ ہلکا سا ہنسا ۔
“تم قبول کر لو گی دکاندار شوہر ۔اپنی فرینڈز میں میرا حوالہ دیتے شرمندگی تو نہیں ہو گی نا؟”۔چائے کا بڑا سا گھونٹ لیتے وہ اب رخ اسکی طرف موڑے فرصت میں اسے دیکھ رہا تھا ۔نرم جذبوں سے لبریز آنکھیں ۔روشن چمکتی ہوئی اور اس وقت تو اسکے چہرے کا نور ان آنکھوں میں سما کر انھیں کچھ اور بھی چمکدار بنا گیا تھا ۔
ماہی کا منہ کڑوا ہوا تھا ۔وہ سٹیٹس کانشئیس تھی ۔اپنی یونی کالج ہر جگہ اس نے یہی کہہ رکھا تھا اسکے ابو کپڑے کا کاروبار کرتے ہیں ۔
“دیکھو طهٰ بات شرمندگی کی نہیں ہے ۔میری ساری فرینڈز اپر کلاس سے تعلق رکھتی ہیں ۔ایسے میں کیا ضرورت ہے اپنی کم مائیگی کا اشتہار لگانے کی ۔میں کوئی جھوٹ نہیں بولتی مطلب ۔۔۔۔۔۔ہے تو یہ بھی ایک طرح سے بزنس ہی ۔اب یہ تو انکی سمجھ کا قصور ہے جو انھیں لگتا ہے ہماری گارمنٹس کی ملز ہیں “۔کندھے اچکا کر بڑی نفاست سے وہ سارا الزام ااپنی دوستوں کی سمجھ بوجھ پر ڈالتی خود کو بری الذمہ قرار دے چکی تھی ۔سر جھٹک کر وہ ہنسا تھا ۔ماہی نے اسے نخیف سا گھورا ۔
“اچھا۔۔۔۔ اور اگر کبھی مجھے کسی فرم میں جاب مل گئی تو میں تو فرم اونر کھلاؤں گا “۔سر کو زور و شور سے ہلاتےمحظوظ ہوکر وہ صحیح معنوں میں اب اسکی ٹانگ کھینچ رہا تھا ۔ماہی نے پوری قوت سے ایک تهپڑ اسکے شانے پر رسید کیا تھا ۔
“تمہیں تو کوئی بات بتانی ہی نہیں چاہیے “۔منہ پھلا کر اب اسکی طرف سے رخ موڑے وہ کھلے عام ناراضگی کا اظہار کر رہی تھی ۔
“مذاق کر رہا ہوں ماہی “۔مسکرا کر کپ منڈیر پر رکھتا وہ فوری مفاہمت پر اتر آیا تھا ۔وہ ہنوز چہرہ موڑے کھڑی رہی تھی ۔طهٰ نے اپنی انگشت شہادت سے اسکے کندھے پر دستک دی تھی ۔خفا آنکھوں سے چہرہ موڑ کر اسے دیکھا تھا ۔
“کیا ہے ؟”۔انداز کھا جانے والا تھا ۔اس ناراضگی کے ساتھ خود سے تھوڑے مگر ایک محتاط فاصلے پر کھڑے طهٰ کا دل وہ زور سے دھڑکا گئی تھی ۔
“آئی لو یو “۔اک جزب کے عالَم میں چہرے پر الوہی سی چمک لئے وہ آہستہ سی آواز میں کہہ رہا تھا ۔ماہی کے ہونٹوں پر مسکراہت ڈھلنے لگی ۔
“جانتی ہوں “۔ہاتھ سینے پر باندھے اسکی طرف پلٹ وہ گردن اکڑا کر کہہ رہی تھی ۔
“طهٰ ابراھیم تمہارے سارے خواب پورے کرے گا انشاء اللّه “۔اسکی خوب صورت آنکھوں میں جھانکتے ہوئے وہ ذرا سا جھکا تھا ۔
“سارے خواب ۔سوچ لو “۔زیر لب ہنسی دبائے ماہی بولی تو طهٰ نے سر پر بے چارگی سے ہاتھ پھیرا پھر اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہولے سے دبایا تھا ۔
“نہیں مطلب کچھ کچھ خواب جو میری رسائی میں ہوں گے ۔مگر ایک وعدہ کرتا ہوں تم سے ماہی کی خوشی کے لئے ہر نفع و نقصان سے بالا تر ہو کر طهٰ کسی بھی حد تک جا سکتا ہے “۔اور اس لمحے اسکے لہجے میں بولتی سچائی پر کون کافر ایمان نا لاتا ۔
ماہی کا دل سرشار ہوا تھا ۔
ڈوبتے سورج نے یہ عہد اپنی بجھتی آنکھوں سے ہوتے دیکھا تھا ۔وقت بہت جلد اس سے اس کی پاسداری کے اسباب پیدا کرنے والا تھا ۔
