Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Payar Howa Tha (Episode 25)

Payar Howa Tha By Zeenia Sharjeel

“میرے بیٹے کو گنجا کرکے اس ساری پرسنیلیٹی خراب کردی عون کی دادو نے۔۔۔ اِتنا بڑا ظلم ہوگیا میرے پیچھے میرے بچے پر، یہ کا ہوگیا عون کے ساتھ۔۔۔ عون اپنے ڈیڈ سے باتیں کررہا ہے۔۔۔ ڈیڈ کا پالا پالا سا بیٹا۔۔۔

رات مائے نور کے روم میں گزارنے کے بعد صبح ریان عون کو اپنے ساتھ بیڈروم میں لے آیا وہ اپنے بیڈ پر موجود، بیڈ پر لیٹے ہوئے عون کو پیار کرتا ہوا اس سے باتیں کررہا تھا عرا بھی بیڈروم میں موجود سفری بیگ سے ریان کے کپڑے اور چیزیں نکال رہی تھی، تھوڑی تھوڑی دیر بعد وہ ریان اور عون پر نظر ڈالتی پھر اپنے کام میں لگ جاتی عون اچھے موڈ میں اپنے ہاتھ پاؤں چلاتا ہوا ریان کو بھرپور رسپونس دے رہا تھا اتفاق سے آج مائے نور کی فرینڈز گھر پر آگئی تھی اس وجہ سے مائے نور کا دھیان عون کی طرف نہیں گیا تھا ورنہ عرا کو نہیں لگ رہا تھا اب مائے نور کبھی عون کو اس کے پاس بھی آنے دے گی

“اے وہاں اتنی دور کیوں کھڑی ہو اتنی دیر سے یہاں آؤ ناں”

ریان اب عرا کی جانب متوجہ ہوتا اس سے بولا تو عرا خاموشی سے ریان کے پس چلی آئی ریان نے عرا کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے سامنے بیڈ پر بھٹا دیا

“اتنچی چپ چپ کیوں ہو، کیا ناراض ہو مجھ سے”

جب سے ریان کمرے میں آیا تھا وہ اسی طرح خاموش تھی ریان کو لگا شاید رات میں کمرے میں نہ آنے کی وجہ سے عرا اُس سے ناراض ہوگی اس لیے اس سے پوچھنے لگا

“کیا مجھے تم سے ناراض ہونا چاہیے”

عرا ریان کو دیکھتی اس سے الٹا پوچھنے لگی کیا اسے بھی کل رات مائے نور کی طرح ریان سے ناراض ہوجانا چاہیے تھا

“اگر تمہارا دل کررہا ہے کہ تمہارا شوہر تمہیں منائے تم اُسے نخرے دکھاؤ وہ تمہارے ناز اُٹھائے تو میں ریڈی ہوں تم ناراض ہوجاؤ میں بہت پیار سے تمہیں منالوں گا”

ریان عرا کا چہرا دیکھتا ہوا اسے ناراضگی پر منانے کی آفر کرتا ہوا بولا تو عرا نے مسکرا کر نفی میں سر ہلا کر اسے منع کردیا

“تم گھن چکر ہوجاؤ گے آگر میں بھی ناراض ہوگئی تو، عون کا باتھ لینے کا ٹائم ہوگیا ہے لاؤ اسے شمع کو دے آتی ہوں”

عرا عون کو دیکھتی ہوئی ریان سے بولی

“شمع کیوں باتھ دے گی تمہیں عون کو خود احتیاط سے باتھ دینا چاہیے، عون شمع کی نہیں تمہاری ذمہ داری ہے”

ریان عرا کی بات پر اعتراض کرتا بولا بےشک شمع بھی ایک ذمہ دار ملازمہ تھی مگر اپنے چھوٹے بچے کے لیے کسی دوسرے پر ڈیپینڈ کرنے والی بات اس کو پسند نہیں تھی

“آنٹی اس ذمہ داری سے مجھے آزاد کرچکی ہیں اُن کے خیال میں جتنی احتیاط اور اچھے طریقے سے شمع عون کو باتھ دے سکتی ہے میں نہیں دے سکتی ویسے شمع بس تھوڑی سی ہیلپ کرتی ہے آنٹی عون کو خود ہی باتھ دلوا دیتی ہیں”

عرا ریان کو بتاتی ہوئی تھوڑی اداس لگی جس کو محسوس کرکے ریان ایک پل کے لیے خاموش ہوا پھر بولا

“میرے پیچھے ماں کا رویہ تم سے ٹھیک رہا”

ریان عرا کا بجھا ہوا چہرا دیکھ کر اس سے پوچھنے لگا ساتھ ہی اس نے اپنا ہاتھ عرا کے ہاتھ پہ رکھ دیا

“آنٹی کا رویہ میرے ساتھ شروع دن سے جیسا تھا تمہارے پیچھے بھی ویسا ہی رہا، اب اس بات پر افسوس نہیں ہوتا مجھے”

عرا کے بولنے پر ریان خاموش ہوگیا وہ ریان کے ہاتھ کے نیچے سے اپنا ہاتھ نکالتی ہوئی عون کو اٹھانے لگی تبھی وہ بولا

“چلو آج ہم دونوں مل کر عون کو باتھ دلوا دیتے ہیں”

ریان عرا سے بولتا ہوا عون کے شرٹ کے ننھے ننھے بٹن کھولنے لگا

“نہیں رہنے دو آنٹی مائنڈ نہ کر جائے پھر وہ خفا ہوگیں”

عرا ریان کو منع کرتی ہوئی بولی

“یار اس میں برا لگنے والی کیا بات ہے ماں سے میں بات کرلوں گا جاؤ ذرا مساجنگ آئل لےکر آؤ آج عون کے ڈیڈ اپنے بیٹے کو خود باتھ دیں گے مگر اس سے پہلے مساج ہوگا میرے ہیرو کا”

ریان عون کی شرٹ اور ٹراؤزر اتار کر ایک سائیڈ پہ رکھ چکا تھا ساتھ ہی اس نے اے سی بھی بند کردیا عون ڈائپر میں موجود بیڈ پر لیٹا اپنے ہاتھ پاؤں چلانے لگا ریان جھک کر اس کو پیار کرنے لگا۔۔۔ عرا کو مساجنگ آئل شمع سے منگوانا پڑا جو مائے نور کے کمرے میں موجود تھا عون کا آدھے سے زیادہ سامان اب مائے نور کے کمرے میں ہی موجود تھا

“شمع فٹافٹ عون بابا کا باتھنک ٹپ، شیمپو، ڈائپر، ٹاول، لوشن اور کپڑے ساری چیزیں یہاں لےکر آجاؤ”

شمع ریان کا آرڈر سن کر دوبارہ مائے نور کے کمرے میں چلی گئی

“ایسے مساج نہیں کرو تھوڑا نرم ہاتھوں سے کرو ورنہ ابھی رو جائے گا دکھاؤ میں کرکے بتاتی ہوں”

ریان کے مساج کرنے پر عون کے چہرے پر رونے والے اثار نمایاں ہونے لگے جنہیں دیکھ کر عرا ریان سے بولی

“اوکے پھر یہاں میری جگہ بیٹھ کر کرو یہاں سے اینگل صحیح بنے گا”

ریان اپنی جگہ چھوڑ کر دور بیٹھتا ہوا بولا تو عرا ریان کی جگہ پر بیٹھ گئی عون کی عرا پر نظر پڑتے ہی عون اس کو دیکھ کر ایک دم مسکرانے لگا

“ارے یار دیکھو تمہیں کیسے اسمائل دے رہا ہے سالے کو اتنی دیر سے اپنے باپ کی شکل بری لگ رہی تھی”

ریان عون پر مصنوعی غصہ کرتا بولا تو عرا اس کی لینگویج پر ریان کو گھورتی رہ گئی جس کی پرواہ کیے بغیر ریان عرا کو دیکھ کر بولا

“ویسے ماں اگر اتنی خوبصورت ہوگی تو بیٹے کا کیا باپ کا بھی ہر وقت اسمائل دینے کا ہی دل چاہے گا”

ریان کی بات پر ایک پل کے لیے عرا کے مساج کرتے ہاتھ رکے اس نے نظر اٹھاکر ریان کی طرف دیکھا مگر ریان بےبی آئل سے عون کے سر پر نرم انگلیوں سے مساج کرنے میں مصروف تھا ریان نے دوبارہ سے عرا کو دیکھا تو وہ بہت آہستگی سے عون کے سینے پر ہلکے ہاتھ سے آئل سے مساج کرتی ہوئی باری باری اس کے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر اسے ایکسرسائز بھی کروا رہی تھی، عون مسلسل عرا کو دیکھ کر مسکراتا ہوا ہاتھ پاؤں چلاکر خوشی کا اظہار کررہا تھا

“تمہیں معلوم ہے شوہر کی خدمت گزار بیوی کو جنت میں اللہ تعالی اعلٰی درجہ دیتا ہے”

ریان کچھ سوچ کر عرا کو دیکھتا ہوا اسے بتانے لگا

“تو کیا میں تمہارے کام نہیں کرتی ہوں”

ریان کی بات پر عرا الٹا اس سے پوچھنے لگی

“کام تو کرتی ہو مگر اِس طرح کا مساج ابھی تک نہیں دیا تم نے اپنے اِن خوبصورت ہاتھوں سے، جب تم مجھے بالکل اسی طرح فل باڈی مساج دو گی تب میں تمہاری خدمت کو خدمت مانوں گا”

ریان عرا کو دیکھتا ہوا بولا تو اس کی بات پر عرا کا چہرہ سرخ پڑنے لگا مگر دوسرے ہی پل اس نے اپنے چہرے کے تاثرت بالکل سنجیدہ کرلیے

“ہر وقت فضول کی باتیں کرنا کسی معقول انسان کی پہچان نہیں ہوتی”

عرا ریان کو ٹوکتی ہوئی سنجیدگی سے بولی

“تمہیں کس نے کہہ دیا کہ میں معقول انسان ہوں ویسے بھی بیوی سے محبت کرنے والا بندہ کسی دوسرے کو معقول لگتا بھی نہیں ہے اور جب تم بیٹے کو مساج دے سکتی ہو تو اس کے باپ کو مساج دینے میں کیا حرج ہے میری اس خدمت پر تم جنت کماؤ گی، مان لو”

ریان عرا کے سنجیدہ موڈ کو خاطر میں لائے بغیر بولتا ہوا عون کے پاس ہی لیٹ گیا

“اپنی بیوی کو تنگ کرنے والے انسان کے بارے میں بھی اللہ نے بہت کچھ کہا ہے کیا وہ نہیں پڑھا تم نے”

عرا ریان کو دیکھتی ہوئی بولی ساتھ وہ عون کو مساج بند کرچکی تھی کیونکہ جتنی دیر وہ عون کو مساج دیتی اتنی دیر ریان اپنی باتوں سے اس کو تنک کرتا

“کون کافر تنگ کرسکتا ہے اپنی پیاری سی بیوی کو۔۔۔ تنگ تو تم مجھے کرتی ہو کبھی خوابوں میں آکر تو کبھی حقیقت میں جاگتے ہوئے اور اس وقت بھی تم مجھے تنگ ہی کررہی ہو”

ریان نے بولتے ہوئے عرا کے بالوں کی چھوٹی سی لٹ جو شولڈر سے آگے آئی ہوئی تھی ہلکے سے اپنی طرف کھینچی تو عرا بےاختیار ریان کے چہرے پر جھکی ریان مزید قریب سے عرا کے چہرے کو غور سے دیکھنے لگا جس پر عرا بےساختہ اس سے نظریں چرانے پر مجبور ہوگئی مگر پیچھے نہ ہوسکی کیوکہ اس کے بال ابھی بھی ریان کے ہاتھ میں موجود تھے ریان سیریس ہوکر عرا کو دیکھنے لگا

“جاننا چاہو گی تم مجھے میرے خوابوں میں آکر کس طرح تنگ کرتی ہو اور پھر میں بدلے میں تمہارے ساتھ کیا کرتا ہوں، میں وہی سب کرتا ہوں جو تم مجھے جاگتے میں نہیں کرنے دیتی وہ سارے کام میں خواب میں کرلیتا ہوں”

ریان کی بات سن کر عرا کے کانوں کی لوہے سرخ ہونے لگی

“عون یہی موجود ہے پلیز میرے بال چھوڑو”

عرا کو کچھ سمجھ میں نہیں آیا وہ اس کی باتوں پر کیا بولے تو ریان کو عون کی موجودگی کا پتہ دینے لگی

“جب عون یہاں موجود نہیں ہوتا تب کون سے تم عون کے باپ کو ایسے قربت کے مواقع فراہم کرتی ہو۔۔ سنو اب ایسے صرف خوابوں میں ممکن نہیں ہوگا خواب کی بجائے حقیقت میں، میں تمہیں تنگ کرنے کا مائنڈ بنا چکا ہوں”

ریان سنجیدگی سے بولتا ہوا عرا کو مزید اپنی جانب جھکاکر اس کے ماتھے پر اپنے ہونٹ رکھنے کے بعد عرا کا چہرا غور سے دیکھنے لگا عرا ابھی تک اس پر جھکی ہوئی تھی وہ اٹھ نہ سکی کیونکہ اس سے پہلے ریان اپنے بازو کی مدد سے اسے حصار میں لے چکا تھا

“تم بھول رہے ہو تمہیں عون کو باتھ دلانا ہے”

عرا ریان کی قربت سے اس کی نظروں سے نروس ہوتی ریان کو یاد کروانے لگی

“پہلے تم مجھے یوں تنگ کرنا بند کرو ورنہ آج عون کو باتھ دلوانے کا پروگرام کینسل کرکے میں کوئی دوسرا پروگرام نہ شروع کردو”

ریان نے عرا کے چہرے سے نظریں ہٹاکر گہری نظروں سے جہاں کا جائزہ لیا تو عرا سر جھکا کر اپنی قمیض کے گلے کو دیکھنے لگی جو جھکنے کی وجہ سے بےشرمی کا سبب بنا ہوا تھا وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھی کیونکہ ریان کی نظریں اس کو بےپناہ تنگ کرنے پر تلی تھی

“بیوٹی فل”

عرا کی کمر اور اس کی جسم کی بناوٹ جو ایک بچے کے بعد بھی ویسی تھی ریان کے منہ سے بےساختہ نکلا

“کیا؟؟” دوپٹے سے خود کو کور کرتی وہ ناسمجھی کے عالم میں ریان کے بڑبڑانے پر اس سے پوچھنے لگی

“کچھ نہیں پھر کبھی بتاؤ گا”

ریان اس پر سے اپنی نظریں ہٹاتا ہوا بولا۔۔۔ ورنہ عرا اس کے دیکھنے کے انداز پر مزید نروس ہوجاتی۔۔۔ اتنے میں شمع عون کا تمام سامان لے آئی اور تھوڑی دیر ہونے پر معذرت کرنے لگی

“اچھا ہوا شمع تم نے آنے میں دیر لگادی ورنہ تمہارے جلدی آنے پر آج میں تمہیں نوکری سے فارغ کردیتا”

ریان کی بات سن کر شمع پریشان ہوکر ریان کو دیکھنے لگی۔۔۔ جو اب بالکل سنجیدگی سے عون کو گود میں لیے واش روم کی جانب بڑھ رہا تھا

“اتنا سیریس مت لیا کرو ریان کی باتوں کو، تم جاؤ آنٹی کی فرینڈز آئی ہیں تمہیں وہاں ٹائم دینا چاہیے”

عرا شمع کو پریشان دیکھ کر اس سے بولی اور خود بھی واش روم کی جانب بڑھ گئی تاکہ عون کو باتھ دلوانے میں ریان کی ہیلپ کرسکے

****

“عون کو فیڈ کروا دو عرا اسے اب نیند آرہی ہے”

رات کے وقت عون کو جمائیاں لیتا ہوا اور رونے والی شکل دیکھ کر ریان عون کو اپنے ساتھ بیڈ روم میں لاتا ہوا عرا سے بولا آج سارا دن عون کا ریان کے پاس گزرا تھا

“لاؤ میں اسے شمع کو دے آتی ہوں”

عرا عون کو ریان کی گود سے اپنی گود میں لیتی ہوئی بولی تو ریان عرا کے جملے پر حیرت ذدہ سا اُس کو دیکھنے لگا

“عجیب بات کررہی ہو میں تمہارے پاس کیوں لایا ہوں، شمع تھوڑی فیڈ کروائے گی عون کو”

ریان کی بات سن کر عرا بری طرح سٹپٹا گئی

“کیا الٹا سیدھا بول رہے ہو، میرا مطلب ٹاپ فیڈ سے ہے”

عرا ریان کو دیکھ کر اس کی غلط فہمی دور کرتی ہوئی بولی

“لیکن ڈیلی رات کو سونے سے پہلے تم عون کو فیڈ دیتی ہو پھر عون ماں کے پاس جاتا ہے ناں”

جو روٹین وہ تین مہینوں سے دیکھتا آرہا تھا ریان اس کے مطابق عرا سے بولا

“دو دن سے عون ٹاپ فیڈ لے رہا ہے”

عرا ریان کو دیکھتی ہوئی اتنا ہی بولی وہ اسے یہ نہیں بتاسکی کہ اُس کی غیر موجودگی میں وہ اپنے بیٹے کو گود میں لینے کے لیے ترس گئی تھی

“اور ایسا کیوں ہورہا ہے بتانا پسند کرو گی”

یہ بات شاید ریان کو پسند نہیں آئی تھی تبھی وہ عرا سے پوچھنے لگا

“شاید آنٹی کو یہی لگتا ہے کہ مدر فیڈ کی بجائے ٹاپ فیڈ عون کے لیے زیادہ فائدے مند ہے۔۔۔ تم پلیز مجھ سے اِس ٹاپک پر بات مت کرو جاکر آنٹی سے خود پوچھ لو”

عرا اب کی بار جھنجھلاتی ہوئی ریان سے بولی تو ریان سوچنے پر مجبور ہوا اس کی پیچھے سکندر ولا میں کیا چلتا رہا ہے

“اوکے میں ماں سے خود پوچھ لیتا ہوں لیکن تم ابھی عون کو اپنا فیڈ دو۔۔۔ اس کی ہیلتھ کو لےکر میں کوئی کمپرومائز نہیں کرسکتا”

ریان عرا سے بولتا ہوا کمرے سے باہر جانے کے بجائے وہی صوفے پر بیٹھ کر اپنا موبائل دیکھنے لگا جبکہ عرا جھجھکتی ہوئی اپنا دوپٹہ نیچے ڈھلکا کر عون کو فیڈ کروانے کی کوشش کرنے لگی جس کے لیے عون تیار نہ تھا

“تم بلاوجہ ضد کررہے ہو اس کی عادت اب ختم ہوچکی ہے یہ اب میرا فیڈ نہیں لے رہا ریان”

عرا پریشان ہوتی ریان سے بولی تو ریان موبائل وہی رکھ کر عرا کے پاس چلا آیا

“دو دن میں ایسے کوئی عادت ختم نہیں ہوجاتی فیڈر تو نہیں ملے گا اس وقت، کب تک نہیں لے گا فیڈ دوبارہ کرواؤ”

ریان عرا سے بولتا ہوا وہی عرا کے سامنے بیڈ پر بیٹھ گیا جب اس نے عرا کا پھیلا ہوا دوپٹہ ایک سائیڈ پر کیا تو عرا اس کی حرکت پر ایک دم بوکھلا گئی وہ خود عون کے سر کے نیچے اپنا ہاتھ رکھ کر اسے فیڈ لینے کے لیے مجبور کرنے لگا تھوڑی ضد کے بعد روتے ہوئے عون نے فیڈ کرنا شروع کردیا جبکہ عرا ریان کے سامنے بالکل خاموش سی سر کو نیچے جھکائے بیٹھی تھی

“تم نے مجھے صبح کیوں نہیں بتایا کہ عون تمہارا فیڈ نہیں لے رہا۔۔۔ دو دن گھر سے دور رہنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تم مجھے کچھ نہ بتاؤ۔۔۔ میں ابھی ماں سے بھی پوچھو گا کہ انہوں نے کیا سوچ کر منع کیا آئندہ عون کی طرف سے لاپرواہی میں بالکل برداشت نہیں کرو گا اور تم مجھے چھوٹی سے چھوٹی بات بتاؤ گی”

ریان عرا کا جھکا ہوا سر دیکھ کر سنجیدگی سے بولے جارہا تھا تب ریان کو محسوس ہوا کہ جیسے عرا رو رہی ہو

“عرا یہاں دیکھو میری طرف”

ریان کے بولنے پر جب عرا نے سر نہیں اٹھایا تو ریان نے اپنا ہاتھ عرا کی شرٹ سے ہٹایا جو نیچے ڈھلک کر عون کو اپنے اندر چھپا گئی ریان نے عرا کا چہرہ اونچا کیا وہ آنسو سے بھیگا ہوا تھا

“کیا ہوا ہے میرے پیچھے کیا ماں نے تمہیں کچھ کہا ہے”

جب وہ واپس آیا تھا تب اسے سب کچھ نارمل لگا تھا لیکن اب اسے محسوس ہورہا تھا لازمی اس کے پیچھے کچھ ہوا تھا ریان خود سے ہی اندازہ لگاتا ہوا بولا جس پر عرا نے اس کو کوئی جواب نہ دیا

“عرا نہ تو میں تم پر غصہ ہورہا ہوں نہ تمہیں ڈانٹ رہا ہوں اور نہ ہی تم سے لڑ رہا ہوں صرف یہی پوچھ رہا ہوں اگر ماں نے تمہیں کچھ کیا ہے یا بولا ہے تو مجھے بتاؤ”

ریان سنجیدگی سے بولتا ہوا عرا کے بولنے کا انتظار کرنے لگا

“بس تم دوبارہ دور مت جانا۔۔۔۔ اتنے دنوں کے لیے”

عرا کی بات سن کر ریان چند پل کے لیے خاموشی سے اسے دیکھتا رہا پھر بولا

“تمہارے اس جملے سے تو لگ رہا ہے تم میری جدائی میں آنسو بہا رہی ہو لیکن میں اتنا بےوقوف ہرگز نہیں ہو کہ آنسوؤں کی پہچان نہ کر پاؤ ان آنسوؤں کی وجہ میرا دور جانا نہیں بلکہ کوئی اور وجہ ہے ٹھیک ہے تم مجھے نہیں بتانا چاہ رہی تو میں خود جاکر ماں سے وہ وجہ پوچھ لیتا ہوں”

عون فیڈ کرچکا تھا ریان اس کو اپنے کندھے سے لگاکر بیڈ سے اٹھتا ہوا کمرے سے باہر جانے لگا

“آنٹی سے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے پلیز عون کو انہیں دے کر جلدی سے واپس آجاؤ”

ریان کو اس قدر سیریس دیکھ کر عرا جلدی سے بولی وہ نہیں چاہتی تھی ریان مائے نور کے پاس جاکر اس سے کچھ بھی پوچھے اور مائے نور کو یہ لگے کہ عرا نے ریان کو اس کے خلاف بھرا ہے مگر ریان عرا کی بات کو نظر انداز کرتا ہوا عون کو گود میں لیے کمرے سے باہر نکل گیا جس کے بعد عرا ٹہلتی ہوئی ریان کے واپس کمرے میں آنے کا انتظار کرنے لگی پانچ منٹ گزر جانے کے بعد عرا کو بےچینی ہونا شروع ہوگئی نہ جانے ریان مائے نور سے کیا پوچھ رہا ہوگا مائے نور کو اُس پر کس قدر غصہ آرہا ہوگا۔۔۔ کیا اس کو مائے نور کے کمرے کے دروازے سے کان لگاکر دونوں ماں بیٹے کی باتیں سننی چاہیے تھی؟؟ تھی تو یہ بہت غیر اخلاقی حرکت مگر مزید دس منٹ گزرنے پر عرا ٹینشن لیتی اپنے کمرے کا دروازہ کھولنے لگی لیکن دروازے پر کھڑے ریان کو دیکھ کر وہ بری طرح جھینپ گئی

“کیا ہوا باہر کیوں آرہی تھی کیا کوئی کام تھا”

ریان عرا کے دروازہ کھولنے پر اس سے پوچھنے لگا

“نہیں کوئی کام نہیں تھا تم نے آنے میں اتنی دیر کیوں کردی”

اچانک ریان کے سوال کرنے پر عرا اس سے پوچھ بیٹھی جس پر ریان کے چہرے پر مسکراہٹ آئی وہ دروازہ بند کر کے عرا کے پاس آیا

“تو میرے جلدی واپس آنے کا انتظار کیا جارہا تھا”

ریان گہری نظروں سے اسے دیکھتا ہوا عرا کے مزید قریب آکر اس سے پوچھنے لگا

“اب ایسی تو کوئی بات نہیں ہے”

ریان کے دیکھنے کے انداز اور اس کے لہجے پر عرا اپنے کان سے پیچھے بالوں کرتی ہوئی آہستہ آواز میں بولی تو ریان نے عرا کو خود سے قریب کرکے اسے اپنی دسترس میں لےلیا

“جھوٹ مت بولو بات تو 100 فیصد ایسی ہی ہے کیونکہ میرے سکندر ولا واپس آنے پر تم جتنی شدت سے مجھ سے ملی تھی میں مان ہی نہیں سکتا کہ تم نے مجھے میرے پیچھے یاد نہ کیا ہو، اب خود سے اقرار کرو گی اس بات کا یا پھر آج میں تم سے زبردستی اقرار کرواؤں”

ریان عرا کو اپنے بازوؤں میں بھرے سیریس ہوکر بولا

“تو کیا تم اب میرے ساتھ زبردستی کرو گے”

عرا ریان کو دیکھتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی ریان عرا کو کمر سے جکڑے اس کے اتنے قریب کھڑا تھا کہ دونوں کے درمیان ذرا سا بھی فاصلہ باقی نہیں بچا تھا

“زبردستی کرنا تو نہیں چاہتا لیکن آج اگر تم نے اقرار نہیں کیا تو میں زبردستی کرنے پر مجبور ہوجاؤ گا، اقرار کرلو تم نے میری غیرموجودگی میں مجھے یاد کیا تھا”

ریان نے بولتے ہوئے نرمی سے اس کے گال کو اپنے ہونٹوں سے چھوا تو عرا نے اپنی آنکھیں بند کرلی اگر وہ اقرار کرتی تو اس اقرار کے بعد کیا ہونے والا تھا عرا اس پل کے لیے خود کو تیار کرنے لگی ریان عرا کے تاثرات دیکھ کر اس کے بولنے کا انتظار کرنے لگا

“میں ہار گئی ہوں شاید، تم جیت گئے ہو میں اقرار کرتی ہوں کہ ان گزرے دو دنوں میں مجھے تمہاری شدت سے یاد آئی تھی تم آئستہ آئستہ مجھے اپنا عادی بنارہے ہو معلوم نہیں یہ ٹھیک ہے یا پھر غلط مگر مجھے تمہاری کمی محسوس ہوئی گزرے دو دنوں میں، میں نے تمہیں یاد کیا یہ ٹھیک ہے یا غلط مجھے نہیں پتہ میں ہار گئی آج”

وہ ریان کی باہوں میں آنکھیں بند کیے بولی تو ریان نے عرا کے اس اعتراف پر اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں کی قید میں لے لیا اور اپنی سانسیں اس کی سانسوں میں شامل کرنے لگا۔۔۔ سانسوں کے ملاپ کے بعد ریان جب پیچھے ہوا تو عرا کا چہرہ ریان کے اس عمل سے سرخ ہوچکا تھا اس کے چہرے پر حیا کی سرخی دیکھ کر ریان عرا سے بولا

“اس میں تمہاری ہار نہیں ہم دونوں کے رشتے کی جیت ہے۔۔۔ اس میں کچھ غلط نہیں ہے تم ایسا کیوں سوچ رہی ہو، میں اجنبی تو نہیں ہوں ہمارا نکاح ہوا ہے تم سے مضبوط رشتہ ہے میرا اس رشتے کو دل سے تسلیم کرنے میں کیسی جھجھک”

ریان نے عرا سے بولتے ہوئے اسے بازوؤں میں اٹھالیا ریان کے اس عمل پر عرا ایک مرتبہ دوبارہ آنکھیں بند کرچکی تھی ریان اس کو بیڈ پر لٹاتا ہوا عرا کے اوپر جھکا تو عرا نے مشکلوں سے اپنی آنکھیں کھول کر اپنے اوپر جھکے ہوئے ریان کو دیکھا

“تم سے اپنے لیے سکون چاہتا ہوں جو اس وقت تمہاری قربت دے سکتی ہے تم آج میرے لیے سکون کا ساماں بن جاؤ”

ریان مدہوش لہجے میں بولتا ہوا اس کی گردن پر جھک گیا۔۔۔ اپنی گردن اور کندھوں پر ہونٹوں کا لمس محسوس کرتی عرا اپنی آنکھیں بند کرچکی تھی شولڈر سے نیچے اپنی سرکتی ہوئی شرٹ پر اس کی سانسیں تیزی سے چلنے لگی ریان نے جب اپنی بھی شرٹ اتاری عرا کا دل زور سے دھڑکنے لگا اپنے پیٹ پر ریان کے ہونٹوں کا لمس محسوس کرکے وہ پہلوں بدل کر رہ گئی اس نے اپنے چہرے کا رخ دائیں جانب کرلیا، ریان کے ہاتھ کے نیچے اپنا کانپتے دل کو تسلی دیتی وہ بالکل خاموش لیٹی تھی۔۔ چہرے پر آتے بالوں کو اس نے شرم سے ہٹانے کی زحمت نہیں کی اپنی تھائس پر ریان کی انگلیوں کے لمس کے ساتھ نیچے سرکتا ہوا ٹراؤزر، اس کے دل کی دھڑکنوں کی رفتار اچانک مدھم ہوگئی اے سی کی کولنگ میں بھی اس کے پسینے چھوٹنے لگے

“تم ریلکس ہو” ریان عرا کے چہرے سے بال ہٹاتا ہوا اسے دیکھ کر پوچھنے لگا عرا نے بناء کچھ بولے اقرار میں سر ہلایا

“تمہاری طلب کسی نشے کی صورت میرے اندر اترتی جارہی ہے میں نے اتنے ماہ کس طرح خود پر جبر کیا ہے آج تمہیں اندازہ ہوگا کہ میرا دل تمہارے لیے کسقدر بےتاب رہا ہے”

ریان اب کی مرتبہ اس کے چہرے پر اپنے ہونٹوں سے محبت کی مہریں ثبت کرتا مزید اسے خود سے قریب کرکے اپنے اور اس کے درمیان فاصلے سمیٹنے لگا ریان کی حد درجہ بڑھتی نزدیکی عرا کو شرم میں مبتلا کرنے لگی، ریان شرم کے تمام پردے چاک کرتا اس کی ذات کو مکمل طور پر اپنے اندر سما چکا تھا عرا خود کو ریان کے سپرد کر کے اپنی آنکھیں بند کر لیٹی ہوئی ریان کی بڑھتی ہوئی شدتیں برداشت کرنے لگی

****

“آپ میری بیوی کے ساتھ زیادتی نہیں کرسکتی ماں آپ مجھے مجبور کررہی ہیں کہ میں عرا کو سکندر ولا سے لے جاکر کہیں الگ گھر میں رکھوں، اگر ایسا ہوا تو یاد رکھیے گا کہ عون عرا کے پاس رہے گا سکندر ولا میں نہیں۔۔۔۔ مجھے نہیں معلوم میرے پیچھے یہاں عرا کے ساتھ کیا سلوک ہوا ہے لیکن اس کے آنسوؤں نے مجھے مجبور کیا ہے کہ میں یہاں آکر آپ سے پوچھوں کہ عرا نے آخر ایسا کون سا گناہ کیا ہے جو آپ اس بےقصور کو معاف نہیں کرسکتی آپ نے تب بھی عرا پر الزام لگایا تھا کہ عرا پانی کا نل کھول کر عون کو وہاں واش روم میں چھوڑ گئی تھی، اصل حقائق جاننے کے باوجود میں نے آپ سے کوئی سوال نہیں کیونکہ آپ میری ماں ہیں میں آپ کو شرمندہ نہیں دیکھ سکتا تھا لیکن آج یہ بات اس لیے بول رہا ہوں کیونکہ میں عرا کے ساتھ مزید کوئی زیادتی برداشت نہیں کرو گا۔۔۔ ایک بیٹا آپ کھو چکی ہیں، دوسرا بیٹا اور پوتا بھی آپ کھودیں گیں۔۔۔ مجھے ڈر لگتا ہے ماں کہ آپ اپنے اس عالیشان گھر میں اکیلی نہ رہ جائے اگر ایسا ہوا تو سب سے زیادہ دکھ مجھے ہوگا کیوکہ میں آپ کو اکیلا بھی نہیں دیکھ سکتا پلیز مجھے مجبور مت کریں کہ میں کوئی بڑا قدم اٹھاؤ”

مائے نور راگنگ چیئر پر بیٹھی ہوئی کل رات ریان کی بولی ہوئی باتوں کو یاد کرتی ایک مرتبہ دوبارہ اپنا دل جلانے لگی

وہ ایک معمولی سی لڑکی جو میرے ایک بیٹے کو بھری جوانی میں نگل گئی اور دوسرا بھی اسی کے لیے مرا جا رہا ہے۔۔۔ معاف کرسکتی ہوں میں اس لڑکی کا گناہ، کبھی نہیں۔۔۔ سکندر ولا سے جانا تو پڑے گا عرا کو مگر عون یا پھر ریان میں سے کوئی کہیں نہیں جائے گا جائے گی تو صرف یہ لڑکی

مائے نور زہریلی سوچ سوچتی ہوئی چیئر سے اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گئی

***

دیر تک جاگنے کی وجہ سے اس کی آنکھ وقت پر نہیں کھل پائی تھی کروٹ بدل کر وہ سیدھا ہوکر لیٹا تو عرا کو اپنے پہلو میں گہری نیند میں سوتا ہوا پایا۔۔۔ ریان مزید عرا کے قریب آکر اپنا بازو اس کے گرد پھیلاتا ہوا عرا کے وجود کو اپنے حصار میں لے چکا تھا جس کی وجہ سے عرا کی نیند میں خلل پڑا وہ سوتے میں کسمسائی ساتھ ہی اپنی آنکھیں کھولنے کی کوشش کرنے لگا مگر اُس سے پہلے ہی ریان اُس کی آنکھوں کو باری باری چومتا ہوا اپنے ہونٹوں سے اُس کے گالوں کو چھونے لگا

“آج کی صبح ان گزری ہوئی صبح سے زیادہ حسین اور دلکش محسوس ہورہی ہے، کیا ایسا میں محسوس کررہا ہوں یا تم بھی ایسا محسوس کررہی ہو”

ریان عرا کے چہرے کو قریب سے دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا ریان کی بات پر عرا کا چہرہ گلابی پڑنے لگا

“میں محسوس کررہی ہوں کہ تم بہت زیادہ فری ہورہے ہو اب مجھے اٹھنے دو پہلے ہی بہت لیٹ آنکھ کھلی ہے”

عرا ریان کے حصار سے نکلنے کی کوشش کرتی ہوئی بولی مگر اس کی کوشش بےسود ثابت ہوئی جس پر عرا ریان کو گھورنے لگی

“برا مجھے منانا چاہیے تمہاری بات سن کر اور آنکھیں نکال کر تم مجھے دیکھ رہی ہو ویسے پتہ ہے میرا دل کیا کررہا ہے اس وقت”

ریان عرا سے بولتا ہوا ایک دم شرارتی انداز میں مسکرایا اور اس کے یوں مسکرانے پر عرا نروس ہوتی اسے دیکھنے لگی

“تمہارا جو بھی دل کررہا ہے مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ہے بس اب تم مجھے بخش دو”

عرا ریان کے موڈ پر گھبراتی ہوئی ریان سے بولی اور اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے خود سے دور کرنے لگی مگر ریان اس کو کمر پر پکڑ کر خود سے قریب کرتا اور اپنے پاؤں اس کی دونوں ٹانگوں پر رکھتا ہوا عرا کے اٹھنے کی کوشش کو ناکام بنانے لگا

“اور اگر میرا بخشنے کا موڈ نہ ہوا تو، اچھا تھوڑی دیر تو ایسے ہی لیٹی رہو تمہارے قریب رہنے سے میرے دل کو کتنا سکون محسوس ہو رہا ہے”

ریان عرا سے بولتا ہوا اس کی توڑی چومتا ہوا اس کی گردن پر جھکنے لگا اس سے پہلے وہ مزید بہکتا عرا جلدی سے بولی

“تمہارا یہ اطمینان مجھے کل رات کی طرح کہیں کا نہیں چھوڑے گا۔۔۔ ریان پلیز نہیں، یہ کیا کررہے ہو”

ریان عرا کی خوشبو اپنے اندر سماتا ہوا ایک بار پھر مدہوش ہونے لگا عرا کے پیچھے ہٹانے پر وہ عرا کو گھورنے لگا

“کچھ کرنے کہاں دے رہی ہو یار، بس تھوڑی دیر کے لیے مجھے اپنا بھلا کرنے دو پھر میں اچھے بچے کی طرح سے خود پیچھے جاؤ گا۔۔۔ پکا”

ریان عرا کو بہلاتا ہوا اسے لٹا کر اس پر جھک گیا

“تم کبھی بچپن میں شریف نہیں رہے ہو اور چاہ رہے ہو میں تم سے اب شرافت کی طرف توقع رکھو”

عرا کی بات پر ریان اسے گھورتا ہوا اسکے اسٹیپ کاندھے سے نیچے کرنے لگا

“اور اب میں تمہیں شرافت دکھانے والا بھی نہیں ہوں کیونکہ تم بار بار منع کر کے مجھے اچھا خاصا چارج کرچکی ہو اب میں تمہیں محبت کا انجیکشن لگانے والا ہوں بس خاموشی سے لیٹی رہو”

ریان بولتا ہوا عرا پر مکمل طور پر قابض ہوچکا تھا عرا سمجھ چکی تھی اب وہ پیچھے ہٹنے والا نہیں اس لیے ایک مرتبہ دوبارہ کل رات کی طرح وہ اس کی بےباکیاں برداشت کرنے پر خود کو تیار کرنے لگی

***