Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Payar Howa Tha (Episode 19)

Payar Howa Tha By Zeenia Sharjeel

صبح عرا کی آنکھ کھلی آنکھ کھلتے ہی اُس کی نظر اپنے قریب سوئے ہوئے ریان پر پڑی جسے دیکھتے ہی عرا اٹھ کر بیٹھ گئی۔۔۔ ریان کی کل رات والی باتوں کو ذہن سے جھٹکنے کے ساتھ وہ عون کا سوچتی ہوئی کمرے سے باہر نکلنے لگی لیکن شکن زدہ گجلے ہوئے کپڑے اور اپنا حلیہ دیکھ کر وہ وارڈروب کی جانب بڑھی اور اپنے لیے ایک ڈریس منتخب کر کے باتھ لینے چلی گئی

شاور لینے کے بعد وہ آئینے کے سامنے کھڑی اپنے ہاتھ میں موجود بریسلیٹ اتار کر اپنے بالوں کو برش کرنے لگی تب اسے احساس ہوا جیسے ریان جاگ رہا ہو لیکن مڑ کر دیکھنے پر اس نے ریان کو سوتا ہوا پایا، باہر جانے سے پہلے وہ ریان کو جگانے کی نیت سے بیڈ کی جانب بڑھی اور سوئے ہوئے ریان کی پاس آکر کھڑی ہوگئی

“ریان” عرا کے پکارنے پر ریان ٹس سے مس نہ ہوا عرا نچلا ہونٹ دانتوں تلے دباتی ہوئی ریان کو دیکھنے لگی بھٹک کر اس کی نظریں ریان کی شرٹ کے کھلے بٹن پر پڑی جہاں کشادہ سینہ دکھائی دے رہا تھا عرا نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر اس کے بٹنز بند کرنے چاہے پھر کچھ سوچ کر اپنا ہاتھ پیچے کرلیا

“ریان جاگ جاؤ”

وہ ذرا سا جھک کر ریان کو پکارتی ہوئی ایک مرتبہ پھر بولی مگر ریان ہنوز آنکھیں بند کیے لیٹا رہا عرا دوبارہ اپنا ہاتھ اس کے کندھے تک لے گئی لیکن اس نے ریان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہی واپس کھینچ لیا تب عرا کی نظر کارنر ٹیبل پر رکھے الارم پیس پر پڑی۔۔۔ الارم لگاکر بھی تو اس کو جگایا جاسکتا عرا نے ارادہ کرتے ہوئے جیسے ہی الارم پیس اٹھایا ویسے ہی ریان نے ایک دم عرا کی کلائی پکڑی

“آآآآہ۔۔۔ خوف کے مارے عرا کے منہ سے چیخ نکلی وہ ایک دم الارم چھوڑ کر ڈر کے مارے پیچھے ہوئی

“یہ الارم والا طریقہ مجھے پسند نہیں جیسے پہلے جگا رہی تھی وہ انداز قدر بہتر تھا پلیز نیکسٹ ٹائم ویسے ہی ٹرائے کرنا”

ریان اٹھ کر بیٹھتا ہوا عرا کا چہرہ دیکھ کر بولا اس کے چہرے پر اب بھی خوف کی رمک چھائی ہوئی تھی جو اب ریان کو جاگتا ہوا دیکھ کر سنجیدگی میں ڈھلنے لگی

“تم پہلے سے جاگے ہوئے تھے اور جان بوجھ کر مجھے تنگ کر رہے تھے”

عرا اپنی کلائی سہلاتی ہوئی بولی جو چند سیکنڈ پہلے ریان نے پکڑی تھی

“میں نے تمہیں تنگ کب کیا میں تو بس یہ دیکھنا چاہ رہا تھا تم مجھے کیسے جگاتی ہو ویسے صبح شوہر کو جگانے کے اور بھی رومینٹک طریقے ہیں کبھی تمہیں فرصت ملے تو بتاؤں گا”

ریان شوخ سے لہجے میں بولتا ہوا عرا کے پاس آیا اور اس کی کلائی پکڑ کر دیکھنے لگا جو اس نے اتنی زور سے ہرگز نہیں پکڑی تھی جسے عرا سہلا رہی تھی

“مجھے کوئی شوق نہیں ہے ایسے فضول طریقوں کے بارے میں جانکاری لینے کی”

عرا لہجے میں ناگواری ظاہر کرتی ہوئی بولی اور کمرے سے باہر جانے لگی تو ریان نے ایک مرتبہ دوبارہ اس کی کلائی پکڑلی

“خفا کیوں ہورہی ہو اس میں برا ماننے والی کیا بات ہے میں صرف مذاق کررہا تھا”

ریان عرا کو بولتا ہوا اس کا ہاتھ پکڑے اسے ڈریسنگ ٹیبل تک لایا جہاں اس کا دیا ہوا برسلیٹ موجود تھا ریان عرا کا ہاتھ تھامے وہ بریسلیٹ دوبارہ عرا کو پہنانے لگا عرا کی نظریں ایک مرتبہ دوبارہ اس کے سینے پر پڑی جیسے ہی ریان نے عرا کی جانب دیکھا عرا فوراً اپنی نظروں کا زاویہ درست کرتی ہوئی اس سے بولی

“مجھے اس طرح کے مذاق پسند نہیں ہیں”

عرا اپنی طبیعت میں سنجیدگی برقرار رکھتی ریان سے بولی اور اس سے اپنی کلائی چھڑانے لگی جسے چھوڑنے کی بجائے ریان کی گرفت اس کی کلائی پر مزید سخت ہوگئی

“پھر بتادو کس طرح کے مذاق پسند ہیں تمہیں میں ویسے ہی مذاق کرلیا کرو گا”

عرا نے دیکھا اس کا لہجہ سنجیدہ تھا مگر آنکھوں میں شوخی رقص کررہی تھی

“تمہیں مجھ سے مذاق کرنے کی ضرورت نہیں ہے”

عرا اس کی غیر سنجیدہ طبیعت پر جتاتی ہوئی بولی

“تو پھر کیا کرنے کی ضرورت ہے”

ریان کا جملہ اور لہجہ ایسا تھا کہ عرا لاجواب ہوئی اوپر سے اسکے دیکھنے کا انداز، شرٹ کے کھلے بٹنز عرا کا چہرا سرخ ہونے لگا

“میرا ہاتھ تو چھوڑو یہ کیوں پکڑ کر کھڑے ہو”

عرا ریان کی توجہ اپنی کلائی کی طرف دلانے لگی جو ریان پکڑ کر عرا کا چہرا دیکھ رہا تھا

“ہاتھ چھڑوا کر کیا کرنا ہے”

ریان الٹا عرا سے سوال کرنے لگا عرا جان گئی تھی وہ یوں باتیں بناکر صرف اسے تنگ کررہا تھا

“تمہیں ہاتھ پکڑ کر کیا کرنا ہے”

عرا ریان سے تنگ آکر الٹا اس سے پوچھنے لگی عرا کی بات پر ریان اپنا دوسرا بازو اس کی کمر پر حمائل کرکے اسے اپنے قریب کیا تو بےاختیار عرا نے اس کے سینے پر اپنا ہاتھ رکھا

“پیار کرلو۔۔۔ اگر تمہاری اجازت ہو تو”

ریان کی بات پر عرا گھبرا کر اسے دیکھنے لگی عرا کو اپنے قریب کرکے اب وہ بالکل سنجیدہ ہوگیا ریان کے دیکھنے کا انداز ایسا تھا عرا کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگی اوپر سے ریان کا دل جو اس کے ہاتھ کے نیچے اتنی تیزی سے دھڑک رہا تھا بےاختیار عرا نے ریان کے چہرے سے نظریں ہٹاکر اپنے چہرے کا رخ دوسری جانب کیا

“آج سے پہلے کوئی صبح اتنی حسین نہیں لگی مجھے۔۔۔ دل چاہ رہا ہے اس پل اس لمحے کو ہمیشہ کے لیے قید کرلو”

ریان اس کے بالوں میں بسی کنڈیشنر کی خوشبو سونگتا ہوا مدہوشی کے عالم میں بولا

“پلیز ریان سیریس ہوجاؤ اب”

عرا ریان کے یوں قریب آنے پر گھبراتی ہوئی بولی

“میں بالکل سیریس ہوں”

ریان کا لہجہ آنچ دیتا ہوا تھا جبکہ اس کے ہونٹ عرا کے کان کہ لو کو چھونے لگے جس سے عرا کا دل زور سے دھڑکنے لگا بالکل ویسے ہی جیسے اس وقت ریان کا دل زور و شور سے دھڑک رہا تھا اپنے کندھے پر ریان کے ہونٹوں کا لمس عرا کے پورے جسم میں سنسنی پیدا کرنے لگا

“ریان پلیز میں رو دوں گی اگر تم نے مزید کچھ بھی۔۔۔

عرا کی یہ دھمکی کار امد ثابت ہوئی ریان اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی عرا کو اپنی گرفت سے آزاد کر کے پیچھے ہوگیا جس کا فائدہ اٹھاکر عرا فوراً کمرے سے باہر نکل گئی

کوریڈور میں آکر اس نے سب سے پہلے خود کو ریلکس کیا دل تھا کہ اب تک زور سے دھڑکے ہی جارہا تھا وہ کوریڈور سے نکلنے لگی تو اس کی نظر زیاد کے کمرے پر پڑی جس سے وہ اپنی نظریں چراتی ہوئی آگے بڑھی تو اسے مائے نور کے کمرے کا دروازہ ہلکا سا کھلا نظر آیا اور عون بیڈ پر سویا ہوا تھا عرا چاہ کر بھی مائے نور کے کمرے میں بنا اجازت جاکر عون کو نہیں لے سکتی تھی اس لیے بےدلی سے لانچ کی طرف بڑھنے لگی جہاں سے اسے مائے نور کے باتوں کی آواز سنائی دے رہی تھی

****

“تمہیں یوں مجھے چھوڑ کر نہیں جانا چاہیے تھا حالات چاہے جیسے بھی ہوں اُن پر مل کر قابو پایا جاسکتا تھا مگر یوں اپنا گھر چھوڑ کر چلے جانا کوئی عقلمندی نہیں تم واپس آجاؤ عاشو پلیز”

مائے نور سامنے صوفے پر بیٹھی عشوہ سے بولی جو صبح صبح سکندر ولا میں اپنا کچھ ضروری سامان لینے آئی تھی

“آپ کے لیے یوں بولنا بہت آسان ہے ماہی مگر اب میرے لیے سکندر ولا میں رہنا بہت مشکل ہے میرے اندر اتنا ظرف نہیں ہے کہ میں عرا یا پھر کسی دوسرے لڑکی کو ریان کی بیوی کی حیثیت سے اس گھر میں برداشت کرسکو۔۔۔ آپ ریان کو میرا نہیں بناسکی مجھ سے کیا وعدہ نہیں نبھایا آپ نے، میں خالی ہاتھ ہوں ماہی آپ اپنا کہا پورا نہیں کرسکی”

عشوہ دکھی دل سے مائے نور سے بولی

“تم جانتی ہو میں ایسا کیو نہیں کرپائی زیاد ریان نے وعدہ لےکر گیا تھا کہ وہ اس کے جانے کے بعد عرا اور اُس کے بچے کا خیال رکھیے گا”

مائے نور خود کو عشوہ کی نظروں میں کلیئر کرتی بولی جس پر عشوہ طنزیہ ہنسی

“اگر بھائی ریان سے ایسا وعدہ نہ بھی لیتے تب بھی ریان عرا سے ہی شادی کرتے آپ اپنے بیٹے کو شاید نہیں جانتی لیکن میں انہیں اچھی طرح جانتی ہوں بلکہ آپ سے تو زیادہ جانتی ہوں”

عشوہ مائے نور کو جتاتی ہوئی بولی جس پر مائے نور کو غصہ آنے لگا

“اِس لڑکی کو دوبارہ اپنے گھر میں، میں نے کس طرح برداشت کیا ہے یہ میرا دل جانتا ہے اگر عون وجہ نہ بنتا تو میں کبھی بھی۔۔۔

مائے نور آگے کچھ بول نہ سکی کیونکہ وہاں عرا آچکی تھی اس کو آتا ہوا دیکھ کر عشوہ اور مائے نور دونوں خاموش ہوگئی عرا کو دیکھ کر مائے نور کی تیوری پر بل چڑھ گئے

“توفیق مل گئی تمہیں کمرے سے باہر نکلنے کی یوں نو بہاتا دلہن کی طرح پوز کر کے مت بیٹھ جانا کچن میں جاکر شمع کو اپنے اور ریان کے ناشتے کا بول دو میں اور عاشو بریک فاسٹ لے چکے ہیں”

مائے نور عرا کو دیکھتی ہوئی حقارت بھرے انداز میں بولی جبکہ اس طرح تذلیل بھرے انداز پر جہاں عرا شرمندہ ہوئی وہی عشوہ طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ عرا کا پھیکا پڑتا چہرہ دیکھنے لگی

“بریک فاسٹ تو کرلیا لیکن میرا کافی پینے کا موڈ بھی ہورہا ہے لیکن میں شمع کے ہاتھ کی بکواس کافی ہرگز نہیں پیوں گی”

عشوہ اٹہلانے والے انداز میں بولی تو ویسے ہی ریان بھی کمرے سے باہر نکل کر سٹنگ ایریا میں آگیا

“گریٹ صبح ہے صبح اپنا دیدار کروا کے تم نے تو ماں کو سرپرائز کردیا یقیناً ماں تو خوش ہوگیں تمہیں دیکھ کر”

ریان عشوہ کو دیکھ کر مائے نور کی موجودگی میں اپنا لہجہ خوشگوار بناتا ہوا بولا اور صوفے پر براجمان ہوا

“کیا صرف ماہی میرا دیدار کر کے خوش ہوئی ہیں آپ کو خوشی نہیں ہوئی مجھے یہاں دیکھ کر”

عشوہ ریان کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی جبکہ عرا کو وہاں اپنا آپ کھڑا رہنا بےمقصد لگا وہ جانے کا ارادہ کرنے لگی تبھی ریان نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اپنے ساتھ بٹھاتے ہوا عشوہ سے بولا

“جس چہرے کا دیدار میرے دل کو اطمینان بخشتا ہے وہ چہرہ میں جاگنے کے ساتھ ہی دیکھ چکا ہوں باقی سب تو اب بےمطلب سا لگتا ہے”

ریان نے عشوہ سے بولتے ہوئے عرا کو مسکراتی نظروں سے دیکھا تو وہ مائےنور اور عشوہ کی موجودگی کے احساس سے عرا بری طرح سٹپٹا گئی جبکہ عشوہ کو اپنے اندر کچھ ٹوٹتا سا محسوس ہوا مائے نور نے ناگواری سے ریان کو پھر اس کے ساتھ بیٹھی ہوئی عرا کو دیکھ کر فوراً بولی

“تمہیں کس نے کہا ہے ہم سب کے ساتھ یہاں بیٹھنے کو سنا نہیں تم نے ابھی عاشو نے کیا کہا ہے اسے شمع کے ہاتھ کی کافی نہیں پینی جاؤ جاکر اس کے لیے کافی بناکر لاؤ”

مائے نور کا انداز اس قدر تذلیل آمیز تھا کہ احساس توہین سے عرا کا چہرہ دوبارہ سرخ ہوگیا وہی ریان کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوئی اور ماتھے پر شکنیں ابھری اس سے پہلے عرا اٹھ کر کچن کا رخ کرتی ریان نے ایک مرتبہ دوبارہ عرا کا ہاتھ پکڑلیا

“آپ بات کرتے ہو شاید بھول گئیں ہیں کہ آپ بات کس لہجے میں کررہی ہیں یہ اس گھر کی ملازمہ نہیں میری بیوی ہے۔۔۔ ریان سکندر کی بیوی۔۔۔ سکندر ولا میں میری بیوی کی حیثیت اور ویلیو میں بار بار آپ کے سامنے نہیں دہراؤں گا آئندہ خیال رکھیے گا۔۔۔ عاشو کو اگر شمع کے ہاتھ کی کافی نہیں پسند تو وہ کافی اپنے لیے خود بنالے کیونکہ عاشو یہاں مہمان ہرگز نہیں ہے”

ریان مائے نور کو اچھی طرح باور کروانے کے بعد عرا کا ہاتھ پکڑ کر ڈائینگ ہال میں لے آیا جہاں شمع ان دونوں کے لیے بریک فاسٹ ٹیبل پر رکھ رہی تھی

“انسان کو اُس قدر بزدل بھی نہیں ہونا چاہیے کہ اپنی دفاع میں کچھ بول ہی نہ سکے”

کرسی پر بیٹھنے کے بعد عرا کو ریان کی آواز سنائی دی جس پر عرا نے چونک کر ریان کو دیکھا

“میں تمہاری طرح منہ پھٹ اور بدتمیز نہیں بن سکتی”

عرا آہستہ آواز میں بولی جس پر ریان حیرت سے اس کو دیکھنے لگا

“میں نے کوئی بدتمیزی نہیں کی ہے نہ ہی تمہیں کبھی اپنی ماں سے بدتمیزی کرنے کی اجازت دوں گا لیکن اگر کوئی تمہارے ساتھ ناجائز کرے تو اس کو چپ کر کے برداشت کرنا کوئی عقلمندی نہیں ہے۔۔۔ اپنی قدر خود کرنا سیکھو تبھی تم دوسروں کے سامنے اپنی حیثیت منوا سکو گی”

ریان کی بات پر ایک مرتبہ دوبارہ عرا نے سر اٹھاکر اسے دیکھا لیکن ریان خاموشی سے ناشتہ کرنے لگا عرا دوبارہ اپنی پلیٹ پر جھگ گئی

“شمع عون بابا کو میرے کمرے میں لے جاکر لٹادو”

ریان کی آواز ایک مرتبہ دوبارہ گونجی اب کی مرتبہ عرا نے سر نہیں اٹھایا وہ پلیٹ میں جھکی خاموشی سے ناشتہ کرتی رہی

****

“کیوں ظلم کیا آپ نے میرے ساتھ آپ کو اچھی طرح معلوم تھا کہ میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی تب بھی آپ نے عرا سے شادی کرلی ریان”

عشوہ سکندر ولا سے رخصت ہونے سے قبل ریان کے کمرے میں اس سے ملنے آئی تھی اور اچانک ہی ریان کے سینے پر سر رکھ کر روتی ہوئی اس سے بولی اِس سے پہلے ریان اسے پیچھے ہٹاتا کمرے کے اندر آتی عرا دہلیز پر ہی ریان اور عشوہ کو اتنے قریب دیکھ کر ایک دم رک گئی صرف ایک لمحے کے لیے اس کے چہرے کے تاثرات بدلے مگر اگلے ہی پل وہ اپنے چہرے کے تاثرات کو نارمل کرتی ہوئی بنا کچھ بولے کمرے سے باہر نکل گئی ریان نے گہرا سانس لے کر روتی ہوئی عشوہ کو خود سے جدا کیا

“ہوگیا تمہارا ڈرامہ؟؟ دیکھ چکی ہے عرا اب چلی جاؤ یہاں سے”

ریان عشوہ کو خود سے دور کرتا ہوا بولا

“آپ کو میری محبت ڈرامہ لگتی ہے”

عشوہ چہرے پر دکھ لئے ریان کو دیکھتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی

“یہ بتاؤ کہ اِن سب باتوں کا کوئی فائدہ کیا ہے اب۔۔۔ تم اچھی طرح سے عرا کو لےکر میری فیلنگز کے بارے میں جانتی ہو پھر ان سب باتوں کا کیا مقصد ہے بالفرض اگر عرا کی جگہ تم میری زندگی میں آجاتی تب بھی تم خالی ہاتھ رہتی۔۔۔ من پسند ہستی کو اپنی زندگی میں شامل کرنے کے باوجود تہی داماں رہ جانا یہ اس تکلیف سے بہت کم ہے جو تکلیف تم ابھی سہہ رہی ہو میری اس بات کو اکیلے میں ضرور سوچنا”

ریان عشوہ کو اب کی بار نرمی سے سمجھاتا ہوا بولا مگر اس کا دھیان عرا کی طرف جانے لگا جو نہ جانے اس وقت اس کے اور عشوہ کے بارے میں کیا سوچ رہی تھی

****

ڈنر کے بعد رات کے وقت ریان جب اپنے کمرے میں آیا دروازہ کھولتے اُس کی نظر عرا پر پڑی جو ریان کی آمد پر ہڑبڑاتی ہوئی اپنی شرٹ ٹھیک کر کے اب دوپٹہ سیٹ کرتی ہوئی گود میں موجود عون کو بیڈ پر لٹانے لگی۔۔۔ عرا کی بوکھلاہٹ دیکھ کر ریان سمجھ گیا کہ اس کے آنے سے قبل عرا عون کو فیڈ کروا رہی تھی

“اگر تم کمفرٹیبل نہیں ہو تو میں باہر چلا جاؤں”

عرا کو جھینپتے ہوئے انداز پر ریان اس سے بولا

“تمہیں کیا ضرورت پڑی ہے باہر جانے کی۔۔۔ یہ تمہارا کمرہ ہے یہاں تم جب مرضی آسکتے ہو جو مرضی کرسکتے ہو”

وہ ویسے بھی عون کو فیڈ کروا کے فارغ ہوچکی تھی اس لیے عون کو اپنے کندھے سے لگاتی ہوئی بولی نہ جانے کیو اس کو خود کا لہجہ شکوہ کرتا محسوس ہوا جس پر عرا کو خود بھی حیرت ہوئی دوسری جانب ریان عرا کی بات سن کر غور سے اُس کو دیکھنے لگا پھر چلتا ہوا عرا کے پاس آیا

“کیا تم ناراض ہو مجھ سے”

ریان غور سے عرا کا چہرہ دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا عرا کے لفظوں میں چھپی شکایت وہ صاف محسوس کرسکتا تھا جس سے ناراضگی چھلکتی ہوئی محسوس ہورہی تھی

“میں بھلا تم سے کیوں ناراض ہونے لگی ایسی کوئی بات بھی تو جس پر ناراض ہوا جائے”

عرا ریان کو دیکھتی ہوئی بولی جس پر ریان کو دوپہر والا منظر یاد آیا جب عشوہ جانے سے پہلے یہاں کمرے میں آئی تھی ریان آنے والی مسکراہٹ کو چھپاتا ہوا دوبارہ عرا سے بولا

“تم اچھی طرح سے جانتی ہو عاشو کا رجحان میری طرف تھا مگر میں نے کبھی اسے اُس نظر سے نہیں دیکھا یہ بات میں تمہیں کل بھی کلیئر بتا چکا ہوں لیکن اس کے باوجود اگر تم نے دوپہر والی بات کا مائنڈ کیا ہے تو۔۔۔۔

ریان عرا کا دل صاف کرنے کے غرض سے بول ہی رہا تھا تبھی عرا ریان کی بات کاٹتی ہوئی بولی

“ایکسکیوز می تم عشوہ کو یا پھر کسی بھی دوسری لڑکی کو کسی بھی نظر سے دیکھو مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تم اس خوش فہمی میں مت رہنا کہ کوئی بھی لڑکی تمہارے قریب آئے گی یا تم کسی لڑکی کے پیچھے جاؤ گے تو میں اس عمل سے جیلسی فیل کروں گی”

عرا ریان کی ساری خوش فہمی دور کرتی ہوئی بولی تو ایک پل کے لیے ریان عرا کو دیکھتا رہ گیا عرا بیڈ سے اٹھ کر عون کو گود میں لیتی ہوئی وہاں سے جانے لگی تبھی ریان نے نرمی سے عرا کا بازو پکڑ کر اس کو کمرے سے جانے سے روکا

“تمہارے کہنے کا مطلب ہے کہ اگر کوئی بھی لڑکی میرے قریب آئے گی یعنی تمہارے ہسبینڈ سے کوئی بھی لڑکی فلرٹ کرے گی تو تمہیں جیلسی فیل نہیں ہوگی”

ریان لہجے میں ڈھیروں حیرت لیے عرا سے پوچھنے لگا جس پر عرا نے ایسے کندھے اچکائے جیسے اس کو واقعی کوئی فرق نہیں پڑتا

“سیریسلی مجھے رتی برابر فرق نہیں پڑے گا”

عرا ریان سے بولتی ہوئی کمرے سے باہر جانے لگی

“یااللہ ایسی سوچ والی بیوی ہر مرد کو دے”

ریان خود سے بڑبڑاتا ہوا بولا تو عرا ناگوار نظر اس پر ڈال کر کمرے سے باہر نکل گئی

****

وہ غصے میں ریان کے کمرے سے نکل تو چکی تھی مگر اب اس کو سمجھ نہیں آرہا تھا رات کے وقت وہ عون کو لےکر کہاں جائے مائے نور کے کمرے کی کھلی لائٹ اور سسکیوں کی آواز نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا تو عرا کے قدم خود بخود مائےنور کے کمرے کی جانب بڑھے

“میرا زیاد۔۔۔” کمرے کے دروازے پر کھڑی عرا نے دیکھا مائے نور زیاد کی تصویر کو ہاتھوں میں لیے آنسوں سے رو رہی تھی یہ منظر دیکھ کر عرا کا اپنے دل پر بوجھ سا پڑنے لگا اتنے میں مائے نور کی نظر اپنے کمرے کے دروازے پر کھڑی عرا پر گئی جو عون کو گود میں لیے اس کو دیکھ رہی تھی مائے نور زیاد کی تصویر وہی بیڈ پر چھوڑ کر عرا کے پاس آئی اور اس کی گود سے عون کو لیتی ہوئی بولی

“میرا زیاد۔۔۔ اسے میرے پاس رہنے دیا کرو اس کی خاطر میں اب تک زندہ ہوں یہ میرے زیاد کی نشانی ہے تم نہیں جان سکتی یہ میرے لیے کیا ہے”

مائے نور سوئے ہوئے عون کو سینے سے لگائے عرا کو دیکھ کر بولی تو عرا پریشان ہوگئی

“آنٹی پلیز عون کو اس وقت مجھے دے دیں ابھی رات ہورہی ہے آپ اس کو صبح لے لیے گا تھوڑی دیر میں یہ جاگ جائے گا تو آپ کو تنگ کرے گا”

وہ بھلا اس لیے تو یہاں نہیں آئی تھی کہ اس کا بیٹا اس سے لےلیا جائے عرا پریشان ہوتی مائے نور سے بولی تو مائے نور کے ماتھے پر بل سا آگیا

“تنگ کرے گا تو اس کا حق ہے میں اپنے پوتے سے تنگ ہوجاؤ بات تو تب ہے۔۔۔ جاؤ یہاں سے اپنے کمرے میں۔۔۔ ویسے بھی میں اس کو تمہارے پاس لینے آنے ہی والی تھی یہاں کھڑی اب میری شکل کیا دیکھ رہی ہو جاؤ یہاں سے”

مائے نور ڈپٹنے والے انداز میں بول کر اپنے کمرے کا دروازہ عرا کے منہ پر بند کرچکی تھی عرا نم آنکھوں کے ساتھ بند دروازے کو دیکھنے لگی تبھی کسی نے اس کو دونوں کندھوں سے تھاما

“زیاد” عرا زیاد کا نام پکارتی ہوئی یکدم پلٹی تو سامنے ریان کھڑا تھا

“زیاد نہیں ریان”

ریان نرم لہجے میں عرا کی آنکھوں میں نمی دیکھتا ہوا بولا

“ریان۔۔ وہ عون۔۔۔ وہ میرا بیٹا ہے۔۔۔ آنٹی نے آج پھر اسے مجھ سے چھین لیا”

عرا اپنے آنسو صاف کرتی ریان سے شکایتی انداز میں بولی

“ماں عون کو تم سے کیوں چھینے گیں عون تمہارا بیٹا ہے اسے کوئی بھی تم سے نہیں چھین سکتا آؤ روم میں چلو میں تھوڑی دیر میں عون کو ماں کے پاس سے لے آؤ گا”

ریان عرا کو روتا ہوا دیکھ کر نرم لہجے میں بولا ساتھ ہی اس کا ہاتھ پکڑ کر عرا کو بیڈروم میں لے جانے لگا مگر عرا نے غصے میں ریان کا ہاتھ زور سے جھٹکا اور ایک دم پھٹ پڑی

“میں تم لوگوں کی ساری پلاننگ اچھی طرح سمجھ چکی ہوں تم لوگ چاہتے ہی نہیں کہ عون میرے پاس رہے اسی وجہ سے تم نے مجھ سے شادی کی تھی ناں”

عرا رونے کے ساتھ چیخ کر بولی اور ایک دم گھر سے باہر کی جانب جانے لگی

“کیسی باتیں کررہی ہو۔۔۔ اور یہ تم جا کہاں رہی ہو اس وقت، اچھا رکو میں عون کو لارہا ہوں ماں کے پاس سے۔۔۔ عرا پلیز اندر چلو رات کافی ہوچکی ہے”

ریان عرا کے پیچھے آتا ہوا اس سے بولا مگر وہ ریان کی بات سنی ان سنی کر کے گیٹ سے باہر نکل گئی جس پر ریان پریشان سا عرا کو دیکھتا ہوا کچھ سوچ کر اپنے کمرے میں آیا والٹ اور کار کی گیز اٹھاکر تیزی سے گھر سے باہر نکلا

****